منگل، 30 جولائی، 2019

مغربی فیمینزم بمقابلہ قرانی فیمینزم

Probabaly sent to Batool
مغربی فیمینزم بمقابلہ قرانی فیمینزم 

tazeen Hasan


اس مضمون میں مغربی فیمینزم کی تحریک کا تجزیہ قرانی حقوق نسواں کے تناظر میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے. مضمون نگار کے تجزیہ کے مطابق اگر فیمینزم یا حقوق نسواں کی تحریک کا مطلب و منشا مرد اورعورت کی برابری ہے تو ہے تو اسلام سے زیادہ فیمنسٹ مذہب یا معاشرتی نظام ممکن نہیں ہے. قران کا بڑا حصہ اس بات کا گواہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے قانون کے مقابلے میں اسلام عورت کو مرد کے برابر حقوق دیتا ہے.

مضمون کو دو حصوں میں بانٹا گیا ہے. پہلے حصے میں انیسویں صدی میں شروع ہونے والی مغربی حقوق نسواں کی تحریک کے عورت پر اور معاشرے پر اثرات کو زیر بحث لیا گیا ہے اور دوسرے حصے میں قرانی آیات کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اسلام نے ساتویں صدی عیسوی ہی میں عورت کے حقوق کے مقدمہ کا فیصلہ کر دیا گیا تھا. افسوس کہ آج کے مسلمان معاشروں میں بھی ہمیں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے قران کے بڑے حصے پر عمل نظر نہیں آتا.



پہلا حصہ: مغربی فیمینزم کے معاشرے اور خود عورت پر منفی اثرات

سیلی کرومویل میری پڑوسن ہے. وہ ہائی اسکول میں تھی جب وہ پہلی دفعہ حمل سے ہوئی. اسکا بوائے فرینڈ ٹم اسکا منگیتر تھا. وہ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے مگرٹم کی والدہ سیلی کو پسند نہیں کرتی تھیں. وہ انکے ہر معاملے میں دخل اندازی کرتیں. ٹم کا اپنا سلوک بھی سیلی کے ساتھ اچھا نہیں تھا. وہ کبھی کبھی اسکے ساتھ مار پیٹ کرتا. سیلی حمل سے ہوئی تو ٹم کا کہنا تھا کہ وہ اسقاط کروا لے. مگر سیلی کا کہنا ہے کہ اسکا تعلق ایک مذھبی گھرانے سے تھا اور کیتھولک مذہب میں اسقاط حمل حرام ہے. سچی بات ہے سیلی کی یہ منطق میرے سمجھ نہیں آتی لیکن دلچسپ بات یہ کہ آج بھی مغرب میں ایسی خواتین عام ہیں جو مذہبی احکاما ت کو اپنی زندگی میں فیصلہ کن سمجھتی ہیں. (یہ دوسری بات ہے کہ انکا چرچ تک محدود مذہب انکی زندگی کے معاملات میں مکمل رہنمائی نہیں کرتا) شادی سے قبل صنفی تعلقات کو مذہبی لحاظ سے برا نہیں سمجھا جاتا مگر اسقاط حمل کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے. ایک اور چیز جس پر آگے بات کریں گے وہ یہ کہ بعض فرقوں میں طلاق کو بھی مذھبی لحاظ سے گناہ سمجھا جاتا ہے. ٹم کی مخالفت کے باوجود دس سال پہلے سیلی نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا. بچے کی پیدائش کے بعد ٹم کا رویہ اسکے ساتھ اور خراب ہو گیا. مار پیٹ اور گالم گلوچ بڑھ گئی. آخر کار ان دونوں میں شادی کے بنا ہی علیحدگی ہو گئی. سیلی کا کہنا ہے کہ ٹم نے سیلی کو علیحدگی کی سزا دینے کے لئے بچہ کچھ قانونی ہتھکنڈوں کی مدد سے خود رکھ لیا. سیلی اب دو اور بچوں کی ماں بن چکی ہے. اسکے تینوں بچوں کے باپ مختلف ہیں. میں ایک پڑوسن کی حیثیت سے گواہ ہوں کہ سیلی کی زندگی اب اپنے دو چھوٹے بچوں کے گرد گھومتی ہے.اس سوال پر کہ کیا تم شادی کرنا نہیں چاہتیں، اسکا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے شادی کرنا چاہتی ہے مگر اسے یہ بات معلوم ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو گا. وہ اب بھی عارضی ساتھ کے لئے بوائے فرینڈ رکھتی ہے مگر اسکا کہنا ہے کہ وہ سب اسکے جسم سے دلچسپی رکھتے ہیں. کوئی بھی اسکی ذمہ داریاں شئیر کرنا نہیں چاہتا. ایسے واقعات آج مغرب میں کوئی استثنیٰ نہیں- سیلی کا کہنا ہے کہ اسکے ارد گرد ہر جگہ ایسی کہانیاں عام ہیں اور ہر کونے میں ان مشکلات کا شکار عورتوں کو دیکھا جا سکتا ہے.

