نوٹ: اب تک آنے والے نتائج کے مطابق ٹرمپ کو پچھلے الیکشن سے کوئی آٹھ لاکھ زیادہ ووٹ ملے ہیں جبکے ڈیمو کریٹک پارٹی کو بھی پانچ لاکھ سے زیادہ اضافی ووٹ ملے ہیں- تمام ووٹ گنتی ہونے کے بعد مزید اضافے کی توقع ہے-
جو لوگ زور و شور سے ٹرمپ کی ناکامی اور غیر مقبولیت کی وجوہات گنوا رہے ہیں انکے لئے عرض ہے کہ ٹرمپ اور بائیڈن کے ووٹوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے- یہ امر بھی یاد رہے کہ امریکی میڈیا پورے چار سال مسلسل ٹرمپ کو جائز اور نا جائز ہر طرح سے شدید تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے اور امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی کوئی نئی جنگ شروع نہ کرنے پر ٹرمپ سے ناراض رہی ہے- ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات نے مسلمان، لاطینی امریکی، کالے، فیمنسٹ خواتین، سمیت تمام اقلیتوں کو متحد کر دیا- تابوت میں آخری کیل کمالہ ہارس کی نائب صدارتی امیدواری نے ٹھونکی اور انڈین ووٹ کی بھاری اکثریت بھی جو بائیڈن کی جھولی میں جا گری- یہ بھی یاد رہے کہ اس دفعہ ووٹر ٹرن آوٹ بھی غیر معمولی رہا ہے- یہ سب متحد ہو کر ٹرمپ کے خلاف لڑ رہے تھے پھر بھی مقابلہ پولز کے نتائج کے برعکس کانٹے کا رہا- تعجب اور تشویش کی بات یہ ہونی چاہیے کہ ان سب کا وزن بائیڈن کی جھولی میں گرنے کے باوجود ٹرمپ اتنا مقبول کیوں ہے کہ اسکے اور بائیڈن کے ووٹ میں 3 فیصد سے زیادہ کا فرق نہیں- ٹرمپ کی شکست کے باوجود وائٹ سپرامسٹ آج بھی طاقت ور ہے- کل کو نفرت کا کوئی اور بیوپاری اس ٹرمپ حمایتی ووٹر کے ووٹ سمیٹنے میدان میں آ سکتا ہے-
جہاں تک امریکی انتخابات کے شفاف ہونے کا تعلق ہے تو نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ١٩٦٠ (جے ایف کینیڈی اور رچرڈ نکسن) اور ٢٠٠٠ کے الیکشن (بش اور ایلگور) میں اسٹیبلشمنٹ نے الیکشن چوری کیا ہے- دیپ اسٹیٹ کا کردار کوئی غیر یقینی امر نہیں-
باقی جہاں تک کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ سرکار کی مسلم مخالف اقدامات یا اسلامو فوبیا میں کمی آئے گی تو عرض ہے کہ اباما دور میں بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا رہا تھا- اسکو پیدا کرنے کے ذمہ دار ٹرمپ نہیں تھے بلکہ نائن الیون کے بعد سے بش اور اباما کی پالیسیاں اور میڈیا کا مسلمانوں کے خلاف بیانیہ تھا جو امریکی وار مشینری کو مسلسل چلانے کے لئے ضروری تھا- ٹرمپ کا قصور بس اتنا ہے کہ اس الیکشن جیتنے کے لئے اس نفرت کو کیش کروایا ہے-
ٹرمپ کے پچھلے الیکشن میں اندازوں کے برعکس اتنی مقبولیت کی وجہ یہ بھی رہی کہ نائن الیون کے بعد امریکی سرکار نے معیشت کی ڈومیسٹک پالیسیز اور چینی معاشی ترقی کے خطرات کو بہت حد تک جنگی جنوں کے نشے میں نظر انداز کیا- سب سے بڑھ کر اس امر کو کہ ٢٠٠١ میں چین ڈبلیو ٹی او کا رکن بن گیا تھا اور دنیا کی معیشت میں نو ملین چینی محنت کش شامل ہو گئے تھے- بہت حد تک ان محنت کشوں نے سفید فام امریکی کو بے روزگار کرنے میں اپنا حصہ ڈالا- اس معاشی خطرے کو امریکی پالیسی ساز محسوس کرنے میں بری طرح ناکام رہے- اسی لئے ٹرمپ کی چینی پالیسی وہ واحد پالیسی ہے جس پر ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں حمایتی ہیں- لیکن اسکے ساتھ ہی ٹرمپ کی آزاد تجارت کے خلاف بعض اقدامات نے امریکا کو اکیلا بھی کیا- ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ سے امریکا کو نکلنا ایسی ہی غلطی شمار ہوتا ہے-
ایسا بھی نہیں کہ ٹرمپ کوئی امن کا پیغامبر تھا- ایران نیوکلئیر ڈیل جسے اباما نے برسوں محنت کر کہ ممکن بنایا تھا، ٹرمپ نے اسے یک قلم ختم کیا- لیکن اس فیصلے میں جیمس میٹس کے ممکنہ اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو اس وقت ٹرمپ کے ڈیفنس سیکریرٹری تھے- یاد رہے میٹس اباما انتظامیہ میں بھی شامل تھے اور معروف صحافی باب ووڈ ورڈ کے مطابق انہیں اباما نے اس وقت فائر کیا تھا جب نیوکلیئر دل کے دوران ایران پر حملے کے لئے زور ڈالتے رہے- ٹرمپ دور میں ٢٠١٧ میں شام میں ٹوماہاک میزائل کا حملہ کیا گیا، اور جنوری ٢٠١٩ میں ایران کے جرنل قاسم سلیمانی پرٹارگٹڈ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا- لیکن وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع کے مطابق ٹرمپ معاشی فوائد کے پیش نظر دنیا بھر سے امریکی افواج کو نکالنے پر اصرار کرتے رہے- یہاں تک کہ دسمبر ٢٠١٨ میں داعش کے خاتمے کے بعد ٹرمپ نے بغیر مشورے جب شام سے فوجیں نکالنے کا اعلان کیا تو جیمس میٹس نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا-
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی بہتر ہو گی انکے لئے عرض ہے کہ اباما دور میں امریکی خارجہ پالیسی پاکستان کے لئے شدید نقصان دہ ثابت ہوئی ہے- قبائلی علاقوں میں امریکی ڈررونز نے پاکستان میں ایک طرح کی خانہ جنگی شروع کروا دی تھی جسکے نتیجے میں ملک عزیز بے شمار دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنا- بلیک واٹر، ریمنڈ ڈیوس، سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ، اسامہ بن لادن کا ماورائے قانون قتل اور پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی بھی اسی دور کی یادیں ہیں-
آرمی پبلک اسکول، مہران بیس، پریڈ ی گراؤنڈ مسجد، اسلامک یونیورسٹی، اور دیگر درجنوں مقامات پر پر دہشت گرد حملے اسی دور کے عذاب تھے- بظاھر انکا تعلق وائٹ ہاؤس سے محسوس نہیں ہوتا لیکن دہشت گردی کی ان وارداتوں کا قبائلی علاقوں پر دروں حملوں سے براہ راست تعلق تھا- باب ووڈ ورڈ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ اباما کے ابتدائی دور سے ہی امریکا نے افغانستان کو چھوڑ کر پاکستان کو اپنی توجہ کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتے تھے-
پاکستان میں ہم ایجنسیز کی بہت بات کرتے ہیں کہ اصل حکومت اسی کی ہے- امریکا میں بھی ایک بہت طاقت ور ڈیپ اسٹیٹ موجود ہے جو دراصل انٹیلی جنس ایجنسیز اور پینٹاگون پر مشتمل ہے- ہمیشہ نہیں مگر ڈیپ اسٹیٹ "ملک سلامتی" کے پیش نظر کہیں کہیں مداخلت کرسکتی ہے جب صدر اسکے تقاضوں کو نظر انداز کرے- یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ امریکی سلامتی دنیا میں امریکی افواج کے پھیلاؤ سے وابستہ ہے- یاد رہے، سی آئ ائے کے علاوہ چودہ انٹیلی جنس ایجنسیز موجود ہیں جنکا سربراہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس ڈی این آئ وائٹ ہاؤس کے اسٹاف میں شامل ہوتا ہے اور اسکا تقررصدر خود کرتا ہے لیکن سینٹ اسکی توثیق کرتی ہے-
جہاں تک نو منتخب صدر جو بائیڈن کی مستقبل کی پالیسیز کا تعلق ہے تو وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہہ چکے ہیں کہ وہ اباما کی پالیسیز کو آگے لے کر چلیں گے- یاد رہے اباما خود ریپبلکن بش کی پالیسیز کو آگے بڑھایا تھا- یہاں تک کے انھوں نے اپنی پہلی ٹرم کے ابتدائی تین سال اپنا ڈیفنس سیکررٹری تک تبدیل نہیں کیا تھا- بش دور کے ڈیفنس سیکررٹری رابرٹ گیٹس کو اس عہدے پر برقرار رکھا تھا اور ایسا امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کسی ڈیموکریٹک صدر نے پچھلے ریپبلکن صدر کے ڈیفنس سیکررٹری کو برقرار رکھا ہو- بائیڈن ڈیفنس بجٹ بڑھانے کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ٹرمپ امریکی افواج کو دنیا کے مختلف حصوں سے واپس بلوا کر، دنیا میں امریکی مداخلت کم کر کے ڈیفنس بجٹ کم کرنے کے حامی تھے- وہ تجارت میں پروٹکشنسٹ پالیسیز اپنا کر امریکی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بڑھاوا دیکرامریکا میں بے روزگاری ختم کرنا چاہتے تھے-
پاکستان کے لئے خطرے کی بہت بڑی گھنٹی کمالہ ھارس کی نائب صدارت ہے جنکا تذکرہ حیرت انگیز طور سے تجزیات میں کہیں نظر نہیں آتا۔ بائڈن امریکی تاریخ کے معمر ترین صدر ہیں اور قانون کے مطابق انکی دوران صدارت طبعی یا حادثاتی موت کی صورت میں صدارت کمالا حارث کو منتقل ہو سکتی ہے۔
آمریکی صدر
اس امر کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام "شرعی" عیبوں کے باوجود ٹرمپین عہد اس حوالے سے دوسرے امریکی صدور سے مختلف ہے کہ اس نے دونوں پارٹیوں کے سابق صدور کے برعکس اس حوالے سے ایک مختلف دور تھا- اب دیکھنا یہ ہے کہ جو
ٹرمپ کا شمار امریکا کے متنازعہ ترین صدور میں ہوتاہے- انکے منتخب ہونے سے پہلے ہی دنیا انکے نسل پرستانہ، مسلم مخالف بیانیہ سے واقف ہو چکی تھی- انکی تقریروں میں غلط بیانوں، جعلی حقائق کے استعمال کی بہتات ہوتی جسے میڈیا فیکٹ چیکرز نے شواہد کے ساتھ مسترد کیا - لیکن یہ بھی نھقیقت ہے کہ یہ اپنے سیاسی ایجنڈے سے اور بسا اوقات provocative بیانات سے بڑے پیمانے پر امریکی عوام کو انکے ارد گرد اکٹھا کرکے بلآخر پچھلا الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئے جسکی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا-
illegal immigrationTrump has made many false or misleading statements during his campaign and presidency. The statements have been documented by fact-checkers, and the media have widely described the phenomenon as unprecedented in American politics. Many of his comments and actions have been characterized as racially charged or racist.
and reduction of the federal budget deficit by making American allies pay "their fair share" for military defense.
Trump's campaign platform emphasized renegotiating U.S.–China relations and free trade agreements such as NAFTA and the Trans-Pacific Partnership, strongly enforcing immigration laws, and building a new wall along the U.S.–Mexico border. In foreign policy, Trump has pursued an America First agenda, withdrawing the U.S. from the Trans-Pacific Partnership trade negotiations, the Paris Agreement on climate change, and the Iran nuclear deal. He imposed import tariffs which triggered a trade war with China, moved the U.S. embassy in Israel to Jerusalem and withdrew U.S. troops from northern Syria. Trump met three times with North Korean leader Kim Jong-un, but talks on denuclearization broke down in 2019. Trump reacted slowly to the COVID-19 pandemic; he minimized the threat, ignored or contradicted many recommendations from health officials, and promoted false information about unproven treatments and the availability of testing.
He withdrew the U.S. from the Trans-Pacific Partnership (TPP) negotiations,[344] imposed tariffs on steel and aluminum imports,[345] and launched a trade war with China by sharply increasing tariffs on 818 categories (worth $50 billion) of Chinese goods imported into the U.S.[346][347] On several occasions, Trump has said incorrectly that these import tariffs are paid by China into the U.S. Treasury.[348] Although Trump pledged during his 2016 campaign to significantly reduce the U.S.'s large trade deficits, the U.S. trade deficit reached its highest level in 12 years under his administration.[349]
Despite a campaign promise to eliminate the national debt in eight years, Trump as president has approved large increases in government spending, as well as the 2017 tax cut. As a result, the American government's budget deficit has increased by almost 50%, to nearly $1 trillion in 2019.[350] In 2016, the year before Trump took office, the U.S. national debt was around $19 trillion; by mid-2020, it had increased to $26 trillion under the Trump administration.[351]
صدر اپنے دور صدارت میں مسلسل شدید تنقید کا نشانہ بنتے رہے- ان پر بجا طور پر اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلا کر ووٹ لینا کا الزام بھی لگا اور لاطینی امریکا
خواتین کے خلاف
ان پر الیکشن سے قبل ایک سے زائد خواتین کی طرف سے جنسی ہراسانی کے الزامات بھی لگائے گئے، لیکن ہرٹ انگیز طور پر می ٹو موومنٹ کے دوران کوئی خاتون سامنے نہیں آئیں-
انکے اپنے اسٹاف سے کشیدہ تعلقات
آپ جس وقت یہ سٹور پڑھ رہے ہوں گے اس وقت امریکی الیکشن کا نتیجہ سامنے آ چکا ہو گا- لیکن ٹرمپ کے چار سالہ صدارتی دور کا تجزیہ امریکی تاریخ اور دنیا کی تاریخ میں اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے-
aAfghanistan
افغانستان میں امریکہ کی بااثر اور اہم موجودگی کی وجہ سے آج کے انتخابات کو خصوصی مشاہدے اور حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال میں جہاں امریکہ نے اپنے اصل دشمن، طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور وہ افغانستان سے اپنی تمام فوجیں واپس بلانے کی کوشش کر رہا ہے، مستقبل کی امریکی انتظامیہ کی پالیسی اس ملک کے لیے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔ اگرچہ دونوں صدور کے انتخابی مباحثوں کے دوران افغانستان ایک مرکزی مسئلہ نہیں رہا ہے، لیکن ان دونوں امیدواروں کا افغانستان کے بارے میں اندازہ بہت حد تک واضح ہے۔ مسٹر ٹرمپ وہ ہیں جنہوں نے طالبان قیادت کے ساتھ براہ راست بات کرنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے افغانستان سے ہزاروں امریکی فوج واپس بلائے اور کہا کہ وہ کرسمس تک تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لیں گے۔ افغانستان میں مسٹر ٹرمپ کی انتظامیہ کے نمائندے افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو کہ گذشتہ 19 سالوں میں افغانستان کی امریکہ کے تعاون سے حاصل کردہ بیشتر جنگی کارناموں کو ضائع کیا جائے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں