1971 کے تنازعہ میں چین نے ہمارا ساتھ کیوں نہ دیا؟
تزئین حسن
پاکستان میں اکثر پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ ١٩٧١ میں امریکا کا ساتواں بیڑا وقت پر خلیج بنگال تک نہیں پہنچ سکا- لیکن وطن عزیز میں اس جنگ کے دوران ہمارے سب سے زیادہ قابل اعتماد دوست جسکی دوستی کو حملہ سے اونچا اور سمندر سے گہرا قرار دیا جاتا ہے کہ کردار پر بحث نہیں کی جاتی-
یہ بات اب ریکارڈ پر ہے کہ سابقh مشرقی پاکستان میں ١٩٧١ کے فوجی آپریشن کے دوران اندرا گاندھی چین کے چو این لائی کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھیں- یہ امراسکے باوجود تھا کہ وہ روس سے اس دوران ایک دیرپا امن اور ہتھیاروں کی سپلائی کے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں جسے ٩ اگست ١٩٧١ کو سائن کیا گیا- انڈیا اپنے آپ کو نان الائن ملک قرار دیتا تھا- چین اور روس کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو چکے تھے- ١٩٦٢ کی چین بھارت جنگ اور سرحدی تنازعہ کی وجہ سے تعلقات میں کشیدگی کے باوجود اندرا گاندھی چو این لائی اور چینی قیادت کے فیصلوں پر بھی جزوی طور پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو گئیں-
یاد رہے اپریل ١٩٧١ میں اور پھر نومبر ١٩٧١ میں پاکستانی وفد دو مرتبہ بھٹو کی قیادت میں چین کے اعلیٰ سطحی دورے پر گیا-
اسکے علاوہ پاکستان نے اس دوران رچرڈ نکسن کے وائٹ ہاؤس کا چین سے رابطہ کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جسکی تحسین چینی قیادت کرتی رہی- اہم بات یہ ہے کہ چو این لائی اور کسنجر کی ملاقات میں بھی مشرقی پاکستان کے حالات اور اس مسئلے پر ممکنہ پاک بھارت جنگ کے امکانات پر بات ہوئی- اس فیچر میں اس ملاقات کے متعلقہ حصوں کو بھی سامنے لیا جائے گا-
یاد رہے یہ دونوں ممالک اس وقت بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے قریبی اتحادی تھے-
اس فیچر میں ان دوروں کے نتائج اور ١٩٧١ کے تنازعہ کے دوران چین کے کردار اور اسکے پیچھے ممکنہ محرکات کو سامنے لیا جائے گا-
باوجود اندرا گاندھی چین کے ساتھ بھی رابطے میں تھیں-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں