بدھ، 21 اکتوبر، 2020

بنگالی ‏بھائ

 

من گنگ خواب دیدہ و عالم تمام کر

من عاجزم ز گفتن  

آج صبح فجر سے پیشتر چٹا کانگ سے تعلق رکھنے والے بنگالی بھائی سے بات ہوئی- بنگالی لہجے میں بہت اچھی اردو بولنے، ٢٦ سالہ اس نوجوان کا کہنا تھا کہ بنگالی پاکستان سے حقوق چاہتے تھے لیکن پاکستان سے علیحدگی نہیں چاہتے تھے- جب عوامی لیگ کے الیکشن جیتنے کے باوجود اقتدار منتقل نہیں کیا گیا تو بھی وہ حقوق ہی چاہتے تھے لیکن پاکستان نے مجیب کو جو ایک سیاسی قوت تھا گرفتار کر کہ منظر عام سے ہٹا دیا تو انڈیا اور انڈیا کی حمایت سے علیحدگی پسند قوتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا- مجیب پورے پاکستان کی وزآرت عظمیٰ کا حقدار تھا، وہ قطعاً علیحدگی نہیں چاہتا تھا- لیکن وہ واحد آدمی جو علیحدگی پسندوں کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اسے  اس تمام عرصے میں پاکستان میں قید میں رکھا گیا- بنگالی بھائی کا جو اس واقعے کے ڈھائی دھائی بعد پیدا ہوئے کا کہنا ہے کہ انکے خاندان نے انہیں اردو پڑھائی اور مدرسے میں پڑھنے کی وجہ سے بھی وہ اردو بہتر جانتے ہیں-  انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بنگلادیش کے قیام کی تاریخ میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کا بہت گہرائی سے مطالعہ کر چکے ہیں- انکے اپنے خاندان کے مشاہدات کے مطابق عوامی لیگ، مکتی باہنی، اور مجیب باہنی نے بہاریوں کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں-  انکے بارے میں یہ تاثر پھیلا کر کہ انہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا انہیں انکی جائیدادوں سے بے دخل کر کہ کیمپوں میں دھکیل دیا گیا- انکی عورتوں کے ریپ کے گئے- انہیں بڑی تعداد میں قتل کیا گیا- جب اس تنازعہ کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان مظالم کا با لکل تذکرہ نہیں ہوتا- انکا یہ بھی کہنا تھا کہ بغیر کسی اعداد و شمار کے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج نے تین ملین بنگالیوں کا قتل عام کیا- لیکن آج تک اس پر کوئی سنجیدہ تحقیق نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی فہرست تیار کی گئی- (یہی سرمیلا بوس کا بھی کہنا ہے کہ بنگلادیشی حکومت کا یہ کام تھا کہ وہ محض دعویٰ کرنے کے بجائے اس پر سنجیدہ تحقیق کروا کر یا سروے کروا کر اعداد و شمار مرتب کرواتی ) انکا کہنا ہے کہ چٹاکانگ کے جس پولیس تھانے کی حدود میں انکے خاندان کی رہائش ہے، وہاں کسی بنگالی کے قتل کا کوئی ریکارڈ نہیں-  لیکن اس سے آگے بڑھ کر انکا کہنا تھا کہ ٢٠١٤ میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم خالدہ ضیا نے یہ بیان دیا کہ تین ملین کا فگر جھوٹ ہے- یہ مجیب نے پاکستان کی قید سے آزاد ہونے کے بعد بنگلادیش پہنچنے پر بیان دیا تھا جب کہ اس وقت  کوئی اعداد و شمار مرتب ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا- 

ایک سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مجیب کو کیا ملا؟ ١٩٧٥ میں اسے اور اسکے خاندان جس میں عورتیں اور نو عمر بچے بھی شامل تھے، خود اسکی فوج کے سات افسران نے قتل کر دیا- اسکی فوج کا رویہ، پاکستانی فوج سے با لکل مختلف تھا جس نے اسے بہ حفاظت گرفتار کر کہ پاکستان لا کر قید میں رکھا- یہی نہیں مجیب اور اسکے خاندان کے بے رحمانہ قتل کے بعد مجیب کی کابینہ اور حکومت بنگلہ دیش کی حکومت سنبھالے رہی- اسکے قاتلوں کو سزا دینے کے لئے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی گئی- تین ملک چھوڑ کر فرار کروا دیئے گئے- چار کو سزائیں دلوائی گئیں-


پاکستانی فوج اس پر غداری کا الزام لگا کر اسے پھانسی چڑھا سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا- 

انہوں نے                

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...