جمعہ، 7 مئی، 2021

پڑھیلکھی خواتین اور نوکروں جیسا سلوک transferred



پچھلے دنوں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی ایک معروف سینئیر لکھاری نے رابطہ کیا- پاکستانی معاشرے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹیز پرگہری نظر رکھنے والی ان بہت محترم خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد ایسے متعدد پڑھے لکھے خاندانوں کو جانتی ہیں جہاں شوہر گھر کے اندر اپنی پڑھی لکھی بیوی سے نوکروں سے بد تر سلوک کرتے ہیں- چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کے سامنے بیوی کو بے عزت کیا جاتا ہے- اسکی عزت نفس کو پامال کیا جاتا ہے-اسکے ساتھ ہی انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ایسے کٹر مذہبی لوگوں سے بھی واقف ہیں جو دین کا نام لیکر اپنی بیویوں کے حقوق سلب کرتے ہیں اور خود غیر اسلامی افعال کو اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں- اسلام میں شوہر کے حقوق یاد دلا کر شادی کی پہلی رات ہی مہر معاف کروا لیا جاتا ہے- (کیا واقعی شوہر کی اطاعت کو بہانہ بنا کرمہر معاف کروا لینا دینی لحاظ سے جائز ہے؟) بیوی سے خوش گوار گفتگو یا محبت کے اظہار نہ کرنے میں کوئی شرعی قباحت محسوس نہیں کی جاتی- لیکن خود گھر آنے والی عقیدت مند خواتین سے ہنس ہنس کر باتیں کی جاتی ہیں- بیوی کو دین کے نام پر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی- اسے پردے کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر مخلوط دعوتوں اور شادیوں میں نہیں لے جایا جاتا لیکن انہیں دعوتوں میں خود شرکت کی جاتی ہے- اس کے ساتھ ساتھ طعنے تشنے بھی جاری رہتے ہیں اور دین میں شوہر کے حقوق کی تکرار پر مبنی دروس بھی اور بیوی سے یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ وہ روبوٹ کی طرح صبح سے شام تک ہر طرح کی خدمت بھی کرے اوران سے محبت کا فریضہ بھی انجام دے اور مسلسل مبغوض بھی رہے۔ آخر میں خاتون لکھاری کا استفسار تھا کہ ایسے حالات میں بیوی کے دل میں محبت کیسے رہ سکتی ہے؟
یہ صحیح ہے کہ یہ رویہ دین کی وجہ سے نہیں بلکہ دین کے باوجود ہے لیکن کیا یہ صحیح نہیں کہ دین کے نام پر ہی روا رکھا جاتا ہے اور دین کے نام لیوا اسے دیکھ کر خاموش رہتے ہیں؟
اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے روئیے کے خلاف معاشرے میں کوئی رد عمل موجود نہیں بلکہ اسے نارمل سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے- کہیں شوہر کا دینی حق، کہیں میاں بیوی کا آپس کا معاملہ سمجھ کر ان معاملات کو نظر انداز کیا جاتا ہے- کہیں بچوں کا مستقبل یاد دلا کر بیوی کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے- ازدواجی معاملات میں خواتین کوبہت نصیحتیں کی جاتی ہیں لیکن شوہر کواسکی غلطیوں کا احساس دلانے کا معاشرے میں کوئی رواج نہیں- اور اس سارے معاملے میں دین کے نمائندوں کو دینی شعائر کی خلاف ورزی نظر آتی ہے نہ ہی معاشرے میں برائی پنپتی ہوئی نہ ہی معاشرتی انصاف کی عدم موجودگی عذاب کا پیش خیمہ محسوس ہوتی-
یہ بھی مسلسل دہرایا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کتنا بڑا مقام دیا کہ ماں کے پیروں تلے جنت رکھی گئی- لیکن اپنے بچوں کی جنت کو طعنوں، تشنوں، برے سلوک کا نشانہ بنانے کو نمازی پرہیزگار دیندار افراد بھی اپنا حق سمجھتے ہیں-
تعجب کی بات یہ نہیں کہ معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ بہ حیثیت مجموعی معاشرہ کو شوہر کے اس طرز عمل میں کوئی دینی اور دنیاوی قباحت نظر نہیں آتی-


اپ سے بالکل متفق ہوں لبرل سیکیولر گھرانوں میں بھی یہی حال۔ جہاں تک حل کا تعلق تو پہلےہم یہ ماننے پر راضی ہوں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ سوسائٹی کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے ان رویوں کی بد صورتی کو سامنے لانا ضروری۔ نان فکشن میں، افسانوں، ڈراموں میں، دروس، میں جمعے کے خطبوں میں ان رویوں اور انکے نقصانات کو سامنے لانا ضروری۔ دین کی تعلیمات سے جوڑنا بھی ضروری اس مسئلے کو۔ پھر اسکے معاشرتی نقصانات کو بھی زیر بحث لانا ضروری۔ جن گھرانوں میں ایسا ہوتا وہاں عورت کی قوت عمل کتنی رہ جاتی؟ وہ اپنی بچی کچھی طاقت سے کتنا اپنے گھر کو صحت مند ماحول دے سکے گی۔ پڑھی لکھی عورت اپنے گھر کے علاؤہ پورے معاشرے کا اثاثہ ہوتی۔ لیکن ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر وہ خود اپنی بقا کی جنگ میں ہی پوری ہو جاتی۔ اسکی عزت نفس پر اتنی ضربیں لگائی جاتیں ہیں کہ کبھی کبھی نفسیاتی مریضہ ہو جاتی۔ اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی کہ اسے ہمیشہ یہ بتایا گیا ہوتا کہ تمہارا سب کچھ تمہارا شوہر ہے۔ اسکی زندگی کا محور اسکا شوہر ہوتا۔ اسکی بنیادی تربیت میں یہ بات شامل ہستی- ہم نے اسے کوئ متبادل نہیں دیا۔ جب اسے شوہر سے یہ رویہ ملتا تو اسکے پاس مسلسل کڑھنے کے علاؤہ کوئ آپشن نہیں ہوتا۔ اسی نفسیاتی کیفیت میں اسے گھریلو زمہ داریاں بھی ادا کرنی ہوتیں، سسرال اور میلہ بھی نبھانا ہوتا، دیگر سماجی زمہ داریاں بھی نبھانی ہوتیں اور سب سے بڑھ کر نئ نسل کی تربیت بھی کرنی ہوتی۔ ایک اور بہت بڑا نقصان ایسے تعلق کا جو بجائے راحت کے خدمت کو اصول پر استوار ہوتا کہ مرد کو بھی ساتھی نہیں ملتا۔ حدیث میں اس رشتے کو ایک دوسرے کو انجوائے کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ قرآن اسے راحت قرار دیتا لیکن ہم نے اسے خدمت سے مشروط کر کے عورت کو نوکر کی حیثیت دے دی حالا کہ اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کے آرام کے لئے کام کرناکوئ نوکری نہیں۔ شوہر بھی تو بیوی بچوں اور دیگر گھر والوں کے لئے کماتا ہے۔ ہم اسے خدمت نہیں قرار دیتے۔ اسکے لئے خدمت کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔ مرد اور عورت کا تعلق اس رشتے میں محض جنسی تعلق یا بچے پیدا کرنے تک مطلوب نہیں انہیں ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ ایسے میں اپنے لباس کو صبح شام تار تار کرنے والا کیا توقع رکھتا ہے اور معاشرے نے اسکی تربیت کے لئے کیا اقدار وضع کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کی فرد سے زیادہ ان رویوں کا زمہ دار معاشرہ اور معذرت کے ساتھ دین کی غلط تفہیم کرنے والے اور کلچرل روایات بلکہ ہندو مت کو دین سمجھنے والے دانشور ہوتے ہیں۔



مسزعصمت اسامہ اپ سے بالکل متفق ہوں لبرل سیکیولر گھرانوں میں بھی یہی حال۔ جہاں تک حل کا تعلق تو پہلےہم یہ ماننے پر راضی ہوں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ سوسائٹی کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے ان رویوں کی بد صورتی کو سامنے لانا ضروری۔ نان فکشن میں، افسانوں، ڈراموں میں، دروس، میں جمعے کے خطبوں میں ان رویوں اور انکے نقصانات کو سامنے لانا ضروری۔ دین کی تعلیمات سے جوڑنا بھی ضروری اس مسئلے کو۔ پھر اسکے معاشرتی نقصانات کو بھی زیر بحث لانا ضروری۔ جن گھرانوں میں ایسا ہوتا وہاں عورت کی قوت عمل کتنی رہ جاتی؟ وہ اپنی بچی کچھی طاقت سے کتنا اپنے گھر کو صحت مند ماحول دے سکے گی۔ پڑھی لکھی عورت اپنے گھر کے علاؤہ پورے معاشرے کا اثاثہ ہوتی۔ لیکن ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر وہ خود اپنی بقا کی جنگ میں ہی پوری ہو جاتی۔ اسکی عزت نفس پر اتنی ضربیں لگائی جاتیں ہیں کہ کبھی کبھی نفسیاتی مریضہ ہو جاتی۔ اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی کہ اسے ہمیشہ یہ بتایا گیا ہوتا کہ تمہارا سب کچھ تمہارا شوہر ہے۔ اسکی زندگی کا محور اسکا شوہر ہوتا۔ اسکی بنیادی تربیت میں یہ بات شامل ہستی- ہم نے اسے کوئ متبادل نہیں دیا۔ جب اسے شوہر سے یہ رویہ ملتا تو اسکے پاس مسلسل کڑھنے کے علاؤہ کوئ آپشن نہیں ہوتا۔ اسی نفسیاتی کیفیت میں اسے گھریلو زمہ داریاں بھی ادا کرنی ہوتیں، سسرال اور میلہ بھی نبھانا ہوتا، دیگر سماجی زمہ داریاں بھی نبھانی ہوتیں اور سب سے بڑھ کر نئ نسل کی تربیت بھی کرنی ہوتی۔ ایک اور بہت بڑا نقصان ایسے تعلق کا جو بجائے راحت کے خدمت کو اصول پر استوار ہوتا کہ مرد کو بھی ساتھی نہیں ملتا۔ حدیث میں اس رشتے کو ایک دوسرے کو انجوائے کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ قرآن اسے راحت قرار دیتا لیکن ہم نے اسے خدمت سے مشروط کر کے عورت کو نوکر کی حیثیت دے دی حالا کہ اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کے آرام کے لئے کام کرناکوئ نوکری نہیں۔ شوہر بھی تو بیوی بچوں اور دیگر گھر والوں کے لئے کماتا ہے۔ ہم اسے خدمت نہیں قرار دیتے۔ اسکے لئے خدمت کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔ مرد اور عورت کا تعلق اس رشتے میں محض جنسی تعلق یا بچے پیدا کرنے تک مطلوب نہیں انہیں ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ ایسے میں اپنے لباس کو صبح شام تار تار کرنے والا کیا توقع رکھتا ہے اور معاشرے نے اسکی تربیت کے لئے کیا اقدار وضع کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کی فرد سے زیادہ ان رویوں کا زمہ دار معاشرہ اور معذرت کے ساتھ دین کی غلط تفہیم کرنے والے اور کلچرل روایات بلکہ ہندو مت کو دین سمجھنے والے دانشور ہوتے ہیں۔

یہ بات صحیح ہے کہ گھریلو تشدد کی روایت مشرق اورمغرب دونوں میں موجود ہے لیکن مغرب میں کم از کم ڈائلاگ اور قوانین، ہیلپ لائن اور سپورٹ حاصل ہے عورت کو- کم از کم اس مسئلے کو تسلیم کیا گیا ہے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر- اس پر بحث ہوتی کہ ایسے جرائم سے کیسے بچایا جائے اسکو- اسکے ساتھ عورت کو شعور اور آگاہی دی جاتی ہے کہ کونسے افعال گھریلو تشدد یا ذہنی تشدد کے زمرے میں آتے ہیں اور اگر وہ جسمانی یا ذہنی تشدد کا شکار ہے تو اسے کیا کرنا چاہیے- کہاں تک کمپرومائز اور کہاں کمپرومائز کی حدود ختم ہوتی ہیں-
ہمارے ہاں مشرق یا اسلامی دنیا میں تو ان چیزوں پر ڈائلاگ ہی نہیں- بلکہ سرے سے ماننے سے ہی انکار کر دیا جاتا یا یہ کہا جاتا کے عورت خود بھی ظلم کرتی ہے- عورت کے غلط رویوں کے استثنائی واقعات کو اس طرح ہائی لائٹ کیا جاتا جیسے کشمیراور فلسطین میں ملٹنٹس کے دہشت گرد حملوں کو بنیاد بنا کر پوری جدو جہد کو ہی مشکوک بنا دیا جاتا اور دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا کہ یہ قومیں مظلوم نہیں دہشت گرد ہیں- یہی حال عورت اگر اپنے اوپر ہونے والی زیادتی پر آواز اٹھائے یا کوئی رد عمل دے تو ہوتا ہے- اسے دہشت گرد نہیں بد کردار قرار دیا جاتا ہے-

بہت درست پہلو کی طرف توجہ دلوائ ہے ، یہ ایک سچی اور بہت تلخ حقیقت ہے
اور مذھب کے نام پر روا رکھے جانے والے یہ رویے خواتین کی اکثریت کو مذہب سے برگشتہ کرنے کے کافی ہیں
اتنا کچھ سہنے کے بعد بھی اگر یہ سننے کو ملے کہ خواتین کی اکثریت جہنم میں جائے گی تو کتنا مشکل ہوتا ہوگا اپنا ایمان بچانا
2
  • Like


میرے نزدیک اس میں ان ماں باپ کا قصور ہے جو بچپن ہی سے اپنی بچیوں کو ایسا سکھاتی ہوتی ہیں اور مرد یا شوہر کی بے جا خدمت کو جنت کی بشارت سمجھتی اور سمجھاتی ہیں ۔ اکثریتی گھرانے عورت کے ساتھ ظلم کرتے ہیں، ساس سسر یا شوہر کے روپ میں عورت کو دبایا جاتا ہے اور اس کو مردانگی سمجھا جاتا ہے ، میرے نزدیک جو شوہر اپنے بچوں کی ماں کی قدر عزت نہ کرتا ہو، اس کو برابر کا انسان نہ سمجھتا ہو ، وہ شوہر اور اس مقدس رشتے کے قابل ہی نہیں ہے ۔۔۔
انہیں بے جا پابندیوں کی وجہ سے خواتین نفسیاتی مریض بن گئیں ہیں اور ایسے گھٹن زدہ ماحول میں وہ خاک بچوں کی بہتر تربیت کر سکیں گی ۔
لبرل اور مذہبی گھرانوں میں عورت کی کسی نہ کسی درجہ میں تذلیل ضرور کی جاتی ہے بلکہ کچھ مذہبی گھرانے تو خواتین کو انتہا درجے کا گھٹن زدہ ماحول دیتے ہیں ۔ ان گھرانوں کی خواتین کو دیکھ کر ترس آتا ہے ۔۔۔

وصال کے وقت آقا کریم نے فرمایا تھا ! اللہ‎ سے اپنی عورتوں کے بارے ڈرو ، مفہوم حدیث ہے کہ یعنی ان کے حقوق تلفی نہ کرو ، ان کو برابر کا انسان سمجھو ، ان کے ساتھ میٹھی باتیں کیا کرو ، ان کے کام کاج میں ان کی ہیلپ کرو ، ان کے منہ میں پیار سے نوالے دیا کرو ۔ سب سے بڑھ کر ان کو عزت دو ۔
اور آج کا مسلمان ان تمام باتوں کو بھلا بیٹھا ہے ، اب مردانگی کا معیار یہ ہے کہ کون عورت کو دبا کے رکھتا 



Uighur updated in next post trash



مسئلہ
حقیقت کیسےپہچانیں ... حوالوں منیں اتنی جان ڈالو
کیا اوئیغور دہشت گرد ہیں؟
ایمنسٹی کی رپورٹ
مغربی ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ کا کیا رویہ ہے؟
حل کیا ہے؟







گو مغربی محقیقین نوے کی دہائی سے اس علاقے اور ایغور افراد پر تحقیقات سامنے لاتے رہے ہیں لیکن یہ ریسرچ کمیونٹی تک ہی محدود رہی ہیں- بہت عرصے تک مغربی میڈیا ایغور پر چینی استحصال کو نظر انداز کرتا رہا لیکن ٢٠١٦ کے بعد سے ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کی آوازیں بھی اب کافی بلند ہیں۔ ذیل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ١٩٩٩ کی ایک رپورٹ کے بارے میں راقم کا ایک مضمون شئیر کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہو گا کہ نوے کی دھائی میں بھی ہمارے ایغور بھائی کس تکلیف سے گزر رہے تھے-

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ (یہ رپورٹ اگر الگ کہانی کی شکل میں شائع ہو سکے تو اچھا ہے ورنہ ایسے ہی ٹھیک ہے)

کل رات دیر تک سنکیانگ یعنی مشرقی ترکستان کے ایغور مسلمانوں کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سن 1999 کی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ پڑھتی رہی- ظلم کی ایسی روح فرسا داستانیں ہیں کہ میرے جیسے عملیت پسند نسبتاً غیر جذباتی صحافی کا قلم انہیں بیان کرنے سے قاصر ہے- یاد رہے یہ آج کی لکھی ہوئی رپورٹ نہیں آج سے ١٩ سال پہلے مرتب کی گئی ہے اور ١٩٩٠ کی دہائی کی گرفتاریوں، مختصر یا بغیر مقدمہ سزاؤں، قید کے دوران تشدد، اور گرفتاریوں کا پس منظر انفرادی طور پر بیان کیا ہے- اسکے ساتھ ساتھ ان وجوہات اور چینی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو وہاں پچھلے ستر سال سے شدید بیچینی کا سبب بن رہی ہیں- مذہبی پابندیوں کے علاوہ معاشی طور پر بھی سنکیانگ کے ترک نسل کے باشندوں پر ایسی پابندیاں ہیں جو ترکستان میں رہنے والی چینی نسل کی قوموں پر نہیں جسکی وجہ سے اوغیر چین کی پسماندہ ترین قوم بن کر رہ گئی ہے- جہاں تک چین کے اس الزام کا تعلق ہے اور جسے مغربی پریس بھی دہراتا رہا ہے کہ سنکیانگ کے مسلمان باشندے دہشت گردی میں ملوث ہیں تو ایمنسٹی کی اس تفصیلی رپورٹ سے اور جو کتابیں اور ریسرچ پیپرز اس وقت میرے زیر مطالعہ ہیں، انکے مطابق علیحدگی کے جذبات ترکستان کے مسلم باشندوں میں شروع سے موجود رہے ہیں- بلکہ موجودہ کمیونسٹ حکومت کے قبضے سے بہت پہلےسے جب چنگ سلطنت نے اٹھارویں صدی میں اس علاقے پر قبضہ کیا- غیر جانبدار مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ چین کی ظالمانہ نو آبادیاتی یعنی کولونیل پالیسیوں اور خصوصا ً مذہبی پابندیوں کے با عث وقت گزرنے کے ساتھ یہ جذبات مسلسل بڑھتے ہی رہے ہیں- لیکن اسکے باوجود محقیقین کا کہنا ہے کہ چین کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں جہاں خود چینی نسل کے لوگوں نے احتجاج کے دوران تشدد کا راستہ اختیار کیا، چین کا رویہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے ساتھ بہت سخت ہوتا ہے- دوسرے علاقوں میں مظاہرین کی پر تشدد کا روائیوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ متعدد مواقع پر سنکیانگ میں پر امن احتجاج کو بھی پولیس تشدد کر کہ مظاہرین کو بھی جوابی کاروائی پر مجبور کر دیتی ہے- اور اسکی وجہ یہ ہے کہ صوبے میں بڑی تعداد میں تیل اور گیس کے ذخائر اور یورپ اور ایشیا کے سنگم پراسکی اسٹرٹیجک جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ صوبہ چین کے لئے بہت اہم ہے اور چین مسلسل مسلم اکثریت جو اب اقلیت میں بدلنے والی ہے، خوف زدہ ہے-


محققین نے اس بات پر بھی بحث کی ہے کہ چینی حکومت تاریخ کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سرکاری سرپرستی میں جو تاریخ مرتب کی جا رہی ہے اسکے مطابق یہ صوبہ قبل مسیح سے چین کی ملکیت رہا ہے- کیمبرج اور دوسرے مغربی اشاعتی اداروں پر چین کا سنسرشپ دباؤ کی خبریں اب سامنے آ چکی ہیں- کیمبرج نے چین کے دباؤ کو قبول بھی کر لیا ہے اور چین کے بارے میں ٣٠٠ آرٹیکلز کو اپنے تحقیقی مجلہ سے نکال دیا گیا ہے یا چین کے قاریوں کے لئے بلاک کر دیا ہے جس پر اسے سب و شتم کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے- چین کا یہ خوف کہ جو کچھ وہ یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے وہ دنیا کو معلوم نہ ہو حکومت کو سنسر شپ کے حوالے سے عجیب و غریب اقدامات کرنے پر مجبور کر تا رہا ہے مثلاً بیروں ملک حکومتوں پر دباؤ کے وہ ایغور اور ترک نسل کے باشندوں کو واپس بھیجیں. ان میں تھائی لینڈ، مصر، کمبوڈیا اور عرب امارات کے بارے میں خبریں ہیں کہ انہوں نے ایغور مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے اور کہیں کہیں چین کو واپس بھی کیا گیا ہے- ایغور مسلمانوں سے پاسپورٹ واپس لے لئے گئے ہیں- آپکے موبائل فون پر کوئی بیرونی کونٹیکٹ ہونا آپکو قید کرنے کے لئے کافی ہے- ایغور مسلمان چین سے فرار نہیں ہو سکتے-

٢٠١٤ میں کنمنگ نامی شہر میں جو چاقو سے حملہ ہوا اور جسے دہشت گردی کی بڑی واردات بلکہ چینی نائن الیون کا نام دیا گیا اسکے بارے میں نک ہولڈ اسٹاک نامی مصنف، جس نے انگلش ٹیچر کی حیثیت سے تین سال چین اور ایک سال کاشغر میں قیام کیا، کا کہنا ہے کہ مارے گئے اور گرفتار دہشت گرد کہلانے والے سارے لوگ وہ تھے جو ایک گروپ کی صورت میں تھائی لینڈ کے راستے چین سے فرار ہونا چاہتے تھے- ان میں سے کچھ لوگ پکڑے گئے تھے- اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے گرفتاری پر موت کو ترجیح دی اور مرنے سے پہلے چند لوگوں کو مار کر دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کی- نہ تو انکے پاس چاقو کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار تھا اور نہ ہی انکا تعلق دہشت گردی کے کسی منظم نیٹورک سے تھا- گرفتاری کے بعد قید خانے میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بچنے کے لئے بہت سے لوگ خود کشی کی کوشش کرتے رہے ہیں- اسکا علاج چینی انتظامیہ نے یہ کیا ہے کہ تفتیش اور تشدد کے دوران انہیں ایک سخت دھاتی ہیلمٹ پہنایا جاتا ہے کہ وہ اپنا سر دیوار سے مار کر خود کو ختم نہ کر لیں- ایمنسٹی کے مطابق تشدد کے یہ طریقے جن کو میں بیان کرنے سے قاصر ہوں، تاریخ میں اور خود چین کے کسی دوسرے علاقے میں انکے استعمال کی کوئی مثال نہیں ملتی-






اور اب جو صورتحال ہے اس میں تو کوئی احتجاج کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ٨٠ اور ٩٠ کی دہائی میں بھی ٩٩ فیصد احتجاج چین کی معاشی پالیسیوں اور بلا جواز بغیر الزام گرفتاریوں کے خلاف ہوتے تھے اور مظاہرین کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتا- واحد ہتھیار جو دہشت گرد کہلانے والے استعمال کر سکتے ہیں وہ چاقو ہے- اس سے بہت زیادہ پر تشدد کاروایاں تبت میں ہوئیں ہیں لیکن عالمی دباؤ کی وجہ سے چین کا اب انکے ساتھ بہت بہتر رویہ ہے-

کولوریڈو یونیورسٹی کی ازابیلا اسٹائن ہاور نامی ایک محقق کا کہنا ہے کہ تبت کے مقابلے میں سنکیانگ کے مسلمانوں کو عالمی سماجی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ملی ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تبت کے مقابلے میں عالمی میڈیا میں سنکیانگ کی کوریج بہت کم ہے اور پھر نائن الیون کے بعد چین نے سنکیانگ میں بغیر وسائل غیر منظم علیحدگی کی تحریک کو اسلامی انتہا پسندوں اور القاعدہ سے جوڑا- جس پر امریکا نے بھی مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو دہشت گرد تنظیم مان لیا- جب کہ تمام غیر جانبدار محقیقین اور مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی قسم کی کوئی ملیشیا موجود نہیں جیسی کہ ہمیں کشمیر میں نظر آتی ہیں- تشدد کی کاروائیاں مظاہرین اور پر امن احتجاج پر پولیس کے رد عمل پر جوابی رد عمل کا نتیجہ ہوتی تھیں- یہی بات ایمنسٹی نے بھی ثبوتوں کے ساتھ مذکور کی ہے اور چینی اقلیتوں اور ترکستان پر تحقیق کرنے والے مصنفین جیمز ملورڈ، نک ہولڈ سٹاک ، بوونگدوں گارڈنر نے اپنی کتابوں اور مختلف تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں مذکور کی ہیں-

مجھے کچھ معاملات میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے شکایات ہیں لیکن اس رپورٹ پر ایمنسٹی کو دعائیں دینے کا دل چاہ رہا ہے- لیکن ان غیر منظم مظاہرین کے ساتھ یہاں تک کے کم عمر بچوں کے ساتھ بھی جیل میں جو کچھ ہوا وہ بیان کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی- رپورٹ کا لنک دے رہی ہوں- اگر کوئی لکھنے والا اسکے کچھ حصوں کو اردو قاری کے لئے ضبط تحریر کرنے میں تعاون کر سکے تو الله شاید ہماری دنیا اور آخرت میں ہم سے بھی آسان معاملہ کرے-

ایغور مسلمان چین سے کیوں فرار ہو رہے ہیں-
سن 2015ء میں تھائی لینڈ حکومت کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ ترکی پہنچنے کے خواہشمند، چین کے ترکی النسل100 یغور مسلمانوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود چینی حکومت کے حوالے کر دیاگیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ان افراد پر چینی حکومت کے بد ترین تشدد کا خطرہ موجود ہے۔ پھر خبر آئی کہ ایسے ہی چینی مظالم سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے کچھ یغور مسلمان تھائی لینڈ کی ایک جیل سے فرار ہو گئے ہیں اور چینی حکومت ان کی جلددوبارہ گرفتاری پر زور دے رہی ہے۔ حال ہی میں مصر سے خبر آئی کہ مصری حکومت نے قاہرہ اور اسکندریہ میں مقیم یغور طلبہ اور کچھ یغور ریستورانوں پر چھاپہ مار کر یغور مسلمانوں کو چینی حکومت کی ایما پر گرفتار کیاگیا۔ یاد رہے کہ تھائی لینڈ اور چین کی سرحد ملتی ہے اور حکومتی مظالم اور مذہبی پابندیوں سے بچنے کے لئے یغور مسلمان ایک دہائی سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سے ایک کرم فرما نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھی بڑی تعداد میں یغور مسلمان مقیم ہیں۔


چینی حکومت ان جلاوطن مسلمانوں پر علیحدگی پسندی کی تحریک چلانے کا الزام لگاتی ہے۔ دوسری طرف یغور ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے ان پر بے پناہ مذہبی پابندیاں لگا رکھی ہیں، مساجد میں آنے جانے والوں کی سخت نگرانی ہوتی ہے۔2009 سے خبریں آرہی تھیں کہ 60 سال سے کم عمر یغور مسلمانوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، مساجد میں پابندی سے جانے والے نوجوانوں کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ ہوتی تھی۔ پھر2014ء میں خبر آئی کہ نہ صرف رمضان میں روزے رکھنے پر پابندی لگادی گئی ہے بلکہ رمضان کے دوران سرکاری دفاتر میں زبردستی کھانا کھانے پر مجبورکیا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس پر ایک مذمتی قرارداد بھی پاس کی تھی، معلوم نہیںکسی مسلم ملک کو اس کی توفیق ہوئی یا نہیں۔ پھر ایک اور خبر آئی کہ سنکیانگ کے صوبے میں نقاب یا حجاب میں ملبوس خواتین پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کرسکتیں۔کاشغر شہر کے تاریخی مرکز کو جہاں تقریباً 100 فیصد مسلمان رہتے تھے، عرصہ سے مختلف بہانوں سے خالی کروایا جارہا تھا کیونکہ حکومت کو شک تھا کہ یہاں علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک موجود ہے جبکہ مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ چین کا رویہ ان مسلمانوں کو بغاوت پر مجبور کررہا ہے۔
ایک فرنچ صحافی، جس نے ایک ٹورسٹ گروپ کے ساتھ 2014ء میں سنکیانگ کا سفرکیااور ایک تفصیلی ڈاکومنٹری بنائی تھی، کے مطابق چین نے پچھلی تین چار دہائیوں میں بہت بڑی تعداد میں چینی نسل کے باشندوں کو بھاری مراعات دیکر سنکیانگ میں منتقل کیاہے۔ ان میں بڑی تعداد سابق فوجیوں کی بھی ہے۔ صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں سنکیانگ کی بہترین زمینیں اور ہتھیار دیکر ان سے یغور مسلمانوں کی نگرانی کا کام بھی لیا جا رہا ہے اور وقت پڑنے پر ان سے ملٹری سروس بھی لی جاسکتی ہے۔ چینی حکومت کے نئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سنکیانگ میں آٹھ ملین یغور جبکہ11ملین چینی نسل کے باشندے موجود ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہاں چینی نسل کے باشندوں کا اکثریت میں ہونا پچھلی سات دہائیوں سے چینی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ عملاً صوبے کا سارا انتظام چینی نسل کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے کیونکہ یغور باشندوں پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔



اپنے ارد گرد کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آگاہی دینے کا کر سکتے ہیں اور اسکے لئے ہمیں خود اس مسئلے کے بارے میں مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنی ہوگی- یہ فیس بک پیج اسی لئے بنایا گیا ہے- ہماری کوشش ہوگی کے اس پیج پر ویغور مسلمانوں کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کر سکیں- اور ان سے رابطے کی بھی کوشش کریں-

دوسرا قدم ہم یہ اٹھا سکتے ہیں کہ اپنے اپنے ملکوں کے چینی سفارت خانے اور کونسلیٹ میں فون کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں- یہ کام ای میل کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے- جو زبان آپ بولتے ہیں، سمجھتے ہیں اسی زبان میں یہ کام کیا جا سکتا ہے-

اسکے علاوہ اپنے ممالک کی وزارت خارجہ کو بھی فون کر کہ یا ای میل کر کہ اس معاملے میں چینی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں-

٢٠١٤ میں امریکی کانگریس میں چینی مسلمانوں پر رمضان کے روزوں پر پابندی کے خلاف ایک قرار داد منظور ہو چکی ہے- ہم امریکی سفارت خانے فون کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں-

اپنے ملکوں میں موجود چینی سفارت خانوں اور کونسلیٹ میں پر امن طریقے سے جمع ہو ر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے-

اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر چینی مسلمانوں سے رابطے کی کوشش کریں- میری ذاتی اطلاعات کے مطابق چین نے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے-

یاد رکھیں سب سے بڑی ذمہ داری خود باخبر ہونا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ان مسلمانوں کی حالت زار سے




آگاہی دینا ہے-








چین نے خود شام جانے کے لئے جعلی پاسپورٹ تقسیم کئیے اور سرحدوں کو نرم کیا گیا-
عبد القیوم کشغاری
صالح حدیر
ہدایت الله

ہم کیا کر سکتے ہیں؟
طویل جدو جہد ہیں لیکن مایوس ہو کر ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں-
عبد المالک مجاہد مالی مدد



اقوام متحدہ کی نسل کشی Genocide کی تعریف کے مطابق کسی قوم کو اسکے مذہب اور ثقافت پر عمل پیرا ہونے سے روکنا اسکی نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے، خصوصاً نوجوان نسل کی اس طرح برین واشنگ کہ وہ اپنی ثقافت اور مذھبی تعلیمات کو بھول جائے، ١٩٤٨ کے روم چارٹر کے مطابق نسل کشی ہے-

تزئین حسن

پہلا قدم جو ہم اٹھا سکتے ہیں وہ اس مسئلے کے بارے میں
کورنویل یونیورسٹی
صدر حکومت




تریم

بدھ، 5 مئی، 2021

Basic journalism class notes

 


ایک پروفیشنل صحا فی میں کیا صفات ہونی چاہییں؟

اپنے معلوماتی ذرائع: صحافی کبھی سنی سنائی باتوں پر نہیں لکھتا مگر افسوس ہوتا ہے کبھی کبھی اپنے میں سٹریمز پیپرز دیکھ کر بھی کہ کچھ صحافی 
آج کل انٹرنیٹ پر تحقیق بہت ہو رہی ہے.

2007 میں  ایک ہلال امتیاز ایوارڈ کے حامل معروف رائیٹر کا مصر کا سفرنامہ پاکستان کےسب سے مؤقر انگریزی روزنامہ میں پڑھنے کا اتفاق ہوا. کو ایک چوتھائی صفحے میں انھوں نے بلا مبالغہ ٢٥ تاریخی غلطیاں کی تھیں. یہ صاحب اخبار میں ہفتہ وار کالم لکھتے تھے. میں نے ٣٠٠ الفاظ کے ایک LettertoEditor  میں کوئی پندرہ غلطیوں کی نشاندھی کی تو اسکا جواب مجھے یہ ملا کہ یہ معلومات مصر کے کسی سیاحتی پمفلٹ سے لی گئی تھیں. کہنے کا مقصد یہ کہ غلطیاں کسی سے بھی ہو سکتی ہیں لیکن معلومات مستند ذرائع سے لینی چاہیے.

شخصی صفات: مشاہدہ تیز ہونا، تجسس، جاننے کی ہوس، چیزوں کی تہ تک پہنچنے کی ہوس، مسلسل مطالعہ کی عادت، نئی اسکلز سیکھنے کی تڑپ، ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھنے چیلنج کرنے کی عادت، معروضی جائزہ یا کریٹیکل انالیسس کی عادت چیزوں کا، خیالات و افکار کا، گفتگو کا،  

مشاہدہ
چیزوں کو محسوس کرنا مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے گہرائی میں جا کر مثلاً شادی اٹینڈ کریں تو ایک تیز مشاہدے والا صرف کھانے اور کپڑوں کی ظاہری شکل ہی نہیں دیکھ گا. ایک bigpicture بھی معاشرے کی روایتوں کی اور رویوں کی اسے نظر آئے گی. وہ روایات کے مثبت اور منفی رویوں  
    
سیکھنے کا لائف سٹائل
جی ہاں سیکھنا بھی ایک لائف سٹائل ہوتا ہے. یہ اپنانے والا بندہ مسلسل خوش رہتا ہے. زندگی کے عام مسائل تو اسے بھی پیش آتے ہیں مگر اسکی زندگی میں سیکھنے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے جس طرح ایک سیاست دان کی زندگی میں اقتدار کو ہوتی ہے اور ایک تاجر کی زندگی میں منافع کو ہوتی ہے.    

تجسس: اسٹوریز کی تلاش
پچھلے دنوں البرٹا کے ایک آرٹ آرگنائزیشن نے جو رائٹرس، فلم میکرز اور دوسرے آرٹسٹس کو انکے پروجیکٹس کے لئے فنڈ فراہم کرتی ہے جیوری کے طور پر انوائٹ کیا. ایک شاعر خاتون نے اپنے فنڈنگ پروپوزل میں روز ایڈمنٹن کی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر کہ اپنے ہم سفروں کی کہانیوں کی مدد سے نظموں کا ایک مجموعہ تیار کرنے کا پروجیکٹ پیش کیا جسے جیوری نے بہت پسند کیا. 
سچ ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران لا تعداد ایسے لوگ ملتے ہیں      

شک / چیلنج کرنے کی عادت آسانی سے چیزوں کو ان کی فیس ویلیو پر نہ لینا. سامنے جو  کچھ نظر آ رہا ہے اس کی تہہ میں جا کر پوری بات سمجھنے کی تڑپ بھی ایک صحافی کے لئے ضروری ہے.

 منتخب مطالعہ کیوں؟
منتخب مطالعہ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم چند مخصوص مصنفین کو ہی پڑھتے رہیں. منتخب مطالعہ کا مطلب ہے جو کچھ پڑھیں اچھا پڑھیں. کلاس میں پسندیدہ پروفیشنل رائٹرس کی بات آئی تو اشفاق احمد کے علاوہ تقریباً سو فیصد نام ایک خاص جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے تھے.  سچی بات ہے مجھے یہ پسند نہیں آیا. اس لئے نہیں کے ان افراد کے کام میں کوئی کمی ہے بلکہ اس لئے کہ اگر ہم ایک مخصوص نظریات کے حامل لوگوں کے ہی مضامین پڑھتے رہیں گے تو ہمارا افق وسیع کیسے ہو گا. ہمیں دنیا کو آنکھ کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے. اگر اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تو اپنے مخالف نظریات کے لوگوں کو بھی پڑھیں، مغربی افکار کا مطالعہ بھی کریں اور اگر مین اسٹریم اخبارات میں جگہ بنانی ہے تو وہ پڑھیں جو عام لوگ پڑھتے ہیں. ان اخبارات کا مطالعہ بہت ضروری ہے جن میں آپ خود لکھنا چاہتی ہیں. جن لوگوں کو دنیا پڑھتی ہے. انہیں پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ایسا کیا ہے انکے کام میں؟ وہ کس طرح اپنی تحریروں کا آغاز کرتے ہیں؟ کیوں انکی تحریریں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں؟  طرح ہیری پوٹر، نمرہ احمد، عمیرہ احمد، ہارون رشید، جاوید چودھری، وسعت الله خان، حامد میر، اظہار الحق،  ہارون رشید اور سلیم صافی. ان سب لوگوں کے کام میں کیا خاص بات ہے؟ کیسے لوگوں کی پسند بلکہ ضرورت بن گئے ہیں.

یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ لوگ کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ کن چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں. یہ دوسری بات ہے کہ ہمیں لوگوں کو فالو نہیں کرنا انکے خیالات تبدیل کرنے ہیں   

جرنلزم کی کلاس کے لئے جو مختصر سا فارم وہاٹسپپ پر فل کروایا گیا اس کے آخر میں شرکاء سے انکی امیدیں پوچھی گئی تھیں. جن بیس کے قریب ساتھیوں نے اسے فل کیا ان کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ہم پروفیشنلز کی طرح لکھنا چاہتے ہیں.
کچھ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی لکھنے کی صلاحیت کو نکھارنا چاہتے ہیں ، کچھ اور کا کہنا تھا کہ 

ہم انشاللہ اس کورس میں جرنلزم سے مطلق اسٹیٹ آف آرٹ سکلز ڈسکس کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنے شعبوں کے ایکسپرٹس گیسٹ اسپیکرز بھی بلائیں گے لیکن ایک بات یہ ضرور ذہن میں رہے کہ 
یہ بات بہت اچھی ہے کہ 


It all depends on our own dedication. hard work, motivation, consistency, learning, 

All of us write but is it easy to be a professional writer? Doctor / Engineer / Journalist


Do we really need to learn writing? Why?
Reading
talent ,,, aur acha likhne 
afsana .... likhte bhi he 
in born ...... khram murad / 40 years / 



life Style Change is required



لکھنے کے لئے موضوع کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

تزئین حسن

نئے لکھنے والے اکثر یہ شکایات کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ لکھتے ہیں وہ چھپتا نہیں ہے. اپنی تحریر کو قابل اشاعت بنانے کے بہت سے پہلو ہیں مگر ایک بہت اہم پہلو موضوع کا انتخاب ہے. آئیے دیکھتے ہیں کہ موضوع کیسے چنا جائے .

اس سلسلے میں پہلا اصول یہ ہے کہ آپکے پاس کہنے کے لئے "کچھ" ہونا چاہیے اور یہ "کچھ" نیا ہونا چاہیے. اس پر ہماری گرفت ہمارے قاری سے اور ایک عام آدمی سے زیادہ ہونی چاہئے. اگر ہمیں وہی بات دہرانی ہے جو برسوں بلکہ دھائیوں سے اخبارات اور رسائل کی زینت بن رہی ہے تو شاید چند تحریکی رسائل تو ہماری تحریریں شائع کر دیں مگر ظاہر ہے ہم مینسٹریم اخبارات و رسائل تک جنھیں پاکستان کا ایک عام آدمی پڑھتا ہے اور جو بڑی تعداد میں اندروں ملک اور بیروں ملک پڑھے جاتے ہیں نہیں پہنچ پائیں گے. ہمیں اپنے قاری کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے اسکی ذہن سازی کرنا ہے. لکھاری ہونا ایک داعی سے بڑھ کر آپکو لیڈرشپ کا رول عطا کرتا ہے. 

موضوع:

اخبارات میں اشاعت کیسے ممکن ہو؟

آسان سی ترکیب؟ 

سب سے بڑھ کر جس اخبار میں لکھنا چاہتی ہیں اسے اپنی ریڈنگ لسٹ میں ضرور شامل کریں. ہر اخبار کی اپنی پالیسی ہوتی ہے کہ وہ کس طرح کے موضوعات کس زاویے سے شائع کرنا چاہتا ہے. مطالعہ کے ساتھ ساتھ غور کرتی رہیں کہ کیا یہ موضوعا ت آپکی دلچسپی کے ہیں یا آپ اس طرح کے موضوعات پر لکھ سکتی ہیں؟ 

اسائنمنٹ: ڈان اردو کا جائزہ لیں اور دس ایسے مضامین کے ٹائٹل کٹ پیسٹ کریں جو آپکی دلچسپی کے ہوں.

اسکے علاوہ اخبار کے ہر پیج کا اپنا فارمیٹ ہوتا ہے. اسکا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح کے مضامین کس پیج پر شائع ہوتے ہیں. مضمون کی اوسط الفاظ کی تعداد کتنی ہوتی ہے. یاد رکھیں اگر اپکا مضمون بہت طویل یا بہت مختصر ہے تو اسے مسترد کر دیا جائی گا. 

اپکا مضمون کمپوٹر پر کمپوزڈ ہونا چاہیے. کمپوٹر کمپوزنگ آپکو آنی چاہیے. آج کل اخبارات یہ کام نہیں کرتے. اگر کرتے بھی ہیں تو بہت سنئیر صحافیوں کے لئے. اگر شاہنواز فاروقی ایسا کرتے ہیں تو ٹھیک. میں یا آپ ایسا نہیں سوچ سکتے.
اسکے علاوہ ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال بھی آنا چاہیے.   
   
فرسودہ نہیں ہونا چاہیے 
اسے بہت وسیع نہیں ہونا چاہیے کہ اس پر کتاب لکھی جا سکے مثلاً ہمارا تعلیمی نظام بہت وسیع ہے لیکن این ٹی ایس سسٹم کے فائدے یا خرابیاں، چھوٹے بچوں پر بھاری کتابوں کا بوجھ، یا اجنبی زبان اور ہماری فکری صلاحیتیں ہم ایک مضمون میں سمیٹ سکتے ہیں.    
یہ اخبارات اور عام لوگوں یا ہمارے مخصوص قاری کی دلچسپی کا ہونا چاہیے 
کبھی کوئی اچانک واقعہ بھی لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہو جاتا ہے. ایسے موضوعات پر اخبار فوراً کچھ چھاپنا چاہتے ہیں.
مخصوص دنوں مثلاً اقبال ڈے، عورتوں کے عالمی دن وغیرہ پر بھی اگر تحریریں پہلے سے تیار ہوں تو آسانی سے چھپ جاتی ہیں لیکن اس پر بھی کچھ نیا دینے کی کوشش کریں مثلاً اقبال کی کسی نئی سوانح کا مطالعہ کریں اور اپنے قاری کے سامنے کچھ نئے پہلو لے کر آئیں انکی زندگی کے
      
اب یہ نئے موضوعات کہاں سے آئیں گے؟ ہم آگے ڈسکس کرتے ہیں.


موضوع ایسا ہونا چاہیے جس پر آپ کی گرفت ہو اور آپ اسکے بارے میں مختلف ذرائع سے ایسی معلومات حاصل کر سکیں جو دوسروں کو نہیں معلوم. ہم ذہن سازی اسی وقت کر سکتے ہیں جب لوگوں سے زیادہ جانتے ہوں. ایسے ذرائع کیا ہو سکتے ہیں یہ ہم آگے ڈسکس کریں گے. 

موضوع کی وسعت 
موضوع اتنا وسیع نہ ہو کہ اس پر کتاب لکھی جا سکے مثلاً نظام تعلیم، معیار تعلیم کے بجائے نصاب میں تبدیلی کا جائزہ، ٹیچرز کی نااہلی کس طرح ہمارے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے، مادری زبان کو نظر انداز کرنا کس طرح ایک بچے پر منفی اثر ڈالتا ہے، چھوٹے عمر کے بچوں پر اجنبی ماحول اور مشکل اسائنمنٹس کا بوجھ، ہر ذہین بچے کو محض ڈاکٹر 
انجنیئر بنانے کی کوشش 

پرانا موضوع مگر نیا زاویہ 
اسی طرح حقوق نسواں بھی بہت اہم مگر ایک طرح سے فرسودہ موضوع ہے. اس پر لکھنے کی بلکل ضرورت ہے مگر نئے زاویوں سے جن پر اب تک بات نہیں کی گئی مثلا ً پبلک ٹرانسپورٹ میں عورتوں سے بدسلوکی، راہ چلتی بچیوں کو ہراساں کیا جانا، گھروں اور خاندانوں میں بیٹی اور بیٹے میں فرق، عورتوں کو ملنے والے طعنے، عورت کا خود عورت کے خلاف مرد کا ساتھ دینا، ایک لڑکی کو بچپن سے شادی شدہ زندگی کے لئے تیار کرنا مگر لڑکوں کو ایسے ہی چھوڑ دینا. "آج کل کی مائیں یہ کرتی ہے" یا "عورتیں ڈرامہ کرتی ہیں" کہہ کر عورت کے خلاف عمومی نفرت پھیلانا. یہ موضوعات بھی نئے نہیں ہیں مگر ان پر نئے نئے زاویوں سے روشنی ڈالنے کی ادب کی مختلف اصناف کے ذریعے ضرورت ہے کہ ہم معاشرے کو ان مسائل پر سوچنے پر مجبور کر سکیں.         

ایک اور بات موضوع کے ٹائٹل سے واضح ہونا چاہیے کہ کیا لکھنا چاہ رہی ہیں. اشعار یا مصرعے کبھی کبھی بہت بر محل ہوتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں. دوسرے کثرت استعمال سے ہر چیز گھس جاتی ہے مصرعے بھی. اسکے لئے کبھی کبھی موضوع کو سامنے رکھ کر کسی شاعر کا کلام پڑھا جا سکتا ہے. اور کبھی محض کلام پڑھتے ہوۓ مصرعے اور اشعار نوٹ کیے جا سکتے ہیں مستقبل کے لئے.

اجمل    

اسٹیج شئیر کر لیا تھا 

ٹاسک: فوری طور پر تحریکی اخبارات کو چھوڑ کر جنگ، ایکسپریس، اور اس سے آگے بڑھ کر اگر ممکن ہو تو الجزیرہ اور گارڈین پڑھنا شروع کریں. انگریزی عادت نہ ہونے کی وجہ سے مشکل لگے گی تو اپنی استطاعت کے مطابق ہفتے میں ایک یا دو آرٹیکلز ہی پڑھیں مگر ڈکشنری کی مدد سے کہ کوئی لفظ بھی  


ریسرچ ضرور کریں مگر مناسب 
بعض اوقات ہم معیاری اور اچھے کام کے لیے ریسرچ کی کمی کو بہانہ بنا کر لکھنے کو مؤخر کرتے رہتے ہیں. اور انٹرنیٹ اور ڈس انفارمیشن کے دور میں ضرورت سے زیادہ تحقیق کو سمیٹنا مشکل ہو جاتا ہے. لکھنے سے پہلے اپنے ہدف کا تعین کریں اور موضوع کا خلاصہ ایک یا دو جملوں میں اپنے سامنے رکھیں. ویب پیجز کی ورق گردانی میں focused رہنا آسان کام نہیں. کبھی کبھی زیادہ ریسرچ آپ کو مقصد سے دور بھی لے جاتی ہے. بس اپنے مضمون کے سکوپ کو یاد رکھیں کہ آپ اخبار کا اداریہ لکھ رہے ہیں یا ریسرچ پیپر تاکہ ریسرچ کی مقدار کا تعین کرنا آسان ہو.




عمران خان کے اس بیان کے اچھے اور برے پہلووں پر اگلے پانچ منٹ تک لکھیں. یہ ایک طرح سے آپکی رائے ہو گی جسے سوشل میڈیا پوسٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے.

کاکس بازار میں موجود امدادی کارکن کیا روہنگیا امداد کے حوالے سے relevant source نہیں؟ 

پاکستانی امدادی تنظیموں کو بھی بنگلادیشی حکومت شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے. کاکس بازار امداد لیکر جانے والا ایک پاکستانی امدادی کارکن 
بھی 
روہنگیا کے لئے 
کب بلائیں گے اب؟


Aleem Ahmed Editor Global Science

سوال: وہ طلباءجو صحافت کے شعبے میں آنا چاہیں، انہیں آپ کیا مشورہ دیں گے؟ یہاں پر تو سفارش اور تعلق کے بغیر، صرف میرٹ کی بنیاد پر اپنے لئے جگہ بنانا بہت مشکل ہے؟
جواب: میں مانتا ہوں کہ میرٹ والوں کےلئے جگہ بنانا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہاں پر معاملہ یہ ہوتا ہے کہ صحافت کی ڈگریاں رکھنے والوں تک کی زبان سے درست طور پر واقفیت نہیں ہوتی۔ حالانکہ صحافت کا تعلق براہ راست تعلق زبان سے ہے۔ آپ دنیا کی کسی بھی زبان میں ابلاغ (کمیونی کیٹ) کریں، لیکن بہر حال اس ابلاغ کا پہلا تعلق زبان ہی سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص انگلش اخبار کے لئے صحافت کرنا چاہتا ہے، اس کی انگلش بھی اچھی ہونی چاہئے۔ اگر آپ کسی اردو اخبار یا چینل میں ملازمت چاہتے ہیں تو پھر اُردو جملہ، املا اور تلفظ بھی درست ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی زبان پر عبور تب ہی حاصل ہوتا ہے جب ہم اس میں موجود علم و ادب کا سنجیدگی سے، توجہ اور دلچسپی سے مطالعہ کرتے ہیں اور اچھی مثالوں کی روشنی میں خود کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
ایک بات اور: اگر آپ میں ادبی ذوق نہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ صحافت بیکار ہے۔ صحافت اگر بات کو آگے تک پہنچانے کا ہنر ہے تو ادب اس بات کو دل میں اتارنے کا سلیقہ ہے۔ آپ صحافت سیکھ کر خبر بناسکتے ہیں۔ لیکن آپ محض صحافت سیکھ کر اپنی خبر میں جان نہیں ڈال سکتے۔ تو ادب اس چڑیا کا نام ہے جسے ہمارے ہاں صحافت میں یکسر نظر انداز کیاجاتا ہے۔
اسی طرح ترجمہ (ٹرانسلیشن) آج کی دنیا میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یعنی ”گورے“ کو وہ لوگ درکار ہیں جو مقامی زبان کی معلومات اور حقائق، اس کی اپنی زبان میں بتائیں؛ اور وہ سمجھ سکے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں، من حیث القوم، ایسے لوگ درکار ہیں جو غیر ملکی زبان سے ترجمہ کرکے ان معلومات و حقائق کو ہمارے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہمارے لوگ بھی یہ جان سکیں کہ دنیا میں اس وقت کیا معاملات چل رہے ہیں۔ دوسری تہذیبوں کے لوگ کیا کررہے ہیں؛ اور ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ترجمے پر مہارت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
صحافت میں آگے بڑھنے کےلئے تیسری اہم چیز ”اچھی یادداشت“ ہے۔
ان کے علاوہ، اگر آپ کو صرف صحافت ہی نہیں بلکہ کسی بھی میدان میں ترقی کرنی ہے، تو آپ میں تجزےئے کی صلاحیت ضرور ہونی چاہئے ورنہ آپ صرف روزنامچے کی طرح خبریں دینے والے صحافی ہی بن کر رہ جائیں گے۔ تجربہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ تجزیہ نگار کبھی نہیں بن پائیں گے۔ تو میرے خیال میں یہ چار صلاحیتیں بنیادی طور پر بہت اہمیت رکھتی ہیں۔
باقی چیزیں ٹولز یعنی اوزاروں میں آتی ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر، ٹائپنگ، کسی خاص سافٹ ویئر، کیمرے اور مائیک کا استعمال وغیرہ۔
ان صلاحیتوں اور اوزاروں کے بعد ایک اور خاص صلاحیت ہے تجزیئے کی۔ یعنی آپ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ اگر کوئی چیز وکی پیڈیا پرِ، یا پھر بی بی سی کی ویب سائٹ پر ہے تو وہ صحیح ہوگی یا غلط۔ اب سوال یہ ہے کہ بی بی سی اور وکی پیڈیا کو صحیفہ سمجھا جائے یا نہیں؟ اور اگر یہ صحیفے نہیں (یقینا یہ صحیفے ہر گز نہیں) تو آپ کو ان پر جرح کرنی آنی چاہئے۔ آج کے دور میں صحافت مذاق نہیں رہی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ پیشہ بن چکا ہے؛ اور افسوس کہ ہماری یونیورسٹیز میں صحافت سے متعلق انتہائی غیر سنجیدگی پائی جاتی ہے۔
کاکس بازار سے ایک بنگلہ امدادی کارکن: بنگلادیشی حکومت نے دو ماہ پیشتر جن عالمی امدادی تنظیموں پر پابندی لگائی انکا قصور یہ تھا کہ انہوں نے روہنگیا خواتین میں حجاب تقسیم کیے ، اور وہ مساجد اور مدرسے  تعمیر کر رہی تھیں.  
اسائنمنٹ نمبر ٢:

ڈان 
جنگ 
ایکسپریس 
نوائے وقت 
دنیا نیوز 
٩٢ نیوز 
The News
بی بی سی اردو 
Nation 
سما نیوز 

طرزِ تحریر آدمی کی شخصیت سے پھوٹتا ہے اور ماحول کے اثرات بھی ہوتے ہیںمجھ پہ اقبال سمیت بہت سے لوگوں کے اثرات ہیں. ہارون رشید 

ان میں سے کسی ایک اخبار کا انتخاب کریں اور اسکی دس بریکنگ نیوز کا مطالعہ کریں. مطالعہ کرتے وقت اسکے موضوع، اسکے عنوان یعنی سرخی، تعارفی پیرا جسے انگریزی میں lede کہا جاتا ہے پر خاص طور سے غور کریں. اگر پرنٹ اخبار ہے تو بال پائنٹ سے انڈرلائن کریں.  

پچھلے دو مہینے میں میں نے کے پی کے میں متعدد انٹرویوز ایجوکیشن سیکٹر میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کئے. جنمیں سوات، بونیر، صوابی، پشاور، یہاں تک کے فاٹا سے ملے ہوے علاقے شب قدر اور باجوڑ تک کے افراد شامل تھے. ان سب کا کہنا تھا کہ کہ پچھلی تین حکومتوں کے دور میں تعلیم کے شعبے میں بہت کام ہوا ہے. میں نے پنجاب اور سندھ کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی. تفصیلی معلومت ابھی نہیں لے سکی لیکن جن دو ایک لوگوں نے رائے دی ان سے عام تاثر یہی ہے ملا  کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی. ایسے میں اکنامسٹ کی یہ رپورٹ مجھے الہ دین کے چراغ والے جن کا کام لگ رہی ہے.  
میرا اس کالم کے مندرجات سے متفق  نہیں لیکن سوالات اچھے اٹھائے گئے ہیں (تزئین حسن)
سوشل میڈیا پوسٹ 
آپکے خیال میں ایک پروفیشنل رائیٹر میں کیا خوبیاں  ہونی چاہئیں؟  

haron 

ہارون رشید    


بہنیں فروختند چہ ارزا فروختند hsa chaharam 4th part

بہنیں فروختند چہ ارزا فروختند حسا دوئم 



april 19 2019
حمیرا کے 2014 ke ایڈ منٹن ٹرپ کے بعد سے کچھ قدرتی بات ایسی ہوئی کہ مجھے انکی کچھ باتیں محسوس ہونا شروع ہوئیں جو ہمارے درمیان نزاع کا با عث بنیں- یہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں اور جتاتی تھیں مگر میں نے محسوس کیا کہ انکی واضح زیادتی کا احساس دلانے پر انہوں نے نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ عتیق بھائی جان اور امی ابو کو بھی میرے خلاف استعمال کیا- اس پر میں نے انہیں سب کہ سامنے کہا کہ تم ہمارے آپس کے جھگڑے میں ان  لوگوں کو نہ لاؤ-

یہ بات ہمارے درمیان شروع سے طے تھی اور شمائلہ اپی اس بات کو دہراتی بھی رہی تھیں کہ میں جب اپنے گھر منتقل ہو گی تو امی ابو کو میں اپنے ساتھ لے جاؤں گی- 


 یہ اگست ٢٠١٤ کی بات ہے- کہ مجھے  



بیس اپریل ٢٠٢١
دو سال سے زیادہ گزر گیا لیکن آج بھی روز روتی ہوں- پچھلے سال حسن نے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنے کا مشورہ دیا تو اس سے کچھ افاقہ ہوا- کے پی ٹی ایس ڈیز مجھے مسلسل تنگ کر رہے تھے- 

٢٠١٩ میں مجھے مسلسل روتے دیکھ کر بچے پریشان ہو گئے-  امیمہ نے مجھے بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ میری ذہنی حالت خراب ہو گئی ہے- کیرولین مجھے ہسپتال لے کر جاتی ہے جہاں مجھے ایڈمٹ کرنا پڑا- اور خود امیمہ خواب میں الله سے لڑ رہی ہے کہ میری مما کے ساتھ ایسا کیوں ہوا جبکہ وہ اپنے والدین سے اتنی محبت کرتی ہیں اور اتنا خیال رکھتی ہیں- 

میں نے خود خواب میں ایک دن دیکھا کہ میں کسی بہت بڑی مال جیسی بلڈنگ میں ہوں اور اچانک مجھے امیمہ نظر آتی ہے- وہ مجھ سے کہتی ہے کہ یہاں ایک جگہ نماز سکھائی جاتی ہے یا evaluate کی جاتی ہے- میں اس سے کہتی ہوں مجھے وہاں لے چلو- راستے میں ایک دکان آتی ہے جہاں لکڑی کا کام ہو رہا- ہم اس سے ایک بورڈ مانگتے ہیں جس پر ہمیں کچھ خطاطی کرنی ہے- پتا نہیں وہ ہمیں دیتے ہیں یا نہیں لیکن امیمہ کے پاس ایک بہت بڑا کارڈ بورڈ ہے جیسا یہ اپنی آرٹ کلاس میں استعمال کرتی ہے- وہ اسکو ساتھ لے کر ہی ہی چل رہی ہے-  اچانک ہم ایک کونے میں ایک دروازے کے سامنے رکتے ہیں جو خواب میں حرم مکّی ہے- اس دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک درمیانے سائز کا ہال ہے ہمارے نئے مکان والے بڑے کمرے سے کوئی دو تین گناہ بڑا- ہال کے فرش پر حرام کے باب الفتح والے حصے کی طرز پرkaale marble ke  ٹائلز لگے ہوئے ہیں- لیکن جس چیز پر مجھے بہت خوش گوار حیرت ہوتی ہے وہ یہ کہ چھت ki jaga صرف لمبائی اور چوڑائی میں دو بیم ڈلے ہوئے ہیں اور آسمان صاف نظر آرہا ہے- گہرا نیلا آسمان کہیں ہلکے بادلوں کی کی اوٹ میں بہت خوبصورت محسوس ہو رہا ہے- میں سوچتی ہوں کہ حرام کے اندرونی حصوں سے تو کبھی بھی آسمان نظر نہیں آتا تھا- یہ نئی کنسٹرکشن آنکھوں کو کتنی بھلی لگے گی- اتنے میں میں دیکھتی ہوں کہ ہال کی مخالف سمت سے پھپو میاں چند لوگوں (koi chhe saatafrad) کے ساتھ میری طرف آ رہے ہیں- انہوں نے ویسی ہی اونچی قمیص ke sath شلوار کے ساتھ پہنی ہوئی ہے جیسی وہ حیدرآباد میں پہنتے تھے- انہوں نے آتے ہی مجھے گلے سے لگا لیا- دیر تک بغیر بولے میں انکے گلے سے لگی رہی- مجھے خواب میں یہ احساس ہے کہ پھپو میاں اب ہم میں نہں ہیں- پھر بھی انکی قربت سے خوف نہیں آ رہا- اچھی لگ رہی ہے- 
آنکھ کھلنے کے بعد میں بہت سوچتی رہی کہ اتنا واضح خواب اور پھپو میاں کو اس میں اس قدر دیکھنا- یہ اچانک کیسے ہوا- وہ اتنے عرصے بعد کیوں میرے خواب میں آئے- شاید انکی وفات کے بعد میں نے انہیں اتنا واضح کسی خواب میں نہیں دیکھا- بلکہ مجھے یاد ہی نہیں کے کبھی دیکھا بھی یا نہیں- پھپو کو تو میں اکثر دیکھتی ہوں- 
کافی دن سوچنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ کہیں وہ مجھے تسلی دینے تو نہیں آئے تھے- بچپن میں میرے ساتھ یا سارا کے ساتھ گھر میں کوئی زیادتی ہوتی تو انکا دل بہت خراب ہوتا تھا- 
ایک دفعہ کھیل کے دوران سارا اور وقاص لڑائی میں سارا کی ایک انگلی میں غالباً چھوٹ لگ گئی (جیسا کے ہو جاتا ہے بچوں کے کھیل کے دوران ) تو پھپو میں mian نے خاصا غصہ کیا- لیکن اس پر بس نہیں سعودیہ واپس جانے کے بعد ابو کو خط میں لکھا کہ سارا کا بہت خیال رکھیں- میں نے خواب میں دیکھا کہ وقاص اسکو مارتا ہے- کسی کو بتائیں تو وہ یہ سمجھے کے شاید ہم میں سے کوئی انکے کان بھرتا ہے یا سارا نے ان سے کچھ کہا ہو گا- لیکن سعودیہ جا کر بھی انکے ذہن پر یہ اتنا سوار تھا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا- کونسی دنیا کے لوگ تھے یہ؟                  




Trash independent story

باب  

(نو کاپی رائیٹ انفارمیشن-) 

جب نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو ہلال پاکستان کا اعزاز دیا گیا 

تزئین حسن 

 

بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ حالیہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو آج سے کوئی بارہ سال پہلے پاکستان کے دوسرے بڑے سول اعزاز ہلال پاکستان سے نوازا گیا تھا- 


پاکستانی اخبار ڈان کے ٢٨ اکتوبر ٢٠٠٨ کی اشاعت کے مطابق  اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے دو امریکی سینیٹروں کو پاکستان کا دوسرا بڑا سول اعزاز ہلال پاکستان دینے کا اعلان کیا- 

ان میں سے ایک اس وقت کے ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیدوارجو سینیٹر بائیڈن تھے اور دوسرے ریپبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر تھے- 

یاد رہے جس وقت یہ اعلان کیا گیا، اس وقت امریکی انتخابات میں کوئی ایک ہفتہ باقی تھا اور جو بائیڈن آئندہ منتخب ہونے والے امریکی صدر ابامہ کے نائب صدارتی امیدوار تھے- 


سوال یہ ہے کہ ان امریکی سینیٹرز کی پاکستان کے لئے کیا خدمات تھیں؟ پاکستان اور امریکا کے تعلقات  اس وقت کس کشمکش سے گزر رہے تھے؟ پاکستان کی حکومت کو امریکی سینیٹرز کو یہ اعزاز دینے کی ضرورت کیوں پیش آئ؟ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں- 


واٹر گیٹ اسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے امریکی صحافی باب ووڈ ورڈ کی کتاب 'اباما وارز'  میں تفصیل سے اس وقت کے وائٹ ہاؤس کے حالات تفصیل اور باریک بینی سے بیان کرتے ہیں- یاد رہے اس کتاب کا مواد کتاب صدر اباما اور انکی انتظامیہ سے سو سے زائد انٹرویوز، ذاتی ڈائریز، میٹنگ نوٹس پرمبنی ہے-

 

باب ووڈ ورڈ ١٩٧٠ کی دھائی سے لیکر ٢٠٢٠ تک صدر رچرڈ نکسن سے لیکر ٹرمپ تک امریکی صدور پر بیس سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں- انہیں وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع تک رسائی حاصل ہے اور انہیں وائٹ ہاؤس کا کرونکلر یعنی محرر بھی کہا جاتا ہے- 


ابامہ کی انتخابی فتح کے بعد جو بائیڈن نے نائب صدارت کا حلف اٹھانے سے گیارہ روز قبل پہلے ٩ جنوری ٢٠٠٩ کو ایک اور ریپبلکن سنٹر گراہم کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا- اس دورے میں وہ آصف علی زرداری کے لئے نو منتخب صدر اباما کا پیغام لیکر آئے تھے-


اسی دورے میں پرائیویٹ بات چیت سے قبل ایوان صدر میں ایک چھوٹی سی تقریب صدر آصف زرداری نے انہیں ہلال پاکستان کا میڈل پہنایا- (تعجب کی بات یہ ہے کہ اس تقریب کو اور دورے کو پاکستانی اور امریکی میڈیا نے کوئی خاص کوریج نہیں دی- راقم کو ہلال پاکستان کے حوالے سے خبر باب ووڈ ورڈ کی ٢٠١٠ کی کتاب سے ملی جسکی تصدیق ڈان کی ٢٨ اکتوبر ٢٠٠٨ کی اشاعت سے ہوتی ہے) 

 

صدر زرداری نے اس موقعہ پر پاکستانی حکومت نے یہ اعزاز سینیٹر بائیڈن کو پاکستان کے لئے انکی مسلسل حمایت پر انکا شکریہ ادا کیا- 

لیکن کیا واقعی صدر زرداری کے ارادے اتنے سادہ تھے؟ ائے دیکھتے ہیں-


واقعات کی ترتیب اور مختلف سورسز سے اس معمے کو حل  کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے نائب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے پاکستان کیوں پہنچے اور پاکستانی حکومت انکی کیوں احسان مند تھی- 


فروری ٢٠٠٨ 

یہ بھی یاد رہے کہ سینیٹر بائیڈن ١٨ فروری ٢٠٠٨ کے پارلیمنٹری الیکشن میں ایک مبصر کی حیثیت سے دو اور سینیٹرز کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر چکے تھے- بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان تینوں سینیٹرز نے  الیکشن کو منصفانہ اورشفاف قراردیا تھا اور پاکستان کے لئے امریکی امداد کی توسیع کی حمایت کی تھی-


امریکی سینیٹرز کی پاکستانی الیکشن میں مبصر کی اہمیت سے جائزہ لینے پاکستان کا دورہ کرنا ایک غیر معمولی اہمیت کی بات ہے-  


جولائی ٢٠٠٨: جو بائیڈن اور رچرڈ کری نے کیری لوگر بل پیش کیا 

ڈان کی خبر مذکورہ کے مطابق بائیڈن اور لوگر نے جولائی ٢٠٠٨ میں امریکی کانگریس میں ایک بل پیش کیا تھا جسکے مطابق ٢٠١٠ سے ٢٠١٤ تک پاکستان کی سول حکومت کو معاشی ترقی کے لئے ہر سال  (سالانہ) ڈیڑھ بلین (١.٥ بلین) امریکی ڈالر کی امداد ملنی تھی- یاد رہے اگلے ایک سال تک کانگریس کی منظوری تک یہ صرف ایک بل تھا- (ایک طرح کا چارہ جس کے ذریعے پاکستانی حکمرانوں کو لالچ دے کر مطیع بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی) 


اگست ٢٠٠٨ مشرف نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا 

اگست ٢٠٠٨ میں پاکستانی صدر مشرف صدر پاکستان کی حیثیت سے اپنا عہدہ چھوڑ چکے تھے اور انکی جگہ ایوان صدر پر اب صدر زرداری کا راج تھا- ایسے میں امریکی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل صدر زرداری بائیڈن اور رچرڈ لوگر کے لئے ہلال امتیاز کا اعلان کرتے ہیں-

١٢ نومبر ٢٠٠٨ سی آئ اے ڈائریکٹر مائک ہیڈن سے زرداری اور حقانی کی ملاقات 
باب ووڈ ورڈ کے مطابقہلال پاکستان کے اعلان اور امریکی انتخابات کے ٹھیک نو دن بعد  ١٢ نومبر ٢٠٠٨ کو سی آئی ائے کے ڈائریکٹر مائک ہیڈن نے نیو یارک ستی میں پاکستانی صدر زرداری اور حسین حقانی سے سے  پاکستانی علاقوں میں دروں حملوں پر بات چیت آگے بڑھانے کے لئے ملے-  

یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی نیوز میڈیا میں ڈرون حملوں سے ہونے والی سول اموات کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں-عالمی میڈیا بھی ان حملوں میں سول اموات پر آواز اٹھانے لگا تھا- 

یاد رہے پاکستان امریکا کا اتحادی تھا اور عالمی قانون کے مطابق کسی ملک کی حدود میں اسکی آبادی پر حملہ اس ملک کی خود مختاری پر حملہ تصور کیا جاتا ہے- 

باب کے مطابق ٢٠٠٨ کے نصف اول میں چار اور جولائی میں کری لوگر بل کے پیش کے  جانے کے بعد سے، نصف آخر میں بیس دروں حملے کے جا چکے تھے- سی آئ اے کے مطابق ان ٢٤ حملوں میں الوائدہ کے سات لیڈران مارے گئی تھے- 
پیج ٢٥  

باب ووڈ ورڈ کے مطابق ہیڈن کے مطالبات کے جواب میں زرداری کا کہنا تھا: 

'Kill the seniors. Colletral damage worries you Americans. It doesnot worries me. kill Americans not me-'


٩ جنوری ٢٠٠٩ : جو بائیڈن کا دورہ پاکستان اور افغانستان  

ڈیموکریٹک پارٹی کے الیکشن جیتنے کے بعد اباما کے حلف اٹھانے سے گیارہ دن قبل بائیڈن  نے جنوری کو پاکستان کا دورہ کیا تو انہیں آصف زرداری نے اپنے ہاتھوں سے ہلال پاکستان کا میڈل پہنایا- 


یہی نہیں ١٢ جنوری ٢٠٠٩ میں پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ جو بائیڈن نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں بہت مؤثر کردار ادا کیا- 


بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ١٢ جنوری ٢٠٠٩ کی اشاعت  میں یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے یہ خبر دی گئی کہ  یہ بائیڈن ہی تھے جنہوں نے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا- 

 

بھارتی اخبار کے مطابق گیلانی اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ جو بائیڈن کو ہلال پاکستان انکی کس خدمت کے عوض دیا جا رہا ہے-


گیلانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بائیڈن 'پرو پاکستان' (پاکستان کے حمایتی ہیں) اور انہوں نے 'ہمارے لئے' بہت کچھ کیا ہے- 


یاد رہے بائیڈن کے میڈل پہنانے سے ایک ہفتہ قبل آصف زرداری نے بش دور کے اسسٹنٹ سیکررٹری آف ڈیفنس رچرڈ باؤچر کو بھی ہلال قید اعظم کے اعزاز سے نوازا تھا- یہ بھی یاد رہے کہ یہ میڈل رچرڈ باؤچر کے اس بیان کے ایک گھنٹے بعد پہنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں ڈرون گرانا بند نہیں کیے جا سکتے اور یہ کہ ڈرون حملے نا گزیر ہیں- 


اس وقت تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف آپریشن میں سو افراد ڈرون حملوں میں مارے جا چکے تھے-


پاکستانی حکومت مسلسل اس امر سے انکار کرتی رہی تھی کہ ڈرون حملے اسکی اجازت سے ہو رہی ہیں- تاہم اپوزیشن لیڈر نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کا اس وقت یہ کہنا تھا کہ ڈرون حملے پاکستانی حکومت کی اجازت سے ہو رہے ہیں- 


وزیراعظم گیلانی کا یہ کہنا تھا کہ  ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا میں قیادت کی تبدیلی سے ان حملوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی آئے گی-


بوب ووڈ ورڈ کے مطابق (صفحہ جو بائیڈن نے زرداری کو اباما کا پیغا م پہنچایا اسکا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستانی آئ ایس آئ افغان طالبان اور القائدہ کو قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے- اسکا سلسلہ بند ہونا افغانستان میں امریکی فتح کے لئے ناگزیر ہے- 

جسکے جواب میں زرداری کا کہنا تھا کہ اپاکستانی عوام امریکا مخالف جذبات میں ڈوبی ہوئی ہے اور مجھے امریکا کا پٹھو سمجھ کر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا- اس لئے امریکا مجھے معاشی امدادی پیکج دے تاکہ میں پاکستانی اوم کا دل جیت سکوں-  اس کے عوض زرداری کا کہنا تھا کہ وہ آئ ایس آئ سے ایسے عناصر کو صاف کرے گا جو افغان طالبان کی مدد کر رہے ہیں-  

زرداری سے بائیڈن نے غیر فوجی امداد کا وعدہ کیا جو اس امر سے مشروط تھا کہ زرداری اپنے حصے کا کام کرے-

 

اختتام 

ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیڈن کم از کم ٢٠٠٧ سے پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہو رہی تھے- انکا ٢٠٠٧ امری حکومت کی ایما پر مشرف کی وردی اتروانے میں اہم کردار تھا جس نے پاکستان میں جمھریات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کیا- 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بش دور کے آخر میں ہی امریکی حکومت کا پاکستانی فوج سے اعتماد ختم ہو گیا تھا- انکا یقین تھا کہ  آئ ایس آئی یا کم از کم آئی ایس آئی کے کچھ عہدے دار افغان طالبان ا مدد کر رہے ہیں- اسی لئے کیری لگر بل میں سول امداد کی سفارش کی گئی- مشرف کو پہلے وردی اترنے پر مجبور کیا گیا، پھر (پاکستان میں) الیکشن کے بعد مشرف کی جگہ آصف زرداری کو ایوان صدارت میں میں آنے کے بعد ان سے ڈرون حملوں کے حوالے سے سول حکومت کی اجازت حاصل کی گئی- (نیو یارک ستمبر ٢٠٠٨ زرداری حقانی اور سی ای ائے ڈائریکٹر مائک ہیڈن کی ملاقات) - اکتوبر ٢٠٠٨ میں  

بائیڈن کو ہلال امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا- جنوری میں بیڈن نے اسلام آباد اور کابل کا دورہ کیا-

پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لئے صدر مشرف سے وردی اتروانا اور پاکستان کی مشی ترقی کے لئے غیر فوجی امداد حکومت پاکستان کے لئے منظور کروانے کی سفارش کرنا، وہ خدمات ہیں جس پر بائیڈن کو ہلال پاکستان سے نوازا گیا- 

لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس امداد کے نتیجے میں اباما دور میں ڈرون حملوں میں شدت آ گئی اور اس سے پاکستان تحریک طالبان جسکا قیام ٢٠٠٧ میں عمل میں اے اٹھا مضبوط ہوتی چلی گئی جس سے پاکستان میں ایک خانہ جنگی کی کیفیات پیدا ہوئی- پاکستان بھر سے لا تعداد نوجوان ٹی ٹی پی کا ساتھ دینے کے نتیجے میں غیب کیے گئے جس سے فوج اور اسکے ذیلی اداروں کو نا قبل تلافی نقصان پہنچا اور آج بھی پہنچ رہا ہے-  

 

انڈین میڈیا اور پاکستان کے کچھ مبصرین بائیڈن کے سابق  تعلقات کا ذکر کر کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بائیڈن پاکستان کا دوست ہے اور یہ پاک امریکا تعلقات کے لئے اچھی خبر ہے- حقیقت یہ ہے کہ پاک- امریکا پالیسی پہلے بھی افغانستان سے گزر کر آتی تھی اور آج بھی وہ اسی ایک اشو سے وابستہ ہے- 

 

لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس امداد کے بدلے اباما دور میں قبائلی علاقوں پر درڑوں حملوں کی کھلی چھٹی دی گئی-  حملے پہلے سے جاری تھے لیکن ابامہ دور میں ان میں بہت اضافہ ہو گپاکستان میں خانہ جنگی بڑھی اور پاکستان میں سول اور ملٹری ٹارگٹس پر لا تعداد دہشت گرد حملے ہوئے- تحریک طالبان پاکستان ہر ڈرون حملے سے مضبوط ہوتی چلی گئی-  

انکے  جس سے  


ایک ایسا عمل ہے جسکی بھر حال تعریف ہونی چاہئے- لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے  



 

باب کی کتاب جو اباما کے الیکشن جیتنے سے لیکر، انکی وائٹ ہاؤس میں موجودگی کے پہلے اٹھارہ مہینوں پر مشتمل ہے- 

  اباما کو ڈائریکٹر نیشنل انٹللجینس کی طرف سے الیکشن سے دو ماہ قبل جو بریفنگ دی گئی اس میں اسے یہ بتایا گیا کہ امریکا کو اصل خطرہ افغمنستان یا عراق سے نہیں پاکستان سے ہے جہاں ایک نیولیر پاور اتحادی ڈبل کراسنگ کر رہا ہے- 

اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے بش دور کے آخر میں ہی کیری لوگر بل کے ذریعے 

 

 

The prime minister said the drone attacks were not permitted and hoped that with 

the leadership change in the US, the policy on the strikes also might change. He said Pakistan had been asking the US to stop the attacks.


Last week President Asif Ali Zardari also decorated US Assistant Secretary of State Richard Boucher with Hilal-e-Quaid-e-Azam, inviting criticism from opposition parties and social circles.

Boucher was awarded the medal only an hour after he announced that US cannot stop drone attacks in tribal areas of Pakistan and termed the strikes imperative.

At least 100 people have been killed in the drone attacks since the US launched its anti-Al-Queda operations in neighbouring Afghanistan.

The prime minister said the drone attacks were not permitted and hoped that with the leadership change in the US, the policy on the strikes also might change. He said Pakistan had been asking the US to stop the attacks.


The prime minister was replying to a question on why Biden had been given the highest Pakistan civilian award Hilal-e-Quaid-e-Azam. He said that Biden played a very effective role as chairman of the US foreign relations committee in restoring democracy in Pakistan.

He said it was due to Biden's efforts that Musharraf quit as army chief.

It was Biden who played a key role in forcing Gen Pervez Musharraf to quit as army chief and in “restoring democracy in Pakistan”.

In 2009, then Prime Minister Yusuf Raza Gilani said that Biden “played a very effective role as chairman of the US foreign relations committee in restoring democracy in Pakistan.”

He, according to media reports then, had said: it was due to Biden’s efforts that Musharraf quit as army chief.



باب ووڈ ورڈ اس تقریب کے بعد 


   دوسری طرف ٢٠٠٦  تحریک طالبان پاکستان بھی وجود میں آ چکی تھی جس نے پاک فوج اورسویلین عوام کے خلاف کئی دہشت گرد حملے کیے-  

یاد رہے امریکی صحافی باب ووڈ ورڈ کی کتاب 'اباما وارز' ٢٠٠٨ کے پہلے چھے مہینے میں 



پہلے مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کیا، پھر (پاکستان میں) الیکشن کے بعد مشرف کی جگہ آصف زرداری کے ایوان صدارت میں براجمان ہونے کے بعد ان سے ڈرون حملوں کے حوالے سے سول حکومت کی با ضابطہ اور غیر مشروط اجازت حاصل کی گئی- (نیو یارک ستمبر ٢٠٠٨ زرداری حقانی اور سی ای ائے ڈائریکٹر مائک ہیڈن کی ملاقات) فوج سے اجازت تو ٢٠٠٦ سے تھی مگر وہ مشروط تھی- اکتوبر ٢٠٠٨ میں  بائیڈن کو ہلال امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا- جنوری میں بائیڈن نے اسلام آباد اور کابل کا دورہ کیا-



   


Zardari had awarded them the `Hilal-i-Pakistan` (Crescent of Pakistan) `in recognition of their consistent support for Pakistan`, the government said in a statement.


یاد رہے بل کے مطابق یہ متوقع امداد غیر فوجی تھی اور پاکستان فوجی اداروں کے بجائے سول اداروں کو دینے کی حمایت کی گئی تھی-

Biden was a member of the three-senator delegation that came to Pakistan to observe the parliamentary elections held on February 18, 2008. In a joint statement, the senators adjudged the elections to be free and Biden called for an expanded US package for Pakistan that would shift the focus from military to economic aid.

مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ اس توسیعی امریکی امداد کا رخ فوج سے سول حکومت کی طرف ہو گا- 


Biden and Lugar in July introduced a bipartisan US aid plan which calls for $1.5 billion per year in non-military spending to support economic development in Pakistan.

دوسرے 

اعلان کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیدوار امریکی سینیٹر جو بائیڈن اور ریپبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر  




ISLAMABAD Pakistani President Asif Ali Zardari announced on Tuesday government awards for US Democratic vice presidential nominee Joe Biden and Republican Senator Richard Lugar.



Senator Biden is currently Chairman of the Senate Committee on Foreign Relations, while Senator Lugar, the previous holder of the chairmanship, is the senior-most Republican on the committee. As such, the two have a great deal of power in shaping US foreign policy.

Pakistan has figured in the US presidential election campaign, with both Democratic candidate Barack Obama and Republican John McCain speaking of the need for more focus on defeating the Taliban insurgency in Afghanistan and eradicating al Qaeda from Pakistans borderlands.

وہ صدر اباما کی پہلی صدارتی ٹرم  


امریکا کے معروف صحافی باب ووڈ ورڈ جنھیں دو مرتبہ صحافت کی دنیا کا سب سے  

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق   


سینیٹر بائیڈن امریکی حکومت کی فارن ریلیشن کمیٹی میں بھی شامل تھے- 


MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...