پیر، 19 اپریل، 2021

دینی طبقات اور مسلم ممالک کا رویہ چینی مسلمانوں کے لئے

deeni tbqaat mslm mmalik aur

دینی طبقات اور مسلم ممالک کا رویہ چینی مسلمانوں کے لئے
ایمنسٹی اور ہیومن رائٹس کی رپورٹس ایک دہائی سے زائد عرصے سے موجود ہیں
کہا جا سکتا ہے کہ مولانا نہیں جانتے تھے .... ہم نے اپنی ملک کا کنٹرول انہیں لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے جو کچھ نہیں جانتے دنیا کے بارے میں اور جاننا بھی نہیں چاہتے مگر ہر معاملے میں اپنے آپ کو عقل کل ضرور سمجھتے ہیں

لیاقت بلوچ کے بیان کی باز گشت ابھی ختم  نھیں ہوئی
(Radio Free Asia

mslm
ایغور عوام آپ سے پیسے نہیں مانگ رہے- تیس سیکنڈ سے ایک منٹ کا ٹائم چاہیے- اس پٹیشن کو سائن کریں اور زیادہ سے زیادہ پھیلائیں-


mslm mmalk cheen se apne muashi talqaat khraab krna nhin chaahte- 

چین مشرقی ترکستان کی مسلم آبادی کے ساتھ شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے- لیکن ہرات اور تعجب کا مقام یہ ہے کہ رواں سال ایک ملین کی تعداد میں وغیر عوام کو جبری کیمپوں میں منتقل ہوں یکی خبریں سامنے آنے سے مغربی پریس تو پگھل گیا ہے مگر مسلم دنیا اب بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے- ایک متفقہ رائے یہ ہے کہ سنکیانگ میں چین کی پالیسیوں پر تنقید چین سے تجارتی تعلقات خراب ہونے کا سبب بن سکتی ہے-

mslm mmalk nh srf aogheer awaam pr zlm o stm pr khamoosh hen blkh

مسلم ممالک اوغیر عوام پر ظلم پر خاموش ہیں بلکہ اپنے ملکوں میں رہنے والے وغیر افراد پر کریک ڈاؤن میں چین کا ساتھ دی رہے ہیں-

اسکی ایک بہت بڑی وجہ مسلم ممالک کی معیشت کا چین کی معیشت سے جڑا ہوا ہونا ہو سکتا ہے- لیکن یہ  انحصار یک طرفہ نہیں ہے بلکہ پاکستان اور خلیجی ممالک میں معاشی انحصار چین کے حق میں ہے اور اگر مسلم ممالک ملکر ایک اجتماعی لائحہ عمل مرتب کر کہ چین پر سوفٹ ڈپلوماٹیک دباؤ کا استعمال کریں تو وغیر مسلمانوں کو کسی حد 
موجودہ صورت حال میں  ریلیف مل سکتا ہے-

بظاہر کمیونسٹ ممالک کی حکومتیں اپنے اندرونی معاملات میں عالمی رائے عامہ کو نظر انداز کرتی ہوئی نظر آتی ہیں مگر اندروں خانہ ان پر اثر ہوتا ہے- اسکا ایک ثبوت چین کا عالمی اشاعتی اداروں پر یہ دباؤ ہے کہ وہ چین مخالف پبلیکشنز کو سنسر کریں- اسکے علاوہ چین میں انٹرنیٹ پر پروپگنڈے کے لئے تقریباً ایک ملین کی تعداد میں نیٹ سٹیزنز بھی بھرتی کر رکھے ہیں جو کسی بھی چین مخالف پوسٹ پر تبصروں میں بحث کے رخ کو چین کے حق میں کرنے کی کوششوں پر مامور ہیں- یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں رکھنا چاہتا ہے- اور اسکی اس خواہش کو مسلم ممالک سوفٹ سفارتی ذرائع استعمال کر کہ ایغور مسلمانوں کی حالت میں بہت نہیں تو تھوڑی بہت تبدیلی تو لا سکتے ہیں-  
اس سلسلے میں ایک بہت اہم مثال تبت کی ہے- کیا وجہ ہے کہ تبت میں چین اس طرح اپنی من مانی نہیں کر سکتا جس طرح  سکینگ میں کر رہا ہے؟  مسلمانوں کے مقابلے میں بدھ مت کے ماننے والوں  کی آبادی دنیا میں بہت کم ہے لیکن مغربی میڈیا کے رویہ کی وجہ سے تبت کے بارے میں عالمی رائے عامہ تبت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بہت حساس ہے- اکثر مختلف مغربی ممالک  میں مختلف ایڈوکیسی گروپس تبت کے حوالے سے چین کی پالیسیوں پر احتجاج کرتے رہتے ہیں- لیکن اس کے مقابلے میں مشرقی ترکستان اور اس کے باسیوں کا نام بھی بہت کم لوگوں نے سن رکھا ہے- یہی وجہ ہے کہ چین ترکستان کے مسلم باسیوں کے ساتھ ہر طرح کا ظلم رو رکھنے میں آزاد ہے لیکن تبت کے بارے میں اسے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے-

چین نے نائن الیون کے بعد باقاعدہ پالیسی کے تحت ایغور مسلمانوں میں بیچینی اور چند احتجاجی واقعات کو دہشت گردی اور اسلامی انتہا پسندی سے جوڑا- اس دور کے اسلاموفوبک ماحول میں مغربی میڈیا نے بھی اس مسئلے کی اسی ترہ تصویر کشی شروع کر دی- ٢٠٠٢ میں عراق پر حملے کے لئے سلامتی کونسل میں چین کو ویٹو کا حق استعمال کرنے سے روکنے کے لئے امریکا نے مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا حالانکہ اس کے کوئی شواہد موجود نہیں تھے-  
 اختیار کر کہ 

مسلم ممالک چین سے اپنے تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتے- بزنس انسایڈر نامی جریدے کا کہنا ہے کہ بہت سے عرب ممالک خود انسانی حقوق کے حوالے سے بہت سی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں- جریدے کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو اٹھا کر اپنی طرف توجہ مبذول کروانا نہیں چاہتے- ترکی نے ماضی میں چین کے خلاف آواز اٹھی ہے لیکن چین اسے اب تک بھول نہیں سکا ہے- 

وں بیلٹ منصوبہ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...