منگل، 10 دسمبر، 2019

سرمیلا بوس کی کتاب ڈیڈ ریکننگ Updated 7000words


سرمیلا بوس کی کتاب ڈیڈ ریکننگ 
تزئین حسن 
  
ڈسکلیمر: اس مضمون کا مقصد مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے آپریشن کو صحیح ثابت کرنا یا اسکے لئے جواز تلاش کرنا نہیں- صرف سرمیلا بوس کے تجزیہ کی روشنی میں حقائق کو افسانوں اور سنی سنائی افواہوں سے الگ کر کے سامنے لے کر آنے کی کوشش ہے-
   
تعارف  
سقوط ڈھاکہ ایک ایسا قومی سانحہ ہے جسکا صرف ذکر ہی بہت سے زخموں کو کھول دیتا ہے- یہ واقعہ ملک کا آدھا بازو کٹ جانے کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور خود پاکستانی قوم کو دنیا میں بری طرح بدنام کرنے کا سبب بنا جس کا شعور شاید ملک کے اندر کم پایا جاتا ہے- اس بدنامی کے پیچھے پاکستان کے مقتدرین کی فاش غلطیاں بھی موجود ہیں اور علمی سطح پر انڈیا اور اسکے حواریوں کا پروپیگنڈا بھی- جو ہوا وہ پلٹایا نہیں جا سکتا لیکن زندہ قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں- آج بھی وطن عزیز کی سلامتی کو بہت سے اندرونی اور بیرونی چیلنجز در پیش ہیں- ان سب چیلنجز سے باوقار طریقے سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ جذباتیات سے ہٹ کر ٹھنڈے دل سے حقائق کی روشنی میں ان عوامل کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا  جائے جو ایسے سانحات کا با عث بن سکتے ہیں- لیکن کوئی بھی غیر جانبدارانہ تجزیہ عرق ریزی سے کی گئی تحقیق کا متقاضی ہے، جس کی روایت بد قسمتی سے وطن عزیز میں مفقود ہے- ہم وہ قوم ہیں جو اکیسویں صدی میں تحقیق کی اہمیت ہی سے نا واقف ہیں- پچھلے ٤٨ سال میں سقوط ڈھاکا یا یوں کہہ لیجئے کہ بنگلادیش کی تخلیق پر درجنوں کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن کم و بیش ان سب کتب میں تنازعہ کے کسی ایک فریق کی نظر سے حالات و واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے- ان کتب میں ہمہ جہتی مفقود ہے- دوسرے تحقیق اور صحافت کے معیارات یعنی صرف مستند معلومات کا استعمال بھی بہت کم مصنفین  نے کیا ہے- ایسے میں ٢٠١١ میں آکسفورڈ اور ہارورڈ کی تعلیم یافتہ ہندو بنگالی رائیٹر سرمیلا بوس معاملے  کے تمام فریقین سے انٹرویوز کر کہ اور اب تک اس موضوع پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے استفادہ کر کہ 'ڈیڈ ریکننگ: میموریز آف بنگلادیشی وار-" کے نام سے ایک ہمہ جہتی تحقیقی کام ایک کتاب کی شکل میں سامنے لے کر آتی ہیں- اس کتاب کو آکسفورڈ فورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان اور کولمبیا یونیورسٹی پریس نیویارک نے بھی شائع کیا ہے-١٩٧١ کے تنازعہ سے متعلق جومقبول بیانیہ عالمی سطح پر دنیا  میں پایا جاتا ہے سرمیلا اسے تحقیق کی بنیاد پر مسترد کرتی ہیں-  یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ انکی اس کتاب نے علمی دنیا میں ہلچل مچانے کے علاوہ بھارت اور بنگلادیش کے بیانیہ کو نقصان پہنچایا ہے-



یہ کتاب تحقیق کی دنیا میں کیا مقام رکھتی ہے اسکا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ امریکا کے وڈرو ولسن سینٹر میں اس کتاب پر پورا سیشن رکھا گیا جس میں سرمیلا کے ساتھ جنگ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی بلایا گیا- اس کتاب پر بنگالی اور بھارتی ریسرچرز نے جو اعتراضات کیے اس پر سرمیلا کو ایک اور ریسرچ پیپر لکھنا پڑا- یہ بھی یاد رہے کہ سرمیلا کا کہنا ہے کہ میں ہر معترض کا جواب فرداً فرداً نہیں دے سکتی- انہوں نے اس پیپر میں صرف تین محقیقین کو جواب دیا ہے جنہوں نے ان پر جانب داری کا الزام لگایا تھا-

سرمیلا کا کہنا ہے کہ وہ کلکتہ میں یہ بیانیہ سنتے ہوئے بڑی ہوئیں کہ پاک فوج ولن ہے، اس نے مشرقی پاکستان کے نہتے   بنگالیوں  کی نسل کشی کی اور انڈیا نے ہیرو کا کردار ادا کرتے ہوئےمظلوم کا ساتھ دیکر اس نسل کشی کو روکنے کے لئے انسانی بنیادوں پر مجبوراً اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں اتریں- سرمیلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے بنگلہ دیش کے شہروں، گاؤں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں سے اپنی تحقیق کا آغاز کیا تو انکا خیال تھا کہ وہ پاک فوج کے مظالم اور نسل کشی کے ثبوت باریک بینی کے ساتھ دنیا کے سامنے لے کر آئیں گی- لیکن جیسے جیسے تنازعہ کے براہ راست متاثرین سے انٹرویوز کرتی گئیں، ایک متبادل بیانیہ انکے سامنے آتا گیا- جس کے مطابق یہ تنازعہ نہتے سویلینز اور مسلح فوج کے درمیاں نہیں تھا- انکا کہنا ہے کہ انڈیا نے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں تین دسمبر کو نہیں اتا ری تھیں بلکہ بھارت اس تنازعہ میں شروع سے شریک رہا تھا- سرمیلا نے حقائق، اور شواہد کی بنیاد پر اس بیانیہ کو بھی مسترد کیا کہ پاک فوج تین ملین بنگالیوں کے قتل اور تین لاکھ بنگالی عورتوں کے قتل میں ملوث تھی- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ  یہ صحیح ہے کہ پاک فوج علیحدگی کی کوشش کے رد عمل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی لیکن جینو سائیڈ یعنی نسل کشی کی تعریف کے مطابق پاک فوج نسل کشی جیسے جرم کی مرتکب نہیں ہوئی- انھوں نے شواہد کے ساتھ یہ بھی ثابت کیا کہ مجیب اور اسکی عوامی لیگ بظاھر گاندھی کے فلسفے پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن انکا عدم تشدد کی روایت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا- مجیب کے جلسوں میں شرکت کرنے والے ہتھیاروں سے لیس ہوتے تھے- ڈھاکہ یونیورسٹی میں بنگلادیشی آزادی کے لئے مسلح ٹریننگ دی جا رہی تھی- مکتی باہنی کی خواتین کی سڑکوں پر مسلح مارچ کی خبریں فوجی آپریشن سے پہلے غیرملکی میڈیا تک نے رپورٹ کیں تھیں- انکا کہنا ہے کہ یکم مارچ ١٩٧١ میں اسمبلی کے اجلاس کی غیرمعینہ مدت کے لئے التوا کے بعد حکومت پاکستان کی رٹ مشرقی پاکستان میں ختم ہو گئی تھی- (یہ وہ بنیادی غلطی تھی جو مغربی پاکستان میں بیٹھے مقتدرین نے طاقت کے نشے میں کی جو اس سانحے کا با عث بنی)- اسکے بعد مشرقی پاکستان میں مجیب کے حکم کو قانون کی حیثیت حاصل تھی-              


سرمیلا کی کتاب کیوں اہم ہے؟

سرمیلا نے مشرقی پاکستان میں ١٩٧١ کے فوجی آپریشن اور فٹ پاک بھارت جنگ کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نہایت عرق ریزی سے تحقیق کر کہ قلم اٹھایا ہے-انھوں نے  بنگلہ دیش کے شہروں، قصبوں یہاں تک کہ متعلقہ گاؤں پہنچ کر چشم دید گواہوں کی مدد سے اس معاملے پربہت باریک بینی سے تحقیق کر کہ حقیقت کو سنی سنائی باتوں اور افسانے سے الگ کیا ہے- انہوں نے گراؤنڈ لیول نے اپنی تحقیق میں بڑی تعداد میں مکتی باہنی اور عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے بنگالیوں، پاکستان کی حمایت کرنے والے بنگالیوں کے علاوہ ، بھارتی اور پاکستانی فوج کے افسران اور جوانوں سے بھی انٹرویوز کیے ہیں- انہوں نے اس دور کی عالمی میڈیا کوریج کے علاوہ  صدر رچرڈ نکسن اور ہنری کیسنجر کی جو ریکارڈڈ گفتگو اس موضوع پر موجود ہے، اسکو بھی تحقیق کی سورس بنایا ہے- اسکے علاوہ انھوں نے عالمی میڈیا، انڈیا، پاکستان اور بنگلدیشی میڈیا میں اس وقت کی نیوز رپورٹس، بنگلادیش میں اس جنگ کے بارے میں فکشن اور نان فکشن ادب، فلم اور دوسری اصناف میں جو کام ہوا اس سب کو اپنی تحقیق میں شامل کیا- انھوں نے اس جنگ کے موضوع پر دنیا بھر میں جو کچھ لکھا گیا اسے بھی کنسلٹ کیا ہے- اور وہ اپنا تجزیہ دونوں طرف سے حاصل کیے گئے مستند حقائق کی بنیاد پر کرتی ہیں- سرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں افسانے کو حقیقت سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک متوازن بیانیہ دیا ہے، جس پر یہ بجا طور پر مبارک باد کی مستحق ہیں-

سرمیلا نے بسا اوقات ایک ہی واقعہ کے بارے میں مختلف فریقین سے انٹرویو کر کہ متضاد بیانات سامنے لے کر آتی ہیں اور پھر حقائق کا دلائل سے تجزیہ کر کہ کسی ایک بیان کے حق میں اپنا وزن ڈالتی ہیں اور یہ سب کچھ وہ شفافیت کے ساتھ کرتی ہیں- اس تمام عمل میں وہ صحافت کی اعلیٰ ترین اخلاقی روایات پر کار بند رہتی ہیں اور ساتھ ساتھ اکتہر کے تنازعہ سے متعلق بہت سی سنی سنائی روایتوں کو غلط ثابت کرتی ہیں- 

یاد رہے سرمیلا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگ کے عسکری پہلووں کو اپنا موضوع بنایا ہے معاملے کے سیاسی پہلووں یا آپریشن سے پہلے کے سیاسی فیصلوں کو نہیں-

مغالطے جن سے سرمیلا نے پردہ اٹھایا 
جن مغالطوں سے سرمیلا نے پردہ اٹھایا ان میں سر فہرست پاکستانی فوج پر مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کی نسل کشی کا الزام ہے جس کی بات پاکستان میں بھی شدو مد سے کی جاتی ہے- 



سرمیلا کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یہ ایک سول وار یعنی خانہ جنگی تھی جس میں دونوں فریقین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی- فوجی آپریشن بغاوت کو فروع کرنے کی ایک کوشش تھی جسکا نشانہ تمام بنگالی نہیں بلکہ وہ بنگالی مسلمان تھے جو علیحدگی کے خواہش مند تھے اور جنھیں انڈیا کی حمایت حاصل تھی- دونوں فریقین  نے شہریوں کا قتل عام کیا اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیاں کیں- اسکے بر عکس کسی تنازع کو جینو سائیڈ اس وقت کہا جاتا ہے جب صرف نسل یا مذہب کی بنیاد پر پورے گروہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے- جب کہ مشرقی پاکستان کے منظر نامے میں بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی حمایتی بھی تھی-    

وہ خود بنگالی اور ہندو ہو کر بھارت اور بنگلادیشی حکومت کے اس بیانیہ کو مسترد کرتی ہیں جس کے مطابق پاکستانی فوج نے ارادتاً مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام کی نسل کشی کی کوشش کی-  سرمیلا کا کہنا ہے کہ عام طور سے بھارتی اور بنگلادیشی بیانیہ کسی قسم کی تحقیق اور اعداد و شمار کے بغیر ہے- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ گراؤنڈ لیول پر کوئی مستند تحقیق اس موضوع پر نہیں جو تمام فریقین کے بیانیہ کو غیر جانبداری سے پرکھ اور سچائی کو دنیا کے سامنے لیکر آئے- یاد رہے ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نشانہ بنا کر پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا جاتا رہا ہے اور ہمارے کچھ دانشور اور صحافی بھی بغیر تحقیق اور اداد و شمار بھارت اور بنگلادیش کا بیانیہ دہراتے رہے ہیں-


آپریشن پاک فوج اور سویلینز کے درمیان تھا 
سرمیلا نے اس کو بھی مسترد کیا کہ یہ آپریشن افواج اور بنگالی سویلینز کے درمیان یا پاک فوج اور مکتی باہنی کے درمیان تھا- وہ بھارتی افواج اور مکتی باہنی کے ذرائع سے یہ حقیقت سامنے لے کر آئی ہیں کہ بھارتی حکومت اور فوج شروع سے اس تنازع میں شریک تھے- اور پاک فوج کے خلاف بڑی کاروائیاں ہمیشہ انڈین فوج ہی نے کیں لیکن دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی کہ یہ مکتی باہنی یعنی آزادی کے متوالوں کی مزاحمت ہے اور اس طرح پاک فوج کے خلاف دنیا کی ہمدردیاں سمیٹی گئی ہیں-
ایک اور افسانہ جو عالمی سطح پر حقیقت کی طرح تسلیم شدہ مانا ہے وہ یہ ہے کہ یہ جنگ پاکستانی فوج اور سویلینز کے درمیان تھی اور اس سے بنگالی مظلومیت کے بیانیہ کو عالمی سطح پر بہت تقویت ملتی ہے- شرمیلا نے اس غبارے سے ہوا نکالی ہے- انھوں نے شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ انڈین فوج شروع سے اس جنگ میں شریک تھی- اپنی اس بات کے ثبوت میں شرمیلا انڈین فوج کے میجر جنرل لچھمن سنگھ کی گواہی لیکر آئ ہیں جنکا کہنا ہے کہ "پروپیگنڈا مشین نے بہت محنت سے کام کیا- لنگی پہنے رائفل بردار مکتی باہنی کے جوانوں کو  فوری طور پر ہیرو بنا دیا-خبروں کے بھوکے پریس نے فوراً ان افسانوی کامیابیوں کے دعوؤں کو حلق سے اتار لیا-" شرمیلا کا کہنا ہے کہ انڈین فوج نے اعلانیہ حملہ تین دسمبر کو کیا لیکن وہ اس مسلح تنازعہ کے پورے عرصے میں مکتی باہنی کے ساتھ تھی- انکی تحقیق کے مطابق مکتی باہنی کنھی بھی پاکستانی فوج کے حملے کے مقابلے میں کھڑی نہ رہ سکی اور انہوں نے ہمیشہ بھارتی فوج کو مایوس کیا- اور اصل میں پاکستانی فوج بھرتی فوج سے ہی لڑ رہی تھی- یہ دوسری بات کہ بھارتی فوج کو مکتی باہنی کی شکل میں مقامی آبادی کی حمایت حاصل تھی-  اسکے لئے مکتی باہنی کے سابق ملیٹنٹس، انڈین فوج اور مقامی آبادی سے انٹرویوز کے- بارے آپریشنز ہمیشہ انڈینز ہی کیا کرتے تھے- اسکے علاوہ شرمیلا نے اگست ١٩٧١ میں برطانوی اخبار گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوے ایک بنگلادیش کی آزادی کے لئے لڑنے والے ایک والنٹیر کے الفاظ بھی ثبوت کے طور پر پیش کیے ہیں: 'بڑے آپریشن ہمیشہ بھارتی کرتے ہیں لیکن اپریشن کر کہ پیچھے ہٹ جاتی تھی اور پھر اسے مکتی باہنی کی فتح قرار دیا جاتا ہے-' 
سرمیلا کے علاوہ جیری بیس اپنی کتاب بلڈ ٹیلی گرام میں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ١٩٧٠ کے الیکشن کو بارڈر کے دوسری طرف بہت سنجیدگی سے مشاہدہ کیا جا رہا تھا اور اندرا گاندھی نے دو مارچ کو ہی مشرقی پاکستان کو بنگلادیش کہنا شروع کر دیا تھا- جیری بیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اندرا گاندھی مارچ میں ہی انڈین فوج مشرقی پاکستان میں اترنا چاہتی تھیں لیکن ان کے مشیروں اور بھارتی فوج کے کمانڈرز نے انھیں انتظار کرنے کو کہا-
یاد رہے انڈیا پاکستان پر کراس بارڈر دہشت گردی کا الزام تواتر سے لگاتا رہا ہے جبکہ خود اس میں دھڑلے سے ملوث رہا ہے-
اسکے علاوہ پاکستانی فوج کو قابض فوجی کہنا شرمیلا کے نزدیک تاریخ تبدیل کرنے کی کوشش ہے- بنگال پاکستان کا ایک صوبہ تھا، پاک فوج میں بنگالی بھی سرو کر رہے تھے-   انکا کہنا ہے کہ بنگالی مزاحمت کاروں کو آزادی کے متوالے کہا جا سکتا ہے لیکن پاک فوج کو قابض فوج نہیں کہا جا سکتا-
انہوں نے اس بیانیہ کو بھی مسترد کیا کہ پاک فوج کا آپریشن یک طرفہ تھا اور پر تشدد واقعات کا آغاز پاک فوج نے کیا   
انکا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی میڈیا نے مکتی باہنی اور عوامی لیگ کی ممبرز کی غیر بنگالیوں کے خلاف تشدد کو بھی ریکارڈ کیا لیکن اسکی بات کوئی نہیں کرتا- اس سلسلے میں وہ پاکستانی صحافی انتھونی مکرنہاس کی مثال دیتی ہیں جنہوں پاکستانی فوج کے مظالم کو رپورٹ کیا- انکا کہنا ہے کہ انہیں کی رپورٹ میں بنگالیوں کے مظالم جو غیر بنگالیوں پر کے گئے انکا تذکرہ نہیں ہوا- یاد رہے اس صحافی کو پاک فوج کے خلاف اپنی رپورٹنگ کی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر برطانیہ منتقل ہونا پڑا تھا- لیکن اسی صحافی نے اپنی رپورٹ میں مکتی باہنی کے ہاتھوں غیربنگالیوں اور بہاریوں کے قتل عام کا ذکر کیا اسے انڈیا اور بنگلادیش کے بینا میں نظر انداز کیا جاتا ہے- 

بی بی سی کے مارک ٹلی جو اس وقت مشرقی پاکستان میں اپنی صحافیانہ خدمات انجام دے رہے تھے، انکی اس بات کی تائید کرتے ہیں- یو ٹیوب پر موجود انکے ایک ویڈیو ٹاک وہ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ شہریوں کے خلاف بہیمانہ قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عوامی لیگ اور مکتی باہنی نے بھی کیں- مارک ٹلی کا کہنا ہے کہ لیکن پاکستان کے خلاف انڈیا کا  پروپیگنڈا اتنا بھرپور تھا کہ دوسری طرف کا بیانیہ نظر انداز ہوا-



بنگلادیش اور بھارت، پاکستانی فوج کو ولن اور آزادی کے حامی بنگالیوں کو مظلوم قرار دیتے ہیں لیکن خود عالمی میڈیا کی کوریج کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یکم مارچ کو اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد مجیب کے حامی  بنگالیوں کی طرف سے پہلے شروع ہوئیں- اس وقت کی عالمی میڈیا کی رپورٹنگ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاک فوج اور بہاریوں کے خلاف پر تشدد کاروائیوں کا آغاز مجیب کے حامیوں کی طرف سے یکم مارچ کو اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد سے شروع ہو گیا تھا- سرمیلا تفصیل کے ساتھ کھلنا کی جیوٹ مل میں غیر بنگالیوں کے قتل عام کی رپورٹ سامنے لاتی ہیں- اسکے علاوہ کشتیہ کے کنٹونمنٹ میں پاک فوج کے ١٥٥ میں سے ١٤٤ غیر بنگالی افسران اور جوانوں کا قتل عام اور باقی کو انڈیا کے حوالے کر دینے کا واقعہ بھی- لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ ڈھاکہ میں ہندؤں کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کا بھی تذکرہ تفصیل کے ساتھ کرتی ہیں-

ہمارے نزدیک پچیس مارچ کو فوجی آپریشن کا دفاع نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی یہ مقصود ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ آپریشن بغاوت کے آغاز کے کوئی تئیس دن بعد شروع ہوا- اس وقت تک مجیب کے حامی بنگالی پاک فوج، بہاریوں پر متعدد حملے کر چکے تھے جن میں غیر بنگالیوں اور پاکستان کے حامی بنگالیوں کا کافی جانی نقصان ہوا تھا- پاک فوج اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو رد عمل دکھانے کی اجازت نہیں تھی- 

سرمیلا کا  یہ بھی کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پاک فوج کی طرف سے بھی ہوئیں لیکن مکتی باہنی کی طرف سے ہونے والی کاروائیاں زیادہ بہیمانہ تھیں جن میں عورتوں بوڑھوں بچوں سب کو نشانہ بنایا گیا- پاک فوج نے جہاں قتل عام کیا وہاں صرف بالغ مردوں کو انڈیا کی در اندازی کے شک کی بنیاد پر مارا گیا لیکن بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو جنگی قوانین کے مطابق کچھ نہیں کہا گیا لیکن عوامی لیگ اور مکتی باہنی نے جن بہاریوں ، غیر بنگالیوں اور خود پا فوج کے افسران کو مارا وہاں بچوں عورتوں سمیت پورے پورے خاندانوں کو موت کی گھٹ اتارا- 

سرمیلا یہ حقیقت بھی سامنے لاتی ہیں کہ مکتی باہنی نے پاک فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد بغیر مقدمہ چلائے، غیر بنگالیوں اور بہاریوں کا بہت بڑی تعداد میں قتل عام کیا- جسکی بات کبھی نہیں کی جاتی-


مغالطہ :
سرمیلا ایک اور بیانیہ کو ثبوتوں کے ساتھ مسترد کرتی ہیں جسکے مطابق بھارتی حکومت نے مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے کی- یہ صحیح ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی فوج کے مظالم کے پروپیگنڈے کے بعد بھارت نے جنگ میں اپنی شمولیت کا بہانہ مشرقی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بنایا- لیکن جیری بیس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ١٩٧٠ سے کچھ قبل خود بھارت میں الیکشن ہوے تھے اور خود کلکتہ میں نکسلائٹ کو قابو کرنے کے لئے ایک لاکھ فوج کو بلانا پڑا تھا- الیکشن کے بعد کلکتہ اور مغربی بنگال کی جیلیں بھارتی حکومت کے مخالفین سے بری طرح بھری ہوئی تھیں اور کوئی ایک لاکھ افراد پر مقدمات تھے- اسکے علاوہ اسی دور میں ناگا لینڈ کی بغاوت کو فروع کرنے کے لئے انڈیا کو اپنی فضائی طاقت کا استعمال کرنا پڑا- 
خود سرمیلا کا کہنا ہے کہ کلکتہ میں انکے بچپن کی اولین یادوں میں سے ایک یہ تھی کہ  روزصبح حکومت کے ہاتھوں اغوا ہونے والے نکسلائٹ کی لاشیں سڑکوں پر پائی جاتی تھیں- سرمیلا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ١٩٧١ میں وہ دس سال کی تھیں- انکے والد بچوں کے ڈاکٹر تھے اور والدہ انڈین پارلیمنٹ کی ممبر رہی تھیں- انکا کہنا ہے کہ قومی سیاست سے انکاتعارف انڈین حکومت اور نکسلائٹ کے تنازعہ سے ہوا اور عالمی سیاست سے انکا طرف مشرقی پاکستان میں انڈیا کی فوجی مداخلت سے-    

مغالطہ: انڈیا نے حملہ تین دسمبر کو کیا 
سرمیلا کا کہنا ہے کہ دنیا میں پھیلی ہوئی ایک غلط فہمی یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان پرحملہ تین دسمبر کو کیا ہے- حقیقت یہ ہے کہ انڈیا نے ٢١ نومبر ١٩٧١ کو مشرقی پاکستان پر با قاعدہ حملہ کر دیا تھا- تین دسمبر کو در اصل پاکستان باقاعدہ اس جنگ میں شامل ہوا- سیسن اینڈ روس کی تحقیق بھی یہی کہتی ہے-  بھرتی ریکارڈز کے مطابق اس سے قبل اکتوبر کےدرمیاں سے لیکر نوبر کی بیس تاریخ تک انڈین آرٹلری اور فضائی طاقت بھی استعمال  ہوئی لیکن انڈین آرٹلری پیچھے ہٹ کر دوبارہ بھارت میں چلی جاتی تھی- لیکن ٢١ نومبر کے بعد انڈین افواج نے اپنی اسٹرٹیجی تبدیل کر لی اور اب وہ پیچھے ہٹ کر بھارت میں داخل نہیں ہوتی تھیں- 

لیکن بین الاقوامی طور پر انڈیا نے اس بات کا اعتراف نہیں کیا گیا تھا کہ انڈیا نے براہ راست فوجی مداخلت کی ہے کیوں کہ اس سے انڈیا کی جارح ہونا ثابت ہوتا تھا- - تین دسمبر کو انڈیا نے اس وقت سکون کا سانس لی جب بل آخر دو ہفتوں بعد پاکستان جنگ میں شامل ہوگیا اور مغربی پاکستان سے انڈیا پر حملہ کیا گیا کیونکہ اب انڈیا کھل کر پاکستان میں جنگی کاروایاں کر سکتا تھا- دو ہفتے تک انڈیا کے حملے کے باوجود پاکستان نے کوئی ایکشن نہیں لیا- اس طرح پاکستان کی یہ ڈاکٹرائن غلط ثابت ہوئی کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا- سرمیلا کے مطابق جرنل نیازی نے یہ بھی کنفرم کیا کہ مشرقی پاکستان میں  کمان کو نہ تو اس حملے سے پہلے مشورہ لیا گیا اور نہ ہی اسے مطلع کیا گیا- 


سرمیلا کے مطابق پاکستان میں پھیلے اس تاثر کے بر عکس مجیب کو بنگلادیش میں اکثریتی عوام کی حمایت حاصل تھی- ایک خاموش اور غیر جانبدار بہاری آبادی (جو مشرقی پاکستان کے رہائشی تھے ) کے ساتھ ساتھ بہت بڑی تعداد میں پاکستان کے حامی بنگالی بھی اس تنازع میں شریک تھے- مشرقی پاکستان میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب کل ووٹوں کا ٥٦ فیصد تھا جس میں سے پچھتر فیصد ووٹ مجیب کی عوامی لیگ کو ملے- اس طرح عوامی لیگ کو ٤٤ فیصد عوامی حمایت حاصل تھی- اسی طرح یہ بات گو راز نہیں کہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کا ایک قابل لحاظ حصہ متحدہ پاکستان کی حمایت کرتا تھا جو بعد ازاں بنگالی قوم پرستوں اور مکتی باہنی کے غیظ و غضب کا شکار ہوا اور آج تک غداری کے الزام میں قید و بند اور پھانسیوں کی سزا کاٹ رہا ہے- سرمیلا اس طبقے کے لئے پاکستان کی حمایت کرنے والوں کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں اور انکا کہنا ہے کہ اس طبقے کی موجودگی بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی فوج کے آپریشن کو بنگالیوں کی نسل کشی نہیں کہا جا سکتا- 

انکا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پیچیدہ تنازعہ کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ بھائی بھائی کے مقابل کھڑا ہو گیا تھا- ایسی صورت حال کا تذکرہ صدیق سالک نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے اور راقم کو انٹرویو دینے والے پاکستانی فوج کے رٹائرڈ میجر ریاض جو ١٩٧١ میں ڈھاکہ سے سترمیل دور شیر پور کے سرحدی گاؤں میں تعینات تھے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کی حمایت کرنے والا ایک بنگالی طالب علم انکے پاس آیا- اسکا مطالبہ تھا کہ اسکے بھائی کو گرفتار کر لیا جائے کیونکہ وہ انڈیا جا کر پاک فوج کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے- میجر ریاض کا کہنا تھا کہ انھوں نے طالب علم سے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے اسکی سزا موت بھی ہو سکتی ہے؟ طالب علم کا کہنا تھا کہ اسے اچھی طرح معلوم ہے لیکن اسکا بھائی وطن سے غداری کر رہا ہے- میجر ریاض کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس وقت پاک فوج بنگالی رضا کار بھرتی کر رہی تھی، بہت سے پاکستان کے حمایتی طلبہ جو عمر میں چھوٹے ہوتے تھے اپنا قد بڑھانے کے لئے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو جاتے تھے- جس سے انہیں بدر کے معرکے میں شرکت کے خواہش مند بچے یاد آئے اور انھوں نے اس فورس کا نام البدر رکھا- ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کا ساتھ دینے والے یہ بنگالی بھائی آج اپنی سر زمین پر بہیمانہ انتقامی کاروائیوں کا شکار ہیں لیکن پاکستانی کے مقتدرین اور عوام انکی قربانیوں سے واقف بھی نہیں- سرمیلا شاید پہلی غیر پاکستانی رائیٹر ہیں جو ان رضاکاروں کا موقف بھی بیان کرتی ہیں-    

مجیب گاندھی کے عدم تشدد پر عمل پیرا نہیں تھا- 
انہوں نے غیر ملکی اخبارات کی رپورٹس کے ذریعے اسکے ثبوت پیش کے ہیں- انکا کہنا تھا کہ ایک طرف مجیب کے بارے میں یہ کھا جاتا تھا کہ وہ اپنی عوام پر پورا کنٹرول رکھتا ہے-اور دوسری طرف اسکا یہ کہنا تھا کہ وہ انہیں ہنگاموں کے دوران تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے نہیں روک سکا-  انکا یہ بھی کہنا ہے کہ عوامی لیگ سے تعلق رکھنے  والے  طلبہ یہاں تک کے طالبات کی بھی ہتھیار بند مارچنگ پکچرز اس دور میں شائع کی جاتی رہیں جسے غیر ملکی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا- اس کے علاوہ اس کے جلسوں کو سننے کے لئے جانے والے لوگ ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں، بانس سے مسلح ہوتے- یہ گاندھی کے طرز عمل کے با لکل بر عکس تھا- شرمیلا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حقائق کی روشنی میں مجیب کا یہ دعویٰ گاندھی کے عدم تشدد کا فلسفہ کے برخلاف ہی نہیں ایک انتہائی مضحکہ خیز بات ہے- انکا یہ بھی کہنا تھا کہ متحدہ انڈیا میں بھی گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفہ کو کبھی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور وہاں انگریز کے خلاف تشدد کی انقلابی کاروائیاں سامنے آتی رہی تھیں- ان دہشت گردی کی کاروا ئیاں کرنے والوں کو آج بھی اسی طرح ہیرو سمجھا جاتا ہے جیسا غیر بنگالیوں پر تشدد کرنے والے مکتی باہنی کے ممبران کو بنگلادیش میں قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے-    

سرمیلا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والی پاک فوج کی تعداد نوے ہزار نہیں تھی جیسا کہ مشهور ہے- اسکی تصدیق راؤ فرمان علی نے بھی اپنی کتاب میں کی کہ ہتھیار ڈالنےوالوں میں فوج کی تعداد  نوے ہزار نہیں تھی بلکہ سے آدھی سے بھی کم تھی- لیکن سرمیلا اپنے موقف کی حمایت میں سی آئ اے کے ریکارڈز سے ثبوت لیکر آئ ہیں- 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاک فوج بہادری سے نہیں لڑی-  پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کے سانحے کی بڑی ذمہ داری مشرقی پاکستان میں موجود فوجی قیادت اور جوانوں پر ڈالی جاتی ہے کہ وہ بہادری سے انڈیا کے خلاف نہیں لڑی لیکن سرمیلا اس تاثر کو غلط قرار دیتی ہیں-  اسکے لئے وہ انڈین فوج کے اس وقت کے سربراہ پارسی قوم سے تعلق رکھنے والے جنرل مانک شا کی گواہی لیکر آتی ہیں جنکا کہنا ہے کہ پاک فوج اپنے وسائل کے مطابق بے جگری سے لڑی لیکن حالات اسکے حق میں نہیں تھے- انکا یہ انٹرویو یو ٹیوب پر موجود ہے- مانک شا کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اس لئے نہیں جیتے کہ "پاکستان آرمی کومپٹینٹ نہیں تھی- پاکستان آرمی بہت بہادری سے لڑی لیکن انکے پاس کوئی چانس نہیں تھا،  وہ اپنی بیس سے ہزار میل دور تھے، میرے پاس اس حملے کی تیاری کے لئے نو ماہ کا وقت تھا، میرے پاس ایک کے مقابلے میں پندرہ کی عددی برتری تھی-"

کتاب میں مذکور اہم واقعات 

فوجی کورٹس میں مارے جانے والوں کے لواحقین سے انٹرویوز 
سرمیلا  نے پاک فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے ملٹنٹس کے گھر والوں یا گرفتار ہونے والے اور فوجی کورٹس میں مقدمہ کا سامنا کرنے والے بعض ملیٹنٹس اور مارے جانے والوں کے گھر والوں سے بھی معلومات حاصل کیں- اس معلومات کی بنا پر انکا کہنا بہت سے پڑھی لکھی بنگالی خاندانوں کے بچے انڈیا جا کر نہ صرف ٹریننگ حاصل کر کے بلکہ ہتھیار اور بارود خیز مادہ اپنے ساتھ لیکر آئے اور غیر بنگالی شہریوں اور پاکستانی حکومت کے ملازمین کے قتل عام میں شریک ہوے- ان میں سے کچھ اگست کے مہینے میں پاک فوج کے ایک کریک ڈاون کے دوران گرفتار ہوے- جن پر فوجی عدالتوں میں جرم ثابت ہوا ان میں سے بیشتر دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے- شرمیلا کا کہنا ہے کہ ان پڑھے لکھے بنگالی ملٹنٹس نے انکے سامنے اعتراف کیا کہ وہ شہریوں کے قتل عام میں شریک رہے تھے، اسکے باوجود کہ اس سے آزادی کی تحریک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنا تھا مگر پاکستانی حکومت کے کسی بھی نشانی کو ختم کرنے سے آزادی کی جنگ لڑنے والوں کا مورال بلند ہوتا تھا- ان میں رومی نامی ایک مارے جانے والے بنگالی ملیٹینٹ کی والدہ جہاں آراء نے اپنی ڈائری کو بعد ازاں کتاب کی شکل دی- کتاب کے مطابق انکا آرٹسٹ بیٹا ٹریننگ کے لئے انڈیا گیا، وہاں سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی لایا جسے اس نے گھر میں محفوظ کیا- ایسے بیشمار آزادی کے متوالے اپنے گھروں کو مکتی باہنی کے انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کی بیس کے طور پر استعمال کرتے رہے- کتاب کے مطابق رومی ایک مغربی ملک کے سفیر کے چوکیدار کی ہلاکت میں ملوث تھا- شرمیلا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان بغیر پلاننگ تشدد کی کاروائیوں کا آزادی کی جدو جہد سے تعلق بہت کمزور تھا لیکن یہ اس میں تشدد کے عنصر کو ظاہر کرتا ہے -

شرمیلا کے مطابق ایک سائیڈ کا دہشتگرد دوسری سائیڈ کا آزادی کا متوالا ہوتا ہے- اسکے علاوہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ملٹنٹس کے بیانات سے یہ پتہ چلاتا ہے کہ فوجی کورٹس میں اندھا دھند فیصلے نہیں کے گئے، بعض لوگوں کو چھوڑا بھی گیا-   

ڈھاکہ یونیورسٹی میں پاک فوج کا آپریشن 
پاکستان کے فوجی آپریشن کا جو امیج سب سے پہلے دنیا میں پھیلا وہ ڈھاکہ یونیورسٹی پر حملہ تھا جو پچیس مارچ ١٩٧١ کو آپریشن شروع ہوتے ہی کیا گیا- سرمیلا کا کہنا ہے کہ مکتی باہنی کے لئے ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اس آپریشن کے بارے میں دنیا میں ایک عام تاثر یہ پھیلایا گیا کہ یہ غیر مسلح سولینز کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال تھا- لیکن سرمیلا نے اس وقت کے عالمی پریس سے شواہد اکٹھے کے کہ ثابت کیا کہ ڈھاکا یونیورسٹی میں قوم پرست طلبہ کو مسلح مزاحمت کی ٹریننگ دی جا رہی تھی جس میں خواتین بھی شامل تھیں- اس کے علاوہ یکم مارچ کو اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد مجیب کی کال کے بعد مکمل ہڑتال تھی اور یونیورسٹی ہوسٹل سے طلبہ اپنے گھروں کو جا چکے تھے- لیکن مسلح طلبہ ہوسٹل میں موجود تھے-        

بنگالی انٹلیکچوئلز کا قتل عام 
سرمیلا نے پاک فوج کے سرنڈر سے پہلے ڈھاکہ میں غائب اور بعد ازاں قتل ہو جانے والے ٢٠٠ انٹلیکچوئل حضرات کے گھر والوں کے بیانات لئے- چودہ اور پندرہ دسمبر ١٩٧١ کو بنگالی انٹلیکچوئل حضرات کا قتل جس کا الزام پاک فوج اور اسکا ساتھ دینے والے بنگالی رضا کروں پر لگایا جاتا ہے، سرمیلا اسے اس تنازعہ  کی  سب سے زیادہ بہیمانہ اور ظالمانہ کاروائی قرار دیتی ہیں- سرمیلا کا کہنا ہے کہ انہیں اس قتل عام کا شکار ہونے والوں کے گھر والوں سے انٹرویوز کر کے بھی واحد مستند بات یہ معلوم ہوئی کہ انٹلیکچوئلز کو گھروں سے لے جانے والے بنگالی قومیت سے تعلق رکھتے تھے اور انھوں نے ایک مائکروبس میں گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر بنگالی اسکالرز، ڈاکٹرز، مصنفین، پروفیسرز کو زبردستی اٹھایا اور بعد ازاں انہیں ریار بازار نامی علاقے میں گولی مار دی گئی- حاصل کیے گئے شواہد کی بنیاد پر سرمیلا کا کہنا ہے کہ ان حضرات کو غالباً پاک فوج کا ساتھ دینے والے رضاکار گھروں سے لیکر گئے تھے- 
اس موضوع پر ریسرچ کے دوران راقم کو پاکستان کا ساتھ دینے والے ایک بنگالی پروفیسر نے اپنے انٹرویو کے دوران  یہ سوال اٹھایا کہ پاکستانی فوج کو نو ماہ سے ڈھاکہ پر کنٹرول حاصل تھا- اگر وہ بنگالی انٹلیکچوئل حضرت کو ارادتاً  قتل کرنا چاہتے تو انکے پاس بہت وقت اور طاقت تھی- چودہ اور پندرہ دسمبر کی رات کو جب انڈین فوج عملاً ڈھاکہ میں داخل ہو چکی تھی،  پاک فوج خود اپنی حفاظت کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی- ایسے کسی وقت میں کیا پاک فوج کے پاس ایسے قتل عام کے وسائل موجود تھے؟ سرمیلا کے مطابق ان انٹلیکچوئل حضرات میں ڈھاکا یونیورسٹی کے ایک پروفیسرشاہد ا للہ قصر شامل تھے، جنکے صحافی بھائی بنگلادیشی آزادی کے سالوں بعد پراسرار طور پر غائب ہو  گئے-  

اختتامیہ
سرمیلا نے صرف مستند حقائق اکٹھے نہیں کے بلکہ انکا تجزیہ اعلیٰ درجہ کی ذہانت کی مثال ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایسے حالات میں جہاں پاک فوج کو پوری دنیا میں بدنام کیا جا رہا ہے اسکا بہترین دفاع ہے- یہ کام سرمیلا سے پہلے کسی پاکستانی تحقیق نگار کا تھا- مگر تحقیق کس چڑیا کا نام ہے، یہ جانننے والے ہم میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں اور جو ہیں انکی بھی کوئی سنتا نہیں ہے- ہم گفتار کے غازی ہے، گستاخی رسول کے مسئلے پر جان دینے کے دعوے کر سکتے ہیں مگر میرے سرکار صلیٰ الله پر جو پہلی وہی نازل ہوئی ان الفاظ کو نظریات کا جامہ پہنا کر اپنی معاشرتی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکتے-


اختتام 


مزید  تحقیق کی ضرورت 
اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب صحافتی تحقیق کا شاہ کار ہے،  سرمیلا کا بیان دلائل سے پر اور متوازن ہے لیکن یہ یاد رہے یہ اس پیچیدہ تنازع کا ایک پہلو ہے جسے سرمیلا نے احاطہ کیا- ایک محقق ہر پہلو کا احاطہ نہیں کر سکتا اور انہوں نے بنگلادیشی حکومت اور پاک فوج دونوں کو مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے- تحقیق کا یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے- 

یہ کہانی پوری کہانی نہیں ہے ... صرف شرمیلا کا سچ ہے .. اس نے سفاک سچائی کھوجنے اور پیش کرنے کی کوشش کی ہے-




میں پاکستان میں ایسے مقریرین کو جانتی ہوں جو سرمیلا کے دلائل جوں کہ توں دہراتے ہیں لیکن سرمیلا کا حوالہ دینا تو درکنار اسکا نام تک نہیں لیتے-  


یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس موضوع پر بہت سےحقائق اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں لیکن یہ موضوع ایسا ہے کہ اس پر جذباتی لحاظ سے فریقین تقسیم ہیں اور انکے بیانیہ اور موقف کو تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے- بنگلادیشی حکومت پاکستانی فوج کو ولن اور بنگالیوں کو مظلوم قرار دیتے ہیں اور پاکستان کے حمایتی بنگالیوں کو غدار قرار دیکر انکے خلاف انتقامی کاروائیاں آج تک جاری ہیں- انڈیا اپنے آپ کو فاتح قرار دیتا ہے اور پاکستان پر نسل کشی کا الزام لگا کر پوری دنیا میں بدنام کرتا ہے- پاکستان بجا طور پر انڈیا کو جارح اور در انداز قرار دیتا ہے- پاکستان سے باہر اکثر عالمی حلقے اسے بنگالی مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیتے ہیں اور اس سے صرف فوج بد نام نہیں ہوتی ہم میں سے ہر فرد جو پاکستان کو اپنی شناخت بناتا ہے بد نام ہوتا ہے-
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس موضوع پر نئی آنے والی کتابیں اس بات کا سرسری ذکر ضرور کرتی ہیں کہ انڈیا اس وقت خود انسانی حقوق کی شدیدخلاف ورزیوں کا مجرم تھا- 

سرمیلا کتاب کا اختتام پر تاریخ کے دو پنے اپنے قاری کے سامنے رکھتی ہیں- سرمیلا لکھتی ہیں کہ پچیس اور چھبیس مارچ ١٩٧١ کی درمیانی رات جب پاک فوج کے افسران مجیب کو گرفتار کرنے جاتے ہیں تو مجیب سراسیمہ ہو گیا- سپاہیوں نے اسے گرفتار کیا اور اسے غدار قرار دیکر قید کر دیا گیا- جب پندرہ اگست ١٩٧٥کو بنگلادیشی فوج مجیب کے پاس ای تو وہ ان کو اپنا سمجھ کر ان سے ملا- بنگلادیشی فوج نے مجیب اور اسکے پورے گھرانے کو موت کی گھٹ اتار دیا جن میں اسکی بیوی دو بہوئیں، بیٹے شامل تھے جن میں سے سے چھوٹا دس سال کا تھا-

نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں سرمیلا کی کتاب  کے علاوہ تنازعہ سے ذاتی طور پر متاثر چند حضرت کے انٹرویوز سے بھی مدد لی گئی ہے، جن میں پاکستان کی حمایت کرنے والے ایک بنگالی پروفیسر، پاکستان اور بنگلادیش کے عوام کو قریب لانے کے خواہشمند ایک سرگرم ایک بنگالی سماجی کارکن، پاکستانی فوج کے ایک میجر جنہوں نے ١٩٧١ میں پاکستان کے حمایتی رضاکاروں کی فوج تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا شامل ہیں- اسکے علاوہ کرنل صدیق سا لک، راؤ فرمان علی، گیری جے بیس، خوش ونت سنگھ، جسونت سنگھ، کی کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے- سرمیلا سے کوشش کے باوجود رابطہ نہ کیا جا سکا-


ختم شد


اختتام : 
باکس سٹوری 
سرمیلا کی کتاب پر رد عمل 
جتنا ذہانت سے پر تجزیہ سرمیلا نے کیا ہے اور وہ پاک فوج کے حق میں جو دلائل حقائق اور شواہد و ثبوت کے ساتھ لیکر آئی ہیں، پاکستان کو انکا احسان مند ہونا چاہیے- لیکن ٢٠١١ سے لیکر آج تک میں نے کسی پاکستانی ٹی وی چینل پر انکا انٹرویو یا کتاب پر تفصیلی تبصرہ نہیں دیکھا - حامد میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کتاب اس لئے لکھی ہے کہ وہ بنگالی مسلمانوں کے خلاف تھیں- 

سرمیلا بوس کی کتاب ٢٠١١ میں منظر عام پر آئی- اس کتاب کی وجہ سے سرمیلا کوبنگلادیش، بھارت پوری دنیا میں مخالفت اور سب و شتم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ انہوں نے غیر جانبداری اور ثبوت و شواہد کے ساتھ جن لوگوں کا دفاع کیا ہے انہوں نے انہیں بری طرح نظر انداز کر دیا ہے-

سرمیلا پرالزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے پاک فوج سے پیسے لئے ہیں- حامد میر سرمیلا کے بارے میں کہتے ہیں کہ انکا خاندان ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف تھا، اس لئے انہوں نے بنگالی مسلمانوں کے خلاف یہ کتاب لکھی ہے- میں حامد میر کا ایک سینئر صحافی کی حیثیت سے احترام کرتی ہوں مگر انکی اس بات سے اتفاق نہیں کر سکتی- سرمیلا نے انکی طرح ١٩٧١ کے حالات پر صرف بیان بازی نہیں کی بلکہ گراؤنڈ لیول پر جا کر متاثرین کے انٹرویوز کے ہیں اور سالوں اس موضوع پر تحقیق کی ہے- وہ کلکتہ میں پیدا ہوئیں اور اس جنگ کے وقت ایک بچی تھیں لیکن انکے ہندو بنگالی ڈاکٹر والد نے مشرقی پاکستان کے فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد اپنی پریکٹس چھوڑ کر سرحد پر جا کر آپریشن کے متاثرین کے لئے کلینک قائم کیا- سرمیلا کی اپنے بچپن میں اس تنازع کی یادداشتیں ان بنگالی ہندو اور مسلمان مہاجرین کی مصیبتوں کی ہیں جو پاک فوج کے آپریشن کی وجہ سے کلکتہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے- ایک تحقیق نگار کا کسی موضوع سے جذباتی تعلق ہونا ممنوع تو نہیں لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ وہ اس تعلق کی وجہ سے کہیں جانبدار تو نہیں ہو گیا- اور کیا اس جانبداری کی کوئی وجہ ہے؟ کلکتہ میں پرورش پانے والی آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے اداروں سے منسلک تحقیق نگار جسکا مذہب ہندو مت اور نسل بنگالی ہے، وہ پاک فوج کے حق میں جانبداری کا مظاہرہ کیوں کرے گی-

یہ اور بات ہے کہ انکے بیانیہ نے بھارت اور بنگلہ دیش کے بیانیہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے- جاننے والے جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے اسکول کے نصاب میں پاکستان سے نفرت کرنا سکھائی جاتی ہے- راقم نے ١٤ اگست ٢٠١٨ کو چٹا کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک بنگلادیشی شہری کا انٹرویو کیا تھا - اسکا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جتنا بنگلادیش سے محبت کرنا ضروری ہے اتنا ہی پاکستان سے نفرت کرنا بھی ضروری ہے- ایسے میں اگر کوئی نفرت، تعصب اور مبالغہ پر بیانیہ میں خلل ڈالے اور ثبوتوں کے ساتھ ڈالے تو اسکے لئے بنگلادیشی قوم پرستوں کے کیا جذبات ہونگے اسکا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے-

پھر یہ بات بھی یاد رہے کہ اس نے پاک فوج کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے بری نہیں کیا بلکہ اسکا کہنا یہ ہے کہ جہاں پاک فوج کے افسران نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، پاک فوج کا اپنا کام ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف تحقیقات کروائے اور ان لوگوں کو سزائیں دی جائیں-وہ پاکستان کے حامی بنگالی رضاکاروں کو بھی بری نہیں کرتیں- دسمبر میں جنگ کے آخری دنوں میں بڑی تعداد میں عوامی لیگ کے حامی بنگالی انٹلیکچوئل حضرات کے قتل عام کے حوالے سے جو شواہد انکو ملے انکے مطابق ان انٹلیکچوئلز کو انکے گھروں سے رضاکاروں نے ہی اٹھایا تھا- ایک جگہ انکا کہنا ہے کہ پاک فوج کے کچھ افسران زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والے یعنی خدا بن گئے تھے- انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ پاک فوج اگر بدنامی کا دھبہ خود پر سے ہٹانا چاہتی ہے تو اسے اپنے ان افسران کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کہ انہیں کفر کردار تک پہنچانا ہو گا- انکا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک فوج کے پاس سب ریکارڈ موجود ہو گا- اس لئے وہی اس کام کو انجام دے سکتے ہیں-

ہمارے کالم نگاروں اور اینکرز کے بر عکس سرمیلا نے محض بیان بازی نہیں کی بلکہ وہ اس دور کے عالمی میڈیا، امریکی صدر اور ہنری کسنجر کی گفتگو، خود بھارتی فوج کے افسران کے بیانات، عوامی لیگ کے حامی بنگالی اور مکتی باہنی کے ممبرز، پاکستان کے حامی بنگالی اور غیر بنگالی اور سب سے بڑھ کر بنگلادیش میں موجود متاثریں کے انٹرویوز اور پہلے سے موجود تحقیقی مواد سے شہادتیں لیکر آئی ہیں- انکا ذہانت سے پر تجزیہ ٹھوس ثبوت و شواہد پر مبنی ہے- انکے بیانیہ کو بنگالی مسلمانوں سے نفرت قرار دیکر مسترد کرنے سے پہلے حامد میر کو اس کتاب کو تعصب کی عینک اتار کر پڑھنا ضرور چاہیے- مگر حامد میر اب صحافت کی دنیا میں اس مقام پر فائز ہو چکے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں (اور بڑی تعداد میں انکے چاہنے والے بھی ) کہ انکا کہا پتھر پر لکیر ہے چاہے اسکے لئے وہ دلائل اور شواہد نہ دے سکیں-

پاکستان میں سرمیلا کی کتاب کے ساتھ سلوک
اس تمام معاملے کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں سرمیلا کو بری طرح نظر انداز کیا گیا- میری اطلاعات کے مطابق پاک فوج کی ہر لائبریری میں سرمیلا کی کتاب کی کاپیاں موجود ہیں لیکن اسکے باوجود کتاب کی سیل اتنی کم تھی کہ آکسفورڈ جیسے کمرشل پبلشر نے اسکا اردو ترجمہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا- کبھی کسی ٹی وی چینل پر اس کتاب سے متعلق کوئی پروگرام کم از کم راقم کی نظر سے نہیں گزرا- حامد میر کے منفی بیان کے علاوہ کبھی کسی اینکر سے اس کے بارے میں نہیں سنا- سوائے ٢٠١٢ میں آکسفورڈ کے لٹریچر میلے کے سرمیلا کو کسی قابل ذکر سرمیلا کو پاکستان کے کسی چینل پر انٹرویو کے لئے بلایا گیا اسکا بھی راقم کو کوئی علم نہیں- اگر کسی کو اس بارے میں کوئی معلومات ہیں تو ضرور بتائیں-





باکس اسٹوری ٢
سرمیلا کی آپ بیتی 
سرمیلاآکسفورڈ اور ہارورڈ کی تعلیم یافتہ ہیں اور اس سے قبل انڈیا میں صحافت کرتی رہی ہیں- اہم بات یہ ہے کہ سرمیلا ہندو، بنگالی، کلکتہ کی شہری ہونے کی وجہ سے اس تنازعہ سے براہ راست اپنا تعلق محسوس کرتی ہیں- وہ اپنے ننھیال کا تعلق مشرقی بنگال سے بتاتی ہیں جو تقسیم سے قبل کلکتہ آ کر آباد ہو گیا تھا- سرمیلا رشتے میں برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد کرنے والے انڈین نیشنلسٹ لیڈر سبھاش چندر بوس کی پوتی ہوتی ہیں- انکی والدہ انڈین پاریمنٹ کی ممبر رہی ہیں اور والد ایک بچوں کے اسپیشلسٹ تھے- ١٩٧١ کے تنا زعہ کے وقت سرمیلا کی عمر دس سال تھی- 
انکا کہنا ہے کہ انہوں نے ریسرچ کے لئے یہ موضوع اس لئے چنا تھا کہ وہ اس بیانیہ کو سنتے ہوئے بڑی ہوئی تھیں کہ پاکستان بنگالیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والا ولن تھا، مشرقی پاکستان کے بنگالی مظلوم اور  بھارت مظلوموں کو آزادی دلوانے والا ہیروتھا- انہیں وہ وقت اچھی طرح یاد ہے کہ جب انکے والد نے کلکتہ میں انڈیا پاکستان بارڈر کے قریب پاک فوج کے آپریشن کے متاثرین کے لئے مشرقی بنگال سے آنے والے مہاجرین کے مفت علاج کے لئے کیمپ لگایا- اسکے ساتھ ساتھ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت کلکتہ میں بھارتی حکومت اور فوج مغربی بنگال میں نکسلائٹ کے خلاف فوجی آپریشن جاری تھا اور سڑکوں پر اکثر نکسلائٹ مزاحم کاروں کا اغوا اور بعد ازاں انکی لاشیں سڑکوں پر ملنا روز مرہ کا معمول تھا- سرمیلا کی تصدیق امریکی مصنف گیری جے بیس بھی کرتے ہیںاپنی  کتاب بلڈ ٹیلی گرام میں کرتے ہیں- 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...