جمعرات، 12 اگست، 2021

MArgresa



تزئین حسن

قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن العاص نے مصر میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی- یہاں رومی ادوار میں دوسری صدی قبل مسیح کی تعمیر کردہ شہر پناہ کا کچھ  حصہ آج بھی محفوظ حالت میں ہے- دیوار کے ساتھ ساتھ اور اندر جا کر متعدد چرچ اور کم از کم ایک سائناگوگ موجود ہے جن میں سے کچھ اسلامی ادوار سے قبل اور کچھ اسلامی ادوار کے دوران قائم کیے گئے ہیں- یہاں آ کر مجھے ایک فخر کا احساس ہوا کہ میری شناخت وہ دین ہے جسکی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ برداشت اور مذھبی رواداری کا علم بردار ہے- اسپین میں پندھرویں صدی کے اواخر میں جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی تو وہاں نہ مسلمانوں کا نام اور نشان باقی رہا نہ کوئی ایسی مسجد نظر آتی ہے جہاں آج عبادت ہوتی ہو- مذہبی عدم برداشت کے وہ مظاھرے آسمان کی آنکھ نے دیکھے کہ جن پر رہتی دنیا تک انسانیت شرمسار رہے گی- میں غرناطہ اور قرطبہ کے قصے پڑھتے پڑھتے بڑی ہوئی تھی مگر سچی بات ہے موجودہ جنوبی اسپین کے علاقے جو آج بھی اندَلو سیہ کہلاتا ہے کے بیشتر شہروں سے گزرنے کے باوجود  قرطبہ جانے کی ہمت نہ کر سکی کہ سنا تھا وہاں مسجد قرطبہ میں چرچ کے بیچ میں زنجیروں سے مقید کر کہ جو حصہ مسجد کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے، وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں- مفتی تقی عثمانی نے یا شاید رفیق ڈوگر نے جو نقشہ کھینچا اسے سوچ کر بھی گھٹن محسوس ہوتی ہے- صرف اسپین میں ہی نہیں سلطنت عثمانیہ کی سابق یوروپی مقبوضات میں آپکو اس دور کی کوئی مسجد نظر نہیں آئے گی- کیونکہ یا تو مسجدوں کو مسمار کر دیا گیا ہے یا پھر انھیں گرجا یا دیگر عمارتوں میں بدل دیا گیا ہے-

اب آتے ہیں اصل مدے پر یعنی ایا صوفیہ جو ہزار سال تک عیسائیت کا مرکز رہنے کے بعد سلطان فاتح کی قسطنطنیہ کی فتح کے ساتھ ہی مسجد میں بدل دیا گیا-    


جبکہ ترکی میں آج بھی سینکڑوں کلیسا اور سیناگوگ  ہیں، انہیں سلطنت عثمانیہ کے ادوار سے انھیں کبھی مسجد میں تبدیل نہیں کیا گیا- سال گزشتہ کپڈوکیا میں، ازمیر میں، سلجوق میں ہر جگہ نہ صرف چرچ بلکہ عیسائیت کی اور یونانی اور رومی سلطنت کی نشانیوں کی دید کا موقعہ ملا- ایسا ہی حال ہندوستان کا ہے جہاں ہندو، جین مت اور بدھ مت کی نشانیاں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکومت کے دوران بھی قائم رہیں- گو اسلام نظام جنگ کے مطابق اصول یہی تھا کہ اگر اسلامی افواج بزور طاقت کسی ملک یا شہر پر قابض ہوں تو وہاں کے شہریوں کو جان مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں دی جاتی تھی- لیکن اگر دشمن خود محاصرے کے دوران ہتھیار ڈال دے تو اسکی جان مال اور عبادت گاہوں کی گارنٹی خود اسلامی فوج دیتی- اسکے باوجود مسلمان بادشاہوں نے عموما احسان کا رویہ رکھا اور بعض مستثنیات کے ساتھ بزور طاقت حاصل ہونے والی مقبوضات میں بھی پہلے سے موجود عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا- قصتنتنیہ کا گرجا ایا صوفیہ اس استثنیٰ کی ایک مثال ہے- اسلامی قانون اور اس دور کے جنگی روایت کے مطابق اسکو مسجد میں تبدیل کرنا کوئی قابل اعتراض عمل نہیں تھا- سلطاں محمد نے استنبول فتح کرنے کے فوراً  بعد وہاں نماز پڑھا کر اسے مسجد کے طور پر استعمال کیا اور اسکے ساتھ ہی اسکی مرمت اور مینٹنس کے لئے ١٤٠٠٠ طلائی سکوں سے ایک فنڈ قائم کیا گیا- ١٩٣٥ میں کمال اتا ترک کے عہد میں ترکی میں اصلاحات کے نام پر مذہب مخالف ایجنڈے کو ترک عوام پر زبردستی ٹھونسا گیا تو اس مسجد کو میوزیم کا درجہ دے دیا گیا- ٢٠١٤ میں اردوگان کے سیاسی مخالف گولان کی پارٹی کی طرف سے پہلی مرتبہ اس میوزیم کو دوبارہ مسجد میں بدلنے کا مطالبہ کیا گیا تو اردوگان نے خود اسکی مخالفت کی- اسکا کہنا تھا کہ استنبول میں ٣٠٠٠ مساجد موجود ہیں کیا وہ نمازیوں سے بھر گئی ہیں؟ اسکا یہ بھی استفسار تھا کہ جب بلیو موسک کی جگہ نماز کے لئے کافی نہ رہی گی تو وہ آیا صوفیہ کو مسجد کا درجہ دے دن گے-
 دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں اردگان مخالف دو سیکولر پارلیمینٹرینز نے اسے مسجد بنانے کی تائید کی کیونکہ سیکولر جماتیں بھی محسوس کر رہی تھیں کہ ترک عوام آہستہ آہستہ ترکی کے مذہب مخالف ماضی سے نکلنے کے لئے پر پھڑپھڑا رہے تھے- 

لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ ٢٠١٦ کی بغاوت نے جسے مغرب نے اسپانسر کیا اردگان کو تبدیل کر کے رکھ دیا- ترکی میں سیاسی مخالفین کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا جن میں یونیورسٹیز کے اساتذہ صحافی طلبہ سبھی شامل تھے- ان انتقامی اقدامات کا نتیجہ ٢٠١٨ کے الیکشن میں اردگان کی مقبولیت میں کمی کی صورت میں سامنے آیا- اس الیکشن میں اردوگان نے خود آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کو اپنے الیکشن نعروں میں شامل کیا- بظاھر یہ فیصلہ کورٹ کی طرف سے آیا ہے لیکن کورٹ کے فیصلے سے پہلے بھی اردوگان کے بیانات اس فیصلے کی عملی شکل سے متعلق موجود ہیں مثلاً یہ کہ مسجد قرار دیئے جانے کے باوجود ہر مذہب کے لوگ   
یہاں داخل ہو سکیں گے- 

ترک حکومت بجا طور پراس فیصلے کا جواز یہ کہہ کر دی رہی ہے کہ یہ ترکی کی داخلی خود مختاری کا معاملہ ہے- اس فیصلے کی حمایت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عیسائیوں اپنے دور حکومت میں اسپین میں مسجد قرطبہ اور سلطنت عثمانیہ سمیت کی سابق مقبوضات میں ہزاروں مساجد کو تباہ کیا یا انہیں گرجاؤں میں تبدیل کیا- یہ بات صحیح ہے لیکن کیا ایسا کرنے والوں کو ہم نے یہ کہہ کر شاباشی دی ہے کہ انھوں نے صحیح کیا؟ تاریخ ان لوگوں کو تنگ نظر متعصب حکمرانوں کے طور پر ہی یاد رکھتی آئ ہے- 
یہ ترکی کا داخلی معاملہ ہے- ترکی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے- 
کیا ہم اسی اصول کے تحت بابری مسجد کے انہدام کو بھی انڈیا کا داخلی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں؟ 
اکیسویں صدی میں یہ قدم مودی جیسے تنگ نظر مسلمان دشمن کو یہ جواز فراہم کررہا ہے کہ اگر ہم نے بابری مسجد کی جگہ مندر کو دے دی تو مسلمان بھی یہی کام کر رہے ہیں- قانونی طور آپ یقیناً اس بات کے مکلف ہیں کہ اپنے ملک میں اپنی مرضی سے میوزیم کو دوبارہ مسجد کا درجہ دے دیں- لیکن اگر طاقت کو ہی فیصلہ کن قوت مان لیا جائے تو ہم مسجد اقصیٰ سمیت آدھی دنیا میں مساجد پر اپنا استحقاق کھو دین گے-  مسلم دنیا کی ایک بڑی آبادی اس وقت اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہے- ان میں چین، میانمار، کشمیر، انڈیا کے علاوہ فلپائن، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، اور لاطینی امریکا کے ممالک بھی شامل ہیں- ان میں سے بہت سے خطوں میں مسلمانوں کو شدید مذہبی استحصال کا شکار ہیں- ان مظالم پر آواز اٹھانے کے لئے اوردنیا میں انکے لئے حمایت حاصل کرنے کے لئے، ہمیں مغرب کے بنائے ہوئے انسانی حقوق کا سہارا لینا پڑتا ہے-        

یہ قدم اسلام کے روشن خیال چہرے سے دنیا کو متعارف کروانے کے بجائے مسلم اقلیتوں پر مذہبی استحصال کو جواز فراہم کر رہے ہیں- 

اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس وقت سلطاں فاتح نے گرجا کو مسجد میں بدلہ اس وقت عیسائی اپنے مفتوحہ علاقوں میں مساجد کو ختم کر رہے تھے، لیکن آج اکیسویں صدی میں یہ صورتحال نہیں ہے- پچھلی دو تین دھائیوں میں مغربی ممالک میں مسلمانوں نے بڑھتے ہوئے امیگرینٹ مخالف اور اسلامو فوبیا کے باوجود ہزاروں نہیں تو سینکڑوں مساجد کی تعمیر کی ہے- اس سے بلا واسطہ اسلام کا پیغام مغرب کے باسیوں تک پہنچ رہا ہے-     
   

 The
acceptance of the presence of Muslims has reached to the point that the Vatican, the seat of the Catholic
Church has allowed calling of Muslim prayer – adhan – in its vicinity. With these developments, one may
suggest that if Sultan Mehmet were alive today, he would have re-considered his own decision to convert
Hagia Sophia to mosque under the changed circumstances. Mustafa Kemal Ataturk’s decree of 1934 might
have been an immediate reaction to certain practices of some late Ottoman rulers, but to reverse that decree
would be a disaster now. The younger generation led by the Anatolia Youth Association that is engaged in
campaigning to revert the status of Ayasofia, as it is known in the Turkish language, into a mosque must
understand universal Islamic teachings in the proper context of time. They should rather engage themselves in
more constructive campaigns by participating and responding to Islamophobic expressions in this era of
internet-based web media and the vibrant social media.
It is interesting to note that two Turkish opposition parties, the MHP and CHP, both claimed to be believers in
secularism are reported to have demanded to turn Hagia Sophia into a mosque. According to a report, “Sinan
Aygun, an MP of the Republican People’s Party for Ankara has posed the question as to why the Hagia
Sofia  shouldn’t be turned into a mosque in the Turkish parliament, following a call to turn the museum into a
mosque by a member of Turkey’s third biggest party (National Movement Party)  MHP . (World BulletinNov.
27, 2013)” This is nothing but exploitation of religious sentiment in politics. The Hagia Sophia does not
represent any civilizational glory or power anymore; today the real civilizational power must be demonstrated
through the ability to stand firm on one’s own footing. Turkey’s transformation during the past decade from
aid recipient to aid donor country is the real manifestation of civilizational dignity, glory and prestige.
The Economist (May 10, 2014) reported from Istanbul that, “Turkey’s pious prime minister, Recep Tayyip
Erdogan, plans to lead prayers in the building to mark the 561st anniversary (May 29, 2014).” But that has not
happened: the date has passed without any such incident. However, what the Economist correspondent failed to
note that the Prime Minister had stated last year that, “he would not consider changing Hagia Sophia's status as
long as another great Istanbul house of worship, the 17th Century Sultan Ahmed Mosque, remains mostly
empty of worshippers. Istanbul boasts more than 3,000 mosques.” Recently Deputy Prime Minister Bulent

Arinc has described the conversion attempt as a trap. In our opinion, it is certainly a trap and sheer exploitation
of emotional attachment of the Turkish masses to Sultan Mehmet – the Fatih, the liberator. The opposition and
the Gulen supporters are trying to exploit this. The people of Turkey must understand this and act wisely.



تاریخ شاہد ہے کہ کبھی اسپین، پرتگال یا لاطینی امریکا کے کیتھولک فرقوں کی طرح زبرستی لوگوں کو مذھب بدلنے پر مجبور نہیں کیا گیا- 




یہ اس دور کی باتیں ہیں جب نہ تو میگنا  کارٹا وجود میں آیا تھا نہ ہی جنیوا کنونشن پھر بھی مسلمانوں 



یہ سب تو پرانی باتیں ہیں لیکن عدالت کے حکم کے ذریعے بابری مسجد کی زمین کو مندر کے حوالے کرنا تو اکیسویں صدی کی بات ہے- لیکن یاد رہے جب بھی مسجدوں کو کسی اور 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...