ہفتہ، 7 نومبر، 2020

مغرب میں اسلاموفوبیا کی نئی لہر :

مغرب میں اسلاموفوبیا کی تازہ لہر اور مسلم دنیا کے لئے ممکنہ اسٹرٹیجی 

تزئین حسن 



فرانس کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغرب میں اسلام کے خلاف ایک نئی اور طاقتور لہر ابھر رہی ہے- ١٩٨٩ میں سلمان رشدی کی کتاب کے بعد سے مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ہر کچھ عرصے بعد خاکوں، کارٹونوں، فلم کی شکل میں مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- یہی نہیں مغرب میں ایک مخصوص مگر طاقتور لابی مسلسل مسلم مخالفت کا اظہر کرتی رہتی ہے- کبھی یہ امریکا میں شرعی مخالف قوانین پر پابندی لگانے کے بظاھر احمقانہ مگر دور رس قانون سازی کے لئے جدو جہد کرتی نظر آتی ہے، کھین وائٹ ہاؤس کے جنگ کے شوقین نیو کنزرویٹوز سے مسلمان ملکوں پر چرھاییاں کرواتی ہے- کبھی مہاجر مخالف سیاسی جماعتوں کی صورت مغرب کی پارلیمنٹس اور کانگریس تک جا پہنچتی ہیں- کبھی یہ ٹرمپ کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے کبھی برکزٹ کی صورت- کبھی ہالی ووڈ کی فلموں میں مسلمانوں، یا عربوں کی تصویر کشی جاہل، وحشی، اور عورتوں پر ظلم کرنے والوں کے طور پر کرتی ہے اور کبھی سرکار دو عالم کی شخصیات پر براہ راست الزام تراشی کرتی یا انکا مذاق بنانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے-  اب یہ اسلام مخالف لابیاں اتنی مضبوط ہیں کہ انکی رسائی وائٹ ہاؤس، یوروپین یونین، اور یوروپی مراکز حکومت تک پہنچ چکی ہیں- مشرق وستا اور مسلم دنیا سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کے مغرب منتقل ہونے کے بعد اب یہ اسلامو فوبیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے- اب الیکشن جیتنے کے لئے دائیں بازو کی جماعتیں منظم اسلاموفوبیا کا استعمال کرنے لگی ہیں- ایسا صلیبی جنگوں کے زامنے میں بھی کیا گیا- اورانڈین سیاست دان بھی اس ہتھیار کا استعمال الیکشن میں آسان فتح کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں- یہ اسلاموفوبیا دنیا کو اسلام کی ایک ایسی تصویر دکھاتا ہے کہ وہ اسکی دعوت کے لئے اپنے ذہن و دل کے دروازے بند کر لے- اسکے علاوہ مسلمانوں کی اجتماعی اور انفرادی زندگی اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی خطرات سے دو چار کر رہا ہے- چین بھارت، اور برما کم از کم تین ممالک میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے- مسلمان اس اسلامو فوبِک لابی کے با عث ہیٹ کرائمز یعنی نفرت پر مبنی کرائمز کا شکار ہو رہے ہیں- اس لئے اسلامو فوبیا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک واضح شرط ٹرم اور دور رس اسٹرٹیجی  کی ضرورت ہے-   


لیکن جہاں ہم اسلامو فوبیا کی بات کریں گے وہاں ہمیں مسلمانوں میں موجود مغرب کے خوف اور مغرب سے بے جا نفرت کی بھی بات کرنی ہو گی- صلیبی جنگوں، ہسپانیہ سقوط قرطبہ کے بعد مسلمانوں کی نسل کشی، اور کولونیل ادوار کے دوران خود مسلم دنیا میں بھی مغرب اور عیسائی دنیا کے خلاف نفرت پھیلی- کولونیل ادوار کے بعد جب بظاہر محکوم ریاستوں کو پوری طرح لوٹ کر آزادی دے بھی دی گئی تو انکے سماجی، علمی اداروں کو تباہ کر دیا گیا- مصر ہو یا بھارت، ان ملکوں میں اپنے نمائندوں کی غلامی میں دے دیا گیا- پھر ورلڈ بینک، اقوام متحدہ اور آئ ایم ایف کے قرضوں کے ذریعے اور آزاد تجارت کے نام پر 

تعریف 

اسلام کی مخالفت، مسلمانوں سے نفرت انکے خلاف تعصب

[ایک طرح کی نسل پرستی racism Xenophobia کی ایک وقسم ہے- جو ہم سے مختلف مذہب کلچر زبان مذہبی عقائد رکھتا وہ دشمن ہے- دوسرا ہے ، ہم سے الگ ہے]

اسلامو فوبیا کی اصطلاح نائن الیون کے بعد مغرب میں استمعال ہونا شروع ہوی راقم کی نظر میں اسلامو فوبیا کی تاریخ اسلام جتنی ہی پرانی ہے- دیکھا جائے تو قریش مکہ نے نبی صلیٰ الله علیہ وسلم اور انکے ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ اسلاموفوبیا ہی تھا- اسلاموفوبیا کے خلاف کوئی بھی اسٹرٹیجی بناتے ہوے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اسلامو فوبیا کے اولین شکار لوگوں نے اسکا مقابلہ کیسے کیا؟ سیرت سے ہمیں اسکے لئے کیا ہدایات ملتی ہیں-



اسلامو فوبیا کے چیلنج سے نمٹنے کی اسٹرٹیجی سیرت ہماری رہنمائی کیسے کرتی ہے؟

اسلاموفوبیا کے محرکات تاریخ میں مختلف رہے ہیں- قریش مکہ کو توحید کے آفاقی پیغام کے پھیلاؤ اور سماجی انصاف کے تصور سے   سے اپنی سرداری یعنی سیاسی سیادت ختم ہونے کا خوف بھی تھا اور دیوتاؤں کے بتوں کی ماننے سے انکار کرنے سے حج اور عمرے سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے ختم ہونے کا بھی- عرب بھی اپنے قبائلی تعصب میں ابتدا میں اسلام کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے- مکہ والوں نے تو ظلم کی حد کر دی- سرکار صلیٰ الله وسلم منیٰ کے میدان میں دعوت کے لئے جاتے تو لوگ ہنسی مذاق ٹھٹہ، مجنوں قرار دینا، ہر طرح سے اذیت دیتے [لیکن سلوک کے نتیجے میں کہیں دہشت گردی سے اسکا جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی یا طاقت کے استعمال کی کوشش نہیں کی گئی جب تک کہ مدینہ کی ریاست قائم نہیں ہو گئی-]

سرکار صلیٰ الله علیہ وسلم کی رحلت کے بعد مکہ اور مدینہ کی مختصر سر زمین چھوڑ کر سارا عرب منحرف ہو گیا- ایک خاتوں سمیت نبوت کے چار جھوٹے دعوے دار سامنے آ گئے- مدینے کی چھوٹی سے ریاست کو پورے عرب سے لڑنا پڑا- مھنرف قبائل کو زیر کیا گیا- لیکن مرتدین جنہوں نے تلوار اٹھا کر نبوت کا دعوا کرنے والے گستاخوں کا ساتھ دیا تھا معاف کر دیا گیا- یہی نہیں طلیحہ اور سجاح نامی نبوت کے دعوے داروں کو بھی معاف کر دیا گیا- (حوالہ کتاب حضرت ابو بکر صدیق حسین ہیکل) ان مرتدین نے جنھیں پہلے غلام بنا کر مسلمانوں میں بانٹ دیا گیا تھا (بعد ازاں حضرت عمر نے مسجد کے منبر سے انکی معافی اور آزادی کے لئے عام مسلمانن سے در خواست کی) اپنی آزادی کے بعد شام اور فارس کی فتوحات میں حصہ لیا- آج انکی اولاد میں لاکھوں مسلمان شامل ہونگے- انہیں معاف کرنے والے میرے اور آپ جیسے گناہ گار نہیں بلکہ سرکار کے قریب ترین ساتھ ابو بکر و عمر راضی الله تعالیٰ شامل تھے- 

مدینے کی ریاست کے قیام اور کفار مکہ سے تین جنگیں ہونے کے بعد جب مسلمان طاقت میں کفار کے مد مقابل آ گئے تھے، صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا جسکی طرف قران کی سورۂ فتح اشارہ کرتی ہے- کفار نے سرکار کے قافلے کو حج اور عمرے کی اجازت نہ دیکر انتہائی زیادتی کی- مسلمان تین دفاعی جنگیں کامیابی سے لڑ چکے تھے- یہ موقع بھی معمولی سی بے احتیاطی سے صلح کے بجائے جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا- لیکن میرے سرکار نے ہمیشہ کی طرح زیادتی کو برداشت کر کہ صلح کو ترجیح دی کیونکہ انکے نزدیک اپنی طاقت کے مظاھرے سے زیادہ انکا مشن اہم تر تھا- صلح ہوئی اور ایسی شرائط پرہوئی کہ اس نے حضرت عمر جیسے صحابی کو بھی رنج اور غصے کا شکار کردیا- معاہدہ لکھا گیا تو قریش مکہ کے نمایندے عمرو بن العاص نے یہ اعتراض اٹھایا کہ اس میں محمد بن عبد الله کے بجائے "محمد رسول الله" سے ایک فریق کو کیوں تذکرہ کیا گیا ہے- منکا کہنا تھ اکہ اگر ہم یہ ماں لیں کہ محمد الله کے رسول ہیں تو ہمارے اور تمھارے درمیان جھگڑا ہی کیا رہ جائے گا- قربان جاؤں کہ امن معاہدے کی خاطر میرے سرکار کا معاہدے کے محرر حضرت علی راضی الله کو حکم تھا کہ محمد رسول الله کاٹ کر محمد بن عبد الله لکھ دیا جائے- اور جب اس جانثار رسول کے لئے ایسا کرنا ممکن نہ ہوا تو میرے سرکار نے قلم اور کاغذ خود سنبھالا اور اپنے جانثار سے پوچھا کہ رسول الله کہاں تحریر ہے؟ اپنے مبارک ہاتھ سے "رسول الله" کے الفاظ کوکاٹا- اس واقعہ کی سوچ ہی آنکھوں کو نم کر دیتی ہے- 


کرتوں خاکوں پر کیا رد عمل ہونا چاہئے؟

لیکن پھر یہ خیال آتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو سرکارکے نام پر پورے ملک میں آدم بو آدم بو کرتے پھر رہے ہیں کہ کسی کے منہ سے انکے فرقے اور عقیدے کے خلاف کچھ نکلے اور یہ دوسرے کو گولیوں سے بھوں کر رکھ دیں- کہیں گارڈ بینک منیجر کو گستاخ سمجھ کر مار ڈالتا ہے، کہیں شاگرد استاد کو- کہیںعدالت میں کھڑے کسی ملزم کے لئے ایک پستول بردار عدالت، قاضی اور جلاد بن جاتا ہے-  اس سے بھی زیادہ خطرناک رحجان یہ ہے کہ غیر پڑھے لکھ افراد کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھ سلجھے ہوئے یونیورسٹیز اور علیٰ درجے کے مذہبی مدارس سے فارغ التحصیل افراد کی ایک بڑی اکثریت ایسے قاتل کی تحسین فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلیٰ الله کی شان میں گستاخی کا بدلہ لے لیا کیونکہ عدالتیں تو ایسے گستاخوں کو کھلا چھوڑ دیتی ہیں- کیا واقعی فرد کو کسی فرد کے خلاف فرد جرم سنانے، اور جلاد کا کردار ادا کرنے کی                    

مغرب میں مسلمانوں کے خلاف قوانین پر کیا رد عمل ہونا چاہیے؟

جہاں مسلمانوں سے مذہب پر عمل کی آزادی چھینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہاں کیا رد عمل ہونا چاہیے:

جن ملکوں میں مذہبی آزادی کے تحفظ کے لئے قوانین موجود ہیں وہاں ان قوانین کا شعور حاصل کریں- اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی تعلیم خود بھی حاصل کریں اور دیگر مسلمانان کو بھی اسکی آگاہی دینے کی کوشش کریں- ہو سکے تو مساجد اور اسلامک سینٹرز میں، یوتوبے موویز، یا انیمشنز کی صورت میں، بچوں کی خانوں کی صورت میں انہیں اسکا شعور دن کے انسان کی حسیت سے ہمارے کیا حقوق ہیں اور دورے کے کیا حقوق ہیں- عقیدے کی آزادی، اظہار کی آزادی کی کیا حدود ہیں- ہمیں دوسروں کو انکے حقوق اور اسپیس بھی دینی ہو گی- 

ہمیں بچے کو اور خود اپنے آپ کو بھی یہ سمجھانا ہو گا کہ جیسے ہمیں اپنے مذہبی رہنما کے لئے کسی نازیبا حرکت سے تکلیف ہوتی ہے ویسے ہی دوسرے مذھب کے لوگ بھی اپنے مذہبی رہنماؤں یا شعار کے لئے جذباتی ہو سکتے ہیں- جو رویہ ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں دوسروں کو بھی ویسے ہی ٹریٹ کریں- عقیدہ یا مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے- 


اپنے عقیدے کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کے عقیدے کو چیرو نہیں-  

انسانی حقوق کا شعور حاصل کریں اور اپنے ملکوں میں 

کتا اگر آپ پر بھونکتاہے

انہیں توجہ چاہئے 

چند ہزار انکی سیل تھی- مسلمانوں کے شور مچانے کے بعد اور چارلی حبدو کے واقعہ کے بعد ملینز کی تعداد میں سیل ہوا- 

مسلمان ان سے زیادہ برا جرم کر رہے ہیں- 

مسلمان ایک دوسرے کو فلم اور کارٹونوں کے لنک ایک دوسرے کو پاس کرتے ہیں- 

ایک یوٹیوب وڈیو جسے کوئی تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا مسلمان خود شور مچا مچا کر 


کیا ہمیں تکلیف محسوس کرنا چاہئے؟ ظاہر ہے مسلمانو کے طور پر ہمیں 


ہمیں قانونی کاروائی کرنی چاہئے- قانون سازی کروانے کی کوشش کرنی چاہئے- اخبارات 

آزادی کوئی بھی ہو لا محدود نہیں ہوتی 


ہمیں انکی زبان میں انھیں سمجھنے کی کوشش کرنی ہو گی- 

ہمیں قانون آئیں کی زبان میں ان سے بات کرنا سیکھنا ہو گی- 

رد عمل اجتماعی اور شوری ہونا چاہیے ایک ہجوم کا رد عمل نہیں جو اپنے ملک کی مسلمانوں کی پبلک پراپرٹی کو ہ آگ لگا دیتا ہے- 

ان میں بھی تین کیٹگریز  


 لاپتہ افراد کے لئے آواز اٹھانے کی تمام پاکستانی بیٹوں بھائوں اور باپوں کے لئے۔ و


متعدد تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا کی شرح میں exponential اضافہ ہوا ہے- پیو  ریسرچ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جرائم میں ١٦٠٠ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا- افغانستان اور پھرعراق پر حملے کے پیچھے بھی دوسرے محرکات کے علاوہ اسلام مخالف جذبات کا بھی ہاتھ تھا- فرانس میں اور دیگر مغربی ممالک میں نقاب، اسکارف اوربرکینی پربین کے پیچھے بھی در پردہ یہی جذبات ہیں- پچھلے پانچ سال میں برطانیہ میں برکزٹ، امریکا میں ٹرمپ کا مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ حاصل کرنا، پورے یورپ میں مہاجر مخالف جماعتوں کا الیکشن میں اپنا ووٹ بینک بڑھانا، دراصل مغربی سیاست میں انہیں مسلم مخالف جذبات کا اظہار ہیں- 

ایکسپرٹس کے مطابق اسلام مخالف جذبات بڑھانے میں میڈیا کا بھی ہاتھ ہے اور اکیڈمکس کا بھی لیکن کچھ اور لابیاں بھی اس میں شامل ہیں جنکی پہنچ وائٹ ہاؤس تک ہے- 



پچھلی دھائی سے مغربی سیاست بہت حد تک اسلامو فوبیا کے گرد گھومتی رہی ہے جسے بظاھر پناہ گزین مخالف سیاست بھی کہا گیا اور پوپولزم بھی جسے اب نیو فاشزم کا نام بھی دیا جا رہا ہے- فرانس کے حالیہ اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی شدو مد سے جاری ہے- سیاست دان نفرت پھیلا کر ووٹ لینے کی کوشش سے باز نہیں آئے ہیں- ایسے میں خود مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں بھی اسلاموفوبیا کے رد عمل میں انکے اتباع میں اسی نفرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟  یا سنجیدگی سے کوئی ایسی اسٹرٹیجی تشکیل دینی چاہیے جس سے باہم غلط فہمیاں کم ہوں، بین المذاھب تفہیم، ایک دوسرے کے جذبات کا احترام بڑھے اور بقائے باہمی کے اصولوں کو فروغ دیا جائے یا ہم بھی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور خوف کے رد عمل میں مغربی تھذیب اور غیر مسلموں سے وہی رویہ اپنائیں جو انکے نفرت پھیلانے والے اپنا رہے ہیں؟ 


    

پچھلی دو دھائیوں میں نائن الیون، داعش کی دہشتگردی، شام. لیبیا، عراق، افغانستان کے حالات کے باعث بڑے پیمانے پر مسلم مہاجرین کا یورپ پہنچنا  

نائن الیون کے بعد سے اسلام مخالف جذبات کے لئے ایک لفظ اسلاموفوبیا کا استعمال کیا جانے لگا ہے- 

یہ بھی یاد رہے کہ یہ اسلام مخالفت صرف مغرب میں نہیں، اب دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی نظر آتی ہے- یہ اسلام مخالف جذبات جو انفرادی اور اجتماعی مظاھر کی صورت میں مغرب کے علاوہ ہمیں چین، بھارت، برما، میں مسلمانوں کی نسل کشی کی صورت نظر آتے ہیں- فرانس اور کیوبیک میں نقاب پر پابندی، سوٹزر لینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی، بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون کی صورت، چین اور برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کی صورت میں سامنے آتی ہے- یہاں تک کہ فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا جیسی ہکوتوں کے مسلم مخالف اقدامات کی صورت میں بھی نظر آتی ہے جہاں مسلمان انتہائی قلیل تعداد میں ہیں-    

اس ساری اسلام یا مسلم مخالفت کو اگر کوئی مشترکہ نام دینا چاہیں تو یہ در اصل "اسلامو فوبیا" کی اصطلاح کے طور پر سامنے آتی ہے- اوپر ہم نے اسکے مختلف مظاھر کی فہرست دینے کی کوشش کی ہے جو ظاہر ہے مکمل نہیں ہے- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اسلامو فوبیا کب شروع ہوا اور کیسے شروع ہوا؟ آج کے اسلاموفوبیا کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟  

اور کیا دنیا کو اپنے خلاف کرنے میں ہمارا اپنا بھی کوئی کردار ہے؟ اسلامو فوبیا کا جو رد عمل ہم دیتے ہیں کیا وہ مناسب ہے؟ ایسا تو نہیں ہمارا رد عمل اسلامو فوبیا کو اور بڑھانے کا سبب بنتا ہے اور ہمیں اسکی پرواہ ہی نہیں کہ دوسرا ہمارے بارے میں کیا سوچ رہا ہے اور کیوں سوچ رہا ہے-  کیا ہم نے کبھی ٹھنڈے دل و دماغ سے اس کے خلاف کوئی اسٹرٹیجی بنانے کے بارے میں سوچا یا ہماری سوچ یہاں آ کر رک جاتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے دنیا ہمارے خلاف ہے؟ 


نائن الیون مغرب کی نفسیات کو بہت متاثر کیا ہے- 

مغربی مصنفین اور محقیقین کی تحقیقات 

ناتھن لین کی لکھی ہوئی "اسلامو فوبیا انڈسٹری" اس سلسلے کی اولین کتابوں میں سے ایک ہے- ٢٠١٨ میں ہم نے اس پر ایک لائیو سیشن کیا تھا جس میں اس کتاب پر مختصر ریویو دیا تھا- اسکے علاوہ سابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز سے تعلق رکھنے والے اور اب اسرائیلی شہریت مسترد کر کہ برطانیہ منتقل ہو جانے والے گیلاڈ ایٹزموں کا انٹرویو بھی اس موضوع پر ٢٠١٨ میں ہی کیا تھا جس میں انکا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا در اصل نسل پرستی ہی کی ایک شکل ہے  لیکن اسکا اقرار نہیں کیا جاتا اور اسے اسلاموفوبیا کا نام دیکر  اسکی اهمیت کو گھٹایا جاتا ہے-   

یورپ یا مغرب میں اسلام کے خلاف نفرت کوئی نیا مظہر نہیں ہے- اسکی جڑیں خود اسلام کی تاریخ جتنی پرانی ہیں- حالیہ اسلامو فوبیا کا ظہور ٩/١١ کے بعد خطر ناک حد تک بڑھ گیا- پچھلی دھائی میں یورپ سمیت پوری دنیا میں دہشت گرد حملے ہوئے جن کی ذمہ داری بد قسمتی سے اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں نے قبول کی- دوسری طرف مسلم اور امیگرینٹ مخالفت کو الیکشن میں فتح کے لئے استمعال کیا جانے لگا- دائیں بازو کے مغربی  سیاست دان اپنی معاشی ناکامیوں کا ذمہ دار مہاجرین اور اقلیتوں کو ٹھہرانے لگے- لیکن اسکے ساتھ ساتھ پچھلی دھائی میں اسلاموفوبیا یا مسلمانوں سے نفرت کا غیر جانبداری سے تجزیہ بھی کیا گیا ہے- مغرب کے متعدد تحقیق نگاروں نے اس موضوع کو ااپنی سنجیدہ تحقیق کا حصہ بنایا ہے کہ یہ کونسی لابیاں ہیں جو اسلاموفوبیا بڑھانے اور اس کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں- انکے سیاسی عزائم کیا ہیں اور یہ کس طرح کام کرتی ہیں-

دوسرے سماجی اور سیاسی موضوعات کی طرح اسلامو فوبیا پر بھی مسلم دنیا کے بر عکس مغرب میں ہی تحقیق ہو رہی ہے- امیزون پر اس موضوع پر ٦٥٨ کتابیں موجود ہیں- یاد رہے یہ مغرب اور دیگر دنیا کی یونیورسٹیز میں لکھ جانے والے ریسرچ پیپرز اور  تھنک ٹینکس اور سرکاری اداروں میں تیار کی جانے والی تحقیقی رپورٹس کے علاوہ ہے-


نائن الیون کے بعد سے اس موضوع پر کئی کتابیں سامنے آ چکی ہیں- نائن الیون کے بعد مغرب میں اسلاموفوبیا میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا-  ٢٠١٢ میں چھپنے والی کتاب اسلامو فوبیا انڈسٹری کے مصنف ناتھان لیں کا کہنا ہے کہ خود مغرب میں اسلاموفوبیا نہ صرف ایک بہت بڑی عالمی حقیقت ہے بلکہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ غیر ارادی نہیں- اسکے پیچھے بہت طاقت ورلابی ہے اور مغرب میں اسکے لئے اتنی اپیل پائی جاتی ہے کہ اسکے پھیلاؤ کی منظم کوششیں ایک بہت منافع بخش انڈسٹری بن چکا ہے- یہ تعداد میں مختصر لیکن انتہائی dedicated افراد پر مشتمل لابی اتنی طاقت ور ہے کہ مغربی حکومتوں کے سربراہوں تک اسکی رسائی ہے- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس میں موجود جنگ کے شوقین نیو کنزروٹوز سیاست دان، کرسچن بنیاد پرست، اور اسرائیل کی بقا کے لئے کام کرنے والی صیہونی لابی اسلام مخالفت نے ان تینوں کو متحد کر رکھا ہے- نائن الیون کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم جنھیں ہیٹ کرائمز کہا جاتا ہے ١٦٠٠ فیصد اضافہ ہو گیا-  


ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اسلامو فوبیا کے چیلنج کا سامنا ہمیں صرف مغرب میں نہیں چین، بھارت، برما، اور ایسے ملکوں میں بھی ہے جہاں مسلمان انتہائی چھوٹی اقلیت ہیں حکومتوں کے مسلم مخالف اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں مثلاً کمبوڈیا، فلپائن اور تھائی لینڈ- جگہ کی تنگی کے باعث ہم انفرادی ملکوں کے حالات کے حوالے سے ٹفسیلبحص نہیں کر سکیں گے- لیکن اسلاموفوبیا کی تاریخ، محرکات کو سامنے رکھ کر یہ جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسکے خلاف مسلمانوں کی کیا اسٹرٹیجی ہونی چاہئے ؟ 

دیکھا جائے تو مسلم دنیا کو مختلف قومی ریاستوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے تین کیٹگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے- ایک وہ ممالک جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور حکومت بھی مسلمانوں ہی کے پاس ہے جیسے پاکستان، سعودی عرب، انڈو نیشیا- دوسرے مغربی ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں مگر وہاں کے آئین انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں اور قانون کی حکمرانی بہ حسیات مجموعی ان معاشروں میں پی جاتی ہے- اس میں مغربی یورپ، اسکنڈنویا، اور شمالی امریکا شامل ہیں- تیسری کیٹگری میں وہ مملک آتے ہیں جہاں مسلم اقلیت میں ہیں اور آئین انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت نہیں دیتا یا وہاں قانون کی حکمرانی نہیں مثلاً چین، بھارت، برما، وغیرہ- ایک اور کیٹگری وسط ایشیا کی ریاستوں کی بھی ہے جہاں مسلم اکثریت میں ہیں اور حکومت بھی مسلم ہے مگر سوویت روس کے اثرات کے تحت اسلام مخالف ڈکٹیٹر قابض ہیں جنہوں نے مذھبی آزادی کو عملاً بڑی حد تک سلب کر رکھاہے- اسلامو فوبیا کے خلاف اسٹرٹیجی ایسی ہونی چاہیے کہ ان تمام کیٹگریز کے مسلمان اس چیلنج کے خلاف اسے استمال کر سکیں-


اسلامو فوبیا کی تاریخ:    

اسکے محرکات بظاہر تو نائن الیون، القاعدہ اورداعش کی دہشت گردی، مغربی ممالک میں بڑے پیمانے پر شام، لیبیا، افغانستان، اورعراق کے مہاجرین کی آمد ہے- لیکن ایکسپرٹس کے مطابق اسلاموفوبیا کوئی نیا مظہر نہیں- تاریخ اور محرکات

دیکھا جائے تو مغرب میں اسلاموفوبیا کی تاریخ اسلام کی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے-  مسلمانوں کی فتوحات کے ساتھ ساتھ عیسائی آبادی کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کرتی رہی- اور اسکی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دور خلافت اور قرون وسطیٰ میں غیر قوموں سے معاملات میں نفرت کے بجائے، دعوت اور تالیف قلب مسلمانوں کے رویے میں شامل تھا- قران وحدیث کی دعوت بھی آسمانی صحیفوں اور پہلے آئے ہوئے پیغمبروں کی تصدیق کرتی تھی- اہل کتاب کی اسلام میں ایک بہت خصوصی حیثیت تھی- انکی عورتوں سے شادی جائز تھی- خانقاہوں میں عبادت کرنے والوں کو قران نے عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے- ابتدائی اسلامی تاریخ کے مطابق اس دور کے یہودی علماء اور عیسائی راہبین اس امر سے واقف تھے کہ ایک پیغمبر کی بعثت قریب ہے- پھر مسلم فاتحین کا سلوک، انکی عہد کی پابندی، مذھبی رواداری، انصاف، انسانی جان کا احترام بھی ایسے امور تھے جنہوں نے مفتوحین کو فطری طور پر متاثر کیا اور وہ جوق در جوق مسلمان ہوتے چلے گئے- یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی بنیادی دعوت در اصل ایک ہی تھی-عسکری فتوحات کے ساتھ یہی وہ حقیقت تھی جس نے یورپی کلیساؤں کی نمائندہ عیسائی مذھبی اشرافیہ کو اس نئے مذہب اور نظریے کے خوف میں مبتلا کر دیا- 

اسلام کے خلاف جذبات در اصل اس وقت سے شروع ہوئے- ہسپانیہ کی فتح کے بعد فرانس پر حملہ کیا گیا تو یورپ خبردار ہی نہیں متحد بھی ہو چکا تھا- ٹورز سے مسلمانوں کو شکست کھانا پڑی اور یہاں آ کر یورپ میں ہسپانیہ میں انکی فتوحات کا سلسلہ کسی حد تک رک سا گیا- دوسری طرف مغربی یورپ کے مختلف سرداروں نے مشترکہ عمل لایٔحہ تیار کیا- اسپین اور فرانس کی سرحد کو مختلف یوروپی حکمرانوں نے اپس میں بانٹ لیا تاکہ جنوب سے مسلمانوں کی یلغار کے لئے تیار رہا جا سکے-  

صلیبی جنگیں بھی در اصل اسی جذبے کا مظہر تھیں لیکن ان جنگوں کے لئے افرادی قوت کا حصول دراصل ارادتاً مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر کیا گیا- قسطنطنیہ کے حکمران کا ویٹیکن میں موجود پوپ کو خط اور ترکوں کے غلبے کا ڈراوا اور اسکے جواب میں پوپ کی وہ تقریر جسے تاریخ کی موثر ترین تقریر کہا جاتا ہے دراصل اسلاموفوبیا کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے ہی کی کوشش تھی- انکی اپنی تاریخ کے مطابق مسلمانوں سے اس نفرت کا اظہار صلیبیوں نے انسانی گوشت کھا کر بھی کیا اور یروشلم کے کلیساؤں کو خون کے تالاب بنا کر بھی- انسان سے نفرت کسی بھی نام پر بڑھائی  جائے اسکا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے- ایسا نہیں ہے کہ اس سے قبل جنگیں نہیں ہوئیں تھیں- اور مسلمانوں نے بھی                 


   


وہ جہاں مسلمان دیگر مذاھب کے ماننے والوں کے مقابلے میں اقلیت میں ہیں، چاہے یہ اقلیت کتنی ہی بری کیوں نہیں مثلا    

یہ اسٹرٹیجی ایسی ہونی چاہئے      

دنیا اسلام ارے مسلمانوں سے خوف بھی کھاتی ہے، انکی مخالفت بھی کرتی ہے اور عنہن بے جا تعصب کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے-    

  



ایسے میں عیسائی دنیا کا اسلام سے متاثر ہونا ایک فطری عمل تھا کہ یہ  



 

تعریف 

 







ہی تھا جو  





اختتام 

(قریش نے اسلام کی جو مخالفت کی وہ بھی در اصل اس نئے نظریے کا ڈر ہی تھا-)







عالم خان: انکا اسلاموفوب مذہبی طبقہ اسلام پر ریسرچ کرتا ہے- موضوع اور ضعیف احادیث کو سامنے لا کر اسلم کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے- ہم انکے لکھ کو پڑھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے-

آنکھیں کھول کر دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہو گی- ان چیزوں پر نظر رکھنی ہو گی جو ہمارے بارے میں لکھی جا رہی ہے، دکھائی جا رہی ہے تاکہ دلیل سے اسکا جواب دیا جا سکے جیسے سر سید نے دیا تھا-  

دس لاکھ ووٹ زیادہ   

اقلیتوں کا تحفظ اسٹرٹیجی کا حصہ ہونا چاہیے 



taref 

tareekh

mzahir 

hal 

intiha pasndi 


 


تہذیبوں کا تصادم بھی اسلا موفوبیا ہی کی ایک شکل ہے

اس میں نقصان کس کا ہے؟ دو مذھب کے ماننے والوں کے درمیان نفرت اور فاصلے بڑھتے ہیں تو اسلامو فوبس اور کرسچین فندامنتلسٹ کا فائداہے- اسلام کی دعوت سے دور رکھنا چاہتا وہ آبادی کی اکثریت کو- 

لیکن ان فصلوں کو کم کرنے میں ہمارا فائدہ ہے- تھوڑا جھک کر بھی اگر کم کرنا پڑیں تو ہمیں رسول کا مشن زیادہ عزیز ہونا چھائے-  نفرت نہ پالیں نہ پھیلائیں- مغرب کے جرائم سے خود انکی کتابیں سیاہ ہیں لیکن اس سے تصادم میں بھی کوئی فائدہ نہیں- گاؤں کا چودھری گھسے میں پاگل ہو جائے اور اپنی بندوق نکال کر گھر سے باہر آ جائے تو آپ اسکے سامنے کھرے نہیں ہو جاتے-   


حل کیا ہونا چاہیے؟

خاکے کارٹون : آگے نہ پھیلائیں- اسے مقبول کرنے میں بنانے والے کی مدد نہ کریں  

اگر پبلک ہو رہے تو احتجاج کریں  

قوانین بنائی جا رہے تو احتجاج کریں: ریلیاں نکالیں، خطوط اپنے ایم پیز کو لکھیں، 

اقوام متحدہ اور اپنے ملکی آئیں کے مطابق اپنے حقوق کا شعور بڑھائیں: مساجد میںاسلامک سنٹر کمیونٹی فارم- ایسے مقریرین کو بلائیں مسلم اور غیر مسلم 

سارا مغرب اسلامو فوبِک نہیں: جو انسانی حقوق اور آیین کے نام پر آپکے ساتھ ہیں ان سے رابطہ کریں اور رابطہ بڑھائیں 

قوانین کا شعور ان سے بحث و مباحثہ سوالات کر کے پیدا کریں 

انہیں لکھنے اور بات کرنے پر راضی کریں 

مغرب کی اس آبادی کے لئے پلاننگ کریں سر جور کر 

لیکن اس سب سے پہلے ہمیں اپنی کمیونٹیز سے انتہا پسندی پر بھی بات کرنی ہو گی- کہ دوسرے کے مذہب کا احترام ہمیں بھی سیکھنا ہو گا- 

اس امر کا شعور چاہیے کہ دوسرے کا عقیدہ اسکا ذاتی معاملہ ہے- لکم دینکم ولی یا دین 

اگر کہیں الله اور اسکے رسول کے خلاف بات ہو یا انکا مذاق بنایا جا رہا ہو تو وہاں سے ہٹ جاؤ-

قیامت میں دردناک عذاب ہے 


اظہار آزادی رائے


   اظہار آزادی رائے کی کچھ حدود ہوتی ہیں- اس کے نام پر مسلمانوں کو اشتعال دلانے والے در اصل خود 

کوئی آزادی لا محدود نہیں ہوتی- آزادی اظہار رائے کی بھی کچھ حدود ہیں- مغربی اقوام یہ اچھی طرح جانتی ہیں- قوانین 




صرف مغرب نہیں چین انڈیا بھارت میں بھی 

اسکی تاریخ اسلام کی تاریخ جتنی پرانی ہے 

دیکھا جائے تو قریش نے جو مسلمانوں کے خلاف مظالم کے وہ اسلاموفوبیا ہی تھا-

مظاھر 

صلیبی جنگیں، کولونیل ایکسپینشن، اسپینش inquisition، اسلام کے خلاف ایسا لٹریچر، فلمیں، ناول، قوانین اسکارف پر پابندی، اور اب خاکے، کارٹون، مغربی سیاست کا ایجنڈا، انٹی شریعت لیجیسلشن،بریویک menifestation 


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...