جمعہ، 1 جنوری، 2021

مشرقی پاکستان میں پاکستان کا ساتھ دینے والی رضاکار تنظیم البدر december 9

البدر میں نے قائم کی 
مشرقی پاکستان میں پاکستان کا ساتھ دینے والی رضاکار تنظیم البدر
 
تزئین حسن 

'میں ان دنوں مشرقی پاکستان کے میمن سنگھ ضلع میں جمال پور ڈسٹرکٹ کے علاقے شیر پور میں تعینات تھا- یہ ١٩٧١ کے فوجی آپریشن کا ذکر ہے-' 

سرگودھا میں مقیم میجر ریاض انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے حالات ان دنوں نہایت ناخوشگوار تھے- پولیس اور ایسٹ پاکستان رائفلز اور ایسٹ پاکستان رجمنٹ باغی ہو چکے تھے- 

انڈیا نہ صرف باغیوں کو اسلحہ اور ٹریننگ فراہم کر رہے تھے، بلکہ انڈین فوج مکتی باہنی کی انٹلیجنس اور لوجسٹک سپورٹ کی مدد سے سرحد کے اندر آ کر بھی کاروائیاں کرتی تھی-
 
جبکہ دوسری طرف پاک فوج کو نہ صرف افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا تھا بلکہ مقامی راستوں سے نا واقفیت کی وجہ سے دشمن کے خلاف مؤثر کاروائی نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو جاتی تھی-

'ایسے میں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے چند مقامی بنگالی طلبہ میرے پاس آئے اور باغیوں کے خلاف آپریشن میں پاک فوج کے ساتھ لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا-' 

'اس معاملے میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ ہمیں مرکزی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے بنگالیوں کو کسی بھی قسم کا اسلحہ دینے کی ممانعت تھی-' 

'میں نے اس موقع پر اپنے ذاتی اختیارکو استعمال کر کے ان نوجوانوں کو ٹریننگ دیکر انکی خدمات انڈین فوج اورمکتی باہنی کے خلاف آپریشنز میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا-' 


میجر ریاض آج بھی اس وقت کا تذکرہ کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں- انکا کہنا ہے کہ وہ جس وقت رضاکاروں کی اس تنظیم میں بھرتی کے لئے نوجوانوں کو قد، عمر اور صحت کی بنیاد پرالگ کررہا تھے، ایک چھوٹے قد کا نوعمر لڑکا ایڑیوں کے بل کھڑا ہو گیا- اسکا کہنا تھا کہ اب وہ بڑا ہو گیا ہے-

'اسکے جذبہ مجھے صدیوں پیچھے غزوہ بدر کی یاد دلا دی جب دو نوعمر صحابیوں نے اسی جذبے کا مظاہرہ کیا تھا اور یوں میں نے طلبہ رضاکاروں کی اس تنظیم کو البدر کا نام دیا-'


یہ بات اب ریکارڈ پر ہے کہ 1971 کے فوجی آپریشن اور انڈیا کی مداخلت کے باعث جس المیے نے جنم لیا اس میں متعدد فریقین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔ اس مضمون کا مقصد فوجی آپریشن یا کسی بھی فریق کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دفاع نہیں 

بلکہ ایک ایسے بیانیے کو سامنے لانا ہے جسے مین اسٹریم میڈیا میں اب تک جگہ نہیں مل سکی ہے۔


1971 کے تنازعہ کے حوالے سے میڈیا اور  علمی حلقوں میں بہت  سے بیانیہ موجود ہیں-  جن میں سے کچھ کو بہت زیادہ قبولیت حاصل ہے لیکن کچھ کو میڈیا کے مرکزی دھارے میں با لکل جگہ نہیں ملی- 


ایسا ہی ایک بیانیہ ان بنگالی طلبہ پر مشتمل سابق رضاکار تنظیم 'البدر' کا ہے جنہوں نے پاکستانی شہری کی حیثیت سے اسے ٹوٹنے سے بچانے کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر مکتی باہنی اور ہندوستانی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے- 


میجر ریاض کا کہنا تھا کہ ابتدا میں البدر نے مجھے جمال پور ضلع میں امن قائم رکھنے میں بہت مدد دی- 


جمال پور وہ واحد ضلع تھا جہاں اسکول کالج، ہسپتال سب کھلے ہوئے تھے- پاکستان کے مواصلاتی اداروں کو جب سب اچھا ہے کی رپورٹ بھیجنی ہوتی تھی تو وہ جمال پور آ کر ہی شوٹنگ کرتے تھے-

'میرے سینئرز نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے نظم و نسق کیسے برقرار رکھا ہے- جب میں نے البدر کے رضاکاروں کا تذکرہ کیا تو کمانڈنگ افسر نے میرے علاقے کا وزٹ کیا اور یہ تجویز سامنے آئ کہ اس مشکل وقت میں باقی علاقوں میں بھی پاکستان کی حمایت کرنے اور اس کے لئے لڑنے کی خواہش رکھنے والوں کو ٹریننگ دی جائے اور انکی خدمات کا فائدہ اٹھایا جائے-' 


یاد رہے ان طلبہ کا تعلق متحدہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعت، جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ سے تھا جو مشرقی پاکستان میں اپنے بنگالی نام اسلامی چھاترو شنگھو کے نام سے جانی جاتی تھی-  

نذر السلام* (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) جو البدر کی تربیت پانے والے پہلے بٹالین میں شامل تھے کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت کالج میں ایف ایس سی کے طالب علم تھے


انکا کہنا ہے کہ یکم مارچ ١٩٧١ کو یحییٰ خان نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا تو وہ کالج کے دوسرے طلبہ کے ساتھ  اس فیصلے کے خلاف مظاھرے میں شامل تھے لیکن 'جب مارچ کے آخر میں اندرا گاندھی نے علیحدگی پسندوں کی حمایت کا اعلان کیا تو ہم خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے تھے-' 


یہ ہمارے وطن [پاکستان] کی سالمیت کا مسئلہ تھا جسے ہم نے بہت قربانیاں دیکر حاصل کیا تھا اوردنیا کا کوئی قانون وطن کے دفاع کو جرم قرار نہیں دیتا اور نہ ہی کسی شہری سے اسکا وطن کے دفاع کے حق کو چھینا جا سکتا ہے-

انکا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں مشرقی پاکستان کے عوام کے ساتھ روا رکھی جانے والی معاشی اور سیاسی تفریق کا پورا احساس تھا لیکن وہ اس نظریے کے حامی تھے کہ پاکستان کا ٹوٹنا سیاسی بحران کا حل نہیں ہے-

نذرالسلام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے محبت انہیں انکے والدین اور دادا دادی نانا نانی نے گھٹی میں گھول کر پلائی تھی کیونکہ وہ لوگ ہندو راج اور ذات پات سے آلودہ انڈین نیشنلزم کے مضمرات سے پوری طرح آگاہ تھے اور مغربی بنگال کے ہندو زمینداروں کے طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں کے عینی گواہ تھے- 


'انکے تجربات نے مجھے جوش دلایا کہ میں پاکستان سے محبت کروں اور اسکی حفاظت کے لئے کھڑا ہوں-' 



'ہم نے ہتھیار یحییٰ خان یا پاکستانی فوج یا کسی مالی فائدے کے لئے نہیں اٹھائے تھے بلکہ اپنے وطن کی دشمن سے حفاظت کے لئے ایسا کیا تھا-'

یاد رہے ١٩٧١ میں پاک فوج کے سرنڈر کے بعد انڈین حکومت نے البدر کے رضاکاروں  کی گرفتاری کے لئے انعام کا اعلان کیا- 

٢٠١١ میں بنگالی ہندو رائیٹر سرمیلا بوس نے اپنی کتاب 'ڈیڈ ریکننگ' میں لکھتی ہیں کہ بنگلہدیش اور انڈیا میں لکھے گئے جنگی لٹریچر میں کثرت سے پاکستان کے حامی ان رضاکاروں کا تذکرہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں متحدہ پاکستان کے بنگالی حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو انڈیا کی اسپانسر کردہ مکتی باہنی کے مقابل ایک نیم فوجی فورس تھی-

البدر پر تحقیق کے لئے بنگلہ دیش کا سفر کرنے والے اور اسی نام سے ایک کتاب تصنیف کرنے والے محقق و مورخ سلیم منصور خالد جو طویل عرصے ایف سی کالج گوجرانوالہ میں تدریس کے فرائض انجام دیکر حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں:


٢٥ مارچ کو پاک فوج نے مکتی باہنی کے خلاف آپریشن شروع کیا تو اسلامی چھاترو شنگھو جو چھوٹے چھوٹے شہروں اور گاؤں سمیت پورے مشرقی پاکستان میں پھیلی ہوئی تھی، کے پاس تین راستے تھے- ا) مکتی باہنی کا ساتھ دیں اور پاکستان سے علیحدگی کی جنگ لڑیں ٢) غیر جانبدار رہیں ٣) پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر پاکستان کو بچانے کی کوشش کریں- یہ تین آپشن شوریٰ کے سامنے رکھے گئے- 


سلیم منصور کا کہنا ہے کہ مکتی باہنی کا ساتھ دینے کی تجویز سے کسی نے اتفاق نہیں کیا- بعض سادہ لوح غیر جانبدار رہنے کے حق میں تھے جو کے ان نا مساعد حالات میں نا ممکن تھا لیکن اکثریت آخر وقت تک پاکستان بچانے کی جدوجہد کا ساتھ دینا چاہتی تھی- بلآخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے تحفظ کی خاطر پاک فوج سے ٹریننگ لیکر انکے ساتھ مکتی باہنی اور انڈیا سے لڑیں گے- 


بلآخر مئی 1971 میں البدر کا قیام عمل میں آ چکا تھا- اسکا نام میجر ریاض کا ہی مجوزہ تھا- 


لیکن کیا ایسے حالات میں پاک فوج کا ساتھ دینا مقامی بنگالی طلبہ کے لئے کوئی دانشمندانہ فیصلہ تھا؟ 
دنیا کا کوئی قانون وطن کے دفاع کو جرم قرار نہیں دیتا اور نہ ہی کسی شہری سے اسکا وطن کے دفاع کے حق کو چھینا جا سکتا ہے-

ڈھاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر خرم جاہ مراد جو اس وقت پاک فوج، مجیب الرحمان اور دائیں اور بائیں بازو کے تمام سیاست دانوں سے قریبی رابطے میں تھے، اپنی یادداشتوں میں، جو 'لمحات' کے نام سے ٢٠٠٠ میں شائع ہوئی، میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی-

خرم کے مطابق، انتخابات کے نتائج دیکھ کر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ملک کی تقسیم ناگزیر ہے، اس لئے انکا خیال تھا کہ اگر یہ طلبہ مکتی باہنی سے لڑنا چاہتے ہیں تو بھی انہیں پاک فوج کے ساتھ ملکر نہیں لڑنا چاہئے کیونکہ علیحدگی کے بعد پاکستان بچانے کی یہ جدوجہد ان بنگالی طلبہ کے لئے شدید خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے لیکن یہ طلبہ پاکستان سے عشق کے جذبے سے سرشار تھے- 

خرّم لکھتے ہیں کہ پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کے علاوہ اسلامی چھاترو شنگھو کے سامنے ایک مصلحت بھی تھی کہ مکتی باہنی کے حملوں کے خلاف آپریشن کے دوران فوج کے ہاتھوں بے گناہ بنگالیوں کو جو نقصان پہنچ رہا تھا، امید تھی کہ اگر بنگالی رضاکار ساتھ ہونگے تو اس میں کمی آئے گی- افسوس ایسا نہ ہو سکا- 

سلیم منصور کا کہنا ہے کہ مکتی باہنی نے انہیں پاک فوج کی مسلح حمایت کے جرم میں بہت بے دردی سے مارا- بعض مقامات پر یہ انہیں مقامی سویلین آبادی کے حق میں بات کرنے پر پاک فوج کی گالیوں کا نشانہ بھی بننا پڑا، کہیں کہیں یہ غیر بنگالیوں کے رد عمل کا بھی شکار ہوئے- 

آپریشن کے رد عمل اور پاک فوج سے مسلح تعاون کی پاداش میں ان رضاکاروں کے گھروں کو جلایا گیا، انہیں اور انکے گھر والوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور موت کی گھاٹ بھی اتارا گیا-   

کرنل صدیق سالک اپنی کتاب 'میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھ ہے میں لکھتے ہیں کہ ان رضاکاروں 'البدر اور الشمس کے رضاکاروں نے پاکستان کی سالمیت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں- وہ ہر وقت پاک فوج کے ہرحکم پر لبیک کہتے تھے- انہیں جو کام سونپا جاتا ، وہ پوری ایمانداری، اور بعض اوقات جانی قربانی، سے کرتے-' (صفحہ نمبر ١١٢-١١٣) 

آگے جا کر وہ لکھتے ہیں اس تعاون کی پاداش میں رضاکاروں اور انکے زیر کفالت افراد نے شرپسندوں کے ہاتھوں نقصان اٹھایا- (صفحہ ١١٣)

صدیق سالک یہ بھی لکھتے ہیں کہ 'رضاکار اسلحے اور تربیت کے لحاظ سے مکتی باہنی سے کمزور تھے- انکو بمشکل دو سے چار ہفتوں کی ٹریننگ دی گئی تھی جبکہ مکتی باہنی آٹھ ہفتوں کی بھرپور تربیت حاصل کر چکی تھی- رضاکاروں کے پاس ٣٠٣ کی دقیانوسی رائفلیں تھیں جبکہ مکتی باہنی نسبتاً جدید ساز و سامان سے لیس تھی-'


میجر ریاض کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں نے قلیل اور فرسودہ اسلحہ سے مکتی باہنی کے خلاف آپریشنز میں بھی حصہ لیا اور کہیں کہیں بھارتی سرحد میں گھس کر بھارتی فوج کے ٹارگٹس کو بھی نقصان پہنچایا- 

اسکے علاوہ مقامی راستوں پر پاک فوج کی رہنمائی کرنا اور مکتی باہنی کی نقل و حرکت سے پاک فوج کو مطلع کرنا بھی انکے فرائض میں شامل تھا -

میجر ریاض کے الفاظ   

  

لیکن یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ ان محدود وسائل کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھنے والے ان محافظین کی اپنی حفاظت کے لئے سرنڈر کی دستاویز میں کوئی شق شامل نہیں تھی کہ وہ دہلی میں تیار ہوئی تھی- 


بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بڑی تعداد میں ان رضاکاروں کو مکتی باہنی کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا جسکا تفصیلی ذکر سلیم منصور کی 'البدر' نامی تصنیف میں موجود ہے


مثال کے طور پر مکتی باہنی کے لیڈر قادر صدیقی جو  ٹائیگر صدیقی کہلاتے تھے  نےعین ہتھیار ڈالنے کی تقریب کے دوران اسٹیج کے پیچھے غیرملکی نامہ نگاروں کی موجودگی میں انہیں موت کی گھا ٹ اتارا جسکا اعتراف حال ہی میں انہوں نے ایک ہندوستانی امریکی رائٹر یاسمین سائکیا کو انکی کتاب کے لئے انٹرویو دیتے ہوئے کیا-


یہ سلسلہ اس وقت رکا جب مجیب الرحمان پاکستان کی قید سے چھوٹ کر بنگلہ دیش کی نوزائیدہ مملکت پہنچے اور انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا- 


لیکن اس وقت تک بھارتی فوج کے زیر کنٹرول، پاکستان کے حامی بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا چکی تھی- 

انڈین اور بنگلہ دیشی حکومت کے بیانیہ میں پاک فوج کو بنگالیوں کی نسل کشی کا مجرم قرار دیا جاتا ہے لیکن اس خون کی ہولی کا تذکرہ عموما نہیں کیا جاتا جسکی وجہ سے سابق مشرقی پاکستان کی تمام غیر بنگالی اور بہاری آبادی کیمپوں میں منتقل ہو گئی جنکی تیسری نسل آج وہاں کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے-

البدر کے بہت سے کارکن بھی مارے گئے-

ان میں سے بعض کارکنان اپنی جان بچانے کے لئے شہروں شہروں جنگلوں میں گھومتے رہے- کچھ ہندوستانی ریاستوں  آسام، تریپورہ، مغربی بنگال کی سرحد پار کر کہ انڈیا، نیپال اور برما پہنچے اور مختلف راستوں سے پاکستان میں داخل ہوئے- 

دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی مملکت کے قیام کے بعد ان رضاکاروں کو وہاں کےعوام نے کئی مرتبہ اپنی نمائندگی کے لئے پارلیمنٹ میں بھیجا-

پاکستان کے سابق حامیوں کا مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچنا بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سابق مشرقی پاکستان کے تمام عوام علیحدگی نہیں چاہتےتھے لیکن بنگلہ دیش کے قیام کے حوالوں سے جو بیانیہ موجود ہیں ان میں اس پہلو کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے-     


لیکن اس سے بڑھ کر انکا متعدد مرتبہ پارلیمنٹ میں پہنچنا اس بات کا بھی ثبوت ہے کے بنگلہ دیش کے عوام انکے اخلاق و کردار پر اعتماد کرتے رہے ہیں-

 

لیکن آج البدر کے رضاکاروں کو آج بڑے پیمانے پر ریپ، قتل عام اور لوٹ مار کے مقدمات کا سامنا ہے اور انہیں پھا نسیوں پر چڑھایا جا رہا ہے-


پھانسی اور عمرقید کی ان سزاؤں کو ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی غیر منصفانہ قرار دیا ہے- انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں due process یعنی انصاف کے تقاضوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے-  


یہ مقدمات ٢٠١٠ میں اچانک شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کی دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے لئے منتخب ہونے کے بعد سامنے آئے جنھیں انکے مخالفین سیاسی انتقام بھی قرار دیتے ہیں اور پاکستان سے نفرت بڑھا کر سیاسی فائدے حاصل کرنے کی کوشش اور اپوزیشن کو راستے سے ہٹانے کی تدبیر بھی-

نذر السلام کا یہ بھی کہنا ہے کہ البدر کے کارکنان پر نہ ١٩٧١ سے پہلے کوئی مقدمات تھے اور نہ ہی ١٩٧١ کے بعد حسینہ کی دوبارہ وزارت عظمیٰ تک- وہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کئی دھائیوں تک اتنے گھناؤنے مجرمین کا کوئی پولیس ریکارڈ ہی موجود نہ ہو؟


اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں ریپ، قتل عام، لوٹ مار، جیسے گھناؤنے الزامات کے مفروضے کو بغیر منصفانہ ٹرائل کے ہندوستانی اور عالمی میڈیا میں دہرایا جاتا ہے-   


نذر السلام کا کہنا ہے کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف انڈیا کا پروپیگنڈا بہت غالب رہا ہے-

ہندو بنگالی رائیٹر سرمیلا بوس لکھتی ہیں کہ جنگ کی تاریخ ہمیشہ فاتح قوم لکھتی ہے اور بنگلادیش کے قیام میں فاتح انڈیا اور بنگلہ دیش ہے-   

پاکستان میں عموماً اس المیہ کو بهلانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مخالف بیانیہ پوری قوت سے دنیا میں پھیلتا رہا ہے جسکا شکار پاکستان کا ساتھ دینے والے بنگالی آج تک ہو رہے ہیں-

انڈیا اور بنگلہ دیش کے بیانیہ میں البدر کو اپنی قوم کا غدار جان کر قابل نفرت سمجھا جاتا ہے-

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس پاکستان کی محبت میں البدر نے ہتھیار اٹھائے وہاں بھی لوگ انہیں نہیں جانتے ہیں یا انکے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں-

نذر السلام کا کہنا ہے کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ میڈیا میں پاکستان کے خلاف بیانیہ بہت طاقت ور ہے- 

نذرالسلام کا آج بھی یہ کہنا ہے کہ یہ اس وقت پاکستان کے شہری تھے- دنیا کا کوئی قانون وطن کے دفاع کو جرم قرار نہیں دے دیتا اور نہ ہی کسی شہری سے اسکے وطن کے دفاع کا حق چھین سکتا ہے-


اس مضمون کی تیاری میں میجر ریاض حسین ملک، سلیم منصور خالد، البدر کے سابق کارکن نذر السلام، کے انٹرویوزکے علاوہ سرمیلا بوس کی کتاب 'ڈیڈ ریکننگ'، کرنل صدیق سالک کی کتاب 'میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ہے'، ڈھاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر خرم جاہ مراد کی کتاب 'لمحات'  اور 'البدر' نامی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے-  


نوٹ:  1971 کا المیہ کے دوران متعدد فریقین کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اب ریکارڈ کا حصہ ہیں- اس مضمون کا مقصد سابق مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی حمایت نہیں ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...