جس کو ہو جان و دل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں؟
تزئین حسن
"تزئین بس دو منٹ تم سے بات کرنی ہے- میری بات سن لو پھر فون رکھ دینا-" میں نے محسوس کیا دوست کا لہجہ غیر معمولی سنجیدہ تھا- یکم اگست ٢٠١٨ کا دن تھا- امی کے ساتھ ہاسپٹل میں چوتھا دن تھا- تین راتوں کی تھکن سے سر بھاری ہو رہا تھا- 'کہو بہن کیا ہوا ہے؟' میں نے اسکی متوقع طویل تمہید پر بند باندھنے کی کوشش میں کہا- "تزئین تم محتاط رہ کر کام کرو- میں بہت شاکڈ (صدمے میں) ہوں- رات میری ایک قریبی دوست کو اٹھا لیا گیا ہے- الف اور بے دونوں بہنیں میری قریبی دوستیں تھیں- یقین کرو پڑھی لکھی اچھے خاندان کی- چار بچوں کی ماں-ہمارے جیسے گھروں کی خواتین- الف کچھ زیادہ جذباتی تھی بولنے میں- سنا ہے اسکے گھر سے حزب التحریر کا لٹریچر نکلا، تمہیں اندازہ نہیں میں کس قدر شاک میں ہوں-" دوست نہ بھی بتاتی تو اسکے لہجے سے اسکی کیفیت عیاں تھی- وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی اور میری حفاظت کے لئے بے چین- اسکا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز کے عالمی رابطے بھی ہوتے ہیں- اسے خطرہ تھا خدانخواستہ میری صحافیانہ سرگرمیاں میرے لئے کسی خطرہ کا سبب نہ بن جائیں- اسکا کہنا تھا کہ ایسی ہر ایکٹیویٹی سے پرہیز کرو جو کسی حساس ادارے کو بری لگ سکتی ہے-
کاش کہ میرے لئے ایسا کرنا ممکن ہوتا- ہاسپٹل کے کمرے میں جو حالات تھے اس میں دوست کو یہ بتانا با لکل ممکن نہیں تھا نہیں کہ میں عرصہ دراز سے مسلسل ایک خوف میں زندگی گزار رہی ہوں اور شاید ہر با ضمیر صحافی گزارتا ہے- اردو میں لکھنا میں نے بہت بعد میں شروع کیا ہے لیکن میں اپنی صحافتی زندگی کے آغاز سے ہی امریکہ اور یورپ میں دہشت گردی کے واقعات پر انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹنگ پر سوالات اٹھاتی رہی ہوں - میڈیا کے پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ماؤتھ پیس یا آستینو گرافر بننے اور ان واقعات پر کوئی آزادانہ تحقیقات نہ ہونے پر بھی میں نے ہمیشہ سوالات اٹھائے ہیں-
مغربی کیا مشرقی مین اسٹریم میڈیا میں بھی ظاہر ہے ایسی تحریروں کے لئے جگہ نکلنا مشکل لیکن مغرب میں ایک alternate یعنی متبادل میڈیا بھی ہے جسکا دائرہ محدود لیکن وہ میرے جیسے سر پھروں کو اپنی بات کھل کر کہنے کا موقع دیتا ہے- ایسے واقعات میں پرائمری رپورٹنگ تو سی این این، فوکس نیوز اور بی بی سی یا ایسو سیٹڈ پریس جیسے بڑے میڈیا اداروں کے علاوہ کسی کے لئے کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو، فلوریڈا کے شہر اورلینڈو، فرانس کے شہر نیس، اور ٢٠١٦ میں جرمنی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر میرے بے لاگ تجزیے گوگل کر کہ دیکھ جا سکتے ہیں جن میں میں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو براہ راست لپیٹ میں لیا ہے- میرے لئے ان واقعات کی ٹوٹی پھوٹی کوریج ہی سہی، اس لئے بھی ضروری تھی کہ ایسے ہر دہشت گرد حملے کے بعد مغرب میں موجود مسلمان ہکا بکا رہ جاتا ہے اور اسکے پاس اپنے اور اپنے مذہب کی صفائی میں کہنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا اور ایک مسلمان کے طور پر بیانیہ آسان نہیں ہوتا- صحافت کا ایک بڑا مقصد ریاست کے دوسرے اداروں پر نظر رکھنا بھی ہوتا ہے لیکن مغربی دنیا کی بلین ڈالر کی میڈیا انڈسٹری دہشت گردی کے واقعات کی کوئی آزادانہ تحقیق کرتی نظر نہیں آتی، بلکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز کی بات کو حتمی قرار دے کر بار بار پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہرایا جاتا ہے جو صحافت کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے- نائن الیون کے بعد اسامہ کی تصویر بغیر کسی مقدمے اور ثبوت کے امریکی چینلز پر دکھائی جاتی رہی- نائن الیون کے بعد طالبان کی قید میں رہنے کے بعد اسلام قبول کرنے والی برطانوی صحافی ایوان رڈلے اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ افغانستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے پہلے پشاور میں اپنے قیام کے دوران انھوں نے کمبوڈیا کے ایک صحافی سے بات کرتے ہوے کہا کہ اگر امریکا نے اپنے آئین کو راتوں رات تبدیل نہیں کر دیا ہے تو ہم اسامہ کو مجرم قرار نہیں دے سکتے کیونکہ امریکی آئین اور عالمی انسانی حقوق کے کے مطابق جب تک کوئی انسان مجرم ثابت نہ ہو جائے اسے معصوم سمجھا جاتا ہے، ( Presumption of innocence) کے تحت-
ایسا ہی دوسرے دہشتگرد حملوں میں بھی ہوتا رہا ہے- سان برنارڈینو میں دو پاکستانی نژاد میاں بیوی تاشفین ملک اور فاروق ملک کی تصویر جس طرح مسلسل میڈیا پر گردش کرتی رہی اس نے مجھے پانچ دن تک چین نہیں لینے دیا- آخر کار مجھے قلم اٹھانا پڑا- مجھے مغرب کے تمام معروف اخبارات اور نیوز چینلز کی کوریج سننے میں ایک ہفتہ سے زائد لگ گیا لیکن الحمدلللہ اس معاملے کو جتنا کھولا حق واضح ہوتا گیا- ٢٠١٤ میں فرانس کے چارلی ہیبڈو سے لیکر آج تک میری کوشش ہوتی ہے کہ جذبات کو ایک طرف رکھ کر مین اسٹریم میڈیا کی خبروں کو لیکر ایسے تمام واقعات کا تجزیہ کروں اور جہاں لوپ ہولز ہوں انہیں ضرور سامنے لاؤں- کبھی کبھی جذبات کی شدت قلم نہیں اٹھانے دیتی- میری اس ریاضت کا لب لباب یہ ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کسی بھی ملک میں عموماً الیکشن سے ایک ڈیڑھ سال قبل شروع ہوتے ہیں- عام طور سے دہشت گرد نقاب میں ملبوس ہوتے ہیں الله اکبر پکارتے ہیں اور اپنا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ قریب گرا دیتے ہیں تاکہ بعد میں انکی شناخت آسان رہے- حیرت انگیز طور پر الیکشن کے بعد ایسے واقعات کی تعداد تقریباً زیرو ہو جاتی ہے یا انکے ذمہ دار مقامی گورے نکلنے لگتے ہیں جو ذہنی مریض ہوتے ہیں اور جنکا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا- میرے ان واقعات کی جانچ پڑتال میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ ایسے زیادہ تر واقعات میں انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیانات میں بہت سے تضادات اور لوپ ہولز ہوتے ہیں لیکن بقول امریکی امن ایکٹوسٹ سنڈی شیہان میں اسٹریم میڈیا وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کا ماوتھ پیس بنا رہتا ہے-
خوش قسمتی سے اپنے مختصر صحافتی کیریئر کے باوجود شمالی امریکا، بر صغیر، اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے تین مختلف خطوں میں پریس کے ساتھ حکومت کے رویہ کے مشاہدے کا موقع ملا- مشرق وسطیٰ میں ظاہر ہے پریس پر قدغن باقی دونوں خطوں سے زیادہ تھی- امریکا میں کہنے کو تو آزادی اظہار کا حق انسان کے بنیادی حق کے طور پر موجود ہے لیکن اسکے علاج بھی کچھ چارہ گروں نے دریافت کر رکھے ہیں- معروف فلسطینی نژاد امریکی اسکالر ایڈورڈ سعید کا کہنا تھا کہ امریکا میں سینسر کی شکل یہ ہے کہ نا پسندیدہ بیانیہ کو مین اسٹریم پریس میں نہیں آنے دیا جاتا اور اس طرح وہ ٩٩ فیصد عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے- اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں مین اسٹریم پریس واقعی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اسٹینو گرافر کے طور پر کام کرتا ہے- پھر نائن الیون کے بعد قومی سلامتی کے نام پر جو Patriot act نافذ کیا گیا اس سے ہر مسلمان اپنے آپ کو زیر نگرانی ہی نہیں غیر محفوظ بھی محسوس کرتا ہے- ایڈورڈ سنوڈن اور اب جولین اسانج کے انکشافات کے بعد یہ بات راز نہیں رہی کہ صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ این ایس اے نامی وزارت داخلہ کا محکمہ تمام امریکی اور غیر ملکی مواد کی نگرانی کر رہا ہے- میں نے اس موضوع پر جتنا بھی غور کیا میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اس نگرانی سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں- ہمیں نیٹ کے نشے کا عادی بنا کر ہم سے ہماری پرائیویسی کو چھین لیا گیا ہے- جارج اورویل کے ناول ١٩٨٤ کی طرح ہمیں نیٹ کے اس نشے کے ذریعے اپنے گھروں کے کمرے کھلے رکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے- اور اسی نیٹ کے ذریعے ہمیں ایسی مشغولیت میں بھی الجھا دیا گیا ہے کہ ہم زندگی کے اصل مسائل پر توجہ نہ دی سکیں جیسے ناول کا ایک کردار حکومت کی طرف سے ہر وقت پورن مواد کی اشاعت میں لگا رہتا تھا- گو جزیات مختلف ہیں مگر ١٩٤٨ سے قبل لکھے گئے اس ناول کی باتیں عملاً حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہیں-
حصہ دوئم
یہ سن ١٩٩٩ کی بات تھی- کراچی شیریٹن میں انٹیل، مائکرو پروسیسر بنانے والی دنیا کی معروف ترین کمپنی انٹیل کا ایک سیمینار جاری تھا- اسپیکر جو شکل سے جاپانی یا کورین لگ رہا تھا کا کہنا تھا کہ انٹیل پینٹیم کا جو نیا ماڈل آ رہا ہے اس میں ہر پیس کا اپنا ایک مخصوص نمبر ہو گا- یہ ١٩٩٩ کی بات تھی اس نمبر کے ذریعے ظاہر ہے بعد ازاں ٹریکنگ ممکن ہو سکتی ہو گی- انٹرنیٹ پاکستان میں کوئی چار سال پہلے وارد ہو چکا تھا مگر بروڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت گھریلو صارفین کو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میسر نہیں تھی- لوگ ڈائل اپ پر گھنٹے کے حساب سے پر ی پیڈ انٹرنیٹ استعمال کرتے- سوشل میڈیا کی مقبولیت عام میں کوئی سات آٹھ سال کا عرصہ باقی تھا- کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ دنیا اگلے دس سال میں اس قدر تبدیل ہو جائی گی-
خوش قسمتی سے اپنے مختصر صحافتی کیریئر کے باوجود شمالی امریکا، بر صغیر، اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے تین مختلف خطوں میں پریس کے ساتھ حکومت کے رویہ کے مشاہدے کا موقع ملا- مشرق وسطیٰ میں ظاہر ہے پریس پر قدغن باقی دونوں خطوں سے زیادہ تھی- امریکا میں کہنے کو تو آزادی اظہار کا حق انسان کے بنیادی حق کے طور پر موجود ہے لیکن اسکے علاج بھی کچھ چارہ گروں نے دریافت کر رکھے ہیں- معروف فلسطینی نژاد امریکی اسکالر ایڈورڈ سعید کا کہنا تھا کہ امریکا میں سینسر کی شکل یہ ہے کہ نا پسندیدہ بیانیہ کو مین اسٹریم پریس میں نہیں آنے دیا جاتا اور اس طرح وہ ٩٩ فیصد عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے- اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں مین اسٹریم پریس واقعی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اسٹینو گرافر کے طور پر کام کرتا ہے- پھر نائن الیون کے بعد قومی سلامتی کے نام پر جو Patriot act نافذ کیا گیا اس سے ہر مسلمان اپنے آپ کو زیر نگرانی ہی نہیں غیر محفوظ بھی محسوس کرتا ہے- ایڈورڈ سنوڈن اور اب جولین اسانج کے انکشافات کے بعد یہ بات راز نہیں رہی کہ صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ این ایس اے نامی وزارت داخلہ کا محکمہ تمام امریکی اور غیر ملکی مواد کی نگرانی کر رہا ہے- میں نے اس موضوع پر جتنا بھی غور کیا میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اس نگرانی سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں- ہمیں نیٹ کے نشے کا عادی بنا کر ہم سے ہماری پرائیویسی کو چھین لیا گیا ہے- جارج اورویل کے ناول ١٩٨٤ کی طرح ہمیں نیٹ کے اس نشے کے ذریعے اپنے گھروں کے کمرے کھلے رکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے- اور اسی نیٹ کے ذریعے ہمیں ایسی مشغولیت میں بھی الجھا دیا گیا ہے کہ ہم زندگی کے اصل مسائل پر توجہ نہ دی سکیں جیسے ناول کا ایک کردار حکومت کی طرف سے ہر وقت پورن مواد کی اشاعت میں لگا رہتا تھا- گو جزیات مختلف ہیں مگر ١٩٤٨ سے قبل لکھے گئے اس ناول کی باتیں عملاً حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہیں-
حصہ دوئم
یہ سن ١٩٩٩ کی بات تھی- کراچی شیریٹن میں انٹیل، مائکرو پروسیسر بنانے والی دنیا کی معروف ترین کمپنی انٹیل کا ایک سیمینار جاری تھا- اسپیکر جو شکل سے جاپانی یا کورین لگ رہا تھا کا کہنا تھا کہ انٹیل پینٹیم کا جو نیا ماڈل آ رہا ہے اس میں ہر پیس کا اپنا ایک مخصوص نمبر ہو گا- یہ ١٩٩٩ کی بات تھی اس نمبر کے ذریعے ظاہر ہے بعد ازاں ٹریکنگ ممکن ہو سکتی ہو گی- انٹرنیٹ پاکستان میں کوئی چار سال پہلے وارد ہو چکا تھا مگر بروڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت گھریلو صارفین کو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میسر نہیں تھی- لوگ ڈائل اپ پر گھنٹے کے حساب سے پر ی پیڈ انٹرنیٹ استعمال کرتے- سوشل میڈیا کی مقبولیت عام میں کوئی سات آٹھ سال کا عرصہ باقی تھا- کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ دنیا اگلے دس سال میں اس قدر تبدیل ہو جائی گی-
اس طرح
٢٠٠٦ میں آئ بی اے میں کلاس کے دوران میرے کولمبیا کے فارغ التحصیل سپر وائزر ڈاکٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں ٹیلیفون، موبائل، انٹرنیٹ، ای میل پر ایک ہی شناخت کو ضم کر دیا جائے- مجھے یاد ہے اس دور میں میں وکی پیڈیا کا استعمال بہت کرتی تھی- یوٹیوب بھی آہستہ ایستا مقبول ہونے لگا تھا- کمپوٹر ہارڈ ویر ان ایپ لکشنز کے لئے پہلے سے اپ گریڈ ہو رہا تھا- ٢٠٠٦ کوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں لیکن اس وقت سوشل میڈیا بھی عام نہ ہوا تھا اور یہ سوچنا مشکل محسوس ہوتا تھا کہ ہماری ہر شناخت ضم کیسے ہو جائے گی- مگر آج آپ نوٹ کریئے گا کہ آپکی وہاٹسپپ، فیس بک، ای میل، شناخت غیر محسوس طریقے سے کس طرح آپک فون سے متصل ہو چکی ہیں- آپکے ڈوائس کا نمبر اور انٹرنیٹ ایڈریس بھی ظاہر ہے اسکے ساتھ متصل ہے- یعنی صرف ایڈریس چینج کرنے سے کام نہیں چلتا آپ نے ایک دفعہ جس ای ڈیوائس سے اپنا فون کھول لیا ہے وہ بھی آپکی شناخت میں شامل ہو چکا ہے- اگر یہ ڈیوائس ایک سے زائد گھر والے استعمال کرتے ہیں تو صرف آپ نہیں آپکے گھر والے بھی زیر نگرانی ہیں- میں مسلسل اس پشیمانی کا شکار بھی رہتی ہوں کہ میں نے اپنے گھر والوں کو بھی غیر محفوظ کیا ہوا ہے-
آج سے تین سال قبل امریکی ویزا لگواتے ہوے یہی ڈر تھا کہ میرا نام گوگل کرکہ وہ عالمی حالات خصوصا ً مشرق وسطیٰ پر میرے خیالات معلوم کر کہ وہ ہارورڈ کے آئی ٹوینٹی کے باوجود ویزا دینے سے انکار نہ کر دیں- یہی ڈر مجھے ہارورڈ کے ایڈمشن کے پراسس میں لاحق رہا- الحمد لللہ میری کسی تحریر میں کسی مذہب، نسل، رنگ یا فرقے کے خلاف کوئی بات نہیں ہوتی لیکن اسکے باوجود عرصہ دس سال سے میرے قریبی عزیز اور دوست مجھے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں- سن ٢٠١٦ میں میرے فیس بک اور گوگل اکاؤنٹ کو کچھ اس طرح ہیک کیا گیا کہ مجھے پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ لکھوانی پر کہ اس پر میری طرف سے کوئی ایسی سرگرمی نہ ڈال دی جائے جو میرے اور میری فیملی کے لئے خطرہ بننے کے ساتھ ساتھ میری کمیونٹی کے لئے بھی بدنامی کا با عث ہو جائے- سچی بات ہے میں اپنے پیشے سے حد درجے محبت کرنے اور بیوقوفی کی حد تک بولڈ نیس کا مظاہرہ کرنے کے باوجود میں اپنے آپ کو خوف سے کم ہی آزاد محسوس کرتی ہوں-
مجھے یاد ہے اسلامک سنٹر آف بوسٹن میں پہلی رمضان نماز کے بعد کچھ مسلمان وکلا کا خطاب تھا جو وہاں ایسے مسلمانوں کے مقدمات کے لئے فنڈ ریزنگ کر رہے تھے جنھیں مختلف انٹلیجنس ایجنسیز کی اطلاعات کے با عث گرفتار کیا گیا تھا- نائن الیون کے بعد امریکا میں مقیم مسلمانوں کی مسجدوں ، کمیونٹی سینٹرز میں کچھ اس طرح نگرانی کی گئی کہ کسی کی بھی اطلا ع پر لوگوں کو دہشت گردی کے شبے میں اٹھا لیا گیا- شاید قارئین کو یاد ہو کہ خدا کے لئے فلم میں شعیب منصور نے ان بلا جواز گرفتاریوں کی ایک جھلک دکھائی ہے جس میں ایک لبرل اور سیکولر خیالات رکھنے والا موسیقار اپنی شادی کے دو ایک دن بعد پڑوسی کی ایک فون کال پر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور دوران تفتیش اسے اتنی شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار کیا جاتا ہے کہ اسے معذور کر دیا جاتا ہے- کہ مغرب میں اس وقت
ایسے میں جب میں نے
مجھے یاد ہے جنوری ٢٠١٢ میں پہلی مرتبہ بچوں کے ساتھ سوات میں چار روز گزرنے کا موقع ملا تو سوات میں جگہ جگہ پاکستان آرمی کی چیک پوسٹیں موجود تھیں- جگہ جگہ ہمارے ڈرائیور کم گائیڈ کے ساتھ حسن کو اتر کر اپنا شناختی کارڈ چیک کروانا ہوتا- مختلف لوگوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران میں نے محسوس کیا کہ سوات کے عمومی طور پرلوگ آرمی کے آنے، طالبان کے جانے یا شاید خانہ جنگی کے ختم ہونے پر خوش ہیں-
ہمارے ڈرائیور کا تعلق منگورہ کے قریب ہی درا کوٹ چم نامی گاؤں سے تھا اور اسکا کہنا تھا کہ وہ سات بھائی ہیں اور والد صاحب ایک مسجد کے امام تھے- اسکا یہ بھی کہنا تھا کہ مذھبی گھرانہ ہونے کے باوجود اسکے والد نے بچوں کو پاکستانی طالبان سے دور رکھا- ڈرائیور جسکا نام مجھے اب یاد نہیں کا کہنا تھا کہ سوات کے لوگوں نے طالبان کا ساتھ صرف اسلامی نظام کی وجہ سے دیا- اسکا یہ بھی کہنا تھا کہ والی سوات کے زمانے میں جب سے سوات
سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ اپنی غلطی کی معافی مانگ چکی ہیں- اور میں بات ختم کر چکی ہوں- براہ کرم بات آگے نہ بڑھائیں-
اس وقت جماعت اسلامی کے کارکنان میری ٹائم لائن پر ترالنگ
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیز پر بھی دہشت گردی کے واقعات میں کھل کر سوالات اٹھاتی رہی ہوں اور مسلسل خوف کی حالت میں رہتی ہوں- پھر بھی کبھی پاک فوج کے حامی یہ سمجھنے لگتے کے میں فوج کے خلاف ہوں کبھی دینی جماآتیں، کبھی سعودی عرب کی اندھی حمایت کرنے والوں کو بری لگ جاتیں جبکہ میں کسی کے بھی خلاف نہیں-
پھر جب طارق رمضان کی گرفتاری اور اس نوعیت کے دیگر واقعات پر نظر ڈالتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا- جب اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈر-
معذرت کے ساتھ کہ افسانہ جاندار ہونے کے باوجود اس میں شرعی حوالے سے ایک قباحت موجود ہے جسکی میں نے نشاندھی کی- اسلامی قوانین کے لحاظ سے ایک آدمی یا ایک عورت کی گواہی زنا کے مقدمات میں نہ صرف قابل قبول نہیں بلکہ چار گواہ پیش نہ کر سکنے کے نتیجے میں یہ الزام چاہے سچ ہی کیوں نہ ہو الزام لگانے والے کو اسی کوڑوں کی سزا ہے- مجھے حیرت ہے اتنی بڑی تعداد میں پوسٹ پڑھنے والوں میں سے ایک نصرت یوسف کے علاوہ کسی کو بھی اس میں سقم نظر نہیں آیا- اگر بات قرانی حکم کی نہ ہوتی تو میں تبصرہ نہ کرتی-
یاد رکھیں اگر آپ نے اپنی آنکھوں سے بھی برائی ہوتے دیکھی ہے پھر بھی قرانی حکم کے مطابق آپ اپنی زبان بند رکھیں گے جب تک چار گواہ موجود نہیں ہوں- الله نہیں چاہتا کہ یہ اسکینڈلز ڈسکس ہوں- حدود کی سزا عملی طور پر صرف اسی وقت ہو سکتی ہو جب چار گواہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں- اور گواہی دینے پر آمد بھی ہوں- ایک گواہ بھی کم ہو گا تو سزا گواہوں کو ملے گی دفاع کرنے والے کو نہیں-
جہاں تک اس افسانے کے میسج کی تعریف کا تعلق ہے میں نے اپنے پہلے میسج میں ہی کی ہے- امید ہے اسے پرسنل نہیں لیا جائے گا-
میرا کام قرانی حکم بتانا تھا باقی واہ واہ کرنے والے اور مصنف خود نظر انداز کرنا چاہیں تو انکی مرضی-
قران ایک آدمی کے ایسی بات کرنے کے نتیجے میں
کل عافیہ صدیقی کے مسئلے پر ایوان رڈلے کا انٹرویو کیا تو اس برطانوی صحافی کا کہنا تھا کہ عافیہ کا القائدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا- نائن الیون کے بعد پاکستان میں پیسے کمانے کا یہ آسان طریقہ ہو گیا تھا کہ امریکی ایمبیسی کو اطلاع دی دیں کہ فلاں بندے کا تعلق القائدہ سے ہے- خود مشرف کے بیان کے مطابق القاعدہ کا ممبر گردان کر آٹھ سو افراد کو امریکا کے حوالے کیا گیا جنھیں پہلے بگرام لے جایا جاتا اور اسکے بعد ان میں سے بہت سوں کو گونتا نامو بے منتقل کر دیا جاتا- ایوان اپنے موقف کے حق میں یہ رائے دیتی ہیں کہ گونتا نامو بے سے جتنے لوگ بھی چھوٹے زیادہ تر کو بغیر مقدمہ چلائے چھوڑا گیا- بہت جاندار موقف ہے-
پھر یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ عافیہ کو القائدہ کا رکن ہونے یا کسی دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہونے پر سزا نہیں ہوئی بلکہ امریکی فوجیوں پر بندوق تاننے اور حملے کی کوشش پر سزا ہوئی ہے جسکی کہانی خاصی مشکوک ہے- اگر عافیہ القائدہ کی رکن ثابت ہو چکی تھیں تو اتنی مشکوک کہانی پر انہیں سزا دینے کی کیا ضرورت تھی-
٢٠٠٨ میں امریکی فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی یہ بتاتی ہے کہ وہاں جنگ ہو رہی تھی- اگر واقعی ایسا تھا تو اس کیس پر جنیوا قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے- مگر ہم سب جانتے ہیں کہ امریکا دہشت گردی کی جنگ میں مغربی دنیا کے اپنے بنائے ہوے عالمی قوانین کو نہیں مانتا- چلیں اس کو بھی رہنے دیں مگر ایک بندوق تاننے کے ایک ایسے واقعہ میں جس عافیہ کے علاوہ کوئی دوسرا زخمی نہیں ہوا انہیں ٨٦ سال کی سزا کو کیسے منصفانہ قرار دیا جاتا ہے- اور یہ امریکی عدالت کے حامی نہیں بلکہ ہمارے بائیں بازو کے دانشور ہیں جو اسے منصفانہ قرار دیتے ہیں-
محترمہ سمیعہ راحیل قاضی کا میں تہہ دل سے احترام کرتی ہوں- ہمارے بہت محترم قاضی حسین احمد کی صاحبزادی زادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نامور اسکالر ہیں- میری کچھ پوسٹ کے کمنٹس میں انھوں نے یہ تصویر شئیر کی ہے- مجھے انکی بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی- میں نہیں سمجھتی یہ کوئی ذاتی حملہ یا طنز ہے- اگر وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اس فارم پر دلیل کی اوقات نہیں تو ایسا بلکل نہیں- اگر وہ کسی پوسٹ سے متفق نہیں تو میں بصد احترام ان سے کہوں گی کہ وہ اپنا موقف بتائیں- لیکن معذرت کہ دلیل کی اوقات نہ ہونے والی بات سے مجھے اتفاق نہیں- اس فارم پر دلیل ہی کی اہمیت ہے- دلیل کے علاوہ تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں- جن اخبارات تک میری رسائی ہے وہاں تک میں خود انکا موقف پہنچاؤں گی بغیر قطع و برید کے- یہ بات کہنے کا کیا مقصد کہ جہاں علم کی کمی ہو؟ میں نہیں سمجھتی کے یہ کوئی ذاتی حملہ ہے- ڈاکٹر سمیعہ یقیناً اپنا موقف بیان کریں گی-
لیکن ایک در خواست میں پہلے بھی کرتی رہی ہوں کہ بزرگان دین خصوصاً صحابہ کے اقوال بغیر ریفرنس کے شیر نہ کریں- یہ علمی دیانت کے خلاف ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات کے بھی-
چونکہ آپ نے اپنے پروفائل پر عافیہ کا ذکر کیا ہے تو میں یہ درخواست بھی کروں گی کہ اگر عافیہ سے متعلق کوئی معلومات آپکے پاس ایسی موجود ہے جو اپکا خیال ہے کہ کوئی سننا نہ چاہے گا وہ ضرور شئیر کریں- یہ انصاف گواہی ہے- امید ہے آپ اس سے گریز نہیں کریں گی- ہم جیسے بہت سے کم علموں کا بھلا ہو گا-
جی نور اسلم بھائی- غلطی کا امکان بالکل موجود ہے خصوصاً اس صورت میں کہ مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے- لیکن اگر بات چھیڑی جائے تو اپنا مؤقف پوری طرح بیان کرنا چاہیے- کسی کو کم علمی کا طعنہ دیکر یا دلیل کی اوقات نہ ہونے کا بہانہ بنا کر دلیل سے منہ نہیں موڑنا چاہیے- جماعت اسلامی ایک پبلک تنظیم ہے- پاکستان کے یا دنیا کے ہر شہری کو اس پر بات کرنے اور تنقید کا حق ہے- اور جماعت اسلامی کے اکابرین کو اپنا موقف بیان کرنے کا- ہر ایک کو اپنا مخالف نہ سمجھیں-
میں تو خود طالب علم ہوں- آپ لوگوں سے کچھ سیکھنے کی خواہشمند- آپکے مشورے پر عمل کرتی ہوں- لیکن ذرا ان سے معلومات تو دلوا دین اگر یہ شئیر کرنا چاہ رہی ہیں عافیہ یا کسی بھی اور کیس کے بارے میں تاکہ آیندہ محتاط رہوں اور انکا موقف معلوم بھی ہو-
ایک لاپتہ بیٹے کے باپ کا کہنا تھا کہ مجھے رشک آتا ہے ان لوگوں پر جنھیں اپنے بچوں کی لاشیں مل جاتی ہیں-
میں نے عافیہ کے حوالے سے بات نہیں کی- آپ میٹنگ میں تھیں اور آپ نے میرا میسج ٹھیک سے پڑھا نہیں- میرا پائنٹ تو کچھ اور تھا جس کا مطلب تھا کہ صرف عافیہ کی بات کیوں کی جاتی ہے؟ قانون اور آئین تو سب کے لئے برابر ہونا چاہیے- روز بچے اٹھائے جا رہے ہیں- جو کام عافیہ کے لئے غلط وہ ہر پاکستانی شہری کے لئے غلط- اسکا قاضی صاحب اور عافیہ کی ملاقات سے کیا تعلّق؟
اس وقت جماعت کے اندر جو اخلاقی اور علمی انحطاط موجود ہے اس پر میں بات کرنا نہیں چاہتی-
الفاظ بدل کر لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا- بی بی ظلم کسی پر بھی ہو کسی بھی وقت ہو اس پر خاموشی اختیار کرنا صحیح نہیں- ورنہ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اپ نے اوپرلکھا ہے- مصلحت کو آپ کوئی بھی نام دیں مصلحت ہی ہوگی- کاش یہ بات سمجھ آ جائے-
جذباتی ہونے میں خرابی نہیں مگر بغیر دلیل کے بات کرنے میں ہے- اس وقت آپ لوگ جس ٹراما سے گزر رہی ہیں میں آپ لوگوں کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتی- میرے بات ختم کرنے کو میری کمزوری نہ سمجھا جائے-
اس لئے میں نے بات آگے بڑھانا مناسب نہیں سمجھا-
کیا ہم منظور پشتین کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر بولے؟
کیا ضروری جس پر ظلم ہو صرف وہ ہی بولے؟
ڈاکٹر سمیعہ قاضی علمی شخصیت ہیں انکے مرتبہ سے بھی یہ بات میل نہیں کھاتی
دانش
پچھلے دنوں انعام درانی نامی ایک آن لائن آؤٹ لیٹ کے چیف ایڈیٹر نے عافیہ پر ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے بہت سے لنک بھی شئیر کے جنکے مطابق عافیہ کا تعلق القاعدہ سے تھا اور انہوں نے خالد شیخ کے بھانجے یا بھتیجے سے شادی بھی کر رکھی تھی- لیکن اگر یہ بات واقعی صحیح تھی تو امریکا کو
یہ دستور زبان بندی ہے کیسا تیری محفل میں
تزئین حسن
شروع شروع میں کام کرتے ہوے شمالی امریکا کے مقابلے میں مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ پاکستان میں پریس بہت آزاد ہے- آپ حکمرانوں سمیت جسکو جو دل چاہیں کہہ لیں- مذہب اور سعودی عرب کے علاوہ باقی ہر موضوع پر بولنے کی آزادی ہے- پاکستانی پریس میں سعودی عرب کی خبروں کو کس طرح سنسر کیا جاتا اور کیوں کیا جاتا اس کا قصّہ انشاللہ کسی اور مضمون میں- دسمبر میں باجوڑ کے قبائلی علاقے سے ایک چھوٹے سے فوجی چھاپے کے بارے میں مواد اپنے فیس بک پوسٹ پر شئیر کیا تو پاکستان کے ایک بڑے اخبار سے وابستہ میرے ایک صحافی دوست کا کہنا تھا کہ اگر آپ پاکستان میں ہوتیں تو آپ کو اٹھا لیا جاتا- تھوڑا غور کرنے پر اس پوسٹ کو میں نے ڈر کر نہیں بلکہ اس لئے ہٹایا کہ مجھے محسوس ہوا کہ پاک آرمی نے باجوڑ اس گاؤں میں جو کچھ کیا وہ کسی حد تک اس میں حق بجانب تھی- اس علاقے میں انکا ایک جوان لیفٹنینٹ مارا گیا تھا- سچی بات ہے لیفٹننٹ کی تصویر دیکھ کر مجھے پاک آرمی کی سردی کی رات میں گاؤں والوں کو گھروں سے نکال کر پوچھ گچھ بظاہر ظالما نہ نہ لگی کیونکہ بندہ مارے جانے کے بعد اس کے علاوہ ان کے پاس کیا چارہ رہ گیا تھا- پھر تھوڑی بہت مار پیٹ کا تو ذکر اس فیس بک پوسٹ میں تھا خدا نخواستہ اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا- یا الله یہ کسی جنگ ہے کہ دونوں طرف میرے اپنے ہیں-
یہ وہ وقت تھا جب نقیب الله محسود زندہ تھا، فیس بک پر اپنی خوبصورت سلفیز اور فوٹو شوٹ شئیر کیا کرتا، راو انوار کی گندی نظریں ابھی اس خوبرو جوان پر نہ پڑیں تھیں- منظور پشتیں کے گرد بھی ابھی لوگ جمع ہونا شروع نہیں ہوئے تھے- لیکن لاوا اندر ہی اندر جمع ہو رہا تھا- اس کے ایک دو دن بعد ہی مجھے باجوڑ سے تعلّق رکھنے والے ایک نوجوان سے انٹرویو کا موقعہ ملا- مجھے اس پہلے ہی انٹرویو سے اندازہ ہوا کہ علاقے میں شدید بیچینی پائی جاتی تھی- نہ صرف بیچینی بلکہ بہت شدید خوف بھی- انٹرویو کے دوران قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والا لیکن ٢٠١٤ میں پشاور منتقل ہو جانے والا پچیس سالہ والا نوجوان بار بار یہ در خواست کر رہا تھا کہ آپ یہ باتیں چھاپیں گی نہیں- اسکا کہنا تھا کہ وہ کانپ رہا ہے- میں اسمارٹ فون کے دوسری طرف بخوبی محسوس کر سکتی تھی کہ وہ غلط نہیں کہہ رہا- اسکے باوجود مجھے یہ جان کر تعجب اور تعجب سے زیادہ خوشی ہوئی کہ اس لڑکے کے مطابق قبائلی عوام ایف آر سی نامی ظالمانہ کالے قانون، نائن الیون کے بعد ڈرون حملوں، فوجی آپریشنز کے باوجود پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں- عوام میں یہ خواہش بہت شدید پائی جاتی ہے کہ ان علاقوں کو پاکستان میں ضم کر دیا جائے- مسلم لیگ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی یہاں تک کہ اے این پی بھی قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں ضم کرنے کے حق میں تھی لیکن مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی راضی نہیں تھے- معروف صحافی سلیم صافی صاحب اس سلسلے میں خاصی کوششیں کر رہے تھے-
منظور پشتیں کے کامیاب جلسوں کے بعد ایک بار پھر غدار غدار کی آوازیں سنی دینے لگیں- یہ بات تقریباً ہر سیاسی جماعت اور خود فوج بھی مان رہی تھی کہ اسکے مطالبات صحیح ہیں- لیکن اسکے باوجود مین ا سٹریم میڈیا نے اسکے بارے میں زیرو کوریج دی- معلوم ہوا ممکن ہی نہیں ہے- سلیم صافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیانی دور کے آپریشنز کے مقابلے میں راحیل شریف نے فاٹا میں فوجی آپرسشنز کے دوران اخبارات کی کوریج پر پابندی لگائی ہے- جسکی وجہ سے گھٹن اور بڑھی ان علاقوں میں-
مجھے یاد ہے اسلامک سنٹر آف بوسٹن میں پہلی رمضان نماز کے بعد کچھ مسلمان وکلا کا خطاب تھا جو وہاں ایسے مسلمانوں کے مقدمات کے لئے فنڈ ریزنگ کر رہے تھے جنھیں مختلف انٹلیجنس ایجنسیز کی اطلاعات کے با عث گرفتار کیا گیا تھا- نائن الیون کے بعد امریکا میں مقیم مسلمانوں کی مسجدوں ، کمیونٹی سینٹرز میں کچھ اس طرح نگرانی کی گئی کہ کسی کی بھی اطلا ع پر لوگوں کو دہشت گردی کے شبے میں اٹھا لیا گیا- شاید قارئین کو یاد ہو کہ خدا کے لئے فلم میں شعیب منصور نے ان بلا جواز گرفتاریوں کی ایک جھلک دکھائی ہے جس میں ایک لبرل اور سیکولر خیالات رکھنے والا موسیقار اپنی شادی کے دو ایک دن بعد پڑوسی کی ایک فون کال پر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور دوران تفتیش اسے اتنی شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار کیا جاتا ہے کہ اسے معذور کر دیا جاتا ہے- کہ مغرب میں اس وقت
ایسے میں جب میں نے
مجھے یاد ہے جنوری ٢٠١٢ میں پہلی مرتبہ بچوں کے ساتھ سوات میں چار روز گزرنے کا موقع ملا تو سوات میں جگہ جگہ پاکستان آرمی کی چیک پوسٹیں موجود تھیں- جگہ جگہ ہمارے ڈرائیور کم گائیڈ کے ساتھ حسن کو اتر کر اپنا شناختی کارڈ چیک کروانا ہوتا- مختلف لوگوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران میں نے محسوس کیا کہ سوات کے عمومی طور پرلوگ آرمی کے آنے، طالبان کے جانے یا شاید خانہ جنگی کے ختم ہونے پر خوش ہیں-
ہمارے ڈرائیور کا تعلق منگورہ کے قریب ہی درا کوٹ چم نامی گاؤں سے تھا اور اسکا کہنا تھا کہ وہ سات بھائی ہیں اور والد صاحب ایک مسجد کے امام تھے- اسکا یہ بھی کہنا تھا کہ مذھبی گھرانہ ہونے کے باوجود اسکے والد نے بچوں کو پاکستانی طالبان سے دور رکھا- ڈرائیور جسکا نام مجھے اب یاد نہیں کا کہنا تھا کہ سوات کے لوگوں نے طالبان کا ساتھ صرف اسلامی نظام کی وجہ سے دیا- اسکا یہ بھی کہنا تھا کہ والی سوات کے زمانے میں جب سے سوات
سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ اپنی غلطی کی معافی مانگ چکی ہیں- اور میں بات ختم کر چکی ہوں- براہ کرم بات آگے نہ بڑھائیں-
اس وقت جماعت اسلامی کے کارکنان میری ٹائم لائن پر ترالنگ
امریکی انٹیلی جنس ایجنسیز پر بھی دہشت گردی کے واقعات میں کھل کر سوالات اٹھاتی رہی ہوں اور مسلسل خوف کی حالت میں رہتی ہوں- پھر بھی کبھی پاک فوج کے حامی یہ سمجھنے لگتے کے میں فوج کے خلاف ہوں کبھی دینی جماآتیں، کبھی سعودی عرب کی اندھی حمایت کرنے والوں کو بری لگ جاتیں جبکہ میں کسی کے بھی خلاف نہیں-
پھر جب طارق رمضان کی گرفتاری اور اس نوعیت کے دیگر واقعات پر نظر ڈالتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ جو ہونا ہے وہ تو ہو کر رہے گا- جب اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈر-
معذرت کے ساتھ کہ افسانہ جاندار ہونے کے باوجود اس میں شرعی حوالے سے ایک قباحت موجود ہے جسکی میں نے نشاندھی کی- اسلامی قوانین کے لحاظ سے ایک آدمی یا ایک عورت کی گواہی زنا کے مقدمات میں نہ صرف قابل قبول نہیں بلکہ چار گواہ پیش نہ کر سکنے کے نتیجے میں یہ الزام چاہے سچ ہی کیوں نہ ہو الزام لگانے والے کو اسی کوڑوں کی سزا ہے- مجھے حیرت ہے اتنی بڑی تعداد میں پوسٹ پڑھنے والوں میں سے ایک نصرت یوسف کے علاوہ کسی کو بھی اس میں سقم نظر نہیں آیا- اگر بات قرانی حکم کی نہ ہوتی تو میں تبصرہ نہ کرتی-
یاد رکھیں اگر آپ نے اپنی آنکھوں سے بھی برائی ہوتے دیکھی ہے پھر بھی قرانی حکم کے مطابق آپ اپنی زبان بند رکھیں گے جب تک چار گواہ موجود نہیں ہوں- الله نہیں چاہتا کہ یہ اسکینڈلز ڈسکس ہوں- حدود کی سزا عملی طور پر صرف اسی وقت ہو سکتی ہو جب چار گواہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں- اور گواہی دینے پر آمد بھی ہوں- ایک گواہ بھی کم ہو گا تو سزا گواہوں کو ملے گی دفاع کرنے والے کو نہیں-
جہاں تک اس افسانے کے میسج کی تعریف کا تعلق ہے میں نے اپنے پہلے میسج میں ہی کی ہے- امید ہے اسے پرسنل نہیں لیا جائے گا-
میرا کام قرانی حکم بتانا تھا باقی واہ واہ کرنے والے اور مصنف خود نظر انداز کرنا چاہیں تو انکی مرضی-
قران ایک آدمی کے ایسی بات کرنے کے نتیجے میں
کل عافیہ صدیقی کے مسئلے پر ایوان رڈلے کا انٹرویو کیا تو اس برطانوی صحافی کا کہنا تھا کہ عافیہ کا القائدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا- نائن الیون کے بعد پاکستان میں پیسے کمانے کا یہ آسان طریقہ ہو گیا تھا کہ امریکی ایمبیسی کو اطلاع دی دیں کہ فلاں بندے کا تعلق القائدہ سے ہے- خود مشرف کے بیان کے مطابق القاعدہ کا ممبر گردان کر آٹھ سو افراد کو امریکا کے حوالے کیا گیا جنھیں پہلے بگرام لے جایا جاتا اور اسکے بعد ان میں سے بہت سوں کو گونتا نامو بے منتقل کر دیا جاتا- ایوان اپنے موقف کے حق میں یہ رائے دیتی ہیں کہ گونتا نامو بے سے جتنے لوگ بھی چھوٹے زیادہ تر کو بغیر مقدمہ چلائے چھوڑا گیا- بہت جاندار موقف ہے-
پھر یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ عافیہ کو القائدہ کا رکن ہونے یا کسی دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہونے پر سزا نہیں ہوئی بلکہ امریکی فوجیوں پر بندوق تاننے اور حملے کی کوشش پر سزا ہوئی ہے جسکی کہانی خاصی مشکوک ہے- اگر عافیہ القائدہ کی رکن ثابت ہو چکی تھیں تو اتنی مشکوک کہانی پر انہیں سزا دینے کی کیا ضرورت تھی-
٢٠٠٨ میں امریکی فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی یہ بتاتی ہے کہ وہاں جنگ ہو رہی تھی- اگر واقعی ایسا تھا تو اس کیس پر جنیوا قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے- مگر ہم سب جانتے ہیں کہ امریکا دہشت گردی کی جنگ میں مغربی دنیا کے اپنے بنائے ہوے عالمی قوانین کو نہیں مانتا- چلیں اس کو بھی رہنے دیں مگر ایک بندوق تاننے کے ایک ایسے واقعہ میں جس عافیہ کے علاوہ کوئی دوسرا زخمی نہیں ہوا انہیں ٨٦ سال کی سزا کو کیسے منصفانہ قرار دیا جاتا ہے- اور یہ امریکی عدالت کے حامی نہیں بلکہ ہمارے بائیں بازو کے دانشور ہیں جو اسے منصفانہ قرار دیتے ہیں-
محترمہ سمیعہ راحیل قاضی کا میں تہہ دل سے احترام کرتی ہوں- ہمارے بہت محترم قاضی حسین احمد کی صاحبزادی زادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک نامور اسکالر ہیں- میری کچھ پوسٹ کے کمنٹس میں انھوں نے یہ تصویر شئیر کی ہے- مجھے انکی بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی- میں نہیں سمجھتی یہ کوئی ذاتی حملہ یا طنز ہے- اگر وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اس فارم پر دلیل کی اوقات نہیں تو ایسا بلکل نہیں- اگر وہ کسی پوسٹ سے متفق نہیں تو میں بصد احترام ان سے کہوں گی کہ وہ اپنا موقف بتائیں- لیکن معذرت کہ دلیل کی اوقات نہ ہونے والی بات سے مجھے اتفاق نہیں- اس فارم پر دلیل ہی کی اہمیت ہے- دلیل کے علاوہ تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں- جن اخبارات تک میری رسائی ہے وہاں تک میں خود انکا موقف پہنچاؤں گی بغیر قطع و برید کے- یہ بات کہنے کا کیا مقصد کہ جہاں علم کی کمی ہو؟ میں نہیں سمجھتی کے یہ کوئی ذاتی حملہ ہے- ڈاکٹر سمیعہ یقیناً اپنا موقف بیان کریں گی-
لیکن ایک در خواست میں پہلے بھی کرتی رہی ہوں کہ بزرگان دین خصوصاً صحابہ کے اقوال بغیر ریفرنس کے شیر نہ کریں- یہ علمی دیانت کے خلاف ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات کے بھی-
چونکہ آپ نے اپنے پروفائل پر عافیہ کا ذکر کیا ہے تو میں یہ درخواست بھی کروں گی کہ اگر عافیہ سے متعلق کوئی معلومات آپکے پاس ایسی موجود ہے جو اپکا خیال ہے کہ کوئی سننا نہ چاہے گا وہ ضرور شئیر کریں- یہ انصاف گواہی ہے- امید ہے آپ اس سے گریز نہیں کریں گی- ہم جیسے بہت سے کم علموں کا بھلا ہو گا-
جی نور اسلم بھائی- غلطی کا امکان بالکل موجود ہے خصوصاً اس صورت میں کہ مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف ہے- لیکن اگر بات چھیڑی جائے تو اپنا مؤقف پوری طرح بیان کرنا چاہیے- کسی کو کم علمی کا طعنہ دیکر یا دلیل کی اوقات نہ ہونے کا بہانہ بنا کر دلیل سے منہ نہیں موڑنا چاہیے- جماعت اسلامی ایک پبلک تنظیم ہے- پاکستان کے یا دنیا کے ہر شہری کو اس پر بات کرنے اور تنقید کا حق ہے- اور جماعت اسلامی کے اکابرین کو اپنا موقف بیان کرنے کا- ہر ایک کو اپنا مخالف نہ سمجھیں-
میں تو خود طالب علم ہوں- آپ لوگوں سے کچھ سیکھنے کی خواہشمند- آپکے مشورے پر عمل کرتی ہوں- لیکن ذرا ان سے معلومات تو دلوا دین اگر یہ شئیر کرنا چاہ رہی ہیں عافیہ یا کسی بھی اور کیس کے بارے میں تاکہ آیندہ محتاط رہوں اور انکا موقف معلوم بھی ہو-
ایک لاپتہ بیٹے کے باپ کا کہنا تھا کہ مجھے رشک آتا ہے ان لوگوں پر جنھیں اپنے بچوں کی لاشیں مل جاتی ہیں-
میں نے عافیہ کے حوالے سے بات نہیں کی- آپ میٹنگ میں تھیں اور آپ نے میرا میسج ٹھیک سے پڑھا نہیں- میرا پائنٹ تو کچھ اور تھا جس کا مطلب تھا کہ صرف عافیہ کی بات کیوں کی جاتی ہے؟ قانون اور آئین تو سب کے لئے برابر ہونا چاہیے- روز بچے اٹھائے جا رہے ہیں- جو کام عافیہ کے لئے غلط وہ ہر پاکستانی شہری کے لئے غلط- اسکا قاضی صاحب اور عافیہ کی ملاقات سے کیا تعلّق؟
اس وقت جماعت کے اندر جو اخلاقی اور علمی انحطاط موجود ہے اس پر میں بات کرنا نہیں چاہتی-
الفاظ بدل کر لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا- بی بی ظلم کسی پر بھی ہو کسی بھی وقت ہو اس پر خاموشی اختیار کرنا صحیح نہیں- ورنہ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اپ نے اوپرلکھا ہے- مصلحت کو آپ کوئی بھی نام دیں مصلحت ہی ہوگی- کاش یہ بات سمجھ آ جائے-
جذباتی ہونے میں خرابی نہیں مگر بغیر دلیل کے بات کرنے میں ہے- اس وقت آپ لوگ جس ٹراما سے گزر رہی ہیں میں آپ لوگوں کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتی- میرے بات ختم کرنے کو میری کمزوری نہ سمجھا جائے-
اس لئے میں نے بات آگے بڑھانا مناسب نہیں سمجھا-
کیا ہم منظور پشتین کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر بولے؟
کیا ضروری جس پر ظلم ہو صرف وہ ہی بولے؟
ڈاکٹر سمیعہ قاضی علمی شخصیت ہیں انکے مرتبہ سے بھی یہ بات میل نہیں کھاتی
دانش
پچھلے دنوں انعام درانی نامی ایک آن لائن آؤٹ لیٹ کے چیف ایڈیٹر نے عافیہ پر ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے بہت سے لنک بھی شئیر کے جنکے مطابق عافیہ کا تعلق القاعدہ سے تھا اور انہوں نے خالد شیخ کے بھانجے یا بھتیجے سے شادی بھی کر رکھی تھی- لیکن اگر یہ بات واقعی صحیح تھی تو امریکا کو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں