ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
تزئین حسن الله
جی الحمدلللہ- یہی احساس ہوتا ہے جب معلوم ہو کہ صدر پاکستان کے ساتھ چین کا دورہ کرنے والے ہمارا تذکرہ کرتے پائے جاتے ہیں-
خصوصاً یہ معلوم ہوا تو بہت خوشی ہوئی کہ صدر پاکستان کے ساتھ چین کا سرکاری دورہ کرنے والے ایک دانشور اکثر ہمارا تذکرہ کرتے پائے جاتے ہیں. ان تذکروں میں باوثوق ذرائع سے نیچے دیئے گئے دعوے بھی موجود ہوتے ہیں-
الله کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اب میرا شمار بھی قابل ذکر اور معتبر صحافیوں میں ہونے لگا ہے- اسلام آباد کے حلقوں سے صحافی برادری کے میرے میرے کچھ خیر خواہ مجھے گاہے بگاہے بتاتے رہتے ہیں کہ بعض حلقے کینیڈا امریکا میں مقیم ایک خاتون کے بارے میں اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ امریکا سے پیسے لیکر چین کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں- آج ایک صاحب نے مجھے ایک پوسٹ پر ٹیگ کیا جس میں کچھ اس نوعیت کے کمنٹس موجود تھے- مجھے خوشی ہے کہ میری محنت رنگ لا رہی ہے- باقی بہتان تراشوں اور جھوٹوں پر ہمیشہ الله کی لعنت رہی ہے اور رہے گی- یہ حقیقت ہے کہ میں ستمبر ٢٠١٨ سے مسلسل مشرقی ترکستان جسے چین نے سنکیانگ کا نام دیا ہے کہ ایغور نسل کے بھائیوں بہنوں سے رابطے میں ہوں اور اس وقت تک ٢٠٠ کے قریب ذاتی انٹرویوز کر چکی ہوں- اس موضوع پر جتنا پرائمری ڈیٹا میرے پاس ہے، اتنا دنیا میں کسی کے پاس نہیں- لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر میں اب تک اپنا ڈیٹا پبلش کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور مجھے اپنے کام میں کچھ مشکلات اور رکاوٹیں در پیش ہیں جو یقیناً الله کی طرف سے آزمائش ہیں- پوری امید ہے کہ الله ہی ان مشکلات کو دور کرے گا-
جہاں تک ان صاحب کے الزامات کا تعلق ہے تو انکے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ اب تک میں مغربی نشریاتی اداروں میں اپنا کام شائع کرنے میں ناکام رہی ہوں- آج کی تاریخ تک ائیغور مسئلے پر میرا کوئی مضمون کسی عالمی اخبار میں نہیں شائع ہوا- یہ دنیوی ناکامی ہے اور انشاللہ الله میری محنت کو ضائع نہیں ہونے دے گا- باقی اس مسئلے پر میرے متعدد فیس بک لائیو سیشن موجود ہیں جو وسائل کی کمی کی نشندھی کرتے ہیں- لیکن میرے نزدیک الله سننے والوں کی تعداد کو نہیں ہماری کوششوں کو دیکھتا ہے- بہر حال میں عدنان طاہر صاحب اور دیگر بہتان تراش افراد کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اس لائق سمجھا- الله ہم سے اپنا کام لیتا رہے اور ہماری کوششوں کو قبول فرمائے اور ہدایت کے ساتھ سچ لکھنے کی استقامت عطا کرے - آمین-
نوٹ: پاکستان میں صحافی برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی بھائی یا بہن اس مواد کی اشاعت میں دلچسپی رکھتا ہو تو ضرور رابطہ کرے، یہ مظلومین یا مظلومین کے خاندانوں اور چشم دید گواہوں سے انٹرویوز پر مبنی ہے-
تزئین حسن
کچھ عرصے سے اسلام آباد اور پاکستان سے میرے کچھ خیر خواہ کچھ کالم وغیرہ بھیج راہ یہیں جنکے مطابق کینیڈا یا امریکا میں ایک خاتون ایغور مسئلے پر امریکا سے پیسے لیکر چین کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں