پاکستان میں بیٹھے بعض بھائیوں کا بس نہیں چل رہا کہ ٹروڈو سے استعفیٰ مانگ لیں- انکی باتوں سے یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ کینیڈا کی پاکستانی نژاد آبادی جوق در جوق پاکستان کی طرف ہجرت شروع کرنے والی ہے- آپ کا کیا خیال ہے؟
اسلاموفوبیا مغرب میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے- لیکن پچھلی دو تین دھائیوں میں مسلم دنیا سے بڑے پیمانے پر مغرب ہجرت ہوی تو مغرب کے اس خوف میں اضافہ ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافے سے
اسلاموفوبیا ڈاکیومنٹری
اسلاموفوبیا کی تاریخ
اسلاموفوبیا کی اصطلاح مغرب میں نائن الیون کے بعد معروف ہوئی لیکن اسلاموفوبیا کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اسلام کی تاریخ- قریش مکہ بھی اسلام سے خائف تھے، اسلام کے خوف میں مبتلا تھے- انہیں خوف تھا کہ توحید کی دعوت پھیلنے سے انکے معاشی اور تجارتی مفادات کو ضرب لگے گی جو حج اور عمرے سے وابستہ تھی- انکے باپ دادا کا دین ختم ہو جائے گا- انکی سیاسی قیادت ختم ہو جائے گی- اسلام
کے نظریات سے انکی نسل پرستی پر ضرب پڑتی ہے- اور اسی لئے انھوں نے ہر طرح سے اسلام کی مخالفت کی- آج کا اسلاموفوبیا بھی اسی کا تسلسل ہے- اشتعال دلانے والے خاکے، شریعت مخالف قانون سازی، مسمانوں کے خلاف قوانین بنانے کی کوشش، دنیا کے کچھ حصوں میں سمسلمنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یہ سب اسلاموفوبیا کی ہی مختلف شکلیں ہیں-
ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ میں اسلاموفوبیا کے خلاف سب سے زیادہ موثر اور کامیاب مہم کیسے لڑی گئی- اسکے لئے ہمیں سیرت رسول کا جائزہ لینا ہو گا-
رسول الله نے یہ جنگ کیسے لڑی
بعثت اسلام کے وقت قریش نے اسلام کی مخالفت میں حد کر دی لیکن کہیں بھی ہمیں یہ نہیں ملتا کہ دہشت گردی کی کوئی کاروائی کی گئی ہو- آنحضرت کی وفات کے بعد جھوٹے انبیاء اور اسلام سے منحرف ہونے والے قبائل کے خلاف جو جنگیں لڑی گئیں انکا تجزیہ بہت کم کیا جاتا ہے- کہتے ہیں عرب میں کوئی خبر اتنی تیزی سے نہیں پھیلی جتنی پیغمبراسلام کی وفات کی خبر اور اسکے ساتھ ہی مکہ اور مدینہ کے خطوں کو چھوڑ کر تم،م عرب میں بغاوت پھیل گئی- جھوٹے نبوت کے دعوے دار خود آنحضرت صلیٰ الله علیہہ وسلم کے دور میں پید اہو گئے تھے- بعض قبائل نے زکات دینے سے انکار کر دیا- ان بغاوتوں کرنے کے لئے جو جنگیں لڑی گئیں وہ اتنی شدید تھیں کہ صرف ایک جھوٹے نبی مسیلمہ کے خلاف جنگ میں قران پاک کے اتنے حفاظ صحابہ کی شہادت ہوئی کہ حضرت ابو بکر رضی الله تعالیٰ اور حضرت عمر رضی الله کو قران پاک کی تدوین کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑا- لیکن اسکے باوجود اس دور کے رواج کے مطابق ان جنگوں میں جو غلام بنائے انھیں بعد ازاں حضرت عمر نے معاف کر دیا- یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جھوٹے نبی کی حمایت کی تھی- تلوار لے کر مسلمانوں سے لڑے تھے- پھر جھوٹے نبی سے زیادہ گستاخ کون ہو سکتا ہے- مدینے کے شمال مشرق میں طلیحہ اور ایک نبوت کی ایک خاتون دعوے دار سجاح بھاگ کر شام چلے گئے- بعد ازاں طلیحہ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی کا طلب گار ہوا- ان دونوں کو حضرت عمر نے معاف کر دیا- طلیحہ بعد ازاں رومن امپائر کے خلاف جنگوں میں شریک ہوا- باقی آزاد کردہ غلاموں نے بھی شام کی فتوحات میں حصہ لیا-
