کیا کسی کو کاشغر، ختن، یارقند، شاہد اللہ، مرال باشی، ترپان، غلجہ، کارغالیق چینی نام محسوس ہوتے ہیں؟ پاکستانی صحافیوں کی چینی حمایت
مشک ختن کا ذکر محمد علی شہکی کی گی ہوئی مشهور غزل جان بہاراں میں موجود ہے- اقبال کے ایک شعر میں جو کاشغر کا نام تھا کیا وہ واقعی چین کا حصہ تھا؟
رعایت الله فاروقی کا پورا بیانیہ چین اور مغرب کی چپقلش پر مبنی ہے اور انہوں نے اپنے قاری کے مغرب دشمن جذبات کو ابھار کر چین کو مظلوم اور معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے یہاں تک کے ماؤ زے تنگ کے دور کو بھی وہ چینی ترقی کے آغاز قرار دیتے ہیں- اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ چین اور مغرب کے درمیان تصادم موجود ہے- لیکن اس تصادم میں الجھا کر اور چین کو معصوم دکھا کر آپ ایغور قوم پر ہونے والے ظلم کی پردہ پوشی تو نہ کریں- مذکورہ کالم نگار کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کی کہانی کا ایسٹ ترکستان یعنی مشرقی ترکستان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسکا آغاز سو صالح افیون کی جنگ سے ہوتا ہے-
میں اس جگہ انکی تصحیح کر دوں سنکیانگ چین کا نہیں وسط ایشیا کا علاقہ ہے جسے تاریخی طور پر مشرقی ترکستان کہا جاتا ہے- مغربی ترکستان روس سے آزاد شدہ وسط ایشائی ریاستوں پر مشتمل ہے جبکہ مشرقی ترکستان جسے چین نے ١٩٤٩ میں قبضے کے بعد سنکیانگ یا نئے علاقے کا نام دیا-
یہاں کے مقامی باشندے چینی نسل کے "ہان" نہیں بلکہ ترک نسل کے ہیں اور دوسری وسط ایشیائی باشندوں کی طرح. ترکی زبان کا ہی ورژن بولتے ہیں- انکی ثقافت، زبان، مذہب یہاں تک کے شکلیں بھی چینیوں سے نہیں بلکہ وسط ایشیا کے باشندوں سے ملتی ہیں جبکہ فاروقی صاحب انھیں مسلسل چینی مسلمان کہہ رہے ہیں-
١٩٤٩ میں چینی قبضے کے بعد سے یہ مسلمان شدید چینی مظالم کا شکار رہے جن میں ١٩٤٩ سے ماؤ کی وفات تک کسی قسم کی مذہبی سر گرمی پر پابندی، حج پر پابندی، بچوں کو قران پڑھانے پر پابندی، وغیرہ وغیرہ کا شکار رہے- ماؤ کے مرنے کے بعد بتدریج سختیاں کم ہوئیں- لیکن ١٩٩٢ میں وسط ایشیا کی ریاستوں کے آزاد ہونے اور روس کی شکست کے بعد دوبارہ سے سختیاں شروع -ہو گئیں- ٢٠١٦ سے سخت کریک ڈاون جاری ہے- میں ترکی، پاکستان، افغانستان، یوروپی ممالک، آسٹریلیا، امریکا اور کینیڈا کے متعدد ایغور بھائی بہنوں سے انٹرویو کر چکی ہوں- بہت سے میرے فیس بک فرینڈس میں شامل ہیں- ان سے براہ راست بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے- ان میں اردو اور انگریزی بولنے والے ایغور بڑی تعداد میں موجود ہیں-
شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے چینی سختیوں کے باوجود ایغور عوام کے کچھ خاندان دشوار گزار پہاڑی راستوں سے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوے- ایوب دور میں انہیں پاکستان کی شہریت بھی دی گئی- ایسے تقریباً ١٥٠٠ خاندان اس وقت را ول پنڈی، گلگت اور کچھ دوسرے شہروں میں مقیم ہیں-
چین کی نسل کشی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستانی شہریت کے حامل ایغوروں پر بھی پاکستانی حکومت اور فوج کے ذریعے دباؤ ڈالا جاتاہے- یہاں تک کہ انکے قائم کردہ ایغور اسکول بھی بند کروا دیئے جاتے ہیں- اس بارے میں جو لوگ مزید معلومات حاصل کرنا چاہیں وہ رول پنڈی میں مقیم عمر بھائی سے رابطہ کر سکتے ہیں-
چینی حکومت امریکی وار آن ٹیرر کا فائدہ اٹھا کر ایغور مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے- اور پاکستانی انٹلیجنس کے اداروں پر زور دال کر یہاں مقیم ایغوروں کو اٹھواتی بھی رہی ہے- چین نے پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ایغور علیحدگی پسندوں کو تربیت دے رہا ہے- جس پاکستانی شہریت کے ایغور بھائی کو پاکستانی ایجنسیوں سے اٹھوایا گیا ٢٠١٨ میں وہ شاید سامنے آنا نہ چاہیں لیکن میں انسے اکتوبر ٢٠١٨ سے رابطے میں ہوں-
٢٠١٦ کے کریک داؤں سے پہلے ایغور تاجر شاہ راہ قراقرم کے راستے پاکستان آیا کرتے تھے- اب انکا کچھ پتا نہیں- راجہ بازار میں تجارت کرنے والے ایک ایغور نے مجھے بتایا کہ ایغور عوام چینی ٹوتھ پیسٹ، کاسمیٹکس، فوڈ آئٹم کو استعمال نہیں کرتے تھے- وہ یہ آئٹم پاکستان سے در آمد کو ترجیح دیتے تھے- یہ تمام پاکستانی ایکسپورٹس ٢٠١٦ کے بعد سے تقریباً زیرو ہو گئی ہے- ساری دنیا ٹریڈ بڑھنے پر زور دیتی ہے جبکہ ہم ٹریڈ نہیں ید پر چل رہے ہیں-
٢٠١٧ میں سنکیانگ کی صوبائی حکومت نے "انتہا پسندکے خلاف ایک قانون کی منظوری دی جسکے مطابق سنکیا نگ کے بازاروں میں کوئی ایسی شے فروخت نہیں ہو سکتی جس پر عربی رسم الخط کی تحریر موجود ہو- یاد رہے اردو بھی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے-
٢٠١٨ میں بیجنگ کے پاکستانی سفارت خانے کے سامنے ان پاکستانی تاجروں نے مظاہرہ کیا جن کی بیویاں چینی حکومت نے کیمپ میں بھیج دیا تھا- ایسے متعدد پاکستانی تاجروں سے میں ذاتی طور پر بات چیت کر چکی ہوں- ان میں سے بعض کے بچوں کو والدین کی موجودگی میں سرکاری یتیم خانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے- پاکستانی تاجروں کی بیویوں میں سے چند کو آزاد کیا گیا ہے لیکن کچھ کو انتہا پسندی کے قانون کے تحت دس دس سال کی سزا دیکر جیل بھیج دیا گیا ہے- سزاؤں میں بڑی تعداد اسکارف پہننے، اجازت سے زیادہ بچے پیدا کرنے، کسی مذہبی سرگرمی میں ملوث ہونے پر دی گئی ہیں-
کیمپ میں قید کے لئے کوئی جرم ثابت ہونا ضروری نہیں- ٢٠١٨ میں بہت شور مچنے پر چینی حکومت نے اسلام آباد کے چینی سفارت خانے میں اس بات کا اقرار کیا کہ یہ کیمپ در اصل اصلاحی مراکز ہیں- اور یہاں انتہا پسندی کا شکار ایغور عوام کو رکھا گیا ہے-
لیکن حیرت ہے کہ ہمارے دانشور چین کے اس اعتراف کو بھی پی گئے ہیں- میری وال ف موجود لوگوں سے گزارش ہے کہ وال پر موجود ایغور بھائوں سے رابطہ کر کہ خود تحقیق کریں- مزید ایغور بھائوں سے رابطے کے لئے میرے وہاٹسیپ پر میسج کریں- ٧٨٠-٩٣٧-٤٧٥٠ 780-937-4750- اپنے ملک سے کینیڈا کا کوڈ ضرور ڈال لیں آغاز میں- (جاری ہے )
قزاقستان سے تعلق رکھنے والی ایغور خاتون گلبہارجلی لووا ، قزاقستان کے ہی شہری عمربیکالی، مصر کی شہری ایغور خاتون سے میں ذاتی طور پر بات چیت کر چکی ہوں- یہ تینوں چینی شہری نہ ہونے کی بنا پر چھوڑے گئے-
اسکے علاوہ ١٩٩٠ کی ڈھائی سے لیکر چین سے فرار ہونے تک کسی مرحلے پر چینی حکومت کے قید کردہ ایغور بھائیوں اور بہنوں کی کثیر تعداد سے میں ترکی اور کینیڈا میں ذاتی انٹرویو کر چکی ہوں-
ان سب حضرات نے سنکیانگ میں جو کچھ سہا وہ بھی اندوہ ناک تھا لیکن اس وقت ساری دنیا میں مقیم ایغور صرف ایک بات کہہ رہے کہچینی حکومت نے ہمارے بہن بھائیوں والدین بیوی بچوں کو چین نے کیمپوں میں قید کیا- کچھ کو چوڑا بھی گیا لیکن انہیں جبری لیبر کیمپس میں بھیج دیا گیا- کچھ سے ایسی وڈیوز بنوائی گئیں ہیں جن میں ان ایغوروں کا کہنا ہے کہ ہم انتہا پسندی کا شکار تھے اب ہم یہاں بہت خوش ہیں-
استنبول میں مشرقی ترکستان کے علاقے ترپان سے تعلق رکھنے والے عبدللہ سمیع نے مجھے بتایا کہ وہ مسلسل اپنے اٹھائی جانے والے رشتے داروں کی تصویر کے ذریعے انٹرنیٹ پر احتجاج کرتا رہا- ٢٠٢٠ میں اسکی بیوی کی ایک خالہ زاد بہن کی ویڈیو چینی چینل سی تی سی سامنے لیکر آیا، جس میں اسکی کزن پینٹ شرط پہنے ایک ہوٹل میں خوشی خوشی ویٹرس کے فرائض انجام دے رہی تھی اور اپنے تین سالہ بیٹے سے نیٹ کے ذریعے بات بھی کر رہی تھی- چینل کا کہنا تھا کہ عبدللہ سمیع نامی استنبول میں مقیم ایغور ایک جھوٹی پروپیگنڈا مہم چلا رہا ہے جب کہ اسکی بیوی کی کزن کیمپ میں نہیں بلکہ آزاد ہے- عبدللہ نے وہ وڈیو بھی مجھے بھیجی اور مجھ سے کہا کے اس وڈیو میں انہوں ن اسکے شوہر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا نہ ہی یہ بتایا کہ ان خاتون کی والدہ کو چینی حکومت نے مذہبی سرگرمی پر دس سال سے زائد کی سزا سنائی ہے- عبدللہ خود چین سے کیسے فرار ہوا یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن میں انشاللہ آپ لوگوں کو سناؤں گی- اسکی والدہ نے ٢٠١٦ میں ترکی کے راستے عمرے کا سفر کیا- ا واپسی پر انہیں اور انکے پورے خاندان کو کیمپ میں منتقل کر دیا گیا-
ماؤ کے مرنے کے بعد اور قراقرم ہائی وے کی تعمیر کے
کیا رعایت الله فاروقی اور اوریا مقبول جان واقعی این پاکستانی شوہروں سے بھی واقف نہیں جن کی بیویاں اور بچے چین کی قید میں رہے اور بہت سے اب بھی ہیں؟
محترمی ریت اللہ فا روقی ملک عزیز کے مؤقر اور سنئیر کالم نگار ہیں- پچھلے دنوں میرے کی احباب نے جن میں سے کچھ بیرون ملک بھی مقیم ہیں انکے چینی اور مسلمان کے نام سے انکے کالموں کی ایک سیریز مجھے اس فرمائش کے ساتھ بھیجی کے میں اسکا جواب دوں- اسکی وجہ یہ ہے کہ میں ستمبر ٢٠١٨ سے موجودہ چین کے سنکیانگ نامی خطے کے مسلمانوں پر کام کر رہی ہوں اور اس وقت ایشیا، یورپ، امریکا، آسٹریلیا سمیت تمام بر اعظموں میں مقیم ایغور بھائیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں- احباب کا شکریہ-
فاروق عادل، اوریا مقبول جان اور اب رعایت الله فاروقی چین کی حمایت میں ایغور مسلمانوں کی نسل کشی کو مغربی پروپیگنڈا ثابت کرنے کے لئے میدان میں آ چکے ہیں- موخر الذکر نے ایک نہ دو اچانک چین کی محبت میں چار کالم لکھ کر اپنے مداحوں کو حیران کر دیا- پچھلے تین چار دن سے لوگ مجھے انکے کالموں پر مبنی پوسٹوں پر مجھے ٹیگکر رہے ہیں- کچھ بیرون ملک مقیم احباب بھی مجھے انکے کالموں کی ای کاپی بھیج رہے ہیں- یہ تمام سنئیر صحافی حضرات بغیر کسی ایغور بھائی سے بات چیت کے اندھا دھن ایغور قوم پر چینی مظالم کا انکار کر رہے ہیں- پاکستان میں اردو بولنے والے ایغور موجود ہیں- میں ترکی پاکستان اور امریکا میں مقیم ایغور حضرت کے ساتھ لائیو سیشن بھی کر چکی ہوں- اوریا مقبول صاحب اور بعض دوسرے صحافیوں کو میں نے ایغور بھائیوں سے کنیکٹ کرنے کی افر کی مگر ہمارے یہ بڑے بڑے صحافی ان سے ملنے یا بات چیت کر کے حقیقت جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے- کم از کم یہ ان پاکستانی شوہروں سے ہی بات کر لیں جن کے بیوی بچے چین میں قید رہے اور بہت سے اب بھی ہیں-
پہلی
کیا وجہ ہے کہ صحافی ہو کر انہیں اپنے موضوع سے متعلق اسٹیک ہولڈر سے قطعاً دلچسپی نہیں-
تزئین حسن
اگر ریت اللہ فاروقی ایغور مسلمانوں سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم ایغور خواتین کے ان پاکستانی شوہروں میں ہی کسی سے رابطہ کر لیتے جو بچوں سمیت چین کے کیمپوں میں قید رہیں اور ان میں سے چند ان بھی چین کی قید میں ہیں- چین نے دباؤ اور رشوت استعمال کر کے ان میں سے چند کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے پر مجبور کر دیا ہے-
ان کالموں میں کچھ سوالات اٹھائے گئے ہیں جنکا جواب اس وقت ہمارے ایغور بھائیوں کو در پیش صورتحال میں بہت ضروری ہو جاتا ہے-
فاروقی بھائی اگر ان مضامین کو لکھنے سے پہلے ایغور بھائیوں سے، جن میں سے کچھ اردو بولنے والے بھی ہیں، ملاقات کر لیتے تو شاید وہ صحیح صورتحال سے واقف ہوتے- اردو بولنے والے ایغور بھائوں میں بڑی تعداد پاکستان کے دینی مدرسوں سے فارغ التحصیل بھی ہے- انکا تعلق زیادہ تر مشرقی ترکستان جنھیں چین نے ١٩٤٩ میں قبضے کے بعد سنکیانگ ایغور آٹو نومس ریجن کا نام دیا ہے، کے علاقوں کاشغر، ختن، یارقند، مرال باشی سے ہے-
زبان بولتے ہیں
میں ترکی میں چار ہفتے گزارے
بڑی تعداد میں بھائیوں اور بہنوں سے انٹرویو کیے-
فیس بک پر بھی ان میں سے اردو اور انگلش بولنے والوں کو لائیو مدعو کیا،
فاروقی بھائی پر یہ بھی واضح کر دوں کے صحافت کے میدان میں میرا اور انکا کوئی مقابلہ نہیں- وہ مجھ سے بہت سنئیر ہیں اور میں انکا بہت احترام کرتی ہوں لیکن
میں رعایت الله بھائی کے کالموں پر اور ان میں اٹھائے گئے سوالات پر باری باری تبصرہ کرونگی اور اپنی استطاعت کے مطابق انکا جواب دینے کی کوشش کروں گی-
اپنے پہلے کلام کا آغاز فاروقی بھائی نے مغربی میڈیا کے غیر مستند ہونے سے کیا ہے- اس پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرونگی- یہ صحیح ہے کے ہمیں بہ حیثیت مسلمان اور خصوصاً بطور صحافی سنی سنائی باتوں کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے چاہے وہ چینی میڈیا ہو، اسرائیلی میڈیا ہو، بھرتی میڈیا ہو یا امریکی اور برطانوی- ریت اللہ بھائی تھوڑا سا اگر اس اصول پر عمل کر لیتے اور کم از کم پاکستان میں مقیم ایغور بھائیوں سے ہی گفتگو کر لیتے تو یقیناً وہ انکے کمنٹس ضرور ان مضامین میں شامل کرتے- ابھی بھی وقت نہیں گزرا- میں ذاتی طور پر ان سے گزارش کروں گی کہ میں انکا رابطہ ترکی اور پاکستان میں موجود اردو بولنے والے ایغور بھائیوں سے کروا سکتی ہوں- خبروں کے مستند ہونے پر ایک بیان کے بعد فاروقی بھائی نے چین کی مغرب سے سو سالہ افیون جنگ کا قصہ چھیڑا ہے اور اس امرکو قطعاً مسترد کر دیا ہے کہ سنکیانگ اور ایسٹ ترکستان کا آپس میں کوئی تعلق ہے- یہاں میں دو باتوں کی تصحیح کرنا ضروری سمجھتی ہوں جو فاروقی بھائی کو شاید نہیں معلوم-
چینی نسل کے "ہوئی" مسلمان اور سنکیانگ کے مسلمان ایغور
یہ بات بھی واضح کر دوں کہ چین میں دو طرح کے مسلمان رہتے ہیں- ایک تو پراپر چین میں جنکا تعلق چینی نسل سے ہی ہے- یہ مسلمان سلطنت عباسیہ کے دور سے مختلف ادوار میں مختلف خدمات دینے چین آتے رہے- ان میں تاجر بھی شامل تھے اور چینی فوج نے عباسی دور میں خود سلطنت عباسیہ سے تعاون طلب کیا- ان میں
موجودہ سنکیانگ کو یہاں کے رہائشی آج بھی ایسٹ ترکستان، دوغو ترکستان، مشرقی ترکستان یا شرقی ترکستان کے نام سے ہی پکارتے ہیں- ترکستان کو سینٹرل ایشیا کا نام انگریز نے دیا اس سے قبل یہ ترکستان ہی کہلاتا تھا- مغربی ترکستان موجودہ وسط ایشیائی ریاستیں ہیں جن پر روس کا قبضہ رہا اور مشرقی ترکستان کو چین نے سنکیانگ کا نام دیا ہے جسکا مطلب ہے نیا علاقہ- بظاھر اسے سرکاری طور پر آٹونومس یعنی خود مختار علاقے کا نام دیا گیا ہے- ١٩٥٦ میں اسے سنکیانگ ایغور آٹو نومس ریجن کا نام دیا گیا ہے-
جس وقت چین نے کی ریڈ آرمی نے اس علاقے کو چند کمیونسٹ مسلمانوں کی مدد سے قبضے میں لیا، اس وقت یہاں ٨٥ فیصد ایغور اور دس فیصد قازق، ازبک، کرغیز، منگول اور تاجک مسلمان مقیم تھے- ہاں چینی آبادی چین کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پانچ فیصد سے بھی کم تھی-
یہاں کے رہنے والے مقامی لوگ ایغورہوں یا وسط ایشیا کی دوسری نسلوں سے اپنے آپ کو ترک کہتے ہیں اور ترکی زبان کا ہی ایک dialect بولتے ہیں- انکی ثقافت، مذہب، زبان حتیٰ کے چہرے کے نقوش بھی چینیوں سے نہیں بلکہ وسط ایشیا میں رہنے والوں سے ملتے ہیں- ایسے میں انہیں چینی مسلمانوں کے نام سے موسوم کرنا اتنا مناسب نہیں- شاید فاروقی بھی نے علامہ اقبال کا وہ شعر سنا ہو
نیل کے ساحل سے لیکر تبھ خاک کاشغر
جی ہاں یہ کاشغر جس پر آج چین کا قبضہ ہے، مسلم دنے اکا حسا تھا- اقبال کا یہ شعر قیامت تک کے لئے اس حقیقت کو چھپنے نہیں دے گا-
ایک اور حقیقت شاید فاروقی بھی کو جس کا علم نہیں وہ یہ کہ اس علاقے کے لوگوں نے دسویں صدی میں اسلام قبول کیا-
قدیم سیاحوں نے اسے ہمیشہ چین سے باہر کے علاقے کے نام سے اسکا تذکرہ کیا-
خود چینی تاریخی ریکارڈز کہیں چین پہنچنے کے راستے کے طور پر اسکا ذکر کرتے ہیں- اگر یہ چین کا حصہ ہوتا اور افیون کی جنگ سے اسکا کوئی تعلق ہوتا تو اسے نیا علاقہ کا نام نہیں دیا جاتا-
١٧... میں پہلی دفعہ ایک ایسی طاقت چنگ سلطنت نے اس پر قبضہ کیا جو چین کے دوسرے علاقوں پر بھی حکمران تھی مگر وسط ایشیا کے مسلمان مسلسل مزاہمت کرتے رہے- جیسا کے فاروقی بھائی نے تذکرہ کیا کہ ١٨.. سے ١٨.. تک یہاں یعقوب بیگ کی حکومت رہی-
اسکے بعد بھی یہاں کے مسلمان دوسری وسط ایشیا مسلمانوں کے ساتھ ملکر مسلسل چین کے قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے رہے- اور بیسویں صدی میں دو بار یہاں باقاعدہ حکومتیں قائم کین جنھیں چین کی طرف سے مسلسل حملوں کا سامنا رہا- اور بلاخر ١٩٤٩ میں چین نے باقاعدہ اس پر قبضہ کر لیا-
لیکن بات صرف چین کے قبضے کی نہیں بلکہ اس نسل کشی کی ہے جو یہاں ١٩٤٩ سے سلو موشن میں اور ٢٠١٣ کے بعد سے بتدریج بڑھ کر اب اس مقام پر پہنچ گئی ہے حالیہ حالت میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ یہ نسل کشی کی ہر تعریف پر پورا اتر رہے ہیں-
نسل کشی کے حوالوں سے یہ تمام معلومات مسلمان ایغور بھائوں اور بہنوں کے بیانات پر مشتمل ہیں اور انکا کوئی ایک پہلو نہیں-
اپنے پہلے کالم میں مغربی میڈیا کے غیر مستند ہونے اور چین اور انگریزوں کی چپقلش کا لمبا قصے کا ایغور قوم یا سنکیانگ سے کوئی تعلق نہیں لیکن فاروقی بھی نے ذیل کے جملے سے اسے جوڑنے کی کوشش کی ہے-
"اسی دوران برطانوی پشت پناہی میں ایک ازبک کمانڈر یعقوب بیگ نے جنوب میں حملہ کرکے “سنکیانک” پر قبضہ کرلیا۔ یوں چین اور مغرب کی کشمکش میں پہلی بار سنکیانک تاریخ کا حصہ بنتا نظر آیا۔ یہ قبضہ تیرہ سال بعد چینیوں نے چھڑا لیا۔ یعقوب بیگ کا یہ قبضہ 1864ء سے لے کر 1877ء تک رہا۔"
یہاں فاروقی بھی اس بات کا تذکرہ بھول گئے کہ مشرقی ترکستان میں اسکے علاوہ بھی دو مسلم حکومتیں ١٩٣٦-١٩٣٩ اور ١٩٤٥-١٠٤٩ قائم ہوئیں-
یہاں رعایت الله بھائی نے قلم کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے چین کو ایک مظلوم کے طور پر پیش کیا ہے جس پر مغرب نے بہت ظلم کیا- یقیناً ایسا ہی ہوگا مگر اس ظلم کا مشرقی ترکستان یا بقول آپکے سنکیانگ کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ اس وقت تک تو خود چین بھی اسے اپنا حسا نہیں گردانتا تھا-
نیل کے ساحل سے لیکر تا بہ خاک کاشغر
یوں 1955ء سے وہ تاریخی سفر شروع ہوا جس میں چین مسلسل پیش قدمی اور مغرب اس کے مقابل مسلسل پسپائی دیکھ رہا ہے۔ پسپائی کے ان آخری سالوں میں شکست خوردہ مغرب چین کے خلاف پروپیگنڈے کا جو روایتی ہتھیار استعمال کر رہا ہے اس میں سنکیانک کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔
١٩٤٩ میں اس علاقے کو قبضے میں لینے کے بعد چین نے فوری طور پر ایک ادارے کا قیام عمل میں لیا جسے BINGTUAN کا نام دیا- یہ بیک وقت پیرا ملٹری فورس پر بھی مشتمل تھا اور انڈسٹریل ورکرز پر بھی- اس ادارے کو سنکیانگ کی بہترین زرعی اراضی دی گئی اور سنکیانگ کی سرحدوں اور کراس سیکشن میں بڑے بڑے انڈسٹریل کمپلیکس تعمیر کے گئے- اسکے ساتھ ساتھ اندروں چین خصوصا چین کے مشرقی علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں ہر سال ہان چینی ورکرز یہاں لا کر رکھے گئے- یہی نہیں bingtuaan نامی ادارے کو فوجی اختیارات اور اسلحہ دیا گیا- پچھلے ٧٢ برس میں دس ملین سے زائد ہاں چینی یہاں لائی گئے اور اس طرح چین نے یہاں آبادی کا تناسب کلی طور پر بدل دیا-
٢٠١٦ میں جب مسلمان قوموں کے خلاف اس علاقے میں حالیہ آپریشن شروع ہوا تو اس وقت ایغور ٤٥ فیصد، دس فیصد دوسری وسط ایشیا اور ہاں چینی ٤٠ فیصد تھے-
دوسرے کالم میں بھی فاروقی بھائی چین اور مغرب کی بحث چھیڑ کر یہ ثابت کرتے رہے کہ مغرب چین کو کنٹرول کرنے کے لئے سنکیانگ کو کتنا چاہ رہا ہے اور اگر سنکیانگ الگ ہو گیا تو مغرب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں