باڑا مارکیٹ کی اسمگلنگ سے ایوب اقتدار کے خاتمے تک
نومبر ١٩٦٨ کی طلبہ احتجاجی تحریکوں نے نے بلآخر مارچ ١٩٦٩ میں ملٹری ڈکٹیٹر ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا- بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ احتجاجی تحریک ٧ نومبر کو لنڈی کوتل میں غیر قانونی اسمگل شدہ آئٹمز خریدنے کے ایک چھوٹے سے واقعہ سے شروع ہوئی- مقامی اتھارٹیز کے ڈیوٹی پر اصرار نے راولپنڈی گورڈن کالج کے طلبہ کا ڈپٹی کمشنر کے آفس کے باہر احتجاج طلبہ، مزدوروں، کسانوں کے ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو کر مشرقی پاکستان بھی جا پہنچا جہاں چھ دسمبر کو ایوب خان کے دورے کے موقع پر کرفیو کے باوجود مشتعل ہجوم کے بے قابو ہونے پر پولیس کو گولی بھی چلانی پڑی اور سینکڑوں گرفتاریاں بھی کرنی پڑیں- ٢٦ دسمبر کو مغربی پاکستان نے ایوب حکومت کے سامنے مطالبات پیش کرنے سے انکار کر دیا- مشرقی پاکستان میں اسٹوڈنٹ ایکشن نے گیارہ نکات پر مشتمل تفصیلی مطالبات کا مطالبہ کیا جو مجیب کے چھ نکات کے مقابلے میں زیادہ خود مختاری کا مطا لبہ کر رہے تھے- ان نکات نے چھ نکات کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا- بلاخر ایوب کو مجیب کو رہا کرنا پڑا جو اگر تلا سازش کیس میں قید تھا- اور فروری میں اپنے قریب ترین معتمد فوج کے سربراہ چیف آف اسٹاف یحییٰ کو بلا کر مارشل لاء کے بارے میں مشورہ کرنا پڑا- اور یوں پچیس مارچ کو یحییٰ نے مارشل لاء ادمینستریٹر کے طور پر اقتدار سنبھال کر جلد از جلد الیکشن کروا کر قانون ساز اسمبلی تشکیل دینے کا وعدہ کیا-
یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں صنعت تیزی سے ترقی کر رہی تھی- پاکستان کا شمار ایشیا کے اولین ٹائیگرز میں کیا جاتا تھا- گروتھ ریت ٥.٥ تک پہنچا ہوا تھا- مشرقی پاکستان میں
یہ فیچر ان تمام واقعات کو دلچسپ انداز میں پیش کرے گا- آج کا پاکستانی بہت کم ان سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے واقف ہے جس نے مشرقی پاکستان کو پا کستان سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا-
راولپنڈی کے گورڈن کالج کے طلبہ پاک افغان سرحد پر واقع لنڈی کوتل کی مارکیٹ سے کچھ اسمگل شدہ سامان لے کر لوٹ رہے تھے کہ مقامی اتھارٹیز نے انہیں روک کر ان پر ڈیوٹی لگانے کی کوشش کی- طلبہ نے ڈیوٹی دینے کے بجائے ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا- جلوس کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے فائر کھول دیا جس سے ایک طالب علم ہلاک ہو گیا- اگلے کچھ دنوں میں پاکستان بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیز کے طلبہ احتجاج میں شامل ہو گئے- اگلے چند ہفتوں میں بڑے شہروں کے مزدور کے علاوہ چھوٹے گاؤں سے کسان اور دیگر ورکر کلاس بھی اس احتجاج کا حصہ بن گئی-
دسمبر کی چھ تاریخ کو ڈھاکہ میں بھی صدر ایوب کی آمد کے موقع پر احتجاج کی کال دے دی گئی- پولیس نے ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوسشش میں فائر کھولا- ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور سینکڑوں زخمی ہوئے-
پچیس دسمبر کو طلبہ نے ایوب حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے سے انکار کر دیا- طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم منتخب حکومت کے سامنے ہی اپنی ڈیمانڈز رکھیں گے- یعنی دوسرے لفظوں میں ایوب حکومت کو جانا ہو گا-
جنوری میں مشرقی پاکستان کے طلبہ اور مزدور بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے اور وہاں ایک اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی قائم ہو گی جس نے ایک گیارہ پائنٹ کا ایک مطالبہ تشکیل دیا جو شیخ مجیب کے چھ نکات کے مقابلے میں زیادہ شدت لئے ہوئے تھا-
یہ احتجاجی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے ایک شعلہ بن گئی جس نے ایوب خان کے طویل اقتدار کو بھسم کر کے رکھ دیا-
یہ ٧ نومبر ١٩٦٩ کی بات ہے، راولپنڈی کے گورڈن کالج کے کچھ طلبہ پاک افغان سرحد کے بازار لنڈی کوتل سے کچھ اسمگلڈ سامان لے کر لوٹ رہے تھے کہ پولیس نے انھیں روک لیا اور انہیں ڈیوٹی دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی- طلبہ گھسے میں آ گئے اور گورڈن کالج کے طلبہ نے ایک احتجاج آرگنائز کیا
بھٹو کا اسلامی سوشلزم
پہلا لانگ مارچ چین میں ماؤ نے نہیں آرگنائز کیا بلکہ امام حسین نے کربلا میں کیا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں