بدھ، 5 مئی، 2021

Basic journalism class notes

 


ایک پروفیشنل صحا فی میں کیا صفات ہونی چاہییں؟

اپنے معلوماتی ذرائع: صحافی کبھی سنی سنائی باتوں پر نہیں لکھتا مگر افسوس ہوتا ہے کبھی کبھی اپنے میں سٹریمز پیپرز دیکھ کر بھی کہ کچھ صحافی 
آج کل انٹرنیٹ پر تحقیق بہت ہو رہی ہے.

2007 میں  ایک ہلال امتیاز ایوارڈ کے حامل معروف رائیٹر کا مصر کا سفرنامہ پاکستان کےسب سے مؤقر انگریزی روزنامہ میں پڑھنے کا اتفاق ہوا. کو ایک چوتھائی صفحے میں انھوں نے بلا مبالغہ ٢٥ تاریخی غلطیاں کی تھیں. یہ صاحب اخبار میں ہفتہ وار کالم لکھتے تھے. میں نے ٣٠٠ الفاظ کے ایک LettertoEditor  میں کوئی پندرہ غلطیوں کی نشاندھی کی تو اسکا جواب مجھے یہ ملا کہ یہ معلومات مصر کے کسی سیاحتی پمفلٹ سے لی گئی تھیں. کہنے کا مقصد یہ کہ غلطیاں کسی سے بھی ہو سکتی ہیں لیکن معلومات مستند ذرائع سے لینی چاہیے.

شخصی صفات: مشاہدہ تیز ہونا، تجسس، جاننے کی ہوس، چیزوں کی تہ تک پہنچنے کی ہوس، مسلسل مطالعہ کی عادت، نئی اسکلز سیکھنے کی تڑپ، ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھنے چیلنج کرنے کی عادت، معروضی جائزہ یا کریٹیکل انالیسس کی عادت چیزوں کا، خیالات و افکار کا، گفتگو کا،  

مشاہدہ
چیزوں کو محسوس کرنا مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے گہرائی میں جا کر مثلاً شادی اٹینڈ کریں تو ایک تیز مشاہدے والا صرف کھانے اور کپڑوں کی ظاہری شکل ہی نہیں دیکھ گا. ایک bigpicture بھی معاشرے کی روایتوں کی اور رویوں کی اسے نظر آئے گی. وہ روایات کے مثبت اور منفی رویوں  
    
سیکھنے کا لائف سٹائل
جی ہاں سیکھنا بھی ایک لائف سٹائل ہوتا ہے. یہ اپنانے والا بندہ مسلسل خوش رہتا ہے. زندگی کے عام مسائل تو اسے بھی پیش آتے ہیں مگر اسکی زندگی میں سیکھنے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے جس طرح ایک سیاست دان کی زندگی میں اقتدار کو ہوتی ہے اور ایک تاجر کی زندگی میں منافع کو ہوتی ہے.    

تجسس: اسٹوریز کی تلاش
پچھلے دنوں البرٹا کے ایک آرٹ آرگنائزیشن نے جو رائٹرس، فلم میکرز اور دوسرے آرٹسٹس کو انکے پروجیکٹس کے لئے فنڈ فراہم کرتی ہے جیوری کے طور پر انوائٹ کیا. ایک شاعر خاتون نے اپنے فنڈنگ پروپوزل میں روز ایڈمنٹن کی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر کہ اپنے ہم سفروں کی کہانیوں کی مدد سے نظموں کا ایک مجموعہ تیار کرنے کا پروجیکٹ پیش کیا جسے جیوری نے بہت پسند کیا. 
سچ ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران لا تعداد ایسے لوگ ملتے ہیں      

شک / چیلنج کرنے کی عادت آسانی سے چیزوں کو ان کی فیس ویلیو پر نہ لینا. سامنے جو  کچھ نظر آ رہا ہے اس کی تہہ میں جا کر پوری بات سمجھنے کی تڑپ بھی ایک صحافی کے لئے ضروری ہے.

 منتخب مطالعہ کیوں؟
منتخب مطالعہ کا مطلب یہ نہیں کہ ہم چند مخصوص مصنفین کو ہی پڑھتے رہیں. منتخب مطالعہ کا مطلب ہے جو کچھ پڑھیں اچھا پڑھیں. کلاس میں پسندیدہ پروفیشنل رائٹرس کی بات آئی تو اشفاق احمد کے علاوہ تقریباً سو فیصد نام ایک خاص جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے تھے.  سچی بات ہے مجھے یہ پسند نہیں آیا. اس لئے نہیں کے ان افراد کے کام میں کوئی کمی ہے بلکہ اس لئے کہ اگر ہم ایک مخصوص نظریات کے حامل لوگوں کے ہی مضامین پڑھتے رہیں گے تو ہمارا افق وسیع کیسے ہو گا. ہمیں دنیا کو آنکھ کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے. اگر اپنی تحریری صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تو اپنے مخالف نظریات کے لوگوں کو بھی پڑھیں، مغربی افکار کا مطالعہ بھی کریں اور اگر مین اسٹریم اخبارات میں جگہ بنانی ہے تو وہ پڑھیں جو عام لوگ پڑھتے ہیں. ان اخبارات کا مطالعہ بہت ضروری ہے جن میں آپ خود لکھنا چاہتی ہیں. جن لوگوں کو دنیا پڑھتی ہے. انہیں پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ایسا کیا ہے انکے کام میں؟ وہ کس طرح اپنی تحریروں کا آغاز کرتے ہیں؟ کیوں انکی تحریریں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں؟  طرح ہیری پوٹر، نمرہ احمد، عمیرہ احمد، ہارون رشید، جاوید چودھری، وسعت الله خان، حامد میر، اظہار الحق،  ہارون رشید اور سلیم صافی. ان سب لوگوں کے کام میں کیا خاص بات ہے؟ کیسے لوگوں کی پسند بلکہ ضرورت بن گئے ہیں.

یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ لوگ کیا پڑھنا چاہتے ہیں؟ کن چیزوں میں دلچسپی رکھتے ہیں. یہ دوسری بات ہے کہ ہمیں لوگوں کو فالو نہیں کرنا انکے خیالات تبدیل کرنے ہیں   

جرنلزم کی کلاس کے لئے جو مختصر سا فارم وہاٹسپپ پر فل کروایا گیا اس کے آخر میں شرکاء سے انکی امیدیں پوچھی گئی تھیں. جن بیس کے قریب ساتھیوں نے اسے فل کیا ان کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ہم پروفیشنلز کی طرح لکھنا چاہتے ہیں.
کچھ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی لکھنے کی صلاحیت کو نکھارنا چاہتے ہیں ، کچھ اور کا کہنا تھا کہ 

ہم انشاللہ اس کورس میں جرنلزم سے مطلق اسٹیٹ آف آرٹ سکلز ڈسکس کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنے شعبوں کے ایکسپرٹس گیسٹ اسپیکرز بھی بلائیں گے لیکن ایک بات یہ ضرور ذہن میں رہے کہ 
یہ بات بہت اچھی ہے کہ 


It all depends on our own dedication. hard work, motivation, consistency, learning, 

All of us write but is it easy to be a professional writer? Doctor / Engineer / Journalist


Do we really need to learn writing? Why?
Reading
talent ,,, aur acha likhne 
afsana .... likhte bhi he 
in born ...... khram murad / 40 years / 



life Style Change is required



لکھنے کے لئے موضوع کا انتخاب کیسے کیا جائے؟

تزئین حسن

نئے لکھنے والے اکثر یہ شکایات کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ لکھتے ہیں وہ چھپتا نہیں ہے. اپنی تحریر کو قابل اشاعت بنانے کے بہت سے پہلو ہیں مگر ایک بہت اہم پہلو موضوع کا انتخاب ہے. آئیے دیکھتے ہیں کہ موضوع کیسے چنا جائے .

اس سلسلے میں پہلا اصول یہ ہے کہ آپکے پاس کہنے کے لئے "کچھ" ہونا چاہیے اور یہ "کچھ" نیا ہونا چاہیے. اس پر ہماری گرفت ہمارے قاری سے اور ایک عام آدمی سے زیادہ ہونی چاہئے. اگر ہمیں وہی بات دہرانی ہے جو برسوں بلکہ دھائیوں سے اخبارات اور رسائل کی زینت بن رہی ہے تو شاید چند تحریکی رسائل تو ہماری تحریریں شائع کر دیں مگر ظاہر ہے ہم مینسٹریم اخبارات و رسائل تک جنھیں پاکستان کا ایک عام آدمی پڑھتا ہے اور جو بڑی تعداد میں اندروں ملک اور بیروں ملک پڑھے جاتے ہیں نہیں پہنچ پائیں گے. ہمیں اپنے قاری کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے اسکی ذہن سازی کرنا ہے. لکھاری ہونا ایک داعی سے بڑھ کر آپکو لیڈرشپ کا رول عطا کرتا ہے. 

موضوع:

اخبارات میں اشاعت کیسے ممکن ہو؟

آسان سی ترکیب؟ 

سب سے بڑھ کر جس اخبار میں لکھنا چاہتی ہیں اسے اپنی ریڈنگ لسٹ میں ضرور شامل کریں. ہر اخبار کی اپنی پالیسی ہوتی ہے کہ وہ کس طرح کے موضوعات کس زاویے سے شائع کرنا چاہتا ہے. مطالعہ کے ساتھ ساتھ غور کرتی رہیں کہ کیا یہ موضوعا ت آپکی دلچسپی کے ہیں یا آپ اس طرح کے موضوعات پر لکھ سکتی ہیں؟ 

اسائنمنٹ: ڈان اردو کا جائزہ لیں اور دس ایسے مضامین کے ٹائٹل کٹ پیسٹ کریں جو آپکی دلچسپی کے ہوں.

اسکے علاوہ اخبار کے ہر پیج کا اپنا فارمیٹ ہوتا ہے. اسکا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کس طرح کے مضامین کس پیج پر شائع ہوتے ہیں. مضمون کی اوسط الفاظ کی تعداد کتنی ہوتی ہے. یاد رکھیں اگر اپکا مضمون بہت طویل یا بہت مختصر ہے تو اسے مسترد کر دیا جائی گا. 

اپکا مضمون کمپوٹر پر کمپوزڈ ہونا چاہیے. کمپوٹر کمپوزنگ آپکو آنی چاہیے. آج کل اخبارات یہ کام نہیں کرتے. اگر کرتے بھی ہیں تو بہت سنئیر صحافیوں کے لئے. اگر شاہنواز فاروقی ایسا کرتے ہیں تو ٹھیک. میں یا آپ ایسا نہیں سوچ سکتے.
اسکے علاوہ ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال بھی آنا چاہیے.   
   
فرسودہ نہیں ہونا چاہیے 
اسے بہت وسیع نہیں ہونا چاہیے کہ اس پر کتاب لکھی جا سکے مثلاً ہمارا تعلیمی نظام بہت وسیع ہے لیکن این ٹی ایس سسٹم کے فائدے یا خرابیاں، چھوٹے بچوں پر بھاری کتابوں کا بوجھ، یا اجنبی زبان اور ہماری فکری صلاحیتیں ہم ایک مضمون میں سمیٹ سکتے ہیں.    
یہ اخبارات اور عام لوگوں یا ہمارے مخصوص قاری کی دلچسپی کا ہونا چاہیے 
کبھی کوئی اچانک واقعہ بھی لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہو جاتا ہے. ایسے موضوعات پر اخبار فوراً کچھ چھاپنا چاہتے ہیں.
مخصوص دنوں مثلاً اقبال ڈے، عورتوں کے عالمی دن وغیرہ پر بھی اگر تحریریں پہلے سے تیار ہوں تو آسانی سے چھپ جاتی ہیں لیکن اس پر بھی کچھ نیا دینے کی کوشش کریں مثلاً اقبال کی کسی نئی سوانح کا مطالعہ کریں اور اپنے قاری کے سامنے کچھ نئے پہلو لے کر آئیں انکی زندگی کے
      
اب یہ نئے موضوعات کہاں سے آئیں گے؟ ہم آگے ڈسکس کرتے ہیں.


موضوع ایسا ہونا چاہیے جس پر آپ کی گرفت ہو اور آپ اسکے بارے میں مختلف ذرائع سے ایسی معلومات حاصل کر سکیں جو دوسروں کو نہیں معلوم. ہم ذہن سازی اسی وقت کر سکتے ہیں جب لوگوں سے زیادہ جانتے ہوں. ایسے ذرائع کیا ہو سکتے ہیں یہ ہم آگے ڈسکس کریں گے. 

موضوع کی وسعت 
موضوع اتنا وسیع نہ ہو کہ اس پر کتاب لکھی جا سکے مثلاً نظام تعلیم، معیار تعلیم کے بجائے نصاب میں تبدیلی کا جائزہ، ٹیچرز کی نااہلی کس طرح ہمارے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے، مادری زبان کو نظر انداز کرنا کس طرح ایک بچے پر منفی اثر ڈالتا ہے، چھوٹے عمر کے بچوں پر اجنبی ماحول اور مشکل اسائنمنٹس کا بوجھ، ہر ذہین بچے کو محض ڈاکٹر 
انجنیئر بنانے کی کوشش 

پرانا موضوع مگر نیا زاویہ 
اسی طرح حقوق نسواں بھی بہت اہم مگر ایک طرح سے فرسودہ موضوع ہے. اس پر لکھنے کی بلکل ضرورت ہے مگر نئے زاویوں سے جن پر اب تک بات نہیں کی گئی مثلا ً پبلک ٹرانسپورٹ میں عورتوں سے بدسلوکی، راہ چلتی بچیوں کو ہراساں کیا جانا، گھروں اور خاندانوں میں بیٹی اور بیٹے میں فرق، عورتوں کو ملنے والے طعنے، عورت کا خود عورت کے خلاف مرد کا ساتھ دینا، ایک لڑکی کو بچپن سے شادی شدہ زندگی کے لئے تیار کرنا مگر لڑکوں کو ایسے ہی چھوڑ دینا. "آج کل کی مائیں یہ کرتی ہے" یا "عورتیں ڈرامہ کرتی ہیں" کہہ کر عورت کے خلاف عمومی نفرت پھیلانا. یہ موضوعات بھی نئے نہیں ہیں مگر ان پر نئے نئے زاویوں سے روشنی ڈالنے کی ادب کی مختلف اصناف کے ذریعے ضرورت ہے کہ ہم معاشرے کو ان مسائل پر سوچنے پر مجبور کر سکیں.         

ایک اور بات موضوع کے ٹائٹل سے واضح ہونا چاہیے کہ کیا لکھنا چاہ رہی ہیں. اشعار یا مصرعے کبھی کبھی بہت بر محل ہوتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں. دوسرے کثرت استعمال سے ہر چیز گھس جاتی ہے مصرعے بھی. اسکے لئے کبھی کبھی موضوع کو سامنے رکھ کر کسی شاعر کا کلام پڑھا جا سکتا ہے. اور کبھی محض کلام پڑھتے ہوۓ مصرعے اور اشعار نوٹ کیے جا سکتے ہیں مستقبل کے لئے.

اجمل    

اسٹیج شئیر کر لیا تھا 

ٹاسک: فوری طور پر تحریکی اخبارات کو چھوڑ کر جنگ، ایکسپریس، اور اس سے آگے بڑھ کر اگر ممکن ہو تو الجزیرہ اور گارڈین پڑھنا شروع کریں. انگریزی عادت نہ ہونے کی وجہ سے مشکل لگے گی تو اپنی استطاعت کے مطابق ہفتے میں ایک یا دو آرٹیکلز ہی پڑھیں مگر ڈکشنری کی مدد سے کہ کوئی لفظ بھی  


ریسرچ ضرور کریں مگر مناسب 
بعض اوقات ہم معیاری اور اچھے کام کے لیے ریسرچ کی کمی کو بہانہ بنا کر لکھنے کو مؤخر کرتے رہتے ہیں. اور انٹرنیٹ اور ڈس انفارمیشن کے دور میں ضرورت سے زیادہ تحقیق کو سمیٹنا مشکل ہو جاتا ہے. لکھنے سے پہلے اپنے ہدف کا تعین کریں اور موضوع کا خلاصہ ایک یا دو جملوں میں اپنے سامنے رکھیں. ویب پیجز کی ورق گردانی میں focused رہنا آسان کام نہیں. کبھی کبھی زیادہ ریسرچ آپ کو مقصد سے دور بھی لے جاتی ہے. بس اپنے مضمون کے سکوپ کو یاد رکھیں کہ آپ اخبار کا اداریہ لکھ رہے ہیں یا ریسرچ پیپر تاکہ ریسرچ کی مقدار کا تعین کرنا آسان ہو.




عمران خان کے اس بیان کے اچھے اور برے پہلووں پر اگلے پانچ منٹ تک لکھیں. یہ ایک طرح سے آپکی رائے ہو گی جسے سوشل میڈیا پوسٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے.

کاکس بازار میں موجود امدادی کارکن کیا روہنگیا امداد کے حوالے سے relevant source نہیں؟ 

پاکستانی امدادی تنظیموں کو بھی بنگلادیشی حکومت شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے. کاکس بازار امداد لیکر جانے والا ایک پاکستانی امدادی کارکن 
بھی 
روہنگیا کے لئے 
کب بلائیں گے اب؟


Aleem Ahmed Editor Global Science

سوال: وہ طلباءجو صحافت کے شعبے میں آنا چاہیں، انہیں آپ کیا مشورہ دیں گے؟ یہاں پر تو سفارش اور تعلق کے بغیر، صرف میرٹ کی بنیاد پر اپنے لئے جگہ بنانا بہت مشکل ہے؟
جواب: میں مانتا ہوں کہ میرٹ والوں کےلئے جگہ بنانا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہاں پر معاملہ یہ ہوتا ہے کہ صحافت کی ڈگریاں رکھنے والوں تک کی زبان سے درست طور پر واقفیت نہیں ہوتی۔ حالانکہ صحافت کا تعلق براہ راست تعلق زبان سے ہے۔ آپ دنیا کی کسی بھی زبان میں ابلاغ (کمیونی کیٹ) کریں، لیکن بہر حال اس ابلاغ کا پہلا تعلق زبان ہی سے ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص انگلش اخبار کے لئے صحافت کرنا چاہتا ہے، اس کی انگلش بھی اچھی ہونی چاہئے۔ اگر آپ کسی اردو اخبار یا چینل میں ملازمت چاہتے ہیں تو پھر اُردو جملہ، املا اور تلفظ بھی درست ہونا لازمی ہے۔ کسی بھی زبان پر عبور تب ہی حاصل ہوتا ہے جب ہم اس میں موجود علم و ادب کا سنجیدگی سے، توجہ اور دلچسپی سے مطالعہ کرتے ہیں اور اچھی مثالوں کی روشنی میں خود کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
ایک بات اور: اگر آپ میں ادبی ذوق نہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ صحافت بیکار ہے۔ صحافت اگر بات کو آگے تک پہنچانے کا ہنر ہے تو ادب اس بات کو دل میں اتارنے کا سلیقہ ہے۔ آپ صحافت سیکھ کر خبر بناسکتے ہیں۔ لیکن آپ محض صحافت سیکھ کر اپنی خبر میں جان نہیں ڈال سکتے۔ تو ادب اس چڑیا کا نام ہے جسے ہمارے ہاں صحافت میں یکسر نظر انداز کیاجاتا ہے۔
اسی طرح ترجمہ (ٹرانسلیشن) آج کی دنیا میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یعنی ”گورے“ کو وہ لوگ درکار ہیں جو مقامی زبان کی معلومات اور حقائق، اس کی اپنی زبان میں بتائیں؛ اور وہ سمجھ سکے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں، من حیث القوم، ایسے لوگ درکار ہیں جو غیر ملکی زبان سے ترجمہ کرکے ان معلومات و حقائق کو ہمارے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہمارے لوگ بھی یہ جان سکیں کہ دنیا میں اس وقت کیا معاملات چل رہے ہیں۔ دوسری تہذیبوں کے لوگ کیا کررہے ہیں؛ اور ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ترجمے پر مہارت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
صحافت میں آگے بڑھنے کےلئے تیسری اہم چیز ”اچھی یادداشت“ ہے۔
ان کے علاوہ، اگر آپ کو صرف صحافت ہی نہیں بلکہ کسی بھی میدان میں ترقی کرنی ہے، تو آپ میں تجزےئے کی صلاحیت ضرور ہونی چاہئے ورنہ آپ صرف روزنامچے کی طرح خبریں دینے والے صحافی ہی بن کر رہ جائیں گے۔ تجربہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ تجزیہ نگار کبھی نہیں بن پائیں گے۔ تو میرے خیال میں یہ چار صلاحیتیں بنیادی طور پر بہت اہمیت رکھتی ہیں۔
باقی چیزیں ٹولز یعنی اوزاروں میں آتی ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر، ٹائپنگ، کسی خاص سافٹ ویئر، کیمرے اور مائیک کا استعمال وغیرہ۔
ان صلاحیتوں اور اوزاروں کے بعد ایک اور خاص صلاحیت ہے تجزیئے کی۔ یعنی آپ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ اگر کوئی چیز وکی پیڈیا پرِ، یا پھر بی بی سی کی ویب سائٹ پر ہے تو وہ صحیح ہوگی یا غلط۔ اب سوال یہ ہے کہ بی بی سی اور وکی پیڈیا کو صحیفہ سمجھا جائے یا نہیں؟ اور اگر یہ صحیفے نہیں (یقینا یہ صحیفے ہر گز نہیں) تو آپ کو ان پر جرح کرنی آنی چاہئے۔ آج کے دور میں صحافت مذاق نہیں رہی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ پیشہ بن چکا ہے؛ اور افسوس کہ ہماری یونیورسٹیز میں صحافت سے متعلق انتہائی غیر سنجیدگی پائی جاتی ہے۔
کاکس بازار سے ایک بنگلہ امدادی کارکن: بنگلادیشی حکومت نے دو ماہ پیشتر جن عالمی امدادی تنظیموں پر پابندی لگائی انکا قصور یہ تھا کہ انہوں نے روہنگیا خواتین میں حجاب تقسیم کیے ، اور وہ مساجد اور مدرسے  تعمیر کر رہی تھیں.  
اسائنمنٹ نمبر ٢:

ڈان 
جنگ 
ایکسپریس 
نوائے وقت 
دنیا نیوز 
٩٢ نیوز 
The News
بی بی سی اردو 
Nation 
سما نیوز 

طرزِ تحریر آدمی کی شخصیت سے پھوٹتا ہے اور ماحول کے اثرات بھی ہوتے ہیںمجھ پہ اقبال سمیت بہت سے لوگوں کے اثرات ہیں. ہارون رشید 

ان میں سے کسی ایک اخبار کا انتخاب کریں اور اسکی دس بریکنگ نیوز کا مطالعہ کریں. مطالعہ کرتے وقت اسکے موضوع، اسکے عنوان یعنی سرخی، تعارفی پیرا جسے انگریزی میں lede کہا جاتا ہے پر خاص طور سے غور کریں. اگر پرنٹ اخبار ہے تو بال پائنٹ سے انڈرلائن کریں.  

پچھلے دو مہینے میں میں نے کے پی کے میں متعدد انٹرویوز ایجوکیشن سیکٹر میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کئے. جنمیں سوات، بونیر، صوابی، پشاور، یہاں تک کے فاٹا سے ملے ہوے علاقے شب قدر اور باجوڑ تک کے افراد شامل تھے. ان سب کا کہنا تھا کہ کہ پچھلی تین حکومتوں کے دور میں تعلیم کے شعبے میں بہت کام ہوا ہے. میں نے پنجاب اور سندھ کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی. تفصیلی معلومت ابھی نہیں لے سکی لیکن جن دو ایک لوگوں نے رائے دی ان سے عام تاثر یہی ہے ملا  کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی. ایسے میں اکنامسٹ کی یہ رپورٹ مجھے الہ دین کے چراغ والے جن کا کام لگ رہی ہے.  
میرا اس کالم کے مندرجات سے متفق  نہیں لیکن سوالات اچھے اٹھائے گئے ہیں (تزئین حسن)
سوشل میڈیا پوسٹ 
آپکے خیال میں ایک پروفیشنل رائیٹر میں کیا خوبیاں  ہونی چاہئیں؟  

haron 

ہارون رشید    


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...