منگل، 8 دسمبر، 2020

ترکی الفیصل نے بحرین سیکورٹی سمٹ میں سچ بول کر کمال کر دیا Master file

 پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کروانے کے خواہش مند اکثر ایسے جملے بولتے ہیں: اسرائیل کو زندہ رہنے کا حق ہے، اسرائیلیایک حقیقت ہے، ہمارے اسے تسلیم کرنے نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا-"

ایسے جملوں کے پیچھے اسرائیل کا یہ پروپیگنڈا چھپا ہوتا ہے کہ "اسرائیل اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر قائم ایک ننھی سی امن پسند ریاست ہے جو ایسی ریاستوں میں گھری ہوئی ہے جو اسکے خون کے پیاسے ہیں اور جو اسکے وجود کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں-" 

فلسطینیوں کے حق میں بات کرنے والوں کو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ گھسی پٹی باتیں کر رہے ہیں- جب عربوں نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو ہمیں کیا اعتراض-

ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ فلسطینی خود کوئی ڈیل کرنے پر راضی نہیں ہیں- یہ بھی اسرائیلی پروپیگنڈے کی بنیاد پر ہی کہا جاتا ہے- یعنی سارا مسئلہ یہ ہے کہ مظلوم فلسطینی خود امن قائم کرنا نہیں چاہتے یا اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا نہیں چاہتے- اگر وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو کوئی مسئلہ نہیں رہے- اسرائیل تو انہیں انکا حق دینا چاہتا ہے، وہ خود ضد پر اڑے ہوئے ہیں-  

یہی بات کئی دھائیوں سے اسرائیل عربوں کے بارے میں بھی کرتا رہا- 

ایسا کہنے والوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ ٢٠٠٢ کی عرب سمٹ میں تمام عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی آفر کی تھی اگر اسرائیل ١٩٦٧ کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پر واپس چلا جائے اور فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ جائے-


عربوں کی آفر آج بھی موجود ہے- اس افر میں عرب اسرائیل امن بھی ہے اور اسکے وجود کو در پیش ان فرضی خطرات سے بھی نجات ملے گی- فلسطینی بھی اس حل پر راضی ہیں- اور صیہونیوں کی ان شکایتوں کا ازالہ بھی موجود ہے کہ عرب دنیا انہیں نہیں مانتی- 


دسمبر چار کو سعودی وزیر خارجہ نے اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہی بات دہرائی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کرنے سے پہلے فلسطینی ریاست کا وجود میں آنا ضروری ہے- 


لیکن دسمبر٦ کو بحرین سمٹ میں شاہ فیصل کے بیٹے ترکی الفیصل نے اس بحث کو جس حقیقت پسندی سے سمیٹا ہے اس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے-  

    


ترکی الفیصل نے بحرین سیکورٹی سمٹ میں سچ بول کر کمال کر دیا 

فلسطین کا مسئلہ حقیقت پسندی سے کیسے حل ہو سکتا ہے-

تزئین حسن

 

ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل سعودی تعلقات اوراعلیٰ عہدے داران کی مملکت کے نئے تعمیر شدہ شہر نیوم کی خبریں زبان زد عام ہیں اور اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب جلد ہی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا، سعودی شہزادے ترکی الفیصل نےبحرین سیکورٹی سمٹ میں میں اسرائیل کو بلاگ تنقید کا نشانہ بنا کراسرائیل اور دنیا کو حیران کردیا- انکا سچ سفاک بھی ہے اور بے لاگ بھی- 

"انکا کہنا ہے کہ اسرائیل دنیا میں اپنا یہ تصور قائم کرنا چاہتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقیاتی اصولوں پر استوار ایک چھوٹی سی امن پسند ریاست ہے جسکے وجود کو خطرہ ہے اور جو خون کے پیاسے دشمنوں سے گھری ہوئی ہے جو اسکے وجود کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے ہیں-" 


"[جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ] اسرائیل نے سیکورٹی کے معمولی خدشات کو بہانہ بنا کر فلسطینیوں کو کنسنٹریشن کیمپ میں قید کیا ہوا ہے، جو کہ وہاں سڑ رہے ہیں کسی قسم کے انصاف سے محروم-"  

انکا جہاں دل چاہتا ہے [فلسطینیوں کے]گھروں کو مسمار کرتے ہیں اور جس کو دل چاہتا ہے قتل کرتے ہیں-" 

ترکی نے اسرائیل کے "غیرتسلیم شدہ نیوکلئیر اثاثوں" کو بھی تنقید کا نشان بنایا- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ "اسرائیل دوسرے ملکوں میں اپنے میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے سعودی عرب کو بدنام (demonise اینڈ denigrate ) کرتا ہے-" 

"اسکے بعد اسرائیل چاہتا ہے کہ ہمارے [سعودیہ کے] ساتھ دوستی کرے-"  

انکا کہنا ہے کہ "اس تاثر کے برعکس اسرائیل مشرق وسطیٰ کی آخری نو آبادیاتی (یعنی کولونیل ریاست ہے)- ہم کسی کھلے ہوئے زخم کو پین کلرز (درد کش ادویات) سے نہیں بھر سکتے-  

ہم پھر یاد دلا دین کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی حکمران اسرائیل کے حمایتی یہودیوں سے تعلقات استوار کر رہی ہے اور پاکسستان سمیت بہت سے مسلم ممالک پر یہ دباؤ ہے کہ وہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کر لے- 

سعودی شہزادے نے مملکت کی سرکاری پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کاحل ٢٠٠٢ کی ڈیل میں مضمر ہے جسکے مطابق سارے عرب ملک اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے اگر اسرائیل فلسطین کو ١٩٦٧ کی جنگ سے قبل کے بارڈرز کے مطابق ریاست قائم کرنے کا حق دے دیتا ہے-   

یہ جواب اسرائیل کو تسلیم کروانے والے ان لوگوں کو جواب بھی جو کہتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے کیونکہ اسرائیل کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے- انکی تقریر کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مسئلے کو بہت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے-


یاد رہے ترکی الفیصل شاہ فصل کے بیٹے ہیں اور ٢٣ سال تک سعودی انٹلیجنس میں کلیدی عہدے پر فائز رہنے کے بعد برطانیہ اور امریکا میں سفیر کی حسیت میں بھی کام کر چکے ہیں- یہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے علاوہ کیمبرج اور لندن یونیورسٹی کے بھی تحصیل یافتہ ہیں- 




عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیار ہیں اگر وہ ١٩٦٧ سے جنگ سے پیشتر کی سرحدوں میں فلسطین کو اسکی ریاست بنانے کا حق دینے پر تیار ہے- اتنی سیدھی سی بات ہمارے ہاں اسرائیل کو معصوم سمجھ کر اسکے حمایتیوں کو سمجھ نہیں آتی-  



   The prince reiterated the kingdom’s official position that the solution lies in implementing the Arab Peace Initiative, a 2002 Saudi-sponsored deal that offers Israel full ties with all Arab states in return for Palestinian statehood on territory Israel captured in 1967.


Israel has “incarcerated [Palestinians] in concentration camps under the flimsiest of security accusations – young and old, women and men, who are rotting there without recourse to justice”, Prince Turki said.

The prince also criticised Israel’s undeclared arsenal of nuclear weapons and the Israeli government’s “unleashing their political minions and their media outlets from other countries to denigrate and demonise Saudi Arabia”.




یاد رہے ترکی الفیصل سابق سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے بیٹے ہیں جنہوں نے ١٩٧٩ سے لیکر ٢٠٠١ تک ٢٣ سال تک سعودی انٹللجینس میں خدمات انجام دیں- 

اس دور میں  سعودی انٹلیجنس نے امریکی سی آئ ائے اور پاکستان انٹلیجنس کے ساتھ ملکر روس کے خلاف افغان جہاد منظم کیا-

  

لیکن نائن الیون سے دس دن قبل نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہیں انکی پوسٹ سے ہٹا کر انکی جگہ نائف بن عبد العزیز کو انٹلیجنس کے سربراہ کے طور پر فائز کر دیا گیا- 

نائن الیون کے بعد امریکا میں ان پر یہ الزامات بھی تواتر کے ساتھ لگائے گئے کہ یہ حملے میں ملوث تھے- پیرس میچ نامی میگزینے میں یہ الزام چھپنے پر اور انکے احتجاج پر میگزین نے معافی بھی مانگی اور ہتک عزت کا ہرجانہ بھی ادا کیا- امریکی جج نے اس الزام کو مسترد کیا کیونکہ ترکی الفیصل کے القاعدہ کے خلاف بیان ریکارڈ پر موجود تھے جن میں القائدہ کو 

israeli 

The prince later brought up Gold’s previous television appearances “denigrating the kingdom and using the most vile descriptions”.


“I think Mr Dore Gold should be the last one to talk about having previous beliefs and positions here,” the prince said.

Prince Turki led Saudi intelligence for more than 20 years and served as ambassador to the United States and the United Kingdom.

Though he now holds no official position, his stance is seen as closely mirroring that of King Salman.

However, the king’s assertive son, the 35-year-old Crown Prince Mohammed bin Salman, is seen having a greater willingness to quietly engage with Israel to counter common rival Iran and boost foreign investment in the kingdom.

‘Not an easy ride’

Bahraini Foreign Minister Abdullatif al-Zayani, also on stage for the tense exchanges, sought to smooth over the differences in his remarks.

Still, he too stressed the importance of a resolution to the Palestinian-Israeli conflict based on a two-state solution as envisaged by the Arab Peace Initiative.


“I think Mr Dore Gold should be the last one to talk about having previous beliefs and positions here,” the prince said.

Prince Turki led Saudi intelligence for more than 20 years and served as ambassador to the United States and the United Kingdom.

Though he now holds no official position, his stance is seen as closely mirroring that of King Salman.

However, the king’s assertive son, the 35-year-old Crown Prince Mohammed bin Salman, is seen having a greater willingness to quietly engage with Israel to counter common rival Iran and boost foreign investment in the kingdom.

‘Not an easy ride’

Bahraini Foreign Minister Abdullatif al-Zayani, also on stage for the tense exchanges, sought to smooth over the differences in his remarks.

Still, he too stressed the importance of a resolution to the Palestinian-Israeli conflict based on a two-state solution as envisaged by the Arab Peace Initiative.


Ashkenazi, meanwhile, reiterated Israel’s position that it is the Palestinians who are to be blamed for not reaching a peace deal.

flsteen ka maseela hl nh hone ki zmh daari flsteeeon pr hi aati he- 

“We have a choice here with the Palestinians whether to solve it or not, or to go to this blame game,” said Ashkenazi, an ally of Netanyahu’s chief rival, Benny Gantz.

Dore Gold, a Netanyahu confidant and former UN ambassador in the audience, implied Prince Faisal’s remarks were “accusations of the past – many of which are false”.

netn yaho e 



In unusually blunt language, he accused Israel of depicting itself as a “small, existentially threatened country, surrounded by bloodthirsty killers who want to eradicate her from existence”.

“And yet they profess that they want to be friends with Saudi Arabia,” he said.

The prince reiterated the kingdom’s official position that the solution lies in implementing the Arab Peace Initiative, a 2002 Saudi-sponsored deal that offers Israel full ties with all Arab states in return for Palestinian statehood on territory Israel captured in 1967.

Israeli Foreign Minister Gabi Ashkenazi, who spoke immediately after Prince Turki, said: “I would like to express my regret on the comments of the Saudi representative. I don’t believe that they reflect the spirit and the changes taking place in the Middle East.”


“They are demolishing homes as they wish and they assassinate whomever they want.”



     in 1963.[9] He then attended the Edmund A. Walsh School of Foreign Service at Georgetown University, part of class of 1968 (alongside future U.S. President Bill Clinton).[10] Turki also did further studies at Princeton,[11] Cambridge,[11] and the University of London, where he took courses in Islamic law and jurisprudence.[11]   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...