سنتے کم تھے، مگر پتہ نہیں کیسے انھیں بہت سے معاملات کی خبر ہوتی اور وہ ہمارے ساتھ پھپو کے رویے پر شاکی رہتے. سچ بات یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں زیادہ حسساس تھے. ہم کوئی سترہ سال کے ہونگے کے امی کسی سلسلے میں کراچی گئی ہوئی تھیں. گھر میں شاید نصیر چچا اور کچھ دوسرے مہمان بھی آئے ہوے تھے. پھپو نے کھانے کے وقت ہمیں نیچے بلایا. ہم شاید اپنی کسی علمی و تحقیقی مصروفیت (مطلب کوئی رسالہ وغیرہ پڑھ رہے ہونگے) میں مشغول. ہمیں کچھ دیر ہو گئی.
ہم نیچے پہنچے تو دسترخوان پر کھانا شروع نہیں ہوا تھا. پھپو نے جھنجھلاہٹ میں ہمیں دیر سے آنے پر غصّے میں کچھ کہہ دیا. بس پھر کیا تھا. نخرہ ہم میں بھی کم نہ تھا. کھانا وہیں چھوڑ واپس سیدھے اوپر اپنے پورشن میں. ابّو بھی وہیں دسترخوان پر موجود تھے، وہ کچھ نہ بولے. لیکن پھپا تڑپ کر کھانا چھوڑ کر ہمارے پیچھے اوپر چلے آئے.
پھپا نے ہمیں کس کس جتن سے نہ منایا ہو گا مگر ہمارے نہ ماننے پر وہ نیچے چلے گئے اور وہاں سے کھانا کھائے بغیر سیدھا دو سو کلومیٹر دور کراچی، احمد چچا کے گھر.
احمد چچا کے گھر جا کر پھپو کے ساتھ ہمارے رویے پر ایک لمبی چارج شیٹ سنائی جس میں زیادہ تر باتیں انکی اسی حد سے زیادہ حساسیت کا نتیجہ تھیں جنکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا. ہم سے کوئی قسم لے لے ہم نے انسے اس موضوع پر کبھی کوئی بات کی ہو. سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں پھپو سے ایسی کوئی خاص شکایت تھی بھی نہیں. ایسی باتیں شاید ہر گھر میں ہوتی ہیں. مگران کی محبت کہ تکلیف ہمیں ہوتی اور دل پرچوٹ وہ محسوس کرتے.
رمضان کے دوسرے عشرے میں اپنی بہت مختصر سی بیماری کے دوران حیدرآباد کے سول ہسپتال کے کارڈیولوجی وارڈ میں جو دیوان مشتاق کہلاتا کے ایک پرائیویٹ روم میں کچھ دن مقیم رہے. گھرمیں سے دو تین افراد ضرورانکے ساتھ ہوتے. وہاں بھی ہمیں تاکید کرتے کہ، 'سارا کی پڑھائی میں آپ انکی مدد کیا کریں'.
خدشات دل میں لئے ہم چونک کے انکی طرف دیکھتےکہ یہ ہمیں وصیت کی طرح کیوں کہہ رہے ہیں. پھر اپنے دل کو تسلی دیتے، ایسی نصیحتیں تو یہ ہمیشہ سے اٹھتے بیٹھتے کرتے ہی رہتے ہیں ہاسپٹل میں شمو اپی سے کہا، 'الله آپ لوگوں کو صبر دے اور میرا بہتر نعم البدل دے.' جاتے جاتے بھی انکا دل ہمارے لئے ہی تڑپ رہا تھا. انکو ہمارے لئے اپنا نعم البدل چاہیے تھا.
میں چھوٹی سے اتنی بڑی ہو گئی. مجھے یاد نہیں پڑتا کے کبھی انھوں نے مجھے ڈانٹا ہو. ایک دن ہسپتال کے کمرے میں چکن سوپ پلا رہی تھی تو مجھے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا. میں نے پھر بھی چمچہ میں موجود سوپ انکے منه میں انڈیل دیا. پتہ نہیں کس تکلیف میں ہوں گے، زندگی میں پہلی دفعہ مجھے سخت لہجے میں جھڑکا. میں پیچھے ہٹ گئی. لیکن انھیں فورا ہی محسوس ہوا وہ کچھ غلط کر گئے. پتہ نہیں کس طرح اپنے اوپر جبر کر کے انھوں نے میرے لئے دوبارہ منہ کھولا اور کہنے لگے، 'پلائیے.' بستر مرگ پر اپنے لئے انکی یہ محبت مجھے نہیں بھولتی.
پیر، 19 اپریل، 2021
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
MArgresa
تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...
-
بی جے پی کے مسلم مخالف قوانین کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں احتجاج کرنے والی بیاسی سالہ خاتون: ٹائم میگزین کی با اثر ترین افراد کی لسٹ میں ش...
-
تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں