دہلی کے شاہین باغ کی بڑھیا کا نام ٹائم دنیا کے سو با اثر افراد کی فہرست میں کیوں؟
عالمی ادارے جینو سائیڈ واچ کے مطابق بھارت کے مسلمان نسل کشی کے خطرے سے دو چار ہیں-
تزئین حسن
بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت کے منظور کردہ شہریت سے متعلق متنازعہ قوانین سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل (سی ائے ائے) اور این آر آئ نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز) کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں احتجاج کرنے والی بیاسی سالہ خاتون بلقیس کوامریکا کے معروف ٹائمز میگزین نے دنیا کے سو موثر ترین افراد کی لسٹ میں شامل کر لیا۔ (ہندوستان ٹائمز)
یاد رہے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے منظور کردہ متنازعہ اور تفریق پر مبنی قانون سی اے اے کے مطابق بھارتی حکومت غیر قانونی امیگرینٹس کو فاسٹ ٹریک امیگریشن کی سہولت فراہم کرے گی لیکن صرف اور صرف اس صورت میں اگروہ مسلمان نہ ہوں۔ (ا کونومک ٹائمز، انڈیا)
بظاہر یہ قانون مسلمان ملکوں سے انڈیا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے امیگرینٹس کے خلاف محسوس ہوتا ہے لیکن اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کے بھارت کی بڑی آبادی جس میں تمام مذاھب سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں آزادی کے بہتر سال بعد بھی شناختی دستاویزات سے محروم ہے جو امت شا کے پیش کردہ این آر آئ نامی بل کی منظوری کے بعد غیر ملکی قرار پائیں گے- اس حقیقت کے پیش نظرہندوستانی اور عالمی ماہرین اس بات کا خدشہ پیش کر رہے ہیں کہ یہ دونوں بل در اصل مسلمانوں سے شہریت کے حقوق چھین کر انہیں اپنے ہی ملک میں گھس بیٹھئے قرار دینے کا پلان ہے- عالمی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی حکومت چین اور برما کی طرح مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بھی یاد رہے اس قانون کے تحت پہلے ہی آسام کے دو لاکھ مسلمانوں سے شہریت کے حقوق چھینے جا چکے ہیں اور آسام سمیت دو ریاستوں میں ان مسلمانوں کو منتقل کرنے کے لئے کیمپ تعمیر کے جا رہے ہیں- نسل کشی کے خلاف کام کرنے والے ایک عالمی ادارے جینوسائیڈ واچ نے وارننگ دی ہے کہ آسام میں مسلمانوں کی نسل کشی ابتدائی مراحل طے کر چکی ہے-
بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت کے منظور کردہ شہریت سے متعلق متنازعہ قوانین سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل (سی ائے ائے) اور این آر آئ نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز) کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں احتجاج کرنے والی بیاسی سالہ خاتون بلقیس کوامریکا کے معروف ٹائمز میگزین نے دنیا کے سو موثر ترین افراد کی لسٹ میں شامل کر لیا۔ (ہندوستان ٹائمز)
یاد رہے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے منظور کردہ متنازعہ اور تفریق پر مبنی قانون سی اے اے کے مطابق بھارتی حکومت غیر قانونی امیگرینٹس کو فاسٹ ٹریک امیگریشن کی سہولت فراہم کرے گی لیکن صرف اور صرف اس صورت میں اگروہ مسلمان نہ ہوں۔ (ا کونومک ٹائمز، انڈیا)
بظاہر یہ قانون مسلمان ملکوں سے انڈیا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے امیگرینٹس کے خلاف محسوس ہوتا ہے لیکن اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کے بھارت کی بڑی آبادی جس میں تمام مذاھب سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں آزادی کے بہتر سال بعد بھی شناختی دستاویزات سے محروم ہے جو امت شا کے پیش کردہ این آر آئ نامی بل کی منظوری کے بعد غیر ملکی قرار پائیں گے- اس حقیقت کے پیش نظرہندوستانی اور عالمی ماہرین اس بات کا خدشہ پیش کر رہے ہیں کہ یہ دونوں بل در اصل مسلمانوں سے شہریت کے حقوق چھین کر انہیں اپنے ہی ملک میں گھس بیٹھئے قرار دینے کا پلان ہے- عالمی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی حکومت چین اور برما کی طرح مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بھی یاد رہے اس قانون کے تحت پہلے ہی آسام کے دو لاکھ مسلمانوں سے شہریت کے حقوق چھینے جا چکے ہیں اور آسام سمیت دو ریاستوں میں ان مسلمانوں کو منتقل کرنے کے لئے کیمپ تعمیر کے جا رہے ہیں- نسل کشی کے خلاف کام کرنے والے ایک عالمی ادارے جینوسائیڈ واچ نے وارننگ دی ہے کہ آسام میں مسلمانوں کی نسل کشی ابتدائی مراحل طے کر چکی ہے-
بلقیس دادی در اصل ان دونوں قوانین کے خلاف انڈیا میں مسلمانوں کی بقا کی جنگ لڑنے والی ان خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے شاہین باغ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا- بھارتی حکومت فروری میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کے بعد خواتین کے اس پر امن احتجاج کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئی- شہریت کے ان قوانین کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کو جس میں بڑی تعداد خواتین کی تھی مودی حکومت کے وزراء نے مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دیا۔ دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں پولیس نے مظاہرہ کرنے والوں کے علاوہ عام طلبہ کو بھی لائبریری میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ حکومت نے انہیں ہندو مسلم فساد کا نام دیا لیکن خود بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پولیس بلوائیوں کے ساتھ تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں پولیس گلیوں میں نصب کیمرے توڑتی بھی دیکھی گئ۔
یاد رہے این آر آئ کے مطابق شہریوں کی نئے سرے سے رجسٹریشن جسے لازمی قرار دیا گیا ہے کے بعد ایسے تمام آبادی جسکے پاس شناختی دستاویزات موجود نہیں کو غیر قانونی امیگرینٹ یا 'گھس بیٹھئے' تصور کیا جائے گا لیکن اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے مذکورہ افراد فاسٹ ٹریک میں شہریت حاصل کرنے کے حقدار ہونگے یعنی اس بل سے حتمی طور پر متاثر صرف مسلمان ہونگے- انڈیا اوردنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ان قوانین کو تفریق پر مبنی اور بھارتی سیکیولرازم کے خلاف قرار دے رہی ہیں-
بھارت کی ایک سو پچیس کروڑ کی آبادی کا بہت بڑا حصہ جسکا تعلق کم آمدنی والے طبقات سے ہے، شناختی دستاویزات سے محروم ہے اور ان میں ایک بڑی تعداد صدیوں سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں جو آبادی کا چودہ فیصد ہیں- سی اے اے اور این آر سی کے قوانین اس جینوسائیڈ کے ابتدائی مراحل ہیں لیکن درحقیقت اسکی پلاننگ کی جڑیں سو سال پہلے پیش کے جانے والے پرو نازی فلسفے پر مبنی نظریے ہندوتوا میں پیوست ہیں-
مودی کی بی جےپی دراصل ہندوستانی آزادی کی قیادت کرنے والے مہاتما گاندھی کے قتل کے ذمہ دار آر ایس ایس کا ایک سیاسی ونگ ہے، جس نے ١٩٩٢ میں بابری مسجد کے تنازعہ سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی اور اپنا سیاسی قد اونچا کیا- ٢٠٠٢ میں اس پارٹی نے گجرات میں انتخابی فتح حاصل کی اور وہاں بی جے پی گورنر مودی کی سرپرستی میں انڈیا کی تاریخ کے بد ترین مسلم کش فسادات وقوع پزیر ہوئے- ٢٠١٤ میں اس پارٹی نے نفرت اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر ملک گیر انتخابی فتح حاصل کی- ٢٠١٤ کے بعد اس پارٹی نے گائے کی حفاظت کو بنیاد بنا کر انڈیا کے گاؤں گاؤں میں گاؤ رکھشا محافظ غیر سرکاری گروہوں کو مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف ماورائے عدالت کاروائیوں پر ابھارا گیا-
امریکی اخبار ایٹلانٹک کے مطابق ٢٠١٤ سے ٢٠١٧ تک دو درجن سے زیادہ مسلمانوں اور دلتوں کو گؤ ماتا کی رکھوالی کے نام پر ہجوم نے سرعام کچل کر موت کی گھات اتارا- نہ صرف یہ بلکہ اس بہیمانہ کاروائی کی وڈیوز فخریہ وائرل کی گئیں- بعد ازاں معاملہ عدالت پہنچنے پرکورٹ نے ان وڈیوز کو بھی جن میں قاتلوں کے چہرے واضح ہیں، ثبوت قرار دینے سے انکار دیا- بھارتی آن لائن احبار دی وائر کے مطابق ٢٠١٦ میں کانگریسی پارلیمینٹرین اور معروف مصنف ششی تھرور سے یہ بیان منسوب کیا گیا کہ انڈیا میں ایک گائے مسلمان سے زیادہ محفوظ ہے-
یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ گاو رکھشا کے نام پر جان لیوا تشدد کے واقعات کے باوجود انڈیا دنیا میں گائے کے گوشت کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے (سی این این) - بی جے پی کی حکومت سے پہلے گائے کے گوشت کے کاروبار زیادہ تر مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھا جبکہ دلت روایتی طور پر انکی کھالوں وغیرہ کا کام کرتے تھے- بعض مبصرین کے نزدیک گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو اس کاروبار سے بے دخل بھی کیا گیا اور اقلیتوں کو مسلسل خوف کا شکار بھی رکھا گیا-
لیکن ہجوم کے ہاتھوں کچلے جانے کے یہ واقعات صرف گائے کی رکھوالی سے ہی منسلک نہیں ہیں- ہندوستانی معاشرے میں انتہا پسندی اتنی بڑھ چکی ہے کہ فروری ٢٠٢٠ میں ہندوستان ٹائمز کی ایک نیوز اسٹوری کے مطابق مغربی بنگال میں ایک مسلمان کسان کواسکے پانچ پڑوسیوں نے صرف اس لئے اسکے گھر میں پھانسی پر چڑھا دیا کہ مقتول کے بیٹے نے قاتلوں میں سے ایک کا موبائل خراب کر دیا تھا- انڈین چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی ٢٠٢٠ میں ایک مسلمان کو بکری کی چوری کے الزام میں ہجوم نے موت کی گھاٹ اتار دیا- بعد ازاں پولیس پہنچی تو اس نے دو ایف آئی آر کاٹیں: ایک ہجوم کے خلاف قتل کی اور دوسری مقتول کے خلاف بکری کی چوری کی جبکہ بکری کا کوئی دعوے دار سامنے نہیں آیا- ہجوم کے تشدد کے یہ واقعات اتنے بڑھے کہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ٢٠١٨ میں بلاخر انڈین سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ ہجوم کو بہیمانہ کاروائیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی-
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، شاہین باغ میں مذکورہ قانون کے خلاف احتجاج کرنےوالی خواتین کے بارے میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے انڈیا کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کے چیف منسٹر ادتیہ یوگی کا کہنا تھا کہ انہیں بریانی نہیں بلٹس (گولیاں) ملنی چاہیں- واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ٢٠١٧ میں یوگی نے اپنے ووٹروں سے ایک "مسلم فری" انڈیا کا وعدہ کیا یعنی ایسا بھارت جس میں ایک مسلمان بھی نہ ہو گا- اس وعدے کو ہٹلر کے "فائنل سولوشن" کی ڈاکٹرائن سے مماثلت دی جا رہی ہے جسکے مطابق یہودی مسئلے کا آخری حل ہولو کاسٹ تھا- انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یوگی سے اشتعال انگیز الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا- شہریت کا یہ قانون دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کے اس وعدے کی تکمیل کا اک مرحلہ ہے-
بھارت کی ایک سو پچیس کروڑ کی آبادی کا بہت بڑا حصہ جسکا تعلق کم آمدنی والے طبقات سے ہے، شناختی دستاویزات سے محروم ہے اور ان میں ایک بڑی تعداد صدیوں سے بھارت میں رہنے والے مسلمانوں جو آبادی کا چودہ فیصد ہیں- سی اے اے اور این آر سی کے قوانین اس جینوسائیڈ کے ابتدائی مراحل ہیں لیکن درحقیقت اسکی پلاننگ کی جڑیں سو سال پہلے پیش کے جانے والے پرو نازی فلسفے پر مبنی نظریے ہندوتوا میں پیوست ہیں-
مودی کی بی جےپی دراصل ہندوستانی آزادی کی قیادت کرنے والے مہاتما گاندھی کے قتل کے ذمہ دار آر ایس ایس کا ایک سیاسی ونگ ہے، جس نے ١٩٩٢ میں بابری مسجد کے تنازعہ سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی اور اپنا سیاسی قد اونچا کیا- ٢٠٠٢ میں اس پارٹی نے گجرات میں انتخابی فتح حاصل کی اور وہاں بی جے پی گورنر مودی کی سرپرستی میں انڈیا کی تاریخ کے بد ترین مسلم کش فسادات وقوع پزیر ہوئے- ٢٠١٤ میں اس پارٹی نے نفرت اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر ملک گیر انتخابی فتح حاصل کی- ٢٠١٤ کے بعد اس پارٹی نے گائے کی حفاظت کو بنیاد بنا کر انڈیا کے گاؤں گاؤں میں گاؤ رکھشا محافظ غیر سرکاری گروہوں کو مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف ماورائے عدالت کاروائیوں پر ابھارا گیا-
امریکی اخبار ایٹلانٹک کے مطابق ٢٠١٤ سے ٢٠١٧ تک دو درجن سے زیادہ مسلمانوں اور دلتوں کو گؤ ماتا کی رکھوالی کے نام پر ہجوم نے سرعام کچل کر موت کی گھات اتارا- نہ صرف یہ بلکہ اس بہیمانہ کاروائی کی وڈیوز فخریہ وائرل کی گئیں- بعد ازاں معاملہ عدالت پہنچنے پرکورٹ نے ان وڈیوز کو بھی جن میں قاتلوں کے چہرے واضح ہیں، ثبوت قرار دینے سے انکار دیا- بھارتی آن لائن احبار دی وائر کے مطابق ٢٠١٦ میں کانگریسی پارلیمینٹرین اور معروف مصنف ششی تھرور سے یہ بیان منسوب کیا گیا کہ انڈیا میں ایک گائے مسلمان سے زیادہ محفوظ ہے-
یہ بھی ایک طرفہ تماشا ہے کہ گاو رکھشا کے نام پر جان لیوا تشدد کے واقعات کے باوجود انڈیا دنیا میں گائے کے گوشت کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے (سی این این) - بی جے پی کی حکومت سے پہلے گائے کے گوشت کے کاروبار زیادہ تر مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھا جبکہ دلت روایتی طور پر انکی کھالوں وغیرہ کا کام کرتے تھے- بعض مبصرین کے نزدیک گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کو اس کاروبار سے بے دخل بھی کیا گیا اور اقلیتوں کو مسلسل خوف کا شکار بھی رکھا گیا-
لیکن ہجوم کے ہاتھوں کچلے جانے کے یہ واقعات صرف گائے کی رکھوالی سے ہی منسلک نہیں ہیں- ہندوستانی معاشرے میں انتہا پسندی اتنی بڑھ چکی ہے کہ فروری ٢٠٢٠ میں ہندوستان ٹائمز کی ایک نیوز اسٹوری کے مطابق مغربی بنگال میں ایک مسلمان کسان کواسکے پانچ پڑوسیوں نے صرف اس لئے اسکے گھر میں پھانسی پر چڑھا دیا کہ مقتول کے بیٹے نے قاتلوں میں سے ایک کا موبائل خراب کر دیا تھا- انڈین چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی ٢٠٢٠ میں ایک مسلمان کو بکری کی چوری کے الزام میں ہجوم نے موت کی گھاٹ اتار دیا- بعد ازاں پولیس پہنچی تو اس نے دو ایف آئی آر کاٹیں: ایک ہجوم کے خلاف قتل کی اور دوسری مقتول کے خلاف بکری کی چوری کی جبکہ بکری کا کوئی دعوے دار سامنے نہیں آیا- ہجوم کے تشدد کے یہ واقعات اتنے بڑھے کہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ٢٠١٨ میں بلاخر انڈین سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ ہجوم کو بہیمانہ کاروائیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی-
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، شاہین باغ میں مذکورہ قانون کے خلاف احتجاج کرنےوالی خواتین کے بارے میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے انڈیا کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کے چیف منسٹر ادتیہ یوگی کا کہنا تھا کہ انہیں بریانی نہیں بلٹس (گولیاں) ملنی چاہیں- واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ٢٠١٧ میں یوگی نے اپنے ووٹروں سے ایک "مسلم فری" انڈیا کا وعدہ کیا یعنی ایسا بھارت جس میں ایک مسلمان بھی نہ ہو گا- اس وعدے کو ہٹلر کے "فائنل سولوشن" کی ڈاکٹرائن سے مماثلت دی جا رہی ہے جسکے مطابق یہودی مسئلے کا آخری حل ہولو کاسٹ تھا- انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یوگی سے اشتعال انگیز الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا- شہریت کا یہ قانون دراصل مسلمانوں کی نسل کشی کے اس وعدے کی تکمیل کا اک مرحلہ ہے-
ٹرمپ
مغربی دنیاکے سینئر صحافی پیٹرک کاک برن نے انڈیپینڈنٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں دہلی فسادات کو جرمنی میں یہودیوں کے خلا ف ہونے اولین حملوں سے تشبیہ دی اور بھارتی مسلمانوں کے ہولو کوسٹ کا آغاز قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ جس وقت انڈیا میں مسلمانوں پر یہ ظلم ہو رہا ہے باقی دنیا کا ردعمل بہت سست ہے۔
کاک برن نے خصوصی طور پر رواں سال فروری میں ٹرمپ کی دلی میں موجودگی کے دوران دلی کے مسلم محلوں میں بلوے پھوٹ پڑنے والے بلووں کا تذکرہ کیا جس میں ٣٧ افراد (تقریباً سارے مسلمان) ہلاک ہوئے۔ ہندو قوم پرستوں کے ہجوم نے مسلمانوں کو زندہ جلایا - ان کے گھروں، دکانوں، اور مساجد کو لوٹنے کے بعد آگ لگائ جبکہ کئ مقامات پر پولیس بھی اس ہجوم ساتھ دیکھی گئ۔ پولیس سے مدد مانگنے والے مسلمان انتظار کرتے رہ گئے-
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ سرکاری روئیوں کو ہولو کوسٹ سے پیشتر کے جرمنی میں یہودیوں سے سلوک سے مماثلت کی بات کرن یوالے کوک برن تنہ ا نہیں- بین الاقوامی شہرت رکھنے والی بھارتی ادیبہ اور انسانی حقوق حقوق کی کارکن اروں دھتی رائے کا کہنا ہے کہ کرونا کی وبا کا دوران بھارتی حکومت نے مسلمانوں کو اس مرض سے منسلک کر کہ اسی طرح بدنام کرنے کی کوشش کی جیسے جرمنی میں تائفس کے مرض کو یہودیوں سے منسلک کیا گیا-
خود بھارتی دانشور بھی نسل کشی کے خطرے کا اظہار کر رہے ہیں- جاود پور یونیورسٹی انڈیا میں تقابلی لٹریچر پڑھانے والے پروفیسر سامںتک داس ٹیلی گراف انڈیا میں لکھتے ہیں کہ اقلیتوں کے خلاف فسادات (pogrom ) کسی بھی وقت جینو سائیڈ یعنی نسل کشی میں بدل سکتے ہیں-
لندن اسکول آف اکنامکس سے تحصیل یافتہ اور آکسفورڈ رائٹرز انسٹیٹیوٹ آف جرنلزم کے فیلو شرینک راو، اسرئیلی اخبار ہارٹز میں لکھتے ہیں کہ بی جی پی کا انڈیا نازی نظریات سے بے حد متاثر ہے- انہوں نے اپنے انڈیا کے دورے میں مشاہدہ کیا کہ ہٹلر کی آپ بیتی مین کامپف اور نازیوں کی پہچان سواستیکا کا نشان انڈیا میں بڑے پیمانے پر مقبول ہے اور اسی طرح نازی نظریات- انکا کہنا ہے کہ فرق صرف اتنا ہے کہ ہندوتوا کے نازیوں کا نشانہ یہودیوں کے بجائے مسلمان ہیں اور یہ نیا ہولوکوسٹ جرمنی کے بجائے انڈیا میں جا رہا ہے-
بیاسی سالہ بلقیس دادی کو ٹائم میگزین نے سو با اثر افراد کی فہرست میں اس لئے شامل کیا ہے کہ وہ دو قوانین کے خلاف نہیں بلکہ در اصل اس جینو سائیڈ کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں جو ہندوستانی مسلمانوں کے سر پر منڈلا رہی ہے- بلقیس ان ہزاروں با ہمت خواتین میں سے ایک ہیں جو مودی حکومت کے اس مسلم کش قانون کے سامنے ڈٹ گئیں اور انہوں نے شاہین باغ کے احتجاجی کیمپ کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔
مغربی دنیاکے سینئر صحافی پیٹرک کاک برن نے انڈیپینڈنٹ میں شائع ہونے والے مضمون میں دہلی فسادات کو جرمنی میں یہودیوں کے خلا ف ہونے اولین حملوں سے تشبیہ دی اور بھارتی مسلمانوں کے ہولو کوسٹ کا آغاز قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ جس وقت انڈیا میں مسلمانوں پر یہ ظلم ہو رہا ہے باقی دنیا کا ردعمل بہت سست ہے۔
کاک برن نے خصوصی طور پر رواں سال فروری میں ٹرمپ کی دلی میں موجودگی کے دوران دلی کے مسلم محلوں میں بلوے پھوٹ پڑنے والے بلووں کا تذکرہ کیا جس میں ٣٧ افراد (تقریباً سارے مسلمان) ہلاک ہوئے۔ ہندو قوم پرستوں کے ہجوم نے مسلمانوں کو زندہ جلایا - ان کے گھروں، دکانوں، اور مساجد کو لوٹنے کے بعد آگ لگائ جبکہ کئ مقامات پر پولیس بھی اس ہجوم ساتھ دیکھی گئ۔ پولیس سے مدد مانگنے والے مسلمان انتظار کرتے رہ گئے-
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ سرکاری روئیوں کو ہولو کوسٹ سے پیشتر کے جرمنی میں یہودیوں سے سلوک سے مماثلت کی بات کرن یوالے کوک برن تنہ ا نہیں- بین الاقوامی شہرت رکھنے والی بھارتی ادیبہ اور انسانی حقوق حقوق کی کارکن اروں دھتی رائے کا کہنا ہے کہ کرونا کی وبا کا دوران بھارتی حکومت نے مسلمانوں کو اس مرض سے منسلک کر کہ اسی طرح بدنام کرنے کی کوشش کی جیسے جرمنی میں تائفس کے مرض کو یہودیوں سے منسلک کیا گیا-
خود بھارتی دانشور بھی نسل کشی کے خطرے کا اظہار کر رہے ہیں- جاود پور یونیورسٹی انڈیا میں تقابلی لٹریچر پڑھانے والے پروفیسر سامںتک داس ٹیلی گراف انڈیا میں لکھتے ہیں کہ اقلیتوں کے خلاف فسادات (pogrom ) کسی بھی وقت جینو سائیڈ یعنی نسل کشی میں بدل سکتے ہیں-
لندن اسکول آف اکنامکس سے تحصیل یافتہ اور آکسفورڈ رائٹرز انسٹیٹیوٹ آف جرنلزم کے فیلو شرینک راو، اسرئیلی اخبار ہارٹز میں لکھتے ہیں کہ بی جی پی کا انڈیا نازی نظریات سے بے حد متاثر ہے- انہوں نے اپنے انڈیا کے دورے میں مشاہدہ کیا کہ ہٹلر کی آپ بیتی مین کامپف اور نازیوں کی پہچان سواستیکا کا نشان انڈیا میں بڑے پیمانے پر مقبول ہے اور اسی طرح نازی نظریات- انکا کہنا ہے کہ فرق صرف اتنا ہے کہ ہندوتوا کے نازیوں کا نشانہ یہودیوں کے بجائے مسلمان ہیں اور یہ نیا ہولوکوسٹ جرمنی کے بجائے انڈیا میں جا رہا ہے-
بیاسی سالہ بلقیس دادی کو ٹائم میگزین نے سو با اثر افراد کی فہرست میں اس لئے شامل کیا ہے کہ وہ دو قوانین کے خلاف نہیں بلکہ در اصل اس جینو سائیڈ کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں جو ہندوستانی مسلمانوں کے سر پر منڈلا رہی ہے- بلقیس ان ہزاروں با ہمت خواتین میں سے ایک ہیں جو مودی حکومت کے اس مسلم کش قانون کے سامنے ڈٹ گئیں اور انہوں نے شاہین باغ کے احتجاجی کیمپ کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔
دیکھنا یہ ہے کہ ٹائم کے سر ورق پر بلقیس دادی کی تصویر یقیناً عالمی ضمیر کو جگانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ عالمی میڈیا انڈین مسلمانوں کو در پیش صورت حال کا ادراک رکھتا ہے اور اس پر مسلسل آواز بھی اٹھا رہا ہے لیکن ہمارے لئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کشمیر، فلسطین اور روہنگیا کے لئے ریلیاں نکالنے والے پاکستانی، اس مملکت خداداد کی اصل قیمت ادا کرنے والے ہندوستانی مسلمان کے حق میں کب آواز اٹھائیں گے- ہندوستانی مسلمانوں کے حوالے سے ہمارا ضمیر کب جاگے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بہتر سال سے پاکستان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ بہتر سال سے پاکستان جاؤ یا قبرستان کا طعنہ سنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر ہندوستان کو تقسیم کر کے بنا اس میں وہاں رہ جانے والے مسلمانوں کےحوالے سے اتنی بے خبری اور اس بے رحمانہ لا تعلقی کا رویہ کیوں پایا جاتا ہے؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں