مضبوط خاندان مگر کیسے؟ حصہ اول
عورت کا گھر سے باہر نکلنا اور مضبوط خاندان
تزئین حسن
اس امر میں کسی مسلمان عورت کو کوئی شک نہیں کہ اسلام نے جو حقوق عورت کو دیئے ہیں انکے ہوتے ہوئے، عورت کو کسی اور نظریے یا ازم کی ضرورت نہیں- لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ حقوق اسلامی معاشروں کی عورت کو حاصل ہیں جو اسلام نے عورت کو دیئے ہیں؟ اور اگر نہیں ہیں تو کیا دینی طبقات نے اور انکی عورتوں نے کبھی ان حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی کوشش کی ؟ اس جگہ آ کر دینی طبقات کے چراغوں میں روشنی نہیں رہتی-
مثلاً ایک چھوٹا سا معاملہ لے لیں جسکی کچ عرصے سے بعض حلقوں کی طرف سے بڑی حمایت کی جا رہی ہے اور وہ ہے دوسری شادی کا ٹرینڈ بڑھانے کی بات- اس معاملے میں ہمارے بعض دینی حلقے اتنے زیادہ آگے بڑھ گئے ہیں کہ انکے نزدیک "دوسری شادی ثواب کا کام ہے-" اور وہ دوسری شادی کرنے والے کو "حالات کی تو نہیں لیکن ثواب کی گارنٹی دینے پر تیار ہیں-" (حلانکہ قران اور حدیث میں کہیں بھی دوسری شادی کی صورت میں ثواب کی گارنٹی نہیں دی گئی ہے-) اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری شادی کے نتیجے میں اگر شوہر معاشی طور پر برابری نہ کر سکے تو اسکا ذمہ دار کون ہوتا ہے؟ ظاہر ہے عورت اگر پڑھی لکھی ہے تو ملازمت کر کہ اور اگر جاہل ہے تو محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان اور بچوں کی کفالت کرتی ہے- ایسا بہت کم ہوتا ہے اسکے میکے کا خنداں اتنا متمول ہو کہ اسکی کفالت کر سکے- اگر ایسا ہو بھی تو چونکہ ہمارے معاشرے میں مرد کو زیادہ طاقت حاصل ہوتی ہے تو عام طور سے شرعی حق کے باوجود میکے میں بھی اسکی اور اسکے بچوں کی حیثیت بھکاریوں سے زیادہ نہیں ہوتی- استثنیٰ یقیناً موجود ہیں لیکن اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر-
اب ایک طرف دوسری شادی کے ٹرینڈ کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے جسکے نتیجے میں اسی فیصد کیسز میں مرد پہلی بیوی اور بچوں کو چھوڑ دیتا ہے- دوسری طرف دینی حلقوں کی نترف سے عورت کی گھر سے باہر نکل کر ملازمت کی محالفت مسلسل کی جاتی ہے تاکہ جب شوہر دوسری شادی کرے تو کم پڑھی لکھی عورت کے لئے محنت مزدوری اور بھیک مانگنے کے علاوہ کوئی چارا نہ ہو-
اسکے ساتھ ساتھ بعض دینی طبقات کی منافقت یہ کہ اپنی بیٹیوں کو خوب پڑھاؤ- ڈاکٹر بناؤ، انجنئیر بناؤ،چارٹرڈ اکاونٹینٹ بناؤ، پی ایچ ڈی کرواؤ، کانفرنسوں میں بھیجو، پارلیمنٹ میں نمائیندگی دلواؤ لیکن ساتھ ساتھ عورت کے گھر سے باہر نکل کر خود مختار ہونے کی مخالفت جاری رکھو-
یہ دینی طبقات جو اسلام میں عورت کے حقوق گنوانے کی بات کرتے ہیں، کیا اس عورت کو انصاف دلوانے کے لئے کبھی کھڑے ہوئے جسے اسکے شوہر نے دوسری شادی کے بعد چھوڑ دیا ہو؟ یاد رہے یا معاملہ صرف ایک مثال کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے ورنہ عورت کو نہ انصافی پر مبنی ایسے سینکڑوں معاملات پیش آتے ہیں جہاں معاشرہ اور دینی طبقات اسکی کوئی مدد کرنا نہیں چاہتے یا کر نہیں سکتے-
اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوانے والے دوسروں کو یہ کہتے ہیں کہ بیٹی کو اس لئے پڑھانا غلط سوچ ہے کہ کل کو اسے ہانڈی چولہا کرنا پڑے گا- (ویسے یہ انکی اپنی سوچ ہے جس کو دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں) ہانڈی چولہے سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ اس ظلم سے بچنے کے لئے جو اسے اکیلا سمجھ کر سسرالوں میں روا رکھا جاتا ہے (جسکی یہ مذہبی طبقات مسلسل سرپرستی کرتے ہیں) جسکی وجہ سے احمد آباد کی عائشہ جیسی لڑکیاں خود کشی کرنا چاہتی- لڑکیوں کی پروفیشنل تعلیم اس خطرے کے پیش نظر کے کل کو اگر مرد نے یا اسکے گھر والوں نے کوئی غیر معقول طرز عمل اختیار کیا تو کم از کم اس مسلم معاشرے میں ہماری بیٹی سڑک پر تو نہیں آ جائے گی- سب کی بہنوں بیٹیوں کے ساتھ ایسے وقت آ چکے ہیں اور آ سکتے ہیں لیکن اس پر بات کرنے کو یہ طبقات گناہ سمجھتے ہیں-
کوئی ان سے پوچھے کے اپنی بچیوں کو میڈیکل کی تعلیم دلوائی ؟ خود کیوں ساری عمر ملازمت کرتی رہیں؟ تعلیمی ادارے کھولتی رہیں؟ شوراؤں میں شرکت کے لئے بغیر محرم سفر کرتی رہیں؟ کانفرنسوں میں شرکت کے لئے دنیا بھر میں ماری ماری پھرتی رہیں؟ کیا ان دینی طبقات کی عورتوں کے لئے کوئی الگ شریعت ہے؟ یا "عورت کا دائرہ کار اسکا گھر ہے-" جیسے جملے صرف پاکستان کی غریب مسلمان عورت کے لئے ہیں؟
یہ انکے نزدیک مضبوط خاندان کی اجزائے ترکیبی ہیں-
مضبوط خاندان کے نام پر ہندو مت کی معاشرتی برائیوں کی سرپرستی کر کہ عورت کو کمزور رکھنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی کیونکہ آپ خود اس پر یقین نہیں رکھتیں-
یہ دینی طبقات کبھی پاکستان کی اس عورت کی بات نہیں کرتے جو لاکھوں کی تعداد میں کھیتوں میں کام کرتی ہے، گھریلو ملازمین کی شکل میں اپنے بچوں اور خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے در در کے دھکے کھاتی ہے- جنسی ہراسانی کی بات آئے تو رعونت اور نخوت سے کہا جاتا ہے کہ عورت گھر سے باہر نکلے گی تو یہ تو ہو گا اسکے ساتھ - اور وہ تو خود "پاک باز" مرد کے لئے آزمائش ہے- ایسے موقعوں پر قران کی آیات اور حدیث کے ذریعے بھی سمجھانے کی کوشش کی جائے تو اسے بھی یہ نہیں مانتے- دور رسالت، صحابہ اور قرون وسطیٰ کی عورت تو گھر تک محدود نہیں تھی- وہ پانچ وقت مسجد بھی جاتی تھی- مسجد میں بیٹھ کر مدرسے، جامعات، کنویں اور سڑکیں بھی بنواتی، تجارت بھی کرتی تھی اور دکانداری بھی تھی. سماجی کامون میں بھی حصہ لیتی تھی- کنویں، سڑکیں اور جامعات بھی بنواتی تھی- وہ حضرت مریم کی طرح عبادت کے لئے معبدوں میں اعتکاف بھی کرتی تھی- وہ حضرت شعیب کی بیٹیوں کی طرح باپ کی ضعیفی میں مدد کرنے کنویں سے پانی بھر کر بھی لاتی تھی- وہ مدینے ... کے حضور کے باغات اور کھیتوں میں بھی کام کرتی تھی-
اسی طرح ان طبقات کو
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہم عورت کے حقوق کی بات الگ سے اس لئے نہیں کرتے کہ ہم مرد کو عورت سے لڑوانا نہیں چاہتے- اور ظلم اور زیادتی تو دونوں کے ساتھ ہی ہو رہی ہے- عورت کے حقوق کی اور اس پر ظلم کی الگ سے بات کیوں کی جائے- اس دلیل میں بہت جان ہوتی اگر قران نے عورت کے حقوق کی الگ سے بات نہ کی ہوتی- اگر یہ دلیل صحیح ہے تو آخر قران متعدد جگہوں پر عورت کے حقوق کے الگ سے بات کیوں کرتا ہے؟ سورۂ بقرہ، سورۂ نساء، سورۂ تحریم، سورۂ مجادلہ، سورۂ نور، سورۂ احزاب، ایک لمبی لسٹ ہے جہاں
اس مضمون کا مقصد عورتوں کو مردوں کی طرح کسب معاش کے لئے گھروں سے نکالنے کی ترغیب دینا نہیں ہے- نہ مردوں کی قوامیت کو چیلنج کرنا ہے- نہ عورتوں کو جسمانی محنت کے شعبوں میں اپنے آپ کو منوانے کے لئے راضی کرنا ہے بلکہ دوررسول، دور صحابہ اور قرون وسطیٰ کے عہد کا جائزہ لے کر اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا اسلام جائز حدود کے اندر الله کی دی ہوئی صلاحیت کے استعمال، مجبوری کی حالت میں کسب معاش, یا معاشرے کی بہتری کے لئے رضا کا رانہ طور پر عورت کے گھر سےباہر نکلنے پر پابندی لگاتا ہے یا اسکی اجازت دیتا ہے-
واتین ڈے اور خصوصاً عورت مارچ کے تناظر میں ہمیں معاشرتی اسٹیریو ٹائپس سے بلند ہو کر اس اہم موضوع کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں-
کوئی ٢٠٠٢ کی بات ہے, پاکستان کے ایک مقبول دینی اور فلاحی جماعت کے نمائندہ اخبار میں اس جماعت کے سربراہ کے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے خیالات پر ایک مختصر تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا- موصوف کا خیال تھا کہ خواتین کی تعلیم انتہائی محدود ہونی چاہئے- مغربی طرز کی تعلیم کے تو خیر وہ خلاف تھے ہی, خواتین کو زیادہ دینی تعلیم کے بھی دینے کے بھی سخت خلاف تھے- انکا کہنا تھا بعض والدین اپنی بچیوں کو فخریہ عالمہ کا کورس کرواتے ہیں جو غلط ہے- اپنی زوجہ محترمہ کے محاسن کے بارے میں وہ فخریہ بتاتے تھے کہ انہیں فون پر بات کرنا نہیں آتی تھی-
انکا یہ بھی کہنا تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بجائے گھر کا کام کرنا چاہئے اور اگر گھر کے کام کے بعد وقت بچتا ہے تو ہمیں بتائیں, ہم مدرسوں کے جھاڑو، برتن، صفائی کے کام سرانجام دینے کی ڈیوٹی ان پر لگا دیں گے- الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مولانا کا مفہوم یہی اور انداز اس کہیں زیادہ حقارت آمیز تھا-
الله کی بنائی ہوئی اشرف المخلوقات کی ذہنی صلاحیت کو یکسر نظر انداز کر کے اسکی کمزور جسمانی اہلیت کو بوجھ ڈھونے والے ایک گدھے کی طرح استعمال کرنے کا خیال راقم کے ساتھ ساتھ ہر دماغ رکھنے والی عورت کے لئے تکلیف دہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آج امت جس فکری، علمی اور اخلاقی انحطاط سے گزر رہی ہے اور جس انتہا پسندی کا شکار ہے، اسکے کچھ طبقات خواتین سے متعلق ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں- راقم کو پچھلے دو سالوں میں سوشل میڈیا پر براہ راست ایسے "پڑھے لکھے" لوگوں اور مصنفین کی رائے جاننے کا اتفاق ہوا جنکے خیالات ان بزرگ کے خیالات کا پرتو ہیں-
ایک طرف عورت مارچ کے شرکاء ہیں جو 'میراجسم میری مرضی'، کھانا خود گرم کر لو'، 'اپنے موزے خود ڈھونڈ لو'، جیسے سطحی نعرے لگا کر عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی تحریک کو با لکل دوسری سمت میں موڑ رہی ہیں اور اوردوسری طرف ہمارے معاشرے کے روایتی دینی طبقات ہیں, جو ان حقوق سے واقف ہی نہیں جو عورت کو قران، سیرت رسول اور دور صحابہ میں حاصل تھے- راقم کے نزدیک عورت مارچ کا حل یہی ہے کہ اسلام پسند طبقات سنجیدگی سے پاکستانی عورت کے اصل مسائل کو سامنے رکھ کر اسکے حقوق کی تحریک چلائیں اور اسے وہ حقوق دلوانے کی کوشش کریں جو اسکے مذہب نے اسے دیئے ہیں مگر ہمارے دینی طبقات اسلام میں عورت کے حقوق کا راگ تو بہت الاپتے ہیں لیکن اسے وہ حقوق دلوانے کی جدو جہد سے یہ کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں کہ یہ تو معاشرتی معاملات ہیں مذھب کا اس سے کوئی تعلق نہیں-
آج ١٧ سال گزرنے کے بعد بھی مجھے مذکورہ بالا عالم دین کہلانے والے اور بہت بڑا حلقہ رکھنے والے صاحب کے خیالات یاد آتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے کہ انکے نزدیک صنف نازک صرف گدھوں کی طرح جسمانی بوجھ اٹھانے کے لئے پیدا کی گئی ہے-
مجھے آج اس تحریر کی یاد اس لئے بھی آئی کہ بعض بظاہر دیندار نوجوانوں کے خیالات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آج ٢٠٢٠ میں یہ فکر پاکستان میں خاصی مقبول ہو چکی ہے کہ اسلام خواتین کو گھر سے نکلنے یا دینی یا دنیا وی تعلیم کے خلاف ہے یا کسی بھی صورت میں کسب معاش کا حق یا معاشرے کی بہتری کے لئے اپنی صلاحیتوں کے استعمال کا حق نہیں دیتا-
ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی سے بچنا ہے تو عورت کو گھر میں محدود رہنا چاہئے- اگر عورت گھر سے نکلے گی تو اسکے ساتھ یہ تو ہوگا کیونکہ یہ مرد کی فطرت ہے- یہ انتہا پسندانہ سوچ کہاں تک مسلم معاشروں میں نفوذ کرگئی ہے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لئے اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے- آج سوشل میڈیا پر لوگ الاعلان اس رائے کا اظہار کرتے ہیںکہ عورت اگر اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی، معاشی طور پر با اختیار ہو گئی تو وہ باغی ہو جاتی ہے اور اپنے بچوں اور شوہر کی پرواہ نہیں کرتی اور اسی لئے طلاقوں کی تعداد بڑھ گئی ہے- مقصد یہ کہ عورت کو مالی طور پر بااختیار نہ ہونے دین اور نہ اتنی تعلیم حاصل کرنے دیں کہ وہ مالی طور پر با اختیار ہونے کا سوچ سکے- ان دینی کہلانے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اسلام نے تو چودہ صدیوں پیشتر بغیر کمائے بھی عورت کو با اختیار کیا تھا- اسے مہر، نان نفقے اور ورسٹ میں حق د گیا تھا جب کسی اور معاشرے میں اسکا تصور بھی محال تھا- اس لاعلمی کی وجہ یہ ہے کہ یہ روایتی دینی طبقات قران اور اسلام سے نہیں ہندوستانی کلچر سے متاثر ہیں اور اسے اسلام سمجھ کر اس کی تبلیغ کر رہے ہیں-
کچھ سال پہلے ٹی وی پر ایک دیندار سلیبرٹی کا ایک ٹاک شو دیکھنے کا اتفاق ہوا جن کا کہنا تھا کہ عورتوں کو ڈرائیونگ نہیں کرنی چاہیے- اینکر خاتون نے یہ پوچھنے کی جرآت کی کے اگر کسی خاتون کے گھر میں مرد نہیں تو؟ سنگر ٹرنڈ خطیب دین سلیبرٹی غصے میں آ گئی کہ استثنیٰ کا تذکرہ نہ کریں- (یہ سوچ بھی روایتی دیندار طبقات میں بہت حلق تک اتری ہوئی ہے کہ دو چار پانچ یا دس فیصد لوگوں کے مسائل تو استثنیٰ ہوتے ہیں اگر انکے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں- ہمیں ہماز روزے پردے اور شرم و حیا اسلام نظام جیسے امور پر زور دینا چاہیے- صرف پاکستان کی آبادی ہی دیکھ لیں تو یہ پانچ فیصد کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے-
مغرب میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کہتے آئے ہیں کہ اسلام عورتوں کو گھر میں مقید کردیتا ہے اور اسے مرد کی ملکیت بنا دیتا ہے- افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے کچھ کم نظر، کم علم، اور ذہنی طور پر ہندوستان کے ماحول سے آلودہ حضرات جو ہندو مت کے تصورات کو اسلام سمجھتے ہیں، وہ بھی اس معاملے میں مغرب کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں- اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاملے میں بڑی تعداد میں دینی حلقے بھی افراط و تفریط کا شکار ہو رہے ہیں-
میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ عرصہ بیس سال سے کینیڈا میں رہائش پذیر بعض پاکستانی حضرات ، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اس مغالطے کا شکارہیں کہ یہ دینی طور پر صحیح نہیں- یہی صورت حال سوشل میڈیا پر کچھ دینی حلقوں کی والز پر نظر آتی ہے - عام طور سے پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں عورت کا گھر سے نکلنا اور مخلوط ماحول میں اسکی موجودگی کو بہت سی معاشرتی برائیوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اورخود اسکی حفاظت اور اسے جنسی ہراسانی سے بچانے کے لئے بھی اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی شدید ضرورت کے گھر سے قدم باہر نہ نکالے-
یہ مضمون عورت کے گھر سے نکلنے سے معاشرتی اسٹیریو ٹائپس کے پہلو پر بحث کا آغاز کر رہا ہے- امید ہے دوسرے مصنفین بھی عورتوں کے اسلامی حقوق پرقلم اٹھائیں گے-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں