بدھ، 5 مئی، 2021

Trash independent story

باب  

(نو کاپی رائیٹ انفارمیشن-) 

جب نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو ہلال پاکستان کا اعزاز دیا گیا 

تزئین حسن 

 

بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ حالیہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کو آج سے کوئی بارہ سال پہلے پاکستان کے دوسرے بڑے سول اعزاز ہلال پاکستان سے نوازا گیا تھا- 


پاکستانی اخبار ڈان کے ٢٨ اکتوبر ٢٠٠٨ کی اشاعت کے مطابق  اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے دو امریکی سینیٹروں کو پاکستان کا دوسرا بڑا سول اعزاز ہلال پاکستان دینے کا اعلان کیا- 

ان میں سے ایک اس وقت کے ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیدوارجو سینیٹر بائیڈن تھے اور دوسرے ریپبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر تھے- 

یاد رہے جس وقت یہ اعلان کیا گیا، اس وقت امریکی انتخابات میں کوئی ایک ہفتہ باقی تھا اور جو بائیڈن آئندہ منتخب ہونے والے امریکی صدر ابامہ کے نائب صدارتی امیدوار تھے- 


سوال یہ ہے کہ ان امریکی سینیٹرز کی پاکستان کے لئے کیا خدمات تھیں؟ پاکستان اور امریکا کے تعلقات  اس وقت کس کشمکش سے گزر رہے تھے؟ پاکستان کی حکومت کو امریکی سینیٹرز کو یہ اعزاز دینے کی ضرورت کیوں پیش آئ؟ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں- 


واٹر گیٹ اسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے امریکی صحافی باب ووڈ ورڈ کی کتاب 'اباما وارز'  میں تفصیل سے اس وقت کے وائٹ ہاؤس کے حالات تفصیل اور باریک بینی سے بیان کرتے ہیں- یاد رہے اس کتاب کا مواد کتاب صدر اباما اور انکی انتظامیہ سے سو سے زائد انٹرویوز، ذاتی ڈائریز، میٹنگ نوٹس پرمبنی ہے-

 

باب ووڈ ورڈ ١٩٧٠ کی دھائی سے لیکر ٢٠٢٠ تک صدر رچرڈ نکسن سے لیکر ٹرمپ تک امریکی صدور پر بیس سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں- انہیں وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع تک رسائی حاصل ہے اور انہیں وائٹ ہاؤس کا کرونکلر یعنی محرر بھی کہا جاتا ہے- 


ابامہ کی انتخابی فتح کے بعد جو بائیڈن نے نائب صدارت کا حلف اٹھانے سے گیارہ روز قبل پہلے ٩ جنوری ٢٠٠٩ کو ایک اور ریپبلکن سنٹر گراہم کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا- اس دورے میں وہ آصف علی زرداری کے لئے نو منتخب صدر اباما کا پیغام لیکر آئے تھے-


اسی دورے میں پرائیویٹ بات چیت سے قبل ایوان صدر میں ایک چھوٹی سی تقریب صدر آصف زرداری نے انہیں ہلال پاکستان کا میڈل پہنایا- (تعجب کی بات یہ ہے کہ اس تقریب کو اور دورے کو پاکستانی اور امریکی میڈیا نے کوئی خاص کوریج نہیں دی- راقم کو ہلال پاکستان کے حوالے سے خبر باب ووڈ ورڈ کی ٢٠١٠ کی کتاب سے ملی جسکی تصدیق ڈان کی ٢٨ اکتوبر ٢٠٠٨ کی اشاعت سے ہوتی ہے) 

 

صدر زرداری نے اس موقعہ پر پاکستانی حکومت نے یہ اعزاز سینیٹر بائیڈن کو پاکستان کے لئے انکی مسلسل حمایت پر انکا شکریہ ادا کیا- 

لیکن کیا واقعی صدر زرداری کے ارادے اتنے سادہ تھے؟ ائے دیکھتے ہیں-


واقعات کی ترتیب اور مختلف سورسز سے اس معمے کو حل  کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت کے نائب صدر اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے پاکستان کیوں پہنچے اور پاکستانی حکومت انکی کیوں احسان مند تھی- 


فروری ٢٠٠٨ 

یہ بھی یاد رہے کہ سینیٹر بائیڈن ١٨ فروری ٢٠٠٨ کے پارلیمنٹری الیکشن میں ایک مبصر کی حیثیت سے دو اور سینیٹرز کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر چکے تھے- بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان تینوں سینیٹرز نے  الیکشن کو منصفانہ اورشفاف قراردیا تھا اور پاکستان کے لئے امریکی امداد کی توسیع کی حمایت کی تھی-


امریکی سینیٹرز کی پاکستانی الیکشن میں مبصر کی اہمیت سے جائزہ لینے پاکستان کا دورہ کرنا ایک غیر معمولی اہمیت کی بات ہے-  


جولائی ٢٠٠٨: جو بائیڈن اور رچرڈ کری نے کیری لوگر بل پیش کیا 

ڈان کی خبر مذکورہ کے مطابق بائیڈن اور لوگر نے جولائی ٢٠٠٨ میں امریکی کانگریس میں ایک بل پیش کیا تھا جسکے مطابق ٢٠١٠ سے ٢٠١٤ تک پاکستان کی سول حکومت کو معاشی ترقی کے لئے ہر سال  (سالانہ) ڈیڑھ بلین (١.٥ بلین) امریکی ڈالر کی امداد ملنی تھی- یاد رہے اگلے ایک سال تک کانگریس کی منظوری تک یہ صرف ایک بل تھا- (ایک طرح کا چارہ جس کے ذریعے پاکستانی حکمرانوں کو لالچ دے کر مطیع بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی) 


اگست ٢٠٠٨ مشرف نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا 

اگست ٢٠٠٨ میں پاکستانی صدر مشرف صدر پاکستان کی حیثیت سے اپنا عہدہ چھوڑ چکے تھے اور انکی جگہ ایوان صدر پر اب صدر زرداری کا راج تھا- ایسے میں امریکی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل صدر زرداری بائیڈن اور رچرڈ لوگر کے لئے ہلال امتیاز کا اعلان کرتے ہیں-

١٢ نومبر ٢٠٠٨ سی آئ اے ڈائریکٹر مائک ہیڈن سے زرداری اور حقانی کی ملاقات 
باب ووڈ ورڈ کے مطابقہلال پاکستان کے اعلان اور امریکی انتخابات کے ٹھیک نو دن بعد  ١٢ نومبر ٢٠٠٨ کو سی آئی ائے کے ڈائریکٹر مائک ہیڈن نے نیو یارک ستی میں پاکستانی صدر زرداری اور حسین حقانی سے سے  پاکستانی علاقوں میں دروں حملوں پر بات چیت آگے بڑھانے کے لئے ملے-  

یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی نیوز میڈیا میں ڈرون حملوں سے ہونے والی سول اموات کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں-عالمی میڈیا بھی ان حملوں میں سول اموات پر آواز اٹھانے لگا تھا- 

یاد رہے پاکستان امریکا کا اتحادی تھا اور عالمی قانون کے مطابق کسی ملک کی حدود میں اسکی آبادی پر حملہ اس ملک کی خود مختاری پر حملہ تصور کیا جاتا ہے- 

باب کے مطابق ٢٠٠٨ کے نصف اول میں چار اور جولائی میں کری لوگر بل کے پیش کے  جانے کے بعد سے، نصف آخر میں بیس دروں حملے کے جا چکے تھے- سی آئ اے کے مطابق ان ٢٤ حملوں میں الوائدہ کے سات لیڈران مارے گئی تھے- 
پیج ٢٥  

باب ووڈ ورڈ کے مطابق ہیڈن کے مطالبات کے جواب میں زرداری کا کہنا تھا: 

'Kill the seniors. Colletral damage worries you Americans. It doesnot worries me. kill Americans not me-'


٩ جنوری ٢٠٠٩ : جو بائیڈن کا دورہ پاکستان اور افغانستان  

ڈیموکریٹک پارٹی کے الیکشن جیتنے کے بعد اباما کے حلف اٹھانے سے گیارہ دن قبل بائیڈن  نے جنوری کو پاکستان کا دورہ کیا تو انہیں آصف زرداری نے اپنے ہاتھوں سے ہلال پاکستان کا میڈل پہنایا- 


یہی نہیں ١٢ جنوری ٢٠٠٩ میں پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ جو بائیڈن نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں بہت مؤثر کردار ادا کیا- 


بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ١٢ جنوری ٢٠٠٩ کی اشاعت  میں یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے یہ خبر دی گئی کہ  یہ بائیڈن ہی تھے جنہوں نے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا- 

 

بھارتی اخبار کے مطابق گیلانی اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ جو بائیڈن کو ہلال پاکستان انکی کس خدمت کے عوض دیا جا رہا ہے-


گیلانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بائیڈن 'پرو پاکستان' (پاکستان کے حمایتی ہیں) اور انہوں نے 'ہمارے لئے' بہت کچھ کیا ہے- 


یاد رہے بائیڈن کے میڈل پہنانے سے ایک ہفتہ قبل آصف زرداری نے بش دور کے اسسٹنٹ سیکررٹری آف ڈیفنس رچرڈ باؤچر کو بھی ہلال قید اعظم کے اعزاز سے نوازا تھا- یہ بھی یاد رہے کہ یہ میڈل رچرڈ باؤچر کے اس بیان کے ایک گھنٹے بعد پہنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں ڈرون گرانا بند نہیں کیے جا سکتے اور یہ کہ ڈرون حملے نا گزیر ہیں- 


اس وقت تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف آپریشن میں سو افراد ڈرون حملوں میں مارے جا چکے تھے-


پاکستانی حکومت مسلسل اس امر سے انکار کرتی رہی تھی کہ ڈرون حملے اسکی اجازت سے ہو رہی ہیں- تاہم اپوزیشن لیڈر نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کا اس وقت یہ کہنا تھا کہ ڈرون حملے پاکستانی حکومت کی اجازت سے ہو رہے ہیں- 


وزیراعظم گیلانی کا یہ کہنا تھا کہ  ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا میں قیادت کی تبدیلی سے ان حملوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی آئے گی-


بوب ووڈ ورڈ کے مطابق (صفحہ جو بائیڈن نے زرداری کو اباما کا پیغا م پہنچایا اسکا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستانی آئ ایس آئ افغان طالبان اور القائدہ کو قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے- اسکا سلسلہ بند ہونا افغانستان میں امریکی فتح کے لئے ناگزیر ہے- 

جسکے جواب میں زرداری کا کہنا تھا کہ اپاکستانی عوام امریکا مخالف جذبات میں ڈوبی ہوئی ہے اور مجھے امریکا کا پٹھو سمجھ کر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا- اس لئے امریکا مجھے معاشی امدادی پیکج دے تاکہ میں پاکستانی اوم کا دل جیت سکوں-  اس کے عوض زرداری کا کہنا تھا کہ وہ آئ ایس آئ سے ایسے عناصر کو صاف کرے گا جو افغان طالبان کی مدد کر رہے ہیں-  

زرداری سے بائیڈن نے غیر فوجی امداد کا وعدہ کیا جو اس امر سے مشروط تھا کہ زرداری اپنے حصے کا کام کرے-

 

اختتام 

ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیڈن کم از کم ٢٠٠٧ سے پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہو رہی تھے- انکا ٢٠٠٧ امری حکومت کی ایما پر مشرف کی وردی اتروانے میں اہم کردار تھا جس نے پاکستان میں جمھریات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کیا- 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بش دور کے آخر میں ہی امریکی حکومت کا پاکستانی فوج سے اعتماد ختم ہو گیا تھا- انکا یقین تھا کہ  آئ ایس آئی یا کم از کم آئی ایس آئی کے کچھ عہدے دار افغان طالبان ا مدد کر رہے ہیں- اسی لئے کیری لگر بل میں سول امداد کی سفارش کی گئی- مشرف کو پہلے وردی اترنے پر مجبور کیا گیا، پھر (پاکستان میں) الیکشن کے بعد مشرف کی جگہ آصف زرداری کو ایوان صدارت میں میں آنے کے بعد ان سے ڈرون حملوں کے حوالے سے سول حکومت کی اجازت حاصل کی گئی- (نیو یارک ستمبر ٢٠٠٨ زرداری حقانی اور سی ای ائے ڈائریکٹر مائک ہیڈن کی ملاقات) - اکتوبر ٢٠٠٨ میں  

بائیڈن کو ہلال امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا- جنوری میں بیڈن نے اسلام آباد اور کابل کا دورہ کیا-

پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لئے صدر مشرف سے وردی اتروانا اور پاکستان کی مشی ترقی کے لئے غیر فوجی امداد حکومت پاکستان کے لئے منظور کروانے کی سفارش کرنا، وہ خدمات ہیں جس پر بائیڈن کو ہلال پاکستان سے نوازا گیا- 

لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس امداد کے نتیجے میں اباما دور میں ڈرون حملوں میں شدت آ گئی اور اس سے پاکستان تحریک طالبان جسکا قیام ٢٠٠٧ میں عمل میں اے اٹھا مضبوط ہوتی چلی گئی جس سے پاکستان میں ایک خانہ جنگی کی کیفیات پیدا ہوئی- پاکستان بھر سے لا تعداد نوجوان ٹی ٹی پی کا ساتھ دینے کے نتیجے میں غیب کیے گئے جس سے فوج اور اسکے ذیلی اداروں کو نا قبل تلافی نقصان پہنچا اور آج بھی پہنچ رہا ہے-  

 

انڈین میڈیا اور پاکستان کے کچھ مبصرین بائیڈن کے سابق  تعلقات کا ذکر کر کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بائیڈن پاکستان کا دوست ہے اور یہ پاک امریکا تعلقات کے لئے اچھی خبر ہے- حقیقت یہ ہے کہ پاک- امریکا پالیسی پہلے بھی افغانستان سے گزر کر آتی تھی اور آج بھی وہ اسی ایک اشو سے وابستہ ہے- 

 

لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس امداد کے بدلے اباما دور میں قبائلی علاقوں پر درڑوں حملوں کی کھلی چھٹی دی گئی-  حملے پہلے سے جاری تھے لیکن ابامہ دور میں ان میں بہت اضافہ ہو گپاکستان میں خانہ جنگی بڑھی اور پاکستان میں سول اور ملٹری ٹارگٹس پر لا تعداد دہشت گرد حملے ہوئے- تحریک طالبان پاکستان ہر ڈرون حملے سے مضبوط ہوتی چلی گئی-  

انکے  جس سے  


ایک ایسا عمل ہے جسکی بھر حال تعریف ہونی چاہئے- لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے  



 

باب کی کتاب جو اباما کے الیکشن جیتنے سے لیکر، انکی وائٹ ہاؤس میں موجودگی کے پہلے اٹھارہ مہینوں پر مشتمل ہے- 

  اباما کو ڈائریکٹر نیشنل انٹللجینس کی طرف سے الیکشن سے دو ماہ قبل جو بریفنگ دی گئی اس میں اسے یہ بتایا گیا کہ امریکا کو اصل خطرہ افغمنستان یا عراق سے نہیں پاکستان سے ہے جہاں ایک نیولیر پاور اتحادی ڈبل کراسنگ کر رہا ہے- 

اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے بش دور کے آخر میں ہی کیری لوگر بل کے ذریعے 

 

 

The prime minister said the drone attacks were not permitted and hoped that with 

the leadership change in the US, the policy on the strikes also might change. He said Pakistan had been asking the US to stop the attacks.


Last week President Asif Ali Zardari also decorated US Assistant Secretary of State Richard Boucher with Hilal-e-Quaid-e-Azam, inviting criticism from opposition parties and social circles.

Boucher was awarded the medal only an hour after he announced that US cannot stop drone attacks in tribal areas of Pakistan and termed the strikes imperative.

At least 100 people have been killed in the drone attacks since the US launched its anti-Al-Queda operations in neighbouring Afghanistan.

The prime minister said the drone attacks were not permitted and hoped that with the leadership change in the US, the policy on the strikes also might change. He said Pakistan had been asking the US to stop the attacks.


The prime minister was replying to a question on why Biden had been given the highest Pakistan civilian award Hilal-e-Quaid-e-Azam. He said that Biden played a very effective role as chairman of the US foreign relations committee in restoring democracy in Pakistan.

He said it was due to Biden's efforts that Musharraf quit as army chief.

It was Biden who played a key role in forcing Gen Pervez Musharraf to quit as army chief and in “restoring democracy in Pakistan”.

In 2009, then Prime Minister Yusuf Raza Gilani said that Biden “played a very effective role as chairman of the US foreign relations committee in restoring democracy in Pakistan.”

He, according to media reports then, had said: it was due to Biden’s efforts that Musharraf quit as army chief.



باب ووڈ ورڈ اس تقریب کے بعد 


   دوسری طرف ٢٠٠٦  تحریک طالبان پاکستان بھی وجود میں آ چکی تھی جس نے پاک فوج اورسویلین عوام کے خلاف کئی دہشت گرد حملے کیے-  

یاد رہے امریکی صحافی باب ووڈ ورڈ کی کتاب 'اباما وارز' ٢٠٠٨ کے پہلے چھے مہینے میں 



پہلے مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کیا، پھر (پاکستان میں) الیکشن کے بعد مشرف کی جگہ آصف زرداری کے ایوان صدارت میں براجمان ہونے کے بعد ان سے ڈرون حملوں کے حوالے سے سول حکومت کی با ضابطہ اور غیر مشروط اجازت حاصل کی گئی- (نیو یارک ستمبر ٢٠٠٨ زرداری حقانی اور سی ای ائے ڈائریکٹر مائک ہیڈن کی ملاقات) فوج سے اجازت تو ٢٠٠٦ سے تھی مگر وہ مشروط تھی- اکتوبر ٢٠٠٨ میں  بائیڈن کو ہلال امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا- جنوری میں بائیڈن نے اسلام آباد اور کابل کا دورہ کیا-



   


Zardari had awarded them the `Hilal-i-Pakistan` (Crescent of Pakistan) `in recognition of their consistent support for Pakistan`, the government said in a statement.


یاد رہے بل کے مطابق یہ متوقع امداد غیر فوجی تھی اور پاکستان فوجی اداروں کے بجائے سول اداروں کو دینے کی حمایت کی گئی تھی-

Biden was a member of the three-senator delegation that came to Pakistan to observe the parliamentary elections held on February 18, 2008. In a joint statement, the senators adjudged the elections to be free and Biden called for an expanded US package for Pakistan that would shift the focus from military to economic aid.

مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ اس توسیعی امریکی امداد کا رخ فوج سے سول حکومت کی طرف ہو گا- 


Biden and Lugar in July introduced a bipartisan US aid plan which calls for $1.5 billion per year in non-military spending to support economic development in Pakistan.

دوسرے 

اعلان کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارتی امیدوار امریکی سینیٹر جو بائیڈن اور ریپبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر  




ISLAMABAD Pakistani President Asif Ali Zardari announced on Tuesday government awards for US Democratic vice presidential nominee Joe Biden and Republican Senator Richard Lugar.



Senator Biden is currently Chairman of the Senate Committee on Foreign Relations, while Senator Lugar, the previous holder of the chairmanship, is the senior-most Republican on the committee. As such, the two have a great deal of power in shaping US foreign policy.

Pakistan has figured in the US presidential election campaign, with both Democratic candidate Barack Obama and Republican John McCain speaking of the need for more focus on defeating the Taliban insurgency in Afghanistan and eradicating al Qaeda from Pakistans borderlands.

وہ صدر اباما کی پہلی صدارتی ٹرم  


امریکا کے معروف صحافی باب ووڈ ورڈ جنھیں دو مرتبہ صحافت کی دنیا کا سب سے  

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق   


سینیٹر بائیڈن امریکی حکومت کی فارن ریلیشن کمیٹی میں بھی شامل تھے- 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...