جمعرات، 26 مارچ، 2020

کیا روزہ رکھ کر پانی پیا جا سکتا ہے؟


کرونا کے خوف سے سہمی ہوئی امت 
علماء سے پوچھو کیا روزہ رکھ  کر پانی پیا جا سکتا ہے؟

تزئین حسن 

کرونا کے خوف سے سہمی ہوئی امت 
تم نے آج مساجد میں نماز پر پابندی لگائی ہے  
عمرے پر پابندی لگا دی ہے
اب رمضان کی آمد آمد ہے  

اپنے علماء سے پوچھو 
کیا روزے کے دوران پانی پیا جا سکتا ہے؟

ہم شجیانگ یونیورسٹی کے ایغور طلبہ ہیں 
ہم روزہ رکھتے ہیں 
لیکن 
منرل واٹر کی بوتل ساتھ لیکر گھومتے ہیں  
تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ ہم اسلام نامی اس وائرس کا شکار ہیں 
ہم روزہ رکھتے ہیں لیکن 
ساتھ ساتھ منرل واٹر کی بوتل سے چسکیاں بھی لیتے رہتے ہیں 
ہم روزے کے دوران سرکاری ضیافتوں میں کھانا بھی کھاتے ہیں 
کہ  قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو معلوم نہ ہو کہ ہم اسلام نامی وائرس کا شکار ہیں 
اگر انھیں یہ بات معلوم ہو جائے
کہ ہم اسلام نامی اس وائرس کا شکار ہیں 
اور وہ ہمیں حراستی کیمپوں کے قرنطینہ میں ڈال دیں گے-

ہم کاشغر، ختن، یارقند کے رہائشی ہیں  
ہم رمضان کی راتوں کو اپنے بستر کے پاس کھانے کی کوئی چیز رکھ کر سوتے ہیں 
کہ سحری کے وقت بغیر روشنی کیے اسے کھا لیں 
اگر ہم روشنی کریں 
تو 
قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو یہ بات معلوم ہو جائے گی 
کہ ہم اسلام نامی اس وائرس کا شکار ہیں 
اور وہ ہمیں حراستی کیمپوں کے قرنطینہ میں ڈال دیں گے-

سرکار نے ہان چینیوں کے ساتھ ہمیں رشتے داری میں جوڑا ہے 
تاکے وہ ہمارے گھروں میں قیام کر سکیں 
ہمیں ان رشتے داروں کو ہر طرح سے خوش رکھنا پڑتا ہے 
وہ جس طرح بھی خوش رہنا چاہیں 

اگر ہم انہیں خوش کرنے کو 
انکی موجودگی میں نماز نہ بھی پڑھیں 
روزہ نہ بھی رکھیں
سؤر کا گوشت بھی کھا لیں 
شراب بھی پی لیں  
لیکن وہ خوش نہ ہوں 
تو قانون نافذ  کرنے والی ایجنسیاں 
ہمیں غیر معینہ مدت کے لئے حراستی کیمپوں کے قرنطینہ میں ڈال دیتی ہیں   

اور اس قرنطینہ میں ہم اپنے گھر والوں سے نہیں مل سکتے 
ان سے بات بھی نہیں کر سکتے 
ہمیں یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان سے آیندہ زندگی میں کبھی مل بھی سکیں گے یا نہیں 

اس قرنطینہ میں  اسلام نامی وائرس سے وجود میں آنے والی بیماری کا علاج کیا جاتا ہے  
ہمارے بچوں کے لئے الگ سے قرنطینہ بنا دیئے گئے ہیں 

ہم میں سے دو چار لوگ خوش نصیب ہیں کہ 
ہمیں سرکاری میڈیا پر اپنے بچوں کو دیکھنے کا موقعہ مل گیا ہے*
باقی لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ وہ آئندہ زندگی میں کبھی اپنے بچوں سے مل سکیں گے یا نہیں-

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ 
 اسلام نامی وائرس کے خاتمے کے لئے 
یہ چھوٹی سی قربانی ہے 

سنکیانگ میں نماز اور روزے کو انتہا پسندی سمجھا جاتا ہے 
چینی سرکار کہتی ہے 
یہ انتہا پسندی اور شدت پسندی پورے معاشرے کے لئے خطرناک ہے-
اس پر قابو پانے کے لئے حراستی کیمپوں کے قرنطینہ 
بہت ضروری ہیں 
چینی سرکار سمجھتی ہے کہ وہ  وائرسز پر قابو پانا جانتی ہے-

تو کیا  کوئی روزہ رکھ کر پانی پی سکتا ہے؟  
اور روزہ رکھ کر کھانا کھاسکتا ہے؟

کرونا کے خوف سے سہمی ہوئی امت 
ہو سکے تو اپنے علماء سے پوچھو

مندرجہ بالا سطور ایغور عوام سے متعدد براہ راست انٹرویوز اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں-     
* استنبول میں مقیم ایک ایغور بھائی، استنبول ہی میں مقیم ایک ایغور بہن، اور آسٹریلیا میں مقیم ایک ایغور بھائی نے چینی سرکاری میڈیا کی تیار کردہ وڈیوز اپنے بچوں کو چینی حکومت کے زیر انتظام یتیم خانوں میں دیکھا- ایک خاتون میرے رابطے میں ہیں-  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...