پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر قائم ہوا، اس لئے ہمارا ریاستی اور قومی بیانیہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والوں کو اسلام ہی جوڑ کر رکھ سکتا ہے- یہی در اصل دو قومی نظریہ تھا- ہماری قومی تعمیر کی پلاننگ لڑنے والوں نے اسی ایک نکتے کو سامنے رکھ کر بڑی باریک بینی سے نصاب اور میڈیا کا بیانیہ ترتیب دیا اور اس بیانیہ سے ہر اس چیز کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا جو کسی اور نظریے پر استوار ہو- دیکھا جائے تو شروع کی دھائیوں میں یہ بیانیہ کامیاب بھی ہوا ہے لیکن پھر رفتہ رفتہ یہ بیانیہ اپنی کشش کھوتا گیا- حتیٰٖ کہ ١٩٧١ میں سقوط ڈھاکا کے بعد اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقعہ ملا کہ میں نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا-
آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی اسلام (یا دوسرے لفظوں میں اس کا نام) پاکستان نامی اس جغرافیائی اکائی میں رہنے والوں کو باہم جوڑ سکا ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو آخر اسکی کیا وجہ ہے؟ ہمیں اپنے قومی بیانیہ میں کن عناصر کو شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ نیشن بلڈنگ کی ضروریات پوری ہو سکیں اور پاکستانی قوم اپنی ایک واحد شناخت محسوس کر کے ملک کی ترقی میں پر جوش طریقے سے حصہ ڈال سکے-
مسئلہ یہ ہے کہ کسی نظریے کا محض نام نیشن بلڈنگ کے لئے کافی نہیں ہوتا- نظریہ یا بیانیہ چاہے کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو، اس کی ایسی تعبیر کا سامنے آنا بہت ضروری ہے جو موجودہ دور کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی ہمت رکھتا ہو- اسلام کی حقانیت سے کسی کو انکار نہیں مگر اسکو جدید بیانیہ بنانے کے لئے معاشی، معاشرتی، اور سیاسی چیلنجز اور آج کے دور کی عملی ضروریات سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے یہ بھی ضروری ہے-
کیا اسلام کے نام پر مبنی اس بیانیہ میں انسانوں کی برابری، سماجی انصاف، مشاورت، برداشت ، اظہار آئے کی آزادی، آئین اور قانون کی حکمرانی، تمام انسانوں کی برابری شامل ہیں؟ بظاھر یہ مغرب کی لبرل جمہوری اقدار محسوس ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدار دنیا کو متعارف کروانے کا صحرا قران. سیرت رسول اور دور خلافت کو جاتا ہے- جب تک یہ اقدار عملی شکل میں ہمارا ٹارگٹ نہ ہوں اور ہم اس جغرافیائی اکائی میں رہنے والے انسانوں کو یقین نہ دلائیں کہ آپ سب لوگ آئین اور قانون کی نظر میں برابر ہیں اور اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے- آپکو اپنی بات کہنے اور حکومت (چاہے وہ فوجی ہو یا سول اور جمہوری ہو یا آمریت) کے خلاف احتجاج کرنے کی آزادی ہے- ملک کا نظام حکومت میں آپکی نمائندگی بھی موجود ہے- ریاست میں اپنے خلاف احتجاج سننے کی برداشت موجود ہے- محض اسلام کا نام ہمیں نہیں جوڑ سکتا-
یہ کونسا اسلام ہے کہ ١٩٧١ میں ملک میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار منتقل نہ کیا گیا کیونکہ انکا تعلق ایک ایسے نسلی گروہ سے تھا جسے قبول کرنا مشکل تھا- اس نسلی گروہ کا مطالبہ کونفیدریشن یا وسیع خود مختاری تھا جسے ماننے کے بجائے اس لسانی سیاسی طاقت کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا- اسکے لیڈر سے مذاکرات کرنے کے بجائے آپریشن سے پہلے اسے مغربی پاکستان لا کر قید کر دیا گیا- ملک ٹوٹنے کے بعد اسے ادب احترام سے رہا کر دیا گیا-
ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا کہ یہاں اسلام ہمیں نہیں جوڑ سکا کیونکہ ہمارے نزدیک اس ملک کے مشرقی اور مغربی حصے میں رہنے والے برابر نہیں تھے- آئ ایس پی آر کے سابق ڈی جی جرنل آصف غفور نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اگر پریس آزاد ہوتا تو مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہ ہوتا- دس سالہ ایوب مارشل لاء نے پاکستان کو ایک صنعتی طاقت بنانے کے حوالے سے بہت کامیابیاں حاصل کیں لیکن ملک کے دونوں حصوں کے عوام کی شرکت کے بغیر حکومت کرنے سے ملک کے مشرقی حصے میں سیاسی فرسٹرشن میں اضافہ ہوا- حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثریتی پارٹی کو اقتدار سونپنے کے بجائے ملک کے مشرقی حصے میں آپریشن ہوا تو مغربی حصے کی کسی سیاسی اور مذھبی جماعت نے اس پر احتجاج نہیں کیا- نو مہینے کے آپریشن میں اگر فوجی ڈکٹیٹر شپ نے سمجھ سے کام لیا نہ کسی سیاسی قوت نے اور نہ ہی مذھبی قیادت کو بنگالیوں کے خلاف آپریشن اسلامی اصولوں کے خلاف محسوس ہوا- تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام یقیناً تمام قوموں کو جوڑتا اگر اسکے برابری کے اصول، قانون کی حکمرانی پر عمل ہوتا- آئین تو موجود ہی نہیں تھا تو آئین کی حکمرانی کا ذکر ہی فضول ہے- جب بھی اسکو توڑا گیا یا معطل کیا گیا ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے اس فیصلے کی توثیق کی- تو پھر کسی قوم اور کیسا اسلام؟ جس قوم کو قومی دھارے سے الگ کیا گیا وہ کیوں محض اسلام کے نام پر متحد ہو گی-
اسلام کا نام ہمیں نہیں جوڑ سکا اسکی دوسری بڑی مثال قبائلی علاقے ہیں جواب پاکستان میں ضم کر دیے گئے ہیں- یہ محسود، وزیر، شنواری قبائل پاکستان بننے سے لیکر اکیسویں صدی کے اوائل تک پاکستان کے لئے جان دینے کے لئے تیار تھے- یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آزاد کشمیر کو آزاد کروایا- پاکستانی فوجی حکومت نے سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ مل کر افغان جہاد کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا فیصلہ کیا تو ان قبائلیوں نے اپنی آنکھیں ساری دنیا سے اکٹھے کیے گئے عرب اور غیر عرب مجاہدین کے لئے بچھا دیں- افغانستان سے روسی قبضہ اور امریکا روس کے درمیان سرد جنگ ختم ہونے کے بعد مشرقی وسطیٰ، شمالی افریقہ، وسط ایشیا کے مجاہدین جن کے لئے اپنے ملکوں میں جانا ممکن نہیں تھا اس علاقے کو اپنا گھر بنا لیا- نائن الیون کے بعد اس سے قبل کے قبائلی کچھ سوچنے کے قابل ہوتے، ان پر اوپر سے ڈرون برسنے لگے، اور نیچے ایک طرف سے پاکستانی طالبان اور دوسری طرف سے پاکستانی فوج کا تصادم قہر بن کر نازل ہوا- گڈ طالبان یر بیڈ طالبان کے بیانیہ نے قبائل کو پیس کر رکھ دیا- امریکا کو شکایات تھی کہ پاکستان القاعدہ اور افغان طالبان کو یہاں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے- امریکی ڈرونز نے بڑی تعداد میں معصوم سولینز کو شہید کیا- اس بربریت نے تحریک طالبان پاکستان کو جنم دیا جس نے ملک کے سول اور ملٹری ٹارگٹس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا-
یہاں بھی ہمارا مذہبی بیانیہ ہمیں نہیں جوڑ سکا- اسکی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف رد عمل نہ ہونے کے برابر تھا-ملک کی فوجی (مشرف) اور سول حکومتیں (آصف زرداری) ان ڈرون حملوں کی اجازت کا انعام امریکی امداد کی صورت وصول رہی تھیں- اور امریکا سے اپنی حکومت کی legitimacy کے سرٹیفکیٹ وصول رہی تھیں- انہیں عوام کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی- مہران بیس، پریڈی گراؤنڈ مسجد، آرمی پبلک اسکول، لاہور پولیس اکیڈمی، اور دیگر سینکڑوں حملوں میں ہزاروں پاکستان لقمۂ دہشت گردی بنے- ڈرونز کے پیدا کردہ ان طالبان کے خلاف سخت آپریشن ہوا- ان آپریشنز کی نشانیاں قبائلی علاقوں کا تباہ حال انفرا سٹرکچر، تباہ حال گھر بازار، دکانیں، اور سب سے بڑھ کر بارودی سرنگوں نے ایک نئی سیاسی قوت پی ٹی ایم کو جنم دیا جو بظاھر پر امن ہے لیکن اس پر ملک دشمنی کا الزام لگا کر انکی کوریج پر پابندی ہے-
پی ٹی ایم کے مطالبات ہیں کہ پاک فوج اپنی لگائی ہوئی بارودی سرنگوں کا صفایا کرے، اور آرمی آپریشن کے نتیجے میں قبائلی عوام کے تباہ حال گھروں اور دکانوں کا مناسب معاوضہ عطا کرے- فوجی ناکوں پر ناروا رویئے کو ختم کیا جائے- اسکے علاوہ لاپتہ افراد کو کورٹ میں پیش کر کہ ان پر فرد جرم عائد کی جائے اور انہیں پاکستانی قانون کے مطابق سزا دی جائے- ان مطالبات کے بر حق ہونے سے کسی کو انکار نہیں مگر ان کے جواب میں میڈیا میں اس تحریک کے افراد کا داخلہ منع ہے- اسکا جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ غدار ہیں اور غیر ملکی طاقتیں اس تحریک کی مالی پشت پناہی کر رہی ہیں- یہ ووہی الزام ہے جو بنگالیوں پر بھی لگایا گیا-
سوال یہ ہے کہ ریاست کو ان سے کیا ڈر ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی سیاسی قوت کو یہ احساس نہیں کہ ڈروں حملے پاکستان کی خود مختاری پر حملہ تھے، کسی فوجی یا سول حکومت کو امریکا کو انکی اجازت دینے کا حق نہیں تھا- پاکستانی دینی جماعتیں جو دنیا کے کسی بھی کونے میں گستاخی پر سڑکوں پر آ جاتی ہیں انہیں سرکار ص کا یہ قول یاد نہیں آتا کہ انسانی جان کی حرمت کعبے سے زیادہ ہے- قبائلی عوام کو نہ تو احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق ہے اور نہ ہی اظہار رائے کی آزادی کا- انکے معاملے میں قانون اور آئین کی حکمرانی کے لئے پاکستان میں کوئی سیاسی قوت سامنے آنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی- وزیراعظم عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے لاپتہ افراد اور قبائیلیوں کے لئے بہت بولتے تھے مگر اب خاموش ہیں- یہی حال دینی قیادت کا ہے- تو ایسے میں اسلام ہمیں کیسے جوڑ سکتا ہے؟
اسی طرح بلوچستان کا علاقہ ہے جو بہر حال ہم پسند کریں یا نہ کریں، چھوٹے پیمانے پر ایک علیحدگی پسندی کی مسلح مزاحمت کا گڑھ ہے- ایف سی اور علیحدگی پسندوں کے درمیان تصادم اور جانی نقصان کی خبریں بہت کم مین اسٹریم پریس کا حصہ بنتی ہیں اور اسکی وجہ سخت ریاستی سنسر بھی ہے، میڈیا ورکرز کے لئے محفوظ ماحول نہ ہونا بھی اور جغرافیائی لحاظ سے اس وسیع خطے میں آبادی کی کمی کی وجہ سے میڈیا مالکان کو ریٹنگ بڑھنے کی صورت میں منافع میں اضافے کی امید نہ ہونا بھی-
ایف سی اور علیحدگی پسندوں کے علاوہ سول حادثات بھی عام ہیں اور enforced disappearence جبری لاپتہ ہونے کے معاملے میں یہ خطہ (سابق) قبائلی پٹی سے بھی بڑھ کر ہے- یہاں مملکت پاکستان کے خلاف یہ تیسری یا چوتھی مزاحمت ہے جسے مضبوط شواہد کے مطابق غیرملکی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے- اسکے علاوہ یہ پاکستان کا سب سے زیادہ غربت والا خطہ ہے- ذاتی انٹرویوز میں راقمہ کو بلوچستان کے مختلف حصوں سے سورسز نے بتایا کہ یہاں غیر ملکی این جی اوز کا جال بچھا ہوا ہے جو غریب عوام کی بنیادی ضروریات کسی حد تک پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں-
پاکسستان کے مروجہ حب الوطن اور اسلامسٹ جب بلوچستان کا ذکر کرتے ہیں تو بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنیات، اور گوادر کی عظیم الشان بندرگاہ کا ذکر فخریہ کرنا نہیں بھولتے- لیکن بلوچ عوام کو ایسے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے بنگالی عوام no men تھے- ایسی سوچ صرف کولونیل حکمرانوں کی ہوتی ہے- کہ انہیں زمین اور اسکے وسائل سے تو دلچسپی ہوتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے اسٹریٹجک فائدوں کی مگر اس زمین کے وارث انکی نظر میں غدار ہوتے ہیں جنہں طاقت کے ذریعے اپنے ساتھ رکھنا کولونیل پاور کی مجبوری ہوتی ہے- حاصل اس بحس کا یہ ہے کہ یہاں بھی اسلام ہمیں نہیں جوڑ سکا یا سکتا جب تک کے بڑے پیمانے پر بلوچ عوام کے مسائل کے لئے سنجیدہ لائحہ عمل نہ بنایا جائے اور اس پر ایمانداری سے عمل نہ ہو- (یہاں ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ بلوچستان کے تمام علاقوں میں یہ صورتحال نہیں-)
لیکن برداشت کی عدم موجودگی میں بنگلہ، قبائلی پٹی، بلوچستان ہی نہیں آج اسلام کے سب سے بڑے دعوے داروں کو بھی اسلام جوڑ کر نہیں رکھ سک رہا- یہاں مختلف دینی نظریات رکھنے کی سزا میں انسان کو مار ڈالا جاتا ہے- لیکن اصل ستم ظریفی یہ ہے کہ ان انفرادی جرائم کے پیچھے دینی تنظیموں کا بیانیہ ہے جو خود چاہے اس پر عمل نہ کریں لیکن اپنے متبعین کو سر تن سے جدا کرنے کی کھلی اجازت اور چھوٹ دیتی ہے جنت کی گارنٹی کے ساتھ- قانون ہاتھ میں لیکر سر تن سے جدا کرنے والوں کو شہید کا رتبہ دیا جاتا جو کونسا مسلمان نہیں حاصل کرنا چاہے گا-
تو کہنا یہ ہے کہ برداشت کی عدم موجودگی میں یہاں بھی اسلام ہمیں جوڑ کر نہیں رکھ پا رہا- اس صورت حال کو قیام پاکستان سے قبل کے معاشرے سے تقابل کریں تو مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا لیکن بہت بڑی تعداد میں مخلص دینی اور ملی علماء کی موجودگی کے باوجود کسی نے مرزا غلام احمد قادیانی کا سر تن سے جدا کر کہ جنت کے حصول کو آسان نہیں بنایا - علامہ اقبال قائداعظم کسی نے اپنے متبعین کو ایسی سستی جنت کی ترغیب نہیں دی- سرسید نے ولیم میور کی کتاب کے جواب میں کتاب لکھی- مولانا مودودی نے قادیانی مسئلہ لکھی- تو یہ وہ برداشت اور دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی روایت تھی جو آج ہمیں نظر نہیں آتی-
اب اس معاملے کے ایک اور پہلو کو دیکھئے- ہمارا دعویٰ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر مسلمانوں کے لئے بنایا گیا- قیام پاکستان کی جدو جہد میں یو پی اور سی پی کے صوبوں کے وہ مسلمان پیش پیش تھے جنھیں معلوم تھا کہ وہ کبھی اس پاکستان کا حصہ نہیں بن سکیں گے- لیکن آج اسی اسلام اور پاکستان کا نام لینے والے محب وطن مسلمان کو ہندوستانی مسلمانوں سے کوئی سرو کار نہیں- اگر بھارت میں ان پر ہونے والے مظالم کا نام لیا جائے تو یہ جواب ملتا ہے کہ انکا اپنا قصور تھا کہ وہ پاکستان کیوں نہیں آئے- یاد رہے یہ وہ مسلمان ہے جو کئی دہائیوں سے بقول بی بی سی کے مارک ٹلی کے پاکستان کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں اور اب تو بین الاقوامی علمی حلقوں کے نزدیک جینو سائیڈ یعنی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں- اسلام اگر واقعی مسلمانوں کو جوڑ سکتا تو ہمیں سرحد پار ان مسلمانوں کی مشکلات کا کچھ تو اندازہ ہوتا جو ہمارے اس پاک وطن کی قیمت ادا کر رہے ہیں-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں