پیر، 9 نومبر، 2020

Book one: Uyghur Abdul Qayum Uyghur and other sources

 


عبدالقیوم ایغور وہ پہلا ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے انسان ہیں جس سے میرا براہ راست رابطہ ہوا- میں ستمبر کے آخر میں ہسپتال سے گھر آ گئی تھی- ڈاکٹرز نے ریکوری کے دوران ابو کو ہوم کئیر  منتقل کر دیا تھا جو لڈوک شہرمیں تھا اورجہاں اتفاق سے میری والدہ پہلے سے موجود تھیں- ہسپتال میں قیام کے دوران میں نے الجزیرہ اور چند دوسرے اخبارات کی رپورٹنگ کا استمعال کرتے ہوئے حوالوں کے ساتھ ایکسپریس کے لئے ایک مضمون تحریر کیا- عمومی تاثر یہی تھا کہ اسکا چھپنا پاکستانی مین اسٹریم میڈیا شاید ممکن نہ ہو لیکن جب ایکسپریس کے سنئیر ایڈیٹر عبیداللہ بھائی کو دکھایا تو الله انھیں جزا دے، انھوں نے کہا اسکو فائنل کر دین- اسی رات میں نے چوتھی منزل پر ہاسپٹل کے صحن میں ایک گول ٹیبل  پر بیٹھ کر مضمون فائنل کیا اور عبید الله بھائی کو بھیج دیا- اسی ہفتے وہ ایکسپرسس میں چاپ تو بہت خوشی ہوئی- میں عموماً اپنے مضامین فیس بک پر شئیر نہیں کرتی تھی لیکن اسے شیر کیا تو اچھے تبصرے ملے- سچی بات ہے اس سے میرا حوصلہ اور بڑھا- ہسپتال ہی میں رائٹنگ ان سوشل سائنس کے کورس کے ٹیچر رچرڈ مارٹن نے فائنل پروجیکٹ کے لئے تین آئیڈیاز سبمٹ کرنے کا اسائنمنٹ دیا تو میں نے مکّہ سعودی عرب، ایغور اور ایک ایڈمنٹن شہر کے ایک میوزیم کے حوالے سے آئیڈیا سبمٹ کیے کیونکہ ریسرچ میں تھیم PLACE تھا- ایک PLACE کا انتخاب کر کہ اسکے گرد جو سماجی، سیاسی، ثقافتی ماحول تھا اسکا تجزیہ کرنا تھا کہ ایسا ماحول کیوں بن جاتا ہے- میں نے سبمٹ تو تین آئیڈیا کے جو اسائنمنٹ کی ضرورت تھی لیکن شنجیانگ جسے وہاں کے باشندے مشرقی ترکستان کہتے تھے کے بارے میں زیادہ معلومات تحریر کیں-     

گھر آنے کے بعد میں نے چین کی اینٹی حلال مہم کے بارے میں نسبتاً ایک چوتھا مضمون لکھا جس میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس حوالے سے پاک چین آزاد تجارت میں چین ڈبلیو ٹی او کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے- یہ مضمون یا ایسے ہی کسی اور مضمون کے بعد ان باکس میں پاکستان میں مقیم ایک ایغور بھائی نے رابطہ کیا جنکی فیملی ساٹھ کی دھائی میں یارقند سے پاکستان ہجرت کر گئی تھی- یہ ١٩٦٢ میں پاکستان میں ہی پیدا ہوئے لیکن انکا کہنا تھا کہ انکی ننھیال اب تک مشرقی ترکستان میں مقیم ہے اور یہ اپنے بچپن سے لیکر ١٩٩٦ تک کئی مرتبہ یارقند جا تے رہے تھے- انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ١٩٩٦ کے بعد ویزا بہت مشکل ہو گیا- لیکن اسکے بعد بھی خط و کتابت جاری تھی-   لیکن ٢٠١٦ کے کریک داؤن کے بعد اب کوئی رابطہ نہیں- 
یارقند کے ایک گاؤں میں اپنے بچپن کی یادوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہاں ہم گاؤں میں مسجد نہیں جا سکتے تھے کیونکہ بہت سختی تھی- لیکن کاشغر کی عید گاہ مسجد سیاحوں کے لئے کھلی ہوتی تھی- وہاں نماز پڑھی جا سکتی تھی- لیکن ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانا اتنا آسان نہیں تھا- ہمیں غیر ملکی ہونے کی وجہ سے عموماً سرکاری اجازت نامہ چاہیے ہوتا تھا-    

ایک اہم واقعہ جسکا انہوں نے تذکرہ کیا وہ چینی حکومتی اہل کاروں کا ایغور قوم کی حاملہ عورتوں کو زبردستی مویشی لے جانے  والی گاریوں میں بھر بھر کر ابارشن کے لئے ہسپتال لے جانے کا تھا- عبدالقیوم ایغور پڑھے لکھ نہ تھے- انکی راجہ بازار راول پنڈی میں دکان تھی- انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی پندرہ سو ایغور خاندان مقیم ہیں جن میں اکثریت یا تو گلگت میں یا راول پنڈی میں مقیم ہے- یہ ایغور آبادی ان طلبہ کے علاوہ تھی جو اسی کی دھائی میں قراقرم ہائی وے کھل جانے کے بعد حج یا کسی اور بہانے سے پاکستان آتے اور دینی مدارس میں داخلہ لیکریہیں کے ہو جاتے- بعد ازاں اگلے دو سال میں میرا کثیر تعداد میں ایسے ایغور افراد سے استنبول میں بھی اور دنیا کے دیگر حصوں میں بھی رابطہ ہوا جو دینی تعلیم کے لئے پاکستان میں مقیم رہے تھے یا انھوں نے شنجیانگ سے فرار کے لئے پاکستان کو ایک عارضی قیام گاہ کے طور پر استمعال کیا- 

مجھے مشرقی ترکستان میں ایغور اور دوسری ترک اقوام کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی نوعیت کی باریک بینی کے ساتھ آگاہی دینے میں اردو جانننے والے ان ایغور بھائیوں کا بہت ہاتھ رہاہے جن سے میں ثقافتی طور پر بھی بہت قریب محسوس کرتی ہوں- ان میں منصورہ کے مودودی انسٹیٹیوٹ کے تحصیل یافتہ شنجیانگ مشرقی ترکستان کے ختن شہر سے تعلق رکھنے والےعبد المالک عبد الاحد بھائی سر فہرست ہیں لیکن مودودی انسٹیٹیوٹ کے ہی تحصیل یافتہ کاشغر سے تعلق رکھنے والے ایغور صحافی میر کامل کاشغری کا بھی میری آگاہی بڑھانے میں بہت کردار رہا ہے- اسکے علاوہ ایسے ہی پاکستان میں طویلا عرصہ گزارنے والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی شناخت اپنے خاندان یا پاکستان میں مقیم اپنے کچھ رشتے داروں کی حفاظت کے پیش نظر نہیں دینا چاہتے- دوسرے نمبر پر ایسے پاکستانی بھائی جنہوں نے ایغور خواتین سے شادیاں کیں اور طویل عرصہ شنجیانگ مشرقی ترکستان میں گزار کر وہاں کے عوام کے ساتھ چینی رویہ کا بہ نفس نفیس مشاہدہ کیا اور چینی حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی بھی کے بھی چم دید گواہ رہے- ان افراد سے بھی مجھے اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملی- اسکے علاوہ مغرب میں مقیم ایسے ایغور بھائی بہن اور ایغور لیڈر جو انگریزی بہتر جانتے تھے جن میں انتڑیوں کینیڈا کے مہمت توہتی سر فہرست ہیں جو نہ صرف ایغور مسئلے پر بلکہ چین پاکستان تعلقات کے حوالے سے بھی معلومات کا خزانہ رکھتے ہیں-  اسکے علاوہ میرے شہر ایڈمنٹن میں مقیم غلام عباس، جو کسی دور میں ایغور جلا وطن حکومت میں بھی شامل رہے- اسی حکومت سے جو خود ایغور عوام کی نظر میں متنازعہ ہے واشنگٹن کے صالح حدیر،  انور توہتی سے بھی انٹرویوز کا موقعہ ملا- انور توہتی سے بھی ابتدائی تعارف فیس بک کے ذریعے ہوا لیکن میرے استنبول روانہ ہونے سے ایک دو دن پیشتر ان سے بات ہوئی اور انہیں پتہ چلا کہ میں مسی ساگا میں سولہ گھنٹے قیام کرونگی تو انھوں نے بصد اسرار اونٹاریو ایغور سوسائٹی میں ایغور افراد سے ملاقات ارینج کروانے کا وعدہ کیا- انکا کہنا تھا کہ وہاں خواتین و حضرات جنکے خاندان مشرقی ترکستان میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر کو جیل ا کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے اور باقی سے بھی اب رابطہ ختم ہو گیا ہے، سے آپکی ملاقات مفید ثابت ہو گی-  ترکی سے واپسی پر مہمت توہتی سے دو دفعہ تفصیلی ملاقات ہوئی- انہیں کے ذریعے صلاح الدین سے میرا رابطہ ہوا جو گونتا نامو بے میں مقیم رہے تھے اور اب لاطینی امریکا کے ملک برمودہ میں مقیم تھے- انکی ٹورنٹو میں مقیم وائف مجھ سے ملاقات کے لئے بہت لمبی ڈرائیو کر کہ مسی سگا پہنچیں- اردو جاننے والوں میں میں اگر گونتا نامو میں مقید رہنے والے قادر جو مودودی انسٹیٹیوٹ سے طالب علم رہے تھے اور اب برمودہ میں ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے تھے زیادتی ہوگی-

ترکی سے واپسی پر اونٹاریو ہی میں پندرہ دن قیام کے دوران بلجیم میں مقیم ایک ایغور بھائی کے حوالے سے انتہائی تکلیف دہ خبر پڑھنے کو ملی- ان بھائی سے وہاٹسیپ پر رابطہ ہوا تو انہوں نے مترجم کا نمبر دیا کہ انگریزی میں انکے لئے بات سمجھانا مشکل تھا- مترجم ونیسا بیلجیم اسکالر تھیں اور عرصے سے ایغور نسل پر تحقیق کر رہی تھیں- انکی تحقیقی دلچسپی کا مرکز یورپ میں مقیم ایغور خاندان تھے- ان سے بات چیت بھی علمی لحاظ سے مفید ثابت ہوئی- 

ترکی میں قیام کے دوران ہی مقبوضہ کشمیر کے ایک طالب علم نے جو ترکی میں ایک کورس اٹینڈ کر چکا تھا مجھے آیدین نامی ایک نوجوان امریکی ایغور صحافی کا نمبر دیا جو ورجینیا میں مقیم تھیں- یہ امریکا سے ہی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اپنی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں- استنبول کے قیام کے دوران ان سے رابطہ تو ہوا مگر تفصیلی بات  مصروفیت کی وجہ سے ممکن نہ ہوئی- بعد ازاں ایڈمنٹن واپس پہنچ کر اگست یا ستمبر میں ان سے رابطہ ہوا تو معلوم ہوا یہ انور ........... کی بیٹی تھیں جو مشرقی ترکستان کے جلا وطن لیڈر ہیں اور ثقافتی انقلاب کے دوران پیدا ہوئی اور بعد ازاں امریکا منتقل ہوئے- 


ثقافتی انقلاب کے دوران پیدا ہونے والے 

اس وقت تک ایسے کئی افراد سے تفصیلی انٹرویو کرچکی تھی جو ماؤ کے ثقافتی انقلاب کے دوران یا اس سے پہلے پیدا ہوئے اور اس دور کی تلخ یادیں رکھتے تھے- ان میں سب سے پہلے اونٹاریو کے مہمت توہتی جنکا تعلق جنوبی شنجیانگ کے کارغالیق نامی شہر سے تھا- اور استنبول میں میرے مترجم عبدلمالک عبد الاحد جو ختن شہر سے تھے جسے آج چین میں HOTAN کہا جاتا ہے- یاد رہے اکسای چن نامی جس خطے پر بھارت اور چین کا تنازعہ ہے اور جس پر ١٩٦٣ میں چین بھارت جنگ بھی لڑی گئی بھی شنجیانگ کے  

HOTAN PREFECTURE                  

کا ہی حصہ ہے- کا رغلیق کا قصبہ شنجیانگ سے تبت جانے والی اہم شاہراہ پر واقع ہے جو اکسائی چن کے علاقے میں ہی تعمیر کی گئی ہے-  ایڈمنٹن واپسی پر آسٹریلیا میں مقیم ایک ایسی منگول خاتون کے انٹرویو کا موقعہ ملا جنہوں نے ماؤ کے زمانے سے پہلے اپنے میڈیکل کالج میں ایک سیاسی تنظیم بنائی اور اس جرم میں بیس سال کی قید کاٹی- انکا تفصیلی قصہ بھی آگے آ رہا ہے- گوانتانمو میں مقیم کاشغر کے عبد القادر گو ثقافتی انقلاب کے بعد ١٩٧٨ میں پیدا ہوئے لیکن اپنے خاندان کی یادوں میں سقفتینقلاب انکی اپنے حافظے میں قید تھا- انقرہ کے صحافی میر کامل کاشغری بھی ١٩٧٠ میں ماؤ کے دور میں ہی پیدا ہوئے اور انکے ذریئے اس دور کے چینی مظالم سے آگاہی ہوئی- ایڈمنٹن میں مقیم عبد القادر بھی ماؤ کے زمانے میں پیدا ہوئے- اپنی والدہ کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ میری والدہ بتاتی تھیں کہ انہوں نے ماؤ کے جبری بیگار سے بچنے کے لئے کئی مرتبہ ایک ہاتھ برف میں رکھ کر دوسرے ہاتھ میں کلہاڑے سے وار کیا کہ انکی انگلیاں اگر کٹ جائیں تو انھیں اس بیگار سے نجات مل جائے- 


پاکستانی ایغور 

عبد القیوم ایغور کے ذریعے پاکستانی ایغور کمیونٹی سے میرا مختصر تعارف ہو گیا تھا- اگست ٢٠١٩ میں کیپ اسٹون پروجیکٹ پرکام کے دوران محمد عمر خان نامی ایغور بھائی نے متعدد ایسے خاندانوں سے میرا رابطہ کروایا جو انیس سو ساٹھ، ستر کی دھائی میں چھپ کر یا چینی سرکار سے اجازت حاصل کر کہ پاکستان پہنچی- کمیونسٹ چین کے ظلم سے بچنے کے لئے اپنے خاندانوں کے ساتھ دنیا کے بلند ترین پہاڑی دروں     

کو بچوں بوڑھوں سمیت کراس کرنے والے ان قافلوں کا سلسلہ ١٩٧٩ تک قرقرام ہائی وے کی تعمیر تک جاری رہا- ماؤ کے مرنے کے بعد آہستہ آہستہ چین نے کھلنا شروع کیا تو اسی کی ڈھائی میں ایغورعوام حج کے لئے چین سے نکلنے کے بہانے پاکستان آتے یا تجارتی قافلوں میں شرکت کے پرمٹ حاصل کرتے اور پھر پاکستان میں سلپ ہو جاتے- ایسے بہت سے ایغور بھائیوں کی کہانیاں اس روداد میں شامل ہے-         


٩ہوا یوں کے یہ بھائی ترکی کے ذریعے بلجیم پہنچے اور وہاں انہوں نے خود سیاسی پناہ حاصل کر کہ اپنے خاندان کے لئے شہریت حاصل کی- انکا خاندان جب جوں ٢٠١٩ میں بلجیم ایمبسی سے ویزا لگوانے کے لئے بیجنگ پہنچا تو بلجیم ایمبیسی سے انہیں مطلع کیا کہ انکے کام میں چند ہفتے اور لگ سکتے ہیں- خاندان بہت مشکل سے چھپ کر ارمچی سے بیجنگ پہنچا تھا- کسی چینی دوست کے ذریعے انہوں نے بیجنگ میں ہوٹل بک کروایا تھا ورنہ اب ایغور عوام کے لئے چین کے کسی بھی شہر میں ہوٹل بک کروانا خصوصاً اگر انکا ہوکو (شناختی دستاویز) مشرقی ترکستان کا ہو انتہائی مشکل کام ہے- ہوٹل پہنچنے پر بھی جب ہوٹل کی انتظامیہ کو علم ہوا کہ یہ شنجیانگ کی ایغور فیملی ہے تو انھوں نے پولیس کو بلا لیا جس نے انھیں ٢٤ گھنٹے میں بیجنگ چھوڑنے کو کہا- فیملی نے بلجیم ایمبیسی سے درخواست کی کہ وہ خطرے میں ہے- اگر اب دوبارہ شنجیانگ جانا پڑا تو انہیں شاید کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے- ایمبیسی کے انکی حفاظت سے انکار پر فیملی نے ایمبیسی میں ہی بیٹھ گئی جس پر ایمبیسی نے رات بارہ بجے چینی پولیس کو بلا لیا-  چینی پولیس ابلحمید کی بیوی اور چار بچوں کو دوبارہ شنجیانگ لے گئی اور انہیں انکے گھر میں ہی نظر بند کر دیا-  جس وقت چینی پولیس اس خاندان     ان سے رابطہ ہوا   

 

ترکی میں انٹرویوز میں عبدالمالک عبد الاحد بھی نے میری جتنی مدد کی ہے، میرے دل سے انکے لئے اور انکے خاندان کے لئے بے پناہ دعائیں نکلتی ہیں- انکے علاوہ ترپان شہر سے تعلق رکھنے والے عبدللہ رسول نے بھی ترجمے اور معلومات کے حصول اور خود اپنے خاندان پر اور خود پر بیتی  جان والی روداد کے حوالے سے مسلسل مجھے مطلع کرتے رہ یہیں- انکی تکلیف دہ کہانی آگے آ رہی ہے- 

ختن کی نور محل "(نام تبدیل کر دیا گیا ہے)، یورپ میں مقیم مہمت عمریں، مغرب کی ایک اہم یونیورسٹی کے محقق مہمت، ہالینڈ کے نجم الدین، جرمنی کے ....، بلجیم میں مقیم 


خود میرے شہر ایڈمنٹن کی ایغور سوسائٹی جس سے میرا تعارف غلام عثمان کے ذریعے ہوا کہ نور ..... جو مرال باشی نامی شہر کے رہنے والے تھے، اور دیگر لوگ جس میں اہلیہ نامی ایک نوعمر لڑکی، عائشہ جنکا تعلق ارمچی سے تھا سمیت دس خاندانوں سے انٹرویو کا موقعہ ملا- ان خاندانوں کی اکثریت بھی یا تو جنوبی شنجیانگ یعنی    





  

Abdyul qayum
Uhrp lady .. discussion
Sahih

Ribert Sean and Byler

Salih ....

Ghulsm Abbas

Nur ... Maralbashi

Aynur

BBC Urdu reporter

Shahid

Ghulam fllan ...

Salim mansur Khalid

Hudayat ullah Oghuzan

Books

Articles amnesty report

Aynur ...

Mehmet Tohti

Holland

Dec 16: final paper submission

April: capstone proposal submission

Approved

Uyghur society Edmonton office

Nur

Ayesha

Alia

Qadir

Yvonne Ridley

Abdullah Ahsab

Michael Fitzgerald

Istanbul

Meeting : names and addresses phone contacts

Toronto
Arzo and another lady

Both crying ..

Istanbul

Ozgullar ...

Naila nargis

Munawwar

Translator

Iftar ... Taqreeb  restaurant ... Gulja

Farhat ....

Nurbia 




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

MArgresa

تزئین حسن قاہرہ کے مارگریسا میٹرو اسٹیشن سے اتریں تو جس علاقے میں آپ قدم رکھتے ہیں یہ وہی قاہرہ القدیمہ ہے جسے فتح کر کہ عمرو بن ا...