اتوار، 9 مئی، 2021

maghribi taleem thqeeq Comments

Ye wo sahab hen ju kehte hen ke Islamic mozoat pr Oxford ke articles bas Tarjuma hote deeni kutub ka. Aur research papers ka impact factor social media pr check hona chahiye impact factor journals ke bajaye- Jis ku kitne like milen facebook pr utna hi uski thqeeq ka mayaar blnd taswr kiya jaaee-



امت مسلمہ میں تحقیق سے دوری کی وجوہات کے موضوع ہماری بحث ابھی جاری ہے- موضوع کے مقصد پر فوکس برقرار رکھنے کے لئے اس سلسلے کی پہلی پوسٹ کو دوبارہ شئیر کر رہے ہیں-
تحقیق سے دوری کی وجہ کیا ہے؟

حافظ زبیر صاحب وہ ہیں جنکا کہنا ہے کہ ریسرچ کا امپیکٹ فیکٹر سوشل میڈیا پر طے ہونا چاہیے بجائے ریسرچ جرنلز کے- جس کو جتنے زیادہ لائک ملیں اسکو اتنا ہی بڑا محقق سمجھا جائے- اور بھی اقوال زرین ہیں انکے مثلا یہ کہ اسلامی موضوعات پر آکسفورڈ کے آرٹیکلز صرف ترجمہ ہوتے اردو یا عربی کتابوں کے- مجھے حیرت ایسے اسکالر کہلانے والوں پر نہیں ہوتی بلکہ انکی باتوں سے متاثر ہونے والے پڑھے لکھے لوگوں پرہوتی ہے- خصوصاً اگر مغربی فضلاء سے بھی سنجیدگی سے استفادہ کرتے ہوں-
ایاز اصلاحی صاحب کے کمنٹس پر بھی تبصروں کی دعوت ہے- براہ مہربانی شائستہ زبان استعمال کریں- موضوع تحقیق کے کلچر کا نہ پنپنے کی وجوہات ہے- میں پھر وضاحت کر دوں کہ حکومتیں سب سے پہلے ذمہ دار ہیں ترجیحات کا تعین نہ کرنے پر لیکن سول سوسائٹی کی سیکولر، اور دینی intelligentsia جو عوام کی ذہن سازی کرتی ہیں، انہیں بھی تحقیق کے بنیادی ضرورت ہونے کے حوالے سے شعور نہ ہونے کے برابر ہے- اس میں دانشور، ادیب، افسانہ نگار، فلم میکر، خطیب، آرٹسٹ، مدرس، ٹیچرس، سب آ جاتے- جب قوم کا ایک بڑا حصہ کسی اشو کو اپنی بقا کا ضامن سمجھنے لگے گا تو حکمرانوں کی ترجیحات میں بھی تبدیلی آئے گی-



ہ موقع سنجیدگی سے اس امر پر غور کرنے کا ہے کہ تعلیم کے معاملے میں ہم کیوں پیچھے رہ گئے۔ اس ضمن میں تمام تر بوجھ آمریت کے کندھوں پر ڈال کر ہم اس ذمہ داری سے فارغ نہیں ہو سکتے۔ میں نے اپنی عمر کا بہترین اور بیشتر حصہ درس و تدریس میں گذارا ہے۔ سرکاری درسگاہوں میں تربیت پائی اور انہی درسگاہوں میں پڑھانے کی کوشش کرتا رہا۔ میرے والد نے بھی اپنی تمام عمر سرکاری درسگاہوں میں پڑھاتے ہوئے ہی گذار دی۔ میں جنرل ایوب اور ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں طالبعلم اور جنرل ضیاء سے لیکر میاں نواز شریف کے آخری دور حکومت تک تدریس سے وابستہ رہا ہوں۔ سٹوڈنٹ یونینز کے دن بھی دیکھے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی وقت بسر کیا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرہ بھر بھی ہچکچاہٹ نہیں کہ میں نے تعلیم کو کسی بھی دور میں اولین ترجیح کی حیثیت پر فائز نہیں دیکھا۔ استاد کی قدر ہمارے معاشرے کا رویہ رہا ہے اور نہ ہی صاحب اقتدار لوگوں کی پہچان۔ بطور قوم ہم غور و فکر پر نہیں dogma پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اس طرز فکر کو سکولوں کی سطح پر ہی پختہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں استاد کے معیار کی پرکھ کی بھی فقط دو کسوٹیاں ہیں: سینیارٹی اور سفارش۔ اوّل الذکر زیادہ تر آمروں کی ترجیح نظر آئی اور موخرالذکر سیاست دانوں کی۔ علم کسی کی بھی ترجیح، نہ کبھی رہا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان نظر آ رہا ہے۔



3


اس پوسٹ میں کہیں مولوی کا تذکرہ نہیں یہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ خاتون کے کمنٹ کا جواب ہے جنکا کہنا ہے کہ مغربی ریسرچ میتھوڈس ہمیں قبول نہیں-

میرا خیال ہے کہ تحقیق میں عدم دلچسپی کی بڑی وجہ سوال کرنے کی بجائے حکم بجا لانے کا وہ رویہ ہے جسے سکول کی سطح پر پختہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سکولوں میں زیادہ تر معلومات فراہم کی جاتی ہیں، لکھے ہوئے لفظ کی دھاک بٹھائی جاتی ہے اور بتائی گئی کسی بات سے عدم اتفاق کی کوئی گنجائش فراہم نہیں کی جاتی۔ ہمارا طالبعلم علم کے ماخذ سے قطعاً ناواقف رہ جاتا ہے۔ اس کے لیے کتاب میں لکھی اور استاد کے منہ سے نکلی ہر بات وحی کی مانند معتبر ہے۔ ہم نے استاد کی تعلیم اور تربیت پر بھی تو توجہ نہیں دی۔ وہ معصوم بھی تو ایمان داری سے یہی سمجھتا ہے کہ علم کا ماخذ کتاب ہے!

Irfan Mirza
ہمارے ہاں جب دینیات کا مضمون پڑھایا جاتا ہے تو اس میں بھی الوہی علم اور انسان کی مرتب کردہ تاریخ ساتھ ساتھ پڑھائی جاتی ہے۔ طالبعلم کو ان دونوں کے بیچ فرق سمجھانے کی بجائے انکی عقیدت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ عقیدت بھی طالبعلم سے چیلنج کرنے کی صلاحیت چھین لیتی ہے۔ رفتہ رفتہ کتاب میں لکھی اور بزرگوں کے منہ سے نکلی ہر چیز سند کے درجے پر فائز ہو جاتی ہے۔ اب آپ تحقیق کر کے دکھلائیے !

براہ کرم ذاتی حملوں سے پرہیز کریں- دلائل سے مسٹر اور مولوی کی  وکالت میں کوئی حرج نہیں- بحث کے مقصد کو سامنے رکھیں- مہر بانی ذاتی حملوں پر مبنی کمنٹس کو خود ایڈٹ یا ڈیلیٹ کر دن- ہم سب کی نیت الله کی رضا کے لئے اسکی امت کی بہتری، سیکھنا اور سکھانا ہے- 

جویریہ سعید کی بھی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے مغربی علوم سے استفادے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے بحث میں اپنا حصہ ڈالا- انکے اس نکتہ سے متفق ہوں کہ غیر مسلموں کے عقیدے  اور ideology سے متاثر ہونےکی فکر مندی کو فوبیا کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے- بس اس میں اتنا اضافہ کرونگی کہ استثنیٰ ہو سکتے ہیں لیکن مغربی علوم سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت نے عملاً اس خوف کی نفی کی ہے- - ابن سینا، فارابی ہوں  ہوں جنہوں نے یونانی علوم سے استفادہ کیا یا آج مغرب میں منتقل ہونے والے، جمال الدین افغانی ہوں، اقبال ہوں یا قائد، علم کے استفادے نے کبھی عقیدے کو خراب نہیں کیا بلکہ اسے علمی بنیادوں پر مستحکم ہی کیا ہے- 


یہ ایک اصطلاح ہے لیکن جن قوانین اور اصولوں کو ہم دنیا کے بہترین اصول اور قوانین سمجھتے ہیں ان کی ترویج شہادت حق کے لئے تو بہ حیثیت انسان ہم سب کا فریضہ ہے-




جویریہ سعید کی بھی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے مغربی علوم سے استفادے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے بحث  میں اپنا حصہ ڈالا- انکے اس نکتہ سے متفق ہوں کہ غیر مسلموں کے عقید اور ideology سے متاثر ہونےکی فکر مندی کو فوبیا کی شکل اختیار نہیں کرنی چاہیے- بس اس میں اتنا اضافہ کرونگی کہ مغربی علوم سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت نے عملاً اس خوف کی نفی کی ہے- استثنیٰ ہو سکتے ہیں- ابن سینا، فارابی ہوں جنہوں نے یونان علوم سے استفادہ کیا یا آج مغرب میں منتقل ہونے والے، علم کے استفادے نے کبھی عقیدے کو خراب نہیں کیا بلکہ اسے علمی بنیادوں پر مستحکم ہی کیا ہے-  
کیا جس طرح جاپان ایکسپورٹ کر رہا اس طرح سعودی عرب یا کوئی مسلم ملک اپنی ذاتی ضرورت کے علاوہ ایکسپورٹ کے لئے manufacture نہیں کر سکتا- 


آپکی اس بات کا کہ "بفرضِ محال جو لوگ دین اور faith based تحقیق پر کام کر ہے ہیں۔ یا پھر اسلامک paradigm میں لادینیت کی research methodology کو باطل ثابت کرسکتے ہیں تو اُن کو آپ یہ دلائل دے کر مطمئن نا کر سکیں گی۔" جواب ذیل میں ہے:

بہن آپ انھیں باطل ثا
بت کر بھی دیں گے تو انکو فرق نہیں پڑنا، چین اور بھارت بھی اگر باطل ثابت کرنے میں لگتے تو آج اس پوزیشن میں نہیں نہیں ہوتے کہ ہم پر اپنی مرضی مسلط کر سکیں- ہمیں قرضے دیکر ہم پر اپنے فیصلے مسلط کر سکیں-

ایک اور بہت بری عادت جو ہمارے زوال کی ذمہ دار ہے وہ یہ کہ یہ کہ یا تو کام ہی نہیں کریں گے لیکن اگر تحقیق کریں گے تو صرف اس پر کے دوسرے کتنے غلط اور ہماری "Faith based paradigm" کتنا صحیح- معذرت ہماری اچھی باتیں ہمارے paradigms انھوں نے چار صدیوں پہلے بغیر احساس برتری اور کم تری اور بغیر شور مچائے چپ چاپ آواز نکالے بغیر اپنالئے-

انکی ریسرچ متھوڈولوجی تو بہت حد تک based ہی ہماری کتاب، ہمارے محدثین، اسکالرز، فلاسفہ " کے کام پر ہے- کہ علم پر کسی کی اجاراداری نہیں ہوتی- لیکن ہم اس قابل اس وقت ہوئے تھے، جب ہمارے علماء یونانی فلسفہ پڑھتے ہوئے اس احساس کمتری اور برتری کا شکار نہیں تھے کہ انکا Faith based paradigm نہیں اسلامی نہیں-

علم کے حصول کے لئے البیرونی ہندوستان پہنچا، ہم نے ہندوستان سے ریاضی کے اصول سمجھے، مغرب تک زیرو متعارف ہم نے کروایا، چین سے ہم نے پیپر بنانا سیکھا اور یورپ کو سکھایا، ایران وسط، ایشیا، روم، مصر، کہاں کہاں مسلم فلا سفہ علم کی جستجو میں مارے مارے نہ پھرے کہ کہا گیا چین بھی جانا پڑے تو جاؤ. اور مرد اور عورت دونوں پر علم حاصل کرنا فرض ہے-

حضرت علی سے یہ بات منسووب ہے کہ "حکمت مومن کی میراث ہے جہاں سے ملے اسے حاصل کرو،" ہم کہتے ہیں نہیں جی یہ تو Faith based paradigm نہیں ہم تو پہلے اسے ڈیولپ کریں گے- اس کے بعد ریسرچ کریں گے- دار الحکمہ کے زمانے میں دنیا بھر کے علماء کو بغداد میں جمع کیا گیا، دنیا بھر کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا-کسی نے نہیں کہا یا آتش پرستوں کی حکمت تو کافر ہے ہم اسے کیوں اپنائیں کیونکہ وہ عروج کا دور تھا- بعد ازاں یورپ نے اپنے نشاط ثانیہ کے عمل میں ہزاروں عربی کتابوں کا ترجمہ کیا کیونکہ اس کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتے تھے- اور یہ عمل اس کلیسا سے شروع ہوا جو اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا-انھوں نے نہیں کہا کہ یہ تو ہمارا paradigm نہیں، ہم انکی کتابیں پڑھ کر گمراہ ہو جائیں گے-

اس امت کا زوال کے دور میں یہ حال کے کہتی ہے Faith based paradigm پر کام کریں گے جسکے نبی نے جنگی قیدیوں کا فدیہ اس شرط پر معاف کر دیا کہ وہ مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھ دین- نبی ص نے یہ کیوں نہ سوچا کہ کافروں سے پڑھنا لکھنا سکھانے سے یہ بہتر کے مسلمان جاہل ہی ریہ جائیں؟ یہ بات گاندھی نے کی تھی لیکن نہرو نے بظاھر گاندھی کا متبع ہو کر بھی اسکی تعلیمات پر ہندوستان کے تعلیمی نظام کو استوار نہیں کیا-

ریفرنس موجود نہیں لیکن کوئی دس سال پہلے ابن سینا کے بارے میں ایک قصہ پڑھا تھا کہ ارسطو کے فلسفہ پڑھتے ہوے کسی نکتے پر اٹک گیا- مسجد میں جا کر سجدے میں گر کر رو رو کر الله سے دعا کرتا- بالا خر کسی پرانی کتابوں کی دکان سے الفارابی کی ارسطو کی شرح ملی جس سے وہ نکتہ سلجھا- الله الله یونانی فلسفے کی گتھی سلجھانے کے لئے سجدے میں رونا اور فارابی کا ارسطو کی شرح لکھنا- کچھ ہمارے سیکھنے کے لئے ہے اس میں جو زوال کے ادوار میں اسلامک paradigm ہی کو رو رہے ہیں کہ ہم تو اپنے Faith based paradigm پر ہی کام کریں گے- مغرب سے سیکھنے میں تو بری ذلت ہے- مغرب کی ایجادات سے فائدہ اٹھانے اور اس سے بھیک مانگنے میں ہمیں ذلت محسوس نہیں ہوتی- اسکا ظلم چپ چاپ برداشت کرتے ہیں لیکن رسی جل گئی بل نہیں گیا کہ مترادف میں نہ مانوں کا رویہ برقرار ہے-
Tazeen Hasan
بہن بہت جزاک الله اس موضوع میں دلچسپی لینے کی- میرے نزدیک یہ ترجیحات کا غلط تعین ہے، وسائل چین اور بھارت اور ساؤتھ کوریا اور سنگاپور کے پاس بھی سے بہت کم تھے، اگر آبادی اور وسائل کا تناسب دیکھا جائے تو- پاکستان کی ترجیحات صحیح ہوتیں اورقیادت، علماء اور عوام میں سیاسی شعور ہوتا، احتساب، آزادی اظہار، مشاورت کے جمہوری اصولوں (جو میرے نزدیک عین اسلامی ہیں) کی سمجھ ہوتی تو ہماری ترجیحات اتنی غلط نہ ہوتیں- ہمارے حکمرانوں نے بیرونی قرضے لے لے کر عیاشیاں کی ہیں اور عوام کو بھی انہیں قرضوں سے مطمئن کیا ہے- کوئی دور رس پلاننگ نہیں کی- خصوصا تحقیق کے حوالے سے ڈاکٹر عطا الرحمان سے پہلے کام زیرو تھا- انکے جانے کے بعد گاڑی پھر ریورس گیر میں لگ گئی ہے- ایسے ایسے لوگ پی ایچ ڈی دانشور نظر آتے ہیں اور کتابوں کے مصنفین کے سر پیٹ لینے کا دل چاہتا ہے لیکن اصل وجہ میرے نزدیک ریسرچ کے کلچر کا نہ پنپنا کیونکہ مذہبی اور سیکولر لیڈرشپ کو معلوم ہی نہیں کہ تحقیق اس دنیا میں بقا کے لئے کتنی بنیادی ضرورت ہے- وسائل سے بڑھ کر ترجیحات ضروری تھیں اس کے لئے-
Tazeen Hasan
جزاک الله حمیرا. میں متفق ہوں کہ ریلیاں نکالنا بلا مقصد نہیں اظہار یکجہتی ضروری ہے لیکن کسی دور رس پلاننگ کے بغیر ہم دو سو سال بھی اسی جگہ کھڑے ان کے مظالم بیان کر رہے ہوں گے- اور وہ شاید ہم سے زیادہ طاقت ور ہو چکے ہونگے- برما، چین، کشمیر، فلسطین، ایک ختم نہ ہونے والی لسٹ ہے جو بڑھی چلی جا رہی ہے- تحقیق کے بغیر اگلے دو سو کیا پانچ سو سال میں بھی تبدیلی نہیں آنی اور ہماری سیکولر اور مذہبی قیادت اسے سنجیدگی سے لینے پر راضی نہیں- توجہ در اصل اس بات پر دلوائی گئی ہے- باقی مغربی تعلیم تو میں اور تم ایک ہی پیج پر ہیں- بلکہ جس سے بھی بات ہو گی وہ اسی پیج پر ہوتا ہے جس پر میں ہوں لیکن پبلکلی اسکا اقرار نہیں کیا جاتا-


Masud Javed
چشم کشا تحریر اور قابل غور سوال .... ماشاءاللہ. ..
لیکن جو طبقے اس کے مخاطب ہیں یا جن پر جواب دینے کی ذمہ داری عائد ہوتی ان کی نظر میں یہ " بغاوت" کو ہوا دینے والی تحریر ہے. .. اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر دور میں بنی نوع آدم کی بقا کے لیے جب جب کوئی
 تحقیق کا بیڑہ اٹھایا اسے باغی کہ کر اسیر زنداں یا پهانسی یا ملک/ شہر بدر کیا گیا.
جہاں تک تحقیق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی دینی طبقے کی بات ہے تو اس کے ذمہ دار دین کی غلط تشریح کرتے ہوئے دین کو دینی اور دنیاوی خانوں میں بانٹنا ہے. جب تک دین کی اس خانہ بندی کا انہدام نہیں ہوتا مسلمانانِ عالم کبهی بهی کسی طرح کی تحقیق اور ایجاد نہیں کر سکتے.
ہماری روز کی 24×360 ×life دین ہے اور جب ایسا ہے تو دین کو محض چند عبادات نماز روزے زکوٰۃ اور حج میں قید کرنا کہاں تک درست ہے.؟ ہمارا اٹهنا بیٹهنا کهانا پینا اپنی ذات اور اہل و عیال کی صحیح پرورش اور تربیت والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اقربا کے ساتھ صلہ رحمی پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی جس میں صرف یہ نہیں کہ ان کئ ساتھ بد تمیزی نہ کی جائے ان کے گھر کی طرف کوڑے نہ ڈالے جائیں بلکہ یہ بهی ہے کہ کوئی نیا پهل لائیں کوئی نیا پکوان بنائیں تو اس میں سے تهوڑا ان پڑوسیوں کے یہاں بهی بھیج دیں. بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا اور اس کے ساتھ کھیلنا کودنا ریس لگانا دلجوئی کرنا یہ سب دین ہے بشرطیکہ کہ اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے پر ہو.
ایک طبقہ دین پر محنت کے نام سے لوگوں کو ' مسجدی ' مسلمان بنا رہا ہے. اس کے متبعین کی اکثریت ' مسجدی مسلمان' ہے. مسجد سے باہر وہ ادنی درجے کے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتی حقوق العباد میں ان کا ریکارڈ عام مسلمانوں سے بهی بدتر ہے اس لئے کہ ان کے دل و دماغ میں یہ پیوست کر دیا گیا ہے کہ شرک کے علاوہ اللہ سب معاف کر دےگا ... اس آیت کا تعلق حقوق اللہ سے ہے حقوق العباد سے نہیں یہ بتانے کے باوجود انہیں اپنے لباس اور وضع قطع کا ایسا زعم ہے کہ قرآن و احادیث کے حوالے بهی ان کے ذہن میں بیٹهے دین کی غلط تشریح کو نہیں نکال نہیں سکتے یا وہ نکالنا نہیں چاہتے.
دینی طبقہ کے علاوہ نام نہاد ' دانشور طبقہ ' کی روش بهی تحقیقی کام اور ایجادات میں بہت حد تک رکاوٹ ہے .. انہوں نے تحقیق کا مطلب قوم کو یہ باور کرایا ہے کہ دینی گروہ پر تنقید کی جائے ہر رطب و یابس کا الزام دین سے وابستہ گروہ پر ڈال دیا جائے اور اس طرح پوری ملت کو blame game میں الجها کر خود راہ فرار اختیار کیا.

فاعتبروا یا اولی الابصار ... یہ اولی الابصار کا ترجمہ تو ' دیدہ والو' ہے اس کا ترجمہ تو کہیں بهی فاعتبروا یا مولوی، نہیں ہے. آپ کہیں گے کہ قران عربی زبان میں ہے اور عربی زبان مولوی جانتا ہے ! شرم آنی چاہئے ایسی حماقت بهری بات کرنے میں. دنیا جہاں کی زبانیں فلسفے سائنس کی تهیوریز اور اپلیکیشن پڑهنے کی صلاحیت ہے مگر اللہ کا کلام پڑهنے کے اہل نہیں ہو... یہ اہلیت کی بات نہیں ہے یہ اس طبقے کی خباثت ہے کہ اس کلام خدواندی کو اہمیت نہیں دیتے.
سوال یہ ہے قران میں جگہ جگہ زمین آسمان کی خلقت اس کی نوعیت اس کی وجوہات اس کی افادیت کا ذکر کر کے چهوڑ نہیں دیا گیا بلکہ قران میں بار بار کہا جا رہا ہے کہ اس پر غور کرو .. کہیں نصیحت کے انداز میں تو کہیں چیلنج کرتے ہوئے کہیں مجرد واقعہ کی طرح تو کہیں منطقی دلائل rational اور reasoning کے ساتھ. .. لا الشمس ینبغی لها ان تدرك القمر و لا الليل سابق النهار ... (قران) سورج چاند کو نہیں پکڑ ے اور رات دن سے آگے نہ نکل جائے ہر کرہ اپنے اپنے مدار میں (اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے تحت) گردش کر رہا ہے ..... جس دن اس نظام گردش کی خلاف ورزی کسی سیارے/ کرے نے کی ایک زوردار دهماکہ ہوگا اور قیامت برپا ہو جائے گی. ہم مسلمان اس تحقیق تک پہنچنے کی بجائے اتنے پر قناعت کر کے بیٹھ گئے یا بیٹها دیئے گئے کہ " پهر ایک دن اللہ کا حکم ہوگا اور قیامت برپا ہو گی" ..

اگر اس پر اسٹیفن ہاکنگ نے ریسرچ کیا اور دنیا کے خاتمے کی وجہ بگ بینگ تهیوری کے نتیجے تک پہنچا تو ہم مسلمانوں کا کام محض اتنا رہا کہ اس کی موت پر ملحد اور مشرک کہ کر اسے گالیاں دینا.
قران کریم کسی ملت قوم یا طبقہ کی جاگیر نہیں ہے یہ پوری انسانیت کے لئے ہے تو ہمارے دانشور اسے مولویوں کے حوالے کرکے خود بری ہو گئے. اور مولوی یہ سمجهتا ہے کہ اللہ نے اس مولوی گروہ کو صرف فقہ ... جائز ناجائز حلال حرام اتنی رکعت فرض اتنی سنتیں اتنی بوافل اتنے روزے اتنی زکوٰۃ نکاح طلاق حج کے مسائل اور ایمان مجمل و مفصل سے عوام کو آگاہ کرنے پر مامور کیا ہے. تعجب اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان کے بعض ' دانشور' ٹی وی ٹاک شو اور ڈیبیٹ میں یہ طنزیہ سوال کرتے ہیں کہ ان مولویوں نے آخر پچھلے کئی سالوں میں کون سا ایجاد کیا ؟ دانشور صاحب مہنگے اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں ملک و بیرون ملک اپنے خرچ پر یا حکومت کے خرچ پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی پڑهائی آپ کریں اور تحقیق اور ایجاد نہیں کرنے کا الزام مولویوں پر ڈال دیں !
1

مسعود جاوید صاحب کے حقیقت پسندانہ تجزیہ کی میں ہمیشہ معترف رہی ہوں- انکی درج ذیل کمنٹس سے متفق ہوں- کمنٹس کی درخواست ہے-
میری اس بات پر یہودی کے ایجنٹ ہونے کا فتوہ لگ سکتا ہے کچھ لوگوں کی طرف سے مگر ہمت کرتا ہوں. میرے خیال میں تحقیق سے دوری کی وجہ وہ اندھی تقلید کا سبق ہے جو ہمیں دینی تعلیم کے ساتھ ملتا ہے. جہاں سوال کرنا حضرت کی شان میں گستاخی سمجھا جاتا ہے اور سوچ کو ادھر ہی دفن کر دیا جاتا ہے. اسی لۓ ہم باباجی سے مشورہ لے کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں کیوں کہ ایسا کرنا آسان بھی ہے اور مقبول بھی.

ذیل میں تحقیق سے دوری کیوں؟ حصہ اول پر انکا تبصرہ اور اس موضوع پر انکے خیالات:  

ات کہیں اور جا نکلی ہے۔ یہ سوال پوچھنے کا وقت، کہ ہمارے ہاں سے تحقیقی مقالے بہت کم تعداد میں، یا نہ ہونے کے برابر کیوں شائع ہوتے ہیں، تب آئے گا، جب ہم اس بات پر متفق ہو جائیں گے کہ ہماری تعلیم و تربیت بچوں میں دقتِ نظر سے مشاہدہ کرنے، تنقیدی نظر سے موازنہ کرنے اور منطقی نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت بہرحال پیدا کر رہی ہے۔ “تحقیق سے کون روک رہا ہے” کا سوال بھی تب پیدا ہو گا جب یہ واضح ہو جائے کہ تحقیق کی تحریک بچوں کے ذہنوں میں بہرحال پیدا ہو رہی ہے۔ میرا نوحہ تو یہ ہے ہماری طرز فکر، طرز تعلیم اور طرز زندگی سوال پوچھنے اور چیلنج کرنے کی حوصلہ افزائی ہی نہیں کرتی۔ جب طالبعلم کی تمام تر توجہ جواب تلاش کرنے کی بجائے جواب یاد کرنے پر مذکور ہو جائے تو اس کا کتاب سے رابطہ ہی منقطع ہوتا جاتا ہے۔ یہ شعور کی پست ترین سطح ہے اور ہم اس پر متمکن بھی ہیں اور قانع بھی۔کیا دینی حلقے اور کیا لادینی !



اگر تو آپ ایسے لوگوں سے مخاطب ہیں جو دین کو صرف وہی سمجھتے ہیں جو آپ نے بیان کیا ہے تو ٹھیک ہے۔
بفرضِ محال جو لوگ دین اور faith based تحقیق پر کام کر ہے ہیں۔ یا پھر اسلامک paradigm میں لادینیت کی research methodology کو باطل ثابت کرسکتے ہ
یں تو اُن کو آپ یہ دلائل دے کر مطمئن نا کر سکیں گی۔
مسلمانوں کی تحقیق سے دوری ، کسی بھی قسم کے علم کی کمی سے زیادہ ، سیاسی manoeuvres ہیں۔ ایمان سے نابلد تعلیم یافتہ سیکولر حکمران جس طرح خالص تحقیق پر بندھ باندھتے ہیں اُس طرح مغرب کی تقلید پر نہیں باندھتے۔
آپ کی دین کی سطحی definition خود کسی بھی پڑھے لکھے انسان کے لئے کافی دلیل نہیں اسلام /دین یا ایمان کو “صرف” کہنے کے لئے۔

اپنے آپ کو برتر سمجھنے والے مسلمانوں اور complex شدہ مسلمانوں کے narrative سے نکل کر دیکھیں ۔ بہت قابل جواہر نظر آئیں گے اصل پاکستان میں جدوجہد کرتے۔
دنیا کی طاقت میں سب سے دور رس پلاننگ ایمان ہے۔

aima Sher Fazal
آپ سے گزارش ہے کہ پلیز آپ اسلامک پیراڈائم پر کچھ ضرور پڑھیں۔ آپ کے علمی کیلیبر کا بندہ اور دنیا کی اس ethical ضرورت کو یہ کہہ کر کوڑے میں ڈالنا کہ research methodology اسلامک نہیں ہوسکتی۔ اور یہ صرف دوسری قوموں کو نیچا دکھانے کی ایک سازش ہے انتہائی بچگانہ ہے۔ حق اور انصاف کی بات کیا مخلوق خود اپنے لئے بھی کر سکتی ہے یا حق اور انصاف کا پیمانہ مخلوق طے کر سکتی ہے کہ نہیں۔ ان سب باتوں پر بہت لکھا ہے بڑے لوگوں نے۔

مہربانی فرما کر توحید اور وحی کی بنیاد پر کھڑی ہونے والی تحقیق اور ایتھیکل فریم ورک پر بھی لوگوں کو پڑھیں۔ جن کے نام پہلے لکھے تھے۔ فی الحال ہماری بحث جن موضوعات کی طرف جارہی ہے اُس کا کوئی فائدہ ہی نہیں کیونکہ جو میرا initial argument ہے آپ کو اُس کی یا تو سمجھ نہیں یا پھر وہ آپ کے لئے valuable نہیں۔

aima Sher Fazal Critical thinking کو بھی divine revelation کے تابع کرنا ہی پڑتا۔
اس کے بھی دلائل اور وجوہات ہیں اور ایمان والے دلوں کی سوچ اور بغیر ایمان والے کی سوچ میں بھی فرق ہوتا ہے۔
افسوس کے ایمان والی سوچ ، critical thinking پر ہم اس لئے بات نہیں کرتے کہ ایمان کا لفظ ہی بڑا گھسا پٹا لگتا ہے ہمیں اور اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز اساطیرالاولین۔



نہیں میری بہن آپ میری بات کو وہ معنی نہ پہنائیں جو اسکا مدعا نہیں- ہاں اگر دور نبوی اور دور صحابہ یا قرون وسطیٰ سے کوئی دلیل اس رویہ کے لئے ہے تو ضرور لائیں- ایمان کو چھوڑنے کو کوئی نہیں کہہ رہا- کیا ابن سینا یا فارابی کافر ہو گئے تھے؟ یا جن مسلمانوں نے بدر کے قیدیوں سے تعلیم حاصل کی وہ؟ یا قائد اور اقبال مسلمان نہ رہے تھے؟ خود مدرسہ کے کورس میں یونانی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں تو کیا مدرسوں میں پڑھنے والے کافر ہو گئے تھے؟ یا میں ہارورڈ میں پڑھ رہی ہوں تو کیا میں کافر ہو گئی ہوں؟ یا ایڈورڈ سعید مسلمان ہو گئے تھے؟ یا یہودی؟ کسی سے سیکھنے میں کوئی برائی نہیں- اساطیرالاولین کی مثالوں سے تو میں آپکو بات سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں- میں اگر غلطی پر ہوں تو ضرور اپنی غلطی کو تسلیم کروں گی- آپکا بہت شکریہ کہ آپ کے سوالات بحث کو آگے بڑھا رہے ہیں

Saima Sher Fazal Tazeen Hasan
میں پھر کہوں گی جو کچھ آپ اخذ کررہی ہیں وہ میرا مطلب نہیں ہے اور اُس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ میں جس کو Islamic paradigm کہہ رہی ہوں۔ آپ اُس کو سمجھ نہیں رہیں ہیں۔ یہاں غلط اور صیح سے زیادہ perspective اور اپروچ کا مسئلہ ہے۔ اور اب آپ بھی
 مغربی تہزیب یافتہ فرد کی طرح ایسی بے فائدہ بات کو۔ جانیں دیں کہ میرا perspective ہی آپ پر واضح نہیں تو اختلاف کیسا۔
آپ کی کسی بھی بات کو کوئی مطلب پہنانے کی کوشش دانستہ نہیں کی۔ جو سمجھ آئی اُسی سے اختلاف کیا۔
میری کمی سمجھ کر اس بحث کو چھوڑ دیں اور اگر دل کرے تو اسلامک پیراڈائم پر ضرور۔ کچھ پڑھئے گا۔


میں اس قوم اور امّت کے مجموعی narrative کی بات کر رہی ہوں، تحقیق کی اہمیت ہمارے primary narrative میں ہونی چاہیے جو صدیوں سے نہیں- اسکے بجائے صرف غیر قوموں پر سب و شتم ہے جسکا کوئی فائدہ نہیں- وہ مسلسل طاقت حاصل کر رہی ہیں- جی ہاں اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت، دوسری قوموں کو (سب سے زیادہ ہمیں) دبانے کی طاقت اور ہم صرف انھیں برا بھلا کہہ کر اپنی جلن کی تسکین کر رہے ہیں-


بہن آپ بہت اچھے سوالات کر رہی ہیں جو سوچنے پر آمادہ کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے مصروفیت کے باوجود میں کام چھوڑ کر انکے جوابات دے رہی ہوں- اگر جواب میں دیرہو سکتی ہے لیکن میں انشاللہ تمام سوالات کے جواب دینے کی کوشش کروں گی- جہاں اپنی غلطی محسوس ہوئی وہاں اپنی رائے سے رجوع بھی کروں گی-

سر دست اتنا کہ ریسرچ methodology مشرقی یا مغربی، اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتی اس کی بنیاد تو قران میں مذکور اصول " انصاف کی بات" کرنے پر ہے- اگر کوئی ریسرچر انفرادی طور پر بد دیانت ہے یا کسی اسپانسر کرنے والے ادارے کا ایجنڈا لے کر چل رہا ہے، جو یقیناً ہوتے ہیں اور خصوصاً جہاں دوسری قوموں کو برا ثابت کرنا ہو تو اسکا تعلق ریسرچ متھوڈولوجی سے نہیں بد دیانتی سے ہے کہ آپ بیلنس اور دوسرے اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں- مثلاً ایک چھوٹی سی مثال لے لیں: میں ایک آرٹیکل پاکستن میں موجود جنسی ہراسانی پر لکھ رہی ہوں- یہ کوئی اکیڈمک لیول کی ریسرچ نہیں، جرنلسٹک ریسرچ ہے- اگر میں پاکستان کو اچھا دکھانے کے لئے محض مثبت واقعات کی بات کرنے والوں کی رائے لیکر یہ ثابت کرنا چاہوں کہ پاکستان میں تو گھروں میں اور باہر نکلنے والی بچیوں کی بہت عزت کی جاتی ہے- تو میں ایسا کر سکتی ہوں لیکن اس سے اس مسئلے کے حل کی سمت جس بحث کا آغاز ہونا چاہئے اس مقصد سے میں دیانتدار نہیں-

ایک اور چیز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں "می ٹو" اور "دہلی کے ریپ کیپیٹل آف دی ورلڈ" ہونے کو اپنی گفتگو کا موضوع بنوں اور پاکستان کے مقابلے میں ان ممالک میں جنسی ہراسانی کو اجاگر کر کہ لوگوں سے داد سمیٹوں- لیکن پھر بھی میں پاکستان میں اس مسئلے کے حل کے لئے دیانت دار نہیں- دوسری قوموں کو برا کہنے کا رحجان وہاں بھی موجود رہا ہے اور (انکی فلم انڈسٹری کے اس رحجان پر میرا ایک تفصیلی مضمون تین سال پہلے ایکسپرسس میں شائع ہوا ہے جو دلیل کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے) لیکن اس میں قصور میرا اپنا ہو گا ریسرچ متھوڈولوجی کا نہیں اور اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا نہ ریسرچ کے مقصد پورے ہونگے -

جہاں تک ایڈورڈ سعید اور دوسرے دانشوروں کی مغرب پر تنقید ہے تو مغربی نظام تعلیم میں شروع سے اپنے ذہن سے سوچنا، تنقید کرنا سکھایا جاتا ہے- اور اسی لئے یہ لوگ خود کھل کر خود اپنے ملک نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں- لیکن یہ بھی انکی مغربی تعلیم ہی نے انہیں سکھایا ہے-

کینیڈا میں میری بیٹی کی آٹھویں کلاس کی سوشل اسٹڈیز کے کورس میں مغربی میڈیا پر تنقید پر تفصیلی سیکشن موجود ہے- جو بچوں کو یہاں تک بتا رہا ہے کہ فلاں قدرتی disaster کے لئے اتنی فنڈنگ ہوئی کیونکہ میڈیا نے اسے ہائی لائٹ کیا جبکہ فلاں جگہ لوگ بھوکے مرتے رہے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا-

یہ وہ مغربی نظام تعلیم ہے جس سے ہمیں سیکھنا ہو گا- جو تقلید اور عقیدت کے بجائے سوچنا اور ہر اشو کو تنقیدی نظر سے دیکھنا سکھاتا ہے- جبکہ ہمارے ہاں دینی اور دنیاوی دونوں طرز کے اداروں میں عقیدت اتنی ٹھوس دی جاتی ہے کہ اس سے آگے ہماری نظر ہی نہیں جاتی- دینی ادارے ہر مسئلے کو مغرب، میڈیا، کارپوریٹ میڈیا کے سر منڈھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں- میں دینی طبقات کی بات اس لئے زیادہ کرتی کہ میرا خود تعلق دینی طبقے سے رہا ہے اور الحمدلللہ ہے -

مغرب سے سیکھنے سے مرد اندھی تقلید نہیں ہے- میں نے مشرق وسطیٰ میں اپنے قیام میں ہوم اسکولنگ کے دوران انڈیا کا سی بی ایس سلیبس (مجبوری میں) فولو کیا- اس موضوع پر میرے کچھ مضامین ایکسپریس کے پروفائل پر میں موجود ہیں- انھوں نے مغرب سے سیکھ کر اس کی اندھی تقلید یا مخالفت کے بجائے اپنے نظام تعلیم کو بتدریج اپنی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا ہے- کسی احساس برتری یا کمتری کے بغیر- ہمارے ہاں یہ دونوں جذبے رہے ہیں- ہمارے دینی طبقات بھی مغربی تعلیم کی مخالفت کرنے کے باوجود بھی اپنے بچوں کے لئے اسی مغربی تعلیم کا انتخاب کرتے ہیں- میں نام لینا نہیں چاہتی آپ خود اپنے ارد گرد نظر گھما کر دیکھ لیں- دینی تنظیموں کے ترجمان اخبار مغربی تعلیمات پر سب و شتم سے بھرے پڑے ہیں- لیکن لیڈران اپنے بچوں کو حسب استطاعت مغربی تعلیم (چاہے فارن یونیورسٹیز میں یا اے اور او لیول اسکولوں میں) ہی دلوا رہے ہیں- اس میں کوئی خرابی نہیں مگر کم از کم ترجمان رسالوں سے مغربی 




اس وقت میں عرفان مرزا صاحب کے کمنٹس کو پوسٹ کی صورت مزید تبصروں کے لئے شیئر کر رہی ہوں. انہوں نے مختصراً تحقیق میں رکاوٹ اس پہلو کو بہت مختصر سے تبصرے میں شئیر کیا ہے- میں اہل علم سے گزارش کروں گی کہ
ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم الوہی علم کی کسوٹی پر ان علوم کو پرکھنے
پر بضد ہیں جنھیں دین نے سرے سے اپنا موضوع ہی نہیں بنایا۔ اور ایسا کرنے کی کوشش میں روایت اور تاریخ کی کشید کو بھی اس معیار کا حصہ مقرر کر لیا جاتا ہے۔ پھر اس عمل میں ہم انسانی تخیل کی حدود
 طے کرتے ہیں، مشاہدے پر اعتراض اٹھاتے ہیں اور ان سے اخذ کردہ منطقی نتائج پر فتوی صادر کر دیتے ہیں۔ کم عمر ذہن اسی کو عین اسلام سمجھتے ہوئے اپنے پلے سے کس کر باندھ لیتا ہے اور پھر تمام عمر “ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر” کی کیفیت میں گذار دیتا ہے۔ اس تہذیبی، معاشرتی اور تعلیمی پس منظر میں تخلیقی اور تحقیقی سرگرمی نہیں پنپ سکتی۔ ایسی آواز بلند کرنے والوں کے لیے سیکولر، لبرل، آزاد خیال اور جانے کیسے کیسے لیبل دستیاب ہیں جنھیں حسب توفیق اور “بذریعہ چسپاندگی” منہ بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ نکتہ نظر، جو میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں، یہ تقاضہ ضرور کرتا ہے کہ اسے بیک جنبش قلم رد کرنے سے پہلے اس پر تنقیدی بحث کا اہتمام کیا جائے۔ اور کچھ نہ سہی، چند مشکل مقامات سے گذرنے میں ہی شائد کچھ آسانی پیدا ہو جائ







مجھے خوشی ہے کہ کم از کم وقتی طور پر ہی سہی مغربی تعلیم کے حوالے سے لوگوں کا بیانیہ تبدیل ہوا - انشاللہ اس ٹوٹی پھوٹی کوشش سے حقیقی معنوں میں بھی بیانیہ تبدیل ہو گا- لوگوں میں اس بات کی ہمت آئے گی کہ وہ مدافعانہ طرز عمل کے بجائی کھل کر مغربی تعلیم کی افادیت کا اقرار کریں گے-

پھر وضاحت کر دوں

صائمہ 
تحقیق سے دوری کیوں؟
تزئین حسن 
تحقیق کے موضوع پر پوسٹس پر سب سے مربوط تجزیہ ایاز اصلاحی صاحب کے کمنٹ میں ہے- عرفان صاحب نے بھی بہت جاندار تبصرے  کئے - جاوید مسعود صاب کی بھی شکر گزار ہوں گو انہیں پتہ نہیں کیوں بار بار میری وضاحت کے باوجود میرے بیانیہ سے یہ غلط فہمی ہوئی کہ میں صرف دینی طبقات کو تحقیق سے لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہوں- مجھے مدرسہ کلچر کے حوالے سے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے. دوبارہ وضاحت کر دوں کہ میری اورجنل پوسٹ میں پچھلی چار صدیوں سے امت مسلمہ میں  مذہبی، سیکولر، حکومت، سول سوسائٹی ، عوام سب میں مجموعی طور پر تحقیق کی ضرورت سے لاعلمی پر تھی- دوسری پوسٹ ایک خاتون کے کمنٹ کے جواب میں تھی جنکا کہنا تھا کہ موجودہ ریسرچ متھوڈولوجی کے paradigms فیتھ بیسڈ نہیں اس لئے ہمیں وہ ڈیولپ کرنے چاہیے- اس سے کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ یہ مدرسہ کے خلاف ہے- میں وضاحت کر دوں کہ بہ حیثیت امت اس مہلک غلطی میں امت کے تمام طبقات شریک رہے ہیں- لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی اسلامسٹ طبقات میں یہ narrative یعنی بیانیہ بہت طاقت ور ہے کہ ہمیں مغرب سے سیکھنے کی ضرورت نہیں - اور یہ میرا روز کا تجربہ ہے  کہ دینی لوگ جو خود یا اپنے بچوں کو مغرب پڑھنے بھیجتے وہ اس پر مدافعانہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں- 
میرا یہ کہنا ہے کہ جب ہم عروج پر تھے تو مغرب نے ہم سے سیکھا، ہم نے خود یونان، فارس، ہندوستان سے سیکھا اور ان علوم میں اپنا حصہ ڈال کر انہیں مغرب تک منتقل کیا جس کا اعتراف بھی مغرب کے علمی حلقوں میں کھلے دل سے کیا جاتا ہے- مغربی محقیقین اب اس بات پر متفق ہیں کہ  مغرب کی نشاط ثانیہ کے تین بنیادی عوامل میں سے ایک اسپین میں مسلمانوں کا سات سو سالہ دور اقتدار،  دو صلیبی جنگوں کے دوران مسلمانوں سے روابط اور تین مسلمانوں کے قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یونانی علماء کی کتابوں کا وہاں کے مذھبی طبقات کے ساتھ اٹلی پہنچ جانا بتاتے ہیں-   آج کی مغربی تھذیب اسی ورثے پر کھڑی ہے- میری ذاتی رائے میں فرانس کا انسانی حقوق کا ڈکلریشن ہو، امریکی آئین میں مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق ہوں، ہو، خواتین کے حقوق کی تحریک ہو اس پر چودہ صدیوں پیشتر کے انسانی انقلاب کے اثرات بہت واضح محسوس کے جا سکتے ہیں- فرق صرف یہ ہے کہ مغرب آزادی اظہار، احتساب، مشاورت سے فیصلے، قانون کی حکمرانی کے جمہوریت کے جن اصولوں تک تجربات کر کر کہ آج  پہنچا وہ ہمیں الہامی ہدایت کے ذریعے چودہ صدیوں پہلے دے دئیے گئے تھے- کائنات کے رازوں کی تسخیر جو اس نے پندرھویں صدی کے آخر میں شروع کی ہمیں ہماری کتاب نے ساتویں صدی عیسوی میں بار بار غور و فکر کی آیات کے ذریعے اسکی طرف توجہ دلائی- دنیا کی تسخیر کے لئے سفر جو مغرب نے پندرھویں صدی میں شروع کیا، قران کریم تیرا مرتبہ "سیرو فی الارض" کی یاد دہانی سے ہمیں اس طرف متوجہ کرتا ہے- یہ دوسری بات کے مغرب نے جن رازوں کو ہم سے سیکھ کر یا خود جانفشانی سے تجربات کر کہ پا یا وہ  ہم نہ صرف اسے بھول گئے بلکہ اپنے رویہ پر نظر ثانی بھی  راضی نہیں اور اسی لئے پچھلی چار صدیوں سے ہمارے ہاں تحقیق کی کوئی روایت موجود نہیں- اقبال کے جانے کے ٨٠ سال بعد بھی ہم وہیں کھرے ہیں- کیونکہ ہم اس حقیقت کے ادراک کی ضرورت اب بھی محسوس نہیں کرتے کہ ریسرچ بقا کے لئے لازم ہے- یہ کم از کم میری رائے ہے- میری یہ بھی رائے ہے کہ ہم اپنے زبانی بیانیہ میں اسکا اعتراف نہیں چاہتے کہ ہمیں مغرب سے سیکھنے کی ضرورت ہے- کل کچھ لوگوں نے کھلے دل سے اس بات کی اهمیت کو تسلیم کیا کہ وہ مغربی تعلیم کے خلاف نہیں- 
علم  پر کسی کی اجرا داری نہیں ہوتی- جہاں تک اس غلط فہمی کا تعلق ہے کہ ہم مغرب ہی کے تعلیمی نظام پر چل رہے ہیں، میری رائے میں مدرسہ ہو یا اسکول ہم صرف تقلید اور رٹے کی راہ پر چل رہے ہیں جہاں سوال پوچھنا اور تنقید منع ہے اور جن لوگوں کو مغربی ملکوں میں تعلیم کا موقعہ ملا وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں رائج یہ نظام  قطعاً مغربی نظام تعلیم نہیں- جاوید مسعود صاحب نے ایک تبصرے میں مغربی نظام کی بڑی اچھی تعریف کی- 
ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ تقلید مشرق مغرب مذہبی سیکولر کسی انسانی بیانیہ کی نہیں ہونی چاہیے-  ہمارے ساتھ اپنا سفر شروع کرنے والے انڈیا اور چین دونوں نے مغرب سے سیکھنے میں کوئی احساس کمتری محسوس نہیں کیا لیکن اپنے نظام تعلیم کو جدید بنیادوں پر استوار کیا- انکے ہزاروں نہیں لاکھوں طلبہ پچھلے ستر سال میں مغرب کی یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہوئے جو آج مغرب میں بھی اور اپنے ملکوں میں بھی علمی، تحقیقی، کاروباری پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں- انڈیا اور چین کی ترقی میں ان طلبہ کا بہت حصہ ہے جس پر مغرب خود نازاں ہے- یہ بھی یاد رہے کہ یہ ممالک خود بھی اپنی ماضی کی شاندار تہذیبوں پر نازاں تھے لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ مغرب سے سیکھے بغیر آگے بڑھنا اور تاریخ کے اس دوراہے پر ترقی ممکن نہیں- ایک وقت تھا ان دونوں ملکوں نے بھی دنیا کو بہت کچھ سکھایا، آج دوبارہ وہ اس مقام پر آ گئی ہیں-  جبکہ ہم ایک کنفیوژن کا شکار رہے ہیں جو ہمارے  احساس کمتری اور برتری دونوں کا آئینہ دار ہے-   
علمی کام ہمیشہ ایک تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں، پہیہ کو ہر مرتبہ دوبارہ ایجاد نہیں کیا جاتا- نہ پہیہ مسلمان، ہندو یا سیکولر ہوتا- ہان انسانی جذبات اور عقائد ایک حد تک ہماری تحقیق اور سوچ پر اثر انداز ہوتے وہ فطری ہے- بیلنس کی حتی الامکان کوشش ریسرچ متھودولوجی کے اصولوں میں سے ہے اور ہمیں تو قران شروع سے دوسری قوموں کے معاملے میں انصاف کی بات کرنے کا حکم دیتا ہے جو مروجہ ریسرچ متھوڈولوجی کے بنیادی اصولوں میں سے ہے-      
آج جو عروج پر ہیں چاہے وہ مغرب ہو یا انڈیا اور چین ہمیں کھلے دل سے انکے علمی کام کا فائدہ اٹھانا چاہیے. اسکا ہمارے عقائد سے کوئی تعلق نہیں- جب اقبال اور قائد مغربی تعلیم حاصل کر کہ مسلمانوں کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں تو آج کے نوجوان سے ہم اتنا مایوس کیوں ہیں؟ ایک اور اہم امر یہ کہ مغربی تعلیم کے معاملے میں ہمارے قول اور فعل میں بہت تضاد پایا جاتا ہے جسکا ذکر ایاز اصلاحی صاحب نے کیا- ہم میں سے ہر فرد اسے حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن قولی طور پر اسکا اعتراف نہیں کیا جاتا- کم و بیش یہی بیانیہ پاکستان کے اسلامیستوں کا ہے جو میں کم از کم تین دہایوں سے دیکھ رہی ہوں- وقت گزرنے پر یہ بیانیہ کمزور نہیں ہوا اور طاقت ور ہو گیا ہے- تفصیلی پوسٹ انشاللہ آئندہ 
تلمیذ برنی اور 
واضح کر دوں 

لیکن میں سچ کے لئے اپنے آپ کو جھوٹا کہلوانے  کے لئے بھی راضی  ہوںکہ ایسے وقت بھی آتے ہیں حق پرستی میں- جو لوگ دلیل سے بات کرنا چاہیں وہ خوش آمدید لیکن ذاتی حملہ کرنے والوں کو بلاک کر دیا جائے گا- 

معنوں 

جزاک الله آپ کے تفصیلی کمنٹس کا- آپکی بات بلکل صحیح کہ ایمان اور عقائد پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے لیکن  یہ خوف بھی مجھے بے معنی محسوس ہوتا ہے- کم از کم اقبال قائد مولانا محمد علی جوہر کے علاوہ پچھلی دو دہایوں سے مغرب منتقل ہونے والوں نے اس عملاً بہت حد تک  غلط ثابت کیا ہے -  ویسے یہ ایک لمبی بحث ہے- مجھے سب سے زیادہ تکلف اس منافقانہ رویہ سے ہوتی ہے جو تقلید اور احساس کمتری اور احساس برتری  کے بعد ، تحقیق سے دوری کا ایک اور اہم سبب ہے کہ ہم verbally اس کی مخالفت کرتے آئے ہیں لیکن خود اسکے لئے سب سے زیادہ بے تاب رہتے ہیں- سائنسی شعبوں سے بہت زیادہ ہمیں سوشل سائنسز میں سیکھنے کی ضرورت ہے- اور مجھے پوری امید ہے کہ جب مسلمان طالب علم یہاں سے سیکھنے گے تو اپنے ممالک میں ان علوم کی ترسیل کا ذریعہ بنیں گے-   


بہت اچھے سوالات ہیں سوچنے کی دعوت دینے والے- میں اپنے محدود علم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کروں گی- لیکن کل کے اسائنمنٹ کے بعد فورم پر موجود دوسروں کو بھی دعوت عام ہے- ابھی مختصر بات!
میری ذاتی رائے میں اور وولٹائر نامی فلاسفر کے مطابق حکومتی فیصلوں سے پہلے رائے عامّہ کی تشکیل اہم ہوتی ہے- اور یہ  کام INTELLIGENSIA یعنی دانشور رائٹرس آرٹسٹ فلم افسانہ لکھنے والے کرتے ہیں- میں نے تبدیلی کے حوالے سے اپنے مضمون میں عرض کیا تھا کہ ہماری کوششیں پچھلے تیس سال میں کچھ مخصوص اشوز پر جن میں قران سمجھ کر ترجمہ سے پڑھنے اور حجاب سر فہرست ہے  بڑے پیمانے میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں- لیکن اس کے لئے طویل ریاضت درکار اور پلاننگ درکار ہےجو کی گئی ہے-  گو انکا اعتراف بہت کم کیا جاتا ہے لیکن اسکے اثرات ساری دنیا کے ہندوستانی پاکستانی DIASPORA یہاں تک کہ ترکستانی مصری اور ترکی عوام میں بھی بھی محسوس ہوتے ہیں جو سید مودودی کے افکار سے متاثر ہوئے- جب رائے عامّہ بڑی تعداد میں ہموار ہو جاتی تو تبدیلی کا راستہ روکنا نا ممکن ہو جاتا-  سید مودودی کے اپنے الفاظ میں کروڑوں تک دعوت پہنچانا اور لاکھوں قربانی کے لئے تیار کارکنان اور انکیMOBILISATION اور  محنتیں- سید ہی نے اسی وقت بتا دی تھیں تبدیلی کی شرائط- لیکن سب تیاری کے کچھ کے لئے قیادت میں ویژن بہت ضروری ہے اس کا فقدان بھی بہت تکلیف دیتا- حکومت کا کردار بلکل اہم تحقیق جیسی مہنگی ایکٹیویٹی انفرادی وسائل سے بہت مشکل لیکن اگر ایک دفعہ الم و تدریس سے متعلق افراد میں ہی سکی ضرورت کا شعور پیدا ہو جائے تو ہر یونیورسٹی کالج ہی نہیں ہر سیکنڈری اور پرائمری اسکول بھی اسکا مرکز بن سکتا- جسکی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں- سلیم منصور خالد نے بہت صحیح DIAGNOSIS کیا کہ استاد غائب ہے-   

علمی  میدان میں محنت سے جی چرانا خصوصا جن شعبوں میں مال حاصل ہونے کی توقع نہیں ہو- حکومتوں کے تحقیق کو ترجیح نہ بنانا اور اسکے لئے وسائل فراہم نہ کرنا-     
Jawaria Saeed Tazeen Hasan بالکل وہ تو ایک ضمنی مگر اہم بات تھی۔ مگر میں نے واضح طور پر عرض کیا ہے کہ اس تناظر کے علاؤہ علوم کا جتنا بھی حصہ بھی حقائق اور ان سے اخذ کیے استنباط پر مشتمل ہو اس کو حاصل کرنا فرض ہے۔ اور اس میں میں اپنی فیلڈ یعنی میڈیکل سائنس ہی کی بڑی واضح مثال سامنے رکھتی ہوں
اظہر من الشمس 
سچ بولنے میں دشواری کی وجہ 
مجھے خوشی ہے کہ کم از کم وقتی طور پر ہی سہی مغربی تعلیم کے حوالے سے لوگوں کا بیانیہ تبدیل ہوا - انشاللہ اس ٹوٹی پھوٹی کوشش سے حقیقی منوں میں بھی بیانیہ تبدیل ہو گا- لوگوں میں اس بات کی ہمت آئے گی کہ وہ مدافعانہ طرز عمل کے بجائی کھل کر مغربی تعلیم کی افادیت کا اقرار کریں گے-
سچ بولنے میں اتنی دشواری کی بڑی  وجہ لوگوں کا سچ کی گواہی دینے سے انکار ہے - میرے ارد گرد بہت سے لوگ مغربی طرز تعلیم کی مخالفت تواتر کے ساتھ کرتے رہے ہیں- لیکن کل جب مسعود جاوید صاحب نے سورج کو چراغ دکھانے جیسی حقیقت کا ثبوت مانگا تو سوائے ایک دو کہ سب پیچھے ہٹ گئے- کچھ کا کہنا تھا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں مشرقی تعلیم اور مغربی تعلیم کا فرق- تعلیم تو تعلیم ہوتی ہے- باز نے اس وقت وال پر موجود بحث سے صرف نظر کیا کیوں کہ مغربی ممالک میں تعلیم کے حوالے سے جن چند لوگوں کی مثالیں میں نے سپورٹنگ evidence یعنی شواہد کے طور پر دی تھیں ان میں میرے علاوہ ایک روشن خیال مذہبی جماعت کی لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ قائد اور اقبال کے نام بھی شامل تھے جنھیں رد کرنا ظاہر ہے مشکل تھا-      

مجھے اس سے اختلاف تھا جسکا دور نبوی، صحابہ اور قرون وسطیٰ میں مسلمانوں اور خود قائد اور اقبال کے طرز عمل کو دلیل بنا کر میں نے جواب دیا- میرا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر میری رائے غلط ثابت ہوئی تو میں انشاللہ رجوع کروں گی- 
ایک بات کی اور وزہر کر دوں کہ مغربی تعلیم کی مخالفت اس وقت بھی ہماری وال کے مختلف حصوں میں ہو رہی ہے ہے- استثنیٰ موجود ہیں لیکن بیانیہ اتنا غالب ہے کہ دلیل کے باوجود کھل کر اسکو رد کرنا میرے جیسے رائیٹر کے لئے بھی مشکل ہے- اسکی ایک وجہ ذاتی حملے بھی ہیں-
جو لوگ دلیل سے بات کرنا چاہیں وہ خوش آمدید لیکن ذاتی حملہ کرنے والوں کو بلاک کر دیا جائے گا- 
جس سے بحث کا رخ بدلہ 
حصہ دوئم 

گزشتہ سے پیوستہ 
ایاز اصلاحی: 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...