اتوار، 9 مئی، 2021

ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا ( II ) Transferred to Qartas


ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا ( II ) 
تزئین حسن 

٢٠١٧ کی بات ہے کینیڈا کے ایک اردو ٹی وی چینل نے روہنگیا مظالم پر میرا پروگرام ریکارڈ کیا تو آخر میں اینکر کا سوال تھا کہ آپکے خیال میں روہنگیا کے مسئلے کا حل کیا ہے؟ میرا کہنا تھا کہ مسلمان علم حاصل کرنا شروع کریں اور تحقیق کا راستہ اختیار کریں، اسکے علاوہ کوئی حل نہیں- مجھے یاد ہے اینکر کے چہرے پر بیزاری آ گئی- اسکا رد عمل کچھ یوں تھا کہ یہ تو بہت دور کی بات ہے، کوئی فوری حل بتائیں کہ چٹکی بجاتے روہنگیا کا مسئلہ حل ہو جائے- کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا- میرا جواب تھا کہ اگر اس دور رس حل پر ہم راضی نہیں تو ہمیں دنیا کے سامنے لائن سے کھڑے ہو جانا چاہیے اور سکون سے اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ ہم سب کی باری آنی ہے-

ایسا اس لئے ہے کیونکہ دنیا اقوام متحدہ کے کنونشنز پر نہیں ڈارون کے survival of the fittest (طاقتور کی بقا ) کے نظریے پر چلتی ہے بقول نوم چومسکی بین الاقوامی تعلقات کا صرف ایک اصول ہے اور وہ ہے Might is power یعنی جسکی لاٹھی اسکی بھینس، ڈارون بھی کافر جہنمی سہی یہی بات کہہ کر گئے ہیں- امید ہے انکی بات پڑھنے سننے سے ہم کوئی جہنمی نہیں ہو جائیں گے- ہمارے عقائد اپنی جگہ انکے عقائد اپنی جگہ-

اس اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض ریلیاں نکالنے اور دشمن کو برا بھلا کہنا اسکے مظالم کی دھائیاں دہائی دینے سے ہمارے حالات نہیں بدلیں گے- نہ ہی یہ سمجھنے سے ہمارے حالت میں تبدیلی آئے گی کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے ہم اچھے ہیں، دوسرے لوگ مسلمان نہیں اس لئے وہ بہت برے ہیں- ہم الله کے چہیتے ہیں باقی لوگ مبغوض ہیں- الله نے ہم سے ایسا کوئی وعدہ محض کلمہ پڑھنے کی بنیاد پر نہیں کیا- جہاں کوئی وعدہ کیا اس میں ایمان لانے کے ساتھ ساتھ عمل کو بھی شرط رکھا گیا-

اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ وإذَا أرَادَ اللّٰہُ بَقَوْمٍ سوئًا فَلاَ مردَّ لَہٗ ومَالَہُمْ مِنْ دُوْنہٖ مِن وَال (رعد:۱۱)
ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور اللہ کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوسکتا-


ایک غلط فہمی ہمارے ہاں ایک بڑے طبقے میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظام نافذ ہو گیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا- گویا اسلامی نظام نہیں کوئی جادو کی چھڑی جس سے ہمارا علمی فکری اخلاقی انحطاط سب منٹوں میں ختم ہو جائے گا- پاکستان اقوام عالم میں ایک باعزت مقام حاصل کر لے گا- ہم لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی اہلیت حاصل کر لیں گے-

اکثر یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ دین پر عمل شروع کردیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا- بظاہر یہ کہنے کے باوجود کہ اسلام میں دین اور دنیا الگ الگ نہیں، دین صرف چند ظاہری اعمال کو سمجھا جاتا ہے- صدیوں سے غور فکر، کائنات کی تسخیر، اس کرہ ارض کی سیر کر کہ تاریخ سے عبرت پکڑنے اور الله کے قوانین کی کھوج لگانے سے متعلق قرانی آیات کو عملاً دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا- 



استنبول میں قیام کے دوران ایک ایغور نوجوان (چین کے زیر کنٹرول سنکیانگ نامی خطے کے مقامی نسل کے لوگ ایغور کہلاتے ہیں) کے قائم کردہ لینگویج اسکول کے دورے کا اتفاق ہوا- وہاں ایک ٹیچر نے مجھے کہا کہ ہماری سو سال تک یہی اسٹرٹیجی رہی کہ ہم صرف دین کا علم حاصل کر لیں لیکن اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں دین اور دنیا دونوں کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے- میرے استفسار پر کہ وہ دنیا کا علم کسے سمجھتے ہیں انکا کہنا تھا کہ میڈیا، تاریخ، سیاسیات،اور دیگر سماجی علوم مینجمنٹ اور انگریزی، ترکی، عربی اور دیگر یوروپی زبانیں- ان نوجوانوں میں مجھے باخبری کی رمق نظر آئ، لیکن بہ حیثیت مجموئی امت میں اس حوالے سے کوئی شعور نظر نہیں آتا- 


قران میں تیرا مقامات پر سیرو فی الارض کا حکم موجود ہے لیکن مجھے قران کی کسی تفسیر کا کوئی شارح اسکا مفہوم سمجھاتا دکھائی نہیں دیتا- نہ سفر کی برکتوں کے حوالے سے کوئی درس کہیں سنائی دیا-

حالانکہ مسلم دنیا میں ابتدائےاسلام سے سفر کی روایت بہت مضبوط رہی- حج کی صورت ساری دنیا کے استطاعت رکھنے والے مرد اور عورتوں پر سفر فرض کیا گیا- تجارت کو رزق کے ننانوے حصے قرار دینے والے نبی کی امت قرون وسطیٰ میں ساری دنیا میں پھیل گئی- ملایشیا، انڈونیشیا، کینیا، صومالیہ، برما، سری لنکا، مالدیپ کے ساحلوں پر کوئی فوج کشی نہیں کی گئی لیکن تجارتی سفر دنیا کے ان اہم ترین خطوں میں دعوت کا بھی ایک اہم ذریعہ ثابت ہوئی اور یقیناً اس نے دنیا کو کھلی آنکھ سے دیکھنے کا موقعہ بھی فراہم کیا ہو گا- لیکن آج کچھ کم نظر مبلغین مسلمانوں کے مغربی ممالک میں رہائش اختیار کرنے کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں، انکا خیال ہے کہ اس سے نسلیں بگڑ جائیں گی- ایمان چلا جائے گا- ہم ایمان کو اس قدر کمزور شے تصور کرتے ہیں کہ ذرا سی مخالف نظریات کی ہوا چلی اور وہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا-


بر صغیر کے ایک معروف عالم سید مودودی نے کوئی ستر سال پیشتر دارلاسلام سے دارالکفر ہجرت کی مخالفت کی تھی لیکن اس وقت حالات کچھ اور تھے- آج اگر وہ خود بھی مغرب کا دورہ کرتے تو وہ اپنی رائے سے رجوع کرتے بلکہ انکا آخری انٹرویو جو جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر خرم جاہ مراد نے امریکا میں انکے علاج کے دوران ریکارڈ کیا اس میں انکی گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا- لیکن کچھ کم نظر آج بھی انکی پچھلی رائے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کی مغرب میں ہجرت کی عملی برکتوں کو دیکھنے کے باوجود اسکی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں- بعض دوسرے مذہبی طبقات اسکو جائز تو قرار دیتے ہیں مگر انکا کہنا ہے کہ تبلیغ کے لئے تو جائز ہے لیکن اپنی دنیا کو بہتر بنانے کے لئے یا اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے جائز نہیں- یہاں آکر ہمارے مبلغین اور مفتیان خود یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ دین اور دنیا کو الگ الگ چیزیں سمجھتے ہیں-

مسلمان کی دنیا بہتر ہو رہی ہو، اسکا کوئی تعلق ہمیں براہ راست دین سے نظر نہیں آتا- ان حضرات کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ دین کی خدمات صرف وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر طویل مدت کے لئے تبلیغی دوروں پر نکل جاتے ہیں- مغرب میں منتقل ہونے والے مسلمانوں نے عملاً ان کم نظروں کے بیش قیمت خیالات کو غلط ثابت کر دیا ہے لیکن یہ کج بحث اپنے خیالات سے رجوع کرنے پر راضی نہیں-

ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں کی تعداد میں مساجد، تراویح، درس کے حلقے، اسلامی اسکول، حجاب میں ملبوس مسلم اسکاوٹس یہاں تک کے چرچ خرید کر مساجد میں بدل دینے کے واقعات اگر سید مو دودی کے سامنے آتے تو کیا وہ پھر بھی مسلمانوں کی ہجرت کے ثمرات دیکھنے کے بعد بھی اسکی مخالفت کرتے؟

اس سے آگے بڑھ کر کچھ کم نظر مغربی تعلیم کے خلاف فتوے دیتے ہیں- انکا خیال ہے کہ مغربی تعلیم ہمارے دین کے لئے سم قاتل ہے- ڈیڑھ سو سال بعد سرسید کا یہ قصور معاف کرنے پر راضی نہیں کہ انہوں نے مغربی تعلیم حاصل کرنے کو قوم کی نجات سمجھا- انکا خیال ہے کہ پچھلےبہتر
 سالوں میں پاکستانی قوم کے انحطاط کی ساری ذمہ داری سرسید پر آتی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو مغربی طرز کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر اکسایا-

یہ دوسری بات ہے کہ خود انکے اپنے لیڈران اور اپنے حلقے کے لوگ جو انکی تائید میں سر ہلاتے ہیں، ایک دوسرے کو انکی پوسٹیں فارورڈ کرتے ہیں، اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے امریکا یورپ ہی بھیجنا پسند کرتے ہیں- معذرت کے ساتھ لیکن انکے معیارات کارکنان کے لئے الگ ہیں اور لیڈران اور انکے بچوں کے لئے الگ- ایک طرف امریکا کے ایوانوں کو آگ لگانے کا نعرہ لگوایا جاتا ہے، اس سے نفرت کرنا سکھائی جاتی ہے، دوسری طرف خود اپنی اولاد کو تعلیم کے لئے وہیں بھجوایا جاتا ہے- ان میں سے کسی کی سوچ اتنی وسیع نہیں یا اسکا اظہار نہیں کیا جاتا کہ یہ اسٹرٹیجی سراسرمنافقت پر مبنی ہے- اور منافق کا درجہ قیامت میں کافر سے نچلا ہوگا-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...