جمعہ، 7 مئی، 2021

پڑھیلکھی خواتین اور نوکروں جیسا سلوک transferred



پچھلے دنوں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی ایک معروف سینئیر لکھاری نے رابطہ کیا- پاکستانی معاشرے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹیز پرگہری نظر رکھنے والی ان بہت محترم خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد ایسے متعدد پڑھے لکھے خاندانوں کو جانتی ہیں جہاں شوہر گھر کے اندر اپنی پڑھی لکھی بیوی سے نوکروں سے بد تر سلوک کرتے ہیں- چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچوں کے سامنے بیوی کو بے عزت کیا جاتا ہے- اسکی عزت نفس کو پامال کیا جاتا ہے-اسکے ساتھ ہی انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ایسے کٹر مذہبی لوگوں سے بھی واقف ہیں جو دین کا نام لیکر اپنی بیویوں کے حقوق سلب کرتے ہیں اور خود غیر اسلامی افعال کو اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں- اسلام میں شوہر کے حقوق یاد دلا کر شادی کی پہلی رات ہی مہر معاف کروا لیا جاتا ہے- (کیا واقعی شوہر کی اطاعت کو بہانہ بنا کرمہر معاف کروا لینا دینی لحاظ سے جائز ہے؟) بیوی سے خوش گوار گفتگو یا محبت کے اظہار نہ کرنے میں کوئی شرعی قباحت محسوس نہیں کی جاتی- لیکن خود گھر آنے والی عقیدت مند خواتین سے ہنس ہنس کر باتیں کی جاتی ہیں- بیوی کو دین کے نام پر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی- اسے پردے کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر مخلوط دعوتوں اور شادیوں میں نہیں لے جایا جاتا لیکن انہیں دعوتوں میں خود شرکت کی جاتی ہے- اس کے ساتھ ساتھ طعنے تشنے بھی جاری رہتے ہیں اور دین میں شوہر کے حقوق کی تکرار پر مبنی دروس بھی اور بیوی سے یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ وہ روبوٹ کی طرح صبح سے شام تک ہر طرح کی خدمت بھی کرے اوران سے محبت کا فریضہ بھی انجام دے اور مسلسل مبغوض بھی رہے۔ آخر میں خاتون لکھاری کا استفسار تھا کہ ایسے حالات میں بیوی کے دل میں محبت کیسے رہ سکتی ہے؟
یہ صحیح ہے کہ یہ رویہ دین کی وجہ سے نہیں بلکہ دین کے باوجود ہے لیکن کیا یہ صحیح نہیں کہ دین کے نام پر ہی روا رکھا جاتا ہے اور دین کے نام لیوا اسے دیکھ کر خاموش رہتے ہیں؟
اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے روئیے کے خلاف معاشرے میں کوئی رد عمل موجود نہیں بلکہ اسے نارمل سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے- کہیں شوہر کا دینی حق، کہیں میاں بیوی کا آپس کا معاملہ سمجھ کر ان معاملات کو نظر انداز کیا جاتا ہے- کہیں بچوں کا مستقبل یاد دلا کر بیوی کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے- ازدواجی معاملات میں خواتین کوبہت نصیحتیں کی جاتی ہیں لیکن شوہر کواسکی غلطیوں کا احساس دلانے کا معاشرے میں کوئی رواج نہیں- اور اس سارے معاملے میں دین کے نمائندوں کو دینی شعائر کی خلاف ورزی نظر آتی ہے نہ ہی معاشرے میں برائی پنپتی ہوئی نہ ہی معاشرتی انصاف کی عدم موجودگی عذاب کا پیش خیمہ محسوس ہوتی-
یہ بھی مسلسل دہرایا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کتنا بڑا مقام دیا کہ ماں کے پیروں تلے جنت رکھی گئی- لیکن اپنے بچوں کی جنت کو طعنوں، تشنوں، برے سلوک کا نشانہ بنانے کو نمازی پرہیزگار دیندار افراد بھی اپنا حق سمجھتے ہیں-
تعجب کی بات یہ نہیں کہ معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ بہ حیثیت مجموعی معاشرہ کو شوہر کے اس طرز عمل میں کوئی دینی اور دنیاوی قباحت نظر نہیں آتی-


اپ سے بالکل متفق ہوں لبرل سیکیولر گھرانوں میں بھی یہی حال۔ جہاں تک حل کا تعلق تو پہلےہم یہ ماننے پر راضی ہوں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ سوسائٹی کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے ان رویوں کی بد صورتی کو سامنے لانا ضروری۔ نان فکشن میں، افسانوں، ڈراموں میں، دروس، میں جمعے کے خطبوں میں ان رویوں اور انکے نقصانات کو سامنے لانا ضروری۔ دین کی تعلیمات سے جوڑنا بھی ضروری اس مسئلے کو۔ پھر اسکے معاشرتی نقصانات کو بھی زیر بحث لانا ضروری۔ جن گھرانوں میں ایسا ہوتا وہاں عورت کی قوت عمل کتنی رہ جاتی؟ وہ اپنی بچی کچھی طاقت سے کتنا اپنے گھر کو صحت مند ماحول دے سکے گی۔ پڑھی لکھی عورت اپنے گھر کے علاؤہ پورے معاشرے کا اثاثہ ہوتی۔ لیکن ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر وہ خود اپنی بقا کی جنگ میں ہی پوری ہو جاتی۔ اسکی عزت نفس پر اتنی ضربیں لگائی جاتیں ہیں کہ کبھی کبھی نفسیاتی مریضہ ہو جاتی۔ اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی کہ اسے ہمیشہ یہ بتایا گیا ہوتا کہ تمہارا سب کچھ تمہارا شوہر ہے۔ اسکی زندگی کا محور اسکا شوہر ہوتا۔ اسکی بنیادی تربیت میں یہ بات شامل ہستی- ہم نے اسے کوئ متبادل نہیں دیا۔ جب اسے شوہر سے یہ رویہ ملتا تو اسکے پاس مسلسل کڑھنے کے علاؤہ کوئ آپشن نہیں ہوتا۔ اسی نفسیاتی کیفیت میں اسے گھریلو زمہ داریاں بھی ادا کرنی ہوتیں، سسرال اور میلہ بھی نبھانا ہوتا، دیگر سماجی زمہ داریاں بھی نبھانی ہوتیں اور سب سے بڑھ کر نئ نسل کی تربیت بھی کرنی ہوتی۔ ایک اور بہت بڑا نقصان ایسے تعلق کا جو بجائے راحت کے خدمت کو اصول پر استوار ہوتا کہ مرد کو بھی ساتھی نہیں ملتا۔ حدیث میں اس رشتے کو ایک دوسرے کو انجوائے کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ قرآن اسے راحت قرار دیتا لیکن ہم نے اسے خدمت سے مشروط کر کے عورت کو نوکر کی حیثیت دے دی حالا کہ اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کے آرام کے لئے کام کرناکوئ نوکری نہیں۔ شوہر بھی تو بیوی بچوں اور دیگر گھر والوں کے لئے کماتا ہے۔ ہم اسے خدمت نہیں قرار دیتے۔ اسکے لئے خدمت کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔ مرد اور عورت کا تعلق اس رشتے میں محض جنسی تعلق یا بچے پیدا کرنے تک مطلوب نہیں انہیں ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ ایسے میں اپنے لباس کو صبح شام تار تار کرنے والا کیا توقع رکھتا ہے اور معاشرے نے اسکی تربیت کے لئے کیا اقدار وضع کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کی فرد سے زیادہ ان رویوں کا زمہ دار معاشرہ اور معذرت کے ساتھ دین کی غلط تفہیم کرنے والے اور کلچرل روایات بلکہ ہندو مت کو دین سمجھنے والے دانشور ہوتے ہیں۔



مسزعصمت اسامہ اپ سے بالکل متفق ہوں لبرل سیکیولر گھرانوں میں بھی یہی حال۔ جہاں تک حل کا تعلق تو پہلےہم یہ ماننے پر راضی ہوں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ سوسائٹی کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے ان رویوں کی بد صورتی کو سامنے لانا ضروری۔ نان فکشن میں، افسانوں، ڈراموں میں، دروس، میں جمعے کے خطبوں میں ان رویوں اور انکے نقصانات کو سامنے لانا ضروری۔ دین کی تعلیمات سے جوڑنا بھی ضروری اس مسئلے کو۔ پھر اسکے معاشرتی نقصانات کو بھی زیر بحث لانا ضروری۔ جن گھرانوں میں ایسا ہوتا وہاں عورت کی قوت عمل کتنی رہ جاتی؟ وہ اپنی بچی کچھی طاقت سے کتنا اپنے گھر کو صحت مند ماحول دے سکے گی۔ پڑھی لکھی عورت اپنے گھر کے علاؤہ پورے معاشرے کا اثاثہ ہوتی۔ لیکن ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر وہ خود اپنی بقا کی جنگ میں ہی پوری ہو جاتی۔ اسکی عزت نفس پر اتنی ضربیں لگائی جاتیں ہیں کہ کبھی کبھی نفسیاتی مریضہ ہو جاتی۔ اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی کہ اسے ہمیشہ یہ بتایا گیا ہوتا کہ تمہارا سب کچھ تمہارا شوہر ہے۔ اسکی زندگی کا محور اسکا شوہر ہوتا۔ اسکی بنیادی تربیت میں یہ بات شامل ہستی- ہم نے اسے کوئ متبادل نہیں دیا۔ جب اسے شوہر سے یہ رویہ ملتا تو اسکے پاس مسلسل کڑھنے کے علاؤہ کوئ آپشن نہیں ہوتا۔ اسی نفسیاتی کیفیت میں اسے گھریلو زمہ داریاں بھی ادا کرنی ہوتیں، سسرال اور میلہ بھی نبھانا ہوتا، دیگر سماجی زمہ داریاں بھی نبھانی ہوتیں اور سب سے بڑھ کر نئ نسل کی تربیت بھی کرنی ہوتی۔ ایک اور بہت بڑا نقصان ایسے تعلق کا جو بجائے راحت کے خدمت کو اصول پر استوار ہوتا کہ مرد کو بھی ساتھی نہیں ملتا۔ حدیث میں اس رشتے کو ایک دوسرے کو انجوائے کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ قرآن اسے راحت قرار دیتا لیکن ہم نے اسے خدمت سے مشروط کر کے عورت کو نوکر کی حیثیت دے دی حالا کہ اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کے آرام کے لئے کام کرناکوئ نوکری نہیں۔ شوہر بھی تو بیوی بچوں اور دیگر گھر والوں کے لئے کماتا ہے۔ ہم اسے خدمت نہیں قرار دیتے۔ اسکے لئے خدمت کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔ مرد اور عورت کا تعلق اس رشتے میں محض جنسی تعلق یا بچے پیدا کرنے تک مطلوب نہیں انہیں ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ ایسے میں اپنے لباس کو صبح شام تار تار کرنے والا کیا توقع رکھتا ہے اور معاشرے نے اسکی تربیت کے لئے کیا اقدار وضع کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کی فرد سے زیادہ ان رویوں کا زمہ دار معاشرہ اور معذرت کے ساتھ دین کی غلط تفہیم کرنے والے اور کلچرل روایات بلکہ ہندو مت کو دین سمجھنے والے دانشور ہوتے ہیں۔

یہ بات صحیح ہے کہ گھریلو تشدد کی روایت مشرق اورمغرب دونوں میں موجود ہے لیکن مغرب میں کم از کم ڈائلاگ اور قوانین، ہیلپ لائن اور سپورٹ حاصل ہے عورت کو- کم از کم اس مسئلے کو تسلیم کیا گیا ہے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر- اس پر بحث ہوتی کہ ایسے جرائم سے کیسے بچایا جائے اسکو- اسکے ساتھ عورت کو شعور اور آگاہی دی جاتی ہے کہ کونسے افعال گھریلو تشدد یا ذہنی تشدد کے زمرے میں آتے ہیں اور اگر وہ جسمانی یا ذہنی تشدد کا شکار ہے تو اسے کیا کرنا چاہیے- کہاں تک کمپرومائز اور کہاں کمپرومائز کی حدود ختم ہوتی ہیں-
ہمارے ہاں مشرق یا اسلامی دنیا میں تو ان چیزوں پر ڈائلاگ ہی نہیں- بلکہ سرے سے ماننے سے ہی انکار کر دیا جاتا یا یہ کہا جاتا کے عورت خود بھی ظلم کرتی ہے- عورت کے غلط رویوں کے استثنائی واقعات کو اس طرح ہائی لائٹ کیا جاتا جیسے کشمیراور فلسطین میں ملٹنٹس کے دہشت گرد حملوں کو بنیاد بنا کر پوری جدو جہد کو ہی مشکوک بنا دیا جاتا اور دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا کہ یہ قومیں مظلوم نہیں دہشت گرد ہیں- یہی حال عورت اگر اپنے اوپر ہونے والی زیادتی پر آواز اٹھائے یا کوئی رد عمل دے تو ہوتا ہے- اسے دہشت گرد نہیں بد کردار قرار دیا جاتا ہے-

بہت درست پہلو کی طرف توجہ دلوائ ہے ، یہ ایک سچی اور بہت تلخ حقیقت ہے
اور مذھب کے نام پر روا رکھے جانے والے یہ رویے خواتین کی اکثریت کو مذہب سے برگشتہ کرنے کے کافی ہیں
اتنا کچھ سہنے کے بعد بھی اگر یہ سننے کو ملے کہ خواتین کی اکثریت جہنم میں جائے گی تو کتنا مشکل ہوتا ہوگا اپنا ایمان بچانا
2
  • Like


میرے نزدیک اس میں ان ماں باپ کا قصور ہے جو بچپن ہی سے اپنی بچیوں کو ایسا سکھاتی ہوتی ہیں اور مرد یا شوہر کی بے جا خدمت کو جنت کی بشارت سمجھتی اور سمجھاتی ہیں ۔ اکثریتی گھرانے عورت کے ساتھ ظلم کرتے ہیں، ساس سسر یا شوہر کے روپ میں عورت کو دبایا جاتا ہے اور اس کو مردانگی سمجھا جاتا ہے ، میرے نزدیک جو شوہر اپنے بچوں کی ماں کی قدر عزت نہ کرتا ہو، اس کو برابر کا انسان نہ سمجھتا ہو ، وہ شوہر اور اس مقدس رشتے کے قابل ہی نہیں ہے ۔۔۔
انہیں بے جا پابندیوں کی وجہ سے خواتین نفسیاتی مریض بن گئیں ہیں اور ایسے گھٹن زدہ ماحول میں وہ خاک بچوں کی بہتر تربیت کر سکیں گی ۔
لبرل اور مذہبی گھرانوں میں عورت کی کسی نہ کسی درجہ میں تذلیل ضرور کی جاتی ہے بلکہ کچھ مذہبی گھرانے تو خواتین کو انتہا درجے کا گھٹن زدہ ماحول دیتے ہیں ۔ ان گھرانوں کی خواتین کو دیکھ کر ترس آتا ہے ۔۔۔

وصال کے وقت آقا کریم نے فرمایا تھا ! اللہ‎ سے اپنی عورتوں کے بارے ڈرو ، مفہوم حدیث ہے کہ یعنی ان کے حقوق تلفی نہ کرو ، ان کو برابر کا انسان سمجھو ، ان کے ساتھ میٹھی باتیں کیا کرو ، ان کے کام کاج میں ان کی ہیلپ کرو ، ان کے منہ میں پیار سے نوالے دیا کرو ۔ سب سے بڑھ کر ان کو عزت دو ۔
اور آج کا مسلمان ان تمام باتوں کو بھلا بیٹھا ہے ، اب مردانگی کا معیار یہ ہے کہ کون عورت کو دبا کے رکھتا 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...