جمعرات، 5 نومبر، 2020

Pulse of Asia: Journey Into Central Asia 1907

kashmir

کشمیر 

چینی ترکستان کا سفر ١٩٠٥ فروری میں بمبئی سے نکلے اور 
ہنٹنگٹن 

مصنف کو کارنیگی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ہارورڈ کے ایک پروفیسر کی معاونت کا کم دیا گے تھا جو روسی ترکستان پر تحقیق کر رہی تھے- اسکے بعد چینی ترکستان پر تحقیق کرنے والے ایک مصنف نے ان کی ماونٹ حاصل کی جو وہاں کا سفر کر رہی تھے- 

سفر بنبی سے راول پنڈی ایک ترین میں 
وہاں سے یکے پر ایبٹ آباد کے راستے سرینگر 


کشمیریوں کے بارے میں بہت منفی تاثر 

سست اور کام کرنا نہیں چاہتے جبکہ قلیوں کے طور پر انہیں انتہائی کم موزہ دے رہے تھے 

زوجی لا پاس 
سرینگر سے کارگل جو لداخ کا دوسرا بڑا  شہر تھا

کارگل کے بعد ایک بدھ مت کے گاؤں میں بھی رکے 

اسے عیسائیت اور بدھ مت میں بہت مماثلت نظر ای 

وہاں سے لیہ یا لاحسا جسکا دوسرا نام تبت ہے 

زی لاج پاس ١١٠٠٠ فٹ 

قراقرم پاس ١٨٣٠٠ فٹ  

اراقرام پاس سلک روٹ کا حسا تھا 

اور بلند ترین مقام کسی بھی تجارتی راستے کا 

پچھلی خزاں کوئی حج کاروان اپنے گھوڑوں کے مرنے اور برف کے طوفان کے با عث اپنا تجارتی سامان جس میں چائے کے بنڈل ، قران اور دیگر چیزیں تھیں چھوڑ کے بھاگ گیا تھا 

اسکے بعد انہوں نے قراقرم کے سطح  مرتفع سے ہندو تاش پاس کے ذریعے برا ہ راست ہوتان  جانے کی کوشش کی 

وہاں کچھ کرغیز مل گئے 

جنہوں نے انہیں اپنے یاک دے دیئے -

ہندو تاش پاس بہت مشکل تھا یاک کے پھسلنے کا دار کم تھا بہت مضبوط جانور ہوتا ہے 
انہوں نے اپنے گھوڑے وہیں چھوڑ دی 

لیکن ہندو تاش سے یارقند پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے 

اکھڑ کار پلٹ کر سو میل دور دریائے قرقاش پہنچے وہاں سے سنجو پاس 

١٦٧٠٠ فٹ انھ 

یہ بھی آسان نہیں تھا 

لکین یہ کراس کے کے 

چینی ترکستان بلاخر پہنچ گئے 

Kwen lun کے میدان میں رات گزاری 

قحط،  طوفان برفانی اور ماؤنٹین سکنیث یعنی آکسیجن کی کمی سے سابقہ پیش آتا ہے - 
سے سابقہ پیش آتا ہے 

عام طور سے ادھے یا ایک چوتھائی جانور مر جاتے ہیں پھر بھی یہ قافلے صدیوں سے یہاں آ جا رہی ہیں 

ہانپتے ہوے کاروان منافع اور انوکھا پن اور منافع 
تجارت کی طرف لے جاتا ہے 

دو ہی راستے ہیں چینی ترکستان کے اسکا کہنا ہے ایک قراقرم 

اور دوسرا کاشغر کے مغرب میں اوش اور انڈی جان ریل روڈ سروسز ... 
وہ راستہ آسان تھا صرف ١٢٠٠٠ فوت مگر حاجی اس سستے اور محفوظ راستے کو ترجیح دیتے کیونکہ روسی آفیشلز بہت گھٹیا تھا 
دوسرے جنگوں اور حالات کی خرابی کے با عث روسی راستہ اتنا محفوظ نہیں تھا 

دلچسپ بات جب یہ لداخ میں تھے تو معلوم ہوا کہ ١٥٠٠ حاجی مکہ انڈیا اور لداخ کے ذریعے  چینی ترکستان  پلٹ رہے ہیں اس لئے گھوڑوں اور چارے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا 

ایک حاجی جو دو بار مکہ جا چکا تھا اس نے بتایا کہ روسی راستے سے ١٩ ڈالر کی کھجور پر ساڑھے بیس روپے کی ڈیوٹی دینی پر 

پاسپورٹ وغیرہ کی چیکنگ بھی مصیبت تھی اس لئے انڈیا اور لداخ کا راستہ اختیار کیا 

وو دوسرے مسافروں کی طرح انڈیا کی تعریف کر رہا تھا جہاں جاسوسی نہیں ہوتی اور نہ ہی زیادہ قیمتیں وصول کی جاتی ہیں انگریز صاحب کے کنٹرول میں 

حاجی چینی ترکستان سے نکل کر انڈیا اور ایک دفعہ روس سے ہوتا ہوا عرب تک گیا تھا 

اگر اس نے یہ صفر نہ کے ہوتے تو وہ صرف چین کو ہی تھذیب کا مرکز سمجھتا / لیکن اسکا چین جانے کا کی ارادہ نیں تھا 


روسی ترکستان میں شمالی روس سے آئے ہوے نئے لوگ اسے عجیب محسوس ہوے روس کے لووگ دوسروں کے معاملات جاننے / جاسوسی / 
انڈیا ایمانداری افراط اور آزادی کا دیس لگا 

چینی صوبہ HSEN KIANG کہلاتا ہے نیا صوبہ 

یہ چانٹو کہہ رہا ہے وہاں کے لوگوں کو ایغور کے بجائے / چینی نام ہے غیر چینی لوگوں کا ٹرم بیسن کے / اسکا مطلب یہ پگڑی والا 

یہ مقامی مسلمان ڈیڑھ سے دو ملین ہیں لیکن انکا کوئی اجتمائی نام نہیں ہے 
یہ کشغاری ہوتانی ترفانی کھلاتے ہیں 

چنٹو یورپانس سے زیادہ ملتے ہیں بجائے منگول نسل کے 


قدیم روایت کے مطابق انہوں نے شملیندہ یعنی گلگت بلتستان وغیرہ سے ہجرت کیتھ - اس بات کا ایک سبوت یہ ہے کہ انکے حروف خروشتی ہیں 

مسلم فتح کے بعد انکی زبان ترکی ہو گئی ہے / ؟؟؟؟دسویں صدی میں یا پہلے سے جو زبان یہ بولتے تھے وہ ترکی ہی کی ایک شکل تھی 

جن ١٩٠٥ سے ١٩٠٦ تک وہاں رہا 

دسترخوان چنٹو میزبانی کا الف بے ہے 







کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...