پیر، 19 اپریل، 2021

ابورشن گناہ ہے لیکن شادی سے پہلے تعلقات ضروری

ابورشن گناہ ہے لیکن شادی سے پہلے تعلقات ضروری 
تزئین حسن 

"یہ انکے گھر ایمبولینس کیوں آئی ہے؟" دوپہر میں لیٹنے سے پہلے حسن کھڑکی کا پردہ برابر کرنے لگے تو سڑک پر نظر پڑی- میں آٹھ کر بیٹھ گئی- الله خیر کرے- کل کیرولین کی ایک چھوٹی سی سرجری تھی-  میں نے کہا تھا بچے چاہو تو میرے پاس چھوڑ دو مگر وہ کہنے لگی، "مکیلا (چھ سالہ بیٹی) کو تو اسکا باپ اور دادی لے جائیں گے- لیم (ڈھائی سالہ بیٹا ) کو میرا بھائی-" 'کیوں لیم کو مکیلا کی دادی نہیں رکھ سکتیں؟' میرا استفسار تھا؟- 'نہیں وہ لوگ کہتے ہیں لیم انکی ذمہ داری نہیں،' اسکا جواب تھا-

کیرولین کے گیارہ سے لیکر ڈھائی سال کی عمر کے تین بچے ہیں، تینوں کے باپ الگ الگ ہیں، کسی سے بھی اسکی شادی نہیں ہوئی ہے- یہ آج کی مغربی عورت کا وہ المیہ ہے جسکے سامنے مشرقی عورت کے ساتھ ہر زیادتی اور اس کا ہردکھ ہیچ ہے- اسکا کہنا ہے کہ اسکے پہلے اور سب سے بڑے بیٹے کو اسکے باپ نے، جو کیرولین کا پہلا بوائے فرینڈ اور منگیتر تھا، کچھ قانونی حربے استعمال کر کہ اس سے چھین لیا- باقی دو بچوں کو وہ بہت ہی محبت سے اکیلے پال رہی ہے- میں ایک پڑوسن کی حیثیت سے گواہ ہوں کہ وہ اپنے بچوں کا ہر طرح سے خیال رکھتی ہے- 

ان بچوں کی خاطر نہ صرف اسے اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی بلکہ انکی وجہ سے یہ جاب بھی نہیں کرتی- اسکا کہنا ہے کہ اسے کوئی فنانشل پروبلم نہیں- بچوں کے باپ اور کینیڈین حکومت دونوں انکی کفالت کے ذ مہ دار ہیں- کینیڈین حکومت بچوں کے باپ سے اسکی تنخواہ کا ایک حصہ دلواتی ہے - لیکن اسکے باوجود کینیڈا جیسے ویلفئیر سسٹم والے ملک میں رہائش اور مالی آسودگی کے بعد  بھی اکیلے بچوں کو پالنا آسان کام نہیں ہوتا- وہ خود اکثر مجھ سے اپنے مسائل شئیر کرتی رہتی ہے- اس موضوع پر میری اس سے متعدد مرتبہ بات ہوئی-

ایک دفعہ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے کبھی شادی کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا؟ اسکا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے شادی کر کہ گھر بنانا چاہتی تھی- ان تینوں بوائے فرینڈز کے ساتھ میری منگنی تھی اور ہمارا شادی کرنے کا ارادہ تھا لیکن ڈیٹنگ کے دوران ہی ایسے مسائل آئے کہ شادی کے پلان کو ادھورا چھوڑنا پڑا- 'اگر تمہیں اندازہ تھا کہ شادی نہیں ہونے جا رہی تو تم نے ابورشن کیوں نہ کروا لیا؟،' میرا اپنی دانست میں اگلا منطقی سوال تھا- کیرولین کا کہنا تھا کہ ابورشن، یعنی پیدائش سے پہلے بچے کی جان لینا ایک کیتھولک گھرانے میں بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے- اس لئے ایسا وہ نہیں کر سکتی تھی-
تعجب کی بات ہے شادی سے قبل تعلقات پر چرچ اور مذہبی حلقے کوئی آواز نہیں اٹھاتے لیکن کچھ فرقوں میں طلاق اور ابارشن کی سختی سے ممانعت ہے- شادی سے قبل تعلقات نہ صرف قانونی ہے بلکہ اس کے خلاف بات کرنا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے- معاشرتی اقدار پچھلے پچاس ساٹھ سال میں اتنا تبدیل ہو گئی ہیں کہ والدین بھی ان معاملات میں بچوں کی زندگی میں بے جا مخا لفت سمجھ کر  کچھ بولنے سے احتراز کرتے ہیں- ہائی اسکول سیکس بلکہ جونیئر ہائی اسکول بھی اس حد تک نارمل ہو گئی ہے کہ جو بچے اس سے لطف اندوز نہیں ہوتے وہ یہ بات پبلک میں ظاہر کرنا نہیں چاہتے- 

امریکا میں اس موضوع پر ڈسکشن کے دوران مجھے میری کلاس فیلوز نے بتایا کہ جو لوگ شادی سے پہلے سیکس نہیں کرتے وہ اس بات کو چھپاتے ہیں کہ ارد گرد کے لوگوں میں نکو نہ بن جائیں- اسکے علاوہ آج کے مغربی مائنڈ سیٹ میں یہ بات بھی ضروری سمجھی جانے لگی ہے کہ شادی کے فیصلے سے قبل ساتھ رہ کر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ ہو سکیں گے یا نہیں؟ کیمبرج میں قیام کے دوران میں جن دو مسلمان لڑکیوں کے ساتھ گھر شئیر کر رہی تھی ان میں سے ایک این نائن الیون کے بعد خود اسلام کا مطالعہ کر کہ مسلمان ہوئی اور اس وقت ہارورڈ ڈونیٹی اسکول میں پڑھ رہی تھی- اسکی اور اسکے منگیتر کی ملاقات ایک مسلم رشتہ سائٹ پر ہوئی- اسکا منگیتر 'جو' خود بھی اسکول کے زمانے میں اپنے دو پاکستانی دوستوں کی صحبت میں مسلمان ہوا تھا- اسکا کہنا تھا کہ بچپن سے آصف اور منصور نامی دو پاکستانی بچوں سے دوستی تھی اور اسے ہمیشہ سے معلوم تھا کہ وہ اسلام قبول کرے گا- یہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر  مائیگریشن کے وہ پہلو ہیں جنھیں ہم مسلمان اسٹڈی کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، صرف اپنا دین ایمان اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانے کے لئے امیگریشن کی مخالفت کرتے ہیں- خیر یہ ایک الگ موضوع ہے پھر کبھی- 

'این' نے مجھے بتایا کہ اسکے عیسائی والدین اسکے منگیتر 'جو' سے مل چکے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں مگر انکا کہنا ہے کہ وہ شادی کا فیصلہ کرنے سے پہلے کچھ عرصہ اسکے ساتھ رہ کر دیکھ لے - یہی بات جو کی والدہ نے بھی اس سے کی- جو کے والد اسکی دعوت پر الحمدلللہ اسلام قبول کر چکے ہیں لیکن اسکی والدہ کی بھی اسے یہی نصیحت تھی کہ پہلے ساتھ رہ کر ضرور دیکھ لو- اور ان دونوں کا یہ حال تھا کہ جو این سے شادی کرنے کے لئے کیلی فورنیا سے بوسٹن میسا چیوزٹس تو منتقل ہو گیا تھا مگر شادی سے قبل جب بھی وہ گھر آتا این بڑا سا انڈونیشین اسکارف پہن کر گھر کے کامن روم یا کچن میں ہی اس سے ملتی، نکاح سے پہلے کبھی اپنے بیڈ روم میں لیکر نہیں گئی- خیر ان دونوں کی کہانی پھر کبھی-

کیرولین کا یہ کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے شادی کرنا چاہتی ہے مگر اسے معلوم ہے ایسا ممکن نہیں ہو گا- میرے لئے اسکی وجہ واضح ہے کہ عورت شادی میں ایک دیرپا تعلق کی متلاشی ہوتی ہے اور گھر بنانا چاہتی ہے جبکہ مرد بہت حد تک جنسی خواہش سے مجبور ہوتا ہے- استثنیٰ ہو سکتے ہیں لیکن یہ عام قاعدہ ہے- جب مرد کو شادی کے بغیر ہی جنسی تعلق کی اجازت مل جاتی ہے تو وہ بہت کم اس بندھن اور اسکی ذمہ داریا ں اٹھانے کے لئے تیار ہوتا ہے- 

نتیجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا میں پچاس اور کچھ ملکوں میں ستر فیصد لڑکیاں جو پہلی دفعہ ماں بنتی ہیں وہ شادی کے بندھن کے بغیر یہ درجہ حاصل کرتی ہیں- شادی کے بعد بھی اسکے کامیاب ہونے کے امکانات اب بہت کم ہو گئے ہیں- اس بات کو عورت کا حق  سمجھا جاتا ہے کہ وہ شادی سے قبل اپنے سیکس پارٹنر کا انتخاب کرنے کے لئے آزاد ہے اور خود کماتی ہے- مغربی فیمینزم موومنٹ عورت کو یہ دونوں حقوق دلوانے کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتی ہے- 

مگر دیکھا جائے تو قران دنیا کی سب سے زیادہ فیمنسٹ کتاب ہے- عورت کا سب سے بڑا حق جو قران دیتا ہے وہ زنا کا مکمل سد باب ہے- اسلام حدود کی سزاؤں کے ذریعے زنا کا دروازہ سختی سے بند کرتا ہے- مرد اور عورت کے دائرہ عمل کو حتیٰ الامکان الگ الگ رکھتا ہے- عورت کو پردے اور مرد کو غض بصر یعنی نظر نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے- نہ صرف یہ بلکہ گھر، بیوی، بچوں کی مالی ذمہ داری مرد پر ڈالتا ہے- 

یہی نہیں قران و سنت کی تعلیمات اور اسلامی قانون مہر کی صورت مرد کو یہ بھی احساس دلاتا ہے کہ عورت قیمتی ہے- اسے حاصل کرنا چاہتے ہو تو پہلے کچھ خرچ کرو تاکہ اسکی قدر کا احساس ہو- مغرب میں تو خیر اب دونوں صنفوں کا کمانا ایک ضرورت ہی نہیں عورت کی برابری سمجھا ہی جانے لگا ہے، مسلم دنیا خصوصا ً بر صغیر میں ہم اپنے غیر اسلامی کلچر کی وجہ سے مہر کے بجائے جہیز کو اہم سمجھتے ہیں- پردے پر تو بہت لیکچر ہوتے ہیں مگر غض بصر کس چڑیا کا نام ہے اس سے اچھے اچھے پڑھے لکھے دیندار  لوگ بھی واقف نہیں- 

کیرولین اس ساری بحث سے اسکی قائل تو ہو گئی کہ شادی سے پہلے صنفی تعلقات کا نقصان زیادہ ترعورت کو ہوتا ہے جو اکیسویں صدی میں بھی اپنی ممتا سے مجبور ہے مگر اسکا ذہن یہ بات ماننے پر راضی نہیں کہ ساتھ رہے بغیر شادی جتنا بڑا فیصلہ کیا جا سکتا ہے- 
لڑکیوں کے پردے اور پابندیوں پر مذہبی حلقے یہ کہہ کر زور دیتے ہیں کہ عورت بہت قیمتی ہوتی ہے اس لئے اسکی حفاظت ضروری- مطلب مرد اتنا قیمتی نہیں تو اسکے ساتھ کچھ ایسا ویسا ہو جائی یا وہ کچھ کرکرا لے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا- کل ہی فیس بک کی ایک پوسٹ پر لڑکوں کو لوہے کی سلاخوں سے تشبیہ دی گئی اور لڑکیوں کو سونے کے زیورات سے کہ اگر زیور پر کھرونچ  بھی آ گئی تو اس سے قیمتی مال بے قیمت ہو جاتا ہے- اس لئے گھر کی لڑکی کی حفاظت ضروری ہے- یہاں میرے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ کیا یہ مذہبی تعلیمات ہے کہ اگر لڑکی کی عزت پر حرف آیا تو وہ بے حیثیت ہو جائے گی اور گھرنے کی بے عزتی کا با عث بنے گی لیکن لڑکوں کا کیا ہے؟ کیا اس نظریے کا اسلام سے کوئی تعلق ہے؟

اگر ہم لڑکوں کے اخلاق و کردار کی بھی ایسے ہی فکر نہ کریں جیسے اپنی لڑکیوں کی کرتے ہیں تو کیا وہ لڑکے جن لڑکیوں کے سات

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...