یہ مغربی معاشرے کی اخلاقی اقدار کے تحت زندگی گزا رنے والی عورت کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے. معاشرے پر ان اقدار کے منفی اثرات پر ہم نے ان صفحات پر بحث کرنے کی کوشش کی ہے. حقوق نسواں کی تحریکیں مغربی عورت کو مرد کے برابر مقام دلوانے کے لئے ڈیڑھ صدی سے کوشاں ہیں. لیکن دیکھا جائے تو چند نمائشی حقوق کے علاوہ یہ تحریک کوئی عملاً کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی. مثلاً امریکا جیسے ملک میں آج تک مردوں اور عورتوں کے ایک ہی کام کا مساوی معاوضہ آج بھی قانوناً ممکن نہیں. معروف تھنک ٹینک پیو ریسرچ کے اکتوبر ٢٠١٧ کے ایک سروے کے مطابق امریکا میں ٧٣ فیصد خواتین ورک پلیس پر اپنے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات کرتی ہیں. تحریک حقوق نسواں کی بڑی کامیابیاں عورتوں کو انتخابات میں حق رائے دہی، جائیداد رکھنے کا حق، گھر سے باہر نکل کر ملازمت کرنے کا حق اور شوہر سے علیحدہ مالی حیثیت رکھنا گنوایا جاتا ہے جسکا حق مغربی عورت کو بلترتیب بیسویں اور انیسویں صدی میں ملا. جب کہ قران ساتویں صدی میں گھر، بیوی بچوں کی کفالت کی ذمہ داری مرد پر ڈالنے کے باوجود عورت کو وراثت میں حقوق، علیحدہ مالی حیثیت، شادی کے مہر کی صورت میں مالی مفادات کا واضح تذکرہ کر کہ قوانین متعین کرتا ہے. یہ دوسری بات ہے کہ قران کی واضح آیات اور احکامات ہمارے معاشرتی مائنڈ سیٹ میں بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکیں. 


بروکنگ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ
What Can Be Done to Reduce Teen Pregnancy and Out-of-Wedlock Births?
کے مطابق اس سارے معاملے کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب ایسی کم عمر ماؤں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو ہائی اسکول کے دوران ہی ماں بن جاتی ہیں. ایسے واقعات بھی اب غیر معمولی نہیں رہ گئے ہیں جن میں بچیاں دس گیارہ سال کی عمر میں اپنے پہلے بچے کو جنم دیتی ہیں. ایسا اسکے باوجود ہے کہ اسکولوں میں ابتدائی کلاسوں سے بچوں کو جنسی تعلیم دی جاتی ہے اور برتھ کنٹرولز کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا جاتا ہے. گو اسٹیٹ اور ملکی قانون ان بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ایسی اکیلی ماؤں کو مالی امداد دیتا ہے مگر ان میں سے بیشتر مائیں اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتیں اور انکی جوانی کا بڑا حصہ اپنے بچوں کی نگہداشت میں گزر جاتا ہے. سیلی بھی اپنا ہائی سکول مکمل نہیں کر سکی. گو کبھی کبھی باپ بھی شادی کے بندھن سے باہر پیدا ہونے والے کی بچے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے مگر انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے. بروکنگ کی رپورٹ کے مطابق اکیلے والدین single parents کی 84 فیصد تعداد عورتوں جبکہ 16 فیصد تعداد مردوں پر مشتمل ہے.

مغرب حقوق نسواں 

ستم ظریفی یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں فیمینزم کے نام پر عورت کو جو حقوق حاصل تھے وہ بھی اس سے چھین لئے گئے ہیں. برابری کا نعرہ دیکر مرد پر اسکی کفالت کے حق کو ساقط کر دیا گیا ہے.گھر سے باہر نکل کے معاش کی چکی کا ایندھن بننے کو عورتوں کا حق تصور کر لیا گیا- دوسری طرف بغیر کسی دیر پا معاہدے کے اپنے جسم کو مرد کے حوالے کرنے کو بھی عورتوں کا حق تصور کر لیا گیا ہے. 

فیمینزم یعنی حقوق نسواں کی تحریک خواتین کو برابر معاوضہ تو اکیسویں صدی تک نہ دلوا سکی مگر انھیں گھروں سے باہر نکال کر ملکی معیشت کا پرزہ بنا کر اسے یہ زعم ضرور دے دیا کہ وہ اپنے جسم کی مالک ہے اور جس سے چاہے صنفی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے. فیمینزم کے نام پر عورت کو اسکے سب سے قیمتی اثاثے نسوانیت سے  دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے. آج وہ آزادی کے نعروں کا شکار ہو کر خود جسمانی آسودگی کی تلاش میں مرد کے پیچھے بھاگ رہی ہے اور اسکے مطالبات ماننے پر مجبور ہے. دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں مرد پر سے ہر ذمہ داری ساقط ہو چکی ہے. 

سب سے بڑھ کر گھر کا ادارہ جو قوموں کی بقا کے لئے ایک یونٹ کی حیثیت رکھتا تھا اسے نا قبل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے. ان دونوں معاملات کا بالغ نظری سے جائزہ لیا جائے توانہوں نے گھر کے ادارے پر کاری ضرب لگا کر صرف عورت اور اسکی ہونے والی اولاد کو ہی نا قابل تلافی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ پورے مغربی معاشرے کو کمزور کر دیا ہے.
راقم نے ایک صحافی کی حیثیت سے پچھلے چار سالوں میں مغرب میں عورتوں کے حقوق کے موضوع پر (معاملے کے اخلاقی پہلو کو ایک طرف رکھتے ہوئے اور حتیٰ الامکان غیرجانب دار رہتے ہوئے) کئی خواتین سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا. مجھے محسوس ہوا کہ مغربی عورت آج بھی ایک دیرپا تعلق اور گھر بنانے کو ترجیح دیتی ہے جہاں وہ بچوں کی تربیت اپنے شوہر یا پارٹنر کے ساتھ ملکر کر سکے. لیکن مرد کو جب جنسی آسودگی ان تمام ذمہ داریوں کے بغیر مل رہی ہے تو وہ شادی کرکہ خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتا. پھر اسکی فطرت کچھ ایسی ہے کہ اسکا دل ایک ساتھی سے عموماً جلدی بھر جاتا ہے اور اگر انتخاب موجود ہے جسکی اس مخلوط پابندیوں سے ماوراء معاشرے میں ظاہر ہے کوئی کمی نہیں تو وہ پارٹنر تبدیل کرنے کو ترجیح دیتا ہے. کہا جا سکتا ہے کہ یہی انتخاب ایک عورت کو بھی حاصل ہے. بجا ارشاد لیکن کیا عورت کی فطرت بھی قدرت نے ایسی ہی تشکیل دی ہے؟ میں نے جتنی خواتین کی زندگی میں بغور جھانکا مجھے اسکا جواب نفی میں ہی ملا. گو مغربی عورت بھی پارٹنر بدلنے کو اپنا حق تصور کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے استعمال بھی کرتی ہے. ایک دفعہ خواتین کے اسٹیم روم میں ایک خاتون نے مجھے ایک نا مناسب اشارہ کرتے ہوے کہا کہ مرد دماغ سے نہیں کہیں اورسے سوچتا ہے. عورت نئی نسل کی پرورش کے لئے جس دیرپا تعلق کی متقاضی ہے اسکی عدم موجودگی میں وہ مسلسل عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے. اسے اپنی گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ مسلسل اپنے فگر اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کے حوالے سے بھی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے. کیونکہ ظاہری حسن اور جوانی کھو دینے کی صورت میں اسے نہ تو مرد کا عارضی سہارا ملے گا اور نہ ہی ورک پلیس پر پذیرائی ملے گی.

بنا شادی بچوں کی تعداد میں اضافہ

2017 میں شائع ہونے والی ییل یونیورسٹی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ
Out-of-Wedlock Births Rise Worldwide
کے مطابق دنیا کے کچھ خطوں میں بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کل بچوں کے 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے. امریکا میں یہ تعداد 40 فیصد جبکہ شمالی یورپ کے کچھ ممالک میں یہ شرح 70 فیصد تک چلی گئی ہے. پچھلے پچاس سال میں بنا شادی بچوں کی پیدائش میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ سنگل مدرز یعنی اکیلی ماؤں کی تعداد میں بھی. 2016 میں شائع ہونے والی جان ہاپکنز یونیورسٹی کی ایک ریسرچ


Changing Fertility Regimes and the Transition to Adulthood 


کے مطابق امریکا میں چونسٹھ فیصد عورتیں کم از کم ایک ایسے بچے کی ماں ضرور ہیں جو شادی کے بندھن سے باہر (آوٹ آف ویڈ لاک ) پیدا ہوتا ہے. غریب یا کم آمدنی والے علاقوں میں ان غیر شادی شدہ ماؤں کی تعداد 74 فیصد تک جا پہنچتی ہے. دوسری طرف شادی کو ایک بہت سنجیدہ فیصلہ سمجھا جاتا ہے جس سے قبل جوڑے کا ساتھ رہنا بھی انتہائی ضروری خیال کیا جاتا ہے. نتیجتاً بہت سے جوڑے شادی سے قبل کچھ عرصہ ساتھ رہنے کے بعد الگ ہو جاتے ہیں. اس صورت حال کا ایک لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ جوڑے بچے پیدا کرنے سے بچنے لگتے ہیں. خصوصاً جہاں مائیں کیریئر کے لئے سنجیدہ ہوں. جرمنی اور جاپان میں شادی اور بچے پیدا کرنے کے رحجان میں کمی کی وجہ یہی بتائی جاتی ہے.

حقوق نسواں کی تحریک کے نتیجے میں بنا پابندی صنفی تعلقات کے سماجی پہلوؤں سے آگے بڑھ کر ملکی معیشت اور ترقی پر بھی منفی اثرات کے امکانات بڑھ رہے ہیں. بچے کم پیدا کرنے کے رحجان سے خوشحال مغربی ممالک آبادی اور نتیجتاً ورک فورس میں کمی کا شکار ہیں یا ہونے والے ہیں. تھنک ٹینکس سنجیدگی سے آبادی میں کمی کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور تشویشناک اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں. جرمنی، جاپان، کینیڈا سمیت بہت سے ممالک کی حکومتیں کثیر مالی فوائد کے ذریعے عوام کو بچے پیدا کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. صورت حال کچھ یوں ہے کے کسی قوم کی بقا کے لئے جس کم سے کم شرح پیدائش کی ضرورت ہوتی ہے مغرب کے خوش حال ترین صنعتی ممالک اس حد تک نہیں پہنچ پا رہے. سال گزشتہ جاپان کی ایک یونیورسٹی میں ایک کلاک لگا دی گئی جو جاپانیوں کو یہ بتاتی رہتی ہے کہ اگر آبادی میں کمی کا رحجان برقرار رہا تو کتنے عرصے میں جاپانی قوم ختم ہو جائے گی. بہت سے مغربی ممالک ماس امیگریشن کو اس مسئلے کا حل گردانتے ہیں. مگر دوسری طرف مہاجرین کی آمد میں اضافے سے مغربی معاشروں میں اسلاموفوبیا اور نسل پرستی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے. دنیا گلوبلائزیشن کی کامیاب کوششوں کے بعد ایک دفعہ پھر رنگ، مذہب اور نسل کی بنیاد پر نفرت کے چنگل میں جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے. مغرب کی پوری سیاست مہاجر مسئلے اور اسلامو فوبیا کے گرد مرتکز ہے. برطانیہ میں برکزٹ، کے بعد امریکا میں ٹرمپ کی آمد، جرمنی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ دائیں بازو کی نسل پرست جماعتوں کا پارلیمنٹ میں پہنچنا، کینیڈا کے پچھلے الیکشن میں نقاب کے مسئلے کو انتخابی اشو کے طور پر استمعال کرنے کی کوشش، اسکے چند مظاہر ہیں. مغرب میں ایک بڑا خوف یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر مہاجرین کی آمد اسی طرح جاری رہی تو ایک طاقت ور تھذیب (اسلامی تھذیب) ایک کمزور تھذیب (مغربی) پر غالب آ جائے گی.

ایسے میں ڈیڑھ صدی پہلے کہا گیا اقبال کا ایک بے نظیر مصرع یاد آتا ہے:

ع تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کرے گی


مغربی انٹلیکچوئلز کی شادی کے ادارے پر ضربیہ بات یاد رہے کہ ایسا مغربی معاشرے میں ہمیشہ سے نہیں تھا. پچھلے دو تین سو سال سےکچھ مغربی انٹلیکچوئل حضرات اپنے افکار کے ذریعے دنیا کو یہ بتاتے رہے کہ شادی کا ادارہ محض روایتی ادارہ ہے. اسکے باوجود اعداد و شمار کے مطابق پچاس ساٹھ سال پہلے تک مغرب کے بیشتر ممالک میں شادی کا ادارہ قائم تھا. بچے عموماً دونوں والدین کے زیر سایہ پرورش پاتے تھے لیکن پچھلے سو سالوں میں ماس میڈیا اور اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے بھی رومانس کلچر کو فروغ دیکر بنا شادی صنفی تعلقات کے کلچر کو معاشرے کا چلن بنانے میں اپنا کردار خاموشی اور معصومیت سے ادا کیا ہے. رہی سہی کسر حقوق نسواں کی تحریک نے پوری کر دی جسکے مطابق عورت صنفی لحاظ سے مرد کے برابر ہے. ملازمت کو عورت کا حق گردانا گیا اور شادی سے قبل صنفی تعلق کو بھی. نتیجتاً بنا شادی کے ماں بننے والی خواتین میں خوف ناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خصوصاً ان ممالک میں جہاں ایسے تعلقات کو معاشرے میں کلنک کا ٹیکا نہیں سمجھا جاتا اور ایسے بچوں کو ناجائز تصور نہیں کیا جاتا. مغربی یورپ کے بیشتر ممالک، شمالی اور لاطینی امریکا کے بیشتر ممالک اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں پیش پیش ہیں. 

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روشن خیال تحریک کے انٹلیکچوئلز، حقوق نسواں کی تحریک سے لیکر ماڈرن میڈیا تک کے ان نظریات کی حمایت کا براہ راست نقصان عورت کو ہو رہا ہے.

جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا میں عورتوں کے ساتھ معاشرے کے ناروا سلوک پر میں ہمیشہ سے افسردہ رہی ہوں اور اس موضوع پر لکھتی اور بولتی بھی رہی ہوں. لیکن مغرب میں اکیلی ماؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد، مغربی معاشرے میں عورتوں پر تلاش معاش اور گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں اور انکی مشکلات دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ مغرب کی حقوق نسواں کی تحریک کے صدیوں کے سفر کے بعد بھی یہاں عورت مشرقی عورت سے کہیں زیادہ مظلوم ہے. گو مغربی طرز زندگی کی چکا چوند بظاہر متاثر کئے بغیر نہیں رہتی لیکن انکے معاشرے میں جھانکا جائے تو اسکے گلیمر سے رومانس ختم ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے. سورۂ آل عمران آیت نمبر ١٩٦ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے " دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے-"


اس سے آگے بڑھ کر میں مسلم معاشروں میں ان رحجانات کو دیکھ کر خوف آتا ہے جو ٹیکنولوجی کے پھیلاؤ اور دینی طبقات میں الله کی کتاب کی غلط تفہیم کی وجہ سے ہمارے معاشرے کو اسی سمت لے کر جا رہے ہیں جہاں جا کر مغرب خود کشی کر رہا ہے.




پارٹ ٢





قرانی فیمینزم: قران آج سے چودہ سو سال پہلے عورتوں کے کیا حقوق کی بحث کس طرح چھیڑتا ہے اور حقوق کے اس مقدمے کا کس خوبصورتی سے فیصلہ دیتا ہے


راقم کو بچپن سے انسانی زندگی کے اسرار جاننے کا تجسس رہا اور ہمیشہ مختلف قوموں کے رہن سہن کلچر سماجی رحجانات اور دنیا پر انکے اثرات جاننے سے دلچسپی رہی. ایک صحافی اور لکھاری کی حیثیت سے پچھلے چار سال میں مجھے امریکا اور کینیڈا کے معاشرے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا. اسکے ساتھ ہی الله کے دین اسکی کتاب میں دیئے گئے قوانین کو ایک مختلف تناظر میں سمجھنے کا موقع الله نے دیا. اور میں اگر تمہید کے بغیر بات کروں تو جتنا زیادہ مجھے اس معاشرے میں رہ کر قران کو سمجھنے کا موقع ملا میرا یہ یقین بڑھتا چلا گیا کہ اگر فیمینزم کا تعلق عورتوں کے حقوق سے ہے تو قران بذات خود ایک فیمنسٹ کتاب ہے. قران جگہ جگہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عورت اپنی مختلف جسمانی ساخت کے باوجود اور الگ دائرہ کار کی ضرورت کے باوجود مرد کے برابر ہے. وہ مختلف ضرور ہے مگر حقیر نہیں. مغربی معاشرہ میں عورت کے حقوق کی بحث فیمینزم تحریک نے انیسویں صدی میں شروع کی جبکہ سورۂ بقرہ ساتویں صدی سے عورتوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے: "عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے." اسی سورۂ میں ایک اورجگہ دونوں کو ایک دوسرے کا لباس کہہ کر انہیں برابر قرار دیا گیا: "وہ عورتیں تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو-" مساوات کے لئے اتنے خوبصورت اور جامع الفاظ کی نظیر ملنا مشکل ہے.

بار بار یاد دلایا گیا کہ یہ عورتیں تمہاری ہی جنس سے ہیں- سورۂ روم میں آیات نمبر اکیس میں ارشاد فرمایا گیا: "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں"


سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء پڑھتے ہوے مجھے بارہا محسوس ہوتا ہے کہ جگہہ جگہہ اوراق پرقران کے مصنف خالق حقیقی کی محبت اپنی اس کمزور مخلوق کے لئے ٹپک رہی ہے. اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب میں پلٹ کر مسلم معاشروں کی طرف دیکھتی ہوں تو مجھے خا لق کی اس محبت کا عکس مسلم معاشروں میں بھی نظر نہیں آتا.

قران بارہا ماں بچے کی پیدائش کی خاطر جس تکلف سے گزرتی ہے اسکی قدر کرنے کا حکم دیتا ہے- اس مضمون کو قران میں بار بار دہرایا گیا ہے. سورہ لقمان آیات نمبر ١٤ میں ارشاد ہے: "اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اُس کا دودھ چھوٹنے میں لگے (اِسی لیے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے"

ہمارے معاشرے میں ہم ماں کی عزت اور ماں کی بات تو کرتے ہیں مگر دوسری طرف اپنے بچوں کی ماں کی قدر کرنا ایک مرد کو نہیں سکھایا جاتا. یہ جملےعام ہیں " آج کل کی مائیں ایسی ہوتی ہے"، "عورتیں ڈرامہ کرتی ہیں"، اگر وہ بچے کی پیدائش یا شیر خوارگی کے دوران صحت کے مسائل کا شکار ہو تو اس حوالے سے معاشرے میں بہت کم آگاہی موجود ہے. بلکہ عام طور سے یہ کہہ کر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے کہ ان مراحل سے تو ہر عورت گزرتی ہے- لیکن قران نے انہیں اہم جان کر ساتویں صدی میں مسلمانوں کو ان مسائل سے آگاہ کیا. اس نے حمل اور دودھ پلانے کے دوران روزوں جیسی اہم عبادت کو ملتوی کرنے کی اجازت دی. علیحدگی کی صورت میں مرد کو پابند بنایا کہ اگر وہ بچے کو دودھ پلوانا چاہتا ہے تو عدت کے بعد بھی سابقہ بیوی کی کفالت کرے. صنف نازک کی ان اہم اور پیچیدہ ضروریات پر اتنی باریک بینی نظر رکھنے والے مذھب کو اگر فیمنسٹ نہ کہا جائےتو کیا کہا جائے.

سورہ فرقان آیت نمبر ٧٤ میں نیک بندوں کی نشانیاں بتاتے ہوے کہا گیا کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ شریک حیات کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں:"جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا"

آگے بڑھنے سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ عورت جسمانی طور پر کمزور ہے اور اسی لئے طاقتور فریق کو اس پر غلبہ حاصل ہونے کا امکان ہمیشہ زیادہ رہتا ہے. اسکے علاوہ جذباتی لحاظ سے بھی وہ مرد سے مختلف ہے اور اکثر جگہ کمزور پڑ جاتی ہے. مثلاً بچوں سے محبت بھی اسکے پاؤں کی بیڑی ہے. سیلی کا کہنا ہے "وہ ہر وقت اپنے دس سالہ بیٹے کو یاد کرتی ہے. اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسکے جسم کا کوئی حصہ اس سے الگ کر دیا گیا ہے." مرد کے مقابلے میں تعلق ختم ہونے (بریک اپس) کا بھی وہ زیادہ اثر لیتی ہے.


قران اس حقیقت کو سامنے رکھ کر مرد اور عورت دونوں کے حقوق اور فرائض کا تعین کرتا ہے اور مرد کو منتظم یعنی قوام قرار دیکر اسے کفالت کی ذمہ داری سونپتا ہے: "مرد ، عورتوں پر قوام ( محافظ ) منتظم نگراں ہیں اس بناء پر کہ اللہ نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے-"

لیکن ساتھ ساتھ جگہ جگہ عورت کو اسکے شرعی حقوق دینے کو قانوناً اور اخلاقاً لازمی قرار دیتا ہے.

جسمانی تعلق کی صورت میں مرد کی اخلاقی اور مالی ذمہ داریاں
آج کی مغربی اقدار کے برعکس عورت اور مرد کے جسمانی تعلق کے حوالے سے قران کا بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ ہر ایسے سسٹم کو رد کرتا ہے جس میں یہ جسمانی تعلق مرد کو دیرپا مالی ذمہ داریاں دیئے بغیر اسے عارضی یا مستقل طور پر عورت کے جسم کا مالک بنا دے. سورۂ الاسرا آیات نمبر ٣٢ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو-"


راقم کے نزدیک زنا کی ممانعت عورت کے حقوق کی سمت سب سے اہم پیش رفت ہے. زنا یا بنا شادی کے تعلق کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں. جن چند افعال پر اسلامی حدود یعنی سخت سزائیں اسلامی قوانین میں موجود ہیں زنا ان میں سے ایک ہے. یہ بھی یاد رہے کہ معاشرتی مائنڈ سیٹ کے بر عکس جہاں بنا شادی صنفی تعلق جسے زنا کہا جاتا ہے ایک مرد کے مقابلے میں ایک عورت کے لئے بہت بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے، اسلام کے قوانین میں مرد اور عورت دونوں کے لئے اس کی سزا برابر ہے. ہمارے معاشرے میں بنا شادی چوری چھپے تعلق یا افئیر کی صورت میں میں مردوں کے افعال کو عموماً مذاق میں نظر انداز کرنے کا چلن ہے جبکہ یہی تعلق عورت کے لئے بہت بدنامی اور ایک ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے.




جسمانی تعلق کے لئے اسلام شادی کو لازمی قرار دیتا ہے اور مرد سے مہر کی ادائیگی کے ذریعے اس تعلق کی قدر کروانا چاہتا ہے. سورہ نساء آیت نمبر چوبیس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"ان کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، بشر طیکہ حصار نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض ادا کرو."




اور بغور تجزیہ جائے تو یہ حکم براہ راست عورت کے حق میں ہے. اسلام اسکی نسوانیت کی ایک قیمتی شے کی حیثیت سے حفاظت کرتا ہے. مرد اسے حاصل کرنا چاہے تو اسے معاشرے کو گواہ بنا کر اس عورت کی کفالت، اس تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت اور گھر کا تمام خرچ برداشت کرنے کا ذمہ دار بناتا ہے. یہی نہیں اسلام کے عائلی نظام میں مہر کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے جسکے تعین کے بغیر یہ تعلق قانونی نہیں گردانا جاتا. ایک عورت اتنی قیمتی ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لئے محض کفالت کی ذمہ داری کافی نہیں. آپکو مزید مال خرچ کرنے کی بھی ضرورت ہے. آج ہمارے کلچر میں جہیز کی اہمیت کے سامنے مہر ایک غیر اہم شے ہو کر رہ گیا ہے. جسکا تذکرہ رسماً کافی سمجھا جاتا ہے لیکن شرعی لحاظ سے اسکی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سورہ ممتحنہ میں جہاں مسلم عورتوں کو انکے کافر شوہروں کو واپس نہ کرنے کا حکم دیا گیا وہاں انکے مہر انکے شوہروں کو لوٹانے کا حکم بھی قران میں موجود ہے.


نکاح کی صورت میں عورت پر ذمہ داریاں

یہ سہی ہے کہ نکاح نامی اس شرعی پیکج میں عورت پر بھی ذمہ داریاں عائد ہیں کہ وہ اپنے شوہر سے وفا دار رہے گی، اسکی اولاد گھر اور اسکے مال کی حفاظت کرے گی، اپنے شوہر کی جسمانی ضروریات کا خیال رکھے گی، معروف میں اسکی اطاعت کرے گی لیکن اس پیکج میں اسے گھر سے نکل کر اپنے اور اپنی اولاد کے لئے کمانے کی ذمہ داری سے بری کیا گیا ہے. اسکا کام اپنے شوہر کو خوش کرنا ہے فیکٹری یا آفس کی مینجمنٹ کو راضی کرنا نہیں. اسکا کام اپنے گھر کا انتظام سنبھالنا ہے جہاں اسکی حیثیت ایک منتظم کی ہے. جہاں تک اطاعت کا سوال ہے تو قران میں یہ بات واضح کی گئی کے مرد کو ایک درجہ فضیلت اس لئے حاصل ہے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں. اسے ظلم یا خواتین کا استحصال سمجھنے والوں سے عرض ہے کہ دنیا کے ہر ادارے کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ اس میں ایک اتھارٹی ہو. تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک فیکٹری یا کارپوریشن کے ورکرز کی باس کے احکامات کی تعمیل کو ظلم تصور نہیں کیا جاتا لیکن گھر کے ادارے میں مال خرچ کرنے والے کی اطاعت کو ظلم و ستم سے تعبیر کر کہ عورت کو یہ سکھایا گیا کہ اگر تم خود کماؤ گی تو تم پر یہ ظلم و ستم نہ ہو گا. اس لئے تم بھی گھر سے باہر نکل کر کمانا شروع کرو.




آئیے کچھ اور قرانی آیات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں الله واضح کر رہا ہے کہ اسکی نظر میں عورت اور مرد برابر ہیں. سورہ آل عمران ١٩٥ میں ارشاد ہے:

"جواب میں ان کے رب نے فرمایا، میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میر ی راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کر دوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ اُن کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے-




سورۂ نساء آیات نمبر ١ میں الله تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد اور عورت کو ایک جان سے پیدا کیا گیا. برابری کی اس سے بڑی توجیح اور مثال کیا دی جا سکتی ہے: "لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے-"


سورہ غافر آیات نمبر ٤٠ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جنت میں داخلے کا معیار مرد اور عورت کے لئے ایک ہی ہے:

"جو برائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہو گی اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا"

(QS. Ghafir 40: Verse 40)


سورہ احزاب آیات نمبر ٧٣ میں ارشاد ہے کہ سزا اور جزا کا معیار بھی مرد عورت کے لئے ایک ہی ہے


"اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے"






مومنین کی خوبیاں بتائی جاتی ہیں تو احزاب آیات نمبر پچیس میں ارشاد ہوتا ہے:


"بالیقین جومسلم مرد اور مسلم عورتیں ہیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، مطیع فرمان مرد اور مطیع فرمان عورتیں، راست باز مرد اور راست بازعورتیں، صابر مرد اور صابر عورتیں، اللہ کے آگے جھکنے والے مرد اور الله کے آگے جھکنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور الله کو کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں ہیں انکے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے-"






الله اور اسکے رسول کی اطاعت کی بات آتی ہے تو بھی مرد عورت دونوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے- سورہ احزاب آیت نمبر ٣٦ میں ارشاد ہے:






"کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا"






مومنین کو تکلیف دینے کا ذکر آیا تو صرف مومن مردوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، مومن عورتوں کے لئے بھی الله اتنا ہی حساس ہے. سورہ احزاب آیت نمبر ٥٨ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:


"اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے"


سورۂ نور آیت تیس اور اکتیس میں میں مرد اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا:"اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے"

(QS. An-Nur 24: Verse 30)






عورتوں کو آیت اکتیس میں احتیاط اور انکی حفاظت کے پیش نظر کچھ مزید احکامات دیئے گئے:






"اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں"






آگے آیت اکتیس میں ہی ارشاد کیا گیا: "وہ (مومن عورتیں) اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے-"






اس آیات کے احکامات کو اسلام مخالف افراد عورتوں پر ظلم کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور باقی سب کچھ نظر انداز کر دیتے ہیں. مغرب میں جنسی ہراسگی، جنسی حملوں اور زیادتیوں کے خلاف اتنے مضبوط قوانین کے باوجود پچھلے دنوں ہالی وڈ کی ایک سلیبرٹی ہاروے ونسٹین کے خلاف جنسی زیادتیوں کے الزام اور اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ٹرمپ کے خلاف ایک سے زائد الزامات سامنے آئے تو ٹویٹر پر خواتین نے ایک مہم کے طور پر اپنے اوپر ہونے والے جنسی حملوں کے مجرموں کے ناموں کو پبلک کرنا شروع کیا تو ہزاروں غیر رپورٹ شدہ زیادتیاں سامنے آئیں. یعنی ہر طرح کے قانونی اقدامات ان معاملات میں خواتین کے تحفظ میں ناکام ہیں. ایسے میں قران جو حفاظتی تدابیر خواتین اور مردوں کو دیتا ہے





وراثت میں عورتوں کا حصہ

مغرب میں عورتوں کو وراثت میں حق انیسویں صدی کے نصف سے بیسویں صدی کے اوائل میں جا کرملا. آئس لینڈ پہلا ملک تھا لیکن قران ساتویں صدی عیسوی میں سورہ نساء آیات نمبر سات میں کہتا ہے : "مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے"

وراثت میں مرد کے مقابلے میں عورتوں کے نصف حصے

کو عموماً اسلام مخالف لوگ عورتوں پر زیادتی گردانتے ہیں مگر وہ یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ گھر، بچوں اور خود عورت کی کفالت مرد کی تنہا ذمہ داری ہے. اسلام عورت کو وراثت میں حصہ تو دیتا ہے مگر اس پر کفالت کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا. قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی تاریخ میں صرف آزاد خواتین ہی نہیں کنیز خواتین بھی کثیر مال کی مالک ہوتی تھیں. اسی لئے مدرسے اور پبلک ویلفیئر کے کاموں میں عورتوں کا خاطر خواہ حصہ ہوا کرتا تھا.


قران کے ان واضح احکامات کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں میں خصوصاً بر صغیر میں آج بھی مختلف حیلوں بہانوں سے بیٹیوں اور بہنوں کے حصوں کو بعض مذہبی گھرانوں میں بھی دبانے کی کوشش کی جاتی ہے. اس میں بہنوں سے حق معاف کروانا، قران سے شادی، اپنی زندگی میں جائیداد کی تقسیم سے ڈر کر اپنے بیٹوں کے نام کر دینا، جائیداد کی تقسیم سے دار کر کی شادی نہ کرنا شامل ہیں لیکن سورہ نساء کی آیات نمبر گیارہ میں ہی ارشاد باری ہے: "تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بہ لحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے-"


اسی طرح شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ اور بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ مقرر کیا گیا. (نساء)




قران عورت کے حقوق کا بہت واضح تعین کرتا ہے. وہ اس معاملے کو محض انسانی اخلاق پر نہیں چھوڑنا چاہتا. وہ مرد کو باقاعدہ صنف نازک سے تعلق کے ہر ہر پہلو میں ہدایات دینا ضروری خیال کرتا ہے. میرا الله عورتوں کے حقوق کے لئے جتنا حساس ہے کہ مرد کی فطرت کو سامنے رکھ کر سورہ نساء آیات نمبر ١٩ میں اسے ہدایت دیتا ہے: "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو."


آگے جا کر اسی آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو"


مرد کی ہرجائی طبیعت الله جانتا تھا. اس پر بند لگانے کے لئے اگلی آیت نمبر بیس سورہ نساء میں کہا گیا:"اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے؟"


آیات نمبر اکیس سورہ نساء اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے:

"اور آخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندو ز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟"











قران نے ساتویں صدی عیسوی میں عورتوں کے حقوق کو ایک اہم موضوع کے طور پر متعا رف کروایا اور اسے وہ حقوق دئیے جو بد قسمتی سے آج بھی مشرق اور مغرب میں کہیں نظر نہیں آتے. صنف نازک کہلانے والے اس کمزور طبقے کی ضروریات، معاشرے کے طاقتور طبقات کے اسکے ساتھ ناروا سلوک کا الله کو کتنا احساس ہے، اسکا اندازہ کرنا ہو تو سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء کی ان آیات کا سرسری جائزہ لینا کافی ہے جو عائلی زندگی کے مختلف معاملات پر بحث کرتی ہیں. عورتوں کے حقوق اور عائلی زندگی کو قران کے مصنف (الله تعالیٰ) نے کتنی اہمیت دی ہے اور اس دنیا کے بنانے والے کی نظر میں اس دنیا کی پر امن اور پر سکوں بقا کے لئے گھر کے ادارے اور اس میں خواتین کے کردار اور بنیادی حقوق کو کتنی اہمیت حاصل ہے قران کا قاری معمولی غور و فکر سے اس حقیقت کا ادراک کر سکتا ہے. یہ دوسری بات ہے کہ مغرب اگر اس کتاب میں دیئے گئے قوانین سے بے خبر ہے یا کسی تعصب کی وجہ سے اسے نظر انداز کرتا ہے تو دوسری طرف مسلمان معاشرے بھی اس بے نظیر کتاب کے بے نظیر اصولوں کی تفہیم اور عملی نفاذ سے کوسوں دور ہیں. مسلم معاشروں میں بھی یہ قرانی احکامات بڑی حد تک نظر انداز ہی ہوتے ہیں.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...