اتوار، 11 اپریل، 2021

چین اور مسلمانوں کی کہانی۔ تحریر؛ رعایت اللہ فاروقی

چین اور مسلمانوں کی کہانی۔ تحریر؛


پہلی قسط


ہم شاید اس کرۂ ارض کی ایسی واحد قوم ہیں جو خود اپنے بارے میں بھی “حقیقت” اس دعوے کو مانتے ہیں کہ جو ہمارا دوست نما دشمن ہمارے متعلق کرے۔ کوئی چیز بی بی سی یا وائس آف امریکہ میں شائع ہوجائے تو ہم اسے فورا یہ کہہ کر قبول کر لیتے ہیں کہ یہ تو ایک “مستند” عالمی ادارے کی رپورٹ ہے۔
ہم یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے کہ یہ ادارے کوئی بین الاقوامی مشترکہ اثاثے نہیں بلکہ برطانیہ اور امریکہ کی وزارت خارجہ کے ذیلی ادارے ہیں جو انہی ممالک کے مفادات کے لئے تشکیل دئے گئے ہیں۔ اور یہ ہمیشہ ایسے ہی مواقع پر کچھ خاص قسم کا منظم پروپیگنڈہ شروع کرتے ہیں جب ان کے ملک کا کسی ملک سے کوئی تنازعہ چھڑ جائے۔
جب ہم اپنے متعلق بھی ان کی گمراہ کن رپورٹس اور ن کے فل ٹائم یا پارٹ ٹائم “ملازم” پاکستانی کالم نگاروں کی آرا قبول کر لیتے ہیں تو پھر چائنا کیا چیز ہے ؟ ہم چائنا سے متعلق بھی حقیقت اسی کو مانتے ہیں جو بی بی سی اور وائس آف امریکہ کہیں۔حماقت کی حد دیکھئے کہ سنکیانک کے مسلمانوں کی حالت کے حوالے سے چائنیز حکومت ہی نہیں بلکہ مسلم ممالک کی رائے اور موقف بھی نظر انداز کرکے ہم اپنا یقین بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اور یوں ہمارا ذاتی موقف بھی وہی بن جاتا ہے جو یہ ادارے چاہتے ہیں۔
سنکیانک کی کہانی نہ تو کسی ایسٹ ترکستان سے شروع ہوتی ہے اور نہ ہی کسی “جہاد” سے۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے افیون سے۔ وہ افیون جس کا برطانیہ چین میں سب سے بڑا تاجر بن کر سامنے آیا تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں چین سے چائے خریدنے والی گوری سرکار کو ایک مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ چائے کی ڈیمانڈ دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ اس بڑھتی ڈیمانڈ کے نتیجے میں چین کا تو فائدہ تھا کہ وہ فروخت کنندہ تھا۔ مگر گوری سرکار کو زرمبادلہ ہاتھ سے جاتا نظر آرہا تھا۔ سو اس نے زرمبادلہ بچانے کےلئے چائے کے بدلے افیون کا کھیل رچا لیا۔
ان کے بحری جہاز افیون لاکر چینی بندرگاہوں پر آتارتے اور چائے بھر بھر کر برطانیہ لے جاتے۔ نتیجتا چائنیز قوم نشئی ہوتی چلی گئی تو حکومت نے افیون پر پابندی لگادی۔ افیون کی دکانیں بند کردی گئیں اور گودام سیل کر دئے گئے۔ اس پر 1842 میں برطانیہ کا بحری بیڑہ چین آگیا۔ چینی شکست چار برطانوی عتاب لے کر آئی۔ پہلا یہ کہ ہانگ کانگ پر معاہدے کے تحت قبضہ کر لیا گیا۔
دوسرا یہ کہ چین کو پابند کیا گیا کہ اس کی پانچ بندرگاہیں برطانوی شہریوں کے لئے باہیں کھولیں گی۔ جنہیں یہاں رہائش اور تجارت کا حق ہوگا۔ تیسرا یہ کہ اگر کسی گورے نے کوئی جرم کیا تو چینی عدالت کو اسے سزا دینے کا حق نہ ہوگا۔ یہ حق برطانوی عدالت کا ہی ہوگا۔ اور چوتھا یہ کہ برطانوی مصنوعات پر ڈیوٹی برطانیہ کی منشا کے مطابق وصول کی جائے گی۔
جلد ہی برطانیہ نے امریکہ، فرانس اور روس کو بھی مدعو کرلیا تاکہ وہ بھی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں کرسکیں۔ ان تینوں ممالک نے بھی چین سے انہی شرائط پر معاہدے کر لئے جن شرائط پر برطانیہ کرچکا تھا۔ ان معاہدات میں چین کے نقطہ نگاہ سے اگر بچت کی کوئی بات تھی تو بس یہ کہ یہ مغربی قزاق اس کے صرف ساحلوں تک محدود تھے۔ لیکن جلد بغاوت ہوگئی۔ اس اس بغاوت کو برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے مل کر کچل دیا تو معاہدات از سرنو ترتیب دئے گئے۔ اور اب کی بار لگ بھگ پورا مغرب ہی چین کو تجارت کے نام پر لوٹنے چلا آیا۔
جب پورا مغرب آیا تو جہاں پہلے پانچ بندرگاہوں پر مغربی کنٹرول تھا اب 90 بندرگاہیں ان کے کنٹرول میں چلی گئیں۔ اور ساتھ ہی اندرون چین تک رسائی بھی حاصل کرلی گئی۔ چین عملا ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ کہیں جرمنی کا راج چل رہا ہے تو کہیں برطانیہ و فرانس کا۔ اور کہیں سپین و اٹلی کا تو کہیں ڈینمارک و بیلجیم کا۔ ایک مستقل معاہدے کے تحت چین میں زمینیں خریدنے، چرچ قائم کرنے، اور عیسائیت کی دعوت و تبلیغ کا حق بھی حاصل کرلیا گیا۔
ہمارے آج کے دیسی لبرلز قوم کے بچوں کو یہ تو بتاتے ہیں کہ مغرب میں سیکولرزم رائج ہے اور سیکولر ریاست میں مذہب کا ریاست و سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ مگر یہ نہیں بتاتے کہ ان سیکولر ریاستوں کے کلونیل دور میں “مذہب” ہی ان کا سب سے اہم ہتھیار رہا ہے۔ عیسائی مشنری ان کے ہر قبضے کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ چین میں بھی قبضہ مستحکم کرنے کے لئے چرچز کا جال پھیلا کر مقامی آبادی کو عیسائی بنانا شروع کردیا گیا۔
اور یہ مقامی عیسائی پھر وفادار بھی چین کے بجائے قابض مغربی قزقوں کے بنتے گئے۔ اسی دوران برطانوی پشت پناہی میں ایک ازبک کمانڈر یعقوب بیگ نے جنوب میں حملہ کرکے “سنکیانک” پر قبضہ کرلیا۔ یوں چین اور مغرب کی کشمکش میں پہلی بار سنکیانک تاریخ کا حصہ بنتا نظر آیا۔ یہ قبضہ تیرہ سال بعد چینیوں نے چھڑا لیا۔ یعقوب بیگ کا یہ قبضہ 1864ء سے لے کر 1877ء تک رہا۔ ادھر شمال مشرق میں بیجنگ اور اس کے اطراف گورے پادری دن رات محنت کرکے چینیوں کو مشرف بہ کرسچیانٹی فرماتے رہے۔ جلد ان کے خلاف ایک زیر زمین عوامی تحریک منظم ہونی شروع ہوگئی۔ کیونکہ چینی کلچر اور شناخت داؤ پر لگ گئے تھے۔ غیرملکی صرف نیا مذہب ہی نہیں بلکہ وہ ننگا پن بھی تو لے کر آئے تھے جو مغرب میں ان کی شناخت ہے۔
1899ء میں ایک اور بغاوت ہوگئی۔ اس بار بغاوت زیر زمین تحریک کی صورت منظم ہونے والی سول آبادی نے کی تھی۔ اور انہوں نے ہتھیاروں کی کمی کو مارشل آرٹس سے پورا کیا تھا۔ اب مغرب مارشل آرٹس کے نام پر صرف باکسنگ سے ہی واقف تھا۔ سو انہوں نے کنگفو کو بھی باکسنگ کا ہی نام دے کر اس بغاوت کا نام “باکسر بغاوت” رکھ لیا۔ اگرچہ بغاوت شروع سول آبادی نے کی تھی مگر جلد حکومت بھی اس کا حصہ بن گئی، یعنی چینی سپاہ بھی میدان میں آگئی۔
اگلے دو سال میں چینیوں نے 20 ہزار چائنیز نوکرسچینز ڈھائی سو کے لگ بھگ غیر ملکی مشنریز قتل کر دئے۔ مگر اس بار بھی چین کو شکست ہوگئی۔ یوں نیا معاہدہ لکھا گیا جو “باکسر پروٹوکول” کے نام سے معروف ہوا۔ یہ معاہدہ چین سے 11 فاتح ملکوں نے کیا۔ جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، ہالینڈ، بیلجیم، اٹلی، سپین، آسٹریا اور روس شامل تھے۔
اس معاہدے کی رو سے کوئی درجن بھر اعلی چینی سویلین و فوجی حکام کی پھانسی مانگی گئی۔ چین پر 450 ملین چاندی کے وہ سکے جرمانہ عائد کیا گیا جو اس کی کرنسی تھی۔ اور یہ جرمانہ اس نے اگلے چالیس سال تک قسطوں میں دینا تھا۔ چین پر اسلحہ اور اسلحہ بنانے والی مشینری درآمد کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ بغاوت میں حصہ لینے والے افراد میں سے بڑی تعداد کو تو باقاعدہ سزائے موت دی گئی جبکہ ہزاروں چینیوں کو جیلوں میں بند کرکے خودکشی پر مجبور کیا گیا۔
1842ء سے شروع ہونے والا یہ ظلم اور جبرایک سو دس سال جاری رہا۔ اس عرصے میں چینی اپنی خود مختاری، آزادی و قومی عزت نفس سمیت ہر چیز سے محروم رکھے گئے۔ مگر بیسویں صدی کے وسط میں ہونے والی دوسری جنگ عظیم نے سب کچھ بدل دیا۔ مغرب کی چوہدراہٹ امریکہ کو منتقل ہوگئی۔ برطانیہ سکڑتا چلا گیا۔ روس 1917ء میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد مغرب کا پہلے دشمن بن چکا تھا۔ اور ادھر چین میں ماؤ زے تنگ کا لانگ مارچ ایک انقلاب کی شکل اختیار کرکے چینی نظام اور غیرملکی قابض فورسز سمیت سب کو بہا لے گیا۔
یوں 1955ء سے وہ تاریخی سفر شروع ہوا جس میں چین مسلسل پیش قدمی اور مغرب اس کے مقابل مسلسل پسپائی دیکھ رہا ہے۔ پسپائی کے ان آخری سالوں میں شکست خوردہ مغرب چین کے خلاف پروپیگنڈے کا جو روایتی ہتھیار استعمال کر رہا ہے اس میں سنکیانک کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔ اگلی سطور پر اسی کا جائزہ پیش خدمت ہوگا (جاری ہے)۔


چین اور مسلمانوں کی کہانی۔
دوسری قسط

دوسری جنگ عظیم کے بعد کی دنیا سیاسی ہی نہیں بلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی ایک بہت ہی مختلف دنیا تھی۔ سو سال قبل روس اور جاپان چین میں اتحادی رہے تھے، مگر اب یہ حریف تھے۔ امریکہ و برطانیہ سمیت پورا مغرب بھی سو سال قبل چین میں جاپان کا اتحادی رہا تھا۔ مگر اب یہ دشمن تھے۔
چین ہی میں انیسویں صدی کے دوران مغرب کا اتحادی نظر آنے والا جرمنی اب دو حصوں میں بٹ چکا تھا اور اس کی خواتین برلن میں امریکی و برطانوی فوجیوں کے ریپ کا سامنا کر رہی تھیں۔ جو آسٹریا چین میں فاتحین کی صف میں شامل رہا تھا ، اس کا تازہ تعارف یہ تھا کہ ہٹلر کا پہلا تھپڑ کھا کر ہی یہ ڈھے گیا تھا اور اب اس کی آزادی امریکہ و برطانیہ کی مرہون منت تھی۔
فرانس امریکہ ہی نہیں برطانیہ کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھنے والا ملک بن چکا تھا۔ ایسی حقارت کہ جرمنی کے ساتھ اس نے جنگ بندی کا اپنا الگ معاہدہ کرنا بہتر سمجھا تھا۔ سو سال قبل چین میں “اتحادی” کا سٹیٹس انجوائے کرنے والا روس اب سوویت یونین بن کر پورے مغرب کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ۔
سب سے بڑھ کر یہ دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ کمیونسٹ بلاک اور کیپٹلسٹ بلاک۔ ایسے میں جب چین آزادی حاصل کرکے کمیونسٹ ملک کے طور پر سامنے آیا تو اسے سو سال تک لوٹنے والے مغرب کو پندرہ سال تو سانپ ہی سونگھا رہا۔ جو سو سال تک اس ملک اور اس کے شہریوں کے ساتھ کیا تھا اس کے ہوتے یہ تو ہونا تھا۔
ماؤزے تنگ نے چین کے سارے دروازے بند کرکے “ہاؤس اِن آرڈر” کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی۔ مگر پاکستان پہلا ملک تھا جس نے نئے چین کو تسلیم کیا تھا۔ اور پی آئی اے پہلی فضائی کمپنی تھی جس کا طیارہ نئے چین کے ایئرپورٹ پر اترا تھا۔
یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ یہ اس چین کے ساتھ پہلے ہی روز سے رفاقت کا آغاز تھا جسے مغربی ملکوں نےسو سال تک لوٹ کر بدترین دشمنی نبھائی تھی، اور ظاہر ہے کہ بظاہر خاموش سہی مگر دشمنی ابھی قائم تھی۔ لیکن داد دینی پڑتی ہے اس دور کی پاکستانی قیادت کو جس نے روز اول سے ہی جدید چین سے بے حد قریبی دوستی کی ایسی بنیاد رکھ دی جو آگے چل کر پاکستان کی قومی سلامتی کی ضمانت بن گئی۔
چین اور پاکستان کی یہ رفاقت اتنی پر اعتماد تھی کہ پاکستان نے جدید چین اور مغرب کے مابین پل بننے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ یہ پاکستان ہی تھا جس نے بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین خفیہ سفارتکاری کرکے امریکہ اور چین کے تعلقات قائم کروائے۔ 1971ء میں ہنری کسنجر خفیہ دورے پر اسلام آباد آئے اور یہاں سے بیجنگ گئے۔ برف پگھلی تو فورا ہی امریکی صدر رچرڈ نکسن بھی بیجنگ جا اترے۔
یوں مغرب کے لئے جدید چین کے دروازے کھل گئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو چائنا کے دورے پر گئے تو ان کا عوامی استقبال ہوا۔ چینی شہریوں نے ایئرپورٹ اور بیجنگ کی شاہراہوں کے اطراف کھڑے ہوکر انہیں خوش آمدید کہا۔ اور یوں پاکستان وہ پہلا ملک بنا جس سے چین کے سٹریٹیجک تعلقات کا آغاز ہوا۔
جی ہاں ! اس کمیونسٹ چین کا سٹریٹیجک پارٹنر عالم اسلام کا سب سے اہم ملک بنا جس چین پر الزام ہے کہ وہ اپنے مسلمان شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ بولنے والے سوچتے ہی نہیں کہ اس کے اس سٹریٹیجک پارٹنر کی سرحد چین سے جڑی ہی “سنکیانک” کے راستے ہے۔ پورا پاک چین بارڈر سنکیانک کی حدود پر مشتمل ہے۔
ذرا ایک لمحے کو تصور کیجئے کہ پاکستان اور چین دونوں ہی کی اس سے بڑی خوش قسمتی کوئی ہوسکتی ہے کہ ان کا بارڈر چین کے مسلم اکثریتی علاقے میں ہے ؟ اگر یہ خوش بختی سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہو تو اقبال کا مصرع یاد کر لیجئے “نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر” اقبال کے مصرع والا کاشغر اسی سنکیانک میں واقع ہے۔ اقبال کو مغرب ہمارے ہاں کے “سگانِ دیسی لبرلز” سے ویسے ہی تو گالیاں نہیں دلوا رہا۔
اگرچہ چین نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر والے آئیڈیے کو بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کا حصہ بنا چکا جس کا ذکر ہم اگلی قسطوں میں کریں گے لیکن آپ ذرا نیل چھوڑئے اور گوادر کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر کا منظر ہی سامنے رکھ لیں تو سمجھنے میں دیر نہ لگے گی کہ سو سال تک چینیوں کو لوٹنے کھسوٹنے والے مغرب کے پیٹ میں اچانک سنکیانک کا درد کیوں اٹھنے لگا ہے ؟ یہ ہمدردی کی رمق بھی رکھتے تو چینیوں پر سو سال مظالم کرتے ؟
سنکیانک کے زمینی حقائق کی جانب تو ہم اگلی قسط میں آئیں گے۔ فی الحال آپ پاکستان اور چین کے سٹریٹیجک تعلقات اور چین کے لئے سنکیانک کی سٹریٹیجک اہمیت سمجھ لیجئے۔ سنکیانک کے ذریعے چین کی سرحد آٹھ ملکوں سے ملتی ہے۔ یہ ممالک انڈیا، پاکستان، افغانستان، تاجکستان، کرغیزستان، قازقستان، روس اور منگولیا ہیں۔
بھارت کے ساتھ سنکیانک کی جو تھوڑی سی سرحد ملتی ہے وہ براستہ کشمیر ملتی ہے۔ سو یہ پہلا سٹریٹیجک نکتہ ہے۔ دوسرا سٹریٹیجک نکتہ یہ ہے کہ سنکیانک کے ذریعے سب سے طویل سرحد چین کی قازقستان سے ملتی ہے۔ اور ایٹمی چین اپنا سارا یورینیم قازقستان سے ہی خریدتا ہے۔ سنکیانک کی تیسری سٹریٹیجک اہمیت یہ ہے کہ پاکستان کی چین سے ملنے والی سرحد پوری کی پوری سنکیانک سے ہی جڑی ہے۔ اور پاکستان ایسا ملک ہے جو روز اول سے ہی مغربی طاقتوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔
کیونکہ دو قومی نظریے پر بننے والا یہ ملک بظاہر ان کے غلام والا رول پلے کرتا ہے مگر اسی غلامی میں ان کے ساتھ بڑی وارداتیں ڈال جاتا ہے۔ افغان جہاد کی آڑ میں ایٹمی ملک بن کر ابھر آنا اوروار آن ٹیرر اس کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ امریکہ رو رو تھک گیا کہ افغانستان میں اس کی ذلت کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ بظاہر ہمارے ساتھ تھا مگر اندر سے طالبان کے ساتھ تھا۔ اور اب تو ہم طالبان سے اپنا تعلق اوپن بھی کرچکے۔
اسی پاکستان کی سرحد اس ایران سے بھی ملتی ہے جو مغرب کے لئے چالیس سال سے درد سر ہے۔ اور اب یہ چین کا دوسرا سٹریٹیجک پارٹنر بھی بننے جا رہا ہے۔ اور ایران کی سرحد اس ترکی سے ملتی ہے جو طیب اردگان کے دور میں معاشی و عسکری طاقت کے طور پر ہی نہیں ابھر رہا بلکہ یہ اردگان والا ترکی امریکہ اور یورپ دونوں کو اس کے باوجود ذلیل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا کہ یہ خودہے بھی ایک نیٹو ملک۔ اور یہ تینوں ممالک یعنی پاکستان، ایران اور ترکی چائنا کی طویل المدت حکمت عملی میں بے پناہ اہمیت رکھتے ہیں۔
بیجنگ سے روانہ ہونے والی کار خنجراب بارڈر سے براستہ پاکستان، ایران و ترکی سیدھا یورپ میں داخلے کا امکان رکھتی ہے۔ سو وہ ممالک جو چین کو سو سال تک لوٹتے رہے ہیں، اس پر قابض رہے ہیں، اور اس کی قومی خود مختاری کو پامال کرتے رہے ہیں، سوچتے ہیں کہ اگر کسی طرح سنکیانک کو چین سے الگ کردیا جائے تو چین کی سرحد سات ملکوں سے کٹ جائے گی۔
نہ تو چین قازقستان سے یورنیم حاصل کر پائے گا،نہ ہی اس کی ویٹو پاور پر پھدکنے والا پاکستان مزید پھدک سکے گا اور نہ ہی روڈ اینڈ بیلٹ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ پیچھے ایک ایسا چین رہ جائے گا جس سے روس کے علاوہ صرف بھارت کی سرحد ملتی ہوگی سو اسے براستہ بھارت و ساؤتھ چائنا سی دبوچنا آسان ہوجائے گا۔ (جاری ہے)

چین اور اس کی مسلمانوں کی کہانی
تیسری قسط
==========================
پروپیگنڈہ دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ آج کے مغرب سے بڑا انسانی مساوات و تعمیری مسابقت کا اس دنیا میں کوئی چیمپئن ہی نہیں ہے۔ لیکن حقیقت دیکھیں تو صنعت و تجارت کے میدان میں چائنا کی پر امن مسابقت نے مغرب کے ہوش پراں کر دئے ہیں۔ اور وہ اب ترقی کے میچ میں اپنی شکست روکنے کے لئے “بال ٹیمپرنگ” سے ملتی جلتی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کو صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا کی قیادت مغرب سے مشرق کی طرف منتقلی کا وقت سر پر آپہنچا ہے۔
چین ہمارے ہی مسلط کردہ صنعت، تجارت اور سیاست کے عالمی قوانین کی مکمل پاسداری کرکے بھی ہم سے آگے نکل رہا ہے۔ حالانکہ وہ قوانین تو ہم نے تشکیل ہی اس بند وبست کے ساتھ دئے تھے کہ ترقی ہمیشہ ہماری ہی یقینی رہے۔ مثلا زیادہ عرصہ نہیں ہوا بل کلنٹن کے دور کی بات ہے جب مغرب نے مل کر اس بات پر زور لگانا شروع کیا کہ چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا حصہ بنے اور اپنی مارکیٹ سب کے لئے کھولے۔
اس زمانے کے عالمی تجزئے نکال کر پڑھئے تو نظر آئے گا کہ سب کو یقین تھا کہ اگر چین نے امریکہ اور اس کے حواریوں کا یہ مطالبہ مانا تو نتیجتا چین ختم ہوجائے گا۔ اور اگر نہ مانا تو تب بھی تنہائی کا شکار ہوکر ختم ہوجائے گا۔ لیکن ہوا کیا ؟ 2001ء میں چین ڈبلیو ٹی او کا حصہ بھی بنا اور اوپن مارکیٹ اکانومی کی مدد سے سب کو پیچھے بھی چھوڑ گیا۔ آج امریکہ کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح اسے ڈبلیو ٹی او سے واپس نکال باہر کردے۔
بال ٹیمپرنگ کے لئے امریکہ اور اس کے حواریوں نے اپنی جیبوں میں بوتلوں کے جو ڈھکن سنبھال رکھے ہیں وہ تین ہیں۔ پہلے ڈھکن کا نام ہے آزادی،، دوسرا ڈھکن ڈیموکریسی، اور تیسرا ڈھکن انسانی حقوق کہلاتا ہے۔ امریکہ اور س کے حواری جب کسی ملک کا تیا پانچہ کرنے کا فیصلہ کرلیں تو وہ ان تین ڈھکنوں کی مدد سے ہی بال ٹیمپرنگ کرتے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ چین کے خلاف حالیہ بال ٹیمپرنگ کا آغاز کیسے ہوا۔ 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اچانک خواب آیا کہ امریکہ اور چین کے مابین تجارتی معاہدے تو بہت ہی غیر منصفانہ ہیں۔
ان معاہدوں کے نتیجے میں چین مزے کر رہا ہے جبکہ امریکہ سخت نقصان اٹھا رہا ہے۔ مگر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ ان معاہدوں کے لئے معصوم سے امریکہ کا بازو مروڑا کس نے تھا ؟ چینی ترقی کی رفتار اور امریکہ کی عالمی اجارہ داری کو لاحق خطرے کا الزام کسی پر تو رکھنا تھا۔ چنانچہ تجارتی معاہدوں پر رکھدیا گیا۔ اور یکطرفہ طور پر چین کے سٹیل اور دیگر مصنوعات پر ڈیوٹی اتنی بڑھا دی گئی کہ کوئی امپورٹ ہی نہ کرسکے۔ ٹرمپ نے سوچا تھا کہ دھیمی سروں والا چین اس اقدام پر “مذاکرات” کی پیشکش کرے گا لیکن چین کا جواب ترکی بہ ترکی آیا۔ اس نےڈیوٹی کا جواب ڈیوٹی سے دیا۔
دال گلی نہیں تو امریکہ کی جانب سے چینی ٹیلی کام جائنٹ ہواوے کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ہواوے کی چیف فائنانشل آفیسر مینگ وان زھو کو کینیڈا میں گرفتار کروا کر ان کی امریکہ حوالگی کا مطالبہ کردیا گیا۔ الزام ان پر یہ دھرا گیا کہ ہواوے کی ہانگ کانگ میں پارٹنر کمپنی نے ایران کو امریکی مشینری فروخت کی ہے جو امریکہ کی ایران پر پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ چین کا موقف ہے کہ یہ اقدام اس کے ساتھ نئے تجارتی معاہدوں کے لئے دباؤ کی غرض سے اٹھایا گیا ہے جو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ اور جوابا چین نے کینیڈا کے دو شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں بھی دھر لیا، اور ان پر مقدمہ بھی شروع کردیا۔
کھیل ہاتھ سے نکلتا نظر آیا تو چین کے خلاف پہلے سوشل میڈیا پر ہانگ کانگ اور سنکیانک کے حوالے افواہیں پھیلانی شروع کی گئیں اور جب ان افواہوں کے نتیجے میں ہر طرف تجسس کی کیفیت پیدا ہوگئی تو پھر بی بی سی کے ذریعے رپورٹ نشر کروائی گئی کہ سنکیانک میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اور یہ کہ وہاں دس لاکھ مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے جن سے جبری مشقت لی جا رہی ہے۔ کینیڈا نے آگے بڑھ کر اس فرضی اور من گھڑت “قتل عام” کے خلاف اپنی پارلیمنٹ سے قرارداد مذمت بھی منظور کروا لی۔
اب اگر آپ غور کریں تو اس پورے معاملے میں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا مذکورہ تینوں ڈھکن ہی استعمال کر رہے ہیں۔ اور استعمال کی وجہ کیا؟ فقط یہ کہ امریکہ چین کے ساتھ تجارت کے طے شدہ معاہدوں میں تبدیلی چاہتا ہے۔ لیکن ان ممالک سے اس پورے معاملے میں اوور ایکٹنگ سرزد ہوگئی ہے۔ اتنی اوور ایکٹنگ کہ ان تینوں ممالک کے کچھ نامی گرامی بلاگرز اور یوٹیوبرز بھی اپنے ہی ممالک کے خلاف اور چین کے حق میں سامنے آگئے ہیں۔ اور وہ چینی موقف کی برملا حمایت کر رہے ہیں۔ چینی موقف کے چیدہ پوانٹس یہ ہیں
٭ دس لاکھ انسانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھنے کے لئے کم از کم بھی ایک ہزار کیمپ درکار ہوں گے۔ یہ کیمپ اور ان کی سیٹلائٹس پکچرز کہاں ہیں ؟ کیا گوگل ارتھ کے دور میں ایک ہزار حراستی کیمپ اور دس لاکھ انسان چھپائے جا سکتے ہیں؟
٭ پچھلے چالیس سال کے دوران سنکیانک کےا یغور مسلمانوں کی آبادی دگنی ہوئی ہے اور یہ رفتار چین کی دیگر نسلوں سے زیادہ ہے
٭ اگر وہاں قتل عام ہو رہا ہے اور دس لاکھ لوگ لاپتہ کردئے گئے ہیں تو 2010ء سے 2018ء کے مابین ایغور مسلمانوں کی آبادی میں 25 فیصد اضافہ کیسے ہوگیا ؟ سنکیانک کی جو آبادی 2010ء میں 21 ملین تھی وہ اب 25 ملین کیسے ہوگئی ؟ اور اس میں بھی بالخصوص ایغور مسلمانوں کی آبادی میں 2 اعشاریہ 55 ملین کا اضافہ کیسے ہوگیا ؟
٭ اگر چین کا سنکیانک اور اس کے مسلمانوں کے ساتھ رویہ متعصبانہ ہے تو پچھلے ساٹھ سال میں سنکیانک کی جی ڈی پی میں 200 گنا اضافہ کیسے ہوگیا ؟ اور اس کے پر کیپٹا جی ڈی پی میں 40 گنا اضافہ کیونکر ہوا ؟
٭ 1978ء میں سنکیانک کے لوگوں کی اوسط عمر 30 برس ہوا کرتی تھی۔ روزگار، خوراک، صحت اور ماحولیات کا معیار بہتر کرنے کے نتیجے میں آج اسی سنکیانک میں لوگوں کی اوسط عمر 72 سال ہے۔ کیا یہ کارنامہ کوئی متعصب حکومت انجام دے سکتی ہے ؟
٭ اگر اس علاقے میں قتل عام چل رہا تھا اور دس لاکھ افراد کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا ہے تو اسے تو سیل ہونا چاہئے تھا۔ اس کے برخلاف صرف 2019ء میں ملکی و غیرملکی 21 کروڑ 30 لاکھ سیاح اس علاقے میں سیر و سیاحت و تجارت کے لئے کیسے چلے گئے ؟
٭ جب حکومت خود قتل عام کر رہی تھی تو پھر یہ کیسے ممکن ہوگیا کہ کرونا جیسی مہلک وبا سے سنکیانک کے صرف تین شہری ہی جان بحق ہوئے ؟ متعصب حکومت کو تو ارادی غفلت کا مظاہرہ کرکے اس وبا کے وہاں پھیلنے کی تدبیر کرنی چاہئے تھی
حیران کن بات یہ ہے کہ چین کے اس موقف کا صرف مغربی میڈیا میں ہی مکمل بلیک آؤٹ نہیں کیا گیا بلکہ مغرب کے زیر اثر مسلم ممالک کے میڈیا میں بھی یہ چیزیں نہیں آنے دی گئیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ایشیائی ملکوں کی صحافت کو خریدنے کے لئے قائم امریکہ کے “پرسیپشن منیجمنٹ فنڈ” کی برکات پاکستانی میڈیا تک بھی پہنچتی ہیں۔
اس فنڈ کی تقسیم سے نہ صرف مغرب اور اس کے نظام کے حق میں پروپیگنڈہ کروایا جاتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس بات کا بھی بند و بست کیا جاتا ہے کہ چین اور روس کے حوالے سے صرف بری خبریں ہی نشر ہوں۔ مثلا یہ کہ چین میں سیلاب یا برفباری سے نظام زندگی درہم برہم وغیرہ وغیرہ۔ قابل غور بات ہے کہ ہالیووڈ یا بالیووڈ کی کسی اداکارہ کو کھانسی بھی ہوجائے تو ہمارا میڈیا اس کے خبر دیتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی پاکستانی میڈیا پر چائنیز شوبز کی بھی کوئی خبر دیکھی ؟
اربوں ڈالر کی یہ انڈسٹری وہاں بھی موجود ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارا میڈیا صرف ہالیووڈ اور بالیووڈ تک ہی محدود رہتا ہے ؟ یہ سب پرسیپشن منیجمنٹ فنڈ کا کمال ہے۔ وہ فنڈ جس کی مدد سے امریکہ “اظہار کی آزادی” کو کنٹرول کرتا ہے۔ اور ہم اس خوش فہمی میں مبتلا کہ امریکہ آزادی اظہار کا بہت بڑا چیمپئن ہے۔ کیوں نہ ہوں ہم اس خوش فہمی میں مبتلا کہ یہ بھی تو ہمیں اس فنڈ کی مدد سے ہی بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور مغرب آزادی اظہار کے بہت بڑےچیمپئن ہیں۔(جاری ہے)


چین اور اس کے مسلمانوں کی کہانی
چوتھی و آخری قسط
==========================
آیئے رخ کرتے ہیں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے اس حصے کی جانب جو “نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر” کی ایک اپنی ہی نوعیت کی تعبیر کا درجہ رکھتا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ایک ہمہ جہت منصوبہ ہے۔ اس میں دنیا کے مختلف خطوں کے لئے الگ الگ ذیلی منصوبے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ میں مشرق وسطی کے لئے چین کا جو روڈ میپ ہے اس کا ایک سرا چین کے خود مختار علاقے ننگشیا میں ہے تو دوسرا مصر میں۔ ننگشیا چین کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ لیکن اگر آپ اسے بیجنگ اور سنکیانک کے تناظر میں دیکھیں تو یہ چین کے تقریبا وسط میں واقع ہے۔ اگرچہ اس علاقے کی مسلمان آبادی 34 فیصد ہے مگر یہ گہری اسلامی جڑیں اور شناخت رکھنے والا علاقہ ہے۔
اسلام یہاں ساتویں صدی میں تاجروں کی مدد سے پہنچا تھا۔ ان قدیمی تاجروں نے یہاں شادیاں کرلیں جن سے ان کی نسل چلی۔ مسلمانوں کی جو نسل یہاں پائی جاتی ہے یہ “ھوئی” کہلاتی ہے۔ چین میں آفیشلی 55 نسلوں کو اقلیت کا درجہ حاصل ہے۔ جنہیں چین کی سب سے بڑی نسل “ہان” کے مقابلے میں خصوصی رعایتیں حاصل ہیں۔ جی ہاں ! آپ نے درست پڑھا، چین میں اقلیتوں کو خصوصی رعایتیں حاصل ہوتی ہیں۔ مثلا “ایک بچہ” پالیسی کے دوران سنکیانک کے ایغور مسلمانوں کو دو بچوں کی پیدائش کی رعایت حاصل تھی۔ ھوئی نسل چین کی دوسری بڑی اقلیت ہے۔ منگ خاندان نے جب چین میں اپنی سلطنت قائم کی تو اس سلطنت کے قیام کے لئے اس کی فوج میں ھوئی نسل کے کئی جرنیل بھی لڑے تھے۔
اپنے ان جرنیلوں کی خدمات کے اعتراف میں منگ شہنشاہ نے چین کے ان تمام علاقوں میں مساجد تعمیر کروائی تھیں جہاں مسلمان آبادی تھی۔ ان مساجد میں سے ایک ننگشیا کی جامع مسجد ٹونگ سن بھی ہے جو تقریبا آٹھ سو سال آج بھی وہاں قائم ہے اور اسے ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ ننگشیا میں اس وقت مجموعی طور پر 3760 مساجد قائم ہیں۔ مساجد کی تعداد اگر وہاں کی مسلم آبادی پر تقسیم کی جائے تو ہر 577 افراد کے لئے ایک مسجد بنتی ہے۔ ننگشیا میں دینی رہنمائی و خدمات کے لئے 7 ہزار علماء موجود ہیں۔ ان سات ہزار علماء کے تعلیمی اخراجات خصوصی رعایتی سکیم کے تحت چائنیز حکومت نے ہی اٹھائے ہیں۔
بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں ننگشیا کو عرب ملکوں کے لئے مرکز کی حیثیت دی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرق وسطی کے تاجروں اور سرکاری حکام کو اگر چین سے لین دین کرنا ہے تو انہیں ننگشیا آنا ہوگا۔ اور چینی صنعتکاروں یا تاجروں کو اگر مشرق وسطی کے ساتھ لین دین کرنا ہے تو انہیں بھی یہیں جانا ہوگا۔ اس پروجیکٹ کا چین سے باہر ایسا ہی دوسرا مرکز مصر میں قائم ہوگا۔ یعنی نیل کے ساحل پر۔ جانتے ہیں اس اقدام کے ذریعے چین کی حکومت نے کیا کیا ہے؟
اس نے مسلمانوں کے وہ صدیوں پرانے تاریخی رشتے ایک بار پھر جوڑ دئے ہیں قدیمی سلک روڈ کے ذریعے ساتویں صدی میں قائم ہوئے تھے۔ چین میں ننگشیا ہی وہ مقام ہے جہاں عربوں کی قدیمی جڑیں پائی جاتی ہیں۔ اور یہ اس لحاظ سے بھی عرب دنیا کے لئے ایک موزوں مقام ہے کہ یہاں مساجد کی کمی ہے اور نہ ہی حلال خوراک کی۔ یہاں لاتعداد عرب، ایرانی، ترکش اور پاکستانی ریسٹورنٹ پائے جاتے ہیں۔ یہ چین کے وسط میں قائم ایک چھوٹی سی اسلامی دنیا ہے۔
چین نے یہاں 2017ء میں پہلی “چین عرب ایکسپو” منعقد کی۔ اس ایکسپو میں 47 مسلم ممالک کی ایک ہزار کمپنیوں کے وسیع و عریض سٹالز قائم تھے۔ ہر ملک کا اپنا ایک گوشہ تھا اور اس گوشے میں اس کی کمپنیوں کے مختلف سٹالز ۔جہاں یہ مسلم کمپنیاں چینی تاجروں کے سامنے اپنی مصنوعات لے کر حاضر تھیں۔ عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ چین بس خود ہی چیزیں بنا بنا کر ساری دنیا کو فروخت کرتا ہے اور زر مبادلہ کھینچتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ڈیڑھ ارب گاہکوں والا ملک ہے۔ ساری دنیا کے صنعتکاروں کی ان گاہکوں پر نظر ہے اور سب ہی انہیں اپنا مال فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ سو چین عرب ایکسپو کے ذریعے عرب ممالک کے صنعتکاروں کو موقع دیا گیا کہ آپ بھی ان گاہکوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیجئے۔ ننگشیا کی مذکورہ ایکسپو میں شریک لبنان کی خشک میوے والی ایک کمپنی کے ایکسپورٹ منیجر علی قاضی نے میڈیا کو ہنستے ہوئے بتایا تھا
“ہم ایک سال میں جتنا مال تیار کرتے ہیں وہ سارا تو چین میں کھپ گیا۔ ہمیں مستقبل کے لئے یہاں سے جو آرڈرز ملے ہیں اس کے بعد ہم چین کے سوا کسی بھی اور ملک کو اپنا مال ایکسپورٹ نہیں کر پائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ہمیں تیزی سے اپنی کمپنی اور کار و بار کو وسعت دینی ہوگی”
اس ایکسپو میں چین کے اردن کے ساتھ تین ارب ڈالرز، مصر کے ساتھ 15 ارب ڈالرز اور مجموعی طور پر تمام ممالک کے ساتھ 90 ارب دالرز کے ایک ہزار معاہدے سائن ہوئے تھے۔ بیلٹ اینڈ روڈ کے اس منصوبے میں مشرق وسطی کے حوالے سے مصر کو چونکہ چین “حب” کا درجہ دینے جا رہا ہے سو وہاں چین تین بڑے تعمیراتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ وہ چین میں ہائی سپیڈ ٹرین اور انڈسٹریل پارک تعمیر کر رہا ہے۔ جبکہ مصر کے نئے دارالحکومت کا سینٹرل ڈسٹرکٹ بھی چین ہی تعمیر کر رہا ہے۔ یہاں چین دو ایسے ٹاورز بھی تعمیر کر رہا ہے جو افریقہ کی سب سے بلند عمارتیں ہوں گی۔
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ مشرق وسطی پچھلے ستر سال مستقل سلگ رہا ہے۔ پہلے عرب اسرائیل تنازعے کے سبب سلگتا رہا۔ پھر ایرانی انقلاب کے بعد فساد کی ایک نئی وجہ بھی پیدا ہوگئی۔ امریکہ اور مغربی ممالک منصوبے کے تحت اس خطے کو ستر سال سے سلگائے رکھتے آئے ہیں۔ تاکہ وہ من مانی شرائط پر تیل بھی لوٹ سکیں اور اس خطے کی جنگوں کے ذریعے اپنے اسلحے کے لئے ایک مستقل ڈیمانڈ والی مارکیٹ بھی قائم رکھیں۔ اب چین اس خطے میں قدم رکھ رہا ہے تو اس کے ارادے ان مغربی ملکوں کے بالکل برعکس ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ نے مصر کے دورے کے موقع پر کی گئی اپنی تقریر میں ان ارادوں کی جانب ایک واضح اشارہ کچھ یوں دیا تھا
“کہا جاتا ہے کہ مشرق وسطی تیل کی پیداوار والا سب سے بڑا خطہ ہے۔ لیکن اس کی بڑی پیداوار صرف تیل نہیں بلکہ بڑے تنازعات بھی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس خطے کو اقتصادی ترقی دے کر تنازعات کی پیداوار کو بند کیا جاسکتا ہے”
2017ء کی ننگشیا والی چین عرب ایکسپو کی ایک خاص بات یہی تھی کہ اس میں ایک ہی چھت کے نیچے سعودی اور ایرانی سٹالز موجود تھے۔ چین یہ سمجھتا ہے کہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیاں مشرق وسطی کے ممالک کو باہمی مفادات سے جوڑ دیں گی۔ جس سے تنازعات کے حل اور مشترکہ مفادات کے حصول کی دوڑ کو فروغ حاصل ہوگا۔ یوں ننگشیا کی حیثیت فقط ایک تجارتی مرکز کی نہ رہے گی بلکہ رفتہ رفتہ ایک ایسے سفارتی مرکز کی بھی بن جائے گی جہاں مشرق وسطی کے تنازعات کے حل کی راہیں ڈھونڈی جا سکیں گی۔ یعنی ننگشیا مشرق وسطی کی بیٹھک بن جائے گا۔ اور چین ان تمام ممالک کے ساتھ اپنے گہرے تجارتی روابط و مشترک مفادات کے سبب انہیں تنازعات میں الجھنے سے روک سکے گا۔
چین اور اس کے مسلمانوں کی کہانی یہیں ختم ہوتی ہے۔ آپ ان سطور کی مدد سے بہت سے ایسے حقائق سے آگاہ ہوئے ہوں گے جو آپ کو مین سٹریم انٹرنیشنل میڈیا تو کیا لوکل میڈیا میں بھی نہیں ملے ہوں گے۔ اگر ایسا ہی ہے تو سوچئے کہ یہ حقائق آپ تک پہنچنے سے کون روکتا ہے ؟ وہی روکتے ہیں جنہوں نے آپ کو باور کرا رکھا ہے کہ سچ بس وہی ہے جو بی بی سی، وائس آف امریکہ اور ان کے ہمنوا میڈیا میں شائع ہوتا ہے۔
اور یہ کہ اس جدید دنیا میں “آزادی اظہار” نام کی کوئی چیز بھی پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں آزادی اظہار نام کی کوئی بھی چیز وجود نہیں رکھتی۔ یہاں ملکی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک ہر سو سچ کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ جس کے پاس سرمایہ نہیں ہے وہ پیمرا کی مدد سے گھونٹتا ہے جس کا پاس خرچ کرنے کے لئے ڈالروں کے خزانے ہیں وہ یہی کام پرسیپشن منیجمنٹ فنڈ کے ذریعے کرتے ہیں۔ آپ چین سے متعلق سچ بی بی سی سنیں گے تو سچ نہیں کچھ اور ہی سنیں گے۔ دشمن بھی کبھی دشمن سے متعلق سچ بولتا ہے ؟۔ یوں قتل سے خبروں کے وہ بدنام نہ ہوتی۔ افسوس کہ ہماری اسٹیبلیشمنٹ کو پرسیپشن منیجمنٹ فنڈ کی نہ سوجھی (ختم شد)


1 تبصرہ:

  1. بہت عمدہ محنت کی گئی ہے لیکن فضول محنت کی ہے جس طرف لے جانے کی کوشش کی گئی ہے کوئی بھی تعلیم یافتہ انسان با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک جھوٹا مصنف ہے

    جواب دیںحذف کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...