یعنی جھوٹے نبی کے ماننے والے مرتد مسلمانوں کو ہی نہیں جھوٹے انبیاء کو بھی معاف کر دیا گیا- اسے معاف کرنے والے میرے اور آپ کے جیسے گناہ گار مسلمان نہیں تھا، رسول الله کے قریبی ساتھ تھے- لیکن آج کا خطیب ہمیں یہ نہیں بتاتا ہے-
مسیلمہ کے قبیلے تمیم، جو بہت طاقت ور قبیلہ تھا، کے لوگ اسلام مخالفت میں بہت شدید رہے تھے- یہ بار بار انحضرت صلیٰ الله کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور بار بار منحرف ہو جاتے- لیکن بعد ازاں اسی قبیلے نے شمالی افریقہ سے سسلی پر کنٹرول حاصل کیا اور یوں موجودہ اٹلی پر ایک صدی سے زائد مسلمانوں کا کنٹرول رہا-
مغرب میں تبدیلی بھی آ رہی ہے
ہمیں یہ بات بھی realize کرنی ہوگی کہ سب کچھ منفی نہیں ھے- پچھلے بیس سال میں صورتحال بہت حد تک تبدیل بھی ہوئی ہے جسے ہمارے ہاں realize نہیں کیا گیا ہے- مغرب میں کوئی چیز اسٹیٹک نہیں رہتی- مثبت تبدیلیاں بھی آئ ہیں- مغربی انٹلجنیسا نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو سنجیدگی سے لیا ہے- آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ امیزون پر اسلاموفوبیا پر ٧٨٠ کے قریب ٹائٹل موجود ہیں- اس سے اس ٹرم کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے- خود مسلم کمیونٹی اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے لئے منظم ہوئی ہے- اکنا اور اثنا جیسی مسلم تنظیمیں اسلام کا بہتر امیج بنانے کے لئے سوشل سروس کے میدان میں سرگرم ہوئی ہیں- فوڈ بینک، سوپ کچن، ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں مین اسٹریم تنظیموں کے ساتھ تعاون جو پہلے بھی موجود تھا، کو ارادتاً بڑھایا گیا ہے-
کامیڈینز نے اسلاموفوبیا کو اپنے شوز کا موضوع بنایا ہے- فوکس نیوز جو اسلاموفوبیا پھیلانے کے لئے معروف ہے اس کا نام تعصب کے استعارے کے طور پر معروف ہے- ٹرمپ کے مسلم بین پر خود مغربی میڈیا نے آواز اٹھائی ہے- عدالت میں اسے چیلنج کیا گیا اور اس پر عمل ممکن نہ ہو سکا-
مسلمانوں کی تین کیٹگریز
عام طور سے اسلاموفوبیا کو مغربی دنیا سے associate کیا جاتا ہے- جبکہ اسلاموفوبیا کی اس سے زیادہ تکلیف دے صورتیں دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً بھارت چین روس میانمار- یہاں ہم دیکھیں تو مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں موجود ہیں- ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ مغرب دنیا کی آبادی کا صرف بارہ فیصد ہے- بد قسمتی سے کولنیل ادوار کے رد عمل میں اور کچھ عالمی اداروں پر مغربی تسلط کے با عث ہمارا ذہن اب تک مغرب سے مغلوب ہے- خصوصاً انکا جو مغرب مخالفت میں سب سے آگے ہیں-
یہاں ہمیں یہ بات بھی realize کرنی ہو گی کہ اسلاموفوبیا صرف مغرب میں نہیں پایا جاتا- چین ہندوستان روس اور برما کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں سیاسی اور جیو پولیٹیکل مقاصد کے لئے اسلام کی مخالفت کی جا رہی ہے اور سرکاری سطح پر اسلام کی مخالفت موجود ہے-
مسلم دنیا کو ہم broadly تین کیٹگریز میں تقسیم کر سکتے ہیں- ایک وہ جو مسلم اکثریتی علاقے ہیں اور وہاں اقتدار بھی مسلمانوں کے پاس ہے- پاکستان، عرب دنیا کے بیشتر ممالک، سینٹرل ایشیا اور ساؤتھ ایسٹ انڈونیشیا ملیشیا وغیرہ
دوسرے غیر مغربی ممالک جہاں مسلمان قابل ذکر اقلیت ہیں اور حکومت غیر مسلموں کے پاس ہے- بھارت، برما، چین
تیسرے مغربی ممالک جہاں مسلمان نسبتاً ایک چھوٹی اقلیت ہیں-
مغرب میں مسلمان سب سے زیادہ آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں
غیر جانب داری سے اگر جائزہ لیا جائے تو مسلمان سب سے زیادہ آرام سے مغربی ممالک میں ہیں کیونکہ وہاں اسلاموفوبیا کے باوجود انسانی حقوق کا شعور موجود ہے اور قانون کی حکمرانی بھی- وہاں کا سیکولر آئین اسلاموفوبیا کے خلاف ایک رکاوٹ ہے- جبکہ مسلمانوں کی اکثریت خود مسلم اکثریتی ملکوں میں اور بھارت چین برما جیسےغیر مغربی ملکوں میں انسانی حقوق کیخلاف ورزی اور کسی حد تک اسلاموفوبیا کا بھی شکار ہے-
ٹرمپ کے مسلم بین کا چرچا تو بہت ہوا لیکن اسے قانونی طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا-
سیاسی فائدوں کے لئے اسلاموفوبیا کا استعمال
نائن الیون کے بعد مغرب میں اسلاموفوبیا کے پھیلاؤ کو پچھلی ڈھائی میں سیاست دنوں نے بھی exploit کرنے کی کوشش کی-
ٹرمپ نے اور بہت سے دوسرے مغربی سیاست دانوں نے اسلام کے خلاف نفرت بڑھا کر سیاسی فائدے حاصل کرنے کی کوشش کی- لیکن اسکے خلاف مزاحمت بھی موجود رہی ہے-
مثلاً ٢٠١٥ کے الیکشن سے قبل کینیڈا میں ہارپر کی کنزرویٹو حکومت نے نقاب کے مسئلے کو الیکشن اشو کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی- citizenship سرمنی کے دوران نقاب پر پابندی لگا دی گئی- بھول پور سے تعلق رکھنے والی زنیرہ اسحاق نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی مدد سے نقاب پر اس بین کو عدالت میں چیلنج کیا اور عدالت نے سیٹنگ گورنمنٹ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے زنیرہ اسحاق کو citizenship اوتھ نقاب میں اٹھانے کی اجازت دی- حکومت نے فیڈرل کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا لیکن فیڈرل کورٹ نے بھی مذہبی آزادی کے حق میں فیصلے کو برقرار رکھا- یہاں میں پاکستانی audience سے ایک سوال کرنا چاہوں گی- کیا زنیرہ اسحاق پاکستان میں ہوتیں تو انکے لئے ایسا کیس کرا اتنا آسان ہوتا- یاد رہے جس وقت انھوں نے کیس کیا وہ کینیڈا کی شہری نہیں تھیں صرف امیگرینٹ تھیں-
یہاں جس پائنٹ کو میں emphasize کرنا چاہوں گی وہ یہ ہے کہ مغرب کے سیکولر آئین اور قانون میں اسلاموفوبیا کے خلاف لڑنے کے لئے ٹولز موجود ہیں جبکہ خود اسلامی ممالک میں اور بھارت جیسے بظاھر سیکولر آئین رکھنے والے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں-
مغرب میں اسلاموفوبیا نیا نہیں ہے، یہ صلیبی جنگوں کا تسلسل ہے-
مسلمانوں نے جب رومن اور persian ایمپائر پر کنٹرول حاصل کیا تو بڑی تعداد میں عیسائی دنیا نے اسلام قبول کرنا شروع کیا- یہ ایک فطری چیز تھی کہ ایسی دنیا نے تھریٹنڈ محسوس کیا- اسکا سب سے بڑا مظاہرہ صلیبی جنگوں میں سامنے آتا ہے-
یہی چیز بعد میں بھی یورپ کو اسلام مخالفت پر ابھرتی رہی- مستشرقین جنہوں نے مشرق اور اسلام پر بے پناہ تحقیق کی انھوں نے مغربی قاری کے لئے اپنی تحریروں کے ذریعے اسلام کا ایک منفی تاثر ابھارا- یہاں تک کہ روشن خیال فلسفی بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے- وولٹئیر نامی فلاسفر کو نے آنحضرت کے بارے میں ایک ڈرامہ لکھا- اس ڈرامے کے کونٹینٹ میں اور سلمان رشدی کے اسلام مخالف فکشن میں کوئی خاص فرق نہیں بلکہ وولٹئیر نے ٹائٹل پر حضرت محمد صلیٰ الله کا نام استعمال کیا-
تو اسلام مخالفت صدیوں سے مغرب کی نفسیات میں شامل رہی ہے- یہی چیز بعد ازاں ہالی ووڈ میں نظر آتی ہے- کولونیل ادوار میں جو سیاسی مقصد کے لئے جو لٹریچر لکھا گیا مثلاً رڈ یارڈ کپلنگ کی وائٹ مین برڈن وہ سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تھا لیکن اس میں بھی اسلام مخالفت بہت حد تک غالب تھی- اسے ایڈورڈ سعید نامی فلسطینی جو کہ خود عیسائی تھے ١٩٧٠ کی دھائی میں سامنے لے کر آئے کہ کس طرح مشرق اور مسلم دنیا کی ایک انتہائی منفی تصویر کشی کی گئی ہے- ایڈورڈ سعید کے اورینٹلزم نامی فلسفے نے مغرب کے علمی حلقوں میں ھل چل مچا دی- لیکن اسے بڑے پیمانے پر صحیح تسلیم کیا گیا- اسکے باوجود ہالی ووڈ کی اسلام دشمنی قائم رہی- پچھلی چند دھائیوں میں ریلیز ہونے والی فلمیں دیکھ لیں ممی، ممی ریٹرن، امریکن سنائپر اور ایک لمبی لسٹ موجود ہے جن میں مسلمانوں کو عورتوں پر ظلم کرنے والا ، وحشی، لالچی کے روپ میں پیش کیا گیا ہے-
جیک شیہان نامی امریکی مصنف نے
Bad Reel Arabs
کے نام سے اپنی کتاب میں ١٨٩٦ سے لیکر سن ٢٠٠٠ تک ١٠٠٠ ایسی فلموں کا تجزیہ کیا ہے جن میں عربوں اور مسلمانوں کی منفی تصویر کشی کی گئی ہے- انکا کہنا ہے کہ silent سینما کے زمانے سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی خواہش موجود رہی ہے-
کون لوگ ہیں: ٢٠١٣ میں ایک کتاب سامنے آئ اسلاموفوبیا انڈسٹری پر جسکے مصنف نیتھن لین کا کہنا ہے
صلیبی جنگیں
میڈیا
وائٹ سپرامسٹ
آبادی کم/ اگر نہ روکا گیا تو یورپ عرب مسغرب میں تبدیل ہو جائے گا-
انہیں بڑی تعداد میں مسجدیں بنتی ہوئی نظر آتی ہیں، وال مارٹ میں حجابی خواتین سیلز ویمن نظر آتی ہیں، تراویح کے اوقات میں گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں نظر آتی ہیں- یہ چیزیں ایک ایسی آبادی کو جس نے اسلام کے بارے میں صرف منفی باتیں، دہشت گردی کے قصے سن رکھے ہوں ظاہر ہے پریشانی کا سبب بنتی ہیں- لیکن مغرب کے مسلمان بھی نائن الیون کے بعد منظم ہوئی ہیں- اسلاموفوبیا نے ان مسلمانوں کو بھی اپنی شناخت سے رجوعہ کرنے پر مجبور کیا ہے، جو اسلام سے دور تھے یا اسے اپنی شناخت نہیں سمجھتے تھے-
پھر پچھلے بیس سال میں اسلام اور خود اسلاموفوبیا کے بارے میں dilogue بہت ہوا ہے اور حقیقت سامنے آ رہی ہے- یہ ایک حقیقت ہے کے اسلام کے بارے میں تجسس بڑھا ہے- لوگوں نے اسلام کو اسٹڈی کیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے-
دوسری طرف خود مغربی انٹیلجنسیہ نے خصوصاً
اسلاموفوبیا صرف مغرب میں نہیں ہے- خود میں بھی اسلاموفوبیا موجود ہے-
مغرب کا آئیں اور قانون اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے-
اسلاموفوبیا یکطرفہ نہیں ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں