ہفتہ، 31 اکتوبر، 2020

کیا ٹرمپ کا شمار واقعی امریکا کے بد ترین حکمرانوں میں ہوتا ہے؟

 


ٹرمپ کا چار سالہ دور صدارت 

کیا ٹرمپ کا شمار واقعی امریکا کے بد ترین حکمرانوں میں ہوتا ہے؟

نارتھ کوریا کے لیڈر سے ٹرمپ کے تعلقات کیسے پروان چڑھے؟

ٹرمپ دوسرے امریکی صدور سے کیسے مختلف ہیں؟

کیا ٹرمپ واقعی جھوٹے، نسل پرست، اور مسلم مخالف ہیں؟

کیا ٹرمپ اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہوئے؟

کرونا وبا کے دوران ٹرمپ کی کارکردگی کیسی رہی؟ 

کیا دوسرے امریکی صدور بھی یروشلم کو اسرائیل کا ڈرل حکومت قرار دلوانے میں اتنی ہی محنت کرتے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ 




باب ووڈ ورڈ امریکی صحافی ہیں جنہوں نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی اسکینڈل واٹر گیٹ کو اپنے صحافی دوست کارل برنسٹین کے ساتھ کور کر کے صدر نکسن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا- یہ وائٹ ہاؤس میں موجود امریکی صدور کے دور صدارت پر پچھلے پچاس سال میں بیس سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں- انہوں نے صحافت کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز پلٹزر پرائز دو مرتبہ حاصل کیا- باب کو بجا طور پروائٹ ہاؤس کا chronicler (وقا ئع نگار یا مورخ) بھی کہا جاتا ہے- 'RAGE' (بمعنی شدید غصہ یا اشتعال) امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدر ٹرمپ کے دور صدارت پر انکی دوسری کتاب ہے، جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے- کتاب کے اختتام پر انکا کہنا ہے کہ انکی رائے کے مطابق یہ آدمی اس عہدے کے لئے قطعی نامناسب ہے-

کتاب کی خاص بات  

اس کتاب کی سورسز بھی ڈیپ بیک گراؤنڈ ہیں یعنی جو معلومات دی گئی ہیں انکی سورسز نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر انہیں وائٹ ہاؤس کی اندرون خانہ سیاست کی معلومات فراہم کی ہیں- اہم بات یہ ہے کہ باب کی پچھلی کتاب FEAR کے بر عکس جسکے لئے صدر ٹرمپ نے انٹرویو دینے سے انکار کر دیا تھا، اس کتاب کے لئے صدر ٹرمپ نے کے سترہ انٹرویو دیئے ہیں جنکا مجموعی دورانیہ نو گھنٹے بنتا ہے- اسکے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم موجودہ اور سابق عہدے داروں سے سو سے زاید انٹرویو پر مبنی معلومات بھی اس کتاب میں شامل کی گئی ہے- اسکے علاوہ ان سورسز کی دیریس، وائٹ ہاؤس کے ٹیپ، اور دیگر ریکارڈ سے بھی مدد لی گئی ہے-

کتاب کے بڑے حصے میں کرونا کی وبا کے دوران صدر ٹرمپ کی غیر ذمہ داری کو موضوع بنایا گیا ہے- انکا کہنا ہے کہ امریکا دنیا کی چار فیصد آبادی لیکن ٢٥ فیصد کو وڈ کیسزکو

اسکے علاوہ انکے دور صدارت میں امریکا کی اندرونی اور بیرونی پالیسیز کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے فیصلے اور انکے اپنے اسٹاف سے انکے کشیدہ یا نہ ہموارتعلقات پر بھی تنقید کی گئی ہے-

کتاب میں صدر کے خلاف روس سے تعلقات اور روس کے امریکی انتخبات میں سائبرمداخلت پر صدر کے مواخذے اور یوکرائن کے حوالے سے مواخذے پر بھی تفصیلی بحث موجود ہے- ان دونوں میں سے ٹرمپ کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا-   

لیکن راقم کے نزدیک اس تنقید کے ساتھ ساتھ بین السطور باب نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسے حقائق منظر عام پر لی آئے ہیں جنھیں عموماً میڈیا ہائی لائٹ نہیں نکرتا مثلاً یہ کہ صدر ٹرمپ اپنی صدارت کی ابتدا سے امریکی مجنوں اور امریکی فوج کی دنیا کے بیشتر حصوں میں موجودگی کے خلاف رہے ہیں- انھوں نے شروع سے امریکی فوج کو واپس بلانے پر زور دیا- وہ نیٹو عسکری اتحاد پر امریکی بجٹ پر بھی ناراض رہے اور ساؤتھ کوریا اور جاپان کے دفاع پر امریکی بجٹ کے خرچ پر ناراض رہے ہیں- انکی اپنی انتظامیہ کے ممبران کا کہنا ہے کہ انہیں بڑی مشکل سے سمجھایا گیا کہ نیٹو یورپ کی نہیں امریکا کی ضرورت ہے- اور ساؤتھ کوریا میں بھی افواج اور دفاعی بجٹ در اصل امریکا کو نارتھ کوریا سے محفوظ بنانے کے لئے ہے- انکے پہلے ڈیفنس سیکررٹری جیمس میٹس نے ٢٠١٨ میں شام میں داعش کی شکست کے بعد ان سے مشورے کے بغیر شام سے فوجیں واپس بلوانے پر احتجاج کے طور پر استعفیٰ دے دیا- میٹس کا کہنا تھا کہ شام میں دا عش کبھی بھی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، اس لئے امریکی فوجوں وہاں موجودگی ضروری تھی- اور کرد جو بڑی تعداد میں داعش کے خلاف امریکا کی طرف سے لڑتے رہے انہیں بھی ترکی سے خطرہ ہے- یاد رہے میٹس ابامہ انتظامیہ میں بھی شامل تھے اور انہیں اس وقت ایران پر حملے کے لئے لابی کرنے پر معزول کیا گیا تھا، جب ابامہ ایران کے ساتھ نیوکلئیرڈیل کر رہے تھے- کتاب میں باب بھی جا بجا صدر کے جنگ کا شوق اور ذوق نہ رکھنے پر مایوس نظر آئے ہیں-             

وہ صدر کے سیاہ فام عوام کے ساتھ سماجی نا انصافی کے رویئے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور مہاجر مخالف روئیے کو بھی- مگر ایسا کرتے ہوئے باب یہ بھول جات ہیں کہ امریکی پولیس کا سیاہ فاموں کے ساتھ رویہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران خراب نہیں ہوا- ٹرمپ کو مسلم مخالف جذبات کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے-   

کتاب کے حوالے سے اکتوبر کے آخر میں جرمن اخبار دیر اسپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے باب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ رواں انتخاب بھی جیت سکتے ہیں کیونکہ وہ پولز پر یقین نہیں رکھتے- گو پولز زیادہ تر بائیڈن کے حق میں ہیں لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ سوئنگ اسٹیٹس انتخابی نتائج کو آخر وقت تک غیر یقینی رکھیں گی- 

باب کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے باوجود بھی جمہوریت امریکا میں مضبوط ہے کیونکہ پریس کی آزادی برقرار ہے - اب تک "کسی نے میرے آفس کا ریڈ نہیں کیا-" الیکٹورل ادارہ بھی محفوظ ہے گو ٹرمپ نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے- 

  

محسوس ہوتا ہے کہ  باب اور امریکی میں اسٹریم پریس ٹرمپ سے خوش نہیں ہے کیونکہ نیویورک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، اور گارڈین جیسے اخبارات مسلسل ٹرمپ کے خلاف لکھتے رہے ہیں- کسی حد تک وہ ٹرمپ کی مخالفت میں حق بجانب بھی ہیں لیکن ٹرمپ کے امریکا کو جنگ سے نکلنے کی کوششوں کی تحسین سامنے نہ آنا، نارتھ کوریا سے ڈیل کو نظر انداز کرنا، امریکی دفاعی اخراجات میں کمی اور امریکی فوجی بیسز پر اخراجات کو کم کرنے کی کوششوں کی تحسین نہ ہونا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ میڈیا ٹرمپ کے ساتھ تعصب برتا رہا ہے-

    

ٹرمپ کا اعتراض کے امریکا ٣.٥ بلین روپے ساؤتھ کوریا میں ٹروپس رکھنے پر لگاتا ہے- باب کا کہنا ہے کہ یہ در اصل ایشیا میں امن برقرار رکھنے کے لئے ہے- باب وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے ایسے عناصر کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں جنکا کہنا ہے 

 کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ ٹرمپ کی ایسی پالیسی ہے جس پر دونوں جماعتیں متحد ہیں اور ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ہیں- ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکی  منڈیوں میں پہنچ نے چین کے سینکڑوں ملین عوام کو غربت سے نکالا ہے- (ابامہ دور میں ابھرتے ہوئے چین کے خطرے کو محسوس کر کہ اسکے خلاف کوئی اسٹرٹیجی نہیں اپنائی گئی)   

یہ دعوا کس حد تک صحیح ہے یہ بحث طلب ہے لیکن صدر آزاد تجارت کے بجائے، اپنی پروٹیکشنسٹ (حفاظتی یا ٹیرف پر مبنی) تجارتی پالیسی کے حمایتی ہیں- انہوں نے آتے ہی اسٹیل پر ٹیرف لگایا جس سے بہت سے ملکوں سے تعلقات خراب ہوئے-    


جنگ کی حمایت 

کتاب میں جا بجا یہ محسوس ہوتا ہے کہ باب امریکی جنگی جنون میں مبتلا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں- مثلاً جیمس میٹس پر جو ابواب ہیں ان میں باب نے ایک جذباتی بیانیہ دیا ہے اور افغانستان میں صدر اباما کے تیس ہزار ٹروپس بڑھانے کے بجائے ایکی سورس سے جنکا بیٹا جنگ میں مارا گیا یہ کہلوایا گیا ہے کہ امریکا تیس کے بجائے نوے ہزار فوج افغانستان کیوں نہیں بھیجتا- ( تاکہ افغانستان اور عراق میں امریکی جیت کو یقینی بنا کر انکے بیٹے کا بدلہ لیا جا سکے) ایک جہاندیدہ صحافی کے منہہ سے عراق اور افغانستان کی جنگ کی اس حد تک حمایت جو بظاھر غیر جانب دار رپورٹنگ کے نام پر کی گئی ہے تعجب ہوتا ہے- اگر باب اس جگہ سنڈی شیہان جیسی ماؤں کا تذکرہ بھی کرتے تو زیادہ مناسب تھا جنہوں نے اپنے بیٹے عراق اور افغانستان میں گنوانے کے بعد امن کے لئے تحریک کا آغاز کیا- جنکا کہنا تھا کہ بیٹے افغانی یا عراقی مارے جائیں یا امریکی، دکھ کی بات ہے- سنڈی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا بیٹا امریکا کی حفاظت کے لئے نہیں مارا گیا- اس پر باب نے کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ عراق کی جنگ جس میں میٹس نے شرکت کی اسکا کیا جواز تھا-

   

کم اور ٹرمپ تعلقات 

راقم کے نزدیک اس کتاب کا سب سے اہم اور دلچسپ حصہ نارتھ کوریا کے لیڈر کم جنگ ان اور ٹرمپ کے تعلقات ہیں- ٢٠١٧ میں نارتھ کوریا نے فاصلے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا اور امریکا کو دھمکیاں دینی شروع کیں تو باب کے مطابق امریکی سیکرٹری آف ڈیفنس میٹس نے چرچ جا کر الله سے ہمت اور ہدایت طلب کرنا شروع کی کیونکہ انکا خیال تھا امریکا اور نارتھ کوریا کے درمیان نیوکلیر جنگ اب نا گزیرہو چکی ہے- لیکن ٹرمپ نے اس موقعہ پر نارتھ کوریا کے صدر کم جنگ ان سے براہ راست ملنے کا فیصلہ کیا جس پر شدید تنقید کی گئی کیونکہ اس سے پیشتر کسی امریکی صدر نے ایسے مخاصمانہ تعلقات کے دوران ایسی کوئی پیش رفت نہیں کی- صدر ٹرمپ نہ صرف کورین صدر سے ملے بلکہ انکے درمیان خط و کتابت بھی شروع ہو گئی جو انتہائی دلچسپ برومانس پر مبنی ہے- اس اپنی نوعیت کے عجیب تعلقات کا انتہائی دلچسپ مرحلہ اس وقت آیا جب اپنے جاپان کے دورے کے دوران ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ اگر کورین صدر یہ پڑھ رہے ہیں تو کیا وہ دو دن بعد ساؤتھ اور نارتھ کوریا کی سرحد پر ان سے ہیلو کہنے آ سکتے ہیں- صدر ٹرمپ ساؤتھ کوریا کے دورے کے دوران سرحد پر جا کر نہ صرف سرحد کے پار کم سے بالمشافہ ملے بلکہ انہوں نے سرحد پار کر کہ کم جنگ ان سے اجازت کے بعد سرحد پار کر کہ نارتھ کوریا میں داخل بھی ہو گئے- لیکن اس موقع کو بھی امریکی پریس نے منفی کوریج دی کہ ٹرمپ شہرت کے بھوکے ہیں- باب اس موقعہ پر حقائق بیان کرنے کے باوجود اس بات کی تعریف کرنا بھول گئے کہ میٹس کے مذکور کردہ امریکی کوریا جنگ کے خطرے کو صدر ٹرمپ اپنی ڈپلومیسی سے دور کرنے کو کامیاب ہو گئے-          

انداز تحریر      

باب اپنی ہر کتاب میں دی گئی معلومات کے حوالے سے ایک نوٹ ضرور دیتے ہیں- باب کی ہر کتاب میں معلومت کے ذرائع بہت حد تک بیک گراؤنڈ سورسز پر مشتمل ہوتے ہیں یعنی معلومات موجود ہوتی ہیں لیکن انکی شناخت عموماً نہیں بتائی جاتی- کتاب کے مختلف ابواب دلچسپ واقعات سے شروع ہوتے ہیں اور قاری تھوڑا سا غور کرے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ معلومات کا بیشتر حصہ کس نے فراہم کیا ہو گا- یہ بات ہمیں واضح رہنی چاہئے کہ ایک پروفیشنل صحافی کی طرح باب بھی آف دا ریکارڈ معلومات نہیں چھپ سکتے یعنی وہ معلومات جو انہیں دی تو جائے لیکن چھاپنے کی اجازت نہ دی جائے-  


کتاب میں جن اشوز کو بحث کا حصہ نہیں بنایا گیا 

کتاب میں جن موضوعات پر وائٹ ہاؤس کی پالیسی کو بحث کا حصہ نہیں بنایا گیا اس میں سرفہرست مشرق وسطیٰ، سعودی عرب اور اسرائیل سے تعلقات ہیں- ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں ایغور عوام کے ساتھ چین کے مظالم کے حوالے سے بھی سر گرم رہاہے، اسکا ذکر بھی باب نہیں کرتے- نارتھ کوریا کے لیڈر کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات کیسے پروان چڑھے اسکی تفصیل موجود ہے لیکن سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلمان نے ٹرمپ اور جارڈ کشنر سے تعلقات اور مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں کا تذکرہ بالکل گول کر دیا گیا ہے-  


اختتام 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ٹرمپ سے خوش نہیں ہے- پاپولر امریکی میڈیا در اصل جنگی جنوں کا شکار امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ہی بیانیہ کا ہی ساتھ دیتا رہا ہے- 

ٹرمپ کی میڈیا کوریج میں انہیں نسل پرست، مسلم مخالف، مہاجر مخالف کہا جاتا ہے-   دوسرے کیا سیاہ فام عوام کے ساتھ امریکا میں تفریق صدر ٹرمپ کے دور میں شروع ہوئی؟ صدر پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ انہیں امریکی اقدار کی سمجھ نہیں ہے- وہ جھوٹ کا استمعال بہت کرتے ہیں- یہاں سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیا اس سے قبل امریکی صدور امریکی عوام اور کانگریس سے سنجیدہ جھوٹ نہیں بولتے رہے؟  جن میں ویت نام کی جنگ سے لیکر عراق اور شام، لیبیا، افغانستان اور داعش کے پھیلاؤ کے حوالے سے بے شمار جھوٹ اب منظرعام پر آ رہے ہیں اور خود امریکی انتظامیہ اور میڈیا انکا بے شرمی سے اقرار کرتا ہے- فرق اگر ہے تو اتنا کہ ٹرمپ کو جھوٹ بولنے اور نفرت کا اظہار کرنے کا سلیقہ نہیں ہے-  باب کی تنقید اپنی جگہ لیکن اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکا میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی لگانا زیادہ بڑا جرم ہے یا مسلمان ملکوں پر فضائی بمباری کرنا؟ یہ فیصلہ ہم قاری پر چھوڑتے ہیں-

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...