بدھ، 5 مئی، 2021

اے کشتہ ٔ سلطانی و ملائی و پیری تحقیق Research notes

تحقیق 
اے کشتہ ٔ سلطانی و ملائی و پیری 

میرا عقیدہ ہے الله ایک ہے اور محمد صلیٰ الله علیہ وسلم آخری نبی ہیں، یہ میرا ذاتی عقیدہ ہے- مسلمان ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں اس لئے میں کشمیری، اوئیغور، روہنگیا، فلسطینیوں کی تکلیف محسوس کرتی ہوں، یہ میرے ذاتی جذبات ہیں-  میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اوئیغور قوم کے ساتھ واقعی کوئی زیادتی ہوئی ہے یا یہ کوئی پروپیگنڈا ہے یہ میری جستجو کی تڑپ ہے- اسکے لئے میں غیر جانبداری سے آزادانہ تحقیق کرنا چاہتی ہوں اس چیز کو ایک طرف رکھ کر کہ انکا تعلق میری ہم مذہب قوم سے ہے- مجھ سے پہلے بہت سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں نے اس مسئلے پر آزادانہ تحقیق کی ہے-  میں انکی تحقیق سے بھی استفادہ کرتی ہوں اور سچ کی تلاش کے لئے اپنی ذاتی مساعی کو بھی انکی روشنی میں جاری رکھتی ہوں- مجھ سے پہلے تحقیق کرنے والوں نے جن کا تعلق مسلمانوں سمیت مختلف مذھب سے تھ،ا صدیوں آزادانہ تحقیقات کے اصولوں کی بتد ریج تشکیل کرتے رہے یہاں تک کہ اسے ایک علیحدہ سائنس کا درجہ حاصل ہو گیا جس میں ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری بھی دی جاتی ہے- آزادانہ تحقیق کے اصولوں پر بھی تحقیق مسلسل جاری ہے کہ کس طرح انہیں مزید بہتر سے بہتر بنایا جا سکتا ہے- مختلف اصولوں کے اچھے برے پہلو منفی مثبت کمزور طاقت ور سامنے آتے رہتے- علمی کمیونٹی ان پر کھل کر بحث کرتی- خیالات اور نظریات کی اس بحث میں مذہب کبھی زیر بحث نہیں آتا کیونکہ مختلف مذھب کی کتابوں میں سچ کو تو اصول بنایا گیا ہے اور اس پر سارے مذھب متفق ہیں لیکن اس سچ تک پہنچا کیسے جائے ہر زمانے میں اس مدے کو الگ الگ چیلنجز کا سامنا رہا ہے- ٹیکنولوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھتے گئے اور دس انفارمیشن کے ذرائع بھی- جھوٹ کو سچ ثابت  کرنے کی کوششیں بھی ہر زمانے میں موجود رہیں- لیکن ساتھ ساتھ علمی دنیا ایسے اصول بھی وضع کرنے کی کوشش کرتی رہے کہ سچ کو جھوٹ سے الگ کرنے کے لئے کیا معیار ہونے چاہئیں- ان میں سے اولین اصول جنھیں دنیا آج جانتی ہے وہ شاید موضوع اور ضعیف حدیث کو صحیح حدیث سے الگ کرنے کے اصول تھے- جس میں ریفرنس کی ایک چین zanjeer twatr کے ذریعے حدیث کی صحت کو ضروری قرار دیا گیا- جانچ جاتا تھا- کہ فلاں نے حدیث کو فلاں سے سنا اور فلاں سے فلاں نے اور فلاں نے رسول الله صلیٰ الله علیہ وسلم سے- اسی فن کو آگے بڑھانے کے لئے علمی دنیا میں اسما ارجال کا فن وجود میں آیا جس کے تحت چین میں موجود رویوں raaweeon کی زندگی پر تحقیق کی گئی کہ کون ثقہ ہے اور کون نہیں-  فلاں کی عمر فلاں کی وفات کے وقت کتنی تھی کہ وہ فلاں سے استفادہ کرنے کی عمر میں بھی تھا یا نہیں- فلاں کی ساری  زندگی کہاں گزری، اس نے فلاں جگہ کا سفر بھی کیا تھا کہ اس سے فلاں کی ملاقات ہوتی یا وہ فلاں سے حدیث سیکھ یا سن سکتا- آج کے ریسرچ پیپر بھی ان اصولوں کا استعمال کرتے- کہ کسی مخصوص موضوع پر جو کام ہم کرنے جا رہے ہیں اس پر اس سے پہلے جو کام ہو چکا ہے اسکے حوالوں کی چین دینا ضروری ہوتا ورنہ ہمارا کام مستند نہیں مانا جاتا- اگر کسی کے کام کو بغیر حوالے کے مذکور کر دیا تو یہ 


اسکے ساتھ ساتھ فقہہ کے اصول بھی ترتیب دیئے جا رہے تھے- کہ فلاں مقدمے کے فیصلے میں قران کیا کہتا ہے، آنحضرت یا خلافت راشدہ          

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...