تعارف
باب ووڈ ورڈ وہ امریکی صحافی ہیں جنہوں نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اسکینڈل واٹر گیٹ کو اپنے ساتھ کارل برنسٹین کے ساتھ کور کر کے صدر نکسن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا- یہ وائٹ ہاؤس میں موجود امریکی صدور کے دور صدارت پر پچھلے پچاس سال میں بیس سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں- انہوں ننے صحافت کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز پلٹزر پرائز دو مرتبہ حاصل کیا- باب کو بجا طور پروائٹ ہاؤس کا chronicler (وقا ئع نگار یا مورخ) بھی کہا جاتا ہے- 'RAGE' (بمعنی شدید غصہ یا اشتعال) امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدر ٹرمپ کے دور صدارت پر انکی دوسری کتاب ہے جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے- کتاب کے اختتام پر انکا کہنا ہے کہ انکی رائے کے مطابق یہ آدمی اس عہدے کے لئے قطعی نہ مناسب ہے-
باب اپنی ہر کتاب میں کتاب میں دی گئی معلومات کے حوالے سے ایک نوٹ ضرور دیتے ہیں- اس کتاب کی سورسز بھی ڈیپ بیک گراؤنڈ ہیں یعنی جو معلومات دی گئی ہیں انکی سورسز نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر انہیں وائٹ ہاؤس کی اندرون خانہ سیاست کی معلومات فراہم کی ہیں- اہم بات یہ ہے کہ باب کی پچھلی کتاب FEAR کے بر عکس جسکے لئے صدر ٹرمپ نے انٹرویو دینے سے انکار کر دیا تھا، اس کتاب کے لئے صدر ٹرمپ نے کے سترہ انٹرویو دیئے ہیں جنکا مجموعی دورانیہ نو گھنٹے بنتا ہے- اسکے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم موجودہ اور سابق عہدے داروں سے سو سے زاید انٹرویو پر مبنی معلومات بھی اس کتاب میں شامل کی گئی ہے- اسکے علاوہ ان سورسز کی دیریس، وائٹ ہاؤس کے ٹیپ، اور دیگر ریکارڈ سے بھی مدد لی گئی ہے-
کتاب کے بڑے حصے میں کرونا کی وبا کے دوران صدر ٹرمپ کی غیر ذمہ داری کو موضوع بنایا گیا ہے- انکا کہنا ہے کہ امریکا دنیا کی چار فیصد آبادی لیکن ٢٥ فیصد کو وڈ کیسزکو
اسکے علاوہ انکے دور صدارت میں امریکا کی اندرونی اور بیرونی پالیسیز کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے فیصلے اور انکے اپنے اسٹاف سے انکے کشیدہ یا نہ ہموارتعلقات پر بھی تنقید کی گئی ہے-
کتاب میں صدر کے خلاف روس سے تعلقات اور روس کے امریکی انتخبات میں سائبرمداخلت پر صدر کے مواخذے اور یوکرائن کے حوالے سے مواخذے پر بھی تفصیلی بحث موجود ہے- ان دونوں میں سے ٹرمپ کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا-
لیکن راقم کے نزدیک اس تنقید کے ساتھ ساتھ بین السطور باب نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسے حقائق منظر عام پر لی آئے ہیں جنھیں عموماً میڈیا ہائی لائٹ نہیں نکرتا مثلاً یہ کہ صدر ٹرمپ اپنی صدارت کی ابتدا سے امریکی مجنوں اور امریکی فوج کی دنیا کے بیشتر حصوں میں موجودگی کے خلاف رہے ہیں- انھوں نے شروع سے امریکی فوج کو واپس بلانے پر زور دیا- وہ نیٹو عسکری اتحاد پر امریکی بجٹ پر بھی ناراض رہے اور ساؤتھ کوریا اور جاپان کے دفاع پر امریکی بجٹ کے خرچ پر ناراض رہے ہیں- انکی اپنی انتظامیہ کے ممبران کا کہنا ہے کہ انہیں بڑی مشکل سے سمجھایا گیا کہ نیٹو یورپ کی نہیں امریکا کی ضرورت ہے- اور ساؤتھ کوریا میں بھی افواج اور دفاعی بجٹ در اصل امریکا کو نارتھ کوریا سے محفوظ بنانے کے لئے ہے- انکے پہلے ڈیفنس سیکررٹری جیمس میٹس نے ٢٠١٨ میں شام میں داعش کی شکست کے بعد ان سے مشورے کے بغیر شام سے فوجیں واپس بلوانے پر احتجاج کے طور پر استعفیٰ دے دیا- میٹس کا کہنا تھا کہ شام میں دا عش کبھی بھی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، اس لئے امریکی فوجوں وہاں موجودگی ضروری تھی- اور کرد جو بڑی تعداد میں داعش کے خلاف امریکا کی طرف سے لڑتے رہے انہیں بھی ترکی سے خطرہ ہے- یاد رہے میٹس ابامہ انتظامیہ میں بھی شامل تھے اور انہیں اس وقت ایران پر حملے کے لئے لابی کرنے پر معزول کیا گیا تھا، جب ابامہ ایران کے ساتھ نیوکلئیرڈیل کر رہے تھے- کتاب میں باب بھی جا بجا صدر کے جنگ کا شوق اور ذوق نہ رکھنے پر مایوس نظر آئے ہیں-
وہ صدر کے سیاہ فام عوام کے ساتھ سماجی نا انصافی کے رویئے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور مہاجر مخالف روئیے کو بھی- مگر ایسا کرتے ہوئے باب یہ بھول جات ہیں کہ امریکی پولیس کا سیاہ فاموں کے ساتھ رویہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران خراب نہیں ہوا- ٹرمپ کو مسلم مخالف جذبات کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے-
کتاب کے حوالے سے اکتوبر کے آخر میں جرمن اخبار دیر اسپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے باب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ رواں انتخاب بھی جیت سکتے ہیں کیونکہ وہ پولز پر یقین نہیں رکھتے- گو پولز زیادہ تر بائیڈن کے حق میں ہیں لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ سوئنگ اسٹیٹس انتخابی نتائج کو آخر وقت تک غیر یقینی رکھیں گی-
باب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے باوجود بھی جمہوریت امریکا میں مضبوط ہے کیونکہ پریس کی آزادی برقرار ہے - اب تک "کسی نے میرے آفس کا ریڈ نہیں کیا-" الیکٹورل ادارہ بھی محفوظ ہے گو ٹرمپ نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے-
محسوس ہوتا ہے کہ باب اور امریکی میں اسٹریم پریس ٹرمپ سے خوش نہیں ہے کیونکہ نیویورک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، اور گارڈین جیسے اخبارات مسلسل ٹرمپ کے خلاف لکھتے رہے ہیں- کسی حد تک وہ ٹرمپ کی مخالفت میں حق بجانب بھی ہیں لیکن ٹرمپ کے امریکا کو جنگ سے نکلنے کی کوششوں کی تحسین سامنے نہ آنا، نارتھ کوریا سے ڈیل کو نظر انداز کرنا، امریکی دفاعی اخراجات میں کمی اور امریکی فوجی بیسز پر اخراجات کو کم کرنے کی کوششوں کی تحسین نہ ہونا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ میڈیا ٹرمپ کے ساتھ تعصب برتا رہا ہے-
ٹرمپ کا اعتراض کے امریکا ٣.٥ بلین روپے ساؤتھ کوریا میں ٹروپس رکھنے پر لگاتا ہے- باب کا کہنا ہے کہ یہ در اصل ایشیا میں امن برقرار رکھنے کے لئے ہے- باب کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ ٹرمپ کی ایسی پالیسی ہے جس پر دونوں جماعتیں متحد ہیں اور ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ہیں- ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکی منڈیوں میں پہنچ نے چین کے سینکڑوں ملین عوام کو غربت سے نکالا ہے- (ابامہ دور میں ابھرتے ہوئے چین کے خطرے کو محسوس کر کہ اسکے خلاف کوئی اسٹرٹیجی نہیں اپنائی گئی)
یہ دعوا کس حد تک صحیح ہے یہ بحث طلب ہے لیکن صدر آزاد تجارت کے بجائے، اپنی پروٹیکشنسٹ (حفاظتی یا ٹیرف پر مبنی) تجارتی پالیسی کے حمایتی ہیں- انہوں نے آتے ہی اسٹیل پر ٹیرف لگایا جس سے بہت سے ملکوں سے تعلقات خراب ہوئے-
کتاب میں جا بجا یہ محسوس ہوتا ہے کہ باب ان صحافیوں میں سے شامل ہیں جو امریکی جنگی جنون میں مبتلا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں- مثلاً جیمس میٹس پر جو ابواب ہیں ان میں باب نے ایک جذباتی بیانیہ دیا ہے اور افغانستان میں صدر اباما کے تیس ہزار ٹروپس بڑھانے کے بجائے ایکی سورس سے جنکا بیٹا جنگ میں مارا گیا یہ کھلوایا ہے کہ امریکا تیس کے بجائے نوے ہزار فوج کیوں نہیں بھیجتا- ( تاکہ افغانستان اور عراق میں امریکی جیت کو یقینی بنا کر انکے بیٹے کا بدلہ لیا جا سکے) ایک جہاندیدہ صحافی کے منہہ سے عراق اور افغانستان کی جنگ کی اس حد تک حمایت جو بظاھر غیر جانب دار رپورٹنگ کے نام پر کی گی ہے ہرات ہوتی ہے- اگر باب اس جگہ سنڈی شیہان جیسی ماؤں کا تذکرہ بھی کرتے تو زیادہ مناسب تھا جنہوں نے اپنے بیٹے عراق اور افغانستان میں گنوانے کے بعد امن کے لئے تحریک کا آغاز کیا- (جنکا کہنا تھا کہ بیٹے کسی کے بھی مارے جائیں یہ غلط ہے- سنڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا بیٹا امریکا کی حفاظت کے لئے نہیں مارا گیا-)
راقم کے نزدیک اس کتاب کا سب سے اہم اور دلچسپ حصہ نارتھ کوریا کے لیڈر کم جنگ ان اور ٹرمپ کے تعلقات ہیں- ٢٠١٧ میں نارتھ کوریا نے فاصلے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا اور امریکا کو دھمکیاں دینی شروع کیں تو باب کے مطابق امریکی سیکرٹری آف ڈیفنس میٹس نے چرچ جا کر الله سے ہمت اور ہدایت طلب کرنا شروع کی کیونکہ انکا خیال تھا امریکا اور نارتھ کوریا کے درمیان نیوکلیر جنگ اب نا گزیرہو چکی ہے- لیکن ٹرمپ نے اس موقعہ پر نارتھ کوریا کے صدر کم جنگ ان سے براہ راست ملنے کا فیصلہ کیا جس پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ اس سے پیشتر کسی امریکی صدر نے ایسے مخاصمانہ تعلقات کے دوران ایسی کوئی پیش رفت نہیں کی- صدر ٹرمپ نہ صرف کورین صدر سے ملے بلکہ انکے درمیان خط و کتابت بھی شروع ہو گئی جو انتہائی دلچسپ برومانس پر مبنی ہے- اس اپنی نوعیت کے عجیب تعلقات کا انتہائی دلچسپ مرحلہ اس وقت آیا جب اپنے جاپان کے دورے کے دوران ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ اگر کورین صدر یہ پڑھ رہے ہیں تو کیا وہ دو دن بعد ساؤتھ اور نارتھ کوریا کی سرحد پر ان سے ہیلو ہائے کر سکتے ہیں- صدر ٹرمپ ساؤتھ کوریا کے دورے کے دوران سرحد پر جا کر نہ صرف سرحد کے پار اپنے قریب ترین دوست سے بالمشافہ ملے بلکہ انہوں نے سرحد پار کر کہ کم جنگ ان سے اجازت کے بعد سرحد پار کر کہ نارتھ کوریا میں داخل بھی ہو گئے- لیکن اس موقع کو بھی امریکی پریس نے منفی کوریج دی- باب کا کہنا ہے کہ نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں امریکی صدر کے میڈیا میں آنے کی خواہش کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا- باب اس موقعہ پر حقائق بیان کرنے کے باوجود اس بات کی تعریف کرنا بھول گئے کہ میٹس کے مذکور کردہ امریکی کوریا جنگ کے خطرے کو صدر ٹرمپ اپنی ڈپلومیسی سے دور کرنے کو کامیاب ہو گئے-
ٹرمپ کی میڈیا کوریج میں انہیں نسل پرست، مسلم مخالف، مہاجر مخالف کہا جاتا ہے- لیکن اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکا میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگانا زیادہ بڑا جرم ہے یا مسلمان ملکوں پر فضائی بمباری کرنا؟ دوسرے کیا سیاہ فام عوام کے ساتھ امریکا میں تفریق صدر ٹرمپ کے دور میں شروع ہوئی؟ صدر پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ انہیں امریکی اقدار کی سمجھ نہیں ہے- وہ جھوٹ کا استمعال بہت کرتے ہیں- یہاں سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا اس سے قبل امریکی صدور امریکی عوام اور کانگریس سے سنجیدہ جھوٹ نہیں بولتے رہے؟ جن میں ویت نام کی جنگ سے لیکر عراق اور شام، لیبیا، افغانستان اور داعش کے پھیلاؤ کے حوالے سے بے شمار جھوٹ اب منظرعام پر آ رہے ہیں اور خود امریکی انتظامیہ اور میڈیا انکا بے شرمی سے اقرار کرتا ہے- فرق اگر ہے تو اتنا کہ ٹرمپ کو جھوٹ بولنے اور نفرت کا اظہار کرنے کا سلیقہ نہیں ہے-
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ سے خوش نہیں ہے- پاپولر امریکی میڈیا در اصل جنگی جنوں کا شکار امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ہی بیانیہ کا ہی ساتھ دیتا رہا ہے-
ٹرمپ انتظامیہ نے کسانوں اور زراعت پیشہ لوگوں کے لیے 2019 میں 14.3 ارب ڈالروں کی سبسڈی اور عالمی وبا کے پیش نظر مزید 30 ارب ڈالروں سے چین کٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کو 1.8 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دی ہے جس میں 135 گائیڈڈ کروز میزائل بھی شامل ہیں۔ جہاں یہ عمل صدر کی لین دین کی خارجی و دفاعی پالیسی کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہے وہیں یہ چین کے فوجی کمانڈروں کی دھمکیوں اور زبردستی جزیرے پر قبضہ گیری کا جواب بھی پیش کرتا ہے۔
ی خریداری میں کمی کا ازالہ کر دیا۔
ٹرمپ کی جانب سے جاپان اور جنوبی کوریا میں موجود فوجوں دستوں کی مزید ادائیگی تک واپسی کی دھمکی نے امریکہ کے دو مضبوط اتحادیوں میں غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے اور چین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ لیکن موجودہ عہدہ داروں مائیک پومپیو اور مارک ایسپر سمیت ریاست اور دفاعی امور کے بہت سے وزرا نے نقصان کی تلافی اور دوبارہ مذاکرات کی سر توڑ کوشش کی ہے۔
امریکی سفارت کاروں اور عسکری کمانڈروں نے بھی بیجنگ کے خلاف انڈیا کو اتحاد کا حصہ بنانے کے لیے بش اور اوباما کے دور سے چلی آنے والی پالیسیاں جاری رکھیں اور اس حد تک آگے بڑھے کہ فوج کی پیسفک کمانڈ کا نام تبدیل کر کے انڈو پیسفک کمانڈ کر دیا۔ تاہم چین کے ساتھ موجودہ خراب تعلقات کے باوجود نریندر مودی حکومت کی واضح ہچکچاہٹ کی وجہ سے چین کے خلاف سخت گیر موقف مشکل کام ثابت ہوا۔
عض مشرقی ایشیائی ملکوں کی حکومتوں کا موقف ہے کہ اوباما انتظامیہ، جس کے دوران بائیڈن نائب صدر تھے، وہ چین کی توسیع پسندی پر نظر رکھنے کے معاملے میں کوتاہ بین واقع ہوئی جس کی وجہ سے چین کو بحر الکاہل اور بحرِ ہند میں جگہ جگہ پاؤں جمانے کا موقع مل گیا۔ جب سمندری تنازعے پر پڑوسی ممالک بیجنگ سے برسر پیکار تھے تو امریکہ کی طرف سے ناکافی معاونت بھی محسوس کی گئی۔ تاہم پانچ سال قبل اوباما نے سفارت کاری، دفاع اور تجارت کے معاملات میں بحرِ اکاہل کی جانب مجموعی جھکاؤ کی طرف اشارہ ضرور دیا تھا، لیکن شام کی جنگ میں روس کی مداخلت اور داعش کی اٹھان نے امریکہ کو واپس مشرقِ وسطیٰ میں لا کھڑا کیا۔
ایشیا کی مشرقی ریاستوں میں عہدے داروں کا یہ بھی خیال ہے کہ بیجنگ کے اقدامات پر سوالات اٹھانے کے بجائے امریکہ چین کے ساتھ تجارت میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔ اوباما کا چین میں دورہ طے کروانے والی سلامتی کی مشیر سوزن رائس دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی کھلے عام حامی تھیں۔
باب ووڈ ورڈ
ایران سے ڈیل ختم کرنے کے بارے میں بھی کچھ نہیں پھاڑ کا حوالہ بھی نہیں
baab ka khna he kh trmp
امریکا جاپان، ساؤتھ کوریا اور .... کی ذمہ داری کیوں اٹھا رہا ہے؟
ڈیپ بیک گراؤنڈ
معلومات ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کس نے مہیا کی ہے-
ٹرمپ اس عہدے کے لئے موزوں نہیں ہیں اور یہ کوئی سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ شوائد پر مبنی ہے
ٹرمپ انتظامیہ کے لئے غلط زبان یا کم از کم الفاظ استعمال کرنے کے عادی ہیں
تزئین حسن
نسلی نانصافی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن کیا سیاہ فام افراد کے مورایئے قتل ٹرمپ کے زمانے میں شروع ہوے؟
ٹرمپ کا مذاق بھی اڑتا رہا اور انکے بیانات کو انکی حماقتوں کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا-
دو پلٹزر
کمزوریوں کے باوجود، یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ وائٹ ہاؤس کیسے کام کرتا ہے.
مصنف کا تعارف
یہ ١٩٧٠ کی دھائی سے وائٹ ہاؤس کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں- انہوں نے ١٩٧٠ کی سے میں صدر نکسن کے واٹر گیٹ اسکینڈل کی رپورٹنگ سے لیکر نو امریکی صدورکے ادوار پر بیس کتابیں لکھی ہیں جس میں ٹرمپ کے دور صدارت پر یہ دوسری کتاب ہے-
انکی کتابوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ بہت سادہ اور عام فہم زبان میں لکھی جاتی ہیں- ہر کتاب میں یہ کتاب میں دیئے گئے مواد کے بارے میں وضاحت دیتے ہیں کہ معلومات کیسے حاصل کی گئی ہیں- صحافت کا یہ اصول شفافیت کہلاتا ہے-
ٹرمپ کو امریکی اقدار کی سمجھ نہیں مگر جن کو ہے انھوں نے امریکا کو اور دنیا کو کیا دیا ہے؟
مسلمانوں پر بین لگانے والا زیادہ غلط ہے یا ان پر بمباری کرنے والا اور جھوٹے الزامات لگا کر مشرق وستا کے ممالک کو پتھروں کے دور میں لے جانے والا یا اباما کی طرح افغانستان میں فوجوں کی تعداد بڑھانے والا اور دا
راقم کی ذاتی رائے میں وائٹ ہاؤس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کا تاثر ابھرتا ہے لیکن ایک وائٹ واشڈ دھلا ہوا ورژن ہے- یہ انکی مجبوری بھی ہو سکتی ہے لیکن اپنے سینئر صحافی سمور ہرش کے مقابلے میں باب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں- وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہی بنا کو دہراتے ہیں جبکہ باب ایسٹابلسھمنٹ اور اداروں کے بیانیہ کو چیلنج کرتے ہیں-
کتاب کی خاص بات
ان
اندرونی ذرائع، ٹرمپ کی کیبنٹ کے اہم سابق عہدے داروں سے
اس کتاب میں ٹرمپ کی کیبنٹ کے انتخاب سے لیکر
ٹرمپ نے تعاون کیا - کیوں؟ ١٧ انٹرویو نو گھنٹے بالمشافہ
یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ الیکشن میں روس کے ملوث ہونے کے شواہد کیا تھے اور اتنا بڑا اسکینڈل کن حقائق کی بنیاد پر پروان چڑھا لیکن یوکرائن کے حوالے سے صدر کی ایک فون کال کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا جسے ٹرمپ نے خود ہی پبلک کر دیا- اس کال میں وہ یوکرائن کے .... کو بائیدن کے خلاف تحقیقات
کتاب میں امریکا کے زوال کو کہیں موضوع نہیں بنایا گیا جسکی آج کل بہت بات ہو رہے ہے- امریکی دانشوروں کی رائے کے مطابق کرونا وبا کے بعد امریکا سپر پور نہیں رہے گا- یہ تجزیہ کتاب میں شامل ہونا چھائے تھا-
انداز تحریر
اہم انکشافات
نارتھ کوریا کے صدر کم ال جونگ سے ملنے کا فیصلہ ٩٢
ٹرمپ نے اس کتاب کے لئے تعاون کیا
امریکا کے ساتھ تجارت نے چین کو غربت سے نکالا- (صفحہ ایک سو پچیس )
ٹرمپ جنگ کو ختم کرناچاهتا تھا ١٠٨
بڑ بولا ہے ، نسل پرست ہے، امریکی صدور سے بہت مختلف ہے، ڈپلومیٹک زبان سے آشنا نہیں ہے لیکن ڈیل کرنا جانتا ہے-
باب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایکسپرٹ کی رائے کو اہمیت نہیں دیتا ١١٥ بس میں اور دو تین لوگ مل کر فیصلہ کریں
کوریا سے ڈیل بہت اہم پیش رفت ہے مگر امریکی میڈیا نے اسکو کوئی اہمیت نہیں دی-
کتاب کا بہت بڑا حسا کرونا کی وبا کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے-
سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ سے متعلق فصلوں کو با لکل نظر انداز کر دیا گیا- محمد بن سلمان سے تعلقات، جارڈ کشنر کا ذکر ہے لیکن بہت کم
اسکے علاوہ چین سے تجارتی جنگ کے بارے میں بھی باب خاموش ہیں اور ایغور اشو پر وائٹ ہاؤس کی غیر معمولی سرگرمی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتے-
کتاب تھرڈ پرسن
اختتام : ٹرمپ کی اس بات کی تعریف کرنی پڑے گی کہ دیگر امریکی صدور کے رویئے کے بر عکس وہ امریکا کے اپنے مفاد میں امریکا کو جنگی جنوں سے نکالنا چاہتا ہے- اس سے قبل ابامہ نے اپنی الیکشن مہم میں اس حوالے سے تبدیلی کے وعدے کے تھے مگر انکے دور صدارت میں پاکستان، لیبیا، شام،
باب کی مسلسل مخاصمت کے باوجود انھوں نے کتاب کے لئے تعاون کیا جو پچھلی کتاب میں نہیں کیا تھا- اسکی وجہ یہ بھی و سکتی ہے
ٹرمپ اور کم کے تعلق سے یکے بارے میں جاننے میں بہت مدد ملتی ہے-
ٹرمپ کا تعارف
پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے منفی بیانات سے سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ بنائی- انکے نسل پرستی پر مبنی بیانات، مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر بین، میکسیکو کے بارڈر پر دیوار کا الیکشن وعدہ، وائٹ امریکیوں کو اپیل کرنے والے نعرے
لیکن ٹرمپ کی شخصیت کے بہت سے پہلوعموماً امریکی میڈیا اور دانشور سامنے لیکر نہیں آیا- انکے نسل پرستی، مہاجرین مخالف، نعروں نے بہت ہلچل مچائی- عمومی طور پر امریکا میں
باب ووڈ ورڈ امریکا کی تاریخ کے معروف ترین سیاسی اسکینڈل واٹر گیt کے حوالے سے معروف ہیں- کے بلکہ دنیا کے معروف ترین صحافی ہیں-
انکے بارے
راقم کے نزدیک دو پہلو بہت دلچسپ اور چشم کشا ہیں ایک تو نارتھ کوریا کے لیڈر سے تعلق
دوسرے میٹس کا جنگی جنوں اور
یاد رہے میٹس صدر ابامہ کی انتظامیہ کا بھی حصہ تھے- میٹس دا عش سے جنگ کے لئے امریکی فوجوں کو شام میں برقرار رکھنا چاہتے تھے جنھیں ٹرمپ نے دسمبر ٢٠١٨ میں واپس بلا لیا- انکا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے دنیا میں امریکی حسیت کو نقصان فنچاحیا ہے-
نارتھ کوریا سے جنگ کے خدشے کے پاش نظر میٹس بھی تشویش زدہ رہے اور اکثر چرچ میں جا کر الله سے ہدایت اور مدد مانگتے رہے- جنگ کے سائے منڈلا رہے تھ مگر ٹرمپ نے بہت خوبی کے ساتھ اس خطرے کو تال دیا- لیکن باب خود اس معاملے میں بھو ٹرمپ کی کارکردگی سے خوش نظر نہیں آتے-
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں