جمعرات، 5 نومبر، 2020

آئندہ کبھی نہیں: فہرست مضامین MASTERFILE

 طویل عرصے تک جنگوں کو کور کرنے والے رابرٹ فسک دو سال پیشتر رابرٹ فسک کے کالم سے آوری اونری کے دنیا سے جانے کی اطلاع ملی- پانچ دن قبل رابرٹ فسک خود اس جہاں سے رخصت ہوئے- مغرب کو آئینہ والے اس نسل کے صحافی جو مغرب کی میں اسٹریم کا حصہ رہے ہوں بہت کم یاب ہیں- رابرٹ فسک نے ایران عراق وار، پہلی خلیجی وار، افغانستان پر روسی حملے، اسامہ بن لادن سے تین انٹرویو، لبنان اسرائیل تنازعہ اور آخر میں شام کی سول وار سمیت سینکڑوں عالمی تنازعات کو کوئی پچاس سال تک کور کیا- انکی اسامہ بن لادن سے پہلی ملاقات میں ایک دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ اسامہ نے اپنے ایک جنگجو کا خواب انہیں سنایا کہ رابرٹ فسک گھوڑے پر سوار ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کر رہے ہیں- اپنی کتاب The Great War for Civilisation The Conquest of the Middle Eastکے پہلے باب کا عنوان انہوں نے اسی مناسبت سے رکھا ہے-  

آئندہ کبھی نہیں: فہرست مضامین 


NEVER AGAIN 

پیش لفظ 

جینو سائیڈ کیسے کہتے ہیں اور یہ چین کے ایغور قوم سے رویہ پر کیسے پورا اترتا ہے-  

چین کا اصل مقصد کیا ہے 

اردو بولنے والے طبقات کن شکوک و شبھات کا شکار ہیں 

چیدہ چیدہ واقعات 

دہشت گردی سے ایغور قوم کا تعلق 

9/11 کے بعد ایغوروں کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے چین کی کوششیں 

عالمی میڈیا  کشمیر، ایغور اور ہانگ کانگ کا مسئلہ 


علیحدگی پسندی 

ایغور قوم کے وسائل 


پاکستان اور دینی جماعتوں کا رویہ ایغور عوام کے ساتھ 



غیر قانونی بارڈر کراس کرنے والے یا چین سے غیر قانونی فرار ہونے والے 

گونتا نامو بے 

سیکولر ایغور 

چین کے ساتھ تعاون کرنے والے سرکاری ملازمین 

غیر ممالک میں تعلیم کے لئے مقیم طلبہ 

جلا وطن ایغوروں کی کہانیاں 

پاکستان میں مقیم ایغوروں کی کہانیاں 

تھائی لینڈ کی جیلوں سے نکالے جانے والے  کہانیاں 


پاکستانی یا دیگر مسلمان ایغور عوام کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟

چینی مسلمانوں کی مدد کیلئے جلد بازی کی نہیں، ٹھنڈے دل و دماغ سے ایک طویل المدت پالیسی بنانے اور اس پرخاموشی سے مسلسل عمل ضروری ہے-

ثقافتی انقلاب 


تبت اور شنجیانگ کی عالمی کوریج میں اتنا فرق کیوں 


جیلوں میں مارے جانے والے، تشدد، 


کیمپوں 


کیمپوں سے نکلنے والوں کا حال 


نس بندیاں اور حمل ضائع کرنے کے اقدامات 


جیل اور کیمپ سے والوں کی  کہانیاں


بچوں کو سرکاری تحویل میں لینا 

        


تشدد کا شکار مظلومون کی حمایت کا عالمی دن 
تزئین حسن 
٢٦ جون کو تشدد کا نشانہ بننے والوں کی حمایت میں عالمی دن قرار دیا گیا ہے- اتفاق سے ٢٠١٩ میں اس دن سے ایک ہی ہفتہ قبل مصر کی ہزار سالہ تاریخ کے پہلے اور تاحال آخری منتخب مرسی کی جیل میں ذہنی تشدد، قید تنہائی، علاج کی سہولتیں مہیا نہ کرنے کے با عث شہادت، نوجوان بلاگر اور صحافی بلال کی پر تشدد موت، گزشتہ سال استنبول کی سعودی ایمبیسی میں سعودی صحافی خشوگجی کا بے رحمانہ قتل، اور چینی عقوبتی کیمپوں اور جیلوں سے لیک ہونے والی اذیتوں کی داستانیں اس امر کے غماز ہیں کہ چنگیزی دور ابھی ختم نہیں ہوا- چین نے ان کیمپوں کی موجودگی کا اقرار کرنے کے باوجود ان تمام بیانات کو جھوٹ قرار دیا ہے جن میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں ان مظالم کی داستانیں بیان کی گئی ہیں- چینی حکام کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے ایغور باشندے دنیا کے سب سے زیادہ خوش و خرم مسلمان ہیں- ایسے ہی کچھ خیالات کا اظہار عتیق سید صاحب نے کیا بلکہ انہوں نے براہ راست ایغور قوم پر کچھ ایسے الزامات لگائے ہیں جو کبھی چینی حکّام نے بھی نہیں لگائے- انکا کہنا ہے کہ چین میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے صرف یا بڑی تعداد میں ایغور قوم کے لوگ ہوتے ہیں- یہ جاہل ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، نائٹ کلب انھیں کے ہیں، drugs   

لیکن میرے کم از کم ایک درجن سے زائد سابق قیدیوں اور انکے گھر والوں سے براه راست انٹرویوز، حالیہ عالمی میڈیا کی رپورٹس، پچھلے دو دھائیوں میں چھپنے والی انسانی حقوق کی رپورٹس اور ریسرچ پیپرز کے علاوہ ان میں سے کم از کم تین مظلوموں کی پارلیمنٹس میں گواہیاں جو سب ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں، چین کے خلاف نا قابل تردید ثبوت ہیں-  میں گزشتہ سال سے اس موضوع پر تحقیق کر رہی ہوں اور پاکستان، امریکا، کینیڈا، جرمنی، ہالینڈ، کی ایغور کمیونٹیز سے رابطے میں ہوں- ان سب کی کہانیاں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مما ثل ہیں- ترکی میں مجھے براہ راست انکی کہانیاں سننے کا موقعہ ملا- ان میں حالیہ کریک ڈاون سے پیشتر پچھلی تین دھائیوں میں جیلیں بھگتنے والوں سے انٹرویوز بھی شامل تھے اور چین سے فرار ہونے کی کوششیں کرنے والوں کی کہانیاں بھی، ان بد نصیب پناہ کے خواہشمندوں کی کہانیاں بھی جنہیں سفری ڈاکومنٹس اور ویزا کے باوجود پاکستان، سعودی عرب، مصر، عراب امارات سے اس لئے نکلنا پڑا کہ انکے کچھ ساتھیوں کو مذکورہ حکومتیں چین کے حوالے کر چکی تھیں اور یہ ڈر تھا کہ انھیں بھی چین کے حوالے کر دیا جائے گا- ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ویت نام، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ملیشیا کی جیلوں میں قید رہنے کے بعد ترکی پہنچے اور وہ بھی جو اس ایک محفوظ با عزت اور خوف و ہراس کے بغیر زندگی گزارنے کی خواہش میں اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے یا ان ملکوں کی جیل میں مقید اپنے پیاروں کے بارے میں کسی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں- 
ان میں ایسی مائیں بھی تھیں جنہوں نے ان ملکوں کی جیلوں  میں اپنے بچوں کو جنم دیا- ترک حکومت ریڈ کراس کے ذریعے کچھ خواتین اور بچوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیلوں سے رہا کروا کر ترکی لے جانے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن انکے شوہر ابھی تک انہیں ملکوں میں قید ہیں- ایسے بچوں اور غیر شادی شدہ کم عمر بچیوں سے بھی ملاقات ہوئی جنکے والدین نے انہیں خود سے جدا کر کہ ترکی میں صرف اس لئے چھوڑا ہے کہ اگر وہ نہیں تو کم از کم  انکی بچیاں مستقبل میں خوف و ہراس سے پاک زندگی گزار سکیں- ایسے خاندانوں سے بھی ملاقات ہوئی جو ارمچی میں بڑے کاروبار رکھتے تھے لیکن اب استنبول کے علاقے زتین برنو میں خستہ حال فلیٹوں کے ایک کمرہ میں بچوں اور بعض اوقات شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ  مقیم ہیں- دوسرے کمرے میں کوئی دوسری فیملی رہائش پذیر ہے- سوال یہ ہے کہ اگر چین کا دعویٰ صحیح ہے تو ان سب کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر کس نے مجبور کیا؟
پچھلے چند دہایوں میں چین نے بے پناہ ترقی کی ہے- اس میں شک نہیں کہ ١٩٩٠ کی دھائی کے بعد مشرقی ترکستانی (سنکیانگ) کے باشندوں نے بھی اس ترقی میں اپنا حصہ سمیٹا ہے- چین اور دیگر ملکوں سے بھاگ کر ترکی پہنچنے والوں کا تعلق خوش حال گھرانوں سے تھا جو پاسپورٹ بنوانے کے لئے ہزاروں یو ان رشوت دے سکتے تھے، اور سفر اور بعد ازاں رہائش کے اخراجات بھی کسی حد تک بر داشت کر سکتے تھے- سوال یہ ہے کہ اتنی خوش حالی کے بعد انہیں ترکی جیسے ملک میں رہائش کی کیا ضرورت جہاں انکے لئے روزگار بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ چھوٹی موٹی ملازمت کر کہ اپنا گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں- سوال یہ ہے کہ یہ پناہ گزین خوش ہالی کے باوجود اتنے رسکی راستوں سے چین سے نکلنے اور اپنے پیاروں کو نکالنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں-

گونتا موبےاور اسکی جڑواں جیل بگرام کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں قائم سی آئی ائے کے عقوبت خانے میں تشدد کے واقعات جن میں سے چند اب خود مشرق وسطیٰ کی حکومتیں براہ راست آپریٹ کر رہی ہیں سے ملنے والی خبروں- 



لیکن اس وقت چینی کیمپوں اور جیلوں کے سابق مقید افراد کی جو گواہیاں سامنے آ رہی ہیں انکے مطابق ایک سے تین ملین افراد (اب خود چین نے بھی اسے تسلیم کر لیا ہے گو وہ ان عقوبت خانوں کو بورڈنگ اسکول یا ووکیشنل اسکول قرار دی رہا ہے) بد ترین اذیت کی زندآگی گزار رہے ہیں- 
چالیس قیدیوں کو ایک سات فٹ لمبے اور تین فٹ چوڑے کمرے میں رکھا جاتا ہے جس میں ایک ٹرانسپیرنٹ شیشوں والے باتھ روم موجود ہے  

یاد رہے عمر بیکالی، مھہر گل ترسون، گل بہار تینوں نسلاً  ایغور تھے لیکن یہ چین کے شہری نہیں تھے- ان میں گل بہار نے اپنے تفصیلی انٹرویو میں مجھے تمام روداد چھاپنے کی اجازت دی- اسکا کہنا تھا کہ کازقساتاں میں اسکے بچے اور خاندان والے اس سے کہتے ہیں کہ تم قازقستان واپس آکر آرام کی زندگی گزارو-لیکن اسکا کہنا ہے کہ قید میں چند مہینے گزارنے کے بعد وہ اندر سے مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے- اسے اپنے قید خانے میں مقید ساتھیوں کا خیال کبھی کبھی کھانا بھی نہیں خانے دیتا- یاد رہے گل بہار جیل جانے سے پہلے ایک ماڈرن قازق بزنس وومین تھی- اور گزشتہ چند سالوں میں تجارت کے لئے چین کے متعدد دورے کر چکی تھی- اس نے مجھے اپنے پاسپورٹ دکھائی جس پر چین کے ویزا اور کئی اینٹریز موجود تھیں- اسے کچھ رقم کوئی تین ہزار امریکی ڈالر (پاکستانی کو تین سے چار لاکھ روپے) ترکی منتقل کرنے کے بعد اسکے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا- اور اس پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا- اسکا کہنا تھا کہ وہ چینی شہری نہیں ہے اور رقم منتقل کرنا کوئی جرم نہیں-       
اس دن کا مقصد ان مظلوموں کے حقوق کے بارے میں آگاہی دینا ہے- یہ سہی ہے کہ ہم اس تشدد کو روکنے  کے لئے براہ راست کچھ نہیں کر سکتے لیکن آگاہی   

مشرقی ترکستان  کے چینی کیمپوں میں ضعیف ایغور مظلوموں کِ٨ بڑھتی ہوئی اموات خبریں 

 کے سابق قیدیوں کی گواہیوں کے مطابق 

Introduction 




ایشیا اور یورپ کے سنگم اور قدیم شاہراہ ریشم پر واقع چینی ترکستان وہ علاقہ ہے جسکے ذریعے بدھ مت، مسیحیت اور اسلام چین پہنچا- یہ آج بھی وسط ایشیا کی سب سے محفوظ ثقافتی نشانی ہے- اس تصاویر میں کاشغر شہر کی ثقافت کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے- اسے دیکھنے والا اس شہر کے فسوں میں کھوئے بغیر نہیں رہ سکتا- یہی وہ علاقہ ہے جہاں چینی، ترک، منگول، تبتی اور عرب علاقے پر بالا دستی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدل میں مصروف رہے-  یہاں کی ثقافت کے ساتھ ساتھ یہاں کی قدرتی خوبصورتی بھی اسے سیاحت کے لئے پر کشش علاقے کا درجہ دیتی ہے- اس خطے کی سرحدیں انڈیا، پاکستان افغانستان، کرغیزستان، قزاقستان، تاجکستان، روس، اور منگولیا سے ملتی ہیں- یہ چین کی ڈومیسٹک تیل اور گیس کی پروڈکشن کا سب سے بڑا مرکز ہے- اسکے علاوہ روس اور وسط ایشیا سے جو تیل برامد کیا جاتا ہے وہ بھی یہیں سے گزر کر چین کے صنعتی علاقوں تک پہنچتا ہے- صوبے پر چین کا کنٹرول چین کی معیشت کے لئے ناگزیر ہے-

یہاں ترک نسل کے ایغور، قازق، کرغیر کے ساتھ ساتھ اب ہاں نسل کے چینی بھی برابر کی  تعداد میں  آباد ہیں اور چینی اور ترک قومیت کے ویژن آپس میں دست و گریبان ہیں بلکہ علاقے کی سیاست اور معیشت پر بھی منفی اثرات ڈال رہے ہیں- اس سے آگے بڑھ کر چینی سرکار ترک قومیت کو خطرہ سمجھ کر اسکی ثقافتی نشانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کہانی تحریر کر رہی ہے- ماضی قریب میں ٹیڑھی میڑھی گلیوں پر مشتمل کاشغر کا پرانا شہر بہت حد تک سینکڑوں سالوں سے یہاں رہنے والوں سے خالی کروا لیا گیا ہے- لاکھوں ایغور اور دوسری ترک نسل کے مسلمانوں کو 'چینی' بنانے کے لئے جبری قیدخانوں میں بھیج دیا گیا ہے جنھیں چینی حکومت Re-education Camps کا نام دیتی ہے- کمیونسٹ حکومت کا کہنا ہے کہ چین کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندوں سے پاک کرنے کے لئے یہ اقدام ضروری ہے- ان کیمپس کے باہر 'چین میں رہو تو چینی بن کر رہو' کا نعرہ بھی دیکھا گیا ہے- اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق کسی قوم کی ثقافت کو دوسری قوم کی ثقافت میں جبری ضم کرنے کی کوشش کو نسل کشی یعنی Genocide کہا جاتا ہے- 

تبت اور سنکیانگ کی آبادیاں عرصے سے انسانی حقوق کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہیں  مگر انکی میڈیا کوریج اور  میں زمین آسمان کا فرق! آخر کیوں؟ آئیے آنکلا ساتھ دیں-

١٩٤٩ میں چین کا حصہ بننے کے بعد یہاں بڑی تعداد میں ہاں چینیوں کو بھاری مراعات دیکر آباد کیا گیا- ایک اندازے کے مطابق ہر سال اوسطاً  ٣ لاکھ کے قریب ہاں چینی نسل کے آبادکار سنکیانگ کی آبادی کا حسا بنتے رہے- یہی نہیں مقامی روزگار اور بزنس بھی چین کی تفریقی پالیسیوں کے نتیجے میں ہان کو منتقل ہوتا گیا- چین نے یہاں بڑے پیمانے پر انفرسٹرکچر منصوبوں میں سرمایا کاری کی جو خود چین کی معیشت کے لئے ناگزیر تھا لیکن معیشت کی ترقی میں ایغور نسل کو بہت کم حصہ ملا- اسکے علاوہ مذہبی پابندیاں بھی بڑی تعداد میں ایغور مسلمانوں پر لگائی گئیں- ان تفریقی پالیسیوں کا ایک لازمی سیاسی رد عمل سامنے آنا تھا-  

چین نے ان کیمپوں کی موجودگی کا اقرار کرنے کے باوجود ان تمام بیانات کو جھوٹ قرار دیا ہے جن میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں ان مظالم کی داستانیں بیان کی گئی ہیں- چینی حکام کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے ایغور باشندے دنیا کے سب سے زیادہ خوش و خرم مسلمان ہیں- ایسے ہی کچھ خیالات کا اظہار عتیق سید صاحب نے کیا بلکہ انہوں نے براہ راست ایغور قوم پر کچھ ایسے الزامات لگائے ہیں جو کبھی چینی حکّام نے بھی نہیں لگائے- انکا کہنا ہے کہ چین میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے صرف یا بڑی تعداد میں ایغور قوم کے لوگ ہوتے ہیں- یہ جاہل ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، نائٹ کلب انھیں کے ہیں،    

لیکن میرے کم از کم ایک درجن سے زائد سابق قیدیوں اور انکے گھر والوں سے براه راست انٹرویوز، حالیہ عالمی میڈیا کی رپورٹس، پچھلے دو دھائیوں میں چھپنے والی انسانی حقوق کی رپورٹس اور ریسرچ پیپرز اور ایغور قوم پر لکھی  کتابوں کے مطابق ان الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا- ہاں کسی قوم پر ظلم سے پہلے اسکی کردار کشی کرنا ایک سرکاری مجبوری ہو سکتی ہے-   

ایسی علاوہ ان میں سے کم از کم تین مظلوموں کی پارلیمنٹس میں گواہیاں جو سب ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہیں، چین کے خلاف نا قابل تردید ثبوت ہیں-  میں گزشتہ سال سے اس موضوع پر تحقیق کر رہی ہوں اور پاکستان، امریکا، کینیڈا، جرمنی، ہالینڈ، کی ایغور کمیونٹیز سے رابطے میں ہوں- ان سب کی کہانیاں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مما ثل ہیں- ترکی میں مجھے براہ راست انکی کہانیاں سننے کا موقعہ ملا- ان میں حالیہ کریک ڈاون سے پیشتر پچھلی تین دھائیوں میں جیلیں بھگتنے والوں سے انٹرویوز بھی شامل تھے اور چین سے فرار ہونے کی کوششیں کرنے والوں کی کہانیاں بھی، ان بد نصیب پناہ کے خواہشمندوں کی کہانیاں بھی جنہیں سفری ڈاکومنٹس اور ویزا کے باوجود پاکستان، سعودی عرب، مصر، عراب امارات سے اس لئے نکلنا پڑا کہ انکے کچھ ساتھیوں کو مذکورہ حکومتیں چین کے حوالے کر چکی تھیں اور یہ ڈر تھا کہ انھیں بھی چین کے حوالے کر دیا جائے گا- ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ویت نام، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ملیشیا کی جیلوں میں قید رہنے کے بعد ترکی پہنچے اور وہ بھی جو اس ایک محفوظ با عزت اور خوف و ہراس کے بغیر زندگی گزارنے کی خواہش میں اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے یا ان ملکوں کی جیل میں مقید اپنے پیاروں کے بارے میں کسی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں- 
ان میں ایسی مائیں بھی تھیں جنہوں نے ان ملکوں کی جیلوں  میں اپنے بچوں کو جنم دیا- ترک حکومت ریڈ کراس کے ذریعے کچھ خواتین اور بچوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیلوں سے رہا کروا کر ترکی لے جانے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن انکے شوہر ابھی تک انہیں ملکوں میں قید ہیں- ایسے بچوں اور غیر شادی شدہ کم عمر بچیوں سے بھی ملاقات ہوئی جنکے والدین نے انہیں خود سے جدا کر کہ ترکی میں صرف اس لئے چھوڑا ہے کہ اگر وہ نہیں تو کم از کم  انکی بچیاں مستقبل میں خوف و ہراس سے پاک زندگی گزار سکیں- ایسے خاندانوں سے بھی ملاقات ہوئی جو ارمچی میں بڑے کاروبار رکھتے تھے لیکن اب استنبول کے علاقے زتین برنو میں خستہ حال فلیٹوں کے ایک کمرہ میں بچوں اور بعض اوقات شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ  مقیم ہیں- دوسرے کمرے میں کوئی دوسری فیملی رہائش پذیر ہے- سوال یہ ہے کہ اگر چین کا دعویٰ صحیح ہے تو ان سب کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر کس نے مجبور کیا؟
پچھلے چند دہایوں میں چین نے بے پناہ ترقی کی ہے- اس میں شک نہیں کہ ١٩٩٠ کی دھائی کے بعد مشرقی ترکستانی (سنکیانگ) کے باشندوں نے بھی اس ترقی میں اپنا حصہ سمیٹا ہے- چین اور دیگر ملکوں سے بھاگ کر ترکی پہنچنے والوں کا تعلق خوش حال گھرانوں سے تھا جو پاسپورٹ بنوانے کے لئے ہزاروں یو ان رشوت دے سکتے تھے، اور سفر اور بعد ازاں رہائش کے اخراجات بھی کسی حد تک بر داشت کر سکتے تھے- سوال یہ ہے کہ اتنی خوش حالی کے بعد انہیں ترکی جیسے ملک میں رہائش کی کیا ضرورت جہاں انکے لئے روزگار بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ چھوٹی موٹی ملازمت کر کہ اپنا گزارا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں- سوال یہ ہے کہ یہ پناہ گزین خوش ہالی کے باوجود اتنے رسکی راستوں سے چین سے نکلنے اور اپنے پیاروں کو نکالنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں-

چینی حکومت نے چین کے اندرونی صوبوں سے بڑی تعداد میں ملازمت اور مراعات دیکر اور بعض کو جبراً یہاں منتقل کیا- ١٩٥٥ میں چینی حکومت کی طرف سے خطے کا سرکاری نام سنکیانگ اوئیغور آٹو نو مس ریجن رکھ دیا گیا تھا جسکا مخفف XUAR ہے- مقامی باشندے اب بھی اس علاقے کو مشرقی ترکستان ہی کہتے ہیں- 
اب ہم دوبارہ اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں یعنی ایغور مسلمانوں پر مظالم-  صورت حال اتنی خراب ہے کہ حالیہ رپورٹس کے مطابق سماجی کاموں کے لئے معروف اوئیغور بزنس مین عبد الغفار عبد الرسول کو غیر سرکاری حج کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہے-  انکی بیگم طویل عرصے سے حکومتی حراست میں تھیں، شبہ کیا جا رہا ہے کہ حراست کے دوران انکی موت واقع ہو گئی ہے- انکا بیٹا ترکی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٢٠١٧ میں وطن لوٹنے پر غائب ہو گیا تھا جسکا اب تک کوئی پتا نہیں- انکے بھائی عبد الستار کے مطابق یہ سزا انہیں اس لئے دی گئی ہے کہ وہ سرکاری رجسٹرڈ حج سروس استعمال کرنے کے بجائے اپنے طور پر حج کے لئے چلے گئے تھے- بھائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ رسول کو مقدمے کے دوران کوئی وکیل فراہم نہیں کیا گیا- اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے علاوہ چینی قوانین میں بھی بغیر فرد جرم اورمقدمہ کے بعد پھانسی کی سزا غیر قانونی ہے لیکن ایغور افراد کے لئے کوئی انسانی حقوق کا اصول یا قانون لاگو نہیں ہوتا- یاد رہے جن کیمپس کو چین اصلاحی مراکز کا نام دیتا ہے وہاں سے بڑے پیمانے پر ضعیف افراد کی اموات کی  اطلاعات اب منظر عام پر آنے لگی ہیں-   




پاسپورٹ 
عتیق سید صاحب کا ایک اور اعتراض سامنے آیا ہے کہ ایک

 طرف تو میرا کہنا ہے کہ چینی حکومت پاسپورٹ نہیں دے رہی- اور دوسری طرف میں کہ رہی ہوں کہ ایغور افراد مختلف راستوں سے ترکی پہنچتے رہے ہیں- میں ان پہ در پہ سوالات پر عتیق سید صاحب کا شکریہ ادا کروں گی کیونکہ ایسے سوالات اور لوگوں کے ذہن میں بھی ہو سکتے ہیں- مجھے امید ہے کہ عتیق صاحب سوالات پوچھتے رہیں گے- 

جواب:   
چینی حکومت کی پالیسیز پاسپورٹ کے حوالے سے بہت inconsistent رہی ہیں- پچھلے ستر سالوں سے باقی چین کے مقابلے میں ایغور یا ترک نسل کے باشندوں کے لئے پاسپورٹ بنوانا بہت مشکل کام تھا- لیکن یہ افراد فرار کی اپنی سی کوششیں کرتے رہے ہیں-  ان میں پاسپورٹ بنوا کر سفر کرنے والے بھی ہیں اور بغیر پاسپورٹ انتہائی رسکی راستے اختیار کرنے والے بھی- ایسے بھی جو سفری دستاویزات کے ساتھ دوسرے ممالک میں مقیم ہیں لیکن چینی حکومت نے حالیہ کریک ڈاون کے بعد انکا پاسپورٹ رینیو کرنے سے انکار کر دیا اور یہ اب اپنی ملازمت اور کاروبار چھوڑ کر ترکی منتقل ہو رہے  ہیں- 

میرے انٹرویوز میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنکے والدین اور بزرگوں نے ١٩٤٩ سے لیکر ١٩٥٥ تک ترکستان سے پیدل ہجرت کی خصوصاً کشمیر کے راستے سے-  میری کچھ سورسز پاکستان میں پیدا ہوئیں- ایسی کچھ فیملیز آج انڈیا میں بھی مقیم ہیں گو میں ان سے براہ راست رابطے میں نہیں-  بلجیم میں مقیم ایک فرنچ پروفیسر نے مجھے بتایا کہ وہ ایک ایسے انڈین شہری سے رابطے میں ہیں- لیکن انکا بھی یہ کہنا تھا کہ ایسے لوگ بہت کم تعداد میں تھے اور وہ انڈین مسلم کمیونٹی میں ضم ہو گئے ہیں- پاکستان میں راول پنڈی اور گلگت میں ایغور کمیونٹی آباد ہے اور یہ پسکاٹنی شہری ہیں- چینی سفارت خانہ اس وقت ان کا ڈیٹا جمع کر رہا ہے جسکی وجہ سے اس کمیونٹی میں خوف و ہراس ہے- 
قازق بارڈر سے منسلک ایغور افراد کے خلاف ١٩٤٩ کے بعد کریک ڈاون کیا گیا جسکی وجہ سے بہت بری تعداد سرحدی علاقہ چھوڑ کر روس فرار ہونا پڑا - روس نے بھی ان لٹے پٹے خاندانوں کے ساتھ  اچھا رویا نہیں رکھا- انہیں جبرا روس کے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا گیا- لیکن قازقستان میں ایغور قوم بہت بری تعداد میں آباد ہے- انکی تیسری نسلیں اب جوان ہو رہی ہیں- کینیڈا میں میری ملاقات ایک ایسی ہی فیملی ایک ایک khaatoon سے ہوئی جنکے بزرگوں کو ١٩٤٩ میں چین سے فرار ہونا پڑا اور وہ خود ازبکستان میں پیدا ہوئیں- 
اسکے بعد ماؤ زے دنگ کے کلچرل انقلاب کے دوران سختیاں بہت شدید تھیں- اس دوران فرار تقریباً نا ممکن تھا- لیکن اسکے بعد بہت بری تعداد میں ایغور طلبہ دین کا علم حاصل کرنے پاکستان آئے- میں ان میں سے بہت سوں سے ترکی میں ملاقات کر چکی ہوں- عتیق سید صاحب یقیناً ان پر دہشتگردی کی ٹریننگ کا الزام لگائیں گے- لیکن یہ پر امن لوگ ہیں اور ترک حکومت میں مختلف عہدوں پر کام کر رہے ہیں- ترکی میں مقیم ایغور خاندانوں کی فلاحی اور علمی تنظیم دوغو ترکستان معارف کے اس وقت کے سربراہ ہدایت الله وغوزن کا تعلق اسی گروپ سے ہے- ان میں سے بہت سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلامآباد سے ہے اور کچھ نے مودودی  سے بھی تحصیل علم کیا ہے- ان میں سے کچھ افراد خلجی ممالک میں بھی علمی خدمات انجام دیتے رہے ہیں- 
نائن الیون کے بعد پاکستان نے کچھ ایغور طلبہ کو چین کے حوالے کیا تو باقی نے ترک ایمبیسی میں پناہ کے لئے اپلائی کیا اور ترکی پہنچنے میں کامیاب ہوئے- 
اسکے علاوہ ایسے افراد سے بھی انٹرویوز کے جنہوں نے ٢٠١٥ سے پہلے بھاری رشوتیں دیکر پاسپورٹ بنوائی اور خاندان کا ایک ایک فرد چین سے باہر نکل کر کسی محفوظ ملک پہنچا اور اس نے دوسروں کو وہاں بلوانے کا انتظام کیا- 
کچھ ایسے تعلیم یافتہ ایغور سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے چین کی مختلف یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازمت یا کاروبار کر رہے تھے- (اسکے لئے بھی کمیونسٹ پارٹی کی ممبر شپ ضروری ہے اور بہت سے ایسے ایغور ہیں جن میں سنکیانگ کے حالیہ گورنر بھی شامل ہیں جنہوں نے چینی حکومت کا ساتھ اب تک تعاون نہیں چھوڑا ) انہوں نے چین کے دوسرے شہروں سے پاسپورٹ بنوائے- 
ایک بات یہ بھی یاد رہے کہ چین میں بھی کرپشن بہت ہے- حالیہ کریک ڈاون سے پہلے رشوتیں دیکر بہت سے کام ہوتے تھے جن میں تیسرے چوتھے اور پانچویں بچے کی پیدائش، قران پڑھانے اپنا گھر قران پڑھنے کے لئے آفر کرنے پر گرفتاری سے رشوت دیکر جان چھوٹ جاتی تھی لیکن حالیہ کریک داؤں کے دوران تمام پاسپورٹس لے لئے گئے ہیں-   
ایک اور بات یہ کہ قران پڑھانے، ایغور تاریخ یا ثقافت پر کوئی کتاب لکھنے یا کنھی کسی احتجاجی جلسے میں شرکت کے نتیجے میں گرفتات ہونے والے ایغور اگر چھوٹ بھی جاتے تو انکے شناختی کارڈ پر ایک نشان لگا دیا جاتا اور انھیں پاسپورٹ بنوانے کی اجازت نہ ہوتی- ایسے افراد سے بھی انٹرویوز ہوئے جنہوں نے بتایا کہ انھوں نے دوسرے شہروں میں جا کر رشوتیں دیکر اپنی شناخت تبدیل کروائی- 
پرسوں ایک ایغور ایکٹوسٹ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے اپی بیوی اور چھے ماہ کے بیٹے کے ساتھ ١٩٩١ میں جعلی پاسپورٹ پر روس، بلغاریہ اور وہاں سے ترکی کا سفر کیا-   

اس معاملے کا ایک اور پہلو ہے جس پر میں یہاں اظہار خیال نہیں کرنا چاہ رہی میری ریسرچ کا حصہ ہے-  


ایک خاتون نے مھ بتایا کہ کیونکہ وہ جیل میں ریہ چکی تھیں اس لئے    


ترکی میں موجود میرے ذرائع اس بات پر متفق ہیں مطابق ٢٠١٥میں چینی حکومت نے ایک ٹیلی ویژن اشتہار کے ذریعے پاسپورٹ بنوانے کی ترغیب دی   





t   difference between Tibet and Xinjiang
تبت اور سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں

چین کا  شمار صحافت پر پابندیوں کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر کیا جاتا ہے- اس وقت چین میں ٤٩ صحافی قید ہیں جن منے سے ١٤ یعنی تقریباً تیس فیصد ایغور ہیں جبکہ وغیر آبادی چین کی آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے-


According to the Committee to Protect Journalists’ most recent censusChina is the world’s leading jailer of journalists, with 49 imprisoned as of December 2015. Of those 49, at least 14 are Uyghurs—a startling proportion given that the Turkic-speaking Muslim ethnic group, living in the country’s northwest Xinjiang Uyghur Autonomous region, makes up less than one percent of the country’s population. That disproportionation, however, is less surprising to those familiar with the long-fraught relationship between the Uyghur people and China’s authoritarian government.

background 



ایغور اور ہاں چینی نسل کے باشندوں کے مابین ٢٠٠٩ کے ارمچی فسادات میں ١ایک لاکھ سے زائد  ایغور باشندوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے ١٠،٠٠٠ آج بھی لاپتہ ہیں- اس فسادات میں سو افراد مارے گئے- چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سب ہان تھے اور فسادات کی شروعات علیحدگی پسندوں نے کی جبکہ اطلاعات کے مطابق فسادات ارمچی سے ہزاروں میل دور چین کی جنوبی علاقے میں دو ایغور فیکٹری ورکرز کے مارے جانے پر شروع ہوے تھے-
اور احتجاج کرنے والوں نے چینی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے- 


Tensions came to a head in July 2009 during a major period of discord between Uyghurs and Han Chinese. A series of riots in Urumqi, Xinjiang’s capital, left nearly 200 people dead, Chinese authorities reported, most of them Han. In the wake of the incident, thousands of Uyghurs were arrested and detained, including a number of citizen bloggers who are among the country’s currently imprisoned journalists, and others—as many as 10,000, according to exiled Uyghur leader Rebiya Kadeer—simply disappeared. 



چین سے باہر موجود رپورٹرز پر کس طرح دباؤ ڈالا جاتا ہے؟

The Challenges faced by Uighur reporters abroad?
The treatment of citizen journalists in the wake of the riots was a familiar story. Uyghurs’ access to the outside world is severely limited—following the unrest, the government enforced a complete Internet and cell service blackout in the region for close to a year—and those trying to disseminate information outside of the vague, incomplete reporting from the state-run media face severe sanctions. Even Uyghurs reporting on the region from abroad are not exempt; Chinese authorities tried to intimidate D.C.-based Radio Free Asia journalist Shohret Hoshur to abandon his reporting on Uyghurs by detaining three of his brothers still living in Urumqi and charging them with leaking state secrets (two of the brothers were released in December). Hoshur has not been deterred, however; this summer, he told The New York Times he feels an obligation to continue reporting on his homeland. Neimenn Report


الہام توہتی کون ہے؟


Who is Illham Tohti and Why is he imprisoned?
One prominent Uyghur scholar/citizen journalist imprisoned is the Bejing-based professor Ilham Tohti. His website was a little different from the Uyghur websites operating at the time because his website was in Chinese. His purpose was to encourage communication between Han Chinese, Uyghurs, and all ethnic groups in China; he was trying to create a forum in which people could interact with one another and learn about issues impacting the region. He was arrested after the riots but later released and forced to move his website to overseas servers, but last year, he was imprisoned and sentenced to life, charged with separatism. That was really the nail in the coffin of this Uyghur citizen journalist movement. (Neimenn Report)

چین  کس طرح  انفارمیشن کو کنٹرول کرتا ہے؟



Heavy government restrictions and tight control of information make independent reporting difficult in all of China. In what ways is the Uyghur region unique?
The decimation of the Uyghur Web in 2009 is really unique. The government flicked a switch and cut off all Internet access in this region for 10 months [after the riots], from July 2009 to May 2010, and in doing so also took down all of the most popular Uyghur websites, places where these important conversations about the unrest were taking place.

چین کے اپنے بلوگس اور سوشل میڈیا پر رجسٹریشن پر بھی ایغور عوام کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے-


In general, it’s just more difficult for people to access certain tools that are available elsewhere in China, like tools to circumvent the Chinese firewalls or Sina Weibo, the Chinese microblog. We’ve had Uyghur people reporting difficulties accessing these sites, even registering their Uyghur-sounding names, and when they go to post things, we’ve heard reports of lag times of weeks and sometimes it just won’t go up [at all]. That goes far above and beyond what Chinese users experience elsewhere.


باقی چین کے صحافیوں کے پر جلنے لگتے ایغور مصلے پر لکھنے میں- 

And though state-run media across China is heavily restricted, sometimes journalists have a bit more leeway, but you just don’t hear about state journalists in the Uyghur region crossing any lines. Media elsewhere in China don’t really report on Uyghur issues because they acknowledge that this is one area that is simply off-limits.

غیر ملکی صحافیوں کے لئے کیا مشکلات ہیں؟


What challenges do foreign journalists reporting on the Uyghur region face?

There are plenty of restrictions even to get into the region. No international outlets have a bureau in the region or any reporters stationed there. I think also part of what’s really necessary for conducting journalism in China is to have news assistants [such as translators and mediators] regionally, and I think that would be a real challenge for someone to do that in the Uyghur region. There have been several news outlets that have tried to do critical reporting and they have just found that access is so limited; they’re trailed and harassed by authorities, especially when some kind of sensitive incident has taken place. And were these journalists to get access, it would be extremely dangerous for anyone who spoke to them. There have been cases of reprisals facing people who have reported on issues in the region and anybody who is brave enough to act as a source would be putting themselves and their families at risk.
[Following the riots], the U.S. media did its best to try to figure out what was going on at that time, but their access was extremely limited. Foreign media was trying to get the story but, at the end of the day, the kind of hard, investigative reporting that you would really need to find out what happened, particularly to the hundreds of Uyghur individuals who disappeared after the incident, who were rounded up, who were imprisoned—that never happened. There are still many, many questions surrounding those events: reports of extrajudicial killings, reports of lack of due process, and disappearances.

صحافیوں کے  خلاف اقدامات خود ایغور عکس کے ساتھ چینی حکومت کی پالیسیوں کا عکس ہیں جن سے آزادی مذہب، آزادی اظہار، آزادی پریس اور پر امن جلوس کی آزادی سب چین لیا گیا ہے- پریس اور رپورٹرز پر پابندیاں نہ صرف چین اور سنکیانگ سے باہر معلومات کی ترسیل میں رکاوٹ ہیں بلکہ ایغور عوام بھی خطے میں ہونے والے واقعات سے بےخبر رہتے ہیں-

How does the persecution of Uyghur journalists mirror the Chinese government’s treatment of the Uyghur population as a whole?
It’s very reflective of the kind of small space Uyghur people have for freedom of expression. The suppression of journalists prevents not only the outside world but even people in the Uyghur region from knowing what’s going on. What’s going on now is an intensified crackdown on religious practice, limits on mobility and the ability to get a passport; there’s even been an introduction in the region of a new form of identification card that will prevent people from moving between cities. So these other freedoms—freedom of assembly, freedom of expression, freedom of religion—are all made that much more vulnerable by the silencing of Uyghur journalists.

فری پریس کیوں ضروری ہے؟

How essential is a free press in promoting peace in the region?
I think it’s absolutely essential. Without a free press, people have no means of expressing what’s going on. There’s rapid change taking place in the Uyghur homeland and Uyghur people generally have very little say over what’s happening and how it’s happening. Taking away the mechanisms through which people can discuss these changes and make known how they would like to see development of their homeland take place is going to lead to unrest.

ایغور زبان کی تعلیم پ پابندیاں لگانا 


Ayup, who earned a master's degree in linguistics from the University of Kansas, returned to Xinjiang in 2011 to pursue his dream of opening Uyghur language schools but was arrested and jailed with two of his business partners—Dilyar Obul and Muhemmet Sidik—on Aug. 20, 2013.


The court also sentenced the director of the language-teaching company Mother Tongue International, Sidik, to two years and three months' imprisonment, while fellow executive Obul received a two-year jail term.




AbdulHamid Tursun Belgium and Tahir Amin 

چینی حکومت  کسی ایغور کو پاسپورٹ اشو نہیں کر رہی 
تزئین حسن 
کل رات بلجیم میں عبدالحمید ترسون سے وہاٹسیپ میسج کے ذریعے بات ہوئی جنکی فیملی کو بلجیم ایمبیسی سے اٹھا کر زبردستی ترکستان (سنکیانگ) پہنچا دیا گیا ہے- عبدالحمید نے بتایا کہ بلجیم حکومت کے ڈپلومیٹ نے چینی حکام سے بات کر کہ اسکا رابطہ اسکی فیملی سے بحال کروا دیا ہے لیکن خاندان ڈرا ہوا ہے اور زیادہ بات نہیں کر رہا ہے- یاد رہے یہ پہلے موقع ہے کہ چین نے اپنا رویہ نرم کرتے ہوئے کسی فیملی کو رابطے کی اجازت دی ہے ورنہ میرے درجنوں انٹرویوز میں ہر ایغور فرد کا یہی کہنا تھا کہ اسکا ٢٠١٧ سے ترکستان (سنکیانگ) میں اپنی فیملی سے کوئی رابطہ نہیں- نہ انہیں یہ معلوم ہے کہ کون زندہ ہے اور کون نہیں- اس سے قبل بھی دیگر ایغور افراد مجھے بتاتے رہے ہیں کہ جب انہیں اپنے خاندانوں سے بات کی سہولت میسر بھی تھی تو یہ لوگ مانیٹرنگ کے ڈر  سے کوڈ ورڈز میں بات کرتے تھے- مثلاً خاندان کا کوئی ممبر اگر کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے تو یہ کہا جاتا تھا کہ وہ پڑھنے گیا ہے- جب ستر سالہ ہاؤس وائف والدہ یا دادی پڑھنے گئی ہوں تو فون کے دوسری طرف موجود شخص یہ جاننا مشکل نہیں ہوتا کہ در حقیقت وہ اس وقت کہاں ہیں- اسی طرح حالت کی بہتری یا ابتری کے لئے یہ کہنا کہ آج موسم اچھا ہے یا اچھا نہیں ہے-      ترکستان سے باہر مقیم ہر ایغور فرد کی یہی کہانی ہے- 
لوگوں نے مجھے بتایا کہ انکے رشتے داروں نے خود انھیں فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ کرنے سے منع کیا ہے- انکے نمبروں کو اپنے موبائل اور وی چیٹ ایپ سے ڈیلیٹ کر دیا ہے-


 پچھلے دنوں مختلف مغربی شہروں میں احتجاجی کے نتیجے میں چند ایغور فرد کو کسی ذریعے سے انکے گھر والوں کی تصویر موصول ہوئی ہیں- لیکن ان خوش قسمتوں کی تعداد بھی بہت کم ہے- کینیڈا میں مقیم  ایک ایغور خاتون نے بتایا کہ انہیں انکے خاندان کا ایک گروپ فوٹو موصول ہوا ہے لیکن اس گروپ فوٹو میں خاندان کے کچھ ممبر موجود نہیں ہیں بلکہ ان کی جگہ کچھ دوسرے چہرے نظر آ رہے ہیں- انہوں نے مجھے تصویر دکھائی اور یہ بھی بتایا کہ فلاں فلاں میرے خاندان کے ممبر نہیں لیکن نئے چہرے  مسنگ یا لا پتہ ممبرز کی عمروں کے ہیں- انکا کہنا تھا کہ مجھے شک ہے کہ تصویر میں مسنگ ممبرز اب زندہ نہیں ہیں- انکا یہ بھی کہنا تھا کہ انکے والدین دو سال پیشتر انکے چار بھائیوں کو ترکستان چھوڑ کر ان سے ملنے کینیڈا آئے تھے- یہ انھیں کینیڈا میں ہی روکنا چاہتی تھیں لیکن والدین اس ڈر سے کینیڈا میں نہیں رکے کہ انکے بھائیوں کو گرفتار کر لیا جائے گا-  لیکن والدین کے چین پہنچنے کے بعد سے نہ اسکا بھائیوں سے کوئی رابطہ ہے نہ ہی والدین سے- 
حمیداللہ ترسون کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ  یہ ہے کہ چینی حکومت کسی ایغور کو پاسپورٹ اشو نہیں کر رہی- ایسے میں بلجیم ایمبیسی کا کہنا ہے کہ چینی حکومت ٹریول پرمٹ پر بھی سفر نہیں کرنے دیتی-  عبدالحمید ترسون کی کہانی ہزاروں نہیں لاکھوں ایسے خاندانوں کی درد ناک کہانیوں کو اجاگر کر رہا ہے جو چین میں گرفتاریوں، الیکٹرونک نگرانی، ظلم و جبر اور دوسرے درجہ کی زندگی کو ترک کر کہ کسی اور ملک میں محفوظ اور با عزت زندگی، مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزرنا چاہتے ہیں لیکن چینی حکومت انہیں چین سے نکلنے کا موقع دینے کے لئے بھی تیار نہیں- چینی حکومتی ذرائع کے مطابق  فیملی کو سنکیانگ اس لئے منتقل کیا گیا ہے کہ انکے پاسپورٹ بنا دئیے جائیں- جبکہ ٢٠١٧ میں تمام ایغور افراد سے انکے  لیے گئے ہیں-   

 
اس سے بڑھ کر واشنگٹن میں مقیم ایغور رائیٹر اور سابق بزنس مین طاہر امین نے مجھے بتایا کہ اسکی بیوی نے اس سے در خواست کی کہ وہ اسے طلاق دے دے کیونکہ طاہر سے ازدواجی رشتے کی صورت میں اسے کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا- طاہر شِنجَِنگ یونیورسٹی سے  انگلش لٹریچر میں ماسٹرز اور ایک سیکولر ایغور تھا- اسکا تعلق ایک خوش حال بزنس فیملی سے تھا جو فارما سیوٹیکل بزنس میں تھی اور اس نے ایغور عوام کی ٹیکنولوجی ایجوکیشن کے لئے دو اسٹارٹ اپس کا بھی آغاز کیا تھا-  اسکے علاوہ یہ ایک انگریزی میگزین کا ایڈیٹر بھی تھا- طاہر ایغور تاریخ اور ثقافت پر ایک کتاب کا مصنف بھی تھا- لیکن ٢٠١٦ میں اسے اسکے چینی دوستوں نے اسے بتایا کہ ایغور انٹلیکچوئل حضرات، مصنفین، مورخین، اور آرٹسٹس کے خلاف کریک ڈاون ہونے والا ہے- گرفتاری سے بچنے کے لئے طاہر نے بیرون ملک مختلف یونیورسٹیز میں ایپلائی کرنا شروع کیا - با لاَخر اسے اسرائیل کی حیفہ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور یہ فروری ٢٠١٧ میں اسرائیل اور وجھان کچھ عرصہ گزار کر واشنگٹن پہنچ گیا-   طاہر ایک پانچ سالہ بچی کاباپ ہے جسکی تصویر یہ اپنے موبائل میں رکھتا ہے-        




٣٢ ٤٩٨ ٧٢ ٣٢ ٢٣ 

32 498 72 32 23 
According to recent news in the international media, an Uyghur family, who requested Belgium embassy for Asylum inside the embassy was forced to return to Xinjiang when Beijing's Belgium embassy staff informed Chinese Police of their presence and allowing them to arrest the already scared family. According to the US journal foreign policy, Belgium officials say that Belgium is a small country and cannot face the Chinese pressure. International media and governments are criticizing Belgium for violation of human rights but Belgium is not the first country who has ignored international law. This story highlights two aspects of greater Uyghur persecution. Number one is the portrayal of their escape from China and the other the attitudes of governments toward their persecution.


Rahila 

Rahila gave birth to her third child in Thailand Jail. She now shares a dilapidated flat with ten other individuals including single others and 6 children without parents. Her husband is still detained in Thailand Jail.

When Abdul Mannan got the news that his family has got a Turkish residence, he was very happy. He was separated from his family since he came to Turkey 15 years back. Back home he has one son and one daughter. The daughter was married so he could not apply the residence for her. Abdul Mannan crossed the border of Vietnam and then Cambodia along with his wife and son. Unfortunately, his son was arrested by the Cambodia border police. He immediately contacted the Turkish embassy as his son was now a resident of Turkey according to the documents but the next day Cambodian authorities informed him that they have already extradited his son to Chinese authorities.

Rahila lives in a dilapidated flat in Ljmaan appartment of Turkey's


There are fears that In the past many Muslim governments including Pakistan and Saudi Arabia has deported

China has detained one to three million Uyghurs, a national ethnic group who lives China's Xinjiang autonomous region without any formal charges and trial. Thet are deprived of religious and political rights and are facing worst torture according to the survivors.

But this sensational story of 

مایا متلی پووا 


MAYA MITALIPOVA 

مایا مٹالی پووا : سرد جنگ کے دوران سوویت یونین میں پیدا ہونے والی ایغور سائنٹسٹ  جو امریکا کے معروف تعلیمی ادارے ایم آئ ٹی کی ایک تحقیقی لیب آزادانہ طور پر چلا رہی ہیں- 

تزئین حسن 

ہائی لائٹ 

سوویت روس میں پلنے والی مایا اپنی اسلامی اور ایغور دونوں شانخت پر فخر محسوس کرتی ہیں-
انکے والدین نے قازقستان کے روس سے آزاد ہونے کے بعد قران پڑھنا سیکھا اور مایا اب امریکا میں قران پڑھنا سیکھ 

ہماری آج کی مہمان، ایم آئ ٹی سے تحصیل یافتہ ایغور سائنٹسٹ مایا مٹالی پووا، وسط ایشیائی ریاست قازقستان میں سرد جنگ کے زمانے میں پیدا ہوئیں جب یہ خطہ سوویت یونین کا حصہ تھا- مایا کا تعلق ایک انتہائی تعلیم یافتہ خاندان سے ہے- انکے دادا اور نانا دونوں دوسری جنگ عظیم میں روس کی طرف سے ہٹلر کی فوجوں سے لڑتے ہوئے کم آئے- مایا اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ انکے بڑے ہٹلر کی جینو سائیڈ کے خلاف جدو جہد میں اپنی جان قربان کی- مایا اپنی اسلامی شناخت پر فخر محسوس کرتی ہیں- انکے متعدد ایغور رشتے دار جو سرحد کے اس پاس پار چینی ظلم و ستم سہہ رہے ہیں مایا مسلسل ان پر ظلم کے خلاف جدو جہد میں مصروف ہیں- انکی کہانی سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عمومی تاثر کے برعکس بہت سے مسلمان جنہوں نے سوویت یونین کی حکومت کے ساتھ تعاون کیا- اس کی طرف سے جنگیں بھی لڑیں، جانیں بھی دیں- انکی تعلیمی سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھایا لیکن پھر بھی اپنی شناخت مسلمان اور ایغور کی حیثیت سے برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے- انکے والدین نے روس سے آزاد ہونے کے بعد قران پڑھنا سیکھا اور آج مایا خود امریکا میں قران سیکھ رہی ہیں اور ساتھ ساتھ چین کے قبضے میں محصور مشرقی ترکستان کے ایغور اور ترک نسل کے مسلمانوں کے لئے جدو جہد میں اپنا حصہ بھی ڈال رہی ہیں- مایا روسی، ایغور اور انگریزی تین زبانیں جانتی ہیں- سوویت یونین سے آزادی کے بعد وسط ایشیا کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں- اور انکا پیغام ہے کہ ایغور قوم کی نسل کشی کے خلاف دنیا کو جاگ جانا چاہیے- اگر آج ایغور کے ساتھ یہ ہو رہا ہے اور دنیا خاموش ہے تو کل دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی یہی کہانی دہرائی جا سکتی ہے- 
کاش یہ باتیں بھی کبھی ہماری ٹیکسٹ بکس میں پڑھائی جاتیں تو شاید انتہاپسندی کا راستہ روکنے میں مدد ملتی-
مایا پر تفصیلی مضمون الموسٹ کمپلٹڈ بلاگ میں موجود ہے ان سے چیٹ کی تفصیل کے ساتھ 


ایک سوال مجھ سے تواتر کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ کشمیر، برما، فلسطین اور دنیا کے دوسری مظلوم غیر مسلم اقوام کو چھوڑ کر صرف ایغور قوم کے لئے کیوں لکھتی ہیں ؟ 
؟ پاکستانی الیکشن سے قبل بعض ایڈیٹرز نے اور ان باکس میں بہت سے ساتھیوں نے پاکستانی سیاست پر تجزیہ کے حوالے سے در خواست کی لیکن میں نے معزرت کر لی- چونکہ بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال ہے اس لئے دور کر دیتی ہوں-   

پہلی بات تو یہ کہ میں نے کشمیر، فلسطین، بحرین، مصر، یمن، شامی مہاجرین، کینیڈین قبائل،     



صحافیانہ سفر کی روداد 


ایغور قوم کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ Genocide کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
تزئین حسن 

آج صبح مصمم ارادہ کر لیا کہ فیس بک پر گزرنے والے وقت کو محدود کر کہ ریسرچ پر دھیان دونگی- دنیا بھر میں موجود ایغور اسکالرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کا آغاز آج  صبح  اپنے رننگ روٹین کے بعد بلآخر کر دیا- کوئی پانچ ایغور اسکالرز کو ای میل کر کہ فارغ ہوئی تھی کہ اچانک فون بجا- ورجینیا سے ایغور ہیومن رائٹس پروجیکٹ کی انٹرنیشنل افیئرز کی ڈائریکٹر لوزیا گریو نہ صرف میرا پروفائل چیک کر چکی تھیں بلکہ میڈیم پر میرا کوئی آرٹیکل بھی پڑھ چکی تھیں- انہوں نے چند سوالات پوچھ کر ہرطرح سے تعاون کی یقین دھانی کروائی-

ان سے میرا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ یہ نہیں سمجھتیں کے بڑی تعداد میں ایغور بچوں کو انکے والدین سے الگ کر کہ یتیم خانوں میں منتقل کرنا، ایغور عورتوں کو زبردستی ابارشن اور برتھ کنٹرول استعمال کرنے پر راضی کرنا،  اسکے علاوہ ایک قوم کے کلچر اور زبان کو ختم کرنے کی کوششیں : اسکی مذہبی روایت اور عبادت کے حق سے محروم کرنا  Genocide یعنی نسلل کشی کے زمرے میں آتا ہے؟

انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ ایغور قوم کو Gonocide یعنی نسل کشی ہی کی طرف  لے جانے والے اقدامات ہیں اور جن والدین کو ری - ایجوکیشن کیمپس منتقل کیا گیا، اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ انہیں دوبارہ اپنے بچوں کی شکلیں دیکھنا نصیب ہو گا- لیکن انکا کہنا تھا کہ Genocide تسلیم کرنے کے لئے عالمی  اداروں کی ایپرول درکار ہوتی ہے- انکا کہنا تھا کہ ایغور مسئلے پر عالمی میڈیا اور اکیڈمیا جو کچھ کر رہا ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو کیا جانا چاہیے- انھوں نے میری اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ دنیا Genocide کو روکنے کے بجائے آخری وقت تک تماشا دیکھتی ہے- ابھی بھی دور کھڑے ہوکر تماشا ہی دیکھا جا رہا ہے اور اصل genocide شروع ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے-

انشاللہ کچھ عرصے بعد ہم انہیں فیس بک پر لائیو لیں گے- تزئین حسن 

UYGHUR WIVES OF PAKISTANI 

پاکستانی شہریوں کی اوئیغور بیویاں 
 حالیہ اطلاعات کے مطابق چینی حکومت نا قابل یقین حرکتیں کر رہی ہے-اوئیغور عورتوں کے غیر چینی شوہروں کو انہیں طلاق دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے-  غلام دستگیر نامی پاکستانی کو جو اپنی اوئیغور بیوی کو چھڑانے کاشغر گیا تھا گرفتار کر لیا گیا ہے- اب اسکا موبائل بلاک کا میسج دے رہا ہے- یہ ایک نیا کھیل ہے جو چینی حکومت نے ایسے پاکستانیوں اور غیر چینی افراد کے ساتھ شروع کیا ہے جنکی بیویاں اوئیغور ہیں- کوئی ایک مہینہ پہلے میں نے کچھ اخبارات کی خبریں شئیر کی تھیں جنکے مطابق پاکستان کے کچھ تاجروں نے بیجنگ جا کر کسی سرکاری ادارے میں درخواست کی تھی کہ ہماری  بیویوں کو رہا کیا جائے-  اسکے بعد مجھے چین سے باہر مقیم ایک اوئیغور نسل کے بندے نے بتایا کہ چینی حکومت نے اوئیغور عورتوں کو بغیر کسی جرم اور مقدمہ گرفتار کرنے کے بعد اب ان کے غیر چینی شوہروں کو مختلف لالچ دیکر انہیں طلاق دینے پر مجبور کر رہے ہیں- اسکے علاوہ لاہور کے ایک باشندے جو بہت عرصے سے چین میں کاروبار کر رہے تھے اور ٢٠٠٧ میں ایک ارمچی سے تعلق رکھنے والی ایک اوئیغور خاتون سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے سے تفصیلی انٹرویو سے معلوم ہوا کہ انکی بیگم کو 16 april ٢٠١٧  کی رات چار بجے اچانک گرفتار کیا گیا- انکی نوجوان شریک حیات نہ صرف پڑھی لکھی تھیں اور بزنس میں انکی مدد کرتی تھیں- یہ صاحب لاہور کے رہائشی ہیں- یہ ٢٠٠٧ سے چین میں موٹر سائکلوں کے سپئیر پارٹس کا کاروبار کر رہے تھے- ٢٠١٢ میں انہوں نے ارمچی سے تعلق رکھنے والی ایکنوجوان خاتون سے شادی کی- انکی بیٹی اس وقت اپنی نانی کے پاس ہے - چینی حکومت نے انکا ویزا بڑھانے سے انکار کر دیا ہے-انکا کہنا ہے کہ یہ میاں بیوی انتہائی ماڈرن سیکولر زندگی گزار رہے تھے- انہوں نے اپنی بیگم کی جو تصویر راقم سے شئیر کی اس میں اکہرے بدن کی نوجوان خاتون ٹائٹ جینز اور جیکٹ میں ملبوس ہیں اور سر پر ایک فیشن ایبل ٹوپی پہن رکھی ہے جس سے بال نکل کر بازو تک پھل رہے ہیں- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت کا یہ موقف کہ ہم مذہبی انتہا پسندی کے خلاف کریک ڈاون کر رہی ہیں غلط ہے- چین ایغور افراد کی نسل کو چاہے وووھ مغربی ثقافت پر ہی کیوں نہ عمل پیرا ہو مٹانے پر آمادہ ہے-       


ایغور مسلمان چین سے کیوں فرار ہو رہے ہیں-
سن 2015ء میں تھائی لینڈ حکومت کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ ترکی پہنچنے کے خواہشمند، چین کے ترکی النسل100 یغور مسلمانوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود چینی حکومت کے حوالے کر دیاگیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ان افراد پر چینی حکومت کے بد ترین تشدد کا خطرہ موجود ہے۔ پھر خبر آئی  کہ ایسے ہی چینی مظالم سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے کچھ یغور مسلمان تھائی لینڈ کی ایک جیل سے فرار ہو گئے ہیں اور چینی حکومت ان کی جلددوبارہ گرفتاری پر زور دے رہی  ہے۔ حال ہی میں  مصر سے خبر آئی کہ مصری حکومت نے قاہرہ اور اسکندریہ میں مقیم یغور طلبہ اور کچھ یغور ریستورانوں پر چھاپہ مار کر یغور مسلمانوں کو چینی حکومت کی ایما پر گرفتار کیاگیا۔ یاد رہے کہ تھائی لینڈ اور چین کی سرحد ملتی ہے اور حکومتی مظالم اور مذہبی پابندیوں سے بچنے کے لئے یغور مسلمان ایک دہائی سے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سے ایک کرم فرما نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھی بڑی تعداد میں یغور مسلمان مقیم ہیں۔
چینی حکومت ان جلاوطن مسلمانوں پر علیحدگی پسندی کی تحریک چلانے کا الزام لگاتی ہے۔ دوسری طرف یغور ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے ان پر بے پناہ مذہبی پابندیاں  لگا رکھی ہیں، مساجد میں آنے جانے والوں کی سخت نگرانی ہوتی ہے۔2009  سے  خبریں آرہی  تھیں کہ 60 سال سے کم عمر یغور مسلمانوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، مساجد میں پابندی سے جانے والے نوجوانوں کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ ہوتی تھی۔ پھر2014ء میں خبر آئی کہ نہ صرف رمضان میں روزے رکھنے پر پابندی لگادی گئی ہے بلکہ رمضان کے دوران سرکاری دفاتر میں زبردستی کھانا کھانے پر مجبورکیا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے اس پر ایک مذمتی قرارداد بھی پاس کی تھی، معلوم نہیںکسی مسلم ملک کو اس کی توفیق ہوئی یا نہیں۔ پھر ایک اور خبر آئی کہ سنکیانگ کے صوبے میں نقاب یا حجاب میں ملبوس خواتین پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کرسکتیں۔کاشغر شہر کے تاریخی مرکز کو جہاں تقریباً 100 فیصد مسلمان رہتے تھے، عرصہ سے مختلف بہانوں سے خالی کروایا جارہا تھا کیونکہ حکومت کو شک تھا کہ یہاں علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک موجود ہے جبکہ مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ چین کا رویہ ان مسلمانوں کو بغاوت پر مجبور کررہا ہے۔
ایک فرنچ صحافی، جس نے ایک ٹورسٹ گروپ کے ساتھ 2014ء میں سنکیانگ کا سفرکیااور ایک تفصیلی ڈاکومنٹری بنائی تھی، کے مطابق چین نے پچھلی تین چار دہائیوں میں بہت بڑی تعداد میں چینی نسل کے باشندوں کو بھاری مراعات دیکر سنکیانگ میں منتقل کیاہے۔ ان میں بڑی تعداد سابق فوجیوں کی بھی ہے۔ صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں سنکیانگ کی بہترین زمینیں اور ہتھیار دیکر ان سے یغور مسلمانوں کی نگرانی کا کام بھی لیا جا رہا ہے اور وقت پڑنے پر ان سے ملٹری سروس بھی لی جاسکتی ہے۔ چینی حکومت کے نئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سنکیانگ میں آٹھ ملین یغور جبکہ11ملین چینی نسل کے باشندے موجود ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہاں چینی نسل کے باشندوں کا اکثریت میں ہونا پچھلی سات دہائیوں سے چینی حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ عملاً صوبے کا سارا انتظام چینی نسل کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے کیونکہ یغور باشندوں  پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔ یہی نہیں چین کے دوسرے شہروں میں جہاں یغور بزنس یا ملازمت کے لئے مقیم ہیں، انہیں بھی بیجا پابندیوں اور  امتیازی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ پچھلے دنوں یغور باشندوں کو چین کے کاروباری مرکز شنگھائی سے نکلنے کا حکم ملا جہاں بڑی تعداد میں  یغور مسلمان ملازمت  اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم تھے۔


کیا ایغور دہشت گرد ہیں؟

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سنکیانگ کے مسلمانوں میں پچھلے ستر سالوں سے چین کے قبضے کے خلاف شدید بیچینی پائی جاتی ہے جس نے متعدد مواقعوں پر احتجاج کی صورت اختیار کر لی ہے- یہ احتجاج پولیس تشدد کے بعد اکثر مواقعوں پر تشدد کی کاروائیوں میں بھی بدل گئے ہیں جنھیں چینی حکومت دہشتگردی کا نام دیتی ہے اور اسکا تعلق عالمی فورمز پر اسلامی جہاد سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے-

آسٹریلیا، امریکا، اسرائیل، اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے متعدد غیر جانبدار محقیقین اور مصنفین جنہوں نے چین اور سنکیانگ میں مقیم رہ کر اس مسئلے پرتحقیق کی کا کہنا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ اوئیغور قوم میں چین سے علیحدگی کے جذبات پائے جاتے ہیں اور آبادی کاایک بہت قلیل گروہ اپنے مسائل کے پرامن حل سے مایوس ہو کر تشدد  کی طرف بھی مائل نظر آتا ہے- لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہاتشدد پسندی  کے اس فروغ میں اسلامی انتہا پسندی کے بجائے چین کی غیر منصفانہ پالیسیوں کا ہاتھ ہے- دوسرے سنکیانگ میں تشدد کی جتنی بھی کاروائیاں ہوئی ہیں ان میں سے کسی کا تعلق بھی کسی جہادی نیٹورک سے ہونے کے شواہد نہیں ملتے- چین جنھیں دہشت گردی کی کاروائیاں کہتا ہے وہ دراصل چاقو سے حملے ہیں- ٢٠٠٩ کے ارمچی فسادات میں ایغور افراد نے چاقو کا استعمال کیا لیکن محقیقین اس پر بھی متفق ہیں کہ یہ فسادات پر امن احتجاج پر چینی پولیس کی فائرنگ اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے با عث پیش ائے- انکا تعلق دہشت گردی کے کسی نیٹورک سے نہیں- وقتی اشتعال اور غم و غصے کے نتیجے میں یہ واقعات دہشت گردی کی تعریف پر پورا نہیں اترتے اور چین کی بارڈر سیکورٹی کی سخت پالیسی کی وجہ سے ایغور افراد کا کسی جہادی نیٹ ورک سے تعلقات بھی امر محال ہے لیکن ایغور افراد کے دللوں میں آزادی کی شمع جل رہی ہے اور چین کے بڑھتے ہوے مظالم اس آگ کو مزید ہوا دے رہا ہے-
نائن الیون کے بعد سے چین نے ایغور کے لفظ کو کامیابی کے ساتھ جہادی نیٹورکس کے ساتھ جور دیا تھا- بعض مغربی ماہرین نے یہ بھی دعوا کیا کہ بری تعداد میں ایغور افراد شام میں، افغانستان اور  پاکستان ٹریننگ کے لئے موجود ہیں- پاکستان میں موجود ایغور افراد نے راقم کو بتایا کہ ہم پر پاکستانی شہریت کے باوجود پاکستانی حکومت کا بہت دباؤ ہے- ہمیں بغیر کسی وجہ کے ایجنسیز جب چاہیں لے جاتی ہیں اور جہادی تنظیموں سے ہمارے تعلق کے بارے میں تفتیش کرتی ہیں- اسکے علاوہ الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ٢٠٠٦ میں چین نے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈال کر ایغور حاجیوں کے لئے اسلام آباد میں موجود ایک گیسٹ ہاؤس بھی بند کروا دیا- نائن الیون کے بعد امریکی فوجوں نے چند ایغور افراد کو افغانستان سے گرفتار کیا اور انہیں گوانتا نامو لے گئے لیکن تفصیلی تفتیش سے معلوم ہوا کہ ان ایغور افراد کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ چین کے جبر سے بچنے کے لئے افغانستان کے راستے فرار ہونا چاہ رہے تھے- بعد اذان امریکا نے چین کے احتجاج کے باوجود ان افراد کو کچھ دوسرے ملکوں میں منتقل کر دیا- جہاں تک شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ اور دا عش کے ساتھ ایغور افراد کی ٹریننگ کا تعلق ہے تو رقم کو ایک سے زیادہ ایغور سورس نے بتایا کہ یہ چین کی ایک سازش ہے- ایک زمانے میں ایغور افراد کو بہت آسانی سے کثیر تعداد میں جعلی پاسپورٹس تقسیم کے گئے- چینی بارڈر سیکورٹی اتنی سخت ہے کہ چینی حکومت کی مرضی کے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا- ان افراد کو سیکورٹی ہلکا کر کہ آسانی سے شام اسمگل کروایا گیا تاکہ انکی دا عش کے ساتھ وابستگی کو انکی دہشت گردی کے ثبوت کے طور پر بد نام کیا جا سکے- اگر چند سو کے قریب ان افراد کی شام میں دا عش کے ساتھ موجودگی کو ماں بھی لیا جائی تو یہ بات محال نظر آتی ہے کہ یہ افراد واپس آ کر چین میں کاروایاں کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں- یہ مجبور اور  بے بس  قوم سے صرف چین کے مظالم سے نجات چاہتی ہے- اور اسکے لئے یہ ہر طرف دیکھ رہے ہیں مگر افسوس کے غیروں سے زیادہ اپنے ان کی بےبسی اور ان پر ہونے والے مظالم سے نظر چراتے ہیں اور جنکو یه نظر آتے ہیں، وہ بھی ایک دوسرے کو مصلحت کے تحت خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہیں- حکومتوں کو تو چھوڑیں، ہماری مذہبی تنظیمیں جو سارا سال شام، فلسطین، برما اور کشمیری مسلمانوں کی حالت زار پر آہیں بھرتی ہیں ہیں مگر یمن اور چین کی بات آئے تو انکی زبانوں کو بریک لگ جاتا ہے- آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کے لئے تو ساری مذہبی قیادت حکومت کو للکارتی رہی لیکن میرے سرکار کی امت کے ایک کروڑ سے زائد افراد اکیسویں صدی میں جس اذیت ناک صورتحال کا شکار ہیں اس پر چند الفاظ بی کہنا انکے لئے مشکل ہے-

چینی حکومت دہشت گردی کے بہت سے واقعات جن میں خود اوئیغورآفیسر مارے گئے ہیں کا الزام ایغور دہشت گردوں پر لگاتی ہے- اس بات کے کوئی شواہد نہیں کے انکا قاتل کون تھا لیکن سرکاری میڈیا اور اسکے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا بھی چینی حکومت کے موقف کو ماضی میں سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ شائع کرتا رہا ہے- یہاں تک کہ نک ہولڈ سٹوک کا کہنا ہے کہ سی این این اور فاکس نیوز نے ملیشین ایئر لائنز پر حملے کا شبہ بھی بغیر کسی ثبوت کے ایغور دہشت گردوں پر ڈال دیا تھا جبکہ عالمی ادارے اور میڈیا اچھی طرح اصل صورت حال سے واقف ہے-


سنکیانگ کی اوئیغور آبادی پر متعدد کتابیں اور ریسرچ پیپرز لکھنے والے محقق جیمس ملورڈ کی ٢٠٠٤ میں امریکا کے ایک تھنک ٹینک کے لئے لکھی جانے والی پچاس صفحوں پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق سنکیانگ میں چینی حکومت کے خلاف سب سے بڑی اور پہلی بغاوت اوئیغور یا ترک نسل کے مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہان چینیوں نے 1967-68 میں کی تھی جس نے تقریباً چالیس دن تک خانہ جنگی کی کیفیت اختیار کے رکھی- لیکن چین نے انکے خلاف بہت ہلکہ ہاتھ رکھا-  اسرائیلی محقق یٹزک شہور امریکا کے رابرٹ سین، اور متعدد دوسرے محقیقین کا کہنا ہے کہ ایغور عوام میں جتنی بیچینی ہے اسکے مقابلے میں احتجاج اور تشدد کی کاروایاں بہت کم رہی ہیں اور ٢٠٠٩ سے تشدد کی کاروایوں میں بہت کمی آئی ہے.


پاکستانی یا دیگر مسلمان ایغور عوام کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟

  دینے کا کر سکتے ہیں اور اسکے لئے ہمیں خود اس مسئلے کے بارے میں مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنی ہوگی-  ایغور مسلمانوں کے بارے میں  ایک  فیس بک پیج  بنایا گیا ہے-  اس پیج پر ویغور مسلمانوں کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے  -  جو لوگ سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں وہ ایغور قوم کے بارے میں بی بی سی اردو  اور دیگر  مین  سٹریم اخبارات میں شائع ہونے والی کہانیوں کو  سوشل میڈیا پر پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں- اسکے علاوہ جنھیں الله نے تحریری صلاحیت دی ہے وہ اسے استعمال کر کہ علاقائی اور قومی اخبارات میں  اس موضوع پر مضامین اور مراسلے لکھ سکتے ہیں-
 اور ہمارے ساتھ دنیا اور آخرت میں آسان معاملہ کرے-



اپنے ملکوں میں موجود چینی سفارت خانوں اور کونسلیٹ میں پر امن طریقے سے جمع ہو ر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے-

اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر چینی مسلمانوں سے رابطے کی کوشش کریں-





Batool 



چینی مسلمان کی نسل کشی اور ہمارے کرنے کے کام  


تزئین حسن
ذیل کا مضمون  راقم کے پچھلے چار مہینوں  میں لکھ گئے  متعدد مختصر اور  طویل مضامین پر مشتمل ہے- ،چونکہ ایک نشست میں نہیں لکھ گئے ، اس لئے قاری کو بے ربطی محسوس ہو سکتی ہے- ایغور سورسز سے ذاتی انٹرویوز اس سے قبل کہیں شائع نہیں ہوے -

تزئین حسن

یہ 2012ء کی بات ہے، کراچی کے ایک مہنگے اور معیاری اسکول کے اسٹاف کے ایک ٹریننگ سیشن کے دوران میں نے بر سبیل تذکرہ پوچھ لیا کہ اقبال کا یہ شعرکس کس نے سن رکھا ہے؟
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لیکرتا بہ خاک کاشغر
تمام شرکاء  کے ہاتھ کھڑے ہوگئے۔ میرا اگلا سوال تھاکہ آپ میں سے کون جانتا ہے کہ کاشغر کہاں واقع ہے؟ ہم پاکستانی اپنے پڑوس میں بسنے والے مسلمانوں سے اتنا بےخبر رکھے گئی ہیں کہ تقریباً تین درجن شرکاء جن میں سے بیشتر او اور اے لیول کی کلاسز بھی لیتے تھے، میں سے کوئی بھی اس سوال کا جواب نہ دے سکا کہ کاشغر جس کا حکیم الامت نے اپنے معروف ترین شعر میں ذکرکیا ہے، موجودہ چین کے سرحدی صوبے سنکیانگ  میں واقع ہے۔ چینی قبضے سے پیشتر یہ مشرقی ترکستان کہلاتا تھا۔ مقامی مسلمان اب بھی اسے مشرقی ترکستان ہی کہنے پر اصرار کرتے ہیں-  مغربی سیاح اسے  ثقافتی  اعتبار سے وسط ایشیا کا سب سے محفوظ  شہر قرار  دیتے تھے جو صدیوں بعد اسی طرز تعمیر کا حامل تھا۔ مجھے سن ٢٠٠٩ میں چین میں اسلام کی آمد اورمسلمانوں کے بارے میں لکھنے کا اتفاق ہوا تو میں یو ٹیوب پر قدیم شہر کی گلیاں اور اسکے باسیوں کی سادہ زندگی کو دیکھ کر اس کے فسوں میں کھو کر رہ گئی اور مجھے اعتراف ہے کہ آج تک اس ان دیکھے بلکہ صرف یوٹیوب پر دیکھے شہر کے عشق میں گرفتار ہوں-


مشرقی ترکستان کی مختصر تاریخ 
وسط ایشیا جسے آج بھی وہاں کے مسلم باسی ترکستان کہتے ہیں دو حصوں میں تقسیم ہے- مغربی ترکستان روس سے آزاد شدہ وسط ایشیائی ریاستوں پر مشتمل ہے جبکہ مشرقی ترکستان کو چین میں سرکاری طور پر ١٩٥٥ میں سنکیانگ خود مختار علاقے کا نام دیا گیا لیکن تا حال اسے  چین نے لاکھوں ترک نسل کے عوام کے لئے ایک اوپن ایئر قید خانہ بنا رکھا ہے- یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ اسلامی فوجیں آٹھویں صدی کے آغاز میں ہی دور امیہ میں ترکستان بلکہ اس سے آگے بڑھ کر چین کی سرحدوں تک پہنچ گئیں تھیں-  آٹھویں صدی میں قتیبہ بن مسلم کی سرکردگی میں وسط ایشیا اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا تھا- قرون اولیٰ کے معروف مورخ طبری کے مطابق قتیبہ بن مسلم کاشغر تک پہنچ گئے تھے مگر بعد ازاں حجاج بن یوسف کی وفات کی خبر سن کر پلٹ گئے- یہ بھی یاد رہے کہ خلافت عباسیہ کے دور میں چین کی سرحدوں پر جیتی جانے والی  جنگ طلاس کے دوران گرفتار کیے گئے دو چینی قیدیوں کے ذریعے ہی کاغذ سازی کی صنعت چین سے بغداد پہنچی- اس کاغذ سازی کی صنعت  کے مؤثر استعمال، عباسی حکمرانوں کی غیر متعصب علم دوستی، فارس کے علماء کی فراست، یونان کے فلسفہ، ہندوستان کی حکمت کے امتزاج سے اسلامی دنیا میں اس علمی اور فکری انقلاب کی بنیاد رکھی گئی جس نے بحر احمر سے بحر ہند اور بحر روم سے ایٹلانٹک تک علم کی روشنی بکھیر دی- غیر جانبدار یوروپی مورخین یورپ کی نشاط ثانیہ کو بڑی حد تک اسلامی دنیا کے اس انقلاب کا مرہون منت مانتے ہیں-  اس حوالے سے  جغرافیائی تبدیلیاں نہ لانے کے  باوجود بھی اس علاقے میں لڑی جانے والی سن 751  کی جنگ طلاس کو دنیا کی تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے- رقبے میں فرانس سے دگنا، ایشیا اور یورپ کے سنگم اور قدیم شاہراہ ریشم پر واقع مشرقی ترکستان ہی وہ علاقہ ہے جسکے ذریعے بدھ مت، مسیحیت اور اسلام چین پہنچے- یہ آج بھی وسط ایشیا کی سب سے محفوظ ثقافتی نشانی ہے-  انڈیا، پاکستان افغانستان، کرغیزستان، قزاقستان، تاجکستان، روس، اور منگولیا سے  خطے کی متصل  سرحدیں اسے اسٹریٹجک اعتبار سے دننیا کے اہم ترین خطے کا درجہ دلواتی ہیں جو بیک وقت مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا،   یورپ سے رابطے میں کنجی کی حیثیت رکھتا ہے- یہاں کی منفرد اور محفوظ وسط ایشائی ثقافت کے ساتھ ساتھ یہاں کی قدرتی خوبصورتی بھی اسے سیاحت کے لئے پر کشش علاقے کا درجہ دیتی ہے- یہ چین کی ڈومیسٹک تیل اور گیس کی پروڈکشن کا سب سے بڑا مرکز ہے- اسکے علاوہ روس اور وسط ایشیا سے جو تیل برامد کیا جاتا ہے وہ بھی یہیں سے گزر کر چین کے صنعتی علاقوں تک پہنچتا ہے- صوبے پر چین کا کنٹرول چین کی معیشت کے لئے ناگزیر ہے- اس علاقے میں تیل اور دیگر معدنیات کی موجودگی اور یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر خطوں کے درمیان اسکی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے چین کسی قیمت بھی اسے کھونا نہیں چاہتا- چین کے حالیہ عالمی بیلٹ اینڈ  روڈ منصوبے کے حوالے سے جو پاکستان سمیت دنیا کے اڑسٹھ ممالک میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد انفراسٹرکچر منصوبوں پر مشتمل ہے، یہ علاقہ ناگزیر ہے- لیکن تجا نگاروں کے مطابق علاق کی اسٹریٹجک اہمیت، معدنیات  اور علمی انفراسٹرکچر منصوبہ یہاں کی  مسلم آبادی  کی بد قسمتی کا باعث بن گیا ہے اور چین کا جبر اس زمین کے مالک ایغور آبادی  پر اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے اور آج وہ نا قابل  بیان اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں-
سنکیانگ میں  ایک اندازے کے مطابق 15 ملین ترک نسل کے مسلمان بستے ہیں جن میں سے اکثریت ایغور نسل کی ہے جو تیروہیں صدی سے یہاں آباد ہیں اور چین کے قبضے سے قبل علاقے کی آبادی کا ٩٥ فیصد تھے۔ پچھلی چند دہائیوں میں چین نے ان مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان کی عورتیں آج بھی نقاب اور حجاب کرتی ہیں۔ ان کے بازاروں میں مشرق وسطیٰ کے بازاروں کی طرح مصالحے، اشیائے خورو نوش اور تازہ تندور کی روٹیاں، اور مویشی کھلے عام فروخت ہوتے ہیں۔  کچھ عرصہ قبل چینی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نے ٹیڑھی میڑھی گلیوں پر مشتمل کاشغر شہر کا تاریخی مرکز سینکڑوں سالوں سے یہاں رہنے والے مسلمانوں سے بزور خالی کروا لیا اور اب اسے سیاحتی نقطہء نظر سے ڈیولپ کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اس  علاقے کی تنگ گلیوں میں عورتیں حجاب پہن کر اور داڑھی والے مرد ٹوپیاں پہن کر روز مرہ کے کام انجام دیتے نظر آتے تھے۔  یہاں کی ثقافت چین سے اس قدر مختلف ہے کہ یہ وسط ایشیا کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے-  یہ  چینی زبان نہیں بولتے، بلکہ وسط ایشیا کی دوسری ریاستوں کی طرح ترکی زبان کا ایک مخصوص ورژن بولتے ہیں- ایغور زبان آج بھی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے- یہاں کے شہری علاقوں میں ترک نسل کے ایغور، قازق، کرغیر کے ساتھ ساتھ اب ہان نسل کے چینی بھی برابر کی  تعداد میں  آباد ہیں کیونکہ چین نے قبضے کے بعد باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہرسال لاکھوں کی تعداد میں چین کی اکثریتی ہان نسل کے لوگوں کو یہاں ملازمتیں اور بہتر مراعات کے ساتھ بسایا ہے- چینی ہان نسل اور ترک نسل کے لوگوں میں اسکولوں ہسپتالوں ملازمتوں ہر جگہ بے پناہ تفریق رکھتی جاتی ہے- ترک نسل کو حقارت اور شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا- ان پر ناقابل یقین مذہبی پابندیاں  عائد کر دی گئی ہیں جنکا اکیسویں صدی کے کسی ترقی یافتہ ملک میں تو درکنار ت افریقہ کے کسی دور دراز ملک میں بھی تصور تک نہیں کیا جا  سکتا- اسکی وجہ تجزیہ نگار یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ہے کہ چین یہاں کے عوام میں علیحدگی کے جذبات سے خوفزدہ ہے- مسلم دنیا سے گھرے ہوے اس علاقے میں آج ترک قوم کی ثقافت اور انہیں جوڑنے والی قوت اسلام کو خطرہ سمجھ کر اسکی مذہبی اور ثقافتی نشانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کہانی تحریر کی جا رہی ہے لیکن صورت حال کچھ ایسی ہے کہ
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے  
 ہم وہ بے حس اور بد قسمت مسلمان ہیں جو چین کے پڑوس میں رہتے ہوے فلسطین، برما، کشمیر اور شام پر آہ و بکا کرتے ہوے ان مظلوم مسلمانوں کی بے بسی سے بےخبر ہیں-
 مغربی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق ، ٢٠١٦ سے چینی حکومت بڑی تعداد میں اوئیغور شہریوں کو کیمپوں میں منتقل کر رہی ہے جہاں انہیں بد ترین جبر اور تشدد کا سامنا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی تعداد ایک سے تین ملین سے بتاتی ہیں۔  کیمپوں سے باہر بھی ایغور باشندے آزاد نہیں- مغربی ذرائع ابلاغ اور جلاوطن یغور باشندوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے  یغور مسلمانوں کی کڑی نگرانی ہو رہی ہے، کسی بھی مذہبی سرگرمی میں حصہ لینے پر یغور مسلمانوں کو گرفتار کرکے کیمپوں میں پہنچا دیا جاتا ہے، ان کیمپوں سے اب تک بہت کم خوش نصیبوں کو نکلنے کا موقع ملا ہے،  جو چند افراد نکلنے میں کامیاب ہوئے،انہوں نے جنسی اور جسمانی تشدد، جبری ذہن سازی اور بنی نوع آدم کو چینی کمیونسٹ پارٹی کا غلام بنانے کی کی ہولناک داستانیں سنائی ہیں۔ کمیونسٹ حکومت کا کہنا ہے کہ چین کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندوں سے پاک کرنے کے لئے یہ اقدام ضروری ہے- ان کیمپس کے باہر چین میں رہو تو چینی بن کر رہو کا نعرہ بھی دیکھا گیا ہے- اب حالیہ اطلاعات کے مطابق کچھ حراستی کیمپوں کو لیبر کیمپس میں بدلہ جا رہا ہے جہاں ان بےبس انسانوں کو انکے گھروں سے دور کر کہ ان سے غلاموں کی طرح جبری کام لیکر چین اپنی ایکسپورٹ انڈسٹری کو مہمیز دینے کی تیاری کر رہا ہے- عالمی معیشت میں چین کی حسیت اکسیجن کی طرح گردانی جاتی ہے- ایسے میں مشرق وسطیٰ ہو یا جنوبی ایشیا، شمالی امریکا ہو یا مغربی یورپ سب چین کے معاشی دباؤ تلے اس طرح دبے ہوے ہیں کہ اگر کوئی آواز نکلتی بھی ہے تو زبانی کلامی شرم دلانے سے آگے مشکل ہی بات بنتی ہے- پھر بھی مسلمان ممالک کے مقابلے میں اقوام متحدہ، مغربی یورپ اور شمالی امریکا کی حکومتیں اس پر بھر پور احتجاج کر رہی ہیں- اقوام متحدہ کی طرف سے چین کو فوری طور پر ان کیمپوں کو بند کرنے کا بیان جاری کیا گیا ہے-   
  
راقم کو اس موضوع پر تحقیق کے دوران مذہب اور ثقافت پر پابندیوں، بغیر جرم اور مقدمہ قید و بند، بے رحمانہ جنسی تشدد، معاشی جبر، بچوں کو والدین سے الگ کرنے، زبردستی ابارشن اور برتھ کنٹرول کے استعمال، ایغور عورتوں کی چینی مردوں سے زبر دستی شادیایوں کی ایسی کی روح فرسا داستانیں جنھیں بیان کرنے سے الفاظ قاصر ہیں- کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں کے مصداق صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ کسی کے جنازے میں سورہ فاتحہ یا قرآن مجید کی کوئی سورت پڑھنا اور اپنے بچے کا نام ’محمد‘ رکھنا، موبائل پر غیر ملک میں مقیم کسی دوست یا گھر والے کے رابطے کی موجودگی، شراب اور سؤر کے گوشت سے پرہیز، موبائل پرقران کریم کی کوئی ایپ رکھنا بھی ایسے جرائم ہیں جس پر حراستی کیمپوں میں پابند سلاسل کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسا ظلم اسرائیل اور کشمیر میں بھی نہیں ہو رہا، وہاں مسلمانوں کو کم از کم اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزرنے کی آزادی ہے۔ 
مگر یہ ظلم آج سے نہیں ہو رہا، راقم کے براہ راست انٹرویوز، مغربی محقیقین کے ریسرچ پیپرز اور کتابوں کے مطابق ایغور باشندے سن 1949 میں چین کے قبضے کے بعد سے شدید مذہبی پابندیوں، معاشی جبر اور استحصال کا شکار ہیں- میرے زیر مطالعہ کتب، ریسرچ پیپرز، انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس نوے کی دہائی سے لیکر حالیہ برسوں میں لکھی گئیں ہیں جو چینی قبضے سے لیکر حالیہ برسوں تک چینی مظالم کی ہولناک کہانیاں سناتی ہیں-

اسکے علاوہ کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ایک چینی طالب علم نے ا حراستی مراکز کی تعمیر کے لئے اخبارات میں شائع ہونے والے ٹینڈروں، ملازمت کے اشتہارات کو سٹیلائٹ ڈیٹا سے ملا کر درجنوں حراستی مراکز کی معلومات کو اکٹھا کیا- بعد ازاں بڑی تعداد میں مغربی اداروں کے محقیقین نے بھی اس سمت میں کام کیا- بلاخر مہینوں انکار کرنے کے بعد چین نے اکتوبر ٢٠١٨ میں حراستی مراکز کی موجودگی کا اقرار کر لیا ہے- چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حراستی مراکز معمولی جرائم میں ملوث لوگوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے قائم کے گئے ہیں-  لیکن جلا وطن ایغور افراد کے بیانات کے مطابق یہاں بغیر کسی جرم یا الزام کے ڈاکٹرز، مورخین، انٹلیکچوئل حضرات، یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز، یہاں تک کہ علمی کھیلوں میں چین کو تمغے دلوانے والے کھلاڑی اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایغور شہری بے انتہا اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں- اس اذیت میں انکے آزاد گھر والے یہاں تک کہ بیروں ملک مقیم جلا وطن ایغور بھی شریک ہیں جنھیں یہ تک نہیں معلوم کے انکے پیارے کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں-  

راقم کو اکتوبر ٢٠١٨ سے جنوری ٢٠١٩ تک پاکستان، بلجیم، امریکا، ترکی اور کینیڈا میں اوئیغور افراد سے تفصیلی انٹرویوز کرنے کا موقعہ ملا جن میں ایک چوالیس سالہ قازق شہری عمر بیکالی ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو کیمپ سے رہا ہوئے  اور بڑی تعداد میں مغربی ذرائع ابلاغ تک کیمپ کی اندرونی حالات کی تفصیلات پہنچانے میں کامیاب ہوے- یاد رہے ٢٠١٦ سے جاری اس کریک ڈاون کے دوران حراست میں لئے گئے لاکھوں افراد میں سے صرف چند غیر ملکی رہا کیے گئے ہیں جن میں اکثریت قازقستان کے اوئیغور نسل کے شہریوں کی ہے- انکا کہنا ہے کہ "کیمپوں میں تشدد غیر انسانی اور نا قابل برداشت" ہوتا ہے- اوئی غور افراد کو جانوروں کی طرح زنجیریں بندہ کر رکھا جاتا ہے، انھیں کھانے اور سونے سے محروم رکھا جاتا ہے اور اس حد تک پیٹا جاتا ہے کہ انکے جسم لہو لہان ہوکر سوج جاتے ہیں- انکا کہنا ہے کہ انہیں چار دن تک لٹکا کر رکھا گیا کیونکہ میں نے کمیونسٹ پارٹی اور چینی صدر کی شان میں گانے سے انکار کر دیا- انکا کہنا ہے ذہنی تکلیف اتنی زیادہ ہے کہ رہا ہونے کے بعد بھی اس ظلم کی وجہ سے میں رات کو سو نہیں سکتا- زیر حراست افراد کو کھانا لینے سے پہلے چینی صدر زی پنگ کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے- چینی قوم اور کمیونسٹ پارٹی کی محبت میں گانے گانا پڑتے ہیں-  اپنی زبان بولنے کی اجازت نہیں- چینی زبان کے اسباق وقت پر یاد نہ کرنے پر اس حد تک تشدد کیا جاتا ہے کہ کیمپوں میں خود کشی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں- راقم نے جب ان سے رابطہ کیا یہ جاپان میں تھے اور اس روز جاپانی پارلیمنٹ میں انکی سماعت تھی- انگریزی واجبی ہونے کی وجہ سے زیادہ تبادلۂ خیال ممکن نہیں تھا- یہ تفصیل انکے مغربی اخبارات کو دیئے جانے والے انٹرویوز سے لی گئی ہے-

آزاد افراد بھی ان حراستی مراکز میں جانے کے تصور سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ستمبر ٢٠١٨ میں ایغور زبان کے سرکاری اخبار کے ایڈیٹر نے آٹھویں منزل سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی- ریڈیو فری ایشیا کے مطابق اسکےامریکا میں مقیم جلا وطن سبق کولیگ نے بتایا کہ اسے تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا- کولیگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ با لکل سیاسی آدمی نہیں تھا لیکن اس اہم منصب پر فیض ہونے کے با عث اسے معلوم تھا کہ اگر چینی ایک دفعہ کسی سے تفتیش شروع کر دین تو اسے چھوڑتے نہیں- غالباً اس منصب کی وجہ سے ہی وہ یہ بھی جانتا تھا کہ حراستی مراکز میں کیا ہوتا ہے اور اس نے دنیا سے چلے جانے کو حراستی مراکز پر ترجیح دی- آزاد افراد کو بھی شہروں، قصبوں اور گاؤں میں چینی زبان اور ثقافت کی کلاسیں اٹینڈ کرنی ہوتی ہیں- ان افراد میں بھی خود کشی کے واقعات سامنے آئے ہیں-

عمر واحد نہیں جنہوں نے قید سے چھوٹنے کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ اور مغربی حکومتوں کو باخبر کیا- انتیس سالہ مہر گل ترسون ہیں جنہوں نے امریکی کانگریس کے سامنے کیمپس کی تفصیلات کی چشم   دی-یہ مصر میں اپنے شوہر کے ساتھ تعلیم کے حصول کے لئے مقیم تھیں، اپنے والدین سے ملنے کے لئے ترکستان پہنچیں تو انکے ایک ساتھ پیدا ہونے والے تین بچوں کو ان سے الگ کر دیا گیا اور انہیں کیمپ پہنچا دیا گیا جہاں انہیں انتہائی ہولناک تکالیف سے دو چار ہونا پڑا- جس وقت ترجمان ان کا بیان امریکی کانگریس کو پڑھ کر سنا رہی تھیں، ترسوں برابر میں بیٹھی آنسوؤں سے رو رہی تھیں- انکی باڈی لینگوج اور تاثرات سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو رونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن قید کے دنوں کی یادیں اتنی تکلیف دہ ہیں کہ وہ ضبط نہیں کر پا رہیں-  کیمپ میں حراست کے دوران ترسون کو کسی جرم کے الزام کے بغیر بے لباس کر کہ تفتیش کی جاتی- تفتیش کے دوران انہیں متعدد مرتبہ بجلی کے جھٹکے دیئے گئے- ترسوں کا کہنا ہے کہ میں نے "ان سے التجا کی کہ مجھے مار ڈالو"- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ تشدد سے انکے ہاتھوں سے خون بہنے لگتا- ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک کمرے میں ساٹھ کے قریب خواتین قید تھیں اور ہمیں سونے کے لئے باریاں لگانی پڑتی تھیں- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ وہاں خواتین کو کچھ کیپسولز زبردستی کھلائے جاتے تھے جس کے بعد کچھ خواتین کو خون آنا شروع ہو جاتا تھا اور کچھ کی ماہ واری  بند ہو جاتی تھی- ترسون کو شک ہے کہ یہ sterilization یعنی پیدائش اور افزائش نسل کو روکنے کی دوا ہوتی ہے- عورتوں کی افزائش نسل کی اہلیت ختم کرنے کی کوشش یا زبردستی بچے پیدا کرنے کی کوشش اقوام متحدہ کی جینو سائیڈ یعنی کسی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی تعریف پر پوری اترتی ہے-
چین میں قید سے باہر بھی مسلمان خواتین کو زبردستی برتھ کنٹرول استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے- یہی نہیں ایغور خواتین کو کئی دھائیوں سے زبردستی ابارشن پر بھی مجبور کیا جاتا رہا ہے- امریکا کی ایک یونیورسٹی کی ایغور طالبہ نے راقم کو بتایا کہ کوئی ١٥ سال پہلے اسکی والدہ کو زبردستی نو ماہ کے حمل کے باوجود ابارشن کے لئے ہسپتال لے جایا گیا لیکن اسکے اپنے والد چونکہ اسی ہسپتال میں ڈاکٹر تھے اس لئے انہوں نے بھاری رشوت دیکر جعلی رپورٹ بنوائی اور اسکی چھوٹی بہن کو ڈلیور کروا لیا گیا-  طالبہ کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب ایغور باشندے رشوت دیکر ظلم سے بچ جاتے تھے مگر اب ایسا ممکن نہیں- طالبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسکی ١٥ سالہ بہن زبردستی اسکی والدہ سے الگ بورڈنگ ہاؤس میں رہنے پر مجبور ہے جہاں اسے اپنی زبان بولنے کی اجازت نہیں-  مسلمان بچوں کو اپنے گھروں میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے- وہ صرف ویک اینڈ پر گھر آ سکتے ہیں- یاد رہے شمالی امریکا میں آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے مقامی قبائل کے بچوں کو زبر دستی والدین سے الگ کر کہ ریزدنشیل اسکولوں میں رکھا گیا تاکہ نئی نسل اپنے قبیلے کی ثقافت اور مذہبی روایات سے بےخبر رہے- شمالی امریکا میں مقامی قبائل کی پوری پوری نسلیں ذہنی طور پر ناکارہ ہو گئی ہیں اور سیٹلرز اپنی اس پالیسی کے مقصد میں کامیاب بھی رہے ہیں- مقامی نارتھ امریکی بچوں کو والدین سے الگ کر کہ ریزدنشیل اسکولوں میں رکھا گیا تاکہ انکی نسل کو پوری طرح یوروپی سیٹلرز کی ثقافت میں ضم کیا جا سکے اور زمین کا کوئی دعوے دار نہ رہے- اسی پالیسی پر چین اکیسویں صدی میں عمل درامد کر رہا ہے- یاد رہے اب انسانی حقوق کے تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ برطانوی استعمار کی یہ پالیسی در اصل جینو سائیڈ یعنی نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے-

آسٹریلیا میں اسلامو فوبیا کے خلاف کام کرنے والے صحافی سی جے ویلرمین کا کہنا ہے کہ انہیں آسٹریلیا میں جلا وطن ایغور افراد نے بتایا کہ چینی حکومت ایغور بچوں کو خواہشمند چینی نسل کے لوگوں میں فروخت بھی کر رہا ہے- چین دنیا کا پہلا ملک نہیں جو ایک نسل کو ختم کرنے کل لئے اسکے بچوں کو والدین سے الگ کر رہا ہے تاکہ آئندہ نسل پچھلی نسل کی ثقافت زبان مذہب کو فراموش کر کے ایک نئی نسل میں تبدیل ہو جائے- سن پچاس کی دہائی  میں اسرائیل میں عرب یہودیوں کے بچوں کو اغوا کر کہ یوروپی یہودیوں کو فروخت کرتا رہا ہے- جوناتھن کک اور خود صیہونی تھنک ٹینکس کا تجزیہ یہ کہ بچوں کو والدین سے الگ اس لئے کیا گیا کہ اسرائیل میں عرب ثقافت نہ پنپ سکے اور عرب یہودی نسل صفحہ ہستی سے مٹ جائے- اس پالیسی کا مقصد یہ تھا سن ٢٠١٦ میں اسرائیلی پارلیمنٹ میں اس بات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا- راقم کا ایک تفصیلی مضمون اس موضوع پر ایکسپریس سنڈے میگزین میں آ چکا ہے-

اسکے علاوہ حکومتی ٹینڈرز کے مطابق چینی حکومت بہت بڑی تعداد میں ایغور بچوں کے لئے یتیم خانے تعمیر کر رہی ہے- کیمپوں میں مقیم افراد کے بچوں کو یہاں تک کہ پاکستانی باپوں اور زیر حراست اوئیغور ماؤں کے بچوں کو بھی بڑی تعداد میں والدین کی زندگی میں ہی یتیم خانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے-  یاد رہے سنکیانگ میں بڑی تعداد میں بزنس کے سلسلے میں جانے والے سینکڑوں پاکستانی افراد نے ایغور عورتوں سے شادیاں کر رکھی تھیں- ان میں سے بیشتر عورتوں کو چین نے زیر حراست لے لیا ہے- ماؤں کو بغیر کسی جرم یا الزام زیر حراست میں لینے کے بعد پاکستانی باپوں کے ویزا بڑھانے سے انکار کر دیا گیا ہے- جو باپ چین سے باہر مقیم تھے انہیں ویزا ہونے کے باوجود بارڈرز اور ائرپورٹس سے واپس کر دیا گیا ہے- بچوں کو انکے والدین سے الگ کرنا اور انکی زبان اور ثقافت سے روکنے کی کوشش بھی اقوام متحدہ کی جینو سائڈ کی تعریف پر پورا اترتا ہے- چین نے ایغور زبان کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی ہے- یہاں تک کہ پاکستان میں مقیم ایغور خاندانوں کو جو چین کے قبضے کے بعد سے لیکر اسی کی دہائی تک پناہ گزینوں کے طور پر پاکستان میں وارد ہوے کے کھولے گئے ایک ایغور اسکول کو بھی چین نے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالکر بند کروا دیا- 
نیو یارک سے نکلنے والے ایک اخبار ایپوچ ٹائمز کے مطابق استنبول میں مقیم  چون سالہ قازق خاتون نے جو ١٥ ماہ کیمپ میں گزرنے کے بعد ستمبر میں رہا ہوئیں نے کیمپوں میں بڑے پیمانے پر جنسی زیادتیوں کے واقعات سنائے- انکا کہنا ہے کہ خواتین کو ساری رات ریپ کیا جاتا ہے- مزاحمت کرنے والی خواتین کو  ایک انجکشن لگا یا جاتا  ہے جس سے فوری موت واقع ہو جاتی ہے-  انکا کہنا ہے کہ انہوں نے قید کے دوران ذاتی طور پر دو خواتین کی انجکشن کے ذریعے اموات دیکھیں- عمر بیکالی کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے قید کے دوران مختلف کمروں سے گارڈز کو [ڈیڈ] باڈیز گھسیٹے ہوے دیکھا ہے- ترسون کا بھی کہنا ہے کہ اچانک ساتھ رہنے والی خواتین غائب ہو جاتی تھیں اور پھر انکا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا- خود انکی قید کے دوران انکے کمرے سے نو خواتین غائب ہوئیں- چشم دید گواہوں کے ان بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں بڑے پیمانے پر اموات بھی ہو رہی  ہیں- جن میں زہریلے انجکشن، تشدد، کے علاوہ  صحت و صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے با عث بھی اموات ہو رہی ہونگی جن میں ضعیف اور بیمار افراد جو قید کی صعوبت کی برداشت نہیں کر سکتے میں اموات کا ہونا غیر معمولی بات نہیں- ترسون کا کہنا ہے کہ بعض خواتین ایک برس سے نہائ نہیں تھیں- جیل کے ٹایلیٹ میں بھی کیمرے نسب تھے جنکی وجہ سے قضائے حاجت کی تکمیل بھی انتہائی اذیت ناک تھی- 
جلا وطن ایغور باشندوں کے مطابق سن ٢٠١٧ سے ان کا اپنے گھر والوں، خاندان اور دوستوں سے رابطہ تقریباً ختم ہو گیا ہے- کاشغر سے تعلق رکھنے والے استنبول میں مقیم ایک ایغور باشندے نے راقم کو بتایا کہ اسے کچھ معلوم نہیں کہ اسکے گھر والے کس حال میں ہیں، قید میں ہیں یا قید سے باہر- بیروں ملک ایغور باشندوں کا رابطہ اس لئے بھی مشکل ہے کہ زیر حراست افراد کا ایک ان لکھا جرم یہ بھی گردانا جاتا ہے کہ انکے گھر والے، خاندان یا دوستوں میں کوئی ایغور ملک سے باہر مقیم ہے- یہ صورت حال اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ کسی ایغور باشندے کے پاس کوئی غیر ملکی رابطہ نکلنا یا اسکا وہاٹسیپ یا کوئی دوسری ممنوعہ سوشل میڈیا ایپلیکیشن استعمال کرنا بھی اسے حراست میں لینے کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے- ایغور آبادی کو اپنے موبائل پر ایک سرولینس ایپ یعنی نگرانی کرنے والی موبائل ایپ انسٹال کرنے کا حکم  ہے تاکہ انٹرنیٹ اور موبائل پر انکی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جا سکے- اسکے علاوہ ایغور آبادی کو اپنی گاڑیوں میں جی پی ایس بھی لازمی لگانے کا سرکاری حکم ہے تاکہ انکی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کی جا سکے- مارکٹس میں ایغور دکانداروں کو چینی گارڈز کی خدمات  اپنے ذاتی خرچ پر مستعار لینے کا بھی حکم ہے اور کلوز سرکٹ کیمرہ بھی اپنے خرچ پر لگانے کا حکم ہے- اسکے علاوہ چینی حکومت نے ایغور علاقوں میں  پبلک مقامات کے چپے چپے کو سرولینس کیمرہ سے کور کیا ہے- ایسا صرف مشرقی ترکستان میں کیا گیا ہے-  بیجنگ یا چین کے کسی اور حصے میں چینی حکومت کو ان انتظامات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی- 
اس سب کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف مذہبی رحجان رکھنے والے افراد کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شبے میں گرفتار کیا گے اہے- زیر حراست افراد میں اولین لوگ پڑھے لکھے  طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے اکثریت سیکولر طرز زندگی کے حامل تھی- طاہر امین کا تعلق ایک خوشحال اور پڑھے لکھ گھرانے سے ہے- انھوں نے دسمبر ٢٠١٨ میں راقم کو انٹرویو کے دوران  بتایا کہ انھوں نے سنکیانگ یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا تھا اور ایک پاپولر میگزین میں لکھنے کے علاوہ اپنے دو اسٹارٹ اپ بھی چلا رہے  تھے اور ٹریننگ کے حوالے سے ایک نیا اسٹارٹ اپ شروع کرنے والے تھے-  وہ ایغور تاریخ اور ثقافت پر دو کتابوں کے بھی مصنف تھے-  ٢٠١٦ میں جب تبت کے کمیونسٹ پارٹی لیڈر کا تبادلہ سنکیانگ میں ہوا تو انکے سرکاری اداروں میں ملازمت کرنے والے دوستوں نے انہیں قبل از وقت وارننگ دی کہ پڑھے لکھے  اسکالر انٹلیکچوئل حضرت پر کریک ڈاون شروع ہونے والا ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ ملک سے باہر چلے جائیں- طاہر فروری ٢٠١٧ میں اسرائیل کی حیفہ یونیورسٹی میں داخلہ لیکر ملک سے نکلنے میں کامیاب ہوے اور وہاں سے واشنگٹن پہنچے تا حال اپنی بیوی اور جان سے پیاری پانچ سالہ بیٹی سے رابطے میں نہیں-

بعض جلا وطن ایغور افراد نے راقم کو بتایا کہ انکے زیر حراست رشتے داروں کو کبھی کبھی ترکستان میں مقیم انکے گھر والوں سے فون پر بات کروائی جاتی ہے لیکن اس مختصر فون کال میں قیدی صرف اپنی خیریت بتاتا ہے، یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کب رہا ہو گا- مریم نے بتایا کہ اسکے ترکستان سے باہر مقیم ایک بھائی سے کبھی کبھی بات ہوتی ہے جسکا کہنا ہے کہ کوئی ایک مہینے سے ہر دو سے تین ہفتوں بعد والد کا فون والدہ کو آتا ہے- بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوے ایک پاکستانی شوہر کا بھی کہنا ہے کہ اسکی بیوی کی مختصر فون کال سے اسے اسکی زندگی کا ثبوت ملتا ہے- نام نہ لینے کی شرط پر شوہر نے یه بھی بتایا کہ اسکی بیوی کا کہنا ہے کہ اسے مرد گارڈز کے سامنے بے لباس ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے-        
امریکا میں مقیم صالح حدیر نے راقم کو بتایا کہ وہ پانچ سال کا تھا جب ایک پناہ گزین کے طور پر اپنے خاندان کے ساتھ امریکا آ گیا لیکن اس وقت اسکے چھیاسی رشتے دار چین کے حراستی کیمپوں میں ہیں- اسکے دو کزنز کو بغیر کسی واضح  وجہ کے موت کی سزا دی گئی ہے لیکن رابطہ نہ ہونے کے با عث یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سزا پر عمل ہو گیا یا نہیں- اس سوال پر کہ آپ کو اس بات کا ڈر نہیں کہ آپکے میڈیا میں آواز اٹھانے پر آپکے رشتے داروں پر ظلم میں اضافہ ہو سکتا ہے صالح کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب کوئی چارہ نہیں رہا اپنی فیملی ختم ہونے کا رسک لیں یا اپنی پوری قوم ختم ہونے کا- صالح  حدیر نے راقم کو یہ بھی بتایا کہ ہماری صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست ہے کہ وہ خطے کا ذکر کرتے ہوے- سنکیانگ کے بجائے مشرقی ترکستان کے الفاظ استعمال کریں- ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوے انکا یہ بھی کہنا ہے کہ گو "بڑے پیمانے پر اموات کے ثبوت و شواہد نہیں ملے ہیں لیکن اسکا مطلب یہ نہیں نکالا جا سکتا کہ بڑے پیمانے پر اموات ہو نہیں رہیں ہیں- حراستی مراکز میں کیا ہو رہا ہے، دنیا کو اسکے بارے میں بہت کم معلوم ہے." انکا یہ بھی کہنا ہے کہ سیٹیلائٹ دیتا کے مطابق ہر حراستی مرکز میں ایک کریمٹوریم یعنی مردوں کو ٹھکانے لگانے کا اوٹومیٹک پلانٹ موجود ہے جہاں لاش کو سیکنڈوں میں راکھ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے-" 
مشرقی ترکستان پر ریسرچ کرنے والے ایک محقق ریان تھوم کے مطابق چین کے سرکاری اخبارات میں شائع ہونے والے ایک ٹینڈر میں ارمچی شہر میں موجود ایک کریمتوریم کے لئے پچاس مضبوط دل والے گارڈز کی بھرتی کے لئے اشتہار آیا ہے- ریان تھوم کا کہنا ہے کہ چین کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ بات نہ ممکن نہیں کہ چین بڑے پیمانے پر ایغور آبادی کو نازی جرمنی کی طرح ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہو-  

خطے کی تاریخ تبدیل کرنے کی کوشش (اسکو اگر الگ سٹورے بنا کر باکس میں دے دو تو اچھا ہے) 
ماؤونگ زارنی برما میں پیدا ہونے والے بدھ مت سے تعلق رکھنے والے روہنگیا ایکٹوسٹ ہیں، انکا کہنا ہے کہ کسی نسل کو صفحہ ہستی سے مٹانے  کے لئے اسکی تاریخ کو تبدیل کرنا بھی بیحد ضروری ہوتا ہے- یاد رہے چینی حکومت عرصے سے اس علاقے کی تاریخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسکا یہ کہنا ہے کہ مشرقی ترکستان کا علاقہ ہزاروں سال سے چین کا حصہ رہا ہے- انڈیانا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر گارڈنر بوونگڈن نے اپنی ٢٠١٠ میں شائع ہونے والی کتاب
 Uighur: Strangers In Their Own Land
میں اس بات پر تفصیلی بحث کی ہے کہ کس طرح چین کا یہ دعوا غلط ہے کہ یہ علاقہ ہزاروں سال سے چین کا حصہ رہا ہے- کمیونسٹ پارٹی کے قبضے سے قبل یہاں چنگ سلطنت کا بھی قبضہ رہا لیکن اس سلطنت کو بھی چینی کمیونسٹ حکومت کا پیش رو سمجھنا غلط ہے- خود بیسویں صدی کے چینی ریکارڈز میں اس علاقے کو چین کا حصہ نہیں دکھایا گیا- اسکے علاوہ سنکیانگ کا لفظ کا مطلب ہی 'نئی  سرحد'  ہے یعنی وہ علاقہ جو پہلے چین کے قبضے میں نہیں تھا- یہ بھی یاد رہے مارکو پولو نے چودھویں صدی میں اس علاقے کا تذکرہ ترکستان کے نام se کیا ہے- متعدد مغربی تحقیق نگاروں کے مطابق چنگ حکمرانی کے دوران بھی اس علاقے میں ہان چینی نسل کی آبادی نہ ہونے کے برابر تھی اور اس علاقے پر کنٹرول وسط ایشیا سے تجارت کے لئے ایک مجبوری تھی جسکو پیش نظر رکھتے ہوۓ یہاں عسکری چوکیاں قائم کی گئی تھیں- لیکن ١٩٤٩ میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے جب اس علاقے پر قبضہ کیا تو اس وقت یہاں ہان چینی نسل کی آبادی دو سے چار فیصد تھی جو سن ٢٠٠٠ تک بڑھتے بڑھتے چالیس فیصد تک پہنچ گئی- اسکے علاوہ چین نے اس علاقے کو اس طرح انتظامی لحاظ سے تقسیم کیا کہ بیشتر یونٹس میں جو مںزو کہلاتے ہیں، خود مختاری جس کے حقدار ایغور تھے، ایغور آبادی کے بجائے دوسری اقلیتوں میں منتقل ہو گئی- بوونگڈن کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے کیا گیا کہ چین کو سب سے زیادہ ڈر ایغور نسل کے لوگوں سے ہی تھا اور ہے جو خطے میں اکثریت میں تھے-

میڈیا کا رویہ 

گو مغربی محقیقین نوے کی دہائی سے اس علاقے اور ایغور افراد پر تحقیقات سامنے لاتے رہے ہیں لیکن یہ ریسرچ کمیونٹی تک ہی محدود رہی ہیں- بہت عرصے تک مغربی میڈیا ایغور پر چینی استحصال کو نظر انداز کرتا رہا لیکن ٢٠١٦ کے بعد سے ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کی آوازیں بھی اب کافی بلند ہیں۔ لیکن راقم کی رائے میں صورت حال مغربی میڈیا کی رپورٹس سے بہت زیادہ خراب ہے- خصوصا ً مغربی میڈیا حراست کے دوران ریپ  اور اموات کی رپورٹنگ اس طرح نہیں کر رہا جس طرح کرنی چاہیے-

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 1999 کی  رپورٹ (اسکا بھی اگر الگ باکس بن سکے تو زیادہ دلچسپ ہو گی)

ذیل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ١٩٩٩ کی ایک رپورٹ کے بارے میں راقم کا ایک مضمون شئیر کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہو گا کہ نوے کی دھائی میں بھی ہمارے ایغور بھائی کس تکلیف سے گزر رہے تھے- 

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ (یہ رپورٹ اگر الگ کہانی کی شکل میں شائع ہو سکے تو اچھا ہے ورنہ ایسے ہی ٹھیک ہے)  
کل رات دیر تک سنکیانگ یعنی مشرقی ترکستان کے ایغور مسلمانوں کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سن 1999 کی 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ پڑھتی رہی- ظلم کی ایسی روح فرسا داستانیں ہیں کہ میرے جیسے عملیت پسند نسبتاً غیر جذباتی صحافی کا قلم انہیں بیان کرنے سے قاصر ہے- یاد رہے یہ آج کی لکھی ہوئی رپورٹ نہیں آج سے ١٩ سال پہلے مرتب کی گئی ہے اور ١٩٩٠ کی دہائی کی گرفتاریوں، مختصر یا بغیر مقدمہ سزاؤں، قید کے دوران تشدد، اور گرفتاریوں کا پس منظر انفرادی طور پر بیان کیا ہے- اسکے ساتھ ساتھ ان وجوہات اور چینی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کا  تفصیل سے جائزہ لیا ہے جو وہاں پچھلے ستر سال سے شدید بیچینی کا سبب بن رہی ہیں- مذہبی پابندیوں کے علاوہ معاشی طور پر بھی سنکیانگ کے ترک نسل کے باشندوں پر ایسی پابندیاں ہیں جو ترکستان میں رہنے والی چینی نسل کی قوموں پر نہیں جسکی وجہ سے ایغورچین کی  پسماندہ ترین قوم بن کر رہ گئی ہے- جہاں تک چین کے اس الزام کا تعلق ہے اور جسے مغربی پریس بھی دہراتا رہا ہے کہ سنکیانگ کے مسلمان باشندے دہشت گردی میں ملوث ہیں تو ایمنسٹی کی اس تفصیلی رپورٹ سے اور جو کتابیں اور ریسرچ پیپرز اس وقت میرے زیر مطالعہ ہیں، انکے مطابق علیحدگی کے جذبات ترکستان کے مسلم باشندوں میں شروع سے موجود رہے ہیں- بلکہ موجودہ کمیونسٹ حکومت کے قبضے سے بہت پہلےسے جب چنگ سلطنت نے اٹھارویں صدی میں اس علاقے پر قبضہ کیا- غیر جانبدار مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ چین کی ظالمانہ نو آبادیاتی یعنی کولونیل پالیسیوں اور خصوصا ً مذہبی پابندیوں کے با عث وقت گزرنے کے ساتھ یہ جذبات مسلسل بڑھتے ہی رہے ہیں- لیکن اسکے باوجود محقیقین کا کہنا ہے کہ چین کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں جہاں خود چینی نسل کے لوگوں نے احتجاج کے دوران تشدد کا راستہ اختیار کیا، چین کا رویہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے ساتھ بہت سخت ہوتا ہے- دوسرے علاقوں میں مظاہرین کی پر تشدد کا روائیوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ متعدد مواقع پر سنکیانگ میں پر امن احتجاج کو بھی پولیس تشدد کر کہ مظاہرین کو بھی جوابی کاروائی پر مجبور کر دیتی ہے- اور اسکی وجہ یہ ہے کہ صوبے میں بڑی تعداد میں تیل اور گیس کے ذخائر اور یورپ اور ایشیا کے سنگم پراسکی اسٹرٹیجک جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ صوبہ چین کے لئے بہت اہم ہے اور چین مسلسل مسلم اکثریت جو اب اقلیت میں بدلنے والی ہے، خوف زدہ  ہے- 
محققین نے اس بات پر بھی بحث کی ہے کہ چینی حکومت تاریخ کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور سرکاری سرپرستی میں جو تاریخ مرتب کی جا رہی ہے اسکے مطابق یہ صوبہ قبل مسیح سے چین کی ملکیت رہا ہے- کیمبرج اور دوسرے مغربی اشاعتی اداروں پر چین کا سنسرشپ دباؤ کی خبریں اب سامنے آ چکی ہیں- کیمبرج نے چین کے دباؤ کو قبول بھی کر لیا ہے اور چین کے بارے میں ٣٠٠ آرٹیکلز کو اپنے تحقیقی مجلہ سے نکال دیا گیا ہے یا چین کے قاریوں کے لئے بلاک کر دیا ہے جس پر اسے سب و شتم کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے- چین کا یہ خوف کہ جو کچھ وہ یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے وہ دنیا کو معلوم نہ ہو حکومت کو سنسر شپ کے حوالے سے عجیب و غریب اقدامات کرنے پر مجبور کر تا رہا ہے مثلاً بیروں ملک حکومتوں پر دباؤ کے وہ ایغور اور ترک نسل کے باشندوں کو واپس بھیجیں. ان میں تھائی لینڈ، مصر، کمبوڈیا اور عرب امارات کے بارے میں خبریں ہیں کہ انہوں نے ایغور مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے اور کہیں کہیں چین کو واپس بھی کیا گیا ہے- ایغور مسلمانوں سے پاسپورٹ واپس لے لئے گئے ہیں-  کی واضح سے بھی ایغور مسلمان چین سے فرار ہونا تقریباً نہ ممکن ہے-
٢٠١٤ میں کنمنگ نامی شہر میں جو چاقو سے حملہ ہوا اور جسے دہشت گردی کی بڑی واردات بلکہ چینی نائن الیون کا نام دیا گیا اسکے بارے میں نک ہولڈ اسٹاک نامی مصنف، جس نے انگلش ٹیچر کی حیثیت سے تین سال چین اور ایک سال کاشغر میں  قیام کیا، کا کہنا ہے کہ مارے گئے اور گرفتار دہشت گرد کہلانے والے سارے لوگ وہ تھے جو ایک گروپ کی صورت میں تھائی لینڈ کے راستے چین سے فرار ہونا چاہتے تھے- ان میں سے کچھ لوگ پکڑے گئے تھے- اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے گرفتاری پر موت کو ترجیح دی اور مرنے سے پہلے چند لوگوں کو مار کر دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کی- نہ تو انکے پاس چاقو کے علاوہ کوئی دوسرا ہتھیار تھا اور نہ ہی انکا تعلق دہشت گردی کے کسی منظم نیٹورک سے تھا- گرفتاری کے بعد قید خانے میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بچنے کے لئے بہت سے لوگ خود کشی کی کوشش کرتے رہے ہیں- اسکا علاج چینی انتظامیہ نے یہ کیا ہے کہ تفتیش اور تشدد کے دوران انہیں ایک سخت دھاتی ہیلمٹ پہنایا جاتا ہے کہ وہ اپنا سر دیوار سے مار کر خود کو ختم نہ کر لیں- ایمنسٹی کے مطابق تشدد کے یہ طریقے جن کو میں بیان کرنے سے قاصر ہوں، تاریخ میں اور خود چین کے کسی دوسرے علاقے میں انکے استعمال کی کوئی مثال نہیں ملتی- 


١٩٩٧ کے رمضان میں جو کچھ ایک امام کی بلا جواز گرفتاری اور پر امن احتجاج پر بھا ری پولیس کی نفری کا تشدد کا ذکر پڑھ کر یاد کرنے کی کوشش کی کہ  میں اس وقت کیا کر رہی تھی؟ پاکستانی پریس کا کیا کردار تھا؟ اس وقت تو سی پیک کا بھی کوئی ذکر نہیں تھا کہ چین سے تعلقات خراب ہونے کا خطرہ ہوتا- اس احتجاج کے مظاہرین کو مرد، عورت اور بچوں کی تمیز کے بغیر فروری کی سخت سردی میں منفی درجہ حرارت میں باہر کھڑا کر کہ برفیلے پانی سے نہلایا گیا برفیلی زمین پر گھنٹوں کھڑے ہونے پر مجبور کیا گیا- اسکے بعد ننگے پاؤں برف پر دوڑنے کا حکم دیا گیا- دو گھنٹے کے بعد ان میں سے کچھ لوگوں کو ہسپتال لے جایا گیا اور فراسٹ بائٹ کے نتیجے میں ضائع ہونے والے اعضاء کو کٹوانے کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی- باقی کو گرفتار کر لیا گیا- گرفتار افراد میں سے بڑی تعداد کو بغیر مقدمہ اور دفاع کے حق کے سزائے موت دی گئیں- کچھ کی سزاؤں کے پبلک ریلی میں اعلان کے فوراً ریلی سے ہی انہیں پھانسی گھاٹ لے جایا گیا- اپیل کا قانون موجود ہے لیکن سزائے موت کے پلٹ جانے کی کوئی روایت نہیں ملتی- لیکن جس نوعیت کا تشدد جیل میں ہو رہا ہے، تو یہ سزائے موت  پانے والے خوش قسمت محسوس ہوتے ہیں-       

دنیا اس وقت سعودی عرب کے ایک صحافی کے ساتھ شقی القلبی پر حیران ہے لیکن چین میں لاکھوں افراد کے ساتھ کم از کم بیس سال سے جو کچھ کیا جا رہا ہے، اس پر خاموشی نہیں تو احتجاج بھی نہ ہونے کے برابر ہے- عالمی میڈیا کی اس غیر متوازن کوریج معیارات کی وجوہات نا قابل فہم ہیں- لیکن عالمی میڈیا کو کیا کہا جائے شرمندگی تو اپنے وجود پر بھی ہوتی ہے کہ چین کا پڑوسی ہوتے ہوئے ہم بے خبر رہے- ایک مغربی مصنف مائیکل ڈلون نے چین کے بیرونی تعلقات کی حکمت عملی پر ایک کتاب لکھی ہے- کتاب کے مطابق چین اپنے سارے مسلم ہمسایوں اور دیگر طاقت ور مسلم ممالک سے اس مسئلے پر غیر جانبداری اور خاموشی کا وعدہ مختلف استریتجیز اور دباؤ استعمال کر کہ لے چکا ہے- مشرقی ترکستان پر ایک کتاب کے مطابق ١٩٥٥ میں ہی پاکستان کی حکومت سے بھی چین کی اس مسئلے پر درپردہ مفاہمت ہو چکی ہے- کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں راقم کو انٹرویو دیتے ہوے مشرقی ترکستان کی جلا وطن حکومت کے صدر نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان میں قیام کے دوران یہ خبر پڑھی کہ چند ایغور افراد جو اپنی جان پر کھیل کر پاکستان پہنچے تھے کو مقامی سپاہیوں نے پکڑ کر بارڈر پر موجود چینی گارڈز کو واپس کر دیا اور چینی گارڈز نے پاکستانی سپاہیوں کے سامنے ان سب کو موت کی گھات اتار دیا-   
اور اب جو صورتحال ہے اس میں تو کوئی احتجاج کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ٨٠ اور ٩٠ کی دہائی میں بھی ٩٩ فیصد احتجاج چین کی معاشی پالیسیوں اور بلا جواز بغیر الزام گرفتاریوں کے خلاف ہوتے تھے اور مظاہرین کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتا- واحد ہتھیار جو دہشت گرد کہلانے والے استعمال کر سکتے ہیں وہ چاقو ہے- اس سے بہت زیادہ پر تشدد کاروایاں تبت میں ہوئیں ہیں لیکن عالمی دباؤ کی وجہ سے چین کا اب انکے ساتھ بہت بہتر رویہ ہے-  
کولوریڈو یونیورسٹی کی ازابیلا اسٹائن ہاور نامی ایک محقق کا کہنا ہے کہ تبت کے مقابلے میں سنکیانگ کے مسلمانوں کو عالمی سماجی سپورٹ نہ ہونے کے برابر ملی ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تبت کے مقابلے میں عالمی میڈیا میں سنکیانگ کی کوریج بہت کم ہے اور پھر نائن الیون کے بعد چین نے سنکیانگ میں بغیر وسائل غیر منظم علیحدگی کی تحریک کو اسلامی انتہا پسندوں اور القاعدہ سے جوڑا- جس پر امریکا نے بھی مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو دہشت گرد تنظیم مان لیا- جب کہ تمام غیر جانبدار محقیقین اور مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی قسم کی کوئی ملیشیا موجود نہیں جیسی کہ ہمیں کشمیر میں نظر آتی ہیں- تشدد کی کاروائیاں مظاہرین اور پر امن احتجاج پر پولیس کے رد عمل پر  جوابی رد عمل کا نتیجہ ہوتی تھیں- یہی بات ایمنسٹی نے بھی ثبوتوں کے ساتھ مذکور کی ہے اور  چینی اقلیتوں  اور ترکستان پر تحقیق کرنے والے مصنفین جیمز ملورڈ، نک ہولڈ سٹاک ، بوونگدوں گارڈنر نے اپنی کتابوں اور مختلف تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں مذکور کی ہیں-   
مجھے کچھ معاملات میں  انسانی حقوق کی تنظیموں سے شکایات ہیں لیکن اس رپورٹ پر ایمنسٹی کو دعائیں دینے کا دل چاہ رہا ہے-  لیکن ان غیر منظم مظاہرین کے ساتھ یہاں تک کے کم عمر بچوں کے ساتھ بھی جیل میں جو کچھ ہوا وہ بیان کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی- رپورٹ کا لنک دے رہی ہوں- اگر کوئی لکھنے والا اسکے کچھ حصوں کو اردو قاری کے لئے ضبط تحریر کرنے میں تعاون کر سکے تو الله شاید ہماری دنیا اور آخرت میں ہم سے بھی آسان معاملہ کرے-

ہم ان بے بس مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
یہ ایک طویل المدت اور صبر آزما کام ہے- فوری نتائج کے خواہشمند زحمت نہ کریں- لیکن صحیح سمت میں جدو جہد کی جائے تو با لکل نتائج نکلیں گے اور ان بے بس مسلمانوں کی مشکلات میں کمی ہو گی- یاد رکھیں چین انسانیت کے خلاف ان جرائم کو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہا ہے- اب جبکہ سب کچھ سامنے آ رہا ہے اور خود ایغور قوم نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے، سب سے اہم کام یہ ہے کہ ہم خود انکے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور اپنے ارد گرد کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آگاہی دیں- بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس پر اثر نہیں ہوتا مگر چین کو شرم دلانا بہت ضروری ہے-  ایغور مسلمانوں کے بارے میں ہر زبان میں فیس بک پیجز موجود ہے- انہیں جوائن کریں اور مصدقہ پوسٹس کو پھیلانے میں مددگار بنیں- جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ تصدیق کیسے کریں تو فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا چینلز پر ایغور افراد سے رابطے کی بھی کوشش بھی کی جا سکتی ہے-سب نہیں لیکن پڑھے لکھے اور مغربی ممالک میں مقیم ایغور کی بڑی تعداد  انگریزی جانتی ہے اور وہ دوسرے مسلمانوں سے  اپنی کہانیاں شئیر کرنا چاہتے ہیں اور اس بات پر افسردہ ہوتے ہیں کہ مسلمان ان پر گزرنے والی بپتا سے بے خبر اور بے نیاز ہیں- دوسرا قدم ہم یہ اٹھا سکتے ہیں کہ اپنے اپنے ملکوں کے چینی سفارت خانے اور کونسلیٹ میں فون کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں- یہ کام ای میل کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے- جو زبان آپ بولتے ہیں، سمجھتے ہیں اسی زبان میں یہ کام کیا جا سکتا ہے- اسکے علاوہ اپنے ممالک کی وزارت خارجہ اور امریکی سفارت خانے  کو بھی فون کر کہ یا ای میل کر کہ اس معاملے میں چینی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں- ٢٠١٤ میں امریکی کانگریس میں چینی مسلمانوں پر رمضان کے روزوں پر پابندی کے خلاف ایک قرار داد منظور ہو چکی ہے- ہم امریکی سفارت خانے فون کر کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں- یاد رکھیں سب سے بڑی ذمہ داری خود باخبر ہونا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو ان مسلمانوں کی حالت زار سے  آگاہی دینا ہے- الله ہمیں ان بے بس مسلمانوں کے معاملے میں اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق دے کہ جب اسکے سامنے حاضر ہوں اور سرکار صلیٰ الله علیہ وسلم سے ملاقات و تو شرمندہ نہ ہونا پڑے-




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...