بہنیں فروختند چہ ارزا فروختند حسا دوئم
april 19 2019
حمیرا کے 2014 ke ایڈ منٹن ٹرپ کے بعد سے کچھ قدرتی بات ایسی ہوئی کہ مجھے انکی کچھ باتیں محسوس ہونا شروع ہوئیں جو ہمارے درمیان نزاع کا با عث بنیں- یہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں اور جتاتی تھیں مگر میں نے محسوس کیا کہ انکی واضح زیادتی کا احساس دلانے پر انہوں نے نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ عتیق بھائی جان اور امی ابو کو بھی میرے خلاف استعمال کیا- اس پر میں نے انہیں سب کہ سامنے کہا کہ تم ہمارے آپس کے جھگڑے میں ان لوگوں کو نہ لاؤ-
یہ بات ہمارے درمیان شروع سے طے تھی اور شمائلہ اپی اس بات کو دہراتی بھی رہی تھیں کہ میں جب اپنے گھر منتقل ہو گی تو امی ابو کو میں اپنے ساتھ لے جاؤں گی-
یہ اگست ٢٠١٤ کی بات ہے- کہ مجھے
بیس اپریل ٢٠٢١
دو سال سے زیادہ گزر گیا لیکن آج بھی روز روتی ہوں- پچھلے سال حسن نے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنے کا مشورہ دیا تو اس سے کچھ افاقہ ہوا- کے پی ٹی ایس ڈیز مجھے مسلسل تنگ کر رہے تھے-
٢٠١٩ میں مجھے مسلسل روتے دیکھ کر بچے پریشان ہو گئے- امیمہ نے مجھے بتایا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ میری ذہنی حالت خراب ہو گئی ہے- کیرولین مجھے ہسپتال لے کر جاتی ہے جہاں مجھے ایڈمٹ کرنا پڑا- اور خود امیمہ خواب میں الله سے لڑ رہی ہے کہ میری مما کے ساتھ ایسا کیوں ہوا جبکہ وہ اپنے والدین سے اتنی محبت کرتی ہیں اور اتنا خیال رکھتی ہیں-
میں نے خود خواب میں ایک دن دیکھا کہ میں کسی بہت بڑی مال جیسی بلڈنگ میں ہوں اور اچانک مجھے امیمہ نظر آتی ہے- وہ مجھ سے کہتی ہے کہ یہاں ایک جگہ نماز سکھائی جاتی ہے یا evaluate کی جاتی ہے- میں اس سے کہتی ہوں مجھے وہاں لے چلو- راستے میں ایک دکان آتی ہے جہاں لکڑی کا کام ہو رہا- ہم اس سے ایک بورڈ مانگتے ہیں جس پر ہمیں کچھ خطاطی کرنی ہے- پتا نہیں وہ ہمیں دیتے ہیں یا نہیں لیکن امیمہ کے پاس ایک بہت بڑا کارڈ بورڈ ہے جیسا یہ اپنی آرٹ کلاس میں استعمال کرتی ہے- وہ اسکو ساتھ لے کر ہی ہی چل رہی ہے- اچانک ہم ایک کونے میں ایک دروازے کے سامنے رکتے ہیں جو خواب میں حرم مکّی ہے- اس دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک درمیانے سائز کا ہال ہے ہمارے نئے مکان والے بڑے کمرے سے کوئی دو تین گناہ بڑا- ہال کے فرش پر حرام کے باب الفتح والے حصے کی طرز پرkaale marble ke ٹائلز لگے ہوئے ہیں- لیکن جس چیز پر مجھے بہت خوش گوار حیرت ہوتی ہے وہ یہ کہ چھت ki jaga صرف لمبائی اور چوڑائی میں دو بیم ڈلے ہوئے ہیں اور آسمان صاف نظر آرہا ہے- گہرا نیلا آسمان کہیں ہلکے بادلوں کی کی اوٹ میں بہت خوبصورت محسوس ہو رہا ہے- میں سوچتی ہوں کہ حرام کے اندرونی حصوں سے تو کبھی بھی آسمان نظر نہیں آتا تھا- یہ نئی کنسٹرکشن آنکھوں کو کتنی بھلی لگے گی- اتنے میں میں دیکھتی ہوں کہ ہال کی مخالف سمت سے پھپو میاں چند لوگوں (koi chhe saatafrad) کے ساتھ میری طرف آ رہے ہیں- انہوں نے ویسی ہی اونچی قمیص ke sath شلوار کے ساتھ پہنی ہوئی ہے جیسی وہ حیدرآباد میں پہنتے تھے- انہوں نے آتے ہی مجھے گلے سے لگا لیا- دیر تک بغیر بولے میں انکے گلے سے لگی رہی- مجھے خواب میں یہ احساس ہے کہ پھپو میاں اب ہم میں نہں ہیں- پھر بھی انکی قربت سے خوف نہیں آ رہا- اچھی لگ رہی ہے-
آنکھ کھلنے کے بعد میں بہت سوچتی رہی کہ اتنا واضح خواب اور پھپو میاں کو اس میں اس قدر دیکھنا- یہ اچانک کیسے ہوا- وہ اتنے عرصے بعد کیوں میرے خواب میں آئے- شاید انکی وفات کے بعد میں نے انہیں اتنا واضح کسی خواب میں نہیں دیکھا- بلکہ مجھے یاد ہی نہیں کے کبھی دیکھا بھی یا نہیں- پھپو کو تو میں اکثر دیکھتی ہوں-
کافی دن سوچنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ کہیں وہ مجھے تسلی دینے تو نہیں آئے تھے- بچپن میں میرے ساتھ یا سارا کے ساتھ گھر میں کوئی زیادتی ہوتی تو انکا دل بہت خراب ہوتا تھا-
ایک دفعہ کھیل کے دوران سارا اور وقاص لڑائی میں سارا کی ایک انگلی میں غالباً چھوٹ لگ گئی (جیسا کے ہو جاتا ہے بچوں کے کھیل کے دوران ) تو پھپو میں mian نے خاصا غصہ کیا- لیکن اس پر بس نہیں سعودیہ واپس جانے کے بعد ابو کو خط میں لکھا کہ سارا کا بہت خیال رکھیں- میں نے خواب میں دیکھا کہ وقاص اسکو مارتا ہے- کسی کو بتائیں تو وہ یہ سمجھے کے شاید ہم میں سے کوئی انکے کان بھرتا ہے یا سارا نے ان سے کچھ کہا ہو گا- لیکن سعودیہ جا کر بھی انکے ذہن پر یہ اتنا سوار تھا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا- کونسی دنیا کے لوگ تھے یہ؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں