جمعہ، 7 مئی، 2021

Uighur updated in next post trash



مسئلہ
حقیقت کیسےپہچانیں ... حوالوں منیں اتنی جان ڈالو
کیا اوئیغور دہشت گرد ہیں؟
ایمنسٹی کی رپورٹ
مغربی ذرائع ابلاغ، انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ کا کیا رویہ ہے؟
حل کیا ہے؟







گو مغربی محقیقین نوے کی دہائی سے اس علاقے اور ایغور افراد پر تحقیقات سامنے لاتے رہے ہیں لیکن یہ ریسرچ کمیونٹی تک ہی محدود رہی ہیں- بہت عرصے تک مغربی میڈیا ایغور پر چینی استحصال کو نظر انداز کرتا رہا لیکن ٢٠١٦ کے بعد سے ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کی آوازیں بھی اب کافی بلند ہیں۔ ذیل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ١٩٩٩ کی ایک رپورٹ کے بارے میں راقم کا ایک مضمون شئیر کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہو گا کہ نوے کی دھائی میں بھی ہمارے ایغور بھائی کس تکلیف سے گزر رہے تھے-

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ (یہ رپورٹ اگر الگ کہانی کی شکل میں شائع ہو سکے تو اچھا ہے ورنہ ایسے ہی ٹھیک ہے)

کل رات دیر تک سنکیانگ یعنی مشرقی ترکستان کے ایغور مسلمانوں کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سن 1999 کی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ پڑھتی رہی- ظلم کی ایسی روح فرسا داستانیں ہیں کہ میرے جیسے عملیت پسند نسبتاً غیر جذباتی صحافی کا قلم انہیں بیان کرنے سے قاصر ہے- یاد رہے یہ آج کی لکھی ہوئی رپورٹ نہیں آج سے ١٩ سال پہلے مرتب کی گئی ہے اور ١٩٩٠ کی دہائی کی گرفتاریوں، مختصر یا بغیر مقدمہ سزاؤں، قید کے دوران تشدد، اور گرفتاریوں کا پس منظر انفرادی طور پر بیان کیا ہے- اسکے ساتھ ساتھ ان وجوہات اور چینی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو وہاں پچھلے ستر سال سے شدید بیچینی کا سبب بن رہی ہیں- مذہبی پابندیوں کے علاوہ معاشی طور پر بھی سنکیانگ کے ترک نسل کے باشندوں پر ایسی پابندیاں ہیں جو ترکستان میں رہنے والی چینی نسل کی قوموں پر نہیں جسکی وجہ سے اوغیر چین کی پسماندہ ترین قوم بن کر رہ گئی ہے- جہاں تک چین کے اس الزام کا تعلق ہے اور جسے مغربی پریس بھی دہراتا رہا ہے کہ سنکیانگ کے مسلمان باشندے دہشت گردی میں ملوث ہیں تو ایمنسٹی کی اس تفصیلی رپورٹ سے اور جو کتابیں اور ریسرچ پیپرز اس وقت میرے زیر مطالعہ ہیں، انکے مطابق علیحدگی کے جذبات ترکستان کے مسلم باشندوں میں شروع سے موجود رہے ہیں- بلکہ موجودہ کمیونسٹ حکومت کے قبضے سے بہت پہلےسے جب چنگ سلطنت نے اٹھارویں صدی میں اس علاقے پر قبضہ کیا- غیر جانبدار مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ چین کی ظالمانہ نو آبادیاتی یعنی کولونیل پالیسیوں اور خصوصا ً مذہبی پابندیوں کے با عث وقت گزرنے کے ساتھ یہ جذبات مسلسل بڑھتے ہی رہے ہیں- لیکن اسکے باوجود محقیقین کا کہنا ہے کہ چین کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں جہاں خود چینی نسل کے لوگوں نے احتجاج کے دوران تشدد کا راستہ اختیار کیا، چین کا رویہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے ساتھ بہت سخت ہوتا ہے- دوسرے علاقوں میں مظاہرین کی پر تشدد کا روائیوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ متعدد مواقع پر سنکیانگ میں پر امن احتجاج کو بھی پولیس تشدد کر کہ مظاہرین کو بھی جوابی کاروائی پر مجبور کر دیتی ہے- اور اسکی وجہ یہ ہے کہ صوبے میں بڑی تعداد میں تیل اور گیس کے ذخائر اور یورپ اور ایشیا کے سنگم پراسکی اسٹرٹیجک جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ صوبہ چین کے لئے بہت اہم ہے اور چین مسلسل مسلم اکثریت جو اب اقلیت میں بدلنے والی ہے، خوف زدہ ہے-


محققین نے اس بات پر بھی بحث کی ہے کہ چینی حکومت تاریخ کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سرکاری سرپرستی میں جو تاریخ مرتب کی جا رہی ہے اسکے مطابق یہ صوبہ قبل مسیح سے چین کی ملکیت رہا ہے- کیمبرج اور دوسرے مغربی اشاعتی اداروں پر چین کا سنسرشپ دباؤ کی خبریں اب سامنے آ چکی ہیں- کیمبرج نے چین کے دباؤ کو قبول بھی کر لیا ہے اور چین کے بارے میں ٣٠٠ آرٹیکلز کو اپنے تحقیقی مجلہ سے نکال دیا گیا ہے یا چین کے قاریوں کے لئے بلاک کر دیا ہے جس پر اسے سب و شتم کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے- چین کا یہ خوف کہ جو کچھ وہ یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے وہ دنیا کو معلوم نہ ہو حکومت کو سنسر شپ کے حوالے سے عجیب و غریب اقدامات کرنے پر مجبور کر تا رہا ہے مثلاً بیروں ملک حکومتوں پر دباؤ کے وہ ایغور اور ترک نسل کے باشندوں کو واپس بھیجیں. ان میں تھائی لینڈ، مصر، کمبوڈیا اور عرب امارات کے بارے میں خبریں ہیں کہ انہوں نے ایغور مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے اور کہیں کہیں چین کو واپس بھی کیا گیا ہے- ایغور مسلمانوں سے پاسپورٹ واپس لے لئے گئے ہیں- آپکے موبائل فون پر کوئی بیرونی کونٹیکٹ ہونا آپکو قید کرنے کے لئے کافی ہے- ایغور مسلمان چین سے فرار نہیں ہو سکتے-

٢٠١٤ میں کنمنگ نامی شہر میں جو چاقو سے حملہ ہوا اور جسے دہشت گردی کی بڑی واردات بلکہ چینی نائن الیون کا نام دیا گیا اسکے بارے میں نک ہولڈ اسٹاک نامی مصنف، جس نے انگلش ٹیچر کی حیثیت سے تین سال چین اور ایک سال کاشغر میں قیام کیا، کا کہنا ہے کہ مارے گئے اور گرفتار دہشت گرد کہلانے والے سارے لوگ وہ تھے جو ایک گروپ کی صورت میں تھائی لینڈ کے راستے چین سے فرار ہونا چاہتے تھے- ان میں سے کچھ لوگ پکڑے گئے تھے- اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے گرفتاری پر موت کو ترجیح دی اور مرنے سے پہلے چند لوگوں کو مار کر دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کی- نہ تو انکے پاس چاقو کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار تھا اور نہ ہی انکا تعلق دہشت گردی کے کسی منظم نیٹورک سے تھا- گرفتاری کے بعد قید خانے میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بچنے کے لئے بہت سے لوگ خود کشی کی کوشش کرتے رہے ہیں- اسکا علاج چینی انتظامیہ نے یہ کیا ہے کہ تفتیش اور تشدد کے دوران انہیں ایک سخت دھاتی ہیلمٹ پہنایا جاتا ہے کہ وہ اپنا سر دیوار سے مار کر خود کو ختم نہ کر لیں- ایمنسٹی کے مطابق تشدد کے یہ طریقے جن کو میں بیان کرنے سے قاصر ہوں، تاریخ میں اور خود چین کے کسی دوسرے علاقے میں انکے استعمال کی کوئی مثال نہیں ملتی-






اور اب جو صورتحال ہے اس میں تو کوئی احتجاج کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ٨٠ اور ٩٠ کی دہائی میں بھی ٩٩ فیصد احتجاج چین کی معاشی پالیسیوں اور بلا جواز بغیر الزام گرفتاریوں کے خلاف ہوتے تھے اور مظاہرین کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتا- واحد ہتھیار جو دہشت گرد کہلانے والے استعمال کر سکتے ہیں وہ چاقو ہے- اس سے بہت زیادہ پر تشدد کاروایاں تبت میں ہوئیں ہیں لیکن عالمی دباؤ کی وجہ سے چین کا اب انکے ساتھ بہت بہتر رویہ ہے-

کولوریڈو یونیورسٹی کی ازابیلا اسٹائن ہاور نامی ایک محقق کا کہنا ہے کہ تبت کے مقابلے میں سنکیانگ کے مسلمانوں کو عالمی سماجی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ملی ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تبت کے مقابلے میں عالمی میڈیا میں سنکیانگ کی کوریج بہت کم ہے اور پھر نائن الیون کے بعد چین نے سنکیانگ میں بغیر وسائل غیر منظم علیحدگی کی تحریک کو اسلامی انتہا پسندوں اور القاعدہ سے جوڑا- جس پر امریکا نے بھی مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو دہشت گرد تنظیم مان لیا- جب کہ تمام غیر جانبدار محقیقین اور مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی قسم کی کوئی ملیشیا موجود نہیں جیسی کہ ہمیں کشمیر میں نظر آتی ہیں- تشدد کی کاروائیاں مظاہرین اور پر امن احتجاج پر پولیس کے رد عمل پر جوابی رد عمل کا نتیجہ ہوتی تھیں- یہی بات ایمنسٹی نے بھی ثبوتوں کے ساتھ مذکور کی ہے اور چینی اقلیتوں اور ترکستان پر تحقیق کرنے والے مصنفین جیمز ملورڈ، نک ہولڈ سٹاک ، بوونگدوں گارڈنر نے اپنی کتابوں اور مختلف تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں مذکور کی ہیں-

مجھے کچھ معاملات میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے شکایات ہیں لیکن اس رپورٹ پر ایمنسٹی کو دعائیں دینے کا دل چاہ رہا ہے- لیکن ان غیر منظم مظاہرین کے ساتھ یہاں تک کے کم عمر بچوں کے ساتھ بھی جیل میں جو کچھ ہوا وہ بیان کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی- رپورٹ کا لنک دے رہی ہوں- اگر کوئی لکھنے والا اسکے کچھ حصوں کو اردو قاری کے لئے ضبط تحریر کرنے میں تعاون کر سکے تو الله شاید ہماری دنیا اور آخرت میں ہم سے بھی آسان معاملہ کرے-

ایغور مسلمان چین سے کیوں فرار ہو رہے ہیں-
سن 2015ء میں تھائی لینڈ حکومت کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ ترکی پہنچنے کے خواہشمند، چین کے ترکی النسل100 یغور مسلمانوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود چینی حکومت کے حوالے کر دیاگیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ان افراد پر چینی حکومت کے بد ترین تشدد کا خطرہ موجود ہے۔ پھر خبر آئی کہ ایسے ہی چینی مظالم سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے کچھ یغور مسلمان تھائی لینڈ کی ایک جیل سے فرار ہو گئے ہیں اور چینی حکومت ان کی جلددوبارہ گرفتاری پر زور دے رہی ہے۔ حال ہی میں مصر سے خبر آئی کہ مصری حکومت نے قاہرہ اور اسکندریہ میں مقیم یغور طلبہ اور کچھ یغور ریستورانوں پر چھاپہ مار کر یغور مسلمانوں کو چینی حکومت کی ایما پر گرفتار کیاگیا۔ یاد رہے کہ تھائی لینڈ اور چین کی سرحد ملتی ہے اور حکومتی مظالم اور مذہبی پابندیوں سے بچنے کے لئے یغور مسلمان ایک دہائی سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سے ایک کرم فرما نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھی بڑی تعداد میں یغور مسلمان مقیم ہیں۔


چینی حکومت ان جلاوطن مسلمانوں پر علیحدگی پسندی کی تحریک چلانے کا الزام لگاتی ہے۔ دوسری طرف یغور ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے ان پر بے پناہ مذہبی پابندیاں لگا رکھی ہیں، مساجد میں آنے جانے والوں کی سخت نگرانی ہوتی ہے۔2009 سے خبریں آرہی تھیں کہ 60 سال سے کم عمر یغور مسلمانوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، مساجد میں پابندی سے جانے والے نوجوانوں کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ ہوتی تھی۔ پھر2014ء میں خبر آئی کہ نہ صرف رمضان میں روزے رکھنے پر پابندی لگادی گئی ہے بلکہ رمضان کے دوران سرکاری دفاتر میں زبردستی کھانا کھانے پر مجبورکیا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس پر ایک مذمتی قرارداد بھی پاس کی تھی، معلوم نہیںکسی مسلم ملک کو اس کی توفیق ہوئی یا نہیں۔ پھر ایک اور خبر آئی کہ سنکیانگ کے صوبے میں نقاب یا حجاب میں ملبوس خواتین پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کرسکتیں۔کاشغر شہر کے تاریخی مرکز کو جہاں تقریباً 100 فیصد مسلمان رہتے تھے، عرصہ سے مختلف بہانوں سے خالی کروایا جارہا تھا کیونکہ حکومت کو شک تھا کہ یہاں علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک موجود ہے جبکہ مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ چین کا رویہ ان مسلمانوں کو بغاوت پر مجبور کررہا ہے۔
ایک فرنچ صحافی، جس نے ایک ٹورسٹ گروپ کے ساتھ 2014ء میں سنکیانگ کا سفرکیااور ایک تفصیلی ڈاکومنٹری بنائی تھی، کے مطابق چین نے پچھلی تین چار دہائیوں میں بہت بڑی تعداد میں چینی نسل کے باشندوں کو بھاری مراعات دیکر سنکیانگ میں منتقل کیاہے۔ ان میں بڑی تعداد سابق فوجیوں کی بھی ہے۔ صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں سنکیانگ کی بہترین زمینیں اور ہتھیار دیکر ان سے یغور مسلمانوں کی نگرانی کا کام بھی لیا جا رہا ہے اور وقت پڑنے پر ان سے ملٹری سروس بھی لی جاسکتی ہے۔ چینی حکومت کے نئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سنکیانگ میں آٹھ ملین یغور جبکہ11ملین چینی نسل کے باشندے موجود ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہاں چینی نسل کے باشندوں کا اکثریت میں ہونا پچھلی سات دہائیوں سے چینی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ عملاً صوبے کا سارا انتظام چینی نسل کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے کیونکہ یغور باشندوں پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔



اپنے ارد گرد کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آگاہی دینے کا کر سکتے ہیں اور اسکے لئے ہمیں خود اس مسئلے کے بارے میں مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنی ہوگی- یہ فیس بک پیج اسی لئے بنایا گیا ہے- ہماری کوشش ہوگی کے اس پیج پر ویغور مسلمانوں کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کر سکیں- اور ان سے رابطے کی بھی کوشش کریں-

دوسرا قدم ہم یہ اٹھا سکتے ہیں کہ اپنے اپنے ملکوں کے چینی سفارت خانے اور کونسلیٹ میں فون کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں- یہ کام ای میل کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے- جو زبان آپ بولتے ہیں، سمجھتے ہیں اسی زبان میں یہ کام کیا جا سکتا ہے-

اسکے علاوہ اپنے ممالک کی وزارت خارجہ کو بھی فون کر کہ یا ای میل کر کہ اس معاملے میں چینی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں-

٢٠١٤ میں امریکی کانگریس میں چینی مسلمانوں پر رمضان کے روزوں پر پابندی کے خلاف ایک قرار داد منظور ہو چکی ہے- ہم امریکی سفارت خانے فون کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں-

اپنے ملکوں میں موجود چینی سفارت خانوں اور کونسلیٹ میں پر امن طریقے سے جمع ہو ر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے-

اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر چینی مسلمانوں سے رابطے کی کوشش کریں- میری ذاتی اطلاعات کے مطابق چین نے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے-

یاد رکھیں سب سے بڑی ذمہ داری خود باخبر ہونا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ان مسلمانوں کی حالت زار سے




آگاہی دینا ہے-








چین نے خود شام جانے کے لئے جعلی پاسپورٹ تقسیم کئیے اور سرحدوں کو نرم کیا گیا-
عبد القیوم کشغاری
صالح حدیر
ہدایت الله

ہم کیا کر سکتے ہیں؟
طویل جدو جہد ہیں لیکن مایوس ہو کر ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں-
عبد المالک مجاہد مالی مدد



اقوام متحدہ کی نسل کشی Genocide کی تعریف کے مطابق کسی قوم کو اسکے مذہب اور ثقافت پر عمل پیرا ہونے سے روکنا اسکی نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے، خصوصاً نوجوان نسل کی اس طرح برین واشنگ کہ وہ اپنی ثقافت اور مذھبی تعلیمات کو بھول جائے، ١٩٤٨ کے روم چارٹر کے مطابق نسل کشی ہے-

تزئین حسن

پہلا قدم جو ہم اٹھا سکتے ہیں وہ اس مسئلے کے بارے میں
کورنویل یونیورسٹی
صدر حکومت




تریم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...