وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے- (حصہ اول)
تزئین حسن
ٹی اے ایک ماں ہیں- یہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں- انکے بیٹے آئی جے کو ٢٠١٥ میں جب وہ اکیس سال کا تھا ایجنسیز اٹھا کر لے گئیں- کچھہ عرصے بعد انکے بڑے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا گیا- مارچ ٢٠١٧ میں انہیں انکے وکیل نے فون کر کہ کہا کہ آپ ایدھی سنٹر کے مردہ گھر جا کر شناخت کر لیں- انکے شوہر اور رشتے دار گئے لیکن منجمد میت کو دیکھ کر شوہر کا دل یہ ماننے پر تیار نہ ہوا کہ یہ انکے تئیس سالہ بیٹے کی ہے- بعد ازاں آئی جی کا چھوٹا بھائی ایدھی سنٹر گیا اور اسکا کہنا تھا وہ جو بھی ہے اسے گھر لے آئیں- میت کو گھر لایا گیا اور ٹی اے نے بھی پنڈلی پر بچپن کے ایک زخم سے اسکی شناخت کر لی- چار ماہ بعد بڑا بھائی جو سرکاری ملازمت کرتا تھا اسے چھوڑ دیا گیا-
اس حادثے نے ٹی ائے کو بدل کر رکھ دیا- وہ ایک معروف اسلامی تنظیم سے بچپن سے وابستہ تھیں- انکی والدہ اور وہ خود اور شوہر اس تنظیم کے عہدے داران میں سے تھے- یہ تنظیم ٨٠ اور پھر نوے کی دھائی میں اپنے متبعین کو جہاد افغانستان اور پھر کشمیر میں جہاد کے لئے تیار کرتی رہی تھی لیکن نائن الیون کے بعد اس جماعت نے پاکستانی فوج اور حکومت کے ساتھ اس کام سے توبہ کر لی تھی- تی اے کا کہنا ہے کہ وہ خود جہاد کے درس قران اور ترانے سنتے بڑی ہوئیں تھیں- وہ آج بھی اسلامی جہاد اور جو لوگ امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں ان سے جہاد کو صحیح راستہ سمجھتی ہیں- تاہم انکا کہنا ہے کہ انکا بیٹا کسی مسلح جدوجہد کا حصہ نہیں تھا- انکے علم میں صرف یہ ہے کہ ٢٠١٠ میں اسی مذہبی جماعت کے طلبہ تنظیم کے ایک تربیتی پروگرام میں حصہ لینے پشاور گیا تھا- انکا کہنا ہے کہ شاید وہ اسکے بعد دوستوں کے ساتھ گھومنے کے لئے وزیرستان گیا ہو لیکن اس نے انہیں یہ بات نہیں بتائی-
انکا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بہت صالح نماز روزے کا پابند نوجوان تھا اور شہادت کا بہت شوقین تھا- ٢٠١٤ میں یعنی اپنی جبری لاپتگی سے صرف ایک سال قبل انکے ساتھ عمرہ کرنے گیا تھا اور وہاں اس نے کعبے کے سامنے کھڑے ہو کر یہی دعا مانگی تھی کہ الله اسے شہادت کا رتبہ دے- تی ائے سمجھتی ہیں کہ یہ قبولیت کا وقت تھا- تی اے شرح صدر کے ساتھ یقین رکھتی ہیں کہ جہاد ہی سہی راستہ ہے اور اصل میں پاکستانی فوج نے جو یو ٹرن لیا ہے یہ غلط ہے- اس کے باوجود کے وہ اپنے بیٹے کے کسی مسلح جدوجہد میں ملوث ہونے سے انکار کرتی ہیں، انکا کہنا ہے کہ بیٹا جہاد پر یقین رکھتا تھا اوراسکی پرائیویٹ گفتگو کی مخبری کی گئی جس پر ایجنسیز نے دونوں بھائیوں کو اٹھایا-
اس غم زدہ خاندان کے رپورٹ لکھوانے پرعدالت نے جی آئ ٹی بٹھائی جس میں تمام ایجنسیز کے نمائندوں نے شرکت کی- جی آئ ٹی کے طریق کار کے مطابق انہوں نے پولیس کے ایک نمائندے کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا- انکا کہنا ہے کہ میں نے تمام ایجنسیز کے لوگوں کو چیلنج کیا کہ اگر میرے بیٹے نے واقعی کوئی خلاف قانون یا ملک دشمن اقدام اٹھایا ہے تو اسے عدالت میں لا کر اس پر مقدمہ چلائیں- انکا کہنا ہے کہ ایجنسیز کے نمائندے جی آئ ٹی میں ہونٹ سی کر بیٹھے تھے-
جے آئ ٹی میں انکے بڑے بیٹے کی بیوی بھی گئی تھی جسکا اپنا بیٹا اس وقت ڈیڑھ سال کا تھا-
(منظر بیان کر سکتی ہیں جی آئی ٹی جہاں ہوئی؟)
تی اے کو یقین ہے کہ مخبری اسی مذہبی جماعت کے اندر سے کی گئی- اس جبری لاپتگی کے بعد اس مذھبی جماعت کے ممبران کا رویہ ان سے با لکل بدل گیا- بظاھر میل ملاقات کے باوجود اب انہیں درس دینے کے لئے مدعو نہیں کیا جاتا- جبکہ اس سے قبل انکا کوئی دن مشکل سے ہی خالی جاتا تھا- یہ اس جماعت کے مرکزی عہدے داروں میں سے تھیں لیکن جب اس جماعت کی قیادت سے انکے بارے میں ایجنسیز نے استفسار کیا تو قیادت نے یہ جھوٹ بول کر لا علمی کا اظہار کیا کہ یہ اب ہماری ممبر نہیں ہیں- تی ائے کا کہنا ہے کہ خواتین تو پھر بھی کچھ عرصے تک ان سے ملاقات اور دلاسے کیلئے آتی رہیں لیکن مردوں نے ان کے شوہرسے ملنا بالکل چھوڑ دیا- بڑے بیٹے کے سسرال والے چھوٹے بیٹے کو جانتے تھے اور اسکی نیکی کی گواہی بھی دیتے تھے مگر انہیں یہ احساس تھا کہ آئ جی کی وجہ سے انکے داماد پر یہ وقت آیا- انکے قریبی رشتے دار اس مشکل وقت میں انکے ساتھ کھڑے رہے لیکن ایسے لوگ بھی تھے جنکا کہنا تھا کہ "کچھ نہ کچھ تو کیا ہوگا "
تی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیٹے کی ماورائے عدالت شہادت سے پیشتر پولیس انہیں یقین دلاتی رہی کہ آپ کے بیٹوں پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے، وہ جلد ہی چھوٹ جائیں گے-
بڑا بیٹا چارماہ بعد چھوٹا تو اسکی نوکری بحال ہونے میں پانچ سال لگ گئے- گمشدگی سے پیشتر اسکا ایم فل میں ایڈمشن ہو چکا تھا جو ضائع ہو گیا- اسے چھوڑتے وقت یقین دلایا گیا تھا کہ آپکو گمشدگی کے دوران ملازمت کے تمام ڈیوز ادا کئے جائیں گے مگر ایسا ممکن نہ ہوا- فی الحال کیس چل رہا ہے-
وہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان میں فرق نہیں کرتیں- انکا آج بھی یہی کہنا ہے کہ اصل جہاد یہی ہے جو طالبان کر رہے ہیں- ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ پاکستانی طالبان نے بھی تو پاکستان میں بم دھماکے کے جس سے پاکستانی مسلمان مارے گئے- تو انکا کہنا ہے کہ یہ رد عمل تھا اور وہ لوگ کسی حد تک اپنے عمل میں جسٹیفائیڈ تھے-
تی ائے کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت انکےبیٹوں کو اٹھایا گیا- (کیا دونوں کو ایک ساتھ اٹھایا گے اٹھا؟)
تی آئے کا یہ بھی کہنا ہے کہ آرمی خود بھی اندر سے مطمئن نہیں ہے- اداروں کے لوگوں سے دوسرے رابطوں سے پرائیویٹ بات چیت ہوتی تو انکے خیالات سے انکو اندازہ ہوتا رہا ہے-
انکا کہنا ہے کہ جو اسی اور نوے کی دھائی میں انکی جماعت نے جہاد کے جذبات ابھارنے میں کردار ادا کیا- لیکن اب وہ جہاد کا نام بھی نہیں لیتے- انکا کہنا ہے کہ فوج یا خفیہ اداروں سے زیادہ وہ مذہبی تنظیموں کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں- "کیونکہ الله سے عہد تو انکا تھا- فوجی اداروں کا تو نہیں- وہ تو اپنی ڈیوٹی سے مجبور ہیں."
تی اے مکمل شرح صدر کے ساتھ کہتی ہیں کہ بیٹا مسلح جہاد کا حصہ نہیں تھا لیکن وزیرستان میں پاک فوج سے لڑنے والے طالبان کے جہاد کو دل سے صحیح جانتا تھا- یہ خود بھی اسی نقطہء نظر پر ایمان رکھتی ہیں-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں