مضبوط خاندان مگر کیسے ؟ حصہ سوئم
عورت کا گھر سے باہر نکلنا نا گزیر ہے
تزئین حسن
کیاعورت پہلی دفعہ ماڈرن دور میں گھر سے نکلی ہے؟ .ایک غلط فہمی ہمارے ہاں یہ پائی جاتی ہے کہ عورت پہلی مرتبہ ماڈرن دور میں گھر سے نکلی جبکہ دنیا کی تاریخ اورخود اسلامی تاریخ اور مذہبی صحیفے اس بات کے نا قابل تردید ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ عورت ہر دور اور ہر خطے میں گھر سے باہر نکلی ہے- اسے مغربی معاشرے یا فیمنسٹ تحریک نے گھر سے باہر نہیں نکالا-
تزئین حسن
کیاعورت پہلی دفعہ ماڈرن دور میں گھر سے نکلی ہے؟ .ایک غلط فہمی ہمارے ہاں یہ پائی جاتی ہے کہ عورت پہلی مرتبہ ماڈرن دور میں گھر سے نکلی جبکہ دنیا کی تاریخ اورخود اسلامی تاریخ اور مذہبی صحیفے اس بات کے نا قابل تردید ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ عورت ہر دور اور ہر خطے میں گھر سے باہر نکلی ہے- اسے مغربی معاشرے یا فیمنسٹ تحریک نے گھر سے باہر نہیں نکالا-
جہاں تک مغربی عورت کا تعلق ہے یہ صحیح ہے کہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے مغربی دنیا میں بھی عورتوں کو با قاعدہ کمانے کے لئے گھر سے باہر صنعتی مزدور کا کردار نہیں دیا گیا تھا لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت ہر دور میں دنیا کے ہر خطے میں گھر سے باہر نکلی ہے- وہ حضرت مریم کی طرح عبادت کے لئے معبد میں بھی مقیم رہی ہیں اور حضرت شعیب کی بیٹوں کی طرح باپ کی ضعیفی میں بکریوں کو پانی پلانے بھی نکلی ہیں- قبل اسلام کی عورت اگر با اختیار نہ ہوتی تو حضرت خدیجہ رضی الله کی طرح بزنس کیسے کرتی اور خود اپنے ہونے والے ہونے والے شوہر کو پسند کرکے رشتہ کیسے بھیجتی، ابو طالب کی زوجہ فاطمہ کی طرح اورحضرت عمر رضی الله کی بہن کی طرح گھر کے مردوں کے خلاف جا کراور حضرت سمیہ رضی الله کی طرح غلامی میں اسلام کیسے قبول کرتی-
عورتوں نے کھیتوں میں بھی کام کیا ہے اور جکومتیں بھی کی ہیں (چاہے انکی حکومتیں مستثنیات میں ہی شامل کیوں نہ ہوں)، اپنے حکمران شوہروں کو سیاسی مشاورت بھی دی ہے اور سلطنت عباسیہ اور مغلیہ سلطنت کے سنہرے ادوار میں دی ہے) استثنیٰ کے طور پر سہی عہد جدید کے عظیم مفکر ابو الاعلیٰ مودودی نے فاطمه جناح کی الیکشن میں ملٹری ڈکٹیٹر اور وقت کے حکمران ایوب خان کے مقابلے میں علی الاعلان حمایت کی-
جدید دور میں جماعت اسلامی خواتین کا ایک بہت منظم تعلیمی اورفلاحی نیٹ ورک رکھتی ہے جوخواتین کے گھر سے نکلے بغیر ممکن نہیں- یہ خواتین اپنے گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ورکنگ وومن ٹرسٹ، وومن لیگل ایڈ، اور بیٹھک اسکول جیسے پروجیکٹس بھی چلا رہی ہیں اور سیلاب اور زلزلے میں بھی انکی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا- اسکے علاوہ اندروں سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پاکستان کے دیگر پس ماندہ علاقوں میں دین کی دعوت کے حوالے سے بھی انکے کام کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- ظاہر ہے یہ سب کچھ گھر سے نکلے بغیر ممکن نہیں ہوتا-
آج بیرون ملک خصوصاً مغرب میں مقیم پاکستانی خواتین اگر یونیورسٹیز میں اور ورک پلیس پراعتماد کے ساتھ حجاب اور نقاب کر رہی ہیں- اپنے بچوں کی اسلامی تربیت کا شعور رکھتی ہیں تو بہت حد تک اس کا کریڈٹ اسلامی تنظیموں کی ان خواتین کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی گھریلو اور کبھی کبھی پروفیشنل ذمہ داریوں کے ساتھ گھر سے نکل کر قران کی تعلیم کو عام کیا اوراسلامی لٹریچر دوسری خواتین تک پہنچایا- معذرت کے ساتھ ہمیں چار دیواری کے حوالے سے اپنے بیانیہ پر نظر ثانی کرنا ہو گی-
سیرت رسول اور دور صحابہ میں ہمیں عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے خلاف کوئی روایت نہیں ملتی- قرن بیوتکن کا حکم خاص حالات میں امہات المومنین کے لئے تھا لیکن وہ بھی ضرورت کے تحت گھر سے نکلتی تھیں-
قران خود عورت کو نا محرم مرد سے بات کرتے ہوئے اپنا لہجہ سخت رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی برا ارادہ ہے تو وہ پنپنے نہ پائے- یاد رہے نا محرم مردوں سے ضرورت کے تحت بات چیت کو ممنوع قرار نہیں دیا گیا لیکن پھر بھی پاکستان کے بعض علاقوں یا بعض متشدد مکاتب فکر کے نزدیک عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے جسکے مطابق مخالف صنف سے بات کرنا بھی جائز نہیں--
عورت کا گھر سے نکلنا نا گزیر ہے
اس معاملے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے حلقوں کی کمی نہیں جو معاشرے کی ہر برائی کا ذمہ دار عورت کی بے پردگی اور گھر سے باہر نکلنے کو سمجھتے ہیں اور اسے تعلیم اور مجبوری میں کسب ماش کے لئے گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو عزت دینے کے لئے تیار نہیں-
عورت کا گھر سے نکلنا نا گزیر ہے
اس معاملے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے حلقوں کی کمی نہیں جو معاشرے کی ہر برائی کا ذمہ دار عورت کی بے پردگی اور گھر سے باہر نکلنے کو سمجھتے ہیں اور اسے تعلیم اور مجبوری میں کسب ماش کے لئے گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو عزت دینے کے لئے تیار نہیں-
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ حلقے مرد پر غض بصر یعنی نگاہیں جھکا کے رکھنے کو یا دیگر پابندیوں کو اسکی فطرت کے خلاف سمجھتے ہیں- اس لئے یہ جنسی ہراسانی وغیرہ کو مرد کی فطرت کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں بلکہ انکا کہنا ہے عورت گھر سے نکلے گی تو یہ تو ہو گا اسکے ساتھ-
اپنے شوہر کے گھر، مال اور بچوں کی حفاظت اور نگرانی بلا شبہ عورت کی ذمہ داری ہے لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عورت کا گھر سے نکلنا بھی نا گزیر ہے- آپ عملاً اس گھر میں محبوس نہیں کر سکتے نہ ہی یہ مذہب کا منشا ہے- تعلیم اور ملازمت نہ بھی کریں تو عورتوں کو بہت سے دوسرے مقاصد کے لئے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے- ہمارے روایتی ہندوستانی پاکستانی معاشرے میں بھی ننھیال یا ددھیال جانے کے لئے دوسرے شہروں کا سفر، بس یا ٹرین سے جو فیملی کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسکول، مدرسہ، ہسپتال، بازار اور دیگر کئی کاموں کے لئے گھر سے نکلنا عورت کے لئے ناگزیر ہے- اس لئے جنسی ہراسانی کی اجازت کے حق میں یہ دلیل خاصی بودی ہے-
اپنے شوہر کے گھر، مال اور بچوں کی حفاظت اور نگرانی بلا شبہ عورت کی ذمہ داری ہے لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عورت کا گھر سے نکلنا بھی نا گزیر ہے- آپ عملاً اس گھر میں محبوس نہیں کر سکتے نہ ہی یہ مذہب کا منشا ہے- تعلیم اور ملازمت نہ بھی کریں تو عورتوں کو بہت سے دوسرے مقاصد کے لئے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے- ہمارے روایتی ہندوستانی پاکستانی معاشرے میں بھی ننھیال یا ددھیال جانے کے لئے دوسرے شہروں کا سفر، بس یا ٹرین سے جو فیملی کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسکول، مدرسہ، ہسپتال، بازار اور دیگر کئی کاموں کے لئے گھر سے نکلنا عورت کے لئے ناگزیر ہے- اس لئے جنسی ہراسانی کی اجازت کے حق میں یہ دلیل خاصی بودی ہے-
ہم اپنے ارد گرد عورتوں کو کپڑے سی کر اپنے بچوں کی تعلیمی اخراجات پورے کرتے دیکھتے آئے ہیں- کراچی شہر میں ہزاروں نہیں لاکھوں ماسیاں اپنے گھروں کو چلانے کے لئے، اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے اور انکی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے دوسروں کے گھروں کے برتن جھاڑو اور دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں-
آج بھی پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں بڑی تعداد میں عورتیں بلکہ نو عمر بچیاں کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور ظاہر ہے اتنی سخت محنت وہ مجبوری میں کرتی ہیں- یہ بیچاری عورت صدیوں سے کسب ماش میں مرد کی مدد کر رہی ہے لیکن اسے اپنے کمائے ہوئے مال پر اختیار کم ہی ملتا ہے- اچھی تعلیم سے یہ اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی زندگی بہتر بنا سکتی ہے اور اپنے حقوق کے لئے مناسب آواز بھی اٹھا سکتی ہے- مگر دینی طبقات کو اس بغیر مزدوری محنت پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ اس طبقے کی عورت کو اور اسکے مسائل کو کلی طور پر نظر انداز کرتا ہے- بجائے اسکے کہ وہ اسکی محنت کی کمائی پر اسکے تصرف اور اختیار کی حمایت کریں، اسکے چار دیواری میں محبوس کرنے کی حمایت کرتا ہے-
شریعت کے مطابق عورت اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ معاشرے کی بہتری کے لئے رضاکارانہ کام کرنا چاہتی ہے یا گھریلو آمدنی میں اضافے کے لئے یا کسی مجبوری کے تحت کسب معاش کرنا چاہتی ہے تواس کی ممانعت نہیں- دوسری طرف اگر وہ نہ کرنا چاہے تواسے مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے- یہ ہرعورت اپنے مخصوص حالات اپنی صلاحیتوں اور رحجان کو دیکھتے ہوے اپنے خاوند اور گھر والوں کی اجازت اور مشورے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے کہ اس کے اور اسکے خاندان کے لئے کیا بہتر ہے-
ڈرائیونگ اور اس نوعیت کے دوسرے کام جن میں مردوں سے اختلاط کا اندیشہ ہو کے علاوہ ہمارے ہاں اکثرعورت کے گھر سے باہر نکلنے اور معاش کی جدو جہد میں حصہ لینے کی ہی مخالفت ہوتی ہے- اور بہت دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان طبقات کی طرف سے بھی ہوتی ہے جو خود اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر انجنیئر وکیل اور صحافی بنانے کی تعلیم دے رہے ہیں-
ہم پھر دہرائیں گے کہ کفالت مرد کی ذمہ داری ہے اس پر کوئی بحث نہیں، لیکن جہاں تک عورت کے گھر سے باہر نکلنے اور اسکی تعلیم یا ملازمت کی مخالفت کا سوال ہے تو یہ اسلام کا منشا ہرگز نہیں ہے- لیکن مجھے تعجب ہے کہ چار دیواری کے نام پر اسکی وکالت وہ لوگ بھی کرتے نظر آتے ہیں جو اپنی بچیوں کو ڈاکٹر بھی بنا رہے اور انجنیئر بھی اور دین کی دعوت لئے بھی انہیں گھروں سے نکال رہے ہیں لیکن قولی طور پریہ لوگ ایک اشتہارمیں چاردیواری کے ذکر پر چراغ پا ہو جاتے ہیں- ہمارا یہ طرز عمل کیوں ہے یہ ایک طویل بحث کا متقاضی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے قول اور عمل میں اس معاملے میں بہت تضاد ہے- یہاں تک کہ خود ملازمت کرنے والی دینی بہنیں، ایسی بھی جو بیرون ملک مقیم ہیں اور کبھی کبھی شوہر سے دور رہ کر بھی اپنی گھریلو اور پروفیشنل ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، چار دیواری سے باہر نکلنے کے خلاف باتیں کرتی نظر آتی ہیں-
ہم مراعات یافتہ خواتین جنھیں انکے والدین اور ملکی وسائل نے بہترین اور مہنگی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا- ہمیں وہ مالی وسائل حاصل ہیں کہ ہم اپنی پروفیشنل ذمہ داروں کے لئے بھی، اپنی تعلیم کے لئے بھی، سیر و سیاحت کے لئے بھی اور دین اور امت کی خدمات کے لئے بھی ملکی اور بیرون سفر کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور پارلیمنٹس میں بیٹھنے کے بھی- کیا ہم چار دیواری کے نام ان غیر مراعات یافتہ طبقات کی خواتین کی تعلیم، علاج، اور کسب معاش یا معاشرے میں اپنے بچوں کوبنیادی سہولتیں اور عزت کی زندگی گزرنے کے لئے گھر سے نکلنے کی مخالفت کرنی چاہیے؟ اسی حوالے سے ہمیں مغرب اور کارپوریٹ کلچر کے حوالے سے اپنے تعصب کے رویے کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں