جمعرات، 12 اگست، 2021

MArgresa



تزئین حسن

قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن العاص نے مصر میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی- یہاں رومی ادوار میں دوسری صدی قبل مسیح کی تعمیر کردہ شہر پناہ کا کچھ  حصہ آج بھی محفوظ حالت میں ہے- دیوار کے ساتھ ساتھ اور اندر جا کر متعدد چرچ اور کم از کم ایک سائناگوگ موجود ہے جن میں سے کچھ اسلامی ادوار سے قبل اور کچھ اسلامی ادوار کے دوران قائم کیے گئے ہیں- یہاں آ کر مجھے ایک فخر کا احساس ہوا کہ میری شناخت وہ دین ہے جسکی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ برداشت اور مذھبی رواداری کا علم بردار ہے- اسپین میں پندھرویں صدی کے اواخر میں جب مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی تو وہاں نہ مسلمانوں کا نام اور نشان باقی رہا نہ کوئی ایسی مسجد نظر آتی ہے جہاں آج عبادت ہوتی ہو- مذہبی عدم برداشت کے وہ مظاھرے آسمان کی آنکھ نے دیکھے کہ جن پر رہتی دنیا تک انسانیت شرمسار رہے گی- میں غرناطہ اور قرطبہ کے قصے پڑھتے پڑھتے بڑی ہوئی تھی مگر سچی بات ہے موجودہ جنوبی اسپین کے علاقے جو آج بھی اندَلو سیہ کہلاتا ہے کے بیشتر شہروں سے گزرنے کے باوجود  قرطبہ جانے کی ہمت نہ کر سکی کہ سنا تھا وہاں مسجد قرطبہ میں چرچ کے بیچ میں زنجیروں سے مقید کر کہ جو حصہ مسجد کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے، وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں- مفتی تقی عثمانی نے یا شاید رفیق ڈوگر نے جو نقشہ کھینچا اسے سوچ کر بھی گھٹن محسوس ہوتی ہے- صرف اسپین میں ہی نہیں سلطنت عثمانیہ کی سابق یوروپی مقبوضات میں آپکو اس دور کی کوئی مسجد نظر نہیں آئے گی- کیونکہ یا تو مسجدوں کو مسمار کر دیا گیا ہے یا پھر انھیں گرجا یا دیگر عمارتوں میں بدل دیا گیا ہے-

اب آتے ہیں اصل مدے پر یعنی ایا صوفیہ جو ہزار سال تک عیسائیت کا مرکز رہنے کے بعد سلطان فاتح کی قسطنطنیہ کی فتح کے ساتھ ہی مسجد میں بدل دیا گیا-    


جبکہ ترکی میں آج بھی سینکڑوں کلیسا اور سیناگوگ  ہیں، انہیں سلطنت عثمانیہ کے ادوار سے انھیں کبھی مسجد میں تبدیل نہیں کیا گیا- سال گزشتہ کپڈوکیا میں، ازمیر میں، سلجوق میں ہر جگہ نہ صرف چرچ بلکہ عیسائیت کی اور یونانی اور رومی سلطنت کی نشانیوں کی دید کا موقعہ ملا- ایسا ہی حال ہندوستان کا ہے جہاں ہندو، جین مت اور بدھ مت کی نشانیاں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکومت کے دوران بھی قائم رہیں- گو اسلام نظام جنگ کے مطابق اصول یہی تھا کہ اگر اسلامی افواج بزور طاقت کسی ملک یا شہر پر قابض ہوں تو وہاں کے شہریوں کو جان مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں دی جاتی تھی- لیکن اگر دشمن خود محاصرے کے دوران ہتھیار ڈال دے تو اسکی جان مال اور عبادت گاہوں کی گارنٹی خود اسلامی فوج دیتی- اسکے باوجود مسلمان بادشاہوں نے عموما احسان کا رویہ رکھا اور بعض مستثنیات کے ساتھ بزور طاقت حاصل ہونے والی مقبوضات میں بھی پہلے سے موجود عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا- قصتنتنیہ کا گرجا ایا صوفیہ اس استثنیٰ کی ایک مثال ہے- اسلامی قانون اور اس دور کے جنگی روایت کے مطابق اسکو مسجد میں تبدیل کرنا کوئی قابل اعتراض عمل نہیں تھا- سلطاں محمد نے استنبول فتح کرنے کے فوراً  بعد وہاں نماز پڑھا کر اسے مسجد کے طور پر استعمال کیا اور اسکے ساتھ ہی اسکی مرمت اور مینٹنس کے لئے ١٤٠٠٠ طلائی سکوں سے ایک فنڈ قائم کیا گیا- ١٩٣٥ میں کمال اتا ترک کے عہد میں ترکی میں اصلاحات کے نام پر مذہب مخالف ایجنڈے کو ترک عوام پر زبردستی ٹھونسا گیا تو اس مسجد کو میوزیم کا درجہ دے دیا گیا- ٢٠١٤ میں اردوگان کے سیاسی مخالف گولان کی پارٹی کی طرف سے پہلی مرتبہ اس میوزیم کو دوبارہ مسجد میں بدلنے کا مطالبہ کیا گیا تو اردوگان نے خود اسکی مخالفت کی- اسکا کہنا تھا کہ استنبول میں ٣٠٠٠ مساجد موجود ہیں کیا وہ نمازیوں سے بھر گئی ہیں؟ اسکا یہ بھی استفسار تھا کہ جب بلیو موسک کی جگہ نماز کے لئے کافی نہ رہی گی تو وہ آیا صوفیہ کو مسجد کا درجہ دے دن گے-
 دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور میں اردگان مخالف دو سیکولر پارلیمینٹرینز نے اسے مسجد بنانے کی تائید کی کیونکہ سیکولر جماتیں بھی محسوس کر رہی تھیں کہ ترک عوام آہستہ آہستہ ترکی کے مذہب مخالف ماضی سے نکلنے کے لئے پر پھڑپھڑا رہے تھے- 

لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ ٢٠١٦ کی بغاوت نے جسے مغرب نے اسپانسر کیا اردگان کو تبدیل کر کے رکھ دیا- ترکی میں سیاسی مخالفین کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا جن میں یونیورسٹیز کے اساتذہ صحافی طلبہ سبھی شامل تھے- ان انتقامی اقدامات کا نتیجہ ٢٠١٨ کے الیکشن میں اردگان کی مقبولیت میں کمی کی صورت میں سامنے آیا- اس الیکشن میں اردوگان نے خود آیا صوفیہ کو مسجد بنانے کو اپنے الیکشن نعروں میں شامل کیا- بظاھر یہ فیصلہ کورٹ کی طرف سے آیا ہے لیکن کورٹ کے فیصلے سے پہلے بھی اردوگان کے بیانات اس فیصلے کی عملی شکل سے متعلق موجود ہیں مثلاً یہ کہ مسجد قرار دیئے جانے کے باوجود ہر مذہب کے لوگ   
یہاں داخل ہو سکیں گے- 

ترک حکومت بجا طور پراس فیصلے کا جواز یہ کہہ کر دی رہی ہے کہ یہ ترکی کی داخلی خود مختاری کا معاملہ ہے- اس فیصلے کی حمایت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عیسائیوں اپنے دور حکومت میں اسپین میں مسجد قرطبہ اور سلطنت عثمانیہ سمیت کی سابق مقبوضات میں ہزاروں مساجد کو تباہ کیا یا انہیں گرجاؤں میں تبدیل کیا- یہ بات صحیح ہے لیکن کیا ایسا کرنے والوں کو ہم نے یہ کہہ کر شاباشی دی ہے کہ انھوں نے صحیح کیا؟ تاریخ ان لوگوں کو تنگ نظر متعصب حکمرانوں کے طور پر ہی یاد رکھتی آئ ہے- 
یہ ترکی کا داخلی معاملہ ہے- ترکی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے- 
کیا ہم اسی اصول کے تحت بابری مسجد کے انہدام کو بھی انڈیا کا داخلی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں؟ 
اکیسویں صدی میں یہ قدم مودی جیسے تنگ نظر مسلمان دشمن کو یہ جواز فراہم کررہا ہے کہ اگر ہم نے بابری مسجد کی جگہ مندر کو دے دی تو مسلمان بھی یہی کام کر رہے ہیں- قانونی طور آپ یقیناً اس بات کے مکلف ہیں کہ اپنے ملک میں اپنی مرضی سے میوزیم کو دوبارہ مسجد کا درجہ دے دیں- لیکن اگر طاقت کو ہی فیصلہ کن قوت مان لیا جائے تو ہم مسجد اقصیٰ سمیت آدھی دنیا میں مساجد پر اپنا استحقاق کھو دین گے-  مسلم دنیا کی ایک بڑی آبادی اس وقت اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہے- ان میں چین، میانمار، کشمیر، انڈیا کے علاوہ فلپائن، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، اور لاطینی امریکا کے ممالک بھی شامل ہیں- ان میں سے بہت سے خطوں میں مسلمانوں کو شدید مذہبی استحصال کا شکار ہیں- ان مظالم پر آواز اٹھانے کے لئے اوردنیا میں انکے لئے حمایت حاصل کرنے کے لئے، ہمیں مغرب کے بنائے ہوئے انسانی حقوق کا سہارا لینا پڑتا ہے-        

یہ قدم اسلام کے روشن خیال چہرے سے دنیا کو متعارف کروانے کے بجائے مسلم اقلیتوں پر مذہبی استحصال کو جواز فراہم کر رہے ہیں- 

اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس وقت سلطاں فاتح نے گرجا کو مسجد میں بدلہ اس وقت عیسائی اپنے مفتوحہ علاقوں میں مساجد کو ختم کر رہے تھے، لیکن آج اکیسویں صدی میں یہ صورتحال نہیں ہے- پچھلی دو تین دھائیوں میں مغربی ممالک میں مسلمانوں نے بڑھتے ہوئے امیگرینٹ مخالف اور اسلامو فوبیا کے باوجود ہزاروں نہیں تو سینکڑوں مساجد کی تعمیر کی ہے- اس سے بلا واسطہ اسلام کا پیغام مغرب کے باسیوں تک پہنچ رہا ہے-     
   

 The
acceptance of the presence of Muslims has reached to the point that the Vatican, the seat of the Catholic
Church has allowed calling of Muslim prayer – adhan – in its vicinity. With these developments, one may
suggest that if Sultan Mehmet were alive today, he would have re-considered his own decision to convert
Hagia Sophia to mosque under the changed circumstances. Mustafa Kemal Ataturk’s decree of 1934 might
have been an immediate reaction to certain practices of some late Ottoman rulers, but to reverse that decree
would be a disaster now. The younger generation led by the Anatolia Youth Association that is engaged in
campaigning to revert the status of Ayasofia, as it is known in the Turkish language, into a mosque must
understand universal Islamic teachings in the proper context of time. They should rather engage themselves in
more constructive campaigns by participating and responding to Islamophobic expressions in this era of
internet-based web media and the vibrant social media.
It is interesting to note that two Turkish opposition parties, the MHP and CHP, both claimed to be believers in
secularism are reported to have demanded to turn Hagia Sophia into a mosque. According to a report, “Sinan
Aygun, an MP of the Republican People’s Party for Ankara has posed the question as to why the Hagia
Sofia  shouldn’t be turned into a mosque in the Turkish parliament, following a call to turn the museum into a
mosque by a member of Turkey’s third biggest party (National Movement Party)  MHP . (World BulletinNov.
27, 2013)” This is nothing but exploitation of religious sentiment in politics. The Hagia Sophia does not
represent any civilizational glory or power anymore; today the real civilizational power must be demonstrated
through the ability to stand firm on one’s own footing. Turkey’s transformation during the past decade from
aid recipient to aid donor country is the real manifestation of civilizational dignity, glory and prestige.
The Economist (May 10, 2014) reported from Istanbul that, “Turkey’s pious prime minister, Recep Tayyip
Erdogan, plans to lead prayers in the building to mark the 561st anniversary (May 29, 2014).” But that has not
happened: the date has passed without any such incident. However, what the Economist correspondent failed to
note that the Prime Minister had stated last year that, “he would not consider changing Hagia Sophia's status as
long as another great Istanbul house of worship, the 17th Century Sultan Ahmed Mosque, remains mostly
empty of worshippers. Istanbul boasts more than 3,000 mosques.” Recently Deputy Prime Minister Bulent

Arinc has described the conversion attempt as a trap. In our opinion, it is certainly a trap and sheer exploitation
of emotional attachment of the Turkish masses to Sultan Mehmet – the Fatih, the liberator. The opposition and
the Gulen supporters are trying to exploit this. The people of Turkey must understand this and act wisely.



تاریخ شاہد ہے کہ کبھی اسپین، پرتگال یا لاطینی امریکا کے کیتھولک فرقوں کی طرح زبرستی لوگوں کو مذھب بدلنے پر مجبور نہیں کیا گیا- 




یہ اس دور کی باتیں ہیں جب نہ تو میگنا  کارٹا وجود میں آیا تھا نہ ہی جنیوا کنونشن پھر بھی مسلمانوں 



یہ سب تو پرانی باتیں ہیں لیکن عدالت کے حکم کے ذریعے بابری مسجد کی زمین کو مندر کے حوالے کرنا تو اکیسویں صدی کی بات ہے- لیکن یاد رہے جب بھی مسجدوں کو کسی اور 

اتوار، 9 مئی، 2021

Islam Hmen keon nhin jor saka? transferred to qARTAS

 


پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر قائم ہوا، اس لئے ہمارا ریاستی اور قومی بیانیہ یہ ہے کہ یہاں رہنے والوں کو اسلام ہی جوڑ کر رکھ سکتا ہے- یہی در اصل دو قومی نظریہ تھا- ہماری قومی تعمیر کی پلاننگ لڑنے والوں نے اسی ایک نکتے کو سامنے رکھ کر بڑی باریک بینی سے نصاب اور میڈیا کا بیانیہ ترتیب دیا اور اس بیانیہ سے ہر اس چیز کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا جو کسی اور نظریے پر استوار ہو- دیکھا جائے تو شروع کی دھائیوں میں یہ بیانیہ کامیاب بھی ہوا ہے لیکن پھر رفتہ رفتہ یہ بیانیہ اپنی کشش کھوتا گیا-  حتیٰٖ کہ ١٩٧١ میں سقوط ڈھاکا کے بعد اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقعہ ملا کہ میں نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا- 

 

آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی اسلام (یا دوسرے لفظوں میں اس کا نام) پاکستان نامی اس جغرافیائی اکائی میں رہنے والوں کو باہم جوڑ سکا ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو آخر اسکی کیا وجہ ہے؟ ہمیں اپنے قومی بیانیہ میں کن عناصر کو شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ نیشن بلڈنگ کی ضروریات پوری ہو سکیں اور پاکستانی قوم اپنی ایک واحد شناخت محسوس کر کے ملک کی ترقی میں پر جوش طریقے سے حصہ ڈال سکے-

مسئلہ یہ ہے کہ کسی نظریے کا محض نام نیشن بلڈنگ کے لئے کافی نہیں ہوتا- نظریہ یا بیانیہ چاہے کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو، اس کی ایسی تعبیر کا سامنے آنا بہت ضروری ہے جو موجودہ دور کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی ہمت رکھتا ہو- اسلام کی حقانیت سے کسی کو انکار نہیں مگر اسکو جدید بیانیہ بنانے کے لئے معاشی، معاشرتی، اور سیاسی چیلنجز اور آج کے دور کی عملی ضروریات سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے یہ بھی ضروری ہے- 

کیا اسلام کے نام پر مبنی اس بیانیہ میں انسانوں کی برابری، سماجی انصاف، مشاورت، برداشت ، اظہار آئے کی آزادی، آئین اور قانون کی حکمرانی، تمام انسانوں کی برابری شامل ہیں؟ بظاھر یہ مغرب کی لبرل جمہوری اقدار محسوس ہوتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدار دنیا کو متعارف کروانے کا صحرا قران. سیرت رسول اور دور خلافت کو جاتا ہے- جب تک یہ اقدار عملی شکل میں ہمارا ٹارگٹ نہ ہوں اور ہم اس جغرافیائی اکائی میں رہنے والے انسانوں کو یقین نہ دلائیں کہ آپ سب لوگ آئین اور قانون کی نظر میں برابر ہیں اور اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے- آپکو اپنی بات کہنے اور حکومت (چاہے وہ فوجی ہو یا سول اور جمہوری ہو یا آمریت) کے خلاف احتجاج کرنے کی آزادی ہے- ملک کا نظام حکومت میں آپکی نمائندگی بھی موجود ہے- ریاست میں اپنے خلاف احتجاج سننے کی برداشت موجود ہے- محض اسلام کا نام ہمیں نہیں جوڑ سکتا-          

یہ کونسا اسلام ہے کہ ١٩٧١ میں ملک میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار منتقل نہ کیا گیا کیونکہ انکا تعلق ایک ایسے نسلی گروہ سے تھا جسے قبول کرنا مشکل تھا- اس نسلی گروہ کا مطالبہ کونفیدریشن یا وسیع خود مختاری تھا جسے ماننے کے بجائے اس لسانی سیاسی طاقت کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا- اسکے لیڈر سے مذاکرات کرنے کے بجائے آپریشن سے پہلے اسے مغربی پاکستان لا کر قید کر دیا گیا- ملک ٹوٹنے کے بعد اسے ادب احترام سے رہا کر دیا گیا- 


ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا کہ یہاں اسلام ہمیں نہیں جوڑ سکا کیونکہ ہمارے نزدیک اس ملک کے مشرقی اور مغربی حصے میں رہنے والے برابر نہیں تھے- آئ ایس پی آر کے سابق ڈی جی جرنل آصف غفور نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اگر پریس آزاد ہوتا تو مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہ ہوتا- دس سالہ ایوب مارشل لاء نے پاکستان کو ایک صنعتی طاقت بنانے کے حوالے سے بہت کامیابیاں حاصل کیں لیکن ملک کے دونوں حصوں کے عوام کی شرکت کے بغیر حکومت کرنے سے ملک کے مشرقی حصے میں سیاسی فرسٹرشن میں اضافہ ہوا- حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثریتی پارٹی کو اقتدار سونپنے کے بجائے ملک کے مشرقی حصے میں آپریشن ہوا تو مغربی حصے کی کسی سیاسی اور مذھبی جماعت نے اس پر احتجاج نہیں کیا- نو مہینے کے آپریشن میں اگر فوجی ڈکٹیٹر شپ نے سمجھ سے کام لیا نہ کسی سیاسی قوت نے اور نہ ہی مذھبی قیادت کو بنگالیوں کے خلاف آپریشن اسلامی اصولوں کے خلاف محسوس ہوا- تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام یقیناً تمام قوموں کو جوڑتا اگر اسکے برابری کے اصول، قانون کی حکمرانی پر عمل ہوتا- آئین تو موجود ہی نہیں تھا تو آئین کی حکمرانی کا ذکر ہی فضول ہے- جب بھی اسکو توڑا گیا یا معطل کیا گیا ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے اس فیصلے کی توثیق کی- تو پھر کسی قوم اور کیسا اسلام؟ جس قوم کو قومی دھارے سے الگ کیا گیا وہ کیوں محض اسلام کے نام پر متحد ہو گی- 

اسلام کا نام ہمیں نہیں جوڑ سکا اسکی دوسری بڑی مثال قبائلی علاقے ہیں جواب پاکستان میں ضم کر دیے گئے ہیں- یہ محسود، وزیر، شنواری قبائل پاکستان بننے سے لیکر اکیسویں صدی کے اوائل تک پاکستان کے لئے جان دینے کے لئے تیار تھے- یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آزاد کشمیر کو آزاد کروایا- پاکستانی فوجی حکومت نے سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ مل کر افغان جہاد کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا فیصلہ کیا تو ان قبائلیوں نے اپنی آنکھیں ساری دنیا سے اکٹھے کیے گئے عرب اور غیر عرب مجاہدین کے لئے بچھا دیں- افغانستان سے روسی قبضہ اور امریکا روس کے درمیان سرد جنگ ختم ہونے کے بعد مشرقی وسطیٰ، شمالی افریقہ، وسط ایشیا کے مجاہدین جن کے لئے اپنے ملکوں میں جانا ممکن نہیں تھا اس علاقے کو اپنا گھر بنا لیا- نائن الیون کے بعد اس سے قبل کے قبائلی کچھ سوچنے کے قابل ہوتے، ان پر اوپر سے ڈرون برسنے لگے، اور نیچے ایک طرف سے پاکستانی طالبان اور دوسری طرف سے پاکستانی فوج کا تصادم  قہر بن کر نازل ہوا- گڈ طالبان یر بیڈ طالبان کے بیانیہ نے قبائل کو پیس کر رکھ دیا- امریکا کو شکایات تھی کہ پاکستان القاعدہ اور افغان طالبان کو یہاں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے- امریکی ڈرونز نے بڑی تعداد میں معصوم سولینز کو شہید کیا- اس بربریت نے تحریک طالبان پاکستان کو جنم دیا جس نے ملک کے سول اور ملٹری ٹارگٹس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا- 


یہاں بھی ہمارا مذہبی بیانیہ ہمیں نہیں جوڑ سکا- اسکی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف رد عمل نہ ہونے کے برابر تھا-ملک کی فوجی (مشرف) اور سول حکومتیں (آصف زرداری) ان ڈرون حملوں کی اجازت کا انعام امریکی امداد کی صورت وصول رہی تھیں- اور امریکا سے اپنی حکومت کی legitimacy کے سرٹیفکیٹ وصول رہی تھیں- انہیں عوام کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی- مہران بیس، پریڈی گراؤنڈ مسجد، آرمی پبلک اسکول، لاہور پولیس اکیڈمی، اور دیگر سینکڑوں حملوں میں ہزاروں پاکستان لقمۂ دہشت گردی بنے- ڈرونز کے پیدا کردہ ان طالبان کے خلاف سخت آپریشن ہوا- ان آپریشنز کی نشانیاں قبائلی علاقوں کا تباہ حال انفرا سٹرکچر، تباہ حال گھر بازار، دکانیں، اور سب سے بڑھ کر بارودی سرنگوں نے ایک نئی سیاسی قوت پی ٹی ایم کو جنم دیا جو بظاھر پر امن ہے لیکن اس پر ملک دشمنی کا الزام لگا کر انکی کوریج پر پابندی ہے- 


پی ٹی ایم کے مطالبات ہیں کہ پاک فوج اپنی لگائی ہوئی بارودی سرنگوں کا صفایا کرے،  اور آرمی آپریشن کے نتیجے میں قبائلی عوام کے تباہ حال گھروں اور دکانوں کا مناسب معاوضہ عطا کرے- فوجی ناکوں پر ناروا رویئے کو ختم کیا جائے- اسکے علاوہ لاپتہ افراد کو کورٹ میں پیش کر کہ ان پر فرد جرم عائد کی جائے اور انہیں پاکستانی قانون کے مطابق سزا دی جائے- ان مطالبات کے بر حق ہونے سے کسی کو انکار نہیں مگر ان کے جواب میں میڈیا میں اس تحریک کے افراد کا داخلہ منع ہے- اسکا جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ غدار ہیں اور غیر ملکی طاقتیں اس تحریک کی مالی پشت پناہی کر رہی ہیں-  یہ ووہی الزام ہے جو بنگالیوں پر بھی لگایا گیا- 

سوال یہ ہے کہ ریاست کو ان سے کیا ڈر ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی سیاسی قوت کو یہ احساس نہیں کہ ڈروں حملے پاکستان کی خود مختاری پر حملہ تھے، کسی فوجی یا سول حکومت کو امریکا کو انکی اجازت دینے کا حق نہیں تھا- پاکستانی دینی جماعتیں جو دنیا کے کسی بھی کونے میں گستاخی پر سڑکوں پر آ جاتی ہیں انہیں سرکار ص کا یہ قول یاد نہیں آتا کہ انسانی جان کی حرمت کعبے سے زیادہ ہے- قبائلی عوام کو نہ تو احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق ہے اور نہ ہی اظہار رائے کی آزادی کا- انکے معاملے میں قانون اور آئین کی حکمرانی کے لئے پاکستان میں کوئی سیاسی قوت سامنے آنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی- وزیراعظم عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے لاپتہ افراد اور قبائیلیوں کے لئے بہت بولتے تھے مگر اب خاموش ہیں- یہی حال دینی قیادت کا ہے- تو ایسے میں اسلام ہمیں کیسے جوڑ سکتا ہے؟ 


اسی طرح بلوچستان کا علاقہ ہے جو بہر حال ہم پسند کریں یا نہ کریں، چھوٹے پیمانے پر ایک علیحدگی پسندی کی مسلح مزاحمت کا گڑھ ہے- ایف سی اور علیحدگی پسندوں کے درمیان تصادم اور جانی نقصان کی خبریں بہت کم مین اسٹریم پریس کا حصہ بنتی ہیں اور اسکی وجہ سخت ریاستی سنسر بھی ہے، میڈیا ورکرز کے لئے محفوظ ماحول نہ ہونا بھی اور جغرافیائی لحاظ سے اس وسیع خطے میں آبادی کی کمی کی وجہ سے میڈیا مالکان کو ریٹنگ بڑھنے کی صورت میں منافع میں اضافے کی امید نہ ہونا بھی- 


ایف سی اور علیحدگی پسندوں کے علاوہ سول حادثات بھی عام ہیں اور enforced disappearence جبری لاپتہ ہونے کے معاملے میں یہ خطہ (سابق) قبائلی پٹی سے بھی بڑھ کر ہے- یہاں مملکت پاکستان کے خلاف یہ تیسری یا چوتھی مزاحمت ہے جسے مضبوط شواہد کے مطابق غیرملکی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے- اسکے علاوہ یہ پاکستان کا سب سے زیادہ غربت والا خطہ ہے- ذاتی انٹرویوز میں راقمہ کو بلوچستان کے مختلف حصوں سے سورسز نے بتایا کہ یہاں غیر ملکی این جی اوز کا جال بچھا ہوا ہے جو غریب عوام کی بنیادی ضروریات کسی حد تک پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں- 

پاکسستان کے مروجہ حب الوطن اور اسلامسٹ جب بلوچستان کا ذکر کرتے ہیں تو بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنیات، اور گوادر کی عظیم الشان بندرگاہ کا ذکر فخریہ کرنا نہیں بھولتے- لیکن بلوچ عوام کو ایسے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے جیسے بنگالی عوام no men تھے- ایسی سوچ صرف کولونیل حکمرانوں کی ہوتی ہے- کہ انہیں زمین اور اسکے وسائل سے تو دلچسپی ہوتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے اسٹریٹجک فائدوں کی مگر اس زمین کے وارث انکی نظر میں غدار ہوتے ہیں جنہں طاقت کے ذریعے اپنے ساتھ رکھنا کولونیل پاور کی مجبوری ہوتی ہے- حاصل اس بحس کا یہ ہے کہ یہاں بھی اسلام ہمیں نہیں جوڑ سکا یا سکتا جب تک کے بڑے پیمانے پر بلوچ عوام کے مسائل کے لئے سنجیدہ لائحہ عمل نہ بنایا جائے اور اس پر ایمانداری سے عمل نہ ہو- (یہاں ہم یہ بھی واضح کر دیں کہ بلوچستان کے تمام علاقوں میں یہ صورتحال نہیں-) 


لیکن برداشت کی عدم موجودگی میں بنگلہ، قبائلی پٹی، بلوچستان ہی نہیں آج اسلام کے سب سے بڑے دعوے داروں کو بھی اسلام جوڑ کر نہیں رکھ سک رہا- یہاں مختلف دینی نظریات رکھنے کی سزا میں انسان کو مار ڈالا جاتا ہے- لیکن اصل ستم ظریفی یہ ہے کہ ان انفرادی جرائم کے پیچھے دینی تنظیموں کا بیانیہ ہے جو خود چاہے اس پر عمل نہ کریں لیکن اپنے متبعین کو سر تن سے جدا کرنے کی کھلی اجازت اور چھوٹ دیتی ہے جنت کی گارنٹی کے ساتھ- قانون ہاتھ میں لیکر سر تن سے جدا کرنے والوں کو شہید کا رتبہ دیا جاتا جو کونسا مسلمان نہیں حاصل کرنا چاہے گا- 


تو کہنا یہ ہے کہ برداشت کی عدم  موجودگی میں یہاں بھی اسلام ہمیں جوڑ کر نہیں رکھ پا رہا- اس صورت حال کو قیام پاکستان سے قبل کے معاشرے سے تقابل کریں تو مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا لیکن بہت بڑی تعداد میں مخلص دینی اور ملی علماء کی موجودگی کے باوجود کسی نے مرزا غلام احمد قادیانی کا سر تن سے جدا کر کہ جنت کے حصول کو آسان نہیں بنایا - علامہ اقبال قائداعظم کسی نے اپنے متبعین کو ایسی سستی جنت کی ترغیب نہیں دی- سرسید نے ولیم میور کی کتاب کے جواب میں کتاب لکھی- مولانا مودودی نے قادیانی مسئلہ لکھی- تو یہ وہ برداشت اور دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی روایت تھی جو آج ہمیں نظر نہیں آتی- 

اب اس معاملے کے ایک اور پہلو کو دیکھئے- ہمارا دعویٰ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر مسلمانوں کے لئے بنایا گیا- قیام پاکستان کی جدو جہد میں یو پی اور سی پی کے صوبوں کے وہ مسلمان پیش پیش تھے جنھیں معلوم تھا کہ وہ کبھی اس پاکستان کا حصہ نہیں بن سکیں گے- لیکن آج اسی اسلام اور پاکستان کا نام لینے والے محب وطن مسلمان کو ہندوستانی مسلمانوں سے کوئی سرو کار نہیں- اگر بھارت میں ان پر ہونے والے مظالم کا نام لیا جائے تو یہ جواب ملتا ہے کہ انکا اپنا قصور تھا کہ وہ  پاکستان کیوں نہیں آئے- یاد رہے یہ وہ مسلمان ہے جو کئی دہائیوں سے بقول بی بی سی کے مارک ٹلی کے پاکستان کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں اور اب تو بین الاقوامی علمی حلقوں کے نزدیک جینو سائیڈ یعنی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں- اسلام اگر واقعی مسلمانوں کو جوڑ سکتا تو ہمیں سرحد پار ان مسلمانوں کی مشکلات کا کچھ تو اندازہ ہوتا جو ہمارے اس پاک وطن کی قیمت ادا کر رہے ہیں- 

ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا ( II ) Transferred to Qartas


ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا ( II ) 
تزئین حسن 

٢٠١٧ کی بات ہے کینیڈا کے ایک اردو ٹی وی چینل نے روہنگیا مظالم پر میرا پروگرام ریکارڈ کیا تو آخر میں اینکر کا سوال تھا کہ آپکے خیال میں روہنگیا کے مسئلے کا حل کیا ہے؟ میرا کہنا تھا کہ مسلمان علم حاصل کرنا شروع کریں اور تحقیق کا راستہ اختیار کریں، اسکے علاوہ کوئی حل نہیں- مجھے یاد ہے اینکر کے چہرے پر بیزاری آ گئی- اسکا رد عمل کچھ یوں تھا کہ یہ تو بہت دور کی بات ہے، کوئی فوری حل بتائیں کہ چٹکی بجاتے روہنگیا کا مسئلہ حل ہو جائے- کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا- میرا جواب تھا کہ اگر اس دور رس حل پر ہم راضی نہیں تو ہمیں دنیا کے سامنے لائن سے کھڑے ہو جانا چاہیے اور سکون سے اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ ہم سب کی باری آنی ہے-

ایسا اس لئے ہے کیونکہ دنیا اقوام متحدہ کے کنونشنز پر نہیں ڈارون کے survival of the fittest (طاقتور کی بقا ) کے نظریے پر چلتی ہے بقول نوم چومسکی بین الاقوامی تعلقات کا صرف ایک اصول ہے اور وہ ہے Might is power یعنی جسکی لاٹھی اسکی بھینس، ڈارون بھی کافر جہنمی سہی یہی بات کہہ کر گئے ہیں- امید ہے انکی بات پڑھنے سننے سے ہم کوئی جہنمی نہیں ہو جائیں گے- ہمارے عقائد اپنی جگہ انکے عقائد اپنی جگہ-

اس اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض ریلیاں نکالنے اور دشمن کو برا بھلا کہنا اسکے مظالم کی دھائیاں دہائی دینے سے ہمارے حالات نہیں بدلیں گے- نہ ہی یہ سمجھنے سے ہمارے حالت میں تبدیلی آئے گی کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے ہم اچھے ہیں، دوسرے لوگ مسلمان نہیں اس لئے وہ بہت برے ہیں- ہم الله کے چہیتے ہیں باقی لوگ مبغوض ہیں- الله نے ہم سے ایسا کوئی وعدہ محض کلمہ پڑھنے کی بنیاد پر نہیں کیا- جہاں کوئی وعدہ کیا اس میں ایمان لانے کے ساتھ ساتھ عمل کو بھی شرط رکھا گیا-

اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ وإذَا أرَادَ اللّٰہُ بَقَوْمٍ سوئًا فَلاَ مردَّ لَہٗ ومَالَہُمْ مِنْ دُوْنہٖ مِن وَال (رعد:۱۱)
ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور اللہ کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوسکتا-


ایک غلط فہمی ہمارے ہاں ایک بڑے طبقے میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظام نافذ ہو گیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا- گویا اسلامی نظام نہیں کوئی جادو کی چھڑی جس سے ہمارا علمی فکری اخلاقی انحطاط سب منٹوں میں ختم ہو جائے گا- پاکستان اقوام عالم میں ایک باعزت مقام حاصل کر لے گا- ہم لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی اہلیت حاصل کر لیں گے-

اکثر یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ دین پر عمل شروع کردیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا- بظاہر یہ کہنے کے باوجود کہ اسلام میں دین اور دنیا الگ الگ نہیں، دین صرف چند ظاہری اعمال کو سمجھا جاتا ہے- صدیوں سے غور فکر، کائنات کی تسخیر، اس کرہ ارض کی سیر کر کہ تاریخ سے عبرت پکڑنے اور الله کے قوانین کی کھوج لگانے سے متعلق قرانی آیات کو عملاً دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا- 



استنبول میں قیام کے دوران ایک ایغور نوجوان (چین کے زیر کنٹرول سنکیانگ نامی خطے کے مقامی نسل کے لوگ ایغور کہلاتے ہیں) کے قائم کردہ لینگویج اسکول کے دورے کا اتفاق ہوا- وہاں ایک ٹیچر نے مجھے کہا کہ ہماری سو سال تک یہی اسٹرٹیجی رہی کہ ہم صرف دین کا علم حاصل کر لیں لیکن اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں دین اور دنیا دونوں کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے- میرے استفسار پر کہ وہ دنیا کا علم کسے سمجھتے ہیں انکا کہنا تھا کہ میڈیا، تاریخ، سیاسیات،اور دیگر سماجی علوم مینجمنٹ اور انگریزی، ترکی، عربی اور دیگر یوروپی زبانیں- ان نوجوانوں میں مجھے باخبری کی رمق نظر آئ، لیکن بہ حیثیت مجموئی امت میں اس حوالے سے کوئی شعور نظر نہیں آتا- 


قران میں تیرا مقامات پر سیرو فی الارض کا حکم موجود ہے لیکن مجھے قران کی کسی تفسیر کا کوئی شارح اسکا مفہوم سمجھاتا دکھائی نہیں دیتا- نہ سفر کی برکتوں کے حوالے سے کوئی درس کہیں سنائی دیا-

حالانکہ مسلم دنیا میں ابتدائےاسلام سے سفر کی روایت بہت مضبوط رہی- حج کی صورت ساری دنیا کے استطاعت رکھنے والے مرد اور عورتوں پر سفر فرض کیا گیا- تجارت کو رزق کے ننانوے حصے قرار دینے والے نبی کی امت قرون وسطیٰ میں ساری دنیا میں پھیل گئی- ملایشیا، انڈونیشیا، کینیا، صومالیہ، برما، سری لنکا، مالدیپ کے ساحلوں پر کوئی فوج کشی نہیں کی گئی لیکن تجارتی سفر دنیا کے ان اہم ترین خطوں میں دعوت کا بھی ایک اہم ذریعہ ثابت ہوئی اور یقیناً اس نے دنیا کو کھلی آنکھ سے دیکھنے کا موقعہ بھی فراہم کیا ہو گا- لیکن آج کچھ کم نظر مبلغین مسلمانوں کے مغربی ممالک میں رہائش اختیار کرنے کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں، انکا خیال ہے کہ اس سے نسلیں بگڑ جائیں گی- ایمان چلا جائے گا- ہم ایمان کو اس قدر کمزور شے تصور کرتے ہیں کہ ذرا سی مخالف نظریات کی ہوا چلی اور وہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا-


بر صغیر کے ایک معروف عالم سید مودودی نے کوئی ستر سال پیشتر دارلاسلام سے دارالکفر ہجرت کی مخالفت کی تھی لیکن اس وقت حالات کچھ اور تھے- آج اگر وہ خود بھی مغرب کا دورہ کرتے تو وہ اپنی رائے سے رجوع کرتے بلکہ انکا آخری انٹرویو جو جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر خرم جاہ مراد نے امریکا میں انکے علاج کے دوران ریکارڈ کیا اس میں انکی گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا- لیکن کچھ کم نظر آج بھی انکی پچھلی رائے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کی مغرب میں ہجرت کی عملی برکتوں کو دیکھنے کے باوجود اسکی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں- بعض دوسرے مذہبی طبقات اسکو جائز تو قرار دیتے ہیں مگر انکا کہنا ہے کہ تبلیغ کے لئے تو جائز ہے لیکن اپنی دنیا کو بہتر بنانے کے لئے یا اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے جائز نہیں- یہاں آکر ہمارے مبلغین اور مفتیان خود یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ وہ دین اور دنیا کو الگ الگ چیزیں سمجھتے ہیں-

مسلمان کی دنیا بہتر ہو رہی ہو، اسکا کوئی تعلق ہمیں براہ راست دین سے نظر نہیں آتا- ان حضرات کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ دین کی خدمات صرف وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر طویل مدت کے لئے تبلیغی دوروں پر نکل جاتے ہیں- مغرب میں منتقل ہونے والے مسلمانوں نے عملاً ان کم نظروں کے بیش قیمت خیالات کو غلط ثابت کر دیا ہے لیکن یہ کج بحث اپنے خیالات سے رجوع کرنے پر راضی نہیں-

ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں کی تعداد میں مساجد، تراویح، درس کے حلقے، اسلامی اسکول، حجاب میں ملبوس مسلم اسکاوٹس یہاں تک کے چرچ خرید کر مساجد میں بدل دینے کے واقعات اگر سید مو دودی کے سامنے آتے تو کیا وہ پھر بھی مسلمانوں کی ہجرت کے ثمرات دیکھنے کے بعد بھی اسکی مخالفت کرتے؟

اس سے آگے بڑھ کر کچھ کم نظر مغربی تعلیم کے خلاف فتوے دیتے ہیں- انکا خیال ہے کہ مغربی تعلیم ہمارے دین کے لئے سم قاتل ہے- ڈیڑھ سو سال بعد سرسید کا یہ قصور معاف کرنے پر راضی نہیں کہ انہوں نے مغربی تعلیم حاصل کرنے کو قوم کی نجات سمجھا- انکا خیال ہے کہ پچھلےبہتر
 سالوں میں پاکستانی قوم کے انحطاط کی ساری ذمہ داری سرسید پر آتی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو مغربی طرز کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر اکسایا-

یہ دوسری بات ہے کہ خود انکے اپنے لیڈران اور اپنے حلقے کے لوگ جو انکی تائید میں سر ہلاتے ہیں، ایک دوسرے کو انکی پوسٹیں فارورڈ کرتے ہیں، اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے امریکا یورپ ہی بھیجنا پسند کرتے ہیں- معذرت کے ساتھ لیکن انکے معیارات کارکنان کے لئے الگ ہیں اور لیڈران اور انکے بچوں کے لئے الگ- ایک طرف امریکا کے ایوانوں کو آگ لگانے کا نعرہ لگوایا جاتا ہے، اس سے نفرت کرنا سکھائی جاتی ہے، دوسری طرف خود اپنی اولاد کو تعلیم کے لئے وہیں بھجوایا جاتا ہے- ان میں سے کسی کی سوچ اتنی وسیع نہیں یا اسکا اظہار نہیں کیا جاتا کہ یہ اسٹرٹیجی سراسرمنافقت پر مبنی ہے- اور منافق کا درجہ قیامت میں کافر سے نچلا ہوگا-

ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا (1) TRANSFERRED TO QARTAS



ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

تزئین حسن



١٩٠٣ میں ایک امریکی سیاح الیزورتھ ہنٹنگٹن نے سرینگر سے کارگل اور لداخ کے ذریعے مشرقی ترکستان ( چین کے زیر کنٹرول سنکیانگ) کا سفر کیا تو وہاں چھ ماہ گزارنے کے بعد اسکا کہنا تھا کہ یہاں غلّہ میوہ جات، معدنیات وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں یہاں تک کہ ہیرا اور سونا بھی پایا جاتا ہے لیکن خوش حال ہونے کے باوجود یہاں کے لوگوں کی سوچ بہت محدود ہے- انہیں نئے آئیڈیاز سے کوئی دلچسپی نہیں- یہ لوگ اپنے گھر اور کھیت سے آگے اجتماعی مفاد کے کسی کام کے لئے مشکل سے ہی کچھ سوچنے پر آمادہ ہوتے ہیں-
 

مشرقی ترکستان (سنکیانگ )، چین کے زیر حکومت دوسرے علاقوں کے مقابلے میں انتہائی زرخیزعلاقہ ہے- اسکا رقبہ چین کے رقبے کا اٹھارہ فیصد اور چین کی ڈیڑھ ارب کی آبادی کے مقابلے میں صرف ٢٦ ملین ہے-  اسکی سرحدیں پاکستان سمیت آٹھ ممالک اور جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور تبت کے متنازعہ علاقوں سے ملتی ہیں- اسکا محل وقوع انتہائی اسٹریٹجک ہے اور اسی وجہ سے چین کا گلوبل منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ اس خطے سے ہو کر گزرتا ہے- 

قدیم زمانوں سے ہی اسکے شہر کاشغر، یارقند، خوتن قدیم شاہراہ ریشم کا حصہ تھے لیکن یہ  سب فوائد اور دولت ہوتے ہوئے بھی یہاں کے باسیوں میں اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہیں تھی- آج وہاں ہمارے ایغور بھائی چین کا بد ترین ظلم برداشت کر رہے ہیں- یہ تاریخ کا بد ترین مذھبی  ظلم اور استبداد ہے جو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مظلوم ایغوربھایوں پر مسلط ہے- اس معاملے کا سطحی سا جائزہ بھی یہ بات واضح کرتا ہے کہ جس جرم کی سزا ایغور عوام بھگت رہے ہیں وہ جرم ضعیفی ہے-

پامیر کے اس پار مغربی ترکستان یعنی موجودہ روس سے آزاد شدہ ریاستوں کا بھی یہی حال تھا جو بعد ازاں ایک ایک کر کہ کمیونسٹ روس کی جھولی میں گرتی چلی گئیں- اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہزاروں کی تعداد میں علوم کے مرکز یعنی مدرسے موجود تھے لیکن اس تعلیمی نظام میں جو دین اور دنیا دونوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا دیگر بہت سے دنیوی معاملات کی طرح ملکی دفاع کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں تھی- جہاد کا نظریہ تو موجود تھا مگراسکی دور رس تیاری کے لئے علم اور تحقیق کا کوئی کلچر مسلم دنیا میں پندرھویں سولہویں سترھویں صدی میں موجود نہیں تھا حالانکہ ترکستان وہ خطہ تھا جنہوں نے قرون وسطیٰ میں عالم اسلام کو سائنس اورحدیث و فقہہ کی دنیا میں امام بخاری، ابن سینا، رازی، طبری جیسی نادر روزگار ہستیاں فراہم کیں- آج چین نہ صرف مشرقی ترکستان کی تمام دولت پر قابض ہے بلکہ ان مظلوموں کو سانس بھی نہیں لینے دے رہا- انکا قصور کوئی اور نہیں صرف جرم ضعیفی ہے- 

ہندوستان اور مسلم دنیا کے دوسرے حصے بھی اس جرم یا مرض ضعیفی کا شکار رہے اور ایک عہدہ استثنیٰ کو چھوڑ کر آج بھی بہ حیثیت مجموعی پوری مسلم دنیا اسی مرض کا شکارہے- آج ایک سو اسی کروڑ کی تعداد کے باوجود کشمیر فلسطین برما ہندوستان ہر جگہ مسلمان سب سے زیادہ مظلوم قومیں ہیں- لیکن اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی بنی اسرائیل کی طرح اس فخر اور غرور کا شکار ہیں کہ ہمارا محض مسلمان ہونا ہی ہمیں خدا کا چہیتا اور دنیا کی عظیم قوم بنانے کے لئے کافی ہے- صنعت اور تجارت کے میدان میں جب ہم مغرب اور چین کی کامیابیوں پر دانتوں میں انگلی دیتے ہیں تو ہمارے خطیب ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اس ترقی سے کچھ نہیں ہوتا تم ہی الله کے چہیتے ہو اور تمہں ان تمام قوموں پر برتری حاصل ہے اور مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی- ہم بیک وقت مغرب سے احساس کمتری کا بھی شکار ہیں اور احساس برتری سے بھی پھول رہے ہیں-

ہمارے عقیدوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان معصوم ہیں اور دوسرے بہت چالاک ہیں، ہم تو محض اپنی سادہ لوہی کی وجہ سے مارے جاتے ہیں- ہماری تاریخ جس انداز میں لکھی گئی ہے، وہ ہمیں دنیا کو دیکھنے کا سادہ سا فلسفہ بتاتی  ہے وہ یہ ہے کہ ہم مسلمان معصوم اور بہادر ہیں اور دوسرے بہت چالاک اور سازشی ہیں- ہم صرف اس لئے شکست کھاتے ہیں کہ ہمارے درمایان غدار تھے جنہوں نے دوسروں کا ساتھ دیا ورنہ آج ہم شکست خوردہ نہ ہوتے- ہم مسلمان ہیں اس لئے باقی دنیا ہم پر ظلم کرتی ہے اور دنیا کو ایسا نہیں کرنا چاہیے- دیکھا جائے تو یہ جہالت اور اخلاقی انحطاط کی اوج ثریا ہے- ہم اب بھی اپنے زوال کی اصل وجہ یعنی 'تحقیق سے دوری' سے نظریں چرا رہے ہیں- اقبال کوئی ایک صدی پہلے کہہ گئے

ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

افسوس ان سو سالوں میں ہم اب زمیں پر بھی نہیں رہے - دین کی غلط تشریح کرنے والوں کے پیچھے اندھوں کی طرح چلنے کے نتیجے میں اب ہم پاتال کی گہرائیوں میں کھڑے دنیا کا نظارہ کرتے ہیں تو ہمیں ہر چیز گدلی نظر آتی ہے اور ہم جہالت کے اس کنویں میں محبوس ان گدلے نظروں کو دیکھ کر مغرب کی تباہی کی پیشن گوئیاں
 کرتے ہیں اور آپے تئیں اپنے لیڈران اور اسکالرز کو دنیا کے سب سے بڑے دانشوران سمجھ کر انکی نظریاتی پیروی میں لگ جاتے ہیں- ہم اسی پاتال میں سانس لیتے اسی کو اپنی جنت سمجھنے لگتے ہیں- 

ہم مسلمان ہیں اس لئے اچھے ہیں، باقی دنیا ہم پر ظلم کر ہی ہے وہ بری ہے، ہم جب تک اس مغالطے سے نہیں نکلیں گے اسی طرح پٹتے رہیں گے- بھارت، امریکا، اسرائیل، چین برما  دراصل الله کے عذاب کی شکلیں ہیں- اس عذاب سے نکلنے کے لئے جذباتی نعروں اور دہائیوں کی نہیں اپنے احساس کمتری اور برتری کو ایک طرف رکھ کر طاقت پکڑنے اور اقوام عالم میں باعزت مقام حاصل کرنے کے لئے ایک دور رس اسٹرٹیجی کی ضرورت ہے اور اسکا راستہ تحقیق کے میدان میں چیونٹی کی طرح محنت کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں- قران جس صبر کو کامیابی کی شرط قرار دیتا ہے میرے نزدیک وہ آج کے دور میں اسکے علاوہ کچھ اور نہیں-

لیکن ہم بہ حیثیت قوم اس محنت والے حل پر راضی نہیں- ہمیں لال قلعہ پر سبز پرچم لہرانے کا دعویٰ کرنے والوں کی باتیں زیادہ بھاتی ہیں جن سے ہمیں بڑی میٹھی سہانی نیند آتی ہے- لیکن جب کشمیر، فلسطین، برما میں مسلمانوں پر زیادتی کی انتہا ہوتی ہے تو تھوڑی دیر کیلئے ہم گہری نیند سے جاگ بھی جاتے ہیں- اور بوکھلا بوکھلا کر ایک دوسرے سے اسکا حل دریافت کرتے ہیں-

ایسے میں لیڈران کو پھر قوم کو اکٹھا کرنے کا اور حکمرانوں کو برا بھلا کہنے کا موقعہ مل جاتا ہے- فیس بک پر ایک دوسرے کو جذباتی نعروں سے مزین پوسٹس فارورڈ کرنے اپنا ہی ایک مزہ ہے- اس فیس بکی جہاد کے دوران کہیں بین الاقوامی قوانین یاد دلا کر ہم اپنے آپ کو اخلاق کے اعلیٰ منصب پر فائز محسوس کرتے ہیں اور انکی حیوانیت پر نوحہ کناں ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی با عزت حل ہے یا نہیں-

maghribi taleem thqeeq Comments

Ye wo sahab hen ju kehte hen ke Islamic mozoat pr Oxford ke articles bas Tarjuma hote deeni kutub ka. Aur research papers ka impact factor social media pr check hona chahiye impact factor journals ke bajaye- Jis ku kitne like milen facebook pr utna hi uski thqeeq ka mayaar blnd taswr kiya jaaee-



امت مسلمہ میں تحقیق سے دوری کی وجوہات کے موضوع ہماری بحث ابھی جاری ہے- موضوع کے مقصد پر فوکس برقرار رکھنے کے لئے اس سلسلے کی پہلی پوسٹ کو دوبارہ شئیر کر رہے ہیں-
تحقیق سے دوری کی وجہ کیا ہے؟

حافظ زبیر صاحب وہ ہیں جنکا کہنا ہے کہ ریسرچ کا امپیکٹ فیکٹر سوشل میڈیا پر طے ہونا چاہیے بجائے ریسرچ جرنلز کے- جس کو جتنے زیادہ لائک ملیں اسکو اتنا ہی بڑا محقق سمجھا جائے- اور بھی اقوال زرین ہیں انکے مثلا یہ کہ اسلامی موضوعات پر آکسفورڈ کے آرٹیکلز صرف ترجمہ ہوتے اردو یا عربی کتابوں کے- مجھے حیرت ایسے اسکالر کہلانے والوں پر نہیں ہوتی بلکہ انکی باتوں سے متاثر ہونے والے پڑھے لکھے لوگوں پرہوتی ہے- خصوصاً اگر مغربی فضلاء سے بھی سنجیدگی سے استفادہ کرتے ہوں-
ایاز اصلاحی صاحب کے کمنٹس پر بھی تبصروں کی دعوت ہے- براہ مہربانی شائستہ زبان استعمال کریں- موضوع تحقیق کے کلچر کا نہ پنپنے کی وجوہات ہے- میں پھر وضاحت کر دوں کہ حکومتیں سب سے پہلے ذمہ دار ہیں ترجیحات کا تعین نہ کرنے پر لیکن سول سوسائٹی کی سیکولر، اور دینی intelligentsia جو عوام کی ذہن سازی کرتی ہیں، انہیں بھی تحقیق کے بنیادی ضرورت ہونے کے حوالے سے شعور نہ ہونے کے برابر ہے- اس میں دانشور، ادیب، افسانہ نگار، فلم میکر، خطیب، آرٹسٹ، مدرس، ٹیچرس، سب آ جاتے- جب قوم کا ایک بڑا حصہ کسی اشو کو اپنی بقا کا ضامن سمجھنے لگے گا تو حکمرانوں کی ترجیحات میں بھی تبدیلی آئے گی-



ہ موقع سنجیدگی سے اس امر پر غور کرنے کا ہے کہ تعلیم کے معاملے میں ہم کیوں پیچھے رہ گئے۔ اس ضمن میں تمام تر بوجھ آمریت کے کندھوں پر ڈال کر ہم اس ذمہ داری سے فارغ نہیں ہو سکتے۔ میں نے اپنی عمر کا بہترین اور بیشتر حصہ درس و تدریس میں گذارا ہے۔ سرکاری درسگاہوں میں تربیت پائی اور انہی درسگاہوں میں پڑھانے کی کوشش کرتا رہا۔ میرے والد نے بھی اپنی تمام عمر سرکاری درسگاہوں میں پڑھاتے ہوئے ہی گذار دی۔ میں جنرل ایوب اور ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں طالبعلم اور جنرل ضیاء سے لیکر میاں نواز شریف کے آخری دور حکومت تک تدریس سے وابستہ رہا ہوں۔ سٹوڈنٹ یونینز کے دن بھی دیکھے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی وقت بسر کیا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرہ بھر بھی ہچکچاہٹ نہیں کہ میں نے تعلیم کو کسی بھی دور میں اولین ترجیح کی حیثیت پر فائز نہیں دیکھا۔ استاد کی قدر ہمارے معاشرے کا رویہ رہا ہے اور نہ ہی صاحب اقتدار لوگوں کی پہچان۔ بطور قوم ہم غور و فکر پر نہیں dogma پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اس طرز فکر کو سکولوں کی سطح پر ہی پختہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں استاد کے معیار کی پرکھ کی بھی فقط دو کسوٹیاں ہیں: سینیارٹی اور سفارش۔ اوّل الذکر زیادہ تر آمروں کی ترجیح نظر آئی اور موخرالذکر سیاست دانوں کی۔ علم کسی کی بھی ترجیح، نہ کبھی رہا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے۔



3


اس پوسٹ میں کہیں مولوی کا تذکرہ نہیں یہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ خاتون کے کمنٹ کا جواب ہے جنکا کہنا ہے کہ مغربی ریسرچ میتھوڈس ہمیں قبول نہیں-

میرا خیال ہے کہ تحقیق میں عدم دلچسپی کی بڑی وجہ سوال کرنے کی بجائے حکم بجا لانے کا وہ رویہ ہے جسے سکول کی سطح پر پختہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سکولوں میں زیادہ تر معلومات فراہم کی جاتی ہیں، لکھے ہوئے لفظ کی دھاک بٹھائی جاتی ہے اور بتائی گئی کسی بات سے عدم اتفاق کی کوئی گنجائش فراہم نہیں کی جاتی۔ ہمارا طالبعلم علم کے ماخذ سے قطعاً ناواقف رہ جاتا ہے۔ اس کے لیے کتاب میں لکھی اور استاد کے منہ سے نکلی ہر بات وحی کی مانند معتبر ہے۔ ہم نے استاد کی تعلیم اور تربیت پر بھی تو توجہ نہیں دی۔ وہ معصوم بھی تو ایمان داری سے یہی سمجھتا ہے کہ علم کا ماخذ کتاب ہے!

Irfan Mirza
ہمارے ہاں جب دینیات کا مضمون پڑھایا جاتا ہے تو اس میں بھی الوہی علم اور انسان کی مرتب کردہ تاریخ ساتھ ساتھ پڑھائی جاتی ہے۔ طالبعلم کو ان دونوں کے بیچ فرق سمجھانے کی بجائے انکی عقیدت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ عقیدت بھی طالبعلم سے چیلنج کرنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ رفتہ رفتہ کتاب میں لکھی اور بزرگوں کے منہ سے نکلی ہر چیز سند کے درجے پر فائز ہو جاتی ہے۔ اب آپ تحقیق کر کے دکھلائیے !

براہ کرم ذاتی حملوں سے پرہیز کریں- دلائل سے مسٹر اور مولوی کی  وکالت میں کوئی حرج نہیں- بحث کے مقصد کو سامنے رکھیں- مہر بانی ذاتی حملوں پر مبنی کمنٹس کو خود ایڈٹ یا ڈیلیٹ کر دن- ہم سب کی نیت الله کی رضا کے لئے اسکی امت کی بہتری، سیکھنا اور سکھانا ہے- 

جویریہ سعید کی بھی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے مغربی علوم سے استفادے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے بحث میں اپنا حصہ ڈالا- انکے اس نکتہ سے متفق ہوں کہ غیر مسلموں کے عقیدے  اور ideology سے متاثر ہونےکی فکر مندی کو فوبیا کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے- بس اس میں اتنا اضافہ کرونگی کہ استثنیٰ ہو سکتے ہیں لیکن مغربی علوم سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت نے عملاً اس خوف کی نفی کی ہے- - ابن سینا، فارابی ہوں  ہوں جنہوں نے یونانی علوم سے استفادہ کیا یا آج مغرب میں منتقل ہونے والے، جمال الدین افغانی ہوں، اقبال ہوں یا قائد، علم کے استفادے نے کبھی عقیدے کو خراب نہیں کیا بلکہ اسے علمی بنیادوں پر مستحکم ہی کیا ہے- 


یہ ایک اصطلاح ہے لیکن جن قوانین اور اصولوں کو ہم دنیا کے بہترین اصول اور قوانین سمجھتے ہیں ان کی ترویج شہادت حق کے لئے تو بہ حیثیت انسان ہم سب کا فریضہ ہے-




جویریہ سعید کی بھی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے مغربی علوم سے استفادے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے بحث  میں اپنا حصہ ڈالا- انکے اس نکتہ سے متفق ہوں کہ غیر مسلموں کے عقید اور ideology سے متاثر ہونےکی فکر مندی کو فوبیا کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے- بس اس میں اتنا اضافہ کرونگی کہ مغربی علوم سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت نے عملاً اس خوف کی نفی کی ہے- استثنیٰ ہو سکتے ہیں- ابن سینا، فارابی ہوں جنہوں نے یونان علوم سے استفادہ کیا یا آج مغرب میں منتقل ہونے والے، علم کے استفادے نے کبھی عقیدے کو خراب نہیں کیا بلکہ اسے علمی بنیادوں پر مستحکم ہی کیا ہے-  
کیا جس طرح جاپان ایکسپورٹ کر رہا اس طرح سعودی عرب یا کوئی مسلم ملک اپنی ذاتی ضرورت کے علاوہ ایکسپورٹ کے لئے manufacture نہیں کر سکتا- 


آپکی اس بات کا کہ "بفرضِ محال جو لوگ دین اور faith based تحقیق پر کام کر ہے ہیں۔ یا پھر اسلامک paradigm میں لادینیت کی research methodology کو باطل ثابت کرسکتے ہیں تو اُن کو آپ یہ دلائل دے کر مطمئن نا کر سکیں گی۔" جواب ذیل میں ہے:

بہن آپ انھیں باطل ثا
بت کر بھی دیں گے تو انکو فرق نہیں پڑنا، چین اور بھارت بھی اگر باطل ثابت کرنے میں لگتے تو آج اس پوزیشن میں نہیں نہیں ہوتے کہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کر سکیں- ہمیں قرضے دیکر ہم پر اپنے فیصلے مسلط کر سکیں-

ایک اور بہت بری عادت جو ہمارے زوال کی ذمہ دار ہے وہ یہ کہ یہ کہ یا تو کام ہی نہیں کریں گے لیکن اگر تحقیق کریں گے تو صرف اس پر کے دوسرے کتنے غلط اور ہماری "Faith based paradigm" کتنا صحیح- معذرت ہماری اچھی باتیں ہمارے paradigms انھوں نے چار صدیوں پہلے بغیر احساس برتری اور کم تری اور بغیر شور مچائے چپ چاپ آواز نکالے بغیر اپنالئے-

انکی ریسرچ متھوڈولوجی تو بہت حد تک based ہی ہماری کتاب، ہمارے محدثین، اسکالرز، فلاسفہ " کے کام پر ہے- کہ علم پر کسی کی اجاراداری نہیں ہوتی- لیکن ہم اس قابل اس وقت ہوئے تھے، جب ہمارے علماء یونانی فلسفہ پڑھتے ہوئے اس احساس کمتری اور برتری کا شکار نہیں تھے کہ انکا Faith based paradigm نہیں اسلامی نہیں-

علم کے حصول کے لئے البیرونی ہندوستان پہنچا، ہم نے ہندوستان سے ریاضی کے اصول سمجھے، مغرب تک زیرو متعارف ہم نے کروایا، چین سے ہم نے پیپر بنانا سیکھا اور یورپ کو سکھایا، ایران وسط، ایشیا، روم، مصر، کہاں کہاں مسلم فلا سفہ علم کی جستجو میں مارے مارے نہ پھرے کہ کہا گیا چین بھی جانا پڑے تو جاؤ. اور مرد اور عورت دونوں پر علم حاصل کرنا فرض ہے-

حضرت علی سے یہ بات منسووب ہے کہ "حکمت مومن کی میراث ہے جہاں سے ملے اسے حاصل کرو،" ہم کہتے ہیں نہیں جی یہ تو Faith based paradigm نہیں ہم تو پہلے اسے ڈیولپ کریں گے- اس کے بعد ریسرچ کریں گے- دار الحکمہ کے زمانے میں دنیا بھر کے علماء کو بغداد میں جمع کیا گیا، دنیا بھر کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا-کسی نے نہیں کہا یا آتش پرستوں کی حکمت تو کافر ہے ہم اسے کیوں اپنائیں کیونکہ وہ عروج کا دور تھا- بعد ازاں یورپ نے اپنے نشاط ثانیہ کے عمل میں ہزاروں عربی کتابوں کا ترجمہ کیا کیونکہ اس کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے تھے- اور یہ عمل اس کلیسا سے شروع ہوا جو اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا-انھوں نے نہیں کہا کہ یہ تو ہمارا paradigm نہیں، ہم انکی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہو جائیں گے-

اس امت کا زوال کے دور میں یہ حال کے کہتی ہے Faith based paradigm پر کام کریں گے جسکے نبی نے جنگی قیدیوں کا فدیہ اس شرط پر معاف کر دیا کہ وہ مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھ دین- نبی ص نے یہ کیوں نہ سوچا کہ کافروں سے پڑھنا لکھنا سکھانے سے یہ بہتر کے مسلمان جاہل ہی ریہ جائیں؟ یہ بات گاندھی نے کی تھی لیکن نہرو نے بظاھر گاندھی کا متبع ہو کر بھی اسکی تعلیمات پر ہندوستان کے تعلیمی نظام کو استوار نہیں کیا-

ریفرنس موجود نہیں لیکن کوئی دس سال پہلے ابن سینا کے بارے میں ایک قصہ پڑھا تھا کہ ارسطو کے فلسفہ پڑھتے ہوے کسی نکتے پر اٹک گیا- مسجد میں جا کر سجدے میں گر کر رو رو کر الله سے دعا کرتا- بالا خر کسی پرانی کتابوں کی دکان سے الفارابی کی ارسطو کی شرح ملی جس سے وہ نکتہ سلجھا- الله الله یونانی فلسفے کی گتھی سلجھانے کے لئے سجدے میں رونا اور فارابی کا ارسطو کی شرح لکھنا- کچھ ہمارے سیکھنے کے لئے ہے اس میں جو زوال کے ادوار میں اسلامک paradigm ہی کو رو رہے ہیں کہ ہم تو اپنے Faith based paradigm پر ہی کام کریں گے- مغرب سے سیکھنے میں تو بری ذلت ہے- مغرب کی ایجادات سے فائدہ اٹھانے اور اس سے بھیک مانگنے میں ہمیں ذلت محسوس نہیں ہوتی- اسکا ظلم چپ چاپ برداشت کرتے ہیں لیکن رسی جل گئی بل نہیں گیا کہ مترادف میں نہ مانوں کا رویہ برقرار ہے-
Tazeen Hasan
بہن بہت جزاک الله اس موضوع میں دلچسپی لینے کی- میرے نزدیک یہ ترجیحات کا غلط تعین ہے، وسائل چین اور بھارت اور ساؤتھ کوریا اور سنگاپور کے پاس بھی سے بہت کم تھے، اگر آبادی اور وسائل کا تناسب دیکھا جائے تو- پاکستان کی ترجیحات صحیح ہوتیں اورقیادت، علماء اور عوام میں سیاسی شعور ہوتا، احتساب، آزادی اظہار، مشاورت کے جمہوری اصولوں (جو میرے نزدیک عین اسلامی ہیں) کی سمجھ ہوتی تو ہماری ترجیحات اتنی غلط نہ ہوتیں- ہمارے حکمرانوں نے بیرونی قرضے لے لے کر عیاشیاں کی ہیں اور عوام کو بھی انہیں قرضوں سے مطمئن کیا ہے- کوئی دور رس پلاننگ نہیں کی- خصوصا تحقیق کے حوالے سے ڈاکٹر عطا الرحمان سے پہلے کام زیرو تھا- انکے جانے کے بعد گاڑی پھر ریورس گیر میں لگ گئی ہے- ایسے ایسے لوگ پی ایچ ڈی دانشور نظر آتے ہیں اور کتابوں کے مصنفین کے سر پیٹ لینے کا دل چاہتا ہے لیکن اصل وجہ میرے نزدیک ریسرچ کے کلچر کا نہ پنپنا کیونکہ مذہبی اور سیکولر لیڈرشپ کو معلوم ہی نہیں کہ تحقیق اس دنیا میں بقا کے لئے کتنی بنیادی ضرورت ہے- وسائل سے بڑھ کر ترجیحات ضروری تھیں اس کے لئے-
Tazeen Hasan
جزاک الله حمیرا. میں متفق ہوں کہ ریلیاں نکالنا بلا مقصد نہیں اظہار یکجہتی ضروری ہے لیکن کسی دور رس پلاننگ کے بغیر ہم دو سو سال بھی اسی جگہ کھڑے ان کے مظالم بیان کر رہے ہوں گے- اور وہ شاید ہم سے زیادہ طاقت ور ہو چکے ہونگے- برما، چین، کشمیر، فلسطین، ایک ختم نہ ہونے والی لسٹ ہے جو بڑھی چلی جا رہی ہے- تحقیق کے بغیر اگلے دو سو کیا پانچ سو سال میں بھی تبدیلی نہیں آنی اور ہماری سیکولر اور مذہبی قیادت اسے سنجیدگی سے لینے پر راضی نہیں- توجہ در اصل اس بات پر دلوائی گئی ہے- باقی مغربی تعلیم تو میں اور تم ایک ہی پیج پر ہیں- بلکہ جس سے بھی بات ہو گی وہ اسی پیج پر ہوتا ہے جس پر میں ہوں لیکن پبلکلی اسکا اقرار نہیں کیا جاتا-


Masud Javed
چشم کشا تحریر اور قابل غور سوال .... ماشاءاللہ. ..
لیکن جو طبقے اس کے مخاطب ہیں یا جن پر جواب دینے کی ذمہ داری عائد ہوتی ان کی نظر میں یہ " بغاوت" کو ہوا دینے والی تحریر ہے. .. اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر دور میں بنی نوع آدم کی بقا کے لیے جب جب کوئی
 تحقیق کا بیڑہ اٹھایا اسے باغی کہ کر اسیر زنداں یا پهانسی یا ملک/ شہر بدر کیا گیا.
جہاں تک تحقیق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی دینی طبقے کی بات ہے تو اس کے ذمہ دار دین کی غلط تشریح کرتے ہوئے دین کو دینی اور دنیاوی خانوں میں بانٹنا ہے. جب تک دین کی اس خانہ بندی کا انہدام نہیں ہوتا مسلمانانِ عالم کبهی بهی کسی طرح کی تحقیق اور ایجاد نہیں کر سکتے.
ہماری روز کی 24×360 ×life دین ہے اور جب ایسا ہے تو دین کو محض چند عبادات نماز روزے زکوٰۃ اور حج میں قید کرنا کہاں تک درست ہے.؟ ہمارا اٹهنا بیٹهنا کهانا پینا اپنی ذات اور اہل و عیال کی صحیح پرورش اور تربیت والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اقربا کے ساتھ صلہ رحمی پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی جس میں صرف یہ نہیں کہ ان کئ ساتھ بد تمیزی نہ کی جائے ان کے گھر کی طرف کوڑے نہ ڈالے جائیں بلکہ یہ بهی ہے کہ کوئی نیا پهل لائیں کوئی نیا پکوان بنائیں تو اس میں سے تهوڑا ان پڑوسیوں کے یہاں بهی بھیج دیں. بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا اور اس کے ساتھ کھیلنا کودنا ریس لگانا دلجوئی کرنا یہ سب دین ہے بشرطیکہ کہ اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے پر ہو.
ایک طبقہ دین پر محنت کے نام سے لوگوں کو ' مسجدی ' مسلمان بنا رہا ہے. اس کے متبعین کی اکثریت ' مسجدی مسلمان' ہے. مسجد سے باہر وہ ادنی درجے کے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتی حقوق العباد میں ان کا ریکارڈ عام مسلمانوں سے بهی بدتر ہے اس لئے کہ ان کے دل و دماغ میں یہ پیوست کر دیا گیا ہے کہ شرک کے علاوہ اللہ سب معاف کر دےگا ... اس آیت کا تعلق حقوق اللہ سے ہے حقوق العباد سے نہیں یہ بتانے کے باوجود انہیں اپنے لباس اور وضع قطع کا ایسا زعم ہے کہ قرآن و احادیث کے حوالے بهی ان کے ذہن میں بیٹهے دین کی غلط تشریح کو نہیں نکال نہیں سکتے یا وہ نکالنا نہیں چاہتے.
دینی طبقہ کے علاوہ نام نہاد ' دانشور طبقہ ' کی روش بهی تحقیقی کام اور ایجادات میں بہت حد تک رکاوٹ ہے .. انہوں نے تحقیق کا مطلب قوم کو یہ باور کرایا ہے کہ دینی گروہ پر تنقید کی جائے ہر رطب و یابس کا الزام دین سے وابستہ گروہ پر ڈال دیا جائے اور اس طرح پوری ملت کو blame game میں الجها کر خود راہ فرار اختیار کیا.

فاعتبروا یا اولی الابصار ... یہ اولی الابصار کا ترجمہ تو ' دیدہ والو' ہے اس کا ترجمہ تو کہیں بهی فاعتبروا یا مولوی، نہیں ہے. آپ کہیں گے کہ قران عربی زبان میں ہے اور عربی زبان مولوی جانتا ہے ! شرم آنی چاہئے ایسی حماقت بهری بات کرنے میں. دنیا جہاں کی زبانیں فلسفے سائنس کی تهیوریز اور اپلیکیشن پڑهنے کی صلاحیت ہے مگر اللہ کا کلام پڑهنے کے اہل نہیں ہو... یہ اہلیت کی بات نہیں ہے یہ اس طبقے کی خباثت ہے کہ اس کلام خدواندی کو اہمیت نہیں دیتے.
سوال یہ ہے قران میں جگہ جگہ زمین آسمان کی خلقت اس کی نوعیت اس کی وجوہات اس کی افادیت کا ذکر کر کے چهوڑ نہیں دیا گیا بلکہ قران میں بار بار کہا جا رہا ہے کہ اس پر غور کرو .. کہیں نصیحت کے انداز میں تو کہیں چیلنج کرتے ہوئے کہیں مجرد واقعہ کی طرح تو کہیں منطقی دلائل rational اور reasoning کے ساتھ. .. لا الشمس ینبغی لها ان تدرك القمر و لا الليل سابق النهار ... (قران) سورج چاند کو نہیں پکڑ ے اور رات دن سے آگے نہ نکل جائے ہر کرہ اپنے اپنے مدار میں (اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے تحت) گردش کر رہا ہے ..... جس دن اس نظام گردش کی خلاف ورزی کسی سیارے/ کرے نے کی ایک زوردار دهماکہ ہوگا اور قیامت برپا ہو جائے گی. ہم مسلمان اس تحقیق تک پہنچنے کی بجائے اتنے پر قناعت کر کے بیٹھ گئے یا بیٹها دیئے گئے کہ " پهر ایک دن اللہ کا حکم ہوگا اور قیامت برپا ہو گی" ..

اگر اس پر اسٹیفن ہاکنگ نے ریسرچ کیا اور دنیا کے خاتمے کی وجہ بگ بینگ تهیوری کے نتیجے تک پہنچا تو ہم مسلمانوں کا کام محض اتنا رہا کہ اس کی موت پر ملحد اور مشرک کہ کر اسے گالیاں دینا.
قران کریم کسی ملت قوم یا طبقہ کی جاگیر نہیں ہے یہ پوری انسانیت کے لئے ہے تو ہمارے دانشور اسے مولویوں کے حوالے کرکے خود بری ہو گئے. اور مولوی یہ سمجهتا ہے کہ اللہ نے اس مولوی گروہ کو صرف فقہ ... جائز ناجائز حلال حرام اتنی رکعت فرض اتنی سنتیں اتنی بوافل اتنے روزے اتنی زکوٰۃ نکاح طلاق حج کے مسائل اور ایمان مجمل و مفصل سے عوام کو آگاہ کرنے پر مامور کیا ہے. تعجب اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان کے بعض ' دانشور' ٹی وی ٹاک شو اور ڈیبیٹ میں یہ طنزیہ سوال کرتے ہیں کہ ان مولویوں نے آخر پچھلے کئی سالوں میں کون سا ایجاد کیا ؟ دانشور صاحب مہنگے اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں ملک و بیرون ملک اپنے خرچ پر یا حکومت کے خرچ پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی پڑهائی آپ کریں اور تحقیق اور ایجاد نہیں کرنے کا الزام مولویوں پر ڈال دیں !
1

مسعود جاوید صاحب کے حقیقت پسندانہ تجزیہ کی میں ہمیشہ معترف رہی ہوں- انکی درج ذیل کمنٹس سے متفق ہوں- کمنٹس کی درخواست ہے-
میری اس بات پر یہودی کے ایجنٹ ہونے کا فتوہ لگ سکتا ہے کچھ لوگوں کی طرف سے مگر ہمت کرتا ہوں. میرے خیال میں تحقیق سے دوری کی وجہ وہ اندھی تقلید کا سبق ہے جو ہمیں دینی تعلیم کے ساتھ ملتا ہے. جہاں سوال کرنا حضرت کی شان میں گستاخی سمجھا جاتا ہے اور سوچ کو ادھر ہی دفن کر دیا جاتا ہے. اسی لۓ ہم باباجی سے مشورہ لے کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں کیوں کہ ایسا کرنا آسان بھی ہے اور مقبول بھی.

ذیل میں تحقیق سے دوری کیوں؟ حصہ اول پر انکا تبصرہ اور اس موضوع پر انکے خیالات:  

ات کہیں اور جا نکلی ہے۔ یہ سوال پوچھنے کا وقت، کہ ہمارے ہاں سے تحقیقی مقالے بہت کم تعداد میں، یا نہ ہونے کے برابر کیوں شائع ہوتے ہیں، تب آئے گا، جب ہم اس بات پر متفق ہو جائیں گے کہ ہماری تعلیم و تربیت بچوں میں دقتِ نظر سے مشاہدہ کرنے، تنقیدی نظر سے موازنہ کرنے اور منطقی نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت بہرحال پیدا کر رہی ہے۔ “تحقیق سے کون روک رہا ہے” کا سوال بھی تب پیدا ہو گا جب یہ واضح ہو جائے کہ تحقیق کی تحریک بچوں کے ذہنوں میں بہرحال پیدا ہو رہی ہے۔ میرا نوحہ تو یہ ہے ہماری طرز فکر، طرز تعلیم اور طرز زندگی سوال پوچھنے اور چیلنج کرنے کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کرتی۔ جب طالبعلم کی تمام تر توجہ جواب تلاش کرنے کی بجائے جواب یاد کرنے پر مذکور ہو جائے تو اس کا کتاب سے رابطہ ہی منقطع ہوتا جاتا ہے۔ یہ شعور کی پست ترین سطح ہے اور ہم اس پر متمکن بھی ہیں اور قانع بھی۔کیا دینی حلقے اور کیا لادینی !



اگر تو آپ ایسے لوگوں سے مخاطب ہیں جو دین کو صرف وہی سمجھتے ہیں جو آپ نے بیان کیا ہے تو ٹھیک ہے۔
بفرضِ محال جو لوگ دین اور faith based تحقیق پر کام کر ہے ہیں۔ یا پھر اسلامک paradigm میں لادینیت کی research methodology کو باطل ثابت کرسکتے ہ
یں تو اُن کو آپ یہ دلائل دے کر مطمئن نا کر سکیں گی۔
مسلمانوں کی تحقیق سے دوری ، کسی بھی قسم کے علم کی کمی سے زیادہ ، سیاسی manoeuvres ہیں۔ ایمان سے نابلد تعلیم یافتہ سیکولر حکمران جس طرح خالص تحقیق پر بندھ باندھتے ہیں اُس طرح مغرب کی تقلید پر نہیں باندھتے۔
آپ کی دین کی سطحی definition خود کسی بھی پڑھے لکھے انسان کے لئے کافی دلیل نہیں اسلام /دین یا ایمان کو “صرف” کہنے کے لئے۔

اپنے آپ کو برتر سمجھنے والے مسلمانوں اور complex شدہ مسلمانوں کے narrative سے نکل کر دیکھیں ۔ بہت قابل جواہر نظر آئیں گے اصل پاکستان میں جدوجہد کرتے۔
دنیا کی طاقت میں سب سے دور رس پلاننگ ایمان ہے۔

aima Sher Fazal
آپ سے گزارش ہے کہ پلیز آپ اسلامک پیراڈائم پر کچھ ضرور پڑھیں۔ آپ کے علمی کیلیبر کا بندہ اور دنیا کی اس ethical ضرورت کو یہ کہہ کر کوڑے میں ڈالنا کہ research methodology اسلامک نہیں ہوسکتی۔ اور یہ صرف دوسری قوموں کو نیچا دکھانے کی ایک سازش ہے انتہائی بچگانہ ہے۔ حق اور انصاف کی بات کیا مخلوق خود اپنے لئے بھی کر سکتی ہے یا حق اور انصاف کا پیمانہ مخلوق طے کر سکتی ہے کہ نہیں۔ ان سب باتوں پر بہت لکھا ہے بڑے لوگوں نے۔

مہربانی فرما کر توحید اور وحی کی بنیاد پر کھڑی ہونے والی تحقیق اور ایتھیکل فریم ورک پر بھی لوگوں کو پڑھیں۔ جن کے نام پہلے لکھے تھے۔ فی الحال ہماری بحث جن موضوعات کی طرف جارہی ہے اُس کا کوئی فائدہ ہی نہیں کیونکہ جو میرا initial argument ہے آپ کو اُس کی یا تو سمجھ نہیں یا پھر وہ آپ کے لئے valuable نہیں۔

aima Sher Fazal Critical thinking کو بھی divine revelation کے تابع کرنا ہی پڑتا۔
اس کے بھی دلائل اور وجوہات ہیں اور ایمان والے دلوں کی سوچ اور بغیر ایمان والے کی سوچ میں بھی فرق ہوتا ہے۔
افسوس کے ایمان والی سوچ ، critical thinking پر ہم اس لئے بات نہیں کرتے کہ ایمان کا لفظ ہی بڑا گھسا پٹا لگتا ہے ہمیں اور اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز اساطیرالاولین۔



نہیں میری بہن آپ میری بات کو وہ معنی نہ پہنائیں جو اسکا مدعا نہیں- ہاں اگر دور نبوی اور دور صحابہ یا قرون وسطیٰ سے کوئی دلیل اس رویہ کے لئے ہے تو ضرور لائیں- ایمان کو چھوڑنے کو کوئی نہیں کہہ رہا- کیا ابن سینا یا فارابی کافر ہو گئے تھے؟ یا جن مسلمانوں نے بدر کے قیدیوں سے تعلیم حاصل کی وہ؟ یا قائد اور اقبال مسلمان نہ رہے تھے؟ خود مدرسہ کے کورس میں یونانی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں تو کیا مدرسوں میں پڑھنے والے کافر ہو گئے تھے؟ یا میں ہارورڈ میں پڑھ رہی ہوں تو کیا میں کافر ہو گئی ہوں؟ یا ایڈورڈ سعید مسلمان ہو گئے تھے؟ یا یہودی؟ کسی سے سیکھنے میں کوئی برائی نہیں- اساطیرالاولین کی مثالوں سے تو میں آپکو بات سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں- میں اگر غلطی پر ہوں تو ضرور اپنی غلطی کو تسلیم کروں گی- آپکا بہت شکریہ کہ آپ کے سوالات بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں

Saima Sher Fazal Tazeen Hasan
میں پھر کہوں گی جو کچھ آپ اخذ کررہی ہیں وہ میرا مطلب نہیں ہے اور اُس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ میں جس کو Islamic paradigm کہہ رہی ہوں۔ آپ اُس کو سمجھ نہیں رہیں ہیں۔ یہاں غلط اور صیح سے زیادہ perspective اور اپروچ کا مسئلہ ہے۔ اور اب آپ بھی
 مغربی تہزیب یافتہ فرد کی طرح ایسی بے فائدہ بات کو۔ جانیں دیں کہ میرا perspective ہی آپ پر واضح نہیں تو اختلاف کیسا۔
آپ کی کسی بھی بات کو کوئی مطلب پہنانے کی کوشش دانستہ نہیں کی۔ جو سمجھ آئی اُسی سے اختلاف کیا۔
میری کمی سمجھ کر اس بحث کو چھوڑ دیں اور اگر دل کرے تو اسلامک پیراڈائم پر ضرور۔ کچھ پڑھئے گا۔


میں اس قوم اور امّت کے مجموعی narrative کی بات کر رہی ہوں، تحقیق کی اہمیت ہمارے primary narrative میں ہونی چاہیے جو صدیوں سے نہیں- اسکے بجائے صرف غیر قوموں پر سب و شتم ہے جسکا کوئی فائدہ نہیں- وہ مسلسل طاقت حاصل کر رہی ہیں- جی ہاں اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت، دوسری قوموں کو (سب سے زیادہ ہمیں) دبانے کی طاقت اور ہم صرف انھیں برا بھلا کہہ کر اپنی جلن کی تسکین کر رہے ہیں-


بہن آپ بہت اچھے سوالات کر رہی ہیں جو سوچنے پر آمادہ کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے مصروفیت کے باوجود میں کام چھوڑ کر انکے جوابات دے رہی ہوں- اگر جواب میں دیرہو سکتی ہے لیکن میں انشاللہ تمام سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گی- جہاں اپنی غلطی محسوس ہوئی وہاں اپنی رائے سے رجوع بھی کروں گی-

سر دست اتنا کہ ریسرچ methodology مشرقی یا مغربی، اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتی اس کی بنیاد تو قران میں مذکور اصول " انصاف کی بات" کرنے پر ہے- اگر کوئی ریسرچر انفرادی طور پر بد دیانت ہے یا کسی اسپانسر کرنے والے ادارے کا ایجنڈا لے کر چل رہا ہے، جو یقیناً ہوتے ہیں اور خصوصاً جہاں دوسری قوموں کو برا ثابت کرنا ہو تو اسکا تعلق ریسرچ متھوڈولوجی سے نہیں بد دیانتی سے ہے کہ آپ بیلنس اور دوسرے اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں- مثلاً ایک چھوٹی سی مثال لے لیں: میں ایک آرٹیکل پاکستن میں موجود جنسی ہراسانی پر لکھ رہی ہوں- یہ کوئی اکیڈمک لیول کی ریسرچ نہیں، جرنلسٹک ریسرچ ہے- اگر میں پاکستان کو اچھا دکھانے کے لئے محض مثبت واقعات کی بات کرنے والوں کی رائے لیکر یہ ثابت کرنا چاہوں کہ پاکستان میں تو گھروں میں اور باہر نکلنے والی بچیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے- تو میں ایسا کر سکتی ہوں لیکن اس سے اس مسئلے کے حل کی سمت جس بحث کا آغاز ہونا چاہئے اس مقصد سے میں دیانتدار نہیں-

ایک اور چیز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں "می ٹو" اور "دہلی کے ریپ کیپیٹل آف دی ورلڈ" ہونے کو اپنی گفتگو کا موضوع بنوں اور پاکستان کے مقابلے میں ان ممالک میں جنسی ہراسانی کو اجاگر کر کہ لوگوں سے داد سمیٹوں- لیکن پھر بھی میں پاکستان میں اس مسئلے کے حل کے لئے دیانت دار نہیں- دوسری قوموں کو برا کہنے کا رحجان وہاں بھی موجود رہا ہے اور (انکی فلم انڈسٹری کے اس رحجان پر میرا ایک تفصیلی مضمون تین سال پہلے ایکسپرسس میں شائع ہوا ہے جو دلیل کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے) لیکن اس میں قصور میرا اپنا ہو گا ریسرچ متھوڈولوجی کا نہیں اور اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا نہ ریسرچ کے مقصد پورے ہونگے -

جہاں تک ایڈورڈ سعید اور دوسرے دانشوروں کی مغرب پر تنقید ہے تو مغربی نظام تعلیم میں شروع سے اپنے ذہن سے سوچنا، تنقید کرنا سکھایا جاتا ہے- اور اسی لئے یہ لوگ خود کھل کر خود اپنے ملک نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں- لیکن یہ بھی انکی مغربی تعلیم ہی نے انہیں سکھایا ہے-

کینیڈا میں میری بیٹی کی آٹھویں کلاس کی سوشل اسٹڈیز کے کورس میں مغربی میڈیا پر تنقید پر تفصیلی سیکشن موجود ہے- جو بچوں کو یہاں تک بتا رہا ہے کہ فلاں قدرتی disaster کے لئے اتنی فنڈنگ ہوئی کیونکہ میڈیا نے اسے ہائی لائٹ کیا جبکہ فلاں جگہ لوگ بھوکے مرتے رہے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا-

یہ وہ مغربی نظام تعلیم ہے جس سے ہمیں سیکھنا ہو گا- جو تقلید اور عقیدت کے بجائے سوچنا اور ہر اشو کو تنقیدی نظر سے دیکھنا سکھاتا ہے- جبکہ ہمارے ہاں دینی اور دنیاوی دونوں طرز کے اداروں میں عقیدت اتنی ٹھوس دی جاتی ہے کہ اس سے آگے ہماری نظر ہی نہیں جاتی- دینی ادارے ہر مسئلے کو مغرب، میڈیا، کارپوریٹ میڈیا کے سر منڈھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں- میں دینی طبقات کی بات اس لئے زیادہ کرتی کہ میرا خود تعلق دینی طبقے سے رہا ہے اور الحمدلللہ ہے -

مغرب سے سیکھنے سے مرد اندھی تقلید نہیں ہے- میں نے مشرق وسطیٰ میں اپنے قیام میں ہوم اسکولنگ کے دوران انڈیا کا سی بی ایس سلیبس (مجبوری میں) فولو کیا- اس موضوع پر میرے کچھ مضامین ایکسپریس کے پروفائل پر میں موجود ہیں- انھوں نے مغرب سے سیکھ کر اس کی اندھی تقلید یا مخالفت کے بجائے اپنے نظام تعلیم کو بتدریج اپنی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا ہے- کسی احساس برتری یا کمتری کے بغیر- ہمارے ہاں یہ دونوں جذبے رہے ہیں- ہمارے دینی طبقات بھی مغربی تعلیم کی مخالفت کرنے کے باوجود بھی اپنے بچوں کے لئے اسی مغربی تعلیم کا انتخاب کرتے ہیں- میں نام لینا نہیں چاہتی آپ خود اپنے ارد گرد نظر گھما کر دیکھ لیں- دینی تنظیموں کے ترجمان اخبار مغربی تعلیمات پر سب و شتم سے بھرے پڑے ہیں- لیکن لیڈران اپنے بچوں کو حسب استطاعت مغربی تعلیم (چاہے فارن یونیورسٹیز میں یا اے اور او لیول اسکولوں میں) ہی دلوا رہے ہیں- اس میں کوئی خرابی نہیں مگر کم از کم ترجمان رسالوں سے مغربی 




اس وقت میں عرفان مرزا صاحب کے کمنٹس کو پوسٹ کی صورت مزید تبصروں کے لئے شیئر کر رہی ہوں. انہوں نے مختصراً تحقیق میں رکاوٹ اس پہلو کو بہت مختصر سے تبصرے میں شئیر کیا ہے- میں اہل علم سے گزارش کروں گی کہ
ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم الوہی علم کی کسوٹی پر ان علوم کو پرکھنے
پر بضد ہیں جنھیں دین نے سرے سے اپنا موضوع ہی نہیں بنایا۔ اور ایسا کرنے کی کوشش میں روایت اور تاریخ کی کشید کو بھی اس معیار کا حصہ مقرر کر لیا جاتا ہے۔ پھر اس عمل میں ہم انسانی تخیل کی حدود
 طے کرتے ہیں، مشاہدے پر اعتراض اٹھاتے ہیں اور ان سے اخذ کردہ منطقی نتائج پر فتوی صادر کر دیتے ہیں۔ کم عمر ذہن اسی کو عین اسلام سمجھتے ہوئے اپنے پلے سے کس کر باندھ لیتا ہے اور پھر تمام عمر “ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر” کی کیفیت میں گذار دیتا ہے۔ اس تہذیبی، معاشرتی اور تعلیمی پس منظر میں تخلیقی اور تحقیقی سرگرمی نہیں پنپ سکتی۔ ایسی آواز بلند کرنے والوں کے لیے سیکولر، لبرل، آزاد خیال اور جانے کیسے کیسے لیبل دستیاب ہیں جنھیں حسب توفیق اور “بذریعہ چسپاندگی” منہ بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ نکتہ نظر، جو میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں، یہ تقاضہ ضرور کرتا ہے کہ اسے بیک جنبش قلم رد کرنے سے پہلے اس پر تنقیدی بحث کا اہتمام کیا جائے۔ اور کچھ نہ سہی، چند مشکل مقامات سے گذرنے میں ہی شائد کچھ آسانی پیدا ہو جائ







مجھے خوشی ہے کہ کم از کم وقتی طور پر ہی سہی مغربی تعلیم کے حوالے سے لوگوں کا بیانیہ تبدیل ہوا - انشاللہ اس ٹوٹی پھوٹی کوشش سے حقیقی معنوں میں بھی بیانیہ تبدیل ہو گا- لوگوں میں اس بات کی ہمت آئے گی کہ وہ مدافعانہ طرز عمل کے بجائی کھل کر مغربی تعلیم کی افادیت کا اقرار کریں گے-

پھر وضاحت کر دوں

صائمہ 
تحقیق سے دوری کیوں؟
تزئین حسن 
تحقیق کے موضوع پر پوسٹس پر سب سے مربوط تجزیہ ایاز اصلاحی صاحب کے کمنٹ میں ہے- عرفان صاحب نے بھی بہت جاندار تبصرے  کئے - جاوید مسعود صاب کی بھی شکر گزار ہوں گو انہیں پتہ نہیں کیوں بار بار میری وضاحت کے باوجود میرے بیانیہ سے یہ غلط فہمی ہوئی کہ میں صرف دینی طبقات کو تحقیق سے لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہوں- مجھے مدرسہ کلچر کے حوالے سے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے. دوبارہ وضاحت کر دوں کہ میری اورجنل پوسٹ میں پچھلی چار صدیوں سے امت مسلمہ میں  مذہبی، سیکولر، حکومت، سول سوسائٹی ، عوام سب میں مجموعی طور پر تحقیق کی ضرورت سے لاعلمی پر تھی- دوسری پوسٹ ایک خاتون کے کمنٹ کے جواب میں تھی جنکا کہنا تھا کہ موجودہ ریسرچ متھوڈولوجی کے paradigms فیتھ بیسڈ نہیں اس لئے ہمیں وہ ڈیولپ کرنے چاہیے- اس سے کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ یہ مدرسہ کے خلاف ہے- میں وضاحت کر دوں کہ بہ حیثیت امت اس مہلک غلطی میں امت کے تمام طبقات شریک رہے ہیں- لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی اسلامسٹ طبقات میں یہ narrative یعنی بیانیہ بہت طاقت ور ہے کہ ہمیں مغرب سے سیکھنے کی ضرورت نہیں - اور یہ میرا روز کا تجربہ ہے  کہ دینی لوگ جو خود یا اپنے بچوں کو مغرب پڑھنے بھیجتے وہ اس پر مدافعانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں- 
میرا یہ کہنا ہے کہ جب ہم عروج پر تھے تو مغرب نے ہم سے سیکھا، ہم نے خود یونان، فارس، ہندوستان سے سیکھا اور ان علوم میں اپنا حصہ ڈال کر انہیں مغرب تک منتقل کیا جس کا اعتراف بھی مغرب کے علمی حلقوں میں کھلے دل سے کیا جاتا ہے- مغربی محقیقین اب اس بات پر متفق ہیں کہ  مغرب کی نشاط ثانیہ کے تین بنیادی عوامل میں سے ایک اسپین میں مسلمانوں کا سات سو سالہ دور اقتدار،  دو صلیبی جنگوں کے دوران مسلمانوں سے روابط اور تین مسلمانوں کے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یونانی علماء کی کتابوں کا وہاں کے مذھبی طبقات کے ساتھ اٹلی پہنچ جانا بتاتے ہیں-   آج کی مغربی تھذیب اسی ورثے پر کھڑی ہے- میری ذاتی رائے میں فرانس کا انسانی حقوق کا ڈکلریشن ہو، امریکی آئین میں مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق ہوں، ہو، خواتین کے حقوق کی تحریک ہو اس پر چودہ صدیوں پیشتر کے انسانی انقلاب کے اثرات بہت واضح محسوس کے جا سکتے ہیں- فرق صرف یہ ہے کہ مغرب آزادی اظہار، احتساب، مشاورت سے فیصلے، قانون کی حکمرانی کے جمہوریت کے جن اصولوں تک تجربات کر کر کہ آج  پہنچا وہ ہمیں الہامی ہدایت کے ذریعے چودہ صدیوں پہلے دے دئیے گئے تھے- کائنات کے رازوں کی تسخیر جو اس نے پندرھویں صدی کے آخر میں شروع کی ہمیں ہماری کتاب نے ساتویں صدی عیسوی میں بار بار غور و فکر کی آیات کے ذریعے اسکی طرف توجہ دلائی- دنیا کی تسخیر کے لئے سفر جو مغرب نے پندرھویں صدی میں شروع کیا، قران کریم تیرا مرتبہ "سیرو فی الارض" کی یاد دہانی سے ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے- یہ دوسری بات کے مغرب نے جن رازوں کو ہم سے سیکھ کر یا خود جانفشانی سے تجربات کر کہ پا یا وہ  ہم نہ صرف اسے بھول گئے بلکہ اپنے رویہ پر نظر ثانی بھی  راضی نہیں اور اسی لئے پچھلی چار صدیوں سے ہمارے ہاں تحقیق کی کوئی روایت موجود نہیں- اقبال کے جانے کے ٨٠ سال بعد بھی ہم وہیں کھرے ہیں- کیونکہ ہم اس حقیقت کے ادراک کی ضرورت اب بھی محسوس نہیں کرتے کہ ریسرچ بقا کے لئے لازم ہے- یہ کم از کم میری رائے ہے- میری یہ بھی رائے ہے کہ ہم اپنے زبانی بیانیہ میں اسکا اعتراف نہیں چاہتے کہ ہمیں مغرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے- کل کچھ لوگوں نے کھلے دل سے اس بات کی اهمیت کو تسلیم کیا کہ وہ مغربی تعلیم کے خلاف نہیں- 
علم  پر کسی کی اجرا داری نہیں ہوتی- جہاں تک اس غلط فہمی کا تعلق ہے کہ ہم مغرب ہی کے تعلیمی نظام پر چل رہے ہیں، میری رائے میں مدرسہ ہو یا اسکول ہم صرف تقلید اور رٹے کی راہ پر چل رہے ہیں جہاں سوال پوچھنا اور تنقید منع ہے اور جن لوگوں کو مغربی ملکوں میں تعلیم کا موقعہ ملا وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں رائج یہ نظام  قطعاً مغربی نظام تعلیم نہیں- جاوید مسعود صاحب نے ایک تبصرے میں مغربی نظام کی بڑی اچھی تعریف کی- 
ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ تقلید مشرق مغرب مذہبی سیکولر کسی انسانی بیانیہ کی نہیں ہونی چاہیے-  ہمارے ساتھ اپنا سفر شروع کرنے والے انڈیا اور چین دونوں نے مغرب سے سیکھنے میں کوئی احساس کمتری محسوس نہیں کیا لیکن اپنے نظام تعلیم کو جدید بنیادوں پر استوار کیا- انکے ہزاروں نہیں لاکھوں طلبہ پچھلے ستر سال میں مغرب کی یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہوئے جو آج مغرب میں بھی اور اپنے ملکوں میں بھی علمی، تحقیقی، کاروباری پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں- انڈیا اور چین کی ترقی میں ان طلبہ کا بہت حصہ ہے جس پر مغرب خود نازاں ہے- یہ بھی یاد رہے کہ یہ ممالک خود بھی اپنی ماضی کی شاندار تہذیبوں پر نازاں تھے لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ مغرب سے سیکھے بغیر آگے بڑھنا اور تاریخ کے اس دوراہے پر ترقی ممکن نہیں- ایک وقت تھا ان دونوں ملکوں نے بھی دنیا کو بہت کچھ سکھایا، آج دوبارہ وہ اس مقام پر آ گئی ہیں-  جبکہ ہم ایک کنفیوژن کا شکار رہے ہیں جو ہمارے  احساس کمتری اور برتری دونوں کا آئینہ دار ہے-   
علمی کام ہمیشہ ایک تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں، پہیہ کو ہر مرتبہ دوبارہ ایجاد نہیں کیا جاتا- نہ پہیہ مسلمان، ہندو یا سیکولر ہوتا- ہان انسانی جذبات اور عقائد ایک حد تک ہماری تحقیق اور سوچ پر اثر انداز ہوتے وہ فطری ہے- بیلنس کی حتی الامکان کوشش ریسرچ متھودولوجی کے اصولوں میں سے ہے اور ہمیں تو قران شروع سے دوسری قوموں کے معاملے میں انصاف کی بات کرنے کا حکم دیتا ہے جو مروجہ ریسرچ متھوڈولوجی کے بنیادی اصولوں میں سے ہے-      
آج جو عروج پر ہیں چاہے وہ مغرب ہو یا انڈیا اور چین ہمیں کھلے دل سے انکے علمی کام کا فائدہ اٹھانا چاہیے. اسکا ہمارے عقائد سے کوئی تعلق نہیں- جب اقبال اور قائد مغربی تعلیم حاصل کر کہ مسلمانوں کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں تو آج کے نوجوان سے ہم اتنا مایوس کیوں ہیں؟ ایک اور اہم امر یہ کہ مغربی تعلیم کے معاملے میں ہمارے قول اور فعل میں بہت تضاد پایا جاتا ہے جسکا ذکر ایاز اصلاحی صاحب نے کیا- ہم میں سے ہر فرد اسے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن قولی طور پر اسکا اعتراف نہیں کیا جاتا- کم و بیش یہی بیانیہ پاکستان کے اسلامیستوں کا ہے جو میں کم از کم تین دہایوں سے دیکھ رہی ہوں- وقت گزرنے پر یہ بیانیہ کمزور نہیں ہوا اور طاقت ور ہو گیا ہے- تفصیلی پوسٹ انشاللہ آئندہ 
تلمیذ برنی اور 
واضح کر دوں 

لیکن میں سچ کے لئے اپنے آپ کو جھوٹا کہلوانے  کے لئے بھی راضی  ہوںکہ ایسے وقت بھی آتے ہیں حق پرستی میں- جو لوگ دلیل سے بات کرنا چاہیں وہ خوش آمدید لیکن ذاتی حملہ کرنے والوں کو بلاک کر دیا جائے گا- 

معنوں 

جزاک الله آپ کے تفصیلی کمنٹس کا- آپکی بات بلکل صحیح کہ ایمان اور عقائد پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے لیکن  یہ خوف بھی مجھے بے معنی محسوس ہوتا ہے- کم از کم اقبال قائد مولانا محمد علی جوہر کے علاوہ پچھلی دو دہایوں سے مغرب منتقل ہونے والوں نے اس عملاً بہت حد تک  غلط ثابت کیا ہے -  ویسے یہ ایک لمبی بحث ہے- مجھے سب سے زیادہ تکلف اس منافقانہ رویہ سے ہوتی ہے جو تقلید اور احساس کمتری اور احساس برتری  کے بعد ، تحقیق سے دوری کا ایک اور اہم سبب ہے کہ ہم verbally اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں لیکن خود اسکے لئے سب سے زیادہ بے تاب رہتے ہیں- سائنسی شعبوں سے بہت زیادہ ہمیں سوشل سائنسز میں سیکھنے کی ضرورت ہے- اور مجھے پوری امید ہے کہ جب مسلمان طالب علم یہاں سے سیکھنے گے تو اپنے ممالک میں ان علوم کی ترسیل کا ذریعہ بنیں گے-   


بہت اچھے سوالات ہیں سوچنے کی دعوت دینے والے- میں اپنے محدود علم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کروں گی- لیکن کل کے اسائنمنٹ کے بعد فورم پر موجود دوسروں کو بھی دعوت عام ہے- ابھی مختصر بات!
میری ذاتی رائے میں اور وولٹائر نامی فلاسفر کے مطابق حکومتی فیصلوں سے پہلے رائے عامّہ کی تشکیل اہم ہوتی ہے- اور یہ  کام INTELLIGENSIA یعنی دانشور رائٹرس آرٹسٹ فلم افسانہ لکھنے والے کرتے ہیں- میں نے تبدیلی کے حوالے سے اپنے مضمون میں عرض کیا تھا کہ ہماری کوششیں پچھلے تیس سال میں کچھ مخصوص اشوز پر جن میں قران سمجھ کر ترجمہ سے پڑھنے اور حجاب سر فہرست ہے  بڑے پیمانے میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں- لیکن اس کے لئے طویل ریاضت درکار اور پلاننگ درکار ہےجو کی گئی ہے-  گو انکا اعتراف بہت کم کیا جاتا ہے لیکن اسکے اثرات ساری دنیا کے ہندوستانی پاکستانی DIASPORA یہاں تک کہ ترکستانی مصری اور ترکی عوام میں بھی بھی محسوس ہوتے ہیں جو سید مودودی کے افکار سے متاثر ہوئے- جب رائے عامّہ بڑی تعداد میں ہموار ہو جاتی تو تبدیلی کا راستہ روکنا نا ممکن ہو جاتا-  سید مودودی کے اپنے الفاظ میں کروڑوں تک دعوت پہنچانا اور لاکھوں قربانی کے لئے تیار کارکنان اور انکیMOBILISATION اور  محنتیں- سید ہی نے اسی وقت بتا دی تھیں تبدیلی کی شرائط- لیکن سب تیاری کے کچھ کے لئے قیادت میں ویژن بہت ضروری ہے اس کا فقدان بھی بہت تکلیف دیتا- حکومت کا کردار بلکل اہم تحقیق جیسی مہنگی ایکٹیویٹی انفرادی وسائل سے بہت مشکل لیکن اگر ایک دفعہ الم و تدریس سے متعلق افراد میں ہی سکی ضرورت کا شعور پیدا ہو جائے تو ہر یونیورسٹی کالج ہی نہیں ہر سیکنڈری اور پرائمری اسکول بھی اسکا مرکز بن سکتا- جسکی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں- سلیم منصور خالد نے بہت صحیح DIAGNOSIS کیا کہ استاد غائب ہے-   

علمی  میدان میں محنت سے جی چرانا خصوصا جن شعبوں میں مال حاصل ہونے کی توقع نہیں ہو- حکومتوں کے تحقیق کو ترجیح نہ بنانا اور اسکے لئے وسائل فراہم نہ کرنا-     
Jawaria Saeed Tazeen Hasan بالکل وہ تو ایک ضمنی مگر اہم بات تھی۔ مگر میں نے واضح طور پر عرض کیا ہے کہ اس تناظر کے علاؤہ علوم کا جتنا بھی حصہ بھی حقائق اور ان سے اخذ کیے استنباط پر مشتمل ہو اس کو حاصل کرنا فرض ہے۔ اور اس میں میں اپنی فیلڈ یعنی میڈیکل سائنس ہی کی بڑی واضح مثال سامنے رکھتی ہوں
اظہر من الشمس 
سچ بولنے میں دشواری کی وجہ 
مجھے خوشی ہے کہ کم از کم وقتی طور پر ہی سہی مغربی تعلیم کے حوالے سے لوگوں کا بیانیہ تبدیل ہوا - انشاللہ اس ٹوٹی پھوٹی کوشش سے حقیقی منوں میں بھی بیانیہ تبدیل ہو گا- لوگوں میں اس بات کی ہمت آئے گی کہ وہ مدافعانہ طرز عمل کے بجائی کھل کر مغربی تعلیم کی افادیت کا اقرار کریں گے-
سچ بولنے میں اتنی دشواری کی بڑی  وجہ لوگوں کا سچ کی گواہی دینے سے انکار ہے - میرے ارد گرد بہت سے لوگ مغربی طرز تعلیم کی مخالفت تواتر کے ساتھ کرتے رہے ہیں- لیکن کل جب مسعود جاوید صاحب نے سورج کو چراغ دکھانے جیسی حقیقت کا ثبوت مانگا تو سوائے ایک دو کہ سب پیچھے ہٹ گئے- کچھ کا کہنا تھا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں مشرقی تعلیم اور مغربی تعلیم کا فرق- تعلیم تو تعلیم ہوتی ہے- باز نے اس وقت وال پر موجود بحث سے صرف نظر کیا کیوں کہ مغربی ممالک میں تعلیم کے حوالے سے جن چند لوگوں کی مثالیں میں نے سپورٹنگ evidence یعنی شواہد کے طور پر دی تھیں ان میں میرے علاوہ ایک روشن خیال مذہبی جماعت کی لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ قائد اور اقبال کے نام بھی شامل تھے جنھیں رد کرنا ظاہر ہے مشکل تھا-      

مجھے اس سے اختلاف تھا جسکا دور نبوی، صحابہ اور قرون وسطیٰ میں مسلمانوں اور خود قائد اور اقبال کے طرز عمل کو دلیل بنا کر میں نے جواب دیا- میرا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر میری رائے غلط ثابت ہوئی تو میں انشاللہ رجوع کروں گی- 
ایک بات کی اور وزہر کر دوں کہ مغربی تعلیم کی مخالفت اس وقت بھی ہماری وال کے مختلف حصوں میں ہو رہی ہے ہے- استثنیٰ موجود ہیں لیکن بیانیہ اتنا غالب ہے کہ دلیل کے باوجود کھل کر اسکو رد کرنا میرے جیسے رائیٹر کے لئے بھی مشکل ہے- اسکی ایک وجہ ذاتی حملے بھی ہیں-
جو لوگ دلیل سے بات کرنا چاہیں وہ خوش آمدید لیکن ذاتی حملہ کرنے والوں کو بلاک کر دیا جائے گا- 
جس سے بحث کا رخ بدلہ 
حصہ دوئم 

گزشتہ سے پیوستہ 
ایاز اصلاحی: 

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...