سرگودھا میں مقیم میجر ریاض انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے حالات ان دنوں نہایت ناخوشگوار تھے- پولیس اور ایسٹ پاکستان رائفلز اور ایسٹ پاکستان رجمنٹ باغی ہو چکے تھے-
'ایسے میں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے چند مقامی بنگالی طلبہ میرے پاس آئے اور باغیوں کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کے ساتھ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا-'
'اس معاملے میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ ہمیں مرکزی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے بنگالیوں کو کسی بھی قسم کا اسلحہ دینے کی ممانعت تھی-'
میجر ریاض آج بھی اس وقت کا تذکرہ کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں- انکا کہنا ہے کہ وہ جس وقت رضاکاروں کی اس تنظیم میں بھرتی کے لئے نوجوانوں کو قد، عمر اور صحت کی بنیاد پرالگ کررہا تھے، ایک چھوٹے قد کا نوعمر لڑکا ایڑیوں کے بل کھڑا ہو گیا- اسکا کہنا تھا کہ اب وہ بڑا ہو گیا ہے-
'اسکے جذبہ مجھے صدیوں پیچھے غزوہ بدر کی یاد دلا دی جب دو نوعمر صحابیوں نے اسی جذبے کا مظاہرہ کیا تھا اور یوں میں نے طلبہ رضاکاروں کی اس تنظیم کو البدر کا نام دیا-'
یہ بات اب ریکارڈ پر ہے کہ 1971 کے فوجی آپریشن اور انڈیا کی مداخلت کے باعث جس المیے نے جنم لیا اس میں متعدد فریقین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔ اس مضمون کا مقصد فوجی آپریشن یا کسی بھی فریق کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دفاع نہیں
بلکہ ایک ایسے بیانیے کو سامنے لانا ہے جسے مین اسٹریم میڈیا میں اب تک جگہ نہیں مل سکی ہے۔
1971 کے تنازعہ کے حوالے سے میڈیا اور علمی حلقوں میں بہت سے بیانیہ موجود ہیں- جن میں سے کچھ کو بہت زیادہ قبولیت حاصل ہے لیکن کچھ کو میڈیا کے مرکزی دھارے میں با لکل جگہ نہیں ملی-
ایسا ہی ایک بیانیہ ان بنگالی طلبہ پر مشتمل سابق رضاکار تنظیم 'البدر' کا ہے جنہوں نے پاکستانی شہری کی حیثیت سے اسے ٹوٹنے سے بچانے کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر مکتی باہنی اور ہندوستانی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے-
'میرے سینئرز نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے نظم و نسق کیسے برقرار رکھا ہے- جب میں نے البدر کے رضاکاروں کا تذکرہ کیا تو کمانڈنگ افسر نے میرے علاقے کا وزٹ کیا اور یہ تجویز سامنے آئ کہ اس مشکل وقت میں باقی علاقوں میں بھی پاکستان کی حمایت کرنے اور اس کے لئے لڑنے کی خواہش رکھنے والوں کو ٹریننگ دی جائے اور انکی خدمات کا فائدہ اٹھایا جائے-'
نذر السلام* (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) جو البدر کی تربیت پانے والے پہلے بٹالین میں شامل تھے کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت کالج میں ایف ایس سی کے طالب علم تھے-
انکا کہنا ہے کہ یکم مارچ ١٩٧١ کو یحییٰ خان نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا تو وہ کالج کے دوسرے طلبہ کے ساتھ اس فیصلے کے خلاف مظاھرے میں شامل تھے لیکن 'جب مارچ کے آخر میں اندرا گاندھی نے علیحدگی پسندوں کی حمایت کا اعلان کیا تو ہم خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے تھے-'
نذرالسلام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے محبت انہیں انکے والدین اور دادا دادی نانا نانی نے گھٹی میں گھول کر پلائی تھی کیونکہ وہ لوگ ہندو راج اور ذات پات سے آلودہ انڈین نیشنلزم کے مضمرات سے پوری طرح آگاہ تھے اور مغربی بنگال کے ہندو زمینداروں کے طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں کے عینی گواہ تھے-
'انکے تجربات نے مجھے جوش دلایا کہ میں پاکستان سے محبت کروں اور اسکی حفاظت کے لئے کھڑا ہوں-'
البدر پر تحقیق کے لئے بنگلہ دیش کا سفر کرنے والے اور اسی نام سے ایک کتاب تصنیف کرنے والے محقق و مورخ سلیم منصور خالد جو طویل عرصے ایف سی کالج گوجرانوالہ میں تدریس کے فرائض انجام دیکر حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں:
٢٥ مارچ کو پاک فوج نے مکتی باہنی کے خلاف آپریشن شروع کیا تو اسلامی چھاترو شنگھو جو چھوٹے چھوٹے شہروں اور گاؤں سمیت پورے مشرقی پاکستان میں پھیلی ہوئی تھی، کے پاس تین راستے تھے- ا) مکتی باہنی کا ساتھ دیں اور پاکستان سے علیحدگی کی جنگ لڑیں ٢) غیر جانبدار رہیں ٣) پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر پاکستان کو بچانے کی کوشش کریں- یہ تین آپشن شوریٰ کے سامنے رکھے گئے-
سلیم منصور کا کہنا ہے کہ مکتی باہنی کا ساتھ دینے کی تجویز سے کسی نے اتفاق نہیں کیا- بعض سادہ لوح غیر جانبدار رہنے کے حق میں تھے جو کے ان نا مساعد حالات میں نا ممکن تھا لیکن اکثریت آخر وقت تک پاکستان بچانے کی جدوجہد کا ساتھ دینا چاہتی تھی- بلآخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے تحفظ کی خاطر پاک فوج سے ٹریننگ لیکر انکے ساتھ مکتی باہنی اور انڈیا سے لڑیں گے-
بلآخر مئی 1971 میں البدر کا قیام عمل میں آ چکا تھا- اسکا نام میجر ریاض کا ہی مجوزہ تھا-
لیکن کیا ایسے حالات میں پاک فوج کا ساتھ دینا مقامی بنگالی طلبہ کے لئے کوئی دانشمندانہ فیصلہ تھا؟
دنیا کا کوئی قانون وطن کے دفاع کو جرم قرار نہیں دیتا اور نہ ہی کسی شہری سے اسکا وطن کے دفاع کے حق کو چھینا جا سکتا ہے-
ڈھاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر خرم جاہ مراد جو اس وقت پاک فوج، مجیب الرحمان اور دائیں اور بائیں بازو کے تمام سیاست دانوں سے قریبی رابطے میں تھے، اپنی یادداشتوں میں، جو 'لمحات' کے نام سے ٢٠٠٠ میں شائع ہوئی، میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی-
خرم کے مطابق، انتخابات کے نتائج دیکھ کر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ملک کی تقسیم ناگزیر ہے، اس لئے انکا خیال تھا کہ اگر یہ طلبہ مکتی باہنی سے لڑنا چاہتے ہیں تو بھی انہیں پاک فوج کے ساتھ ملکر نہیں لڑنا چاہئے کیونکہ علیحدگی کے بعد پاکستان بچانے کی یہ جدوجہد ان بنگالی طلبہ کے لئے شدید خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے لیکن یہ طلبہ پاکستان سے عشق کے جذبے سے سرشار تھے-
اسکے علاوہ مقامی راستوں پر پاک فوج کی رہنمائی کرنا اور مکتی باہنی کی نقل و حرکت سے پاک فوج کو مطلع کرنا بھی انکے فرائض میں شامل تھا -
میجر ریاض کے الفاظ
لیکن یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ ان محدود وسائل کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھنے والے ان محافظین کی اپنی حفاظت کے لئے سرنڈر کی دستاویز میں کوئی شق شامل نہیں تھی کہ وہ دہلی میں تیار ہوئی تھی-
بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں ان رضاکاروں کو مکتی باہنی کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا جسکا تفصیلی ذکر سلیم منصور کی 'البدر' نامی تصنیف میں موجود ہے-
مثال کے طور پر مکتی باہنی کے لیڈر قادر صدیقی جو ٹائیگر صدیقی کہلاتے تھے نےعین ہتھیار ڈالنے کی تقریب کے دوران اسٹیج کے پیچھے غیرملکی نامہ نگاروں کی موجودگی میں انہیں موت کی گھا ٹ اتارا جسکا اعتراف حال ہی میں انہوں نے ایک ہندوستانی امریکی رائٹر یاسمین سائکیا کو انکی کتاب کے لئے انٹرویو دیتے ہوئے کیا-
یہ سلسلہ اس وقت رکا جب مجیب الرحمان پاکستان کی قید سے چھوٹ کر بنگلہ دیش کی نوزائیدہ مملکت پہنچے اور انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا-
پاکستان کے سابق حامیوں کا مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچنا بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سابق مشرقی پاکستان کے تمام عوام علیحدگی نہیں چاہتےتھے لیکن بنگلہ دیش کے قیام کے حوالوں سے جو بیانیہ موجود ہیں ان میں اس پہلو کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے-
لیکن اس سے بڑھ کر انکا متعدد مرتبہ پارلیمنٹ میں پہنچنا اس بات کا بھی ثبوت ہے کے بنگلہ دیش کے عوام انکے اخلاق و کردار پر اعتماد کرتے رہے ہیں-
لیکن آج البدر کے رضاکاروں کو آج بڑے پیمانے پر ریپ، قتل عام اور لوٹ مار کے مقدمات کا سامنا ہے اور انہیں پھا نسیوں پر چڑھایا جا رہا ہے-
پھانسی اور عمرقید کی ان سزاؤں کو ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی غیر منصفانہ قرار دیا ہے- انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں due process یعنی انصاف کے تقاضوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے-
نذر السلام کا یہ بھی کہنا ہے کہ البدر کے کارکنان پر نہ ١٩٧١ سے پہلے کوئی مقدمات تھے اور نہ ہی ١٩٧١ کے بعد حسینہ کی دوبارہ وزارت عظمیٰ تک- وہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کئی دھائیوں تک اتنے گھناؤنے مجرمین کا کوئی پولیس ریکارڈ ہی موجود نہ ہو؟
اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں ریپ، قتل عام، لوٹ مار، جیسے گھناؤنے الزامات کے مفروضے کو بغیر منصفانہ ٹرائل کے ہندوستانی اور عالمی میڈیا میں دہرایا جاتا ہے-
پاکستان میں عموماً اس المیہ کو بهلانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مخالف بیانیہ پوری قوت سے دنیا میں پھیلتا رہا ہے جسکا شکار پاکستان کا ساتھ دینے والے بنگالی آج تک ہو رہے ہیں-
انڈیا اور بنگلہ دیش کے بیانیہ میں البدر کو اپنی قوم کا غدار جان کر قابل نفرت سمجھا جاتا ہے-
ستم ظریفی یہ ہے کہ جس پاکستان کی محبت میں البدر نے ہتھیار اٹھائے وہاں بھی لوگ انہیں نہیں جانتے ہیں یا انکے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں-
نذر السلام کا کہنا ہے کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ میڈیا میں پاکستان کے خلاف بیانیہ بہت طاقت ور ہے-
نذرالسلام کا آج بھی یہ کہنا ہے کہ یہ اس وقت پاکستان کے شہری تھے- دنیا کا کوئی قانون وطن کے دفاع کو جرم قرار نہیں دے دیتا اور نہ ہی کسی شہری سے اسکے وطن کے دفاع کا حق چھین سکتا ہے-
اس مضمون کی تیاری میں میجر ریاض حسین ملک، سلیم منصور خالد، البدر کے سابق کارکن نذر السلام، کے انٹرویوزکے علاوہ سرمیلا بوس کی کتاب 'ڈیڈ ریکننگ'، کرنل صدیق سالک کی کتاب 'میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ہے'، ڈھاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر خرم جاہ مراد کی کتاب 'لمحات' اور 'البدر' نامی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں