ڈاکٹر حمید الله کی رائے میں اسلام طریق انتخاب کو متین نہیں کرتا- کوئی بھی طریق انتخاب ہو سکتا- لیکن بلڈنگ بلاکس sahih ہوں تو یہی بلاکس کسی بھی سسٹم کو کامیابی کے ساتھ چلا سکتے-
ایک غلط فہمی ہمارے ہاںیہ جنم لیتی ہے کہ ہم جب مغربی جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں فوراً مادر پدر آزادی، شادی کے بندھن سے آزاد تعلقات اور مغربی معاشرے کی دوسری خرابیاں آ جاتی ہیں- یہ مغرب کے قوانین ہیں نہ کہ انکاطریق حکمرانی-
ابو الاعلیٰ مودودی نے بھی ہمیشہ عوام کی اکثریت کی رائے اور مرضی سے اسلامی نظام لانے کی بات کی- ہمیشہ کسی دوسرے راستے یا چور دروازے سے اسلامی انقلاب کو واضح طور پر مسترد کیا-
کینیڈا کے موجودہ وزیر اعظم ٹروڈو کو پچھلے چار سال میں کئی مرتبہ انکے سیاسی مخالفین کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا- اپنی غلطیوں پر ڈٹ جانے کے بجائے انہوں نے کئی مرتبہ عوام کے سامنے آ کر معافی بھی مانگی- پہلی دفعہ محض اس بات پر کہ اپنی فیملی تعطیلات میں وہ پرنس کریم آغا خان کے ذاتی مہمان بنے تو کینیڈا کی حکومت کی طرف سے انہیں جو سیکورٹی فراہم کی گئی اس پر جو سرکاری رقم خرچ ہوئی وہ معمول سے کچھ زیادہ تھی-
ایسا نظام میں جہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو، حکمران اپنے آپ کوعوام کے سامنے جواب دہ محسوس کرے، اس کے احتساب کا مربوط نظام موجود ہو، اظہار رائے کی آزادی ہو، فیصلے مشاورت اور کھلی بحث کے بعد ہوتے ہوں، حکومت پر تنقید کی پوری اجازت ہو بلکہ ریاست اسکی سہولت فراہم کرے- یہ اصول دنیا کو میرے سرکار صلیٰ الله علیہ وسلم نے دیئے ہیں- لیکن آج کی اسلامی دنیا میں ان کا تصور بھی مشکل ہے چاہے مصر ہو یا سعودی عرب،پاکستان ہو یا ترکی- لیکن کیا وجہ ہے کہ ہمیں یہ نظام مغرب میں نظر آتا ہے-
قانون اور میں خرابیاں نہیں ہو سکتیں یا نہیں ہوتیں- جمہوریت کے بلڈنگ بلاکس اور رحمت للعالمین
تزئین حسن
ہم میں سے بہت سے لوگ دار الندوہ کے بارے میں جانتے ہیں جہاں قریش کے بڑے جمع ہو کر بحث مباحثے کے بعد اہم فیصلے کیا کرتے تھے۔ یہ بڑے جنہیں ہم سردار بھی کہتے ہیں اپنے اپنے قبیلے کے نمائندے ہوتے تھے جنہیں قبیلے والوں نے اپنی جانب سے اجتماعی فیصلوں اور معاہدوں کا اختیار تفویض کر رکھا ہوتا تھا۔ اختیار دینے کے اس عمل کو بیعت بھی کہا جاتا تھا۔ اسی نظام کو بعد میں بھی برقرار رکھا گیا۔ امیر معاویہ نے یزید کے لئے بیعت اپنی زندگی میں لی۔ یہ بیعت بھی دراصل عوام میں اثر رسوخ رکھنے والوں سے لی جاتی تھی۔ آج بھی ہمارے دیہاتوں میں چوپالوں اور جرگوں میں گاؤں والے جمع ہو کر بحث مباحثہ کر کے کچھ بڑوں کی مرضی سے اپنے فیصلے کرتے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ دار الندوہ کے بارے میں جانتے ہیں جہاں قریش کے بڑے جمع ہو کر بحث مباحثے کے بعد اہم فیصلے کیا کرتے تھے۔ یہ بڑے جنہیں ہم سردار بھی کہتے ہیں اپنے اپنے قبیلے کے نمائندے ہوتے تھے جنہیں قبیلے والوں نے اپنی جانب سے اجتماعی فیصلوں اور معاہدوں کا اختیار تفویض کر رکھا ہوتا تھا۔ اختیار دینے کے اس عمل کو بیعت بھی کہا جاتا تھا۔ اسی نظام کو بعد میں بھی برقرار رکھا گیا۔ امیر معاویہ نے یزید کے لئے بیعت اپنی زندگی میں لی۔ یہ بیعت بھی دراصل عوام میں اثر رسوخ رکھنے والوں سے لی جاتی تھی۔ آج بھی ہمارے دیہاتوں میں چوپالوں اور جرگوں میں گاؤں والے جمع ہو کر بحث مباحثہ کر کے کچھ بڑوں کی مرضی سے اپنے فیصلے کرتے۔
عام طور سے جمہوریت کو ایک مغربی نظام سمجھا جاتا ہے اور یونان کو اسکی جنم بھومی۔
لیکن اس بات کا تعین خود واشنگٹن کے کرتا دھرتاؤں کے لئے بھی مشکل ہے کہ جمہوریت کی تعریف کیا ہے- عوام کی حکومت، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے کی تعریف پر بھی طنز ہیں اور عوام کو رجھانے کے لئے کارپوریٹ منی کا استعمال اور آج کے میڈیا کے دوور میں الیکشن میں من پسند نتائج حاصل کرنے کے لئے لابیز اور پیسے کا استعمال بھی جمہوریت کی روایت بن چکی ہے جس سے مفر نہیں-
بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ یونانی جمہوریت میں نمائندے نہیں ہوتے تھے بلکہ آج کی چوپال کی طرح ہر ایک کو بولنے کا حق ہوتا تھا۔ اور ووٹنگ کا حق ابادی کے ایک بہت قلیل حصے کو حاصل تھا جو دس سے بیس فیصد سے زیادہ نہیں تھا اور ملٹری افسران اور کمانڈرز کو ووٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا۔
مغرب میں دسویں گیارہویں صدی عیسوی تک حکمران کے احتساب کا تصور نہیں تھا۔ ائین اور قانون کی حکمرانی، حکمران کا احتساب، کھلی بحث، اظہار کی آزادی، مشاورت سے فیصلے آج مغربی جمہوریت کے بلڈنگ بلاکس ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوریت محض ووٹ دیکر حکمران کے انتخاب کو سمجھا جاتا ہے۔
کہنا یہ ہے کہ یہ بلڈنگ بلاکس دنیا میں مغرب نے متعارف نہیں کروائے۔ ساتویں صدی کے مدینے میں اظہار آزادی کا یہ حال تھا ایک بوڑھی عورت شرعی مسئلے پر خلیفہ وقت کو خاموش کر دیتی ہے اور وہ اپنی غلطی مان لیتا ہے۔۔ احتساب کا یہ حال تھاکہ ایک بچہ عرب اور عجم کے حکمران سے اسکے کرتے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ آئین اور قانون کی حکمرانی کہ خلیفہ وقت اپنی مطلقہ بیوی سے بچے کی کسٹڈی کا مقدمہ ہار جاتا ہے۔ مشاورت کا یہ حال کہ مفتوحہ علاقوں کی زمیں کی پیمائش اور ٹیکسیشن کے نظام کے لئے، مفتوحین کے انجینئرز سے مشاورت لی جاتی ہے۔ جمہوریت محض ووٹنگ کر کہ حکمران منتخب کرنے کا نام نہیں اسکے کچھ اور بھی لوازم ہیں جس میں آزادئ اظہار جو آج کے دور میں آزادئ پریس یا میڈیا بھی کہلا سکتا ہے سر فہرست ہے۔ یہ یاد رہے کہ ہر آزادی کی کچھ حدود ہوتی ہیں چاہے مشرق ہو یا مغرب۔
مغرب میں دسویں گیارہویں صدی عیسوی تک حکمران کے احتساب کا تصور نہیں تھا۔ ائین اور قانون کی حکمرانی، حکمران کا احتساب، کھلی بحث، اظہار کی آزادی، مشاورت سے فیصلے آج مغربی جمہوریت کے بلڈنگ بلاکس ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوریت محض ووٹ دیکر حکمران کے انتخاب کو سمجھا جاتا ہے۔
کہنا یہ ہے کہ یہ بلڈنگ بلاکس دنیا میں مغرب نے متعارف نہیں کروائے۔ ساتویں صدی کے مدینے میں اظہار آزادی کا یہ حال تھا ایک بوڑھی عورت شرعی مسئلے پر خلیفہ وقت کو خاموش کر دیتی ہے اور وہ اپنی غلطی مان لیتا ہے۔۔ احتساب کا یہ حال تھاکہ ایک بچہ عرب اور عجم کے حکمران سے اسکے کرتے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ آئین اور قانون کی حکمرانی کہ خلیفہ وقت اپنی مطلقہ بیوی سے بچے کی کسٹڈی کا مقدمہ ہار جاتا ہے۔ مشاورت کا یہ حال کہ مفتوحہ علاقوں کی زمیں کی پیمائش اور ٹیکسیشن کے نظام کے لئے، مفتوحین کے انجینئرز سے مشاورت لی جاتی ہے۔ جمہوریت محض ووٹنگ کر کہ حکمران منتخب کرنے کا نام نہیں اسکے کچھ اور بھی لوازم ہیں جس میں آزادئ اظہار جو آج کے دور میں آزادئ پریس یا میڈیا بھی کہلا سکتا ہے سر فہرست ہے۔ یہ یاد رہے کہ ہر آزادی کی کچھ حدود ہوتی ہیں چاہے مشرق ہو یا مغرب۔
جمہوریت کے بلڈنگ بلاکس کو دیکھیں تو جمہوریت بہت سی مختلف شکلوں میں دنیا میں رائج رہی ہے۔ دوسرے نظام حکومت کی طرح یہ بھی کوئ آئیڈیل نظام نہیں اور اسکے بھی مختلف مدارج ہیں۔ کونسا ملک کتنا جمہوری ہے یہ دیکھنا ہو تو اہم یہ ہے کہ بلڈنگ بلاکس یعنی قانون اور ائین کی حکمرانی، اظہار کی آزادی، حکمران کا احتساب، مشاورت اور کھلی بحث سے فیصلے کس حد تک ہوتے ہیں۔
اس نظام کو آپ کوئ بھی نام دے دیں۔ اسلامی کہہ لیں یا مغربی۔ یہی نظام حکمرانی کا بہترین نظام ہے۔ اسکے طریقہء کار مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک قوم کا سیاسی سفر صحیح سمت میں جب ہی شروع ہوتا جب وہ ان بلڈنگ بلاکس کو اپنے نظام کا حصہ بنانے میں سنجیدہ ہوتی ہے۔ یاد رکھیں یہ بلڈنگ بلاکس ہمیں مغرب نے نہیں دئے، یہ میرے آقا صلیٰ علیہ وسلم نے دنیا کو دئے۔ انہیں رحمت للعالمین بلا وجہ نہیں کہا گیا۔
اس نظام کو آپ کوئ بھی نام دے دیں۔ اسلامی کہہ لیں یا مغربی۔ یہی نظام حکمرانی کا بہترین نظام ہے۔ اسکے طریقہء کار مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک قوم کا سیاسی سفر صحیح سمت میں جب ہی شروع ہوتا جب وہ ان بلڈنگ بلاکس کو اپنے نظام کا حصہ بنانے میں سنجیدہ ہوتی ہے۔ یاد رکھیں یہ بلڈنگ بلاکس ہمیں مغرب نے نہیں دئے، یہ میرے آقا صلیٰ علیہ وسلم نے دنیا کو دئے۔ انہیں رحمت للعالمین بلا وجہ نہیں کہا گیا۔
ہمارے بہت سے لکھنے والے طریقہ حکمرانی کو ملک کے قانون سے ملا کر کنفیوز ہیں۔ مثلاً سیکس کے حوالے سے مختلف مغربی ممالک کے مختلف قوانین ہیں۔ اسکا تعلق طریق حکمرانی سے نہیں۔ ہماری حدود قرآن و سنت ہیں۔ اور آئین میں یہ شق شامل ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئ قانون نہیں بنایا جائے گا۔ امریکی آئین کی پہلی شق میں یہ قانون شامل ہے کہ آزادی اظہار، مذہب کی آزادی، کے خلاف کوئ قانون نہیں بنایا جائے گا۔ اب اگر عوام سو فیصد بھی اس شق کے خلاف قانون سازی کرنا چا ہیں تو نہیں کر سکتے۔ خود ایک آئین کا تصور جسے حکمران بھی معطل یا یک جنبش قلم ختم نہیں کر سکتا انہوں نے ہم سے سیکھا ہے۔ طریق حکمرانی، آئین اور قانون کا فرق سمجھ لیں تو بہت سے کنفیوژن دور ہو سکتے ہیں۔ میں دوبارہ دھراوں گی حاکم کے انتخاب کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں جیسے پاکستانی آئین کی دفعہ 63ب حکمران اور اسمبلی اور سنت ممبران بننے کی شرائط بیان کرتی ہے۔ لیکن جب قانون کی حکمرانی ہی نہیں اور ائین کی بالا دستی ہی نہیں تو ایسی شقوں پر بھی عمل نہیں نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آئین اور قانون کی حکمرانی کا شعور ضروری ہے- کہ عام آدمی ہو یا حکمران، یا فوج کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں-
قانون مغرب میں بھی حکمران کے لئے آئین میں کچھ ضابطے موجود ہو سکتے ہیں بلکہ ہوتے ہیں۔ مثلاً امریکا یا کینیڈا کا حکمران اسکا پیدائشی شہری ہونا چاہیے، Naturalised شہری یعنی جو پیدائش کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے شہریت حاصل کی ہو وہ وہاں کا سربراہ مملکت نہیں بن سکتا- لیکن ایسی شرائط کا حاکم کے انتخاب کے طریقے سے کوئ تعلق نہیں۔
یہ نظریہ بھی غلط کے مغربی جمہوریت میں اکثریت حاکم اعلیٰ ہے اگر ایسا ہوتا تو امریکی آئین تین سو سال سے مضبوط بنیادوں پر نہ کھڑا ہوتا - ہر آنے والی حکومت اس میں اکھاڑ پچھاڑ کی کوشش کرتی- آئین اور قانون کی بلا دستی کا تصور تو ہم نے سب سے پہلے دنیا کو دیا کہ خلیفہ وقت بھی عام آدمی کی طرح عدالت میں حاضر ہو گا اور قران و سنت کے فصلوں کا پابند ہو گا- رسول کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اسکے بھی ہاتھ کاٹے جاتے- حکمران کے احتساب کی بات عمر نے اپنی خلافت کے آغاز میں عوام سے کی کہ ہم صحیح کام کریں تو تم ہمیں اس عہدے پر رکھنا ورنہ فارغ کر دینا- یہ آفاقی اصول جنھیں آج دنیا مغربی جمہوریت کے نام سے جانتی ہے یہ دنیا کو ہم نے ہی دیئے تھے بس اب ہم مغرب سے تعصب میں عنہن اپنانے سے انکار کرتے ہیں- اور ایک چھوٹی سی غلط فہمی کو دور کرنے پر راضی نہیں کہ عوام کی حکومت کا مطلب دین کو چھوڑنا یا دینی قانون میں تبدیلی لانا نہیں- آپ آئین میں یہ شق ڈال دیں کہ قران و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا- یہ شق موجود قراردادے مقاصد میں- اس سے آگے بڑھ کر شرعی بنیادوں پر حکمران کی صفات بھی مذکور کر دین- وہ بھی موجود آرٹیکل بی ٦٣ (غا لباً)- اسکے بعد آپ اسے جمہوریت نہ کہیں کچھ بھی کہہ لیں- مگر اس میں قانون کی حکمرانی، حکمران کا احتساب،مشاورت سے فیصلے اور آزادانہ میڈیا اور فیصلوں پر آزادانہ بحث کا حق برقرار رکھیں تو یہ جمہوریت ہی ہے اور اسکی ابتدا موجودہ مغربی جمہوریت سے بہت پیشتر ہوئی تھی- یونان میں تو اس اڈوانس سسٹم کے بارے میں کچھ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا-
اعتیرازت
پاكستان میں جمهورى ادوار اور فوجى تسلط کے دورانئے کا تقابل کر کے دیکھ لىں جمهورى ادوار مارشل لاء سے بھى بدتر هیں
آپ بڑے بڑے خلافتی سے پوچھیں جمہوریت کا متبادل نظام کیا ہے؟
تو وہ آگے کہے گا ضرورت ہی نہی ویسے ہی حالات عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں اور امام مہدی کا ظہور ھوا چاہتا ہہے۔ 🤔
اور ہماری اس دیسی جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ جب اپوزیشن میں ہے (بے بس و مجبوری والی حالت) تو غریبوں کی ہمدرد۔ اور جب یہی حکومت میں آتی ہے تو سٹریم لائن کا حصہ بن کر خون چوستی ہے۔ اور عوام کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی اہنی جمہوری ہارٹی کو معراج کے کمال پر پہنچانے کے لیئے اپنا اپنا کمال دکھاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ سالہا سال سے چل رہا ہے۔
فیض اللہ بھائی لگتا ہے بات دل پے لے گئے ہیں۔۔جمہوریت "فضل الرحمن" نہی ہے۔ اگر حکومت میں ہوں تو سب حلال ہے اور حکومت سے باہر ہو تو سب حرام۔۔۔ جب انسانوں کو مفت کی لسی نا ملے تو وہ "مظلوم" ہوتے ہیں۔۔۔جب مفت کی لسی کی گنگا میں شنان نا ملے تو سالی جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے۔۔۔۔۔یہ لسی زدہ جمہوریت ہے🙃
Tazeen Hasan Ghulam Mujtaba my point is not that particular amendment. Point is that this is wrong to assume that the majority can make any law. On the contrary, in a democracy, the constitution can restrict the legislature to obey a certain law ie Quran o Sunnat as our constitution does. It has nothing to do with the violation of democratic principles.
ایسے تمام افراد روزانہ رات کو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ صبح امام مہدی آہیں گے اور کسی دربار میں اپنا آستانہ بنائیں گے
ابھی تسبیح شروع ہی کریں گے تو امریکہ تباہی ھو جائے گا اور تسبیح مکمل ھونے سے پہلے ہند پاکستان بن جائے گا۔
یہ کند ذہنی آج کی بات نہی یہ پرانی بیماری ہے جسکی وجہ سے امت زوال کا شکار ہے
یہ نظریہ بھی غلط کے مغربی جمہوریت میں اکثریت حاکم اعلیٰ ہے اگر ایسا ہوتا تو امریکی آئین تین سو سال سے مضبوط بنیادوں پر نہ کھڑا ہوتا - ہر آنے والی حکومت اس میں اکھاڑ پچھاڑ کی کوشش کرتی- آئین اور قانون کی بلا دستی کا تصور تو ہم نے سب سے پہلے دنیا کو دیا کہ خلیفہ وقت بھی عام آدمی کی طرح عدالت میں حاضر ہو گا اور قران و سنت کے فصلوں کا پابند ہو گا- رسول کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اسکے بھی ہاتھ کاٹے جاتے- حکمران کے احتساب کی بات عمر نے اپنی خلافت کے آغاز میں عوام سے کی کہ ہم صحیح کام کریں تو تم ہمیں اس عہدے پر رکھنا ورنہ فارغ کر دینا- یہ آفاقی اصول جنھیں آج دنیا مغربی جمہوریت کے نام سے جانتی ہے یہ دنیا کو ہم نے ہی دیئے تھے بس اب ہم مغرب سے تعصب میں عنہن اپنانے سے انکار کرتے ہیں- اور ایک چھوٹی سی غلط فہمی کو دور کرنے پر راضی نہیں کہ عوام کی حکومت کا مطلب دین کو چھوڑنا یا دینی قانون میں تبدیلی لانا نہیں- آپ آئین میں یہ شق ڈال دیں کہ قران و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا- یہ شق موجود قراردادے مقاصد میں- اس سے آگے بڑھ کر شرعی بنیادوں پر حکمران کی صفات بھی مذکور کر دین- وہ بھی موجود آرٹیکل بی ٦٣ (غا لباً)- اسکے بعد آپ اسے جمہوریت نہ کہیں کچھ بھی کہہ لیں- مگر اس میں قانون کی حکمرانی، حکمران کا احتساب،مشاورت سے فیصلے اور آزادانہ میڈیا اور فیصلوں پر آزادانہ بحث کا حق برقرار رکھیں تو یہ جمہوریت ہی ہے اور اسکی ابتدا موجودہ مغربی جمہوریت سے بہت پیشتر ہوئی تھی- یونان میں تو اس اڈوانس سسٹم کے بارے میں کچھ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا-
Tazeen Hasan Faizullah Khan کبھی امریکی آئین کی پہلی ترمیم سنجیدگی سے پڑھئے گا۔ کل چھیاسٹھ الفاظ پر مشتمل ہے۔ یہ ترمیم قانون سازوں کو پابند کرتی ہے کہ مذھبی ازادی، آزادی اظہار، پر امن جلسے کی ازادی، کے خلاف کوئ قانون نہیں بنے گا۔ ایسی ہی ایک شق ہمارے آئین میں بھی ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئ قانون نہیں بنے گا۔ کتنی بھی اکثریت ہو۔ اسکے بعد بھی جمہوریت میں بہت سی خرابیاں لیکن بری سے بری جمہوریت بھی اچھی سے اچھی آمریت سے بھی بہتر ہوتی۔ ورنہ مولانا مودودی کیوں کہتے کہ ہم اسلامی نظام کسی چور دروازے یا انقلاب سے نہیں لائیں گے لوگوں کی مرضی سے لائیں گے۔ ہمارے ہاں تو اس کونپل کو پنپنے ہی نہیں دیا جاتا۔ ادارے ہی نہیں بننے دئے جاتے۔ ہم صرف ایک نکتے پر اٹکے کہ اکثریت چاہے تو وہ کوئ بھی قانون بنا سکتی۔ ایسا ہوتا تو مغرب میں بھی ہر تھوڑے دن بعد قانون اور آئین سے چھیڑ چھاڑ ہوتی۔ امریکی آئین تین سو سال سے نہ چل رہا ہوتا۔
Ghulam Mujtaba Tazeen Hasan To my understanding the essence of that amendment is to keep away the religion from the affairs of the government.
Tazeen Hasan Ghulam Mujtaba I believe it is to ensure that state will not favor one religion over another. But this is for them. Our constitution has a clear clause based in inbective resolution that no law will be made against Quran and Sunnah. U just gave example. No majority government in the US can make legislation against this amendment.
آپ بڑے بڑے خلافتی سے پوچھیں جمہوریت کا متبادل نظام کیا ہے؟
تو وہ آگے کہے گا ضرورت ہی نہی ویسے ہی حالات عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں اور امام مہدی کا ظہور ھوا چاہتا ہہے۔ 🤔
اور ہماری اس دیسی جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ جب اپوزیشن میں ہے (بے بس و مجبوری والی حالت) تو غریبوں کی ہمدرد۔ اور جب یہی حکومت میں آتی ہے تو سٹریم لائن کا حصہ بن کر خون چوستی ہے۔ اور عوام کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی اہنی جمہوری ہارٹی کو معراج کے کمال پر پہنچانے کے لیئے اپنا اپنا کمال دکھاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ سالہا سال سے چل رہا ہے۔
فیض اللہ بھائی لگتا ہے بات دل پے لے گئے ہیں۔۔جمہوریت "فضل الرحمن" نہی ہے۔ اگر حکومت میں ہوں تو سب حلال ہے اور حکومت سے باہر ہو تو سب حرام۔۔۔ جب انسانوں کو مفت کی لسی نا ملے تو وہ "مظلوم" ہوتے ہیں۔۔۔جب مفت کی لسی کی گنگا میں شنان نا ملے تو سالی جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے۔۔۔۔۔یہ لسی زدہ جمہوریت ہے🙃
Tazeen Hasan Ghulam Mujtaba my point is not that particular amendment. Point is that this is wrong to assume that the majority can make any law. On the contrary, in a democracy, the constitution can restrict the legislature to obey a certain law ie Quran o Sunnat as our constitution does. It has nothing to do with the violation of democratic principles.
ایسے تمام افراد روزانہ رات کو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ صبح امام مہدی آہیں گے اور کسی دربار میں اپنا آستانہ بنائیں گے
ابھی تسبیح شروع ہی کریں گے تو امریکہ تباہی ھو جائے گا اور تسبیح مکمل ھونے سے پہلے ہند پاکستان بن جائے گا۔
یہ کند ذہنی آج کی بات نہی یہ پرانی بیماری ہے جسکی وجہ سے امت زوال کا شکار ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں