آزادی صحافت اور ترک آڈینس
تزئین حسن
یہ مارچ یا اپریل ٢٠١٥ کی بات ہے- میں ہارورڈ جانے کی تیاری میں مصروف تھی اور لکھنے لکھانے کی سرگرمی بھی عروج پر تھی- میری چھوٹی بیٹی جونیئر ہائی اسکول سے واپسی پر میرے ساتھ لگی رہتی نے ایک دن کھانے کی میز پر مجھے بتایا کہ آپ جرنلسٹ بننے جا رہی ہیں تو ایک پروگرام کا انویٹیشن ہے- میں نے متعلقہ لنک چک کیا جو ' اظہار آزادی کی حدود" پر تھا- اس زمانے میں کارٹون، گستاخی پر مبنی خاکے اور فلم کا تذکرہ بہت عام تھا اور اسے اکثر اظہار رائے کے حق سے منسلک کر کہ اسکی توجیہہ کی جاتی تھی- ظاہر ہے یہ صورتحال ہر مسلمان کے لئے تکلیف دہ تھا- میرا خیال تھا کہ وہاں اظہار رائے کی اس حد پر بات ہو گی کہ دوسرے مذھب کے لوگوں کو دلی تکلیف دینا اظہار رائے کی آزادی نہیں- میں نے درج شدہ طریقے پر اسکی رجسٹریشن کروائی- طے شدہ دن حسن اور ابو کے ساتھ ہم پروگرام میں پہنچے جو ایک اسکول کی بلڈنگ میں تھا- وہاں بڑی تعداد میں ترک خواتین و حضرات موجود تھے-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں