جمعہ، 11 دسمبر، 2020

کیا سپر پاور کی حیثیت سے امریکا کی عالمی برتری ختم ہو رہی ہے؟ Updated dec

 ہائی لائٹس 

چین کے خطرے سے بچنے کے لئے امریکا کے پاس کوئی 


دور رس اسٹرٹیجی نہیں- کیا چین جیت گیا کے مصنف کشور محبوبانی

کیا چین جیت گیا؟ "?HasChinaWon "

نامی کتاب کے مطابق کمیونسٹ چین ہر میدان میں تیزی سے امریکا پر سبقت لے جا رہا ہے اور اس وقت امریکا اپنی تاریخ کے ناکام ترین دور سے گزر رہا ہے جبکہ چین اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی اتنا کامیاب نہیں رہا جتنا آج اسے کمیونسٹ پارٹی نے پہنچا دیا ہے- 

  امریکا ایسی کیا غلطیاں کر رہا ہے جو اسکے زوال کو قریب لا رہی ہیں


تزئین حسن 


افراد اور بعض اوقات قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب قدرت انھیں ایسی کامیابیاں عطا کرتی ہے کہ وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ وہ کامیابی کی اس اوج ثریا پر ہیں جہاں تک تاریخ میں نہ کوئی پہنچا ہے اور نہ آئندہ کوئی پہنچے گا- امریکا کی زندگی میں بھی ماضی قریب میں ایک ایسا موقعہ آیا جب آج سے کوئی ٣٠ برس پہلے اسکا حریف سوویت یونین کمزور پڑ کر ٹکرے ٹکرے ہو گیا- بلا شبہ سرد جنگ کا خاتمہ امریکا کی تاریخ کی بڑی کامیابی تھی لیکن آج ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ در اصل امریکا کی تنزلی کا نقطہء آغاز تھا- 


'کیا چین جیت گیا' کے مصنف کشور محبوبانی کا تعلق ایک ہندو سندھی گھرانے سے ہے جو تقسیم کے وقت سندھ سے سنگا پور منتقل ہو گیا- کشور نے اپنی تعلیم سنگاپور ہی سے مکمل کی اور وہ طویل عرصے سنگاپور میں ڈپلومیٹ رہے, اس دوران اقوام متحدہ میں سنگاپور کی نمائندگی کی اور مختصرعرصے کے لئے سلامتی کونسل کے سربراہ بھی رہے- کشور ہارورڈ اور لی کوان یونیورسٹی میں تدریس بھی کرتے رہے ہیں اور عالمی منظر نامے میں چین کے ابھرنے کے موضوع پر متعدد کتابیں بھی تحریر کیں-


انکی حالیہ کتاب 

?Has China Won 


٢٠٢٠ میں شائع ہوئی اور امریکا اور مغربی دنیا میں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ امریکا سپر پاور کی حیثیت کھو رہا ہے اور اسکی جگہ کمیونسٹ چین لے رہا ہے- اس سلسلے میں وہ امریکا اور مغرب کی متعدد غلطیوں کی نشاندھی کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ ابھی بھی وقت ہے اگرامریکا اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے اور انکا مداوا کرنے کی کوشش کرے تو وہ دنیا میں اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے- وہ خود کو امریکا اور چین دونوں کا دوست کہتے ہیں اور ان کے مابین حالیہ تناؤ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں- اہم بات یہ ہے کہ انکی کتاب کو اور دلائل کو امریکا میں بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے- پچھلے کئی مہینوں سے متعدد امریکی تھنک ٹینک اور یونیورسٹیز انھیں اس موضوع پر تبادلہٕ خیال کے لئے مدعو کر چکے ہیں- 


زیر نظر کتاب میں کشور کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے بعد پچھلے تیس سال میں امریکا کی پچاس فیصد آبادی کے معیارزندگی اور آمدنی میں مسلسل کمی آئی ہے اور اسی تیس سال میں چین میں سات سو ملین کی آبادی کوغربت سے نکالا گیا ہے- کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نے چینیوں کو غذا تعلیم، صحت، روزگار، اور انفرا سٹرکچر کی صورت میں جو معیارزندگی دیا, وہ چین کی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی چینیوں کو نصیب نہیں ہوا تھا جبکہ اس عرصے میں امریکا اس معاشی حقیقت کو نظر انداز کر کہ چینیوں کو کمیونسٹ نظام سے نکلنے کی تلقین کرتا رہا ہے-

     

کشور کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا اپنے جمہوری نظام پر ناز کرتا ہے لیکن اس نے اس بات کو نظر انداز کیا ہے کہ کمیونسٹ چین جمہوریت کے بجائے meritocracy (میریٹ کی بنیاد پر حکمران کا انتخاب) کے اصول پر چلتا ہے جس کی وجہ سے انہیں ذہین اور قابل ترین افراد کی  قیادت میسر ہے جو ملک کے مفاد میں بہترین فیصلے کرتی ہے- اس نظام کےمطابق کمیونسٹ پارٹی کے قابل ترین کارکنوں کو فیصلہ کرنے والے عہدوں تک پہنچایا جاتا ہے- میریٹ یعنی قابلیت کی یہ قدر جمہوری نظام میں نا ممکن ہے - انکا کہنا ہے کہ ایک اعشاریہ چار بلین آبادی کے ملک کو چلانا اور متحد رکھنا آسان کام نہیں جو چین کی کمیونسٹ پارٹی پچھلے ستر سال سے بخوبی انجام دے رہی ہے- 


انکا سب سے دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ سی سی پی کو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بجائے چین کی civilizational یعنی چینی تہذیب کی پارٹی سمجھنا چاہیے کیونکہ اسکا ٹارگٹ چین کی تاریخی اور قدیم شان و شوکت کا احیاء ہے- کشور یہ بھی کہتے ہیں کہ مغرب کا عروج صرف دو سو سالہ پرانا ہے- جبکہ انڈیا اور چین دنیا کی تاریخ میں ہزاروں سال بڑی طاقتیں رہی ہیں- ایسے میں یہ قدرتی بات ہے کہ ان قوموں میں دوبارہ عروج اور اپنی تھذیب میں دوبارہ جان ڈالنے کی خواہش پائی جاتی ہے- ایسا کہتے ہوئے کشور اسلامی دنیا کی نشاط ثانیہ اور اس سے قبل کے سمیری، فارسی، رومی اور یونانی ادوار کو فراموش کر جاتے ہیں-  



کشور کا کہنا ہے کہ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا واحد سپر پاور کی حیثیت سے رعونت کا شکار ہو گیا اور طاقت کے نشے میں گرفتار ہو گیا- انکا کہنا ہے کہ فرانسس فوکو یاما کی 'اینڈ آف ہسٹری' نامی کتاب اور اس میں بیان کردہ فلسفہ اس رعونت کا ثبوت ہیں جس کے مطابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اور کمیونزم کی ناکامی کے بعد مغرب کی جمہوری اور لبرل اقدار انسانی کے نظریاتی ارتقا کی معراج اور نقطہء اختتام ہیں- 


امریکا کی تاریخ کا دوسرا اہم موڑ وہ نائن الیون کو قرار دیتے ہیں جب امریکا شدید غم و غصے کا شکار ہو گیا اور اس کیفیت میں وہ عالمی معیشت کے ایک اہم واقعہ کو فراموش کر گیا یعنی چین کی ڈبلیو ٹی او یعنی ورلڈ ٹریڈ  آرگنائزیشن میں شمولیت جس سے عالمی لیبر منڈی میں نو سو ملین تربیت یافتہ کام کرنے والے عالمی معیشت کا حصہ بنے جس سے امریکا اور دنیا بھر کے ورکر کے لئے کمپٹیشن بڑھ گیا- جبکہ امریکا اپنے ورکر کی مہارت بڑھنے پر توجہ نہیں دے سکا-


ایک اہم تبدیل لانے والا فیکٹر چین کی سستی لیبر ہے جسکی لالچ میں امریکی سرمایہ چین اور دیگر ایشیائی مملک منتقل ہوا- پچھلے تیس سالوں کی معاشی زوال اور درمیانے اور کم آمدنی والے طبقات کی فرسٹریشن کے نتیجے میں ٹرمپ کو اقتدار میں آنے کا موقعہ ملا جو بجائے خود امریکی ریاست کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے- اسی معاشی فرسٹریشن کی وجہ سے امریکا بلکہ پورے مغرب میں معاشی مسائل سے نظر ہٹانے کے لئے اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلا ئی جا رہی ہے- 


کشور کا کہنا ہے کہ اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے- امریکا اور مغرب اب بھی سنبھل سکتا ہے- تاہم وہ امریکا کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ minimalist اپروچ اپنائے یعنی دنیا کے معاملات میں اپنی مداخلت کو انتہائی ضرورت تک محدود کر دے- اسکی مداخلت سے اسکے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے خصوصاً مسلم ممالک میں- انکا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ امریکا اپنے ڈیفنس بجٹ کو کم کرے اور اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے بجٹ کو بڑھائے- انکا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس تیرا ائیر کرافٹ کیرئیر بحری جہاز ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت کی سو بلین ڈالر ہے- انکی مینٹننس پر روزانہ کی ملین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں- وہ ہارورڈ کے ایک پروفیسر ٹم کولٹن کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جنگ کی صورت میں دشمن کا ایک لاکھ ڈالر کا میزائل ایک ایئر کرافٹ کیریر جہاز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-

تیسرا مشورہ وہ یہ دیتے ہیں کہ مغرب دنیا میں بہتری لانے کی جو ذمہ داری محسوس کرتا ہے اسے اس سے چھٹکارا پانا ہو گا- مغربی ممالک دنیا کی آبادی کا صرف بارہ فیصد ہیں- اسے یہ بوجھ اکیلے نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ باقی دنیا سے مخاصمت کے ماحول کو ختم کر کہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہیے-      


کشور کے مطابق چین امریکا تناؤ میں چین کی بھی غلطیاں شامل ہیں جن میں امریکی بزنس مین کو نظرانداز کرنا سرفہرست ہے- اس سے قبل جب بھی امریکی حکومت، چین کے خلاف کوئی اقدام کرنا چاہتی تھی امریکی تاجر اسکے راستے کی رکاوٹ بن کر کھڑا ہو جاتا تھا کہ چین سے مخاصمت اسکے مفادات کے خلاف تھی- لیکن پچھلے چند سالوں میں چین نے امریکی بزنس مین پر متعدد تجارتی پابندیاں لگائی ہیں جسکی وجہ سے اب امریکی تاجر چین کا حمایتی نہیں رہا-   



کشور کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا چین کی کمزوریوں سے واقف ہے لیکن اسکی مثبت صلاحیتوں سے واقف نہیں جبکہ خود اپنی قوتوں کا ادراک رکھتا ہے لیکن اپنی کمزوریوں سے واقف نہیں- کشور کا یہ تجزیہ حقیقت پر مبنی محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو امریکا اپنے زوال کی پیشنگوئی کرنے والے دانشوروں کی باتوں کو نظر انداز کر دیتا- جبکہ خود کشور اور ان سے پہلے امریکا کے زوال کی پیشنی کرنے والے متعدد تجزیہ نگاروں جن میں فرید زکریا بھی شامل ہیں کو امریکہ میں بہت پزیرائی ملی- 



تجزیہ الگ ٹیکسٹ باکس بھی بنایا جا سکتا ہے

کشور پہلے دانشور نہیں جنہوں ننے امریکا کے زوال کی بات کی ہو- اس سے قبل انڈین نژاد امریکن معروف جریدے نیوز ویک کے ایڈیٹر اور امریکی چینل سی این این کے میزبان  فرید زکریا کی ٢٠٠٨ کی کتاب 

Post American World

(یعنی امریکا کے بعد کی دنیا ) کو بھی سنجیدہ حلقوں میں بہت پزیرائی حاصل جوئی جس میں انھوں نے پشین گوی کی تھی کہ امریکا کا دور اب ختم ہو گیا- اب مستقبل کی سپر پاور چین اور بھارت ہونگے- یاد رہے یہ کتاب آج سے بارہ سال قبل لکھی گئی تھی- اسکےعلاوہ نوبل انعام یافتہ ماہر معیشت جوزف اسٹلگٹز بھی شد و مد سے چین کے عروج اور امریکی معیشت کے زوال کی بات کرتے رہے ہیں- اسٹلگٹز بھی سرد جنگ کے خاتمے کو امریکا کے زوال کا آغاز قرار دیتے ہیں- وہ روس کے دوبارہ عالمی منظر نامے پر نمودار ہونے کو بھی امریکا کے لئے چیلنج قرار دیتے ہیں جو اپنے معدنیاتی وسائل اور تیل کے ذخائر کے باعث چین سے زیادہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے- لیکن اس سلسلے کا ایک دلچسپ تجزیہ پر مبنی ایک کتاب 

TheMythofAmericanDecline کے نام سے 

٢٠١٤ میں ایک جرمن ماہر سیاسیات جوزف جوفے کی سامنے آئ جسکا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی کہانی ایک افسانہ ہے اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ امریکی زوال کی پشنگویاں کی گئی ہوں- روس کے اسپٹنک سٹیلائٹ کی لانچ کے بعد ١٩٦٠ کے عشرے میں یہی باتیں کی گئیں کہ امریکا نمبرون کی حیثیت کھو رہا ہے- ١٩٧٠ کے عشرے میں ویتنام کی جنگ کے بعد یہی باتیں کی گئیں کہ امریکا شکست سے دو چار ہے- ١٩٨٠ کے عشرے میں جاپان کی امریکا پر سبقت کی باتیں کی گئیں- پھر مغربی یورپ اور ٢٠٠١ میں گولڈ مین ساش نامی معاشی  کنسلٹنٹ گروپ نے پانچ ملکوں کے بلاک BRICS جس میں برازیل، روس  ، انڈیا، چین، اور جنوبی افریقہ یعنی  کہلاتا ہے کہ بارے میں کہا کہ یہ امریکا کے ساتھ دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشی طاقتیں ہیں- لیکن اب تک امریکا کی حیثیت دفاعی طاقت، اور جی ڈی پی سمیت بہت سے حوالوں سے نمبر ون ہی ہے-


اس میں کوئی شک نہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکا سے غلطیاں ہوئی ہیں اور سرد جنگ کے بعد وہ رعونت کا شکار ہوا- وائٹ ہاؤس پر جنگی جنون کا شکار اور عسکری میدان میں امریکا کو منوانے کے شوقین neoconservative، کا غلبہ ہوا جنکا صیہونی لابی اور اسلاموفوبیا کا شکار کرسچن فنڈامینٹلسٹ لابی کے ساتھ ایک فطری اتحاد تھا- اور اس اتحاد نے اسرائیل کی بقا اور کسی ممکنہ مسلم طاقت کو پنپنے کے خطرے کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں تباہی مچائی- افغانستان اور عراق کو تباہ کیا گیا- اپنے عرب اتحادوں کو ساتھ ملا کر شام، یمن، لیبیا میں تباہی مچائی گئی- یہ طاقت کے مظاھرے اگرغلطیاں تھے تو بھی سوچی سمجھی غلطیاں محسوس ہوتے ہیں- اس میں اسرائیلی اور نیو کنزرویٹو لابی کی خواھشات، کے ساتھ ساتھ امریکی اسلحہ کی فیکٹریوں سے بے پناہ منافع کی لالچ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنکی کھپت کے لئے جنگیں ضروری ہیں- ہاں یہ ضرور ہے کہ مسلم دنیاکو تباہ کرنے کی اس پر جوش مہم میں امریکا  نے چین اور بھارت کی ابھرتی ہوئی طاقت کے خطرات کو بالکل نظر انداز کیا- 


لیکن ان سب کو اگر غلطی مان بھی لیا جائے تو اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج بھی امریکی جی ڈی پی دنیا میں بلند ترین جی ڈی پی ہے- چین بھارت اور سپر پاور کے امیدوار تمام ممالک بڑی تعداد میں اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور ریسرچ کے لئے امریکی یونیورسٹیز ہی بھیجتے ہیں- صرف چینی طلبہ کی اداہ کردہ فیسوں سے ہی امریکی معیشت کوکئی بلین ڈالر سالانہ حاصل ہوتے ہیں- کشور اور دوسرے دانشور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان ممالک کی ترقی میں ان گریجویٹس اور محققین کا بہت کردار ہے جنہیں امریکی یونیورسٹیز میں تعلیم اور تحقیق کا موقعہ ملا-



کشور اپنی مغربی تعلیم کو بھی اپنی خوش نصیبی قرار دیتے ہیں اور جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی پرورش کے ساتھ اپنی سندھی ہندو خاندانی شناخت پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں- چین کی سر بلندی کے دعوے کے باوجود انکا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے دوست ہیں- وہ جو بھی باتیں کر رہے ہیں وہ مغرب کے فائدے کے لئے کر رہے ہیں- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا نے غور و فکر کر کہ دنیا کو دلیل کی بنیاد پر تجزیہ کرنا سکھایا- اب اسے خود کو زوال سے بچانے کے لئے دنیا میں اپنی حیثیت کے بارے میں حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے اور دوسری عالمی طاقتوں کی حیثیت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے- 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...