ہفتہ، 24 اگست، 2019

ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا Masterfile transferred



مشرقی پاکستان کے بنگلادیش بننے کے حوالے سے میجر جنرل راؤ فرمان علی کی یاد داشتوں میں انھوں نے کلکتہ میں اپنی اسیری کے دوران کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوے لکھا ہے کہ انڈین فوج کے نچلے درجے کے ملازمین کا تعلیمی معیاربھی انہیں پاکستان سے بہت بہتر محسوس ہوا- خود انکی اپنی رائے میں پاکستان بنانے کی ضرورت ہمیں اس لئے پیش آئی کہ ہم تعلیمی اور کاروباری میدان میں ہندو کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے- انکا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے ہوا کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستانی فوج نے اپنی نصاب کو اور آسان کر دیا جب کہ انڈیا نے برٹش راج کے زمانے کے نصاب کو برقرار رکھا- یہ حشر تعلیمی نظام کا ہوا- بنگلہ دیش کے قیام کو چھوڑیں آج مسئلہ کشمیر کے تناظر میں کچھ ہے ہمارے سیکھنے کے لئے؟


انڈیا اور چین ہمارے ساتھ آزاد ہوئے لیکن آج وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتے ہیں جبکہ ہم مغرب کو گالیاں دیکر اسی سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں-




ہمارا یہ حال اس لئے ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کے ساتھ منافقت کا رویہ رکھتے رہے اور آج بھی رکھ رہے ہیں- اس وقت چین اور بھارت کے لاکھوں طلبہ امریکا اور مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور پچھلے بہتر سالوں میں کرتے رہے ہیں- اس کے بعد بہت بڑی تعداد میں لوگ وہاں کی ورک فورس کا حصہ بھی بن کر مستقل رہائش بھی اختیار کرتے رہے ہیں اور انہوں نے وہ مقام حاصل کیا کہ اب وہ مغربی ممالک کے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کر رہے ہیں- یہی لوگ اسکے ساتھ ساتھ اپنے پیدائشی وطن میں ٹیکنولوجی اور آئیڈیاز منتقل کرنے کا سبب بھی بنتے رہے- 

چین اور بھارت میں مغربی ممالک کے مہنگے علاج کا توڑ کرنے کے لئے میڈیکل کے پیچیدہ ترین شعبوں سے مزین ہسپتالوں کو قائم کیا اوراپنا زرہ مبادلہ بڑھا رہے ہیں، تحقیق کو بھی جاری رکھا ہوا ہے، اور صحت کے شعبے میں ملکی ضروریات پوری کر کہ زر مبادلہ بچا بھی رہے ہیں- بلکہ صحت کی انڈسٹری کے بین الاقوامی کنزیومر کو بھی سستے اور معیاری علاج کا لالچ دیکر خدمات فراہم کر رہے ہیں- ایسا وہ صرف اس لئے کرنے میں کامیاب ہوئے کہ انہوں نے مغربی تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا ہماری طرح یہ راگ نہیں الاپتے رہے کہ انگریز نے ہمارے تعلیمی نظام کو خراب کر دیا ورنہ جب وہ آیا تو ہمارے ہاں لاکھوں مدرسوں کا جال بچا ہوا تھا اور ہمارے نظام تعلیم بہت اچھا تھا-

آج کل سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام تو بہت اچھا تھا، لاکھوں مدرسے مساجد کے ساتھ موجود تھے- عرض کیاہے کیا اس تعلیمی نظام میں جو دین اور دنیا دونوں کی ضروریات پورا کرنے کے لئے تھا- میں
 تحقیق، نئے آئیڈیاز پر علمی کام، سفر اور سفر سے دنیا کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے  سسے متعلق کوئی پروگرام موجود تھا؟ دوسرے لفظوں میں اختصاصی فرض کفایہ ہی سمجھ کر تحقیق سے متعلق نصاب میں کوئی حصہ موجود تھا؟  

عرض کیا ہے کہ اگر ہمارا تعلیمی نظام انگریز کی آمد کے وقت اچھا ہوتا تو انگریز کبھی اپنے قدم یہاں جما ہی نہیں سکتا تھا- تحقیق کا کوئی کلچر اس تعلیمی نظام میں موجود ہوتا تو
ہمیں پل پل اسکے ارادوں کی خبر ہوتی- عام طور سے سمجھا یہ جاتا ہے کہ انگریز کی طاقت کا راز آتشیں ہتھیاروں میں تھا جسکی وجہ سے وہ چند ہزار افراد سمندر پار سے آ کر ہندوستان جسی سونے کی چڑیا کو زیر کرنے میں کامیاب ہوئے- لیکن ہم میں سے شاید ہی کم لوگوں کو کوان درجنوں مہمات کے بارے میں کوئی علم ہو جو ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ سے سندھ بلوچستان اس سے آگے کشمیر گلگت بلتستان اور اس سے آگے چترال افغانستان مشرقی اور مغربی ترکستان چین اور اس سے آگے روس اور یورپ بھجواتے رہے-

١٨٨٤ میں شملہ سے چھپنے والی ایک کتاب ڈیفنس آف انڈیا میں انڈیا سے ان مقامات تک پہنچنے کا ہر متبادل را ستہ، راستے میں آنے والا چھوٹے سے چھوٹے قصبے اور گاؤں کی تفصیلات، کنویں، دریا، پہاڑی دروں، پولیس چوکی،حاکم، امیر، یہاں تک کہ پیر فقیر، حکیم تک کی تفصیلات موجود ہیں- یہ علم اور تحقیق کا وہ راستہ تھا جس پر چل کر ایک چھوٹے سے جزیرے سے اٹھنے والی قوم جو ہندوستان کے موسم سے آشنا نہیں تھی، اسکی سینکڑوں زبانیں نہیں جانتی تھی، اسکی راج اور رجواڑوں کی تفصیلات سے آگاہ نہیں تھی نے اسے تاج برطانیہ کے تحت متحد کر دیا اور اپنا قانون نافذ کر کہ دکھایا کہ قانون نافذ کرنے کے خواب محض لال قلعہ پر پرچم لہرانے سے پورے نہیں ہوتے، اسکے لئے چیونٹیوں کی طرح تحقیق کر کہ ذرہ ذرہ جمع کرنا ہوتا، قطرہ قطرہ کشید کرنا ہوتا ہے تب کہیں طاقت کا یہ شربت تیار ہوتا ہے جو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچا کر کسی قوم کی بقا کی ضمانت دیتا ہے- syed maudoodi 


سال گزشتہ ریسرچ میتھو ڈولوجی کی ایک کتاب میں مصنف کا قول نظر سے گزرا کہ "دنیا کو کنٹرول کرنے کے لئے، دنیا کو سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کو سمجھنے کے لئے تحقیق ضروری ہے-" اس بات کو یوں کہہ لیں کہ دنیا میں اپنی پسند کا نظام نافذ کرنے کے لئے پہلے اسے سمجھنا ضروری ہے اور دنیا کو سمجھنے کے لئے تحقیق کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں- اور چونکہ ہم مسلمانوں میں تحقیق کی کوئی مضبوط روایت اب موجود نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ اتنی توانا نہیں کہ وہ دنیا کا مقابلہ کر سکے اس لئے لازم ہے کہ یہ ہمیں اسی مغرب، چین اور انڈیا سے سیکھنی ہو گی کہ علم پر کسی کی اجاراداری نہیں- اگر اسکے لئے اگر چین بھی جانا پڑے تو جانے کا حکم ہے-


سفر کا حکم تو ہماری کتاب میں مذکور تھا،


نوے کی دھائی سے سنتے تھے کہ بھارت انفارمیشن ٹیکنولوجی میں بہت آگے ہے لیکن پاکستان میں اس نوعیت کی تحقیق کا ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ کیسے؟ ہمارے دانشور اور ارباب اختیار تحقیق کو ایک عیاشی تصور کرتے رہے- اس وقت چین اور بھارت مغربی تعلیم اور تحقیق کے ذریعے اپنے آپ کو مضبوط کر رہے تھے- ٢٠٠٤ میں اسلام آباد کی ایک معروف پرائیویٹ یونیورسٹی کے رجسٹرار سے تبادلۂ خیال کا موقع ملا. انکا کہنا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے- ہم تحقیق کی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتے- ایسا صرف امریکا اور امیر ممالک کر سکتے- اندازہ کیجئے یہ ایک یونیورسٹی کےرجسٹرار کے خیالات تھے تو ایک عام پڑھے لکھے کے سوچنے کا انداز تحقیق کے لئے کیا ہو گا؟ 

اسی طرح اسی دور میں کراچی یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ایک ایم فل اسٹوڈنٹ سے بھی اسی نوعیت کے خیالات سننے کو ملے- دیکھا جائے تو اس میں ان لوگوں کا قصور نہیں- تحقیق ہماری ترجیح کبھی نہیں رہی- وہ تو بھلا ہو مشرف کا جسے بھر حال اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے ڈاکٹر عطا الرحمان کو اپنی کیبنٹ میں شامل کر کہ وزیر کے برابر اختیارات دیئے اور اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لئے بجٹ بڑھایا- ایچ ای سی کے ادارے نے بڑے پیمانے پر اس دور میں پاکستانی طلبہ کو ملک سے باہر بھجوایا- تحقیقی مقالات پڑھنے کے لئے، ٹریننگز کے لئے فنڈنگ مہیا کی گئی- یونیورسٹیز میں اساتذہ کی ترقی کے لئے پی ایچ ڈی اور تحقیقی مقالات کا عالمی معیاری جرنلز میں چھپنے کو لازمی قرار دیا گیا- گو اس میں دوسرے شعبوں کی طرح بہت سی بے قاعدگیاں بھی سامنے آئیں لیکن مجموعی طور پر اس اقدام نے ملک میں تحقیق کی روایت کو پنپنے میں مدد دی-   

دور رس اسٹرٹیجی کی اہمیت 
١٩٥٥ میں چین کا سفر کرنے والے پروفیسر عبدلقدوس کو جب ایک فاؤنٹین پین بنانے والی فیکٹری کا دورہ کروایا گیا تو وہ حیران تھے کہ اتنی بڑی افرادی قوت کے استعمال سے تیار کردہ اس قسم کے کم قیمت اور گھٹیا پین کی کھپت کہاں ہو گی؟ اور اتنی محنت کی کیا ضرورت ہے- انکا کہنا ہے کہ چین میں دودھ کی قلت ہے، گوشت کی انتہائی قلت ہے، آبادی کے مقابلے میں زرخیز زمین کی انتہائی کمی ہے- غربت بہت شدید ہے- یہ سب صحیح تھا لیکن حکمرانوں میں اپنی تمام تر فکری بے راہ روی کے باوجود industrialization کا ویژن تھا- انہیں معلوم تھا کہ دور رس اسٹرٹیجی اور تحقیق کے بغیر کوئی ترقی ممکن نہیں اور طاقت کے بغیر اپنا نظام نافذ کرنا ممکن نہیں- اور یہ طاقت وقت کی مروجہ علمی طاقت یعنی مغربی علوم حاصل کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں- چین سے اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کو مغرب بھیجا گیا کہ ہارورڈ جیسی یونیورسٹیز کو چینی طلبہ کے لئے کوٹا مقررکرنا پڑا کہ آئ وی لیگ یونیورسٹیز میں انکی تعداد باقی تمام قومیتوں سے زیادہ تھی جسکی وجہ سے انکا غلبہ مضبوط ہوتا جا رہا تھا- خود کینیڈا میں البرٹا کے ٹاپ اکیڈمک رینکنگ کے اسکول میں جہاں بلند ترین میریٹ کی بنیاد پر طلبہ کا داخلہ کیا جاتا ہے چینی طلبہ اتنی تعداد میں موجود ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ چین کے کسی شہر کے تعلیمی ادارے میں داخل ہو گئے ہیں- چین کے بعد امریکی یونیورسٹیز میں دوسری بڑی تعداد بھارتی طلبہ کی نظر آتی رہی ہے- آج انکی دوسری تیسری نسل کمالہ ہارس کی صورت میں وائٹ ہاؤس تک پہنچ گئی ہے-     

آج ہم اسلامی نظام کے نعرے تو لگاتے ہیں کبھی یہ سوچا کہ اگر اسلامی نظام آ بھی گیا تو کیا یہ بغیر طاقت کے قائم بھی رہ سکے گا؟ افغان طالبان کا تجربہ اس کی نفی کرتا ہے-

عالمی شہرت یافتہ اسکالر اور سی این این اور الجزیرہ کے اینکر فرید زکریا اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا کہ انڈیا اور چین اپنی شناخت پر فخر نہیں کرتے تھے- یا انہیں ماضی کی اپنی شاندار تھذیب سے کوئی لگاو نہیں تھا- لیکن ان ممالک کو یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ آج کے دور میں اگر طاقت پکڑنی ہے ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو مغربی تعلیم حاصل کے بغیر ممکن نہیں-

حضرت علی سے منسوب یہ قول اکثر سننے میں آتا ہے کہ "حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے اور یہ جہاں سے ملے اسے حاصل کرو- افسوس جس قوم میں ایسی ویژنری قیادت موجود تھی وہ احساس کمتری اور برتری کا شکار ہو کر آج کانوں پر ہاتھ رکھ رکھ کر چلاتی ہے کہ ہمیں مغربی تعلیم کی ضرورت نہیں- طالبان کی مثال دی جاتی ہے کہ انہوں نے مغربی تعلیم کے بغیرحکومت کر کہ دکھائی- بجا ارشاد طالبان انتہائی غربت اور کسمپرسی کی حالت میں افغانستان میں امن لا کر دکھایا، منشیات کی پیداوار اور اسلحہ پر پابندی لگائی- اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی نظام حیات کے تمام پہلودنیا کے سامنے روشن کر دئیے لیکن حضور کیا وہ اس نظام ہی کو برقرار رکھ پائے؟ وائٹ ہاؤس کے ایک فیصلے نے ساری بساط لپیٹ دی- کہ طاقت حاصل کے بغیر تم اپنا نظام چاہے وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو نافذ نہیں رکھ سکتے- آج بیس سال بعد اگر وہ واپس افغان سیاست کا حصہ بننے جا رہے تو امریکا سے مذاکرات کے بعد ہی-


کہنا صرف اتنا ہے حضور کے حکمرانوں سے اسلامی نظام کے نفاذ کی دھائیاں ضرور کیجئے- اسے دین کا اصل مقصد اور اپنا مقصد زندگی بھی سمجھیے لیکن یہ جان لیجئے کہ دنیا کے مروجہ علوم حاصل کے بغیر ہم اپنی مرضی کا نظام نافظ نہیں کر سکتے چاہے وہ چین، ہندوستان، امریکا اور اسرائیل سے کتنا بھی بہتر کیوں نہ ہو- اسی لئے جنگی قیدیوں سے فدیہ لے کر آزاد کرنے کے بجائے ان سے تعلیم دینے کا کام لیا گیا-کوئی پوچھ کہ وہ جنگی قیدی مدرسوں کے معلمین تھے؟ یا وہ کافر جو تلوار کے ساتھ مسلمان سے لڑ رہے تھے-


لڑائی کے لئے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا گیا- اسی لئے گھڑ سواری، تیر اندازی سیکھنے کا حکم دیا گیا- لیکن آج کی لڑائی جن میدانوں میں ہوتی ہے اسکے اسلحے سے لیس ہونے کے لئے تحقیق ناگزیر ہے- 

آج چین اور انڈیا کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے- چین کا جی ڈی پی امریکا سے اور بھارت کا جی ڈی پی برطانیہ سے بڑھ گیا- کشمیر، ہمالائی ریاستوں، تبت، اور سنکیانگ پرانکے مظالم اپنی جگہ لیکن ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ان مظالم کے مقابلے میں ہم نے کبھی کوئی دور رس اسٹرٹیجی بنائی ہے؟

پاکستان کے قیام اور ریاست مدینہ میں مماثلت کی پوسٹیں شئیر کرنے والوں کو یہ کون بتائے؟ اس سے بڑھ کر قائد اعظم اور دوسرے بزرگوں کے بارے میں جھوٹے سچے قصے گھڑکر سوتی ہوئی قوم کو اور سلانے والے کو جو ہجوم کی آنکھوں میں آنسو بھی لا سکتے ہیں اور اسے دھاڑیں مار مار کر رونے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں کو کون سمجھائے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا




Trash
استنبول میں قیام کے دوران ایک ایغور نوجوان کے قائم کردہ لینگویج اسکول کے دورے کا اتفاق ہوا- وہاں ایک ٹیچر نے مجھے کہا کہ ہماری سو سال تک یہی اسٹرٹیجی رہی کہ ہم صرف دین کا علم حاصل کر لیں لیکن اب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں دین اور دنیا دونوں کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے- میرے استفسار پر کہ وہ دنیا کا علم کسے سمجھتے ہیں انکا کہنا تھا کہ میڈیا، تاریخ، سیاسیات،اور دیگر سماجی علوم مینجمنٹ اور انگریزی، ترکی، عربی اور دیگر یوروپی زبانیں- ان نوجوانوں میں مجھے باخبری کی رمق نظر آئ- 

اس اسکول کے داخلی راستے میں مجھے ترکستان اور دنیا کے دیگر خطوں کے اسکالرز کے بڑے بڑے پوسٹر نظر آئے تو میرے استفسار پر اس نے مجھے بتایا کہ مشرقی ترکستان میں تعلیم کے دوران اسے ماؤ اسٹالن اور دیگر سوشلسٹ اور کمیونسٹ شخصیات کی تصویر دیکھنی پڑتی تھیں اور وہ سوچا کرتا تھا-


با لکل متفق- دین کی اصل سمجھ کی بہت کمی- کائنات کی تسخیر، حصول علم اور ریسرچ دین کا حصہ ہے- ہماری حکومت، سیکولر اداروں کی طرح دینی قیادت کو بھی اسکا ادراک نہیں- دین صرف نماز روزے پردے اور داڑھی وظائف کا نام نہیں- یہ سمجھنا ضروری- کم از کم ہم اسلام پسندوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے- دین کا تصور واضح نہیں صدیوں سے مسلم امت میں-  معذرت کہ دین کے رکھوالے دین کا ایک نا مکمل تصور مارکیٹ کرتے رہے ہیں- اگر جہاد دین کا حصہ ہے تو جہاد کے لئے طاقت پکڑنا بھی دین ہے اور یہ ریسرچ اور حصول علم سے محبت کے ایک کلچر کے بغیر ممکن نہیں-  



Tazeen Hasan Agreed. Deen ki asal samjh ki bht kami. research is part of Deen, hamari deeni qayadat yeh nhin samjhti- Deen sirf namaz roza parda darhi tak mehdood.